Shah Aur Zahra by Uzma Usman NovelR50705 Shah Aur Zahra (Episode 13)
Rate this Novel
Shah Aur Zahra (Episode 13)
Shah Aur Zahra by Uzma Usman
جناح ائیرپورٹ کیب انہیں گھر کے باہر ڈراپ کرگئی۔ گھر کے باہر قدم رکھتے وہ حیرت میں مبتلا ہوئی سارا گھر برقی قمقموں سے جگمگا رہا تھا، وہ ساکت ہوئی
شاہ اسکا سامان نکالتے خود بھی رک گیا
“آپ اندر نہیں آئیں گے؟” اسکے ہاتھ سے بیگ لیتے مروت یاد آئی
“نہیں اب پرسوں ہی آؤں گا” شرارت
“امی برا منائیں گی، آجائیں اندر” گڑبڑائی
“کہہ دینا جو میں نے کہا ہے” “سرور
“ہمم ٹھیک ہے خدا حافظ” وہ مسکرائی
“فی امان اللہ، اپنا خیال رکھنا،” دل سے مسکراہٹ ادا ہوئی آنکھوں میں ٹہر گئی
وہ “جی” کہتی اندر بھاگی
****
اندر گئی تو پہلے تائی اماں صدقے واری گئیں، امی نے راستہ روک لیا، “ارے شاہ کہاں ہے؟” وہ چلا گیا کیا؟” باہر کھڑا ہے؟” نورینہ نے اسے بازو سے پکڑ کر سوالات کی بوچھاڑ کردی
“وہ چلا گیا ہے پرسوں ہی آئے گا” بے خودی میں کہتی گئی
اپنا بازو چھڑایا اور اور تائی اماں اور امی کے سوالات ادھورے چھوڑے وہ کمرے میں آئی اور دروازہ بند کردیا۔ گیٹ سے ٹیک لگا لی
سارے منظر فلم کی طرح چلنے لگے بازو سے لٹکے بیگ سے موبائل نکالا اور میمونہ کو کال لگائی۔
“مونی مونی میری جان، پتا ہے کیا ہوا، پہلے ہم ایئرپورٹ گئے وہاں…..” وہ ازسرنو اسے تمام باتیں
باتیں بتانے لگی
بیڈ پر بیٹھ گئی
چہرہ گلنار ہورہا تھا
“ہمم تو مطلب شاہ نے تم سے آخر کہہ دیا کہ وہ تم سے محبت کرتا ہے؟” میمونہ چہکی
“ارے اسنے ایسا کچھ نہیں کہا، دیکھو کچھ چیزیں سمجھنے کی بھی تو ہوتی ہیں نا، اف اتنی کئیر کرتا ہے وہ میں کیا بتاؤں مونی،اور اسنے پتا ہے مجھے کیا کہا؟” وہ بلش ہوئی
“کیا کہا بتاؤ ذرا،”
“He say to me Monii, you are the only thing I wanna touch,”
“اور اسکی آنکھوں کے تاثرات، اب دیکھو زبان جھوٹ بول سکتی ہے آنکھیں تو نہیں بول سکتیں نا؟” وہ نجانے کس جہاں میں تھی
“ہاں نا”
“تم آرہی ہو نا؟ تم ضرور آو گی نا؟ میمونہ پلیز ماما سے اجازت لینا،” وہ لجاحت پہ اتر آئی
“اچھا بابا آئی ول ٹرائی مسٹ، تم دعا کرو اللہ انکا دل نرم کردے” وہ ہنستے ہوئے بولی
“میں دعا کروں گی، تم میری بات کرواو نا آنٹی سے” عرش بے چین ہوئی
میمونہ نے اپنی ماما کو فون دے دیا آدھا گھنٹہ بات کرلینے کے بعد وہ انہیں میمونہ کو کراچی بھیجنے کے لئیے رضامند ہوگئیں تھیں، ساتھ میں میمونہ کی بڑی بھابھی اور بھائی!
عرش نے چیخوں سے آسمان سر پہ اٹھا لیا….
“ہاں تو پھر میمونہ کراچی آرہی تھی”![]()
***
تھا ہفتہ آیا اور تیاریوں میں ہی گزر گیا، ہفتے کی رات میمونہ، اسکی بھابھی، رومیصہ، اور بھائی ارضانش کراچی آگئے، صرف اور صرف عرش کیلئے ، میمونہ عرش کے کمرے میں جبکہ باقی مہمانوں کو کمرے دے دیئے گئے تھے، گو کہ ایک چھوٹی سی تقریب تھی مگر سرور خان کی شادی کے بعد اس نئی نسل کی پہلی اور سالوں بعد آنے والی خوشی تھی قریب قریب کے مہمان بھی کافی ہوگئے تھے، گھر باقاعدہ شادی والا گھر لگ رہا تھا۔ عرش نے مہندی لگوائی تھی کلائیوں سے ذرا اوپر تک رات پوری وہ باتیں کرتی رہیں دن میں نورینہ کی ڈانٹ پھنکار سن کر گھنٹہ گھنٹہ سونے کیلئے لیٹ گئیں،
شام میں بیوٹیشن گھر آئی عرش نے گولڈن میکسی جبکہ میمونہ نے راجھستانی غراراہ پہنا تھا
“عرش سمپل میک اپ میں نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی،
ساری تقریب لان میں منعقد تھی، گھر جگمگا رہا تھا،
ساڑھے نو بجے کے قریب، شاہ بمعہ فیملی تشریف لائے، عرش نے پہلی بار شاہ کے بابا کو دیکھا، وہ شلوار قمیض میں کھڑے تھے سب سے پہلے انہوں نے عرش کو منہ دکھائی دی تھی نکاح سے بھی قبل!
اسکے سر سے روپے وار کے صدقہ دیا تھا اور انکے اچھے نصیب کی دعا کی
شاہ کو عرش کے برابر میں لا کر بٹھایا گیا میمونہ دھرادھڑ تصاویر اتار رہی تھی، شاہ کریم کلر کے کرتے جسکے بٹنوں کے گرد نفیس سی کڑھائی تھی، اور کلائی میں قیمتی بٹن لگے تھے دلفریب خوشبو سے مہکا ہوا، وہ عرش کے برابر بیٹھا، بال جیل سے سیٹ تھے، وہ کسی ترک سلطنت کا شہزادہ لگ رہا تھا نفیس اور وجیہہ…!
عرش نے اسے لمحے کے لئیے دیکھا اور آنکھیں جھکا لیں دل گردے کا کام تھا اسکی آنکھوں میں جھانکنا
نکاح شروع ہوا۔
امام صاحب کے پوچھنے پر عرش ہوش میں آئی
یہاں وہاں دیکھا بابا تایا ابو اور شاہ کے بابا، شاہ زمان ایک ساتھ دور کھڑے تھے
“اسکی زندگی سونپی جا رہی تھی،وہ ایسے مواقع پہ اللہ کا نام لیا کرتی تھی۔
“بسم اللہ الرحمن الرحیم”کہہ کر درود پڑھا، اللہ سے اس نکاح کے بابرکت ہونے کی دعا کی” لرزتے لبوں سے آواز نکلی “قبول ہے” امام دوبارہ جملے دوہرانے لگے
اسنے امی کا ہاتھ پکڑا جو اسکے کاندھے پر دھرا تھا
پھر ابو کو دیکھا،آنسوؤں کا سیلاب رواں ہوا تھا
“بابا میرے پاس آئیں، ادھر بیٹھیں،” اسنے ایک ہاتھ لمبا کر کے سرور خان کو بلایا وہ اسکی جانب آگئے اسکا سر اپنے سینے سے لگا لیا عرش رونے لگی۔ امام دوبارہ کلمات دوہرا رہے تھے
“عرش بیٹا جواب دو ” سرور خان کے سینے سے لگی عرش کو جیسے سکون ملا تھا بابا ماما اسکے پاس تھے پھر وہ کیوں اداس ہو؟ “قبول ہے” اسنے دوبارہ ایجاب کیا
تیسری بار پوچھنے پر ،”قبول ہے” کہتے ہی عرش کی آنکھیں بہہ گئیں
حقدار بدلا تھا زندگی کا، اسکا محافظ وہ اسکی منکوح،
اب امام شاہ سے ایجاب و قبول کے مراحل طے کر رہے تھے اسنے جیسے ہی تیسری بار “قبول ہے کہا”مبارک سلامت کا شور سا اٹھا امام نے انکی خوش گسار ازدواجی زندگی کیلئے دعا کی اور یہ دعا شاہ کے بابا نے کروائی۔
شاہ کی دادی جان بھی خوش سی بیٹھی تھیں (بظاہر)
چند لمحوں بعد سب منتشر ہوا بابا اس کا سر چومتے اسے دعا دیتے اٹھے مہمانوں کی تواضع کرنا تھی
اب انکی جگہ میمونہ نے سنبھالی
“چلیں جیجو نیگ نکالیں،” اسنے گھورا
“کس بات کا نیگ” شاہ نے آبرو اٹھائے
“نکاح کا نیگ اور کس چیز کا؟” میمونہ نے شاہ کو آنکھیں دکھائیں۔
“واہ یہ سب شادی پر ہوتا ہے ابھی نہیں”شاہ نے اسے تپایا
“ٹھیک ہے پھر میں آپکی دلہن لے جارہی” اسکے پہلو میں بیٹھی عرش کا بازو پکڑ کر اسے اٹھایا
“یہ لو بیگ میری بیوی نا لے جاو” شاہ نے والٹ نکال کر عرش کی ہتھیلی پر جمایا
عرش شرم سے گلال ہوئی، کتنا پیارا لگا تھا “میری بیوی” “سو سوئیٹ” اسنے دل میں کہا
“مگر میں والٹ کا کیا کروں شاہ” اب کے اسنے پہلی بار شاہ کی آنکھوں میں جھانکا،
“میمونہ کو دے دیں ڈئیر وائف جو آپ چاہیں جتنے آپ چاہیں، اسے کہیں ہمیں پرائیویسی دے، جتنی آپکو پرائیوسی چاہئیے اتنی رقم اسے دے دیں” شاہ مسکرایا اسکی آنکھوں میں جھانکا
“یہ کام آپ خود کریں،” اسنے والٹ واپس شاہ کو دیا
“سوچ لو” وہ شریر ہوا
“سوچنا کیا؟”
“یہ لو میمونہ پورا والٹ،اب ملاقات کا انتظام کرو” اسنے پورے کا پورا والٹ میمونہ کے ہاتھ پر رکھا،” عرش تو عرش میمونہ کا بھی منہ کھل گیا
“آپ پر ٹرپ بھی ادھار ہے جیجو، یاد ہے نا؟” میمونہ نے آنکھیں گھمائیں
“جی یاد ہے میں نے یونیورسٹی سے سات دن کی چھٹی کی ہے تم بھی سات دن کہیں نہیں جا رہی، میں تم اور عرش، کل سے ٹور پہ ہیں، میرا اکیلے کا سال کیوں ضائع ہو؟ تم دونوں بھی بھگتو”
“کل سے واقعی؟؟” میمونہ چیخی
“ہاں کل سے اور ابھی تم کوئی انتظام کرلو تو اچھی بات ہے ورنہ یہ والٹ واپس کرو میں سر کی کسی کزن سے یہ کام کروا لیتا ہوں” اسنے والٹ لینے کو ہاتھ بڑھایا
“اچھا رکیں،” وہ کہتے ساتھ گئی اور نورینہ بیگم سے اجازت لے آئی
“آئیں آپ دونوں کو کھانا کھلا آؤں یہی کہا ہے میں نے آنٹی سے اوپر چلیں عرش کے کمرے میں” اسنے سر کو تھاما اور آگے بڑھ گئی عرش ہکا بکا سی چلنے لگی
تم کدھر جا رہی ہو؟” شاہ نے میمونہ کو آواز لگائی وہ سیڑھیوں کے عین وسط میں تھے
“اور آرہی ہوں آپ لوگوں کے ساتھ” وہ اچنبے سے گویا ہوئی
“کوئی ضرورت نہیں ہے، میں خود لے جاوں گا بس تم جاو” کہتے ساتھ اس نے عرش کی کلائی تھامی اور اسکی میکسی چٹکی میں پکڑی۔
سیڑھیوں پہ کھڑی میمونہ ہکابکا سی ان دونوں کو جاتے دیکھ رہی تھی شاہ تو شاہ تھا یہ عرش؟؟ عرش کیوں کچھ نا بولی؟؟ اور تو شور دیکھو ذرا کتنی میٹھی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی؟؟ اور تو اور کتنے مزے سے اسکے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہوا تھا؟
“ابھی ریٹ پڑواتی ہوں کمرے میں مجھ سے پنگا؟ ” وہ جلتی بھنتی سیڑھیوں سے اتری اور رخ نورینہ اور انساء آنٹی کی طرف تھا
_______
آپ..،آپ مجھے یہاں کیوں لے آئے” کام دار دوپٹہ سر پر جماتے ہوئے عرش گھبرائی۔
“تمہیں دیکھنے کیلئے، جی بھر کے دیکھنے کیلئے، دل کے بھرنے تک،” شاہ ارسلان نے اسکی کلائی تھامی۔
وہ پسینہ پسینہ ہوئی۔
“تمہیں پتا ہے؟ تمہیں دیکھ کر کسی نقلی گڑیا کا گمان ہوتا ہے، جس سے کھیلتے کھیلتے میں بولنا سیکھ گیا عرش،” عرش کا ہاتھ عین دل کے مقام پر رکھا اپنے ہاتھ کے نیچے….
عرش ہونق ہوئی، بجائے شرمانے کے وہ حیران ہوئی، وہ اس سے محبت کرتا ہے؟
اس نے اسکے چوڑے سینے پر دبے اپنے ہاتھ کو دیکھا۔ پھر شاہ کی آنکھوں میں…
“ہمارا..واقعی..نکاح ہوا ہے شاہ، مجھے کسی چیز کا یقین نہیں آرہا..” بے یقینی کی کیفیت
ہاں نکاح، وہ بھی ارینج میرج،” اسکے کان کے پاس جھولتی لٹ پیچھے کو اڑستے ہوئے بولا۔
عرش بدمزہ ہوئی، اپنا ہاتھ کھینچا اور دور ہوئی۔ آنکھوں میں تیرتا غصہ…
“تم کیا سننا چاہتی ہو؟” شاہ غصہ ہوا، جیسے ہاتھ کھینچنے کا غصہ
“میں کیا سننا چاہوں گی؟ ویسے بھی یہ ملنا تو لو میرج والوں کو ہوتا ہے، یا وہ کچھ سننے کے متمنی ہوتے ہیں ہماری تو ارینج میرج ہے، سو میں کیا سننا چاہوں گی؟” وہ اپنی جون میں آئی، گردن اکڑائی، کیسے وہ اسے اوپر لایا تھا….
“تم اسلیئے خوش فہمی کا شکار ہو رہی ہو؟ کیونکہ میں تمہیں اوپر ملنے کیلئے لے آیا؟” گردن اوپر کرتے شاہ نے ایک آبرو اٹھایا۔
“میں خوش فہمی کا شکار کیوں ہونے لگی، میں تو آپکو حقیقت بتا رہی ہوں،” عرش نے اپنی کلائی کی جانب اشارہ کیا جو چند لمحے قبل اسکی گرفت میں تھی
“یہ حقیقت نہیں “حق” ہے مائی ڈئیر وائف،” وہ اسکے پاس آیا اس پر جھکا
“تمہاری جگہ کوئی اور بھی ہوتی، تو اسکی زندگی کے ان حسین لمحوں کو یادگار بنانے کیلئے میں، مجھ سے جو ہوسکتا میں کرتا، میرے جیسا انسان حق تلفی کا سوچ بھی نہیں سکتا” کتنا سیدھا تھا نا وہ؟
عرش کے اندر کچھ چھن سے ٹوٹا…
” تو پھر آپ حوصلہ رکھیں، ابھی بہت سال باقی ہیں جب میں آپکی بیوی بن جاؤں گی، ابھی آپ الگ میں الگ، جب میں آپکی ذمےداری بن جاؤں تب اپنے حقوق و فرائض پورے کرلئیے گا، فی الحال بہت شکریہ، بہت یادگار بنائے آپنے اپنی منکوحہ کے یہ خوبصورت لمحے، یاد رکھوں گی” وہ پھنکاری اور میکسی سنبھالتی وہاں سے چلی گئی۔
شاہ نے گردن کو خم دیا اور اسکی ڈریسنگ ٹیبل سے ٹیک لگا لی، اپنا دایاں ہاتھ عین دل کے مقام پر رکھا، جہاں چند لمحے قبل عرش کا ہاتھ تھا، وہ مسکرایا۔
“یہی جگہ ہے عرش تمہاری” وہ بڑبڑایا اس شیرنی کا دل جلانے میں جو مزہ تھا وہ کسی چیز میں نہیں تھا۔
دروازے پہ دستک ہورہی تھی جو جاتے ہوئے عرش دھڑام کرتے بند کرتی گئی تھی، وہ چونکا
“بیٹا آپ ادھر؟ کھانا کھانے گئے تھے نا آپ تو؟” نورینہ بیگم بمعہ، میمونہ اندر آئیں تھیں،
“عرش کہاں ہے؟”میمونہ نے اسکی تلاش میں نگاہ دوڑائی، اسے پلان فیل ہوتا محسوس ہوا
“وہ یہاں کہاں ہوگی، مجھے تو تم کھانا دینے کیلئے یہاں بٹھا کے گئیں تھیں، اور کوئی اتاپتا نہیں؟” شاہ نے اسکی بازی سمجھ کر اسی پر پلٹی۔
“میمونہ،، بیٹا شاہ اور اسکے دوستوں کیلئے ایک ساتھ ہی میں نے ٹیبل سیٹ کی تھی، تم اسے یہاں لے آئیں” نورینہ اسی پر خفا ہوئیں
” نہیں آنٹی..وہ..میں..”میمونہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگی، (نجانے کہاں چھپا دیا عرش کو، اتنی مشکل سے آنٹی کو کام سے اوپر لائی، افف کتنا مزہ آتا، ان دونوں پر وہ خفا ہوتیں،” میمونہ نے منہ بگاڑا۔
“تم کچھ کہہ رہی ہو؟”شاہ نے معصومیت کے ریکارڈ توڑے
“نن..نہیں میں نے کیا کہنا چلیں آنٹی، جیجو چلیں، نیچے” دانت پیستے وہ آگے ہوئی
*****
ایک خوبصورت صبح اس بیلوں سے ڈھکے گھر پر چھب دکھلا رہی تھی، اندر جاو تو عرش کے کمرے میں میمونہ اور سر تیار ہورہی تھیں،
“تم میرے نکاح کیلئے آئی تھیں، یا گھومنے پھرنے؟” کان میں ٹوپس ڈالتے عرش نے اسے گھورا، اسنے سفید قمیض اور بلو ٹراؤزر اور بلو پرنٹڈ دوپٹا پہنا ہوا تھا،
“دونوں کام کرنے آئی ہوں، ظاہر سی بات ہے اب ایک نکاح کیلئے تو میں ایک ہفتہ برباد نہیں کروں گی، اور تقریب بھی وہ جس میں ہماری کوئی “عزت” نا ہو مہمانوں کو سیڑھیوں پہ چھوڑ کر ہلے گلے کئیے جائیں،” وہ رات والی بات کا غصہ نکالنے لگی تھی۔
عرش کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ چمکی پھر مسکراہٹ کی جگہ حزن نے لے لی…آہ
“اب چلو جلدی،”حجاب کو اچھی طرح پن اپ کرکے میمونہ نے شیشے میں خود کو دیکھا
“شاہ کو تم نے کہہ دیا ہے نا؟ وہ آرہے ہیں؟” شاہ کا نام نکاح کے بعد پہلی بار لیا تھا
“اوہووووووو…آرہے ہیں؟، واہ بھئی، ترقی ہوگئی،اب فورن ہی تم سے آپ…پھر آپ سے جاناں…پھر سرتاج” میمونہ نے لقمہ دیا
“بکو مت، کال کرو انہیں، اور بلا لو اب، میں تیار ہوں” وہ بلش ہوئی اور بالوں میں میں کلپ ڈالا
“کرتی ہوں کال، ویسے تمہارے گھر والوں کو منانا کسی محاذ سے کم نہیں،پہلے تمہاری امی کو پھردادی کو پھر بابا سے اجازت، اففف..”میمونہ نے کال لگاتے ہوئے جھرجھری لی
” ہاں تو پروقار لوگ ہیں، ایسے ہی نہیں فورن ہتھے دے دیتے”عرش نے گردن اکڑائی
“پروقار لوگ ہیں لڑکی نکاح کے دو منٹ بعد شوہر کا ہاتھ تھامے اسکی بانہوں میں چلتے ہوئے، کمرے میں گھنٹوں گزار آتے ہیں”میمونہ کو رہ رہ کر غصہ آرہا تھا۔
کال لگا کر عرش کو موبائل تھما دیا
وہ گڑبڑائی
“اسلام علیکم”
“وعلیکم سلام کیسی ہو ڈئیر وائف؟” وہ تروتازہ تھا
“الحمداللہ، اور آپ کیسے ہیں؟” تھوک نگلا
“میں بھی ٹھیک ہوں، تیار ہو آپ لوگ؟” غالبا وہ گاڑی میں تھا
“جی تیار ہیں آجائیں آپ” عرش کی نگاہیں جھک گئیں..یہ نکاح کچھ ذیادہ ہی دل میں سمایا تھا۔ اسے آپ بلانا…اور وہ بھی اسکے سامنے….
“جو حکم، ابھی آتا ہوں،” وہ مسکرایا
عرش نے کال کاٹ کر موبائل میمونہ کے حوالے کیا
“ایسے بلاو گی عرش، سر کے بل حاضر ہوجاؤں گا” خود سے باتیں کرتے..اسنے گاڑی فل اسپیڈ پر ڈال کر عرش کے گھر کی جانب موڑی
“جی تیار ہوں آپ آجائیں” واہ…نچلا لب دانتوں میں دابا اور ریش ڈرائیونگ کرتے وہاں پہنچا۔
اندر جاکر پہلا سامنا نورینہ سے ہوا جو اسے زبردستی ناشتے کی میز پر لے آئیں،
اور عرش کو آواز لگائی
” عرش ناشتہ لگاو اور نیچے آجاو دونوں، شاہ آگیا ہے” شاہ کو بے ساختہ وہ دن یاد آیا جب وہ عرش کو دیکھنے کی تمنا لئیے وہ یہاں سے چلا گیا تھا
” نہیں آنٹی میں ناشتہ کر چکا ہوں آپ بس ان دونوں کو بلا دیں،” وہ متامل ہوا
“ارے بیٹا چائے تو پی لو، ہمارے ساتھ” سرور خان بھی وہاں نمودار ہوئے وہ انکا دل رکھنے کیلئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا نورینی چائے لے آئیں، سرور خان سے باتیں کرتے ہوئے کپ ختم ہوا اور وہ سیڑھیوں سے چلتی ہوئی نمودار ہوئی۔
سفید سادی قمیض،سارے بال سیدھے کر کے ایک کندھے پر ڈالے ہوئے تھے اور سامنے سے لٹیں موڑ کر کلپ لگائے ہوئے تھے پاوں میں سمپل سوفٹی تھی۔کانوں میں آویزے… اور کلائیاں خالی۔
وہ یک ٹک اسے دیکھتا گیا پھر خود کو ڈپٹا، انہوں اگلے ہی پل یاد آیا وہ اسکی منکوحہ ہے…شرعی و قانونی حق رکھتا ہے وہ اس پر سو دیکھے گیا….
وہ دونوں اسے سلام کر کے باہر چلی گئیں
نورینہ نے اسے اس سر پھری کا خیال رکھنے کی تاکید کی۔
” تو پھر کہاں جانا ہے؟” گاڑی کا بیک ڈور میمونہ کیلئے کھولتے ہوئے وہ بولا
“سمندر…، پہلے سمندر دیکھنا ہے جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا..اس کے بعد باقی جگہیں” آنکھیں بند کر کے زور سے میچتے ہوئے وہ بولی
“ہمم تو مطلب آج بیچ ڈے؟” دروازہ بند کر کے اب کے اس نے عرش کی جانب دیکھا۔ جو گاڑی کی بیک سائڈ طرف بڑھ رہی تھی
” شاہ نے ایک قدم آگے بڑھایا اور اسکا ہتھیلی تھام لی
عرش دمبخود رہ گئی۔
پھر فرنٹ ڈور کھول کر اس نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا سائڈ میں ہوگیا۔
وہ اسکا ہاتھ تھامے تھامے اندر بیٹھ گئی شاہ نے اسکا ہاتھ چھوڑ کر دروازہ بند کیا اور
ڈرائیونگ سیٹ پر آگیا۔ میمونہ نے کھلے منہ پر ہاتھ رکھا ستائش کے انداز میں ہونٹ موڑے۔
“پہلے ہم کہاں جائیں گے جیجو؟”
“پہلے ہم جائیں گے سی ویو کلفٹن اور دو دریا، آج آپکا پہلا دن ہے تو سمندر، پھر آخری دن بھی سمندر ہوگا اور وہ سمندر جہاں کراچی سے بلوچستان کی ساحلی اور پہاڑی پٹی ملتی ہے،جو ساحل سے اتنی قریب ہے کہ آپ اسے چھو بھی سکتے ہیں،” وہ ڈرائیو کرنے لگا۔
“واو، مطلب شروعات بھی سمندر سے اور اختتام بھی؟”
“ہاں بلکل! اور درمیان کے دنوں میں ہم دوسری جگہوں کا وزٹ کریں گے”
عرش دونوں ہاتھ گود میں رکھے پزل سی تھی، اسکی ہمرای میں سفر…وہ وقتا فوقتا اسے دیکھتی.. پھر باہر دیکھنے لگتی…
میمونہ اب موبائل میں مصروف تھی۔
عرش باہر دیکھ رہی تھی شاہ نے عرش کا گود میں دھرا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ اسٹیئرنگ پر رکھ لیا۔ عرش بری طرح چونک کر شاہ کو دیکھنے لگی۔ گرے کلر کی ہاف سلیو کالرڈ شرٹ اور بلیک جینز، شرٹ میں سے اسکے کسرتی بازو نمایاں تھے۔ بال سامنے سے مڑے ہوئے پیچھے کی جانب کر کے جیل سے سیٹ تھے۔
وہ سامنے دیکھ رہا تھا ایک ہاتھ سے ڈرائیو کرتے دوسرے ہاتھ میں اسکے ہاتھ ہر گرفت سخت کئیے۔
عرش نے ہاتھ نکالنا چاہا، اسکا لمس اسے پگھلا رہا تھا۔ مگر بے سود
“ابھی تو لو میرج نہیں ہے” عرش بڑبڑائی تھی.
