Shah Aur Zahra by Uzma Usman NovelR50705 Shah Aur Zahra (Episode 01)
Rate this Novel
Shah Aur Zahra (Episode 01)
Shah Aur Zahra by Uzma Usman
“ارسلان شاہ! ایک انسان نہیں شخصیت۔
ہمہ وقت ایک دوسرے میں پیوست لب جنہیں وہ بولنے کی زحمت سے اکثر بچا لیا کرتے اور سر کے اشارے سے کام چلا لیتے اگلا بندہ سمجھ جاتا سر کو خم دیا مطلب ہاں! سائیڈ پہ حرکت دی تو مطلب نہیں!
ان کم گو لبوں پہ گھنی موچھیں جن سے غالبا انکا کوئ محبت کا رشتہ تھا وہ ان موچھوں کے بغیر 16سال کے بعد دیکھے ہی نا گئے!
بعض لوگوں کو گمان ہوتا کہ انکے بچپن میں بھی انہوں نے موچھیں رکھیں تھیں کیوں کہ بغیر موچھوں والے ارسلان شاہ کبھی ذہن کے پردے پر آئے ہی نہیں۔
کمال ہی ہوجاتا جو کبھی دادی اماں جی کے پاس بیٹھ کر محبت کے دو بول لئے یا ان سے سر میں مالش کروا لی یا پسند کا حلوہ یا کھانا بنوا لیا وہ نہال ہی ہوجاتیں اپنے دکھتے گھٹنوں کی پرواہ نا کرتے وہ اٹھ کھڑی ہوتیں
لاکھ بہو بیگم کہتیں ” امی آپ بیٹھیں میں بنا دیتی ہوں”مگر نا جی! دادی سے انکے لاڈلے اکلوتے پوتے نے فرمائش کی تھی کوئ معمولی بات تھی بھلا؟؟
انساء بیگم دل مسوس کر رہ جاتیں کیا تھا جو بچپن میں وہ خود اسکی پرورش کا ذمہ پورا پورا خود اٹھاتیں نا دیتیں اپنی ساس کو تین تین چار چار گھنٹے!
ہاں جی بس ان تین تین چار چار گھنٹوں میں ہی شاہ دادی کے ہوگئے اور ماں کے بیس گھنٹے گویا گئے تیل لینے!
رہ رہ کے انہیں قلق ہوتا
ایسا نہیں تھا کہ بیٹا ماں سے بات نہیں کرتا تھا یا محبت نہیں کرتا تھا
نہیں جی ادھر امی سے شرٹ پہ بٹن لگواتے وہ شرٹ پکڑتیں اور شاہ یہ جا وہ جا دادی کے کمرے میں کسرتی جسم پہ کالی بنیان چڑھائے وہ دادی کے پیروں میں مالش کردیتے۔
انساء بیگم سوچتی رہ جاتیں کہاں کمی رہ گئ محبت میں ہائے ساس نے اس بڑھاپے میں آکر “وار” کیا “جوان جہان” خوبرو بیٹا ہی “چھین” لیا۔ انساء بیگم آنسو پیتی رہ جاتیں اور یہ بھول جاتیں کہ انکی ایک پکار پہ آدھی رات کو اٹھ کے انکے پیر دبانے والا بیٹا بھی وہی ہے
مگر پھر بھی دادی نے ایسا کیا جادو کیا تھا بھلا؟
کچھ نہیں بس یہی نا بچپن میں جو تین چار گھنٹے انکے پاس آتا وہ ارسلان شاہ کو “حمزہ شاہ”(ارسلان شاہ کے بابا)
سمجھ لیتیں اکلوتے بیٹے کی اکلوتی اولاد وہ سارے ارمان اس پر نکالتیں جو حمزہ شاہ کی دفعہ رہ گئے تھے۔ انساء بیگم نا نا کرتیں رہ جاتیں ادھر دادی ارسلان شاہ جو کمسنی میں ہی دادی سے مانوس تھے انہیں الٹا لٹاتیں خوب مالش کرتیں
طرح طرح کے حلوے میوہ جات ارسلان کی روزمرہ کی غذا کا حصہ بنا دیے تھے لاکھ انساء بیگم کہتیں “امی کولیسٹرول ہوجائے گا شاہ موٹا ہوجائے گا امی” وہ اس کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتیں
امی اس سے گپ شپ لگانے کے لئے گود میں لئے بیٹھی ہوتیں ادھر ارسلان شاہ دادی کے فرمان کے مطابق “بیٹا کم بولنا مرد کی شان ہوتی ہے” کی عملی تفسیر بنے ہوتے 11سال کی عمر میں ہی وہ کم بولتے۔
انساء بیگم دہائیاں دیتیں “شاہ سارا کانفیڈینس ختم کردیں گی آپ امی وہ ابھی سے بردبارد بنتا جارہا ہے” وہ لاکھ پیر پٹختیں دادی پہ خواہ اثر نا ہوتا۔
وہی ہوا جو ہونا تھا دادی کی کوششیں رنگ لے آئیں جو ذہانت منہ کے ذریعے پٹر پٹر کرکے باہر آنی تھی وہ اندر ہی رہ گئ اور جیسے ہی اسکول میں وہ نویں جماعت میں گئے 14سال کی عمر میں انہوں نے پورے صوبے بھر کے بورڈ میں ٹاپ کیا تھا۔
انساء بیگم تو ایک طرف حمزہ شاہ اور خود دادی بھی دنگ رہ گئیں
پوتا ذہین تھا جانتی تھیں مگر اتنا؟؟
انہوں نے سرٹیفکٹ کے ساتھ کھڑے ارسلان شاہ کا منہ سر چوم لیا۔
وہ جھینپ کے مسرائے تھے تب بت بنی کھڑی انساء بیگم ہوش میں آئیں تھی ارسلان شاہ سے پہلے اپنی ساس کو دیکھا جو فخر سے اس پر سے پیسے وارتے انہیں طنزیہ نگاہوں سے دیکھ رہیں تھی گویا کہہ رہی ہوں دیکھ لیا؟”
حق بھی بنتا تھا بھئ خود جاتیں تھیں ساتھ کوچنگ ایک گھنٹہ سر کھا کر آتیں ٹیوٹر کر
“میرا پوتا بہت ذہین ہے اگر چہ کم بولتا ہے مگر پڑھنے لکھنے میں بلا کی ذہنیت ہے اس پر خصوصی توجہ دینی ہے” وہ کسی حال میں مطئمن نا ہوتیں ٹیوٹر کہہ کہہ کر تھک جاتا “اماں جی آپ بے فکر رہیں بس دعا کریں” مگر وہ غیر مطمئین ہی رہتیں۔
پھر ہوگئیں تھیں مطمئین جب قابل پوتے نے انکا مان رکھا تھا کوئ معمولی بات تھی صوبے بھر میں پہلی پوزیشن؟؟
انساء بیگم نے اسی دن ساری کدورت نکال دی ساس کے خلاف آخر انکے لادلے بیٹے نے سر اونچا کیا تھا وہ بھی ساس کی وجہ سے۔
بس پھر ہوگیا تھا فیصلہ ارسلان شاہ تو دادی کے زیردست ہیں رہیں گے انہوں نے اسکا سر چومتے ہوئے فیصلہ کیا تھا
******
پھر یہ تو گویا معمول بن گیا تھا میٹرک سائنس سبجیکٹ فرسٹ ڈویژن کے ساتھ پار کرتے انہوں نے مسیحائ کے شعبے کو اچھی نیت کے ساتھ اپنایا تھا دن بدن کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتے سر کے خم کے ساتھ مسکرانا سیکھ گئے چمکتی روشن آنکھوں سے کسی بھی زی ہوش کو مدہوش کردیتے۔
گو کہ وہ انجان تھے اپنی کشش اور خوبروئ سے ایک مخصوص تبسم تھا جو 21سال کے ارسلان شاہ کے لبوں ہر رہتا۔ دادی کے لاڈلے ماما کے دلارے بیٹے کو اب ہاسٹل میں رہنا تھا جس پہ دونوں خواتین کافی تشویش میں تھیں۔
روکنا بھی نہیں تھا بھیجنا بھی نہیں تھا عجیب صورتحال تھی
دادی پل بھر میں آنکھیں نم کرلیتیں وہ انہیں دیکھ کر مسکراہٹ دبا لیتا وہ مبادا دیکھ لیتیں اور سمجھتیں کہ وہ بہت خوش ہے ان سے دور جانے پہ حلانکہ وہ اپنی کامیابیوں پہ خوش تھا۔
وہ ماما کے پاس بیٹھا انہیں بازووں میں لیکر تسلی دینے لگا “کچھ نہیں ہوتا ماں میں کرلوں گا مینیج آپ بس ہنسی خوشی اجازت دیں” وہ اسکے ہاتھوں کو چومنے لگیں وہ مسکرایا اور انکے ہاتھ چوم کے آنکھوں سے لگا لئے انکے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ کر بولا “میری جنت ہیں آپ ماں ” وہ نہال ہوگئیں آنسو پونچھ لئے بھلا تھا کسی کے پاس ایسا ہونہار بیٹا؟
ساس کچھ بھی کرتیں جنت تو وہ تھیں ماں تو وہ تھیں بھلا کوئ مقابلہ تھا؟
بھری جوانی میں نا کسی لڑکی کا چکر نا سگریٹ نا کوئ نشہ نا بری عادات نا فضول بحث نا ذیادہ بولنا۔
وہ اسکے چمکے موتیوں جیسے دانتوں کو دیکھنے لگیں اور اسکی مدھم مسکان کو اور اسکے سر پے ہاتھ پھیرتے اسے اجازت دے دی
اب اسکا رخ دادی کے کمرے کی طرف تھا جہاں وہ اس سے منہ موڑے بیٹھیں تھیں اب انہیں منانا تھا اور یقین دلانا تھا بس اور شاہ پر کوئ یقین نا کرے ایسا ہو نہیں سکتا۔
*****
اور پھر شاہ ہاسٹل آگئے۔
فرینڈز بنے پھر بیسٹ فرینڈ پھر جگر
کم کم بولنے والے شاہ سامع بن گئے پوری بات سن کر کبھی کوئ شگوفہ چھوڑ دیتے دو بول بول لیتے تو گویا سب محفوظ ہوجاتے۔ کمال کی گفتار۔
ایسی ہی ایک شام وہ یونی ہاسٹل کے باہر لان میں بیٹھے تھے سدا کا ہنس مکھ اور دل پھینک رافیل کہنے لگا:
“مجھے لڑکیاں بہت پسند کرتیں ہیں مجھے لگتا ہے کل ساتھ والے کیمپس کی رابیل نے مجھے کافی آفر کی” وہ دلچسپی سے بتانے لگا
“اور اس دن میں اور شاہ نوٹس بورڈ کے پاس کھڑے تھے تو جونیئر انگلش ڈیپارٹمنٹ کی اریبہ نے مجھ سے اورشاہ سےنمبر مانگا”وہ اترانے لگا
شاہ پورے ہونٹ پھیلائے مسکرانے لگا بغیر آواز کی ہنسی۔
“اوہ بھائ رافعہ نے کافی کی آفر صرف تمہیں ہی نہیں شاہ اور عرفان کو بھی دی تھی جبکہ اسکی نظروں سے صاف پتا لگ رہا تھا کہ وہ صرف شاہ کے ساتھ کافی پینا چاہتی ہے مگر مروت میں تمہیں بلا رہی ہے ہاہاہاہا”
رافیل نے خود کو پیچھے گرا لیا گویا سرد آہ بھرتے
“یہ تو سچ ہے لڑکیاں اس “گھنے”پہ مرتی ہیں مگر یہ ہے کہ لفٹ ہی کوئ نہیں کرواتا”
شاہ مسکرا دیا اور کیا کرتا؟
خیر ہر چیز کا اسرار ہوتا ہے شاہ کی شخصیت اور دلکش مسکراہٹ کو بھی وہ اسرار سمجھتے تھے وہ ناواقف تھے یہ “اسرار” یا “بھید بھری خاموشی”نہیں “عادت” تھی اور خوب تھی
بس کیا تھا جو شاہ کی اس سیدھی سادی زندگی میں “عرش زہرہ ” نا آتی وہ تو تعلیم مکلمل کر کے ہنسی خوشی کسی ڈاکٹر سے شادی کر کے اپنی دادی اور امی ابو کے ساتھ رہتے مگر نا جی شاید راوی کو انکا اس قدر رعب اور سکون پسند نہیں آیا تھا
******
ہاں تو عرش زہرہ! اشارے کابھی دس طرح سے جواب دینے والی بلاکی منہ زور اور انتہا کی خوبصورت..
شوں شوں کرتی ناک اور ہاتھ میں ٹشو پکڑے آج اسکا یونی میں پہلا اور گرلز ہاسٹل میں دوسرا دن تھا سامان وغیرہ ٹھکانے لگانےاور رج کے تھکن اتارنے کے بعد وہ آج یونی آئ تھی اور شو مئ قسمت اسے آتے ساتھ ہی زور سے گملا لگا اور ہماری عرش زہرہ جن کو پہلے ہی ہاسٹل میں اس لگی بندھی زندگی گزارنے اور گھر سے اتنا دور آکر رہنے کا غم کھائے جا رہا تھا اب وہ باقاعدہ بھل بھل کرتی آنکھوں کے ساتھ رونا شروع ہوچکی تھی
“نصیب ہی خراب تھا جو بغیر اتا پتا کئے اس یونیورسٹی میں آگئ یااللہ میں کیا کروں کسی سینئر کو پتا لگ گیا میں نئ ہوں تو مجھے جہنم میں تو پہنچا دیں گے مگر میرے ڈپارٹمنٹ میں نہیں۔ تو ہی مدد کردے کچھ ” وہ پاوں سہلاتے بلبلاتے دعا مانگنے لگی جو فورا قبول ہوئ اور سامنے سے ارسلان شاہ اپنے نوٹس اور بکس سنبھالے چلے آرہے تھے وہ ٹشو سے ناک رگڑتی تھوڑا رک رک کے چلتی شاہ کو روکا
“لسٹن مسٹر” وہ پاس آکر رک گئ شاہ اسکا رک رک کے چلنا محسوس کر چکا تھا اسے لگا اسپیشل کیس(لنگڑی) ہے شاید۔
وہ ازراہ ہمدردی پوری توجہ سے اسکی بات سننے لگا
ہمیشہ سر کے اشارے سے ہی استفسار کرنے والا شاہ زبان کو زحمت دینے لگا اب ایک لنگڑی لڑکی کو وہ اشارے سے کیا سمجھاتا چچ۔
جی فرمائیں؟ وہ پوری توجہ سے مخاطب ہوا
“مجھے پلیز میرے ڈپارٹمنٹ تک پہنچا دیں میں جا نہیں سکتی” وہ ٹشو سے آنکھیں رگڑنے لگی
شاہ سٹپٹایا اب جتنی بھی ہمدردی ہوتی وہ ایک اجنبی لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر اسے سہارا دیتے ہوئے اسے اسکے مطلوبہ ڈیپارٹمنٹ تک نہیں پہنچا سکتا تھا ریکارڈ ہی لگ جاتا اسکا۔ اسے چاہئے تھا وہ کسی لڑکی سے ہی رابطہ کرتی۔
وہ شاہ کو سوچتا دیکھ کر پوچھنے لگی “آپ بھی نیو ہیں آپکو بھی نہیں ڈیپارٹمنٹ کا؟
وہ کاجل جو پوری شان و شوکت سے کبھی آنکھ کا حصہ رہا ہوگا اب بار بار آنکھیں رگڑنے سے گالوں پر بھی لگ گیا تھا تو چمکتی رنگت کے ساتھ سیاہ آنکھوں کا حزن عجیب منظر تھا۔
شاہ کو صنف مخالف سے دلچسپی نا تھی مگر اس لمحے جیسے اس پر ترس آیا تھا اتنی پیاری لڑکی اور معذور۔
“نہیں میں سینئر ہوں آئیں آپکو آپکے ڈپارٹمنٹ تک چھوڑ آتا ہوں مجھے کارڈ دکھائیں” وہ سر ہلاتے کہنے لگا
“یہ ہمارے ساتھ والا ڈپارٹمنٹ” اسنے اشارہ کیا
وہ آرٹس کی طالبہ تھی
اب ارسلان شاہ کی سمجھ میں نہیں آیا اتنی پیاری اور معصوم لڑکی کو اگنور کردیں یا اسے واقعی اسکے ڈپارٹمنٹ تک چھوڑ آئیں۔ اب وہ خود کہہ رہی تھی بلکہ انتظار میں کھڑی تھی کہ کب اسے اسکے مطلوبہ مقام پر پہنچایا جائے
شاہ نے ہمت کی اور اسکا ہاتھ پکڑا۔ چلیں”
وہ بدک کے دور ہوئ آنکھوں میں حزن کی جگہ قہر نے لے لی وہ ناک جو رونے سے سرخ اب غصے سے سرخ ہوگئ
“ہاو ڈیر یو؟؟”
“واٹ؟ وہ اچنبھا ہوا
“نہیں مطلب میں نئ ہوں تو آپکو کیا لگا میں اس دنیا میں ہی نئ آئ ہوں؟ شکل سے شریف اور “مہذب” لگے تو میں نے مدد مانگ لی اسکا مطلب یہ ہوا کہ آپ کسی کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھائیں گے؟” وہ بری طرح غصہ ہوئ تھی
“دیکھیں میڈم مجھے کوئ شوق نہیں کسی کی مدد کرنے کا نا فریشر پر میں اپنا ٹائم ضائع کرتا ہوں اپ پہ “ترس” کھایا مگر آپ تو.. خیر” وہ رہا یونی آفس آپ جا کر اپنا ڈیپارٹمنٹ معلوم کرلیں گارڈز سے بھی پوچھ سکتی ہیں” وہ ضبط سے چبا چبا کر بولا تھا
“ترس کا کیا مطلب میں آپکو لولی لنگڑی نظر آرہی ہوں؟؟ میں نے اپنا ڈیپارٹمنٹ ہوچھا تھا یہ نہیں کیا تھا میرا ہاتھ پکڑ کر چھوڑ آئیں” وہ اب سیدھی کھڑی تھی انگوٹھے میں بھی درد ختم تھا
شاہ کو ایک دم احساس ہوا کہ اسے کوئ غلط فہمی ہوئ ہے وہ لڑکئ لنگڑی نہیں تھی سہی سلامت اپنے پیروں پر کھڑی تھی۔
شاہ کو نے سوچا اسے نہیں بتانا چاہئے کہ وہ اسے کیا سمجھا ہے
پھر اسنے سوچا اسے بتا ہی دینا ہی دینا چاہیے کہیں وہ اسے “غلط ” نا سمجھے.
“دیکھیں میں آپکو معذور سمجھا تھا جس طرح آپ چلتی ہوئ آئیں تھیں۔ اور اپنے کہا میں جا نہیں سکتی تو میں نے یہی اخذ کیا کہ آپ مذید چل کر نہیں جا سکتیں میری کوئ غلطی نہیں” وہ شرمندہ سا بتانے لگا بیزار بھی ہوا نیکی گلے ہی پڑ گئ تھی۔ وہ لیٹ بھی ہوریا تھا اسائنمنٹ جمع کروانی تھی اور یہ لڑکی جان کو آگئ تھی
اور عرش زہرہ کا دل جیسے پھٹ ہی گیا تھا
بھلا گھر چھوڑ کر آنے کا دکھ یونی میں ڈپارٹمنٹ نا ملنے کا دکھ سینئر سے بچنے کی ٹینشن اور اب صبح صبح اسے “لنگڑی” کا ٹائٹل مل گیا اسکا دل کیا وہیں بیٹھ کر رونا شروع کردے اور کم از کم اس بندے کا سر تو ضرور پھاڑ دے
اس نے چھیننے کے انداز میں اسکے ہاتھ سے کارڈ لیا
اور اپنی سرخ ہوتی گیلی آنکھیں اس پر گاڑ دیں
“امید ہے آئندہ ملاقات نہی ہوگی” وہ پھاڑ کھانے کے انداز میں بولی تھی دل تو کیا تھا اس حسین بندے کو شوٹ کردے مگر پہلے ہی دن وہ اس یونی میں “قاتل” نہیں مشہور ہونا چاہتی تھی سو “معاف” کردیا
“بڑی مہربانی ہوگی” وہ آئندہ ملاقات نا ہونے کے جواب میں اسے یہ کہہ کر سلگا کر چلا گیا اور عرش زہرہ پیر پٹختی اندر بڑھ گئ۔ آج کا دن ہی خراب تھا
******
عرش زہرا…!!
نور کا پیکر..!
بنا رکے بنا چارج ختم ہوئے چلنے والی بیٹری۔
دنیا جہان کی معلومات۔
جسے ہر پل وہ اندر سے باہر شفٹ کرنے کیلئے بے تاب ہوتی
اور زبان… جی زبان تو گویا میٹھا ٹھنڈا (اور کبھی کڑوا بھی) چشمہ تھا جس میں سے ہر وقت الفاظ کی صورت دریا جاری رہتا…سننے والا سنے جاتا سیر نا ہوتا میٹھی سی پٹر پٹر کرتی کوئل جیسی بولی معصوم سی۔
اب عرش زہرا تو گئ ہاسٹل پیچھے گھر میں کیا ہوا؟
یہ گھر جہاں سات نفوس رہائش پذیر ہیں
عرش کے بابا سرور خان
بھائ اریب خان اور پھر اظہر خان پھر ہماری “عرش زہرا” امی نورینا بیگم اور ایک عدد دادی! اور تایا تائ جنکی کوئ اولاد نا تھی اور انہوں نے اظہر خان کو ہی گود لیا ہوا تھا
اکلوتی ہونے کے سبب اور پورے گھر میں لاڈلی ہونے کے سبب عرش زہرا بچپن سے ہی خاصی خوش گفتار واقع ہوئی
ادھر تائ کا جی گھبرایا برابر کمرے سے جاکر عرش کو لے آئیں اور اسکے منے منے ہاتھ تھام کر اسے گدگدایا اسے بولنے پر اکسایا۔
نئی نئی بولنا سیکھی تو نورینہ بیگم ہر ایک کے آگے بٹھا دیتیں اسے
“عرش بولو’ ماما پیاری” وہ توتلی زبان میں دہراتی
“ما’ما پاری”
نئے نئے الفاظ سیکھتی جو چیز دیکھتی اسے گھورنا شروع کردیتی پھر خود بھی ویسی ہی حرکتیں کرنے کی کوششیں….!!
سب خاموشی سے دیکھتے رہتے محفوظ ہوتے ایک ہی تو چڑیا تھی سارے گھر میں…
ہر کوئ کے کر سینے پہ چڑھائے بیٹھا ہوتا تایا ابو ہوتے یا سرور خان “بولو بیٹا بولو” کی گردان ہوتی
اکثر نورینہ بیگم اور تائ سرگوشیاں کرتی نظر آتی “عرش زہرا نا ہوتی تو اس گھر میں تو ہم سناٹے سے ہی مر جاتے اریب اور اظہر تو گویا “گونگے” ہیں” آنسو صاف کرتیں شکر ادا کرتیں.
پھر وقت کا کام ہے بھاگنا اور وہ وہ بھاگتا ہی ہے سو بھاگتا چلا گیا اور “بولو عرش گڑیا” کی گردان میں ہی عرش لڑکپن پھر جوانی میں قدم رکھ چکی
بولنا اسکا من پسند مشغلہ
اور ساتھ ہی ہاتھوں کو حرکت دینا ہر چیز کو پوری جزئیات اور حرکات و سکنات سے بتانا اسکی عادت ہی بن گئ
کھانے کی ٹیبل پر کھانا کھانے بیٹھتے
تو گویا ماحول بنا ہوتا جیسے کسی ٹی وی کے من پسند ٹالک شو کا ٹائم ہوا ہو
سارے دن کے روادار سنانی ہوتی۔ تایا تائ امی ابو اور دادی بھی دلچسپی سے اسے سنے جاتیں۔ کھانا روک کے وہ بتائے جاتی
“پھر پتا ہے کیا ہوا بابا میں نا…”
اور بس شروع
جسکا اینڈ نہیں..
کھانے سے شروع ہوا ٹاپک لاونج میں بھی جاری و ساری رہتا
کالج کے بعد یونیورسٹی کی باری آئ تو مانو عرش زہرا نے دھمال ڈال دیا
“نہیں جانا میں نے یونیورسٹی”
جہان ہی ٹاپک ڈسکس ہوتا وہ اٹھ جاتی
کان لپیٹ لیتی.. مارے باندھے تو کالج کلیئر کیا تھا وہ بھی آرٹس سبجیکٹ میں اب دماغ خراب تھا جو یونیورسٹی جاتی؟
ادھر یونیورسٹی کی بات آتی ادھر نفی میں زور زور سے سر ہلنا شروع ہوجاتا
“میں نہیں جاوں گی”وہ آنسو بھر کے دہائ دیتی
“افوہ ہم علی گڑھ یونیورسٹی کی بات کر رہے ہیں عرش زہرا جو سرسید نے قائم کی تھی قیام پاکستان سے پہلے” بابا جھلا کے جواب دیتے
“اوہ میں سمجھی میری یونیورسٹی بھیجنے کا پلان ہوریا یونی کا نام سنا نا میں نے تو بس اس لئے” وہ کھسیانی ہوجاتی اور کھسک لیتی کہیں لیکچر نا مل جائے
مگر وہ بھی عرش زہرا کے ماں باپ تھے آخر
“عرش تمہارے بابا چاہتے ہیں تم یونیورسٹی جاو” نورینہ بیگم نے بلا تمہید گفتگو شروع کردی
“امی آپ جانتی ہیں مجھے پڑھائ میں کوئ انٹرسٹ نہیں ہے” وہ کانوں سے ہینڈ فری نکال کے سیدھی بیٹھی چہرے پہ خوف کے آثار۔
“دیکھو عرش تم ہماری بہت پیاری بیٹی ہو تمہارے بابا کے سارے فرینڈز کے بچے کوئ ڈاکٹر ہے تو کوئ انجنیئر تو کوئ لیکچرار تم نے ضد کے کر آرٹس لیا اب کم سے کم ماسٹر تو کرلو کل کو آپکی شادی کرنی ہے بیٹا۔ “
وہ دلگرفتہ ہوئیں۔
عرش زہرا سنجیدہ ہوئ من ہی من میں آیت الکرسی پڑھ کے خود پہ پھونکی (کہیں امی کی تقریر اثر نا کر جائے)”
“امی میں نہیں جاوں گی یونیورسٹی اور آپ خود سوچیں میں اپنے ماں باپ کی خاطر مذید پڑھائ پر آمادہ نہیں ہوں تو “کسی ڈاکٹر انجینئر یا لیکچرار کی خاطر” میں کیوں جاوں”
میں نہیں جاوں گی تو بس نہیں! اسنے حتمی مؤقف اپنایا
وہ اسےگھورتے ہوئے زور سے دروازہ بند کرتے چلی گئیں
اور عرش زہرا نے سکون کا سانس لیا بلا ٹلی (پڑھائ)
مگر یہ بلا عارضی ٹلی تھی اور اب مستقل سر پہ سوار ہونے والی تھی.
