Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Aur Zahra (Episode 15)

Shah Aur Zahra by Uzma Usman

اٹس ریلی امیزنگ یار” میمونہ متحیر رہ گئی۔

نیچے ٹھاٹھیں مارتا سمندر، اوپر کیبن کی طرز پہ بنے تین اوپن فلور، شام کے ڈھلتے سائے، اور ان ٹوکری نما کیبن میں جلتے فانوس، کسی افسانے، کا متحیر کردینے والا منظر، سورج کا نارنجی گولہ ایسا لگ رہا تھا بس اس کنارے نہیں، نزدیک ہی تو ہے، ہاتھا بڑھایا اور چھو لیا….

اب یہ کرنیں آنکھوں پر نہیں لگ رہی تھیں۔

ان کیبنز کے نیچلی سطح پر نیلے بلب لگے تھے، جو شام ہونے کے سبب اب روشن تھے، کیا منظر تھا،، طلسماتی۔

“ہم سب سے نیچلے فلور پہ بیٹھیں گے،”عرش نے حکم جاری کیا

شاہ نے سر کو خم دیا جیسے کہہ رہا ہو جو حکم!

“ایسے آپ سر ہلا کے ہاں کہہ رہے ہیں نا تو آپکا اپنا دل بھی وہیں بیٹھنے کا ہوگا ورنہ میں اور میری مرضیاں” عرش ابھی تک جلی بھنی بیٹھی تھی۔ تھوڑا دل کو اعتماد ملا تھا۔

“اب بات مان لی پھر بھی اعتراض؟ ” لبوں میں ہنسی دبائے شاہ نے بظاہر سنجیدگی سے کہا۔

میمونہ دھڑا دھڑ تصاویر اتار رہی تھی۔

“آو بیٹھتے ہیں” اسکی ہتھیلی میں اپنا ہاتھ پھنسا کر وہ اسے لے گیا، اور ایک کونے میں جا کر بیٹھ گئے

ہوا بے حد سرد تھی، اور بہت تیز تھی۔

نیچے سمندر کی لہریں شور مچا رہیں تھیں اوپر سکون اور خاموشی تھی۔

“مجھے لگ رہا یہ آپ دونوں کا ہنی مون ہے، اور میں کباب میں ہڈی بن گئی ہوں” کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے میمونہ نے گوہر افشانی کی

عرش سرخ ہوتا چہرہ موڑ گئی شاہ مینیو کارڈ دیکھنے لگا گویا ان سنی کر رہے تھے

“یہاں ذیادہ تو ینگ جنریشن کیوں ہے؟ اور کالج یونیورسٹی ٹائپ اسٹوڈنٹس کا انبار؟” میمونہ نے شاہ سے پوچھا۔

“کسی سے ٹریٹ، اور ہیوی ٹریٹ لینی ہو، تو کراچی کی نوجوان طبقے کا پہلا آپشن دو دریا ہوتا ہے، تاکہ اگر ٹریٹ دینے والا غریب نہیں بھی ہے تو وہ ہوجائے، میں خود کئی بار یہاں آکر والٹ خالی کروا چکا ہوں” مینیو کارڈ سر کی جانب بڑھاتے اس نے تفصیل بتائی۔

“مطلب مہنگی جگہ ہے یہ؟” میمونہ دونوں ہاتھ ٹیبل پہ رکھے پوری توجہ سے گفتگو میں مگن تھی۔

“ہاں مہنگی کہہ لو یا لگثری”

“یہ ٹی وی نیوز ہر جگہ کراچی کراچی کیوں ہورہا ہوتا ہے جیجو؟ مثلا، پاکستان کے تمام شہر ایک طرف اور کراچی، اور کراچی کے مسائل ایک طرف، ایک طرف پورے ملک کو سنوارنے کی بات کی جاتی ہے، تو کراچی کا نام الگ سے لیا جاتا ہے،کہ کراچی کو بنائیں، یہاں کے مسائل سے واقف ہوں، یہاں کے اتنے مسئلے مسائل آخر کیوں بتائے جاتے ہیں؟” میمونہ ذہن میں کلبلاتے سوالوں کو باہر نکال رہی تھی شاہ کی صورت میں اسے جواب مل.رہے تھے وہ جو سیاست،مسیحائی، اور محبت پر گہری نظر رکھتا تھا کسی محب وطن پاکستانی کی طرح، ہاں پاکستانی اپنی محبت اور مادرملت سے بہت لگاو رکھتے ہیں

“کیونکہ کراچی دنیا آٹھواں بڑا شہر ہے، رقبے اور آبادی کے حساب سے، ڈھائی کڑور کے لگ بھگ آبادی، وسیع رقبہ، اور کاروباری ممالک سے ملتی پانی کی سرحدیں، یہاں نیوی،ائیر فورس، آرمی، سب کے گڑھ ہیں، پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ یہاں مقیم ہے،تو ہونا تو یہ چاہیئے تھا،کہ یہاں علاقائی بنیاد پر گورنرز اور وزیر ہوتے، اسے مختلف حصوں کی نگرانی میں رکھا جاتا، تمہیں پتا ہے؟ ذولفقار علی بھٹو کہا کرتے تھے کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے، جسے ترقی چاہئے ہوتی ہے وہ یہ ترپ کا پتہ استمال کرتا ہے، کراچی کے نام پر ایک بڑا حصہ لیا جاتا ہے، جو کہ کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے، بہت بڑا شہر ہے اسکے مسائل بھی بڑے ہیں،دنیا کے ہر “بڑے” شہر میں ایسا ہی ہوتا ہے، یہ بات چھوٹے شہروں میں رہنے والے۔ نہیں سمجھ سکتے، یہ روزگار کا شہر ہے یہاں کے رہنے والوں کو پنجاب کی طرح دوسرے شہروں میں نہیں جانا پڑتا، یہاں رزق ہے اللہ کا دیا ہوا اور برکت ہے” وہ دھیمے لہجے میں اپنی بات سمجھا گیا۔

“اوہ آئی سی تب ہی ہم دیکھتے ہیں کراچی کا نام لیکر حکمران سیٹیں تک جیت جاتے ہیں،” وہ ٹیک لگاتے پیچھے ہوئی، جیسے محفوظ ہوئی ہو

“یہ ٹی وہ ٹاک شو ختم ہوگیا ہو تو آرڈر کرلیں؟”عرش نے ٹیبل پر ہاتھ مارا۔ وہ بے حد بور ہوئی تھی۔ بلکل ویسے ہی جیسے ملک و ملکی سیاست سے نا دلچسپی رکھنی والی لڑکیاں نیوز چینل دیکھ کر بور ہوتی ہیں

” اوہ میں تو بھول گیا میری بیوی کو ان باتوں کی سمجھ کہاں آئی گی”نچلا لب دانتوں تلے داب کر بھنویں اکھٹی کر کے باقاعدہ اس پر نظریں جما کر کہا۔

“سمجھ ساری آتی ہے مگر مجھے ان فضول باتوں میں اپنا دماغ لگانے کی ضرورت نہیں” عرش نے دانت کچکچائے

“تم دماغ لگاتی کہاں ہو ویسے؟ کاموں میں یا پڑھائی میں؟” معصومیت کی انتہا…!

“کتنا ظالم شوہر ملا ہے، ہر وقت میرے لوز پوائنٹ گنتی کرواتا رہتا ہے” عرش نے جل کر سوچا۔

“میں جہان دماغ لگاتی ہوں نا آپکو بتا دوں گی، ابھی مجھے بھی بھوک لگ رہی ہے آرڈر کریں”

اسنے مینیو اسی کی طرف بڑھا دیا

“میرا نہیں یہ میمونہ کا ڈنر ہے وہ آرڈر کرے گی،” اسنے کارڈ مونی کی طرف بڑھایا۔

“ڈنر بے شک میرا ہے مگر ڈنر میرے فیاض دل جیجو کی طرف سے ہے اسی لئے میں انکی پسند کا کھانا کھا لوں گی”میمونہ نے اعلان کیا

“نوازش” شاہ نے سر کو خم دیا

خاموشی سے کھانا کھا کر بل پے کر کے اسنے آئس کریم لانے کو کہا میمونہ پھر سے تصاویر اور سیلفیز لینے لگی وہ اٹھ کر واک کرنے لگے ویٹر نے انہیں آئس کریم تھما دی، تین اسکوپ کی وہ آئس کریم خالی پیٹ کھائی جا سکتی تھی بھرے ہوئے پیٹ نہیں وہ تھوڑی تھوڑی کھاتے رہے

“عرش اپنے ہاتھ دیکھو” شاہ نے اسکی کہنیوں کی جانب اشارہ کیا آئس کریم پگھل کر اب اسکی کہنیوں سے ٹپک رہی تھی۔

وہ خجل ہوئی اور آئس کریم شاہ کو تھما دی

اس نے ڈسٹ بن میں ڈال دی اور عرش کے پاس آیا تھا

“چلو آو واش کر آو” اسکی اسکے ہاتھ تھامے

رکو” پہلے ایک سیلفی لینے لینے دو” آئس کریم سے لدی پھندی عرش کو اپنے ساتھ لگایا اور لمحوں میں سیلفی لے ڈالی وہ ہکا بکا رہ گئی۔

“آپ میری اسٹوپڈ پکس لیں گے،؟ ڈلیٹ کریں اسے” اسنے موبائل چھیننا چاہا گندے ہاتھ بھی شاہ کی شرٹ سے صاف کر ڈالے، ابھی بھی کچھ باقی تھی ہتھیلیوں پر چپچپاہٹ

“افوہ یہ کیا کیا؟؟” موبائل پوکٹ میں ڈال کر وہ غصہ ہوا

نیلی شرٹ پہ گلابی آئسکریم چپکا دی تھی

“یہی سزا ہے آپکی” وہ غصے سے مڑی۔

اطراف میں سمندر کی لہروں کا سکون دیتا شور تھا

“اے اشو” اسکی کہنی پکڑ اسے اپنی جانب کھینچا

“ادھر صاف کرلو،” اسکی ہتھیلیوں کو اپنی شرٹ سے رگڑ ڈالا، اور اسکی ناک چٹکی میں دبائی

“اور کوئی سزا دینی ہے؟” اسکی جانب جھکا، اسکی آنکھیں عرش کو لو دیتی محسوس ہوئیں

“مم..میں ہاتھ دھو کر آتی ہوں”وہ گھبرا کر مڑی

“کہا تھا نا تم پیار سے ڈرتی ہو” شاہ نے جملہ پھینکا جو اسکے کان تک سرخ کرگیا

*****

“آج بھی اندر نہیں آئیں گے آپ؟” گاڑی سے باہر آتے ہوئے عرش نے پوچھا میمونہ اندر جا چکی تھی

“نہیں پھر کبھی سہی” وہ مسکرایا

“آپ پورچ میں کھڑے ہیں اور اندر نہیں آرہے” وہ خفا ہوئی

“پورچ میں کھڑا ہوں تو بلا رہی ہو، نہیں آرہا،اگلی بار جب خود سے بلاو گی، کہیں بھی ہوا، تو چلا آؤں گا” اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے قریب کیا

“کیا بھروسہ ہے؟ تب بھی نا آئیں؟” عرش نے جانچنا

چاہا

“آزما لینا” کہتے ساتھ اسے قریب کیا اور اسے کندھوں سے تھام کر مقابل کھڑا کیا

اگلے لمحے عرش کو اپنی پیشانی پر اسکی مونچھیں سرسراتی محسوس ہوئی تھیں، نرم سے لبوں نے اسکی پیشانی پہ مہر محبت ثبت کی وہ متحیر رہ گئی۔

“میری محبت کا پہلا لمس،” وہ دور ہوا پیچھے پھر مسکرایا “اپنا خیال رکھنا، اور میمونہ سے کہنا کل نہیں پرسوں لے جاوں گا چرنا آئی لینڈ، انشاءاللہ” وہ گاڑی میں بیٹھ گیا

اسے ہاتھ سے خداحافظ کرتے وہ وہاں سے چلا بھی گیا

عرش ویسے ہی کھڑی تھی تشنہ لب، اور سن سی،

تھوک نگلا اور انگلیوں سے پیشانی کو چھوا جہاں وہ لمس تازہ تھا ویسی ہی گرماہٹ وہ ٹرانس سے نکلی۔

گہری سانس لی اسکا چہرہ گال سرخ ہوا اور آنکھیں جھک گئیں،

وہ اپنے کمرے میں بھاگی۔ ابھی وہ کہیں چھپ جانا چاہتی تھی

_________

“تمہیں رات کو کیا ہوا تھا؟” صبح ناشتے کی میز پر میمونہ نے ناشتہ کرتے ہوئے سوال داغا

“مم..مجھے کیا ہونا ہے؟” اسکے ہاتھ سے جیم کا جار گرتے گرتے بچا

“تم نیند میں ہنس رہیں تھیں، یا شاید سوئی ہی نہیں تھیں، مجھے تمہارا مسکرانا محسوس ہوا،اور تم نے فجر بھی پڑھی تھی آج جب میں اٹھی تو تم پڑھ رہیں تھیں” میمونہ اسی کے کمرے میں ٹہری تھی۔

“ہاں کل میں بہت خوش تھی اور خوشی دینے والے سے تو سب سے پہلے شئیر کرنی چاہئے نا؟” وہ مسکرائی

“اوہ گریٹس، کیا بات تھی مجھے بتاؤ؟” مونی کی آنکھیں چمکیں

“اوہ اچھا؟ بتاؤں تمہیں؟” عرش نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائیں۔

“ہاں نا”

“چپ کر کے ناشتہ کرو، بڑی آئی مجھے بھی بتاؤ” عرش نے اسکی نقل اتاری

“کرلو بیٹا کرلو ہمارے بھی دن آنے ہیں،” وہ بدمزہ ہوئی

“آنے ہیں مگر میرے جیسے دن تو کسی کے نہیں آئے ہونگے” وہ اترائی

“بتاتی ہوں جیجو کو کال کر کے عرش کو قدر ہورہی ہے آپکی” چائے کی شپ لیتے اسے تڑپایا

“خبردار جو تم نے بھانپ بھی نکالی، اچھا ہوا تمہیں کچھ بتاتی نہیں، سب سے بڑی چمچی ہو تم شاہ کی، میری دوست کم انکی دوست زیادہ لگتی ہو” سر جھٹکا

“وہ ہیں ہی اتنے اچھے،ہر ٹاپک پہ اتنے اچھے سے بات کرتے ہیں، اتنی معلومات ہے انکے پاس، اتنے ڈیشنگ، اور سوبر، کہاں تم نری احمق، اور نالائق تم سے بات کرنے سے پہلے ہی میں سوچ رہی ہوتی ہوں اسے کہاں علم ہوگا” میمونہ نے بدلا چکایا

“تم سے بات کر کے ابھی مجھے لگ رہا کہ مجھے آئندہ زندگی میں “نند” کی کمی محسوس نہیں ہوگی”عرش نے دانت پسیجے

ناشتے کے بعد میمونہ اپنی بھابھی کے ساتھ کسی رشتے دار کے گھر چلی گئی اسکا کہنا تھا یہاں آئی ہوں تو امی نے کہا تھا مل لینا،وہ عرش کو بھی ساتھ لے جانے پر بضد تھی مگر عرش نا مانی

میمونہ بھابھی اور نورینہ بیگم ساتھ چلی گئیں۔

عرش نے کل کی تیاری کیلئے کپڑے وغیرہ نکالے پریس کر کر ہینگ کئے شام میں وہ ٹیرس پہ چلی آئی سورج غروب ہورہا تھا ارد گرد اذانیں شروع ہوچکی تھیں۔

وہ ستون سے ٹیک لگائے کھڑی تھی۔ بایاں ہاتھ پیشانی کو چھو رہا تھا۔ اسکا لمبا سا دوپٹہ کاندھے پہ جھول رہا تھا۔

ایک سکون کی کیفیت تھی جو دل میں دماغ میں تھی۔

مجسمہ اطمینان…

“یا اللہ،” بے اختیار آسمان کو دیکھتے عرش کی زبان سے نکلا

اسکا پیشانی کو چھوتا ہاتھ نیچے گیا اور جھولتے ہوئے دوپٹے کو اسنے سر پہ جمایا۔

“اتنی آسانی بھی کسی کی زندگی میں ہوتی ہے؟ میں تو ساری نمازیں بھی ادا نہیں کرتی، میں تو اتنی نیک بھی نہیں ہوں، مجھ ہر اتنی عنایات؟” اسکی آنکھوں سے ایک موتی گرا

“محبت کیلئے انسان روتے ہیں گڑگڑاتے ہیں، مجھے محبت بھی اتنی آسانی سے مل گئی،” وہ روتے ہوئے چونکی

“کہیں میں اتنی گنہگار تو نہیں ہوں، کہ میری دنیا جنت بنادی اور آخرت “وہ لرز گئئ سر تا پا

“نہیں مگر میرے آقا ﷺ کا فرمان ہے،اگر اپنی نیکی تمہیں خوش اور برائی رنجیدہ کردے تو تم مومن ہو،” وہ سنبھلی

“اور اگر ایسا ہوتا تو دھتکارے ہوئے کو تو مہلت شکر بھی نہیں ملتی، انہیں خیال نعمت نہیں آتا، انہیں سجدے میں سر رکھنے کی توفیق بھی نہیں ملتی،” اذانیں اب چاروں طرف ہورہی تھیں،پرندے اپنے آشیانوں کی طرف لوٹنے کو تھے

“اور دھتکارے ہووں کو تو سکون بھی میسر نہیں ہوتا” موتی کی لڑی پھر بن گئی

“مجھے اللہ نے شاہ کی محبت دی،اس محبت پہ صبر کا پہرہ دیا، اور اتنا دیا، کہ میں نے ظاہر بھی نہیں کیا، پھر روکاوٹیں دیں، امی کے دل میں رحم دیا، میری زندگی دوبارہ دی، پھر مجھے شاہ بھی دے دیئے، اللہ سب سے بڑھ کر مجھے انکی محبت دے دی، وہ کہتے نہیں ہیں، مگر میں محسوس کرسکتی ہوں، میں نالائق ہوں، مجھ سے کتابیں نہیں پڑھی جاتیں،مگر میں ان کی آنکھیں پڑھ سکتی ہوں،

میں انکے وہ آنسو ابھی بھی اپنے چہرے پر محسوس کر سکتی ہوں جو اس پہاڑ پر گرے تھے،مجھے نا صرف میری محبت دی بلکہ محبت کے دل میں میرے لئیے اتنی محبت ڈال دی، اسے میرا محرم بنا دیا،” وہ ٹیک لگائے بیٹھ گئی دوپٹہ تھوڑا سا سر سے سرک گیا اذانیں رک گئی تھیں،اب قریبی مسجد سے نہایت ہلکی آواز میں تلاوت قرات،اور رکوع سجود کی تسبیحات کی آوازیں آرہی تھیں،

“اور میں تو اپنے رب کی کسی نعمت کو جھٹلا ہی نہیں سکتی، میں اسکے کرم اور عطا کا نمونہ ہوں، جس پر وہ ستر ماووں سے ذیادہ مہربان ہے، مجھ سے بہت محبت کرتا ہے،” اسکے آنسو گرنے لگے اسنے ہتھیلیوں میں جذب کئیے۔

“میں نیت کرتی ہوں اللہ پاک!میں آج سے ساری نمازیں پڑھوں گی، ضروری ہے جن کی محبت ان سے بچھڑ جائے وہی رب کے قریب ہوجائیں؟ نہیں! محبت مل جائے،تب تو سجدہ شکر بھی واجب ہوجاتا ہے، کہ اسکی عطا کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں، مجھے استقامت دیں اللہ، مجھے صرف یہاں ہی نہیں دونوں جہان میں آسانی دیں، مجھ پر اپنا کرم بنائے رکھیں” وہ پھوٹ پھوٹ کے رو پڑی…..

روتے روتے دل کو قرار و لذت میسر آئی تو وہ اٹھی اور نماز مغرب ادا کی،اسکے بعد شکرانے آگہی کے اور شکر کے،جو اس پر واجب تھے

محبت کوئی سکہ نہیں جو مانگنے پر سوالی کو عطا ہوجائے، یہ تو نشہ ہے، طلب ہے، ہر بار چاہئے ہوتا ہے،” یہ شکر سے بڑھتی اور ناشکرائی سے دور ہوتی ہے….اسے رضا والے ہی پا سکتے ہیں

بے شک بے شک!

*****

ایک اور دن ایک اور سمندر!

کلفٹن کا ساحل سفید ریت سے سجا ہوا اور مبارک ولیج، یہاں پر سنہری چمکتی ہوئی ریت، جابجا پڑے پتھر، حسن کا شاہکار، سامنے کانچ جیسا نیلا پانی، اور سفید جھاگ، رنگین پتھر سیپیاں….واللہ..سر دھنیئے

اور حد نگاہ کے اختتام پر دیوہیکل جزیرہ….

مدھم سا دکھائی دیتا تھا چرنا آئی لینڈ!

دھند تھی یا بادل واللہ اعلم…!!

یہ ساحل نہیں قدرت کا شاہکار! پہلے ریت، سنہری سی..پھر پتھر،بڑے بڑے، گول چپٹے، اور شفاف پانی، ایسا کہ کھڑے ہوکر انسان اپنا گرا ہوا سکہ بھی اٹھا سکتا ہے،

اسی ساحلی پٹی سے بلوچستان کا پہاڑی سلسلہ، اس پار سندھ اس پار بلوچستان

کچھ عرصہ قبل یہ علاقہ دہشتگردی اور خطرناک علاقوں میں سے ایک تھا مگر آرمی رینجرز کے مسلسل آپریشن ، بلوچی قبائلی جنگجووں سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے کے بعد یہ خطہ حسن اب امن و حسن میں اپنی مثال آپ ہے،کراچی کے کسی بھی ٹکڑے سے یہاں آیا جائے، پہاڑوں کو کاٹ کر بنایا گیا راستہ، اور سیدھی سڑکیں، سناٹےاور اسرار سی بھری…..!

اچانک چلتے چلتے پہاڑوں کا اختتام ہوتا ہے، گاڑی سائڈ میں لگائیں، اور نیلا شفاف سمندر جو اپنی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے آپکے سامنے ہوگا،

بندہ سوچے کہ کس نے دریافت کیا ہوگا کہ ان دیوہیکل پہاڑوں کے پیچھے ایک جنت نظیر سمندر، اور سمندر کے پیچھے بے مثال جزیرہ ہے، جہاں آبی حیات، آبی زندگی انسان چھونے کی حد تک محسوس کر سکتا ہے،

شاہ بلو جینز اور وائٹ ڈریس شرٹ میں تھا، آستین کہنیوں تک فولڈ تھیں، جینز کے پائنچے بھی ٹخنوں سے کافی اوپر تھے۔ بالوں میں جیل نہیں لگائی تھی تو تیز ہوا کی وجہ سے پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے۔

آنکھوں پر سن گلاسز تھے، وہ اور عرش ساحل پر بیٹھے تھے تھوڑا اونچائی کی جانب، انکی پشت پر پہاڑی پٹی تھی، جو سندھ اور بلوچستان کو ملاتی تھی۔

عرش نے بالوں کی ٹیل پونی بنائی ہوئی تھی اونچی اور لمبی سی، کمر تک آتی ہوئی..وہ شاہ کی جانب چہرہ کرتی تو بال کندھوں پر جھول جاتے۔ پیچھے ایک ہٹ تھا، لکڑی اور بھوسے سے بنا ہوا جو انہوں نے عارضی رینٹ پر لیا ہوا تھا، جس میں انہوں نے سامان وغیرہ رکھا تھا، یہاں کھانے پینے کی اشیاء والے نا تھے، بلکہ یہاں آنے والے ٹور اپنے ساتھ لیکر آتے تھے،

میمونہ اپنے حجاب کو ٹائٹ کرتی انکی نظروں سے اوجھل تھی، ایک گھنٹہ انکے پاس ضد کر کے گئی تھی “اگر مجھے آپ چرنا نہیں لے گئے، تو میں یہیں رات گزار دوں گی، مجھے سامنے نظر آتے اس جزیرے کی قسم، میں واپس نہیں جاوں گی،” آنکھوں میں آنسو کا کر لہجے میں وہی معصومیت گھولی تھی جو شاہ سے کام نکلوانے کا طریقہ تھا۔ وہ رک رک کر چرنا کو دیکھتی اور انہیں باور کراتی “جانا ہے”

اب نجانے کہاں تھی وہ دونوں اکیلے بیٹھے تھے۔

“اگر تمہیں اتنا پانی فوبیا نا ہوتا تو ابھی میں تمہیں اٹھا کر پانی میں پٹخ دیتا،” ہاتھ میں پکڑا پتھر اس نے دور تک پھینکا۔

“اور میں اگر بچ جاتی تو جیسے آپکو زندہ چھوڑ دیتی” عرش نے ناک چڑائی

“اب میں اپنی بیوی کو جان سے تھوڑی نا مارتا،” شاہ نے اسکی ناک کھینچی

“کیا بھروسہ آپ مار بھی دیں، ویسے بھی کونسا لو میرج ہے،” عرش نے منہ پھیر کر ہنسی چھپائی

“کوئی “اپنی جان”خود لیتا ہے کیا؟” اسکی جانب جھکا اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑیں

عرش نے اسے سیدھا کیا۔

وہ مسکرانے لگی۔

“میں پانی میں کہاں تک جاتی ہوں آپ بس بیٹھ کر دیکھیں،” وہ اٹھ کھڑی ہوئی، جینز اور اوپر اجرک کی کرتی، اس پر بہت سوٹ کر رہی تھی

“تم نہیں جاو گی عرش یہاں اندر پتھر ہیں، اور تمہیں اندازہ نہیں ہے یہ پاؤں میں بری طرح لگ جاتے ہیں، اور تم عادی بھی نہیں ہو، بیٹھو واپس” شاہ نے اسے تنبیہہ کی

وہ ان سنی کرتی آگے بڑھتی گئی،

شاہ سر جھٹک کر رہ گیا “نافرمان بیوی”

وہ اٹھ گیا ڈھلان سے نیچے چلا آیا تاکہ عرش کو دیکھتا رہے،

“تمہیں اگر جانا ہی ہے تو وہاں ریت والی سائڈ سے جاؤ عرش وہاں پتھر نہیں ہیں،” شاہ نے آواز لگائی

“آپ ریلکس رہیں میں اتنی بچی بھی نہیں ہوں،” پانی اسکے گھٹنوں تک تھا۔ ساحل پہ سناٹا تھا جس طرف وہ تھے اکثریت ریت والی سائڈ یا پہاڑوں پر تھے

وہ وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ متفکر سا…

پانی اب عرش کی کمر تک تھا جاندار لہر آتی تو وہ لڑکھڑا جاتی، پھر ہنسنے لگتی اور پھر سے توازن بناتی، لائف گارڈز نے آگے نظر نا آنے والا جال لگایا ہوا تھا اسکا مطلب تھا کہ اسکے آگے جانے کی اجازت نہیں! خطرہ ہے..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *