Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Aur Zahra by Uzma Usman

شاہ اور زہرا اس بات سے انجان تھے کہ اس دن ہونے والی جھڑپ آخری ہوگی اسکے بعد تو گویا یہ معمول بن گیا تھا۔
اگرچہ زہرا کے دل میں شاہ کے منہ سے وہ الفاظ اس دن سن کر اسکی قدرومنزلت بڑھ گئ تھی مگر پھر بھی وہ آتے جاتے اسے دیکھ کر (عادت سے مجبور ہو کر) کچھ نا بول دیتی وہ یا تو ان سنی کردیتا یا مسکرا کے گزر جاتا۔
زہرا تپ کر رہ جاتی (سمیرا حمید کہتی ہیں نا برا ہی سہی مگر جواب آنا چاہئے جواب کا نا آنا بہت برا لگتا ہے)
وہ گھر کال نہیں کرتی تھی وہ سب سے ناراض تھی بابا یا امی کال کرتے تو وہ ہوں ہاں سے زیادہ کچھ بولتی ہی نا
امی بولتی رہتیں "عرش کچھ تو بولو" وہ ہنوز ہمم ہمم کرتی رہتی گویا کہہ رہی ہو بھیجا کیوں؟؟؟
وہ دل سنبھالتے کال بند کردیتیں اور وہ موبائل کو گھورنے لگتی۔
اس سب پہ غصہ تھا اور وہ پڑھائ پر نکال رہی تھی نا لیکچر اٹینڈ کرتی نا نوٹس بناتی نا امتحانات کی تیاری کرتی مارے باندھے اگر کلاس اٹینڈ کر بھی لی تو سن سن رہتی جمائیاں لیتی رہتی گویا زبردستی وہاں بٹھا دی گئ ہو۔
اس دن بابا اس سے ملنے آئے تھے اسے میمونہ (کلاس میٹ اور روم میٹ) نے آکر اطلاع دی تھی۔
وہ بابا کے پاس سلام کر کے بیٹھ گئ وہ اسے سے حال چال پوچھنے لگے اور یہ کہ اسے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟
وہ ناخنوں خکو گھورتی رہی ڈھٹائ کے اگلے پچھلے سب ریکارڈ توڑنے کا ارادہ تھا
"مجھے کچھ نہیں چاہیے" بابا کی لاڈلی نے رکھائ سے جواب دیا ورنہ دل تو کر رہا تھا بابا کے سینے سے لگ جائے اور رو رو کے آسمان سر پہ اٹھا لے اور وہ اسے ہنسی خوشی گھر لے جائیں۔ مگر "انا" انا بیچ میں آجاتی وہ اپنی سارے آنسو اندر ہی روک لیتی
"تمہاری ماما تائ اور دادو تمہیں بہت مس کر رہی ہیں زہرا ہوسکے تو اس ہفتے آجانا میں اریب کو بھیجوں گا لینے بائ ائیر آنا ہو تب بھی آپ انفارم کردینا میں ٹکٹ بھیج دوں گا" سرور خان اسکے سر پہ ہاتھ رکھے کہنے لگے
اور بس عرش کی حد تک یہاں تک ہی تھی وہ انکے سینے سے لگ کے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی تین ماہ سے گھر کی شکل نہیں دیکھی تھی اور وہ جانتی تھی بابا اسکی خاطر اتنا سفر کر کے آئے تھے ورنہ اسلام آباد ان کا کوئ کام نہیں تھا۔
"ارے ارے عرش ایسے کیوں رو رہی ہو؟ میرا بیٹا بس آپ کی بھلائی کیلئے کیا ہے جو بھی کچھ کیا ہے آپکے اچھے فیوچر کیلئے کیا ہے" سرور خان اسکا سر سہلانے لگے بوکھلا گئے تھے۔ عرش ان سے الگ ہوئ ٹشو سے ناک پونچھی آنکھوں میں حزن ٹہر گیا پھر سے۔
"بابا میرا دل نہیں لگتا پڑھائ میں"
"جانتا ہوں زہرا مگر بیٹا اٹس رئیلی نیسسری فار یو آپ میچیور ہوجاؤ گی میری بیٹی سمجھدار ہوگی انفارمیشن آئے گی اور ڈگری بھی اج کل تعلیم عورتوں کیلئے بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی مردوں کیلئے" انہوں نے تعلیم کی افادیت بتائیں مگر یہ سب وہ پہلے بھی سن چکی تھی۔
"میں کوشش کروں گی بابا دل لگا کے پڑھنے کی" مارے باندھے پہلی بار اسنے خود کو پڑھنے کیلئے تیار کیا
"میرا فرمانبردار بیٹا " انہوں نے عرش کا سر چوما۔
"آپ آو گی نا اس ویک؟؟" انہوں نے ہاتھ کے ہاتھ وعدہ لینا چاہا۔
"جی بابا آؤں گی" اسنے سر ہلایا۔
وہ چلے گئے وہ میٹنگ روم سے باہر آئ تو شاہ کھڑا تھا اسے دیکھ کر جیسے لمحے بھر کو گڑبڑایا اور سنبھل گیا۔
"یہاں کھڑے آپ باتیں سن رہے تھے؟؟" اسنے کڑے تیوروں سے پوچھا۔
"واٹ؟" وہ جیسے اچھلا
"شکل سے کتنے مہذب اور اور سوبر لگتے ہیں آپ جبکہ حقیقت کچھ اور ہی ہے" وہ اسکے سر سے پاؤں تک اشارہ کر کے گویا شرم دلانے لگی۔
"ایک منٹ جیسا آپ سوچ رہی ہیں ایسا کچھ نہیں ہے" شاہ وہاں سے جانے کو پر تولنے لگا
"ایسا ہے یا نہیں مسٹر میٹر نہیں کرتا جو میں نے دیکھا ہے وہ میٹر کرتا ہے" وہ گیلی آنکھوں سے اسے گھورنے لگی اور شاہ 24سال کی عمر میں پہلی بار کسی نم آنکھوں میں بہہ سا گیا "کتنا بولتی ہے یہ لڑکی اسکے گھر والے تو کانوں میں روئ ہی ڈال کر رکھتے ہونگے" وہ دک میں اٹھتی آواز کو نظر انداز کرتے سوچنے لگا۔
"بہت فضول بولتی ہو تم" شاہ نے اتنا ہی کہا اور وہاں سے چلا گیا"
"ارے" وہ کچھ بولنے ہی لگی تھی اور دانت پسیج کر رہ گئ
"شاہ اپنے کمرے میں لیٹا چھت کو گھور رہا تھا وہ عرش کی ساری باتیں سن چکا تھا۔
اتنی پڑھائ سے بیزاری؟ اتنی اپنے گھر والوں سے ناراضگی؟ اتنا فضول بولنا' بلا وجہ لڑنا۔ کتنی نیگیٹو ٹائپ کی شخصیت ہے" وہ کروٹ کے بل لیٹ گیا سر کے نیچے تکیہ اونچا کیا۔
"بس ایک چیز پازیٹیو خوبصورت کتنی ہے۔ خیر مجھے کیا" سوچوں کو جھٹکتے وہ آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر ذہن کے پردے پر اسکا عکس ہنوز برقرار تھا"
وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا
کہیں مجھے اس سے..." اس سے آگے شاہ سوچ نہیں پایا وہ پریشان ہوگیا۔ "مگر ایسا کیسے ہو سکتا ہے کتنا بولتی ہے وہ میں کیسے برداشت کروں گا اور محبت" وہ حقیقیت میں پریشان ہوگیا اگر یہ سچ تھا تو بلکل بھی اچھا نہیں تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *