Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Aur Zahra (Episode 17,18)

Shah Aur Zahra by Uzma Usman

عرش نے جھجکتے ہوئے لاؤنج میں قدم رکھا گھر کی شان و شوکت قابل دید تھی، اور مکینوں کی نفاست، ایک چیز محسوس کرنے کی حد تک تھی “سناٹا”

انساء بیگم نے اسے چوما، اسے خود تھام کر آگے لائیں، تھیں، وہ پزل سی تھی..

میمونہ باتوں میں لگ گئی تھی۔

گھل مل گئی تھی.. سدا کی بولتی مینا کو چپ لگی ہوئی تھی، یہ سسرال کا اثر تھا (اور امی کی نصیحتوں کا بھی تازہ تازہ)

شاہ سیڑھیوں سے اترتا نظر آیا، شاہ زمان بھی ساتھ تھے، سفید شلوار سوٹ اور میں اسکا اونچا لمبا سراپا نمایاں تھا، وہ تکتی رہی، اور پھر گڑبڑا کر نظریں جھکائیں۔

شاہ زمان نے اسے پیار کیا تھا وہ بس سر کے اشارے سے اسے سلام کر کے صوفے پر ٹک گیا۔ میمونہ شاہ سے باتوں میں لگ گئی تھی۔

وہ ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے ٹیک لگا کر بیٹھا تھا، اسکے کلون کی خوشبو ماحول پہ طاری تھی۔

“ادھر آجاو” شاہ نے اشارے سے اسے سامنے صوفے پر بلایا

وہ شکر کرتی اٹھ کر وہاں آگئی۔

“کیوں بلایا مجھے؟” ایٹی ٹیوڈ

“کیوں نہیں بلا سکتے؟” وہ مسکرایا اور وہ گڑبڑائی

“طنز کرنے کیلئے؟” عرش نے خود پر قابو پا کر میزائل داغا

“نہیں میں نے سوچا اتنی دور سے تمہیں میں ٹھیک سے نظر نہیں آرہا ہونگا” مسکراتی نگاہیں اس پر جمائیں

عرش نے مسکراہٹ دبائی (کیا ضرورت تھی یوں گھورنے کی اففف)

“خوش فہمیاں”

“نہیں مزاج آشنائی” شاہ نے سر کو خم دیا

انساء بیگم نے انہیں کھانا لگنے کی اطلاع دی، سب اٹھ گئے شاہ نے اسے رکنے کا کہا

“میرے ساتھ دادی کے کمرے میں چلو وہ تم سے ملنا چاہتی ہیں” شاہ نے نئی اطلاع دی

“وہ باہر کیوں نہیں آئیں؟” عرش کو انکی کمی کھلی

“ایکچوئلی دادی تھوڑی سی ناراض ہیں مجھ سے، میں نے صبح انکی بات نہیں مانی تو انہوں نے آج کے ڈنر کا بائیکاٹ کردیا، امی بھی ان سے خفا ہوگئی ہیں تو تم چلو اور بات کرو ان سے” شاہ نے دانتوں تلے ہونٹ دبایا

“کیوں ناراض ہیں اور آپ نے کونسی بات نہیں مانی تھی؟” عرش خفا ہوئی

” اب میں بہت سی باتیں سب کی نہیں بھی مانتا، چلو تم، اور انسپائر کردو انہیں” شاہ کو ایک ہی طریقہ نظر آیا تھا دادی کی نظر میں عرش کو واضع کرنے کا

وہ اسے پٹر پٹر باتیں سناتی دادی کے روم تک آئی

وہ تسبیح پڑھ رہی تھیں عرش نے ناک کیا اور اندر گئی

“وعلیکم سلام اندر آو” مارے باندھے انہوں نے جواب دیا اور عرش کیلئے جگہ بنائی

“آپ ہمارے ساتھ نہیں بیٹھیں، تو عرش کو اچھا نہیں لگا کہہ رہی ہے ہم کھانا دادی کے کمرے میں کھائیں گے” شاہ نے جلدی سے لقمہ دیا

عرش اسے تکنے لگی اسے سمجھ نا آئی کہ کیا کرے پھر شوہر کے جھوٹ میں ساتھ دینا ہی مناسب لگا۔

“آپ کھائیں گی نا ہمارے ساتھ؟” عرش نے انکے گھٹنے پر ہاتھ رکھا

“کیوں نہیں میرا بچہ” دادی تو اسکی من موہنی شکل ہی تک رہی تھیں، کجاکہ انکار کرنا، انہیں تو ایسا لگا عرش کے روپ میں انکی ایک اور سنگی ساتھی

عرش ان سے چھوٹی چھوٹی باتیں پوچھنے لگی

شاہ نے کھانا وہیں منگوا لیا وہ تینوں باتیں کرتے کرتے کھا چکے،

” یہ کیا طریقہ تھا شاہ؟ ایک تو وہ ناراض تھیں اوپر سے تم عرش کو میرے پاس سے لیکر وہاں چلے گئے” انساء غصے میں تھیں وہ جیسے ہی باہر آیا اس ہر برسیں

“اوہ ریلکس امی! دادی کی ناراضگی ہمیں ختم کرنی ہے نا کہ بڑھانی ہے،” شاہ نے انہیں سمجھایا۔

یہ سارا گیم بس دادی کا دل عرش کی طرف سے صاف کروانے کیلئے تھا مگر ہائے رے شاہ کی معصومیت کسی کا خیال ہی نا گیا!

****

عرش ایک دن یہاں ٹہرے گی” انساء بیگم نے جیسے التجا کی تھی،

عرش کی آنکھیں پھٹ گئیں

شاہ نے نچلا لب دانتوں تلے دابا

میمونہ نے ہنسی چھپائی

نورینہ کے چہرے پر ناگوار سی لہر آئی جبکہ سرور خان مطمئن تھے۔

________

عرش ایک دن یہاں ٹہرے گی” انساء بیگم نے جیسے التجا کی تھی،

عرش کی آنکھیں پھٹ گئیں

شاہ نے نچلا لب دانتوں تلے دابا

میمونہ نے ہنسی چھپائی

نورینہ کے چہرے پر ناگوار سی لہر آئی جبکہ سرور خان مطمئن تھے

“کیا مگر کیوں؟” نورینہ بیگم کو برا سا لگا

“میرا بہت دل ہے ایک دن عرش کے ساتھ گزارنے کا اور پھر انہوں نے چلے جانا ہے، ہم تینوں پھر سالوں بعد اکھٹے ہونگے نورینہ، ایک دن،” انساء بیگم گویا گڑگڑائیں۔

نورینہ نے سوالیہ نظروں سے سرور خان کو دیکھا۔

“انکے بابا سے اجازت لیں، میں کیا کہہ سکتی ہوں” نورینہ بدقت مسکرائیں

“یہ کسی غیر کا تو نہیں عرش کے شوہر کا گھر ہے، اور وہ کہیں اور نہیں اپنے سسرال رکے گی،کوئی مسئلہ نہیں آپکی بیٹی ہے عرش،” سرور خان مسکرائے، اور آنکھوں میں ہی بیوی کو تنبیہہ کی جو بے چینی سے پہلو بدل رہی تھیں۔

“مم مگر بابا کل میمونہ نے جانا ہے، مم ادھر رہوں گی اور وہ چلی جائے گی؟” عرش نے پہلی بار زبان کھولی۔ وہ گھبرائی ہوئی تھی۔

“میرا مسئلہ نہیں عرش، تم ریلکس ہوکر رک جاو، ویسے بھی آنٹی ہیں مجھے کمپنی دینے کیلئے اور صبح ہم نے چلے جانا ہے، تم رک جاو”میمونہ نے اسکے عذر ناکام بنائے

“کوئی بات نہیں میمونہ بھی رک جائے گی” انساء بیگم نے اب کی باڑ میمونہ کی کلائی تھامی

“نو نو آنٹی آپ اپنی بہو کو روکیں،میں بس اپنے سسرال میں رکوں گی، ابھی جاکر پیکنگ بھی کرنی ہے میں نے صبح کی فلائٹ ہے” وہ نا نا کرتی پیچھے ہوئی

عرش نے اسے آنکھیں دکھائیں، جو بے مروت بنی ہوئی تھی۔ کچھ پس و پیش کے بعد نورینہ راضی ہوگئیں، مگر نیم دلی سے،

انساء بیگم کھل سی گئیں،

“مزے کرو ” میمونہ نے عرش کے کان میں سرگوشی کی

“تمہیں تو میں ہاسٹل میں پوچھوں کی میمونہ گن گن کر بدلے نا لیئے تو میرا نام عرش زہرا نہیں، ” عرش نے دانت کچکچائے۔ وہ دونوں ساتھ کھڑی تھیں جبکہ انساء نورینہ آپس میں الوداعی جملے ادا کر رہی تھیں جو کہ ختم ہونے میں ہی نہیں آرہے تھے۔

“لے لینا بدلےےے بھی، فی الحال جیجو کی سنگت میں اینجوائے کرو، خیال کرنا کہیں اٹھا کر نا لے جائیں”شرارت سے بھر پور لہجہ

“بکو مت”عرش نے منہ پھیر لیا۔ میمونہ اسکے گلے ملی اور اس سے باتیں کرتے وہ سب رخصت ہوگئے۔

زمان شاہ اسے اپنا خیال رکھنے کی تاکید کرتے اوپر چلے گئے شاہ پہلے ہی اپنے کمرے میں تھا اب لاونج میں انساء اور عرش رہ گئے۔

“آو تمہیں میں اپنے کمرے میں لے چلوں ” انہوں نے عرش کا ہاتھ تھاما اور اپنے کمرے میں لے گئیں، اسے بیڈ پہ بٹھا دیا۔

“تمہیں میں شاہ کے بچپن کی تصاویر دکھاتی ہوں”وہ الماری سے البم نکالنے لگیں

وہ دونوں پاوں سمیٹ کر اوپر کر کے بیٹھ گئی، بال سمیٹ کر ایک کندھے پر ڈال لیئے۔

“یہ دیکھو” انہوں نے ایک تصویر پر انگلی رکھی۔

“یہ آٹھ سال کا شاہ” تصویر میں ایک لمبا اور تنومند جسم والا بچہ اپنی ماں کے ساتھ کھڑا تھا۔ سفید رنگت اور چہرے پر ملائمت

وہ مسکرا دی اب اپنی ساس کے سامنے کیا کہتی کہ بہت کیوٹ لگ رہے ہیں۔

وہ اسے باری باری سب تصاویر دکھاتی رہیں، لمبی چوڑی سسرال تھی، البم بھی کافی صحت مند تھا۔پھر بھی وہ دلچسپی سے دیکھتی رہی۔

“تمہیں بھوک تو نہیں لگ رہی؟” انہوں نے عرش کا چہرہ تھاما

“ابھی تو کھانا کھایا ہے آنٹی، اتنی جلدی کیسے بھوک لگ سکتی ہے” وہ جھینپ گئی

“اونہوں، آنٹی نہیں ماما یا امی کہو، شاہ بھی یہی کہتا ہے، تم بھی میری بیٹی ہو بہو نہیں، اگر میری بیٹی ہوتی تو ہو بہو تمہاری طرح من موہنی سی ہوتی” انہوں نے اسکا ہاتھ تھام لیا

“تمہیں پتا ہے؟ شاہ بہت لیا دیا سا رہنے والا لڑکا ہے، اکثر وہ گھر ہوتا اور ہم سے باتیں کر کے کمرے میں چلا جاتا ہمیں یاد بھی نا رہتا کہ وہ گھر میں ہے بھی یا نہیں، میری ساس، ان سے میرے اختلافات کچھ ایسے رہے کہ میری اور انکی تنہائی تو مقدر بن گئی، اور تمہارے پاپا پکے بزنس مین، کام کام اور کام، جب میں نے تمہارا سنا تو دیکھے بنا میں نے جان لیا تھا کہ میری تنہائیوں کی رفیق آنے والی ہے، میں تمہیں دکھی نہیں کروں گی عرش، بس میرے گھر کو سنبھالے رکھنا” وہ جذباتی سی ہوگئیں

عرش کی سمجھ نا آیا کہ وہ کیا بولے۔

“آپکو مجھ سے بہت امیدیں ہیں امی، پتا نہیں میں ہورا اتروں گی یا نہیں، اگر میری کوئی بات ناگوار گزرے تو درگزر کردیجئے گا، میری پوری کوشش ہوگی میں آپکی بیٹی بن کر دکھاؤں” عرش کہتی گئی، انساء کا دل موم ہورہا تھا۔

انہوں نے اسکا سر چوما “اللہ شاد و آباد رکھے، محبتوں میں برکت ڈالے،”

“آمین،” وہ انکے گلے لگ گئی،

پتا ہی نہیں چلا کب وہ آنٹی سے امی بن گئیں، اسے اتنی اچھی لگیں۔

“میں نے تو سنا تھا تم بہت بولتی ہو اور میں نے آواز اب سنی تمہاری”وہ اس سے الگ ہوتے شرارت سے گویا ہوئیں

“ابھی میں آپ سے کلوز نہیں ہوئیں نا،پھر پوچھوں گی” سر ہنسنے لگی۔

“چائے پیو گی؟” انہوں نے محبت سے پوچھا

“نہیں مگر میں آپکے لیئے بنا لاتی ہوں” وہ بیڈ سے اتری،

چ

“عرش تم مہمان ہو رہنے دو، میڈ سے کہہ دیتی ہوں وہ بنا لائے گی”

“خود ہی تو کہا آپنے میں بیٹی ہوں آپکی، پھر مہمان کدھر سے ہوگئی؟میں نےتو یہاں آکر جانا بھی نہیں ہے” عرش ہنس کر کہتے ہوئے باہر چلی گئی، انساء بیگم اسکی معصومیت پر مسکراتی رہیں، کچھ دیر میب وہ ٹرے میں کپ رکھے چائے لے آئی

انساء پریشان سی کھڑی تھیں شاہ زمان بھی وہیں تھے،عرش کو ایک دم حیاء سی آئی اسنے ٹرے ٹیبل پر رکھی،اور دوپٹہ سر پر جمایا۔

“میں اور تم ساتھ والے کمرے میں سو جاتے ہیں،تمہیں اکیلا پن فیل نہیں ہوگا ” چائے کا کپ اٹھاتے انہوں نے اطلاع دی صاف ظاہر تھا وہ عرش کے خیال سے کہہ رہی ہیں

“نہیں مجھے عادت ہے اکیلے سونے کی میں سو جاؤں گی امی، آپ فکر نہیں کریں،” عرش نے تسلی دی،

“واہ انساء بیگم آپکو پلی پلائی فرمانبردار بیٹی مل گئی، چائے بھی بہت اچھی بنائی ہے” شاہ زمان نے لقمہ دیا عرش مسکرا دی

(صرف چائے ہی اچھی آتی ہے انکل)عرش سوچ کر رہ گئی

“آو تمہیں کمرہ دکھاؤں”وہ اسے لیکر کمرہ دکھانے چلی گئیں،اور کمرے میں رات دو بجے تک عرش سے باتیں کیں جب تک وہ نیند سے ڈولنے لگ گئی۔

****

انساء بیگم اٹھ کر چلی گئیں تھیں اور عرش سونے کیلئے لیٹ گئی، اسکے کمرے سے باہر سیڑھیاں تھیں،اور داہنی جانب انساء کا کمرہ جبکہ شاہ کا کمرہ سامنے تھا۔

“شاہ تو نظر بھی نا آئے ” تھا وہ سوچنے لگی کیا فائدہ رکنے کا بھی…پھر دانتوں تلے لب داب لیا، “کیا شاہ کیلئے اسٹے کیا تھا” خود کو ڈپٹا۔

فجر کا الارم گھڑی پہ سیٹ کر کے وہ نجانے کب نیند کی وادیوں میں کھو گئی

کھڑکی سے باہر رات کے دوسرے پہر، چاند اس مہربان سی گڑیا کو دیکھ رہا تھا جو سوتے ہوئے،پریوں کو مات دے رہی تھی۔

ایک حسین رات، ایک روشن رات اسکی منتظر تھی اور وہ سوگئی تھی

****

الارم کی چنگھاڑتی آواز کان کے میں گھسی تھی، گھڑی میں ساڑھے چار ہورہے تھے، ابتدائی اوقات میں ہونے والی اذانوں کی آواز آرہی تھی۔

وہ اٹھ کر بیٹھ گئی بیڈ پہ پڑا ہوا دوپٹہ سر پہ ڈالا اور کمبل ٹانگوں پر ڈال کر اذان سننے لگی، آنکھیں نیم بند تھیں،

اذان کے اختتام پر اسنے درود پڑھے، اور سلیپر پاؤں میں اڑستی واش روم میں چلی گئی۔

وضو کے بعد وہ کمرے میں بڑی چادر ڈھونڈنے لگی تھی۔ جو اسے نا ملی وہ کمرہ صاف ستھرا اور ڈیکوریٹ تھا مگر غالبا استعمال میں نا تھا اگر چادر ہوتی بھی تو انساء کے کمرے میں اور وہ رات کے اس ٹائم انہیں جگا نہیں سکتی تھی۔

دادی کا خیال آتے ہی وہ دروازے کی جانب بڑھی جیسے ہی لاک گھمایا، گیٹ ناک کرنے کیلئے ہاتھ اوپر کیئے کھڑے شاہ سے ٹکرا گئی،،

“تم جاگ رہی ہو؟” وہ سر سہلاتا پیچھے ہٹا

“آپ..آپ یہاں کہاں سے آگئے”وہ آنکھیں جھکائے، پیچھے کو ہوتی بولی

“تمہیں جگانے آیا تھا فجر کیلئے” وہ اندر آگیا

“آپکو کیسے پتا میں فجر پڑھتی ہوں؟” وہ حیران ہوئی

“میمونہ نے بتایا تھا، پڑھنے لگی ہو تو میں نے سوچا مس نا ہوجائے اس لئے آگیا” وہ وضو کر کے آیا تھا غالبا اسکا چہرہ اور ہاتھ نم سے تھے

“آپ، آپ،کیوں اٹھے؟” عرش نے دل میں کلبلاتے سوال کو باہر نکالا،

“تمہیں کیا لگتا ہے تم اکیلی مسلمان ہو؟” وہ اسکی جانب جھکا

“مم..میرا مطلب یہ نہیں تھا،” وہ گڑبڑائی، جواب وہی ملا تھا جو وہ سننا چاہتی تھی

“تمہیں کچھ چاہیئے تھا؟ میں مسجد جانے لگا ہوں؟ اگر چاہیئے تو بتا دو؟” وہ کف بند کرنے لگا

“مجھے چادر چاہیئے یہاں جائے نماز ہے مگر چادر نہیں” عرش اسے تکنے لگی جو اب سر پہ جالی دار ٹوپی جما رہا تھا

“اوہ، وہ شاید امی کے کمرے میں ہوگی، امی نماز کیلئے نہیں اٹھتیں، میں تمہیں نیچے سے لا دیتا ہوں” وہ سر ہلاتا باہر چلا گیا۔ عرش بیڈ پر ٹک گئی

واپس آیا تو اسکے ہاتھ میں کریم کلر کی خوبصورت سی شال تھی، شاہ نے اسکی طرف بڑھا دی۔

وہ چادر لے کر کھڑی رہی

“پہنو بھی” وہ جھنجلایا

“آپ جا نہیں رہے؟” عرش گڑبڑائی

“تم پہنو میں جاتا ہوں ابھی”

“عرش نے اسکی طرف سے پیٹھ کرلی اور دوپٹہ اتارے بغیر سر پہ چادر جما لی، پھر نیچے گردن میں لپٹا دوپٹہ نکال کر بیڈ پر ڈال لیا نماز کے اسٹائل میں دوپٹہ لیا ہوا تھا کلائیاں تک ڈھکی ہوئی تھیں،

وہ مڑی

شاہ مبہوت سا ہوا۔ ایک نور کا ہالہ سا بنا لگتا تھا عرش کے چہرے کے گرد

شاہ نے اسے کندھے سے تھاما، سفید شلوار قمیض میں سر پہ جالی دار ٹوپی جمائے، وہ کتھئی آنکھیں اس پر جمائے اسے دیکھ رہا تھا، مونچھوں نے اوپری لب ڈھکا ہوا تھا۔

“دیکھا ہے خود کو؟ تم کتنی اچھی لگتی ہو؟ یوں سر ڈھکے، جیسے کوئی پاکیزہ حور عرش سے فرش پر لا دی گئی ہو، انسان کی صورت، کسی نور کی صورت، ” وہ بے اختیار کہہ رہا تھا

عرش متحیر رہ گئی۔

“دیکھو ذرا خود کو” اس نے عرش کے کندھے چھوڑے

اور اسکا رخ آئینے کی طرف کیا،وہ بت بنی کھڑی رہی ہلنے کی بھی سکت نا تھی۔

“وہ اسکے عقب میں آکھڑا ہوا،

عین وقت فجر اسکا شوہر اسے کہہ رہا تھا وہ سر ڈھکے اچھی لگتی ہے، بنا اسے ڈانٹے، بنا اسے احساس دلائے، بنا حق جتائے، وہ اسے بتا رہا تھا، اور جتا رہا تھا،عرش نے نگاہیں جھکا لیں،

“مجھے دیر ہورہی ہے جماعت اٹھنے والی ہوگی، میرے آنے تک سونا مت” وہ کہہ کر چلا گیا

عرش کھڑی رہی، پھر پلکیں جھپکیں، ایک بار دو بار گہری سانس لی، اور زمین پہ بیٹھ گئی،

نجانے کیوں شاہ جب بھی اس ہر مہربان ہوتا تھا، اسے خدا کی خدائی یاد آجاتی تھی، اسے اللہ کا مہربان ہونا یاد آتا تھا،اسے اللہ کے وہ احسان یاد آتے تھے، جن کا کوئی انت نا تھا،جن کا بدلا ممکن نا تھا، جنکا شکر ممکن نا تھا، نجانے کیوں، ایمان پختہ ہو جاتا تھا۔

محبت تھی اور نجانے کب روح کا حصہ بن گئی تھی

“کہیں یہ آزمائش تو نہیں”وہ لرز گئی، کہیں شکر میں کوتاہی نا ہوجائے

حضرت علی کرم اللہ تعالی وجہہ کا قول ہے، اگر آزمائش تمہیں اللہ کے قریب کردے تو سمجھو تم آزمائش ہے، اور اگر دور کردے تو سمجھو سزا” اسے بے اختیار یاد آیا

“محبتیں بھی آزمائش کی طرح ہوتی ہیں، ہر انسان کو ملتی ہیں، پہلے شدت سے، کسی بن مانگی دعا کی طرح سایہ فگن ہوجاتی ہیں، جب تک بندہ اللہ کا شکر کرتا رہے، محبت رحمت بنی رہتی ہے، اور شکر کا انت کیا، تو یہ سزا بن جاتی ہے،

تکلیف اور سزا..!!

وہ چہرہ صاف کیئے اٹھی، اور نماز پڑھنے لگی، آرام آرام سے،

سنتوں کے بعد فرائض، اور ان اوقات میں نوافل ممنوع تھے ورنہ وہ شکرانے ادا کرتی،،،!

آخری رکعت کا سلام پھیر کر بھی وہ جائے نماز پہ بیٹھی رہی، سسکیوں سے روتی رہی اللہ کی ان نعمتوں پہ شکر ادا کرتی رہی جو اسے بن مانگے ملی تھیں،، دل تھا کہ کہتا تھا رب رحمان کا ذکر کیئے جاو شکر کیئے جاو میں سیراب نا ہوں گا”

وہ کئی لمحوں بعد دعا مانگ کر اٹھی اور جائے نماز لپیٹ کر رکھ دی، بیڈ پر جا کر بیٹھ گئی،

ویسے وہ نماز پڑھنے کے فورن بعد چادر بھی لپیٹ دیا کرتی تھی مگر اس وقت اسے کھولنے کی بھی ہمت نا ہوئی۔

وہ شاہ کا انتظار کرنے لگی بیڈ سے ٹیک لگا لی، چادر ہونہی لپٹی ہوئی تھی،، چہرہ بھیگا بھیگا سا…

پونے ساڑھے پانچ بجے شاہ آیا تھا وہ ہنوز ٹیک لگائے بیٹھی تھی…

“آجائیں” گیٹ پہ ناک ہوا تھا تو وہ سیدھی ہو بیٹھی

وہ اندر آگیا۔ اسے چادر میں دیکھ کر مسکرایا

ٹوپی اب اسکے سر پر نہیں تھی۔ چہرہ بھی تروتازہ تھا چہرے پہ وہی نور تھا جو فجر پڑھنے والوں کا خاصہ تھا۔

“تھک تو نہیں گئیں؟ میں نے سونے نہیں دیا؟” وہ بیڈ پے بیٹھتے پوچھ بیٹھا۔

“آپکو لگتا ہے تھک سکتی ہوں؟ سوال کے جواب میں سوال داغا

شاہ نے نفی میں سر ہلایا

“آپ نے مجھے پہلے دوپٹہ سر پہ لینے کا کیوں نہیں کہا؟” وہ خفا ہوئی

“میں کیوں کہتا تم بچی ہو؟ جب ہر چیز کی سمجھ ہے تو تمہیں چادر کی سمجھ بھی ہونی چاہیئے” وہ بھی شاہ تھا

“پھر آج کیسے کہہ دیا، کیا آخری حد تھی؟” وہ خفا سی نظر آتی تھی

“اونہوں میں نے تو صرف تعریف کی تھی،یہ سب تم نے خود اخذ کیا ہے”وہ مسکراہٹ لبوں میں دبائے بولا۔ وہ بیڈ کی دوسری جانب بیڈ کراون سے ٹیک لگا کر بیٹھا تھا ایک گھٹنا کھڑا کئے جبکہ ایک لمبا کیئے۔

“ہاں مجھے تو جیسے کچھ سمجھ ہی نہیں آتی” وہ ہنوز خفا سی تھی نجانے کیوں

“آنی بھی کیسے ہے، تمہیں کام کی اور پیار کی باتیں سمجھ نہیں آتیں” وہ عجیب سے لہجے میں بولا

عرش نے اسکے چہرے کی جانب دیکھا جہاں مسکراہٹ تھی۔

Episode 18

عرش چہرہ جھکا گئی

“تمہیں اس ٹائم کچھ کھانے کا دل کرتا ہے؟ کبھی فجر کے بعد؟”وہ سیدھا ہو بیٹھا

“آپ کو کیسے پتا؟” وہ چونکی، کیونکہ یہ بات تو میمونہ کو بھی پتا نہیں تھی

“کیونکہ مجھے بہت دل کر رہا ہے کچھ کھانے کا، چلو کچن میں کچھ بناتے ہیں،” وہ بیڈ سے اتر گیا۔ اور عرش کی جانب آکر اسکا ہاتھ تھام کر اٹھایا۔

وہ جھجکتے ہوئے اسکے ساتھ کچن میں آگئی

“اگر کچھ بنائیں گے تو صبح امی دیکھ کر کہیں گی یہ سوئے نہیں،” کیبنٹ سے کافی نکال کر اسے شاہ نے جملہ پھینکا۔

چولہے کے پاس کھڑی عرش نے چونک کر اسے دیکھا۔ چند لمحے لگے اسکا مفہوم سمجھنے میں، عرش نے فٹافٹ برنر آف کیا اور سارا پانی سنک میں بہا دیا۔ کافی جار واپس کیبنٹ میں رکھے اور شاہ کو کچن سے نکالا

“کیا ہوگیا ہے مذاق کر رہا ہوں”وہ بوکھلایا

“فریج سے کچھ نکال کر کھا لیں،بنائیں گے کچھ نہیں”عرش نے اگلی اٹھا کر اسے تنبیہ دی

شاہ نے پہلے اسکی انگلی دیکھی پھر اسے

“جو حکم”سر کو خم دیا فریج میں کیک فروٹ اور رات کے کھانے رکھے ہوئے تھے اسنے کیک کے دو سلائس نکالے، اور پلیٹ میں نکال کر لے آئی،

“اوپر چلتے ہیں”شاہ نے اسکے ہاتھ سے پلیٹ لی اور اسکی دوسری کلائی تھامی۔

وہ شاک سی اسکے ساتھ چلتی گئی شاہ واپس اسکے کمرے میں لے آیا تھا۔

اسنے بیڈ پر بٹھا کر نرمی سے اسکی کلائی چھوڑی

“پھر کیک کھاتے ہوئے اسے بھی کھلانے لگا”

“میں خود کھا لوں گی” وہ جھجکی

“مجھے پتا ہے تمہیں کھانا آتا ہے، پھر بھی میرے ہاتھ سے کھا لو،” وہ مسکراہٹ دبائے کہتا گیا۔

آدھی سلائس وہ اسے کھلا چکا تھا۔

اب وہ خود کھانے لگا۔

“مجھے نہیں کھلاو گی؟” سلائس کانٹے سے منہ میں رکھتے وہ بولا، عرش گڑبڑا گئی،

“اٹس اوکے میں کھا لوں گا ” شاہ نے اسکی مشکل آسان کی۔

“تم سوجاو اب” شاہ نے پلیٹ سائڈ ٹیبل پر رکھی

عرش نے گھور کر اسے دیکھا جو آرام سے بیڈ کے کنارے بیٹھا ہوا تھا۔ پھر کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں صبح کی سپیدی پھیل رہی تھی،

“مجھے یوں مت دیکھو میں بیٹھا ہوا ہوں،تم سو جاو کھا نہیں جاوں گا ڈونٹ وری”شاہ اسکی نظروں کا مفہوم سمجھ گیا۔ نجانے آج اتنا مہربان کیسے تھا ورنہ موقع ہاتھ آتے ہی وہ اس پر طنز کرتا

“مجھے نہیں سونا اب ویسے بھی صبح ہوگئی ہے،” وہ بگڑی

“جب میں کہہ رہا ایک دو گھنٹے سو جاؤ تو تم سن نہیں رہیں؟” شاہ نے اسکے جانب دیکھتے استفسار کیا۔

“سوتی ہوں” شاہ کے تیور دیکھ کر وہ کمبل تانے لیٹ گئی۔

سینے تک کمبل کھینچ لیا اور شاہ کی جانب کروٹ لے لی،

وہ اسے تک رہا تھا…عرش نے آنکھیں موند لیں..وہ اسے دیکھتا رہا۔ جیسے نظروں میں جذب کر رہا ہو

عرش پر نیند کی پری مہربان ہونے لگی وہ اسکے پاس ہی بیٹھا رہا۔ دل میں ہل چل محسوس ہوئی تو وہ آگے کو ہوا، سوئی ہوئی عرش پر جھکا اور اسکی پیشانی کو چوما،محبت سے عقیدت سے،

عرش کے حواس بیدار ہوئے، پھر آنکھیں جھٹ سے کھل گئیں،شاہ اس پر جھکا ہوا تھا سیدھا ہورہا تھا۔

وہ اسے دیکھ کر پھر سے آنکھیں میچ گئی سختی سے مصنوعی نیند!

“مطلب تم مجھے خود دیکھنا چاہتی ہو؟ کہا بھی تھا سو جاؤ تم سوئی نہیں” وہ پھر سے اس پر جھکا،اسکی حجاب کھسکائی اور اسکے گال چومے۔ عرش کی ہتھیلیاں تر ہوگئیں۔ اس نے تھوک نگلا

“آنکھیں کھولو” شاہ نے سختی سے کہا

عرش نے اور سختی سے آنکھیں بند کرلیں

“میں نے آنکھیں کھولنے کا کہا ہے” اسنے دہرایا

وہ اس پر جھکا اور عرش نے آنکھیں کھولیں،وہ پیچھے ہٹا۔

“اب بند نہیں کرنا”کہتے ساتھ وہ اسکے گرد بازو رکھے اور اسکی پیشانی پر ایک بھر پور بوسہ دیا، محبت احترام، عقیدت سے…

عرش نے آنکھیں بند کیں، اب کی بار وہ مسکرائی تھی پورے دل سے، اپنے سرخ ہوتے چہرے کو وہ کمبل میں چھپا گئی،

شاہ اسے کچھ لمحے مذید کمبل پر سے تکتا رہا پھر چلا گیا۔

باہر کھڑکی سے جھانکتی سورج کی کرنیں، اٹھکھلیاں کر رہیں تھیں کونسی نیند کہاں کی نیند کمبل میں سوئی عرش کو لگا تھا اب وہ کبھی نہیں سو پائے گی” افف….

وہ بے چینی سے صبح کا انتظار کرنے لگی انکے درمیان جھجک کے پردے کو شاہ نے خوبصورت سے سرکا دیا تھا۔

***

خدا خدا کر کے گھڑی نے سات بجائے، وہ کمبل پھینک کر اٹھی،منہ ہاتھ دھوئے، بالوں میں برش کیا اور باہر جانے لگی، اچانک رکی،ٹھٹکی اور پلٹی، شیشے کے سامنے گئی اور کاندھے پہ جھولتا دوپٹہ سر پہ جمایا ایک پلو آگے سے گزار کر پیچھے ڈال دیا۔

اور نیچے کچن میں آگئی۔ انساء بیگم میڈ کے ساتھ ناشتے کی تیاریوں میں لگی ہوئی تھیں، اسے دیکھ کر مسکرائیں اور کرسی پیش کی، بیٹھنے کیلئے، آج عرش کو یہ گھر ایسا لگ رہا تھا گویا وہ برسوں سے انکے معمولات دیکھنے کی عادی ہو

حد تو یہ تھی کہ اسے گھر کی بھی یاد نہیں آرہی تھی۔

“تم شاہ سے نہیں ملیں؟” کیبنٹ سے کچھ نکالتے ہوئے انساء نے پوچھا

“ہوں؟” عرش نے تھوک نگلا نا ہاں کیا نا ہی ناں!

“ابھی پوچھ رہا تھا کہ عرش اٹھی ہے یا نہیں” انہوں نے بتایا

“کہاں ہیں وہ؟” عرش نے جھجکتے ہوئے پوچھا

“اوپر اپنے جم میں”انہوں نے اشارے سے کمرہ بتایا،جو دوسری سیڑھیوں کے اختتام پر ہی کمرہ تھا۔

وہ سر ہلاتے ہوئے اوپر گئی،

شاہ کے کمرے کو بغیر ناک کیئے اسنے کھولا، سامنے کا منظر گویا کسی گھر کا نہیں، کسی پروفشنل جم کا تھا، ایکسرئز مشینز۔ ڈمبلز اور کونے میں لگی راڈ، جو گولائی میں تھی، جا بجا یہاں سے وہاں مہنگے جدید ترین اوزار!

وہ گیٹ پر ہی رک گئی، وہ نارمل کمرے سے چار گنا ہال نما کمرہ تھا

شاہ کونے میں لگی راڈ پر بغیر شرٹ کے ورزش کر رہا تھا،اسکا کسرتی جسم اور پیکس بیک پر نمایاں تھے۔

وہ راڈ پکڑے پاوں سیدھے کیئے پہلے راڈ پر لٹکا سا جاتا پھر توازن بناتے ہوئے، واپس سینہ اوپر تک لے جاتا۔

وہ اوٹ میں ہوگئی

وہ اب درمیان میں رکھی ٹیبل پر آیا دونوں ہاتھ ٹیبل پر سختی سے جمائے، اور آہستہ آہستہ پیچھے پاوں سے اٹھا رہا تھا کچھ لمحوں کے بعد اسکے پاوں ہوا میں تھے اور وہ دونوں ہاتھوں کے بل پش آپ لگا رہ تھا۔

کمال کا باڈی بیلنس تھا واللہ

وہ اٹھا اور سامنے پڑی شرٹ جسم پر ڈالی بٹن بند کر رہا تھا کہ عرش اندر آئی اور وہ مسکرایا

جیسے استقبال کر رہا ہو،،

________

شاہ کونے میں لگی راڈ پر بغیر شرٹ کے ورزش کر رہا تھا،اسکا کسرتی جسم اور پیکس بیک پر نمایاں تھے۔

وہ راڈ پکڑے پاوں سیدھے کیئے پہلے راڈ پر لٹکا سا جاتا پھر توازن بناتے ہوئے، واپس سینہ اوپر تک لے جاتا۔

وہ اوٹ میں ہوگئی

وہ اب درمیان میں رکھی ٹیبل پر آیا دونوں ہاتھ ٹیبل پر سختی سے جمائے، اور آہستہ آہستہ پیچھے پاوں سے اٹھا رہا تھا کچھ لمحوں کے بعد اسکے پاوں ہوا میں تھے اور وہ دونوں ہاتھوں کے بل پش آپ لگا رہ تھا۔

کمال کا باڈی بیلنس تھا واللہ

وہ اٹھا اور سامنے پڑی شرٹ جسم پر ڈالی بٹن بند کر رہا تھا کہ عرش اندر آئی اور وہ مسکرایا

جیسے استقبال کر رہا ہو،،

“گڈ مارننگ” عرش نے ٹیبل سے ٹیک لگا لی

“مارننگ” وہ ٹاول سے چہرہ تھپتھپا رہا تھا

“ناشتہ کرلیا؟” وہ اسکے پاس آیا

“نہیں کیا اب کروں گی،” عرش نے نفی میں سر ہلایا۔

“ایک بات کہوں” وہ سنجیدہ ہوا

“جی کہیں”

“میں تمہیں بہت “مس” کروں گا” اسنے ٹیبل پر ایک ہاتھ جمایا، اسکی آنکھوں میں جھانکا، اظہار نہیں تھا بے بسی تھی۔

“مس کریں گے وہ کیوں؟ میں کہیں جا رہی ہوں کیا؟” عرش نے نگاہ چرائی

“تم نہیں میں جاوں گا پورے دو سالوں کیلئے، اسپیشلائزیشن کیلئے” وہ مسکرایا

عرش کا دل ڈوب کر ابھرا۔

“کب سے جائیں گے؟” بظاہر لاتعلق ظاہر کر کے اسنے پوچھا۔

“ان ایگزامز کے فورن بعد”

“اور میں ان دو سالوں میں کیا کروں گی” عرش کو کچھ سمجھ ہی نا آئی، اسے کیا کہتی کہ اسکے جانے کا سوچ کر اسکا دل کس طرح سے اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبا تھا

“تم پڑھائی کرلینا” وہ لمحوں میں غیر سنجیدہ ہوا

“وہ تو میں ابھی بھی….” وہ کہتے کہتے رک گئی۔

شاہ کا چہرہ دیکھا

“کیا مطلب ہے آپکا میں پڑھتی نہیں ہوں؟” وہ اسکا طنز سمجھ کے غصہ ہوئی۔

“پڑھتی ہو،، مذاق کر رہا ہوں”

” میرا یہ آخری سال ہے، ایم اے اردو کے بعد میں کچھ نہیں پڑھوں گی” اسنے حتمی وارننگ دی

“مت پڑھنا اسکے بعد مجھے پڑھا لیا کرنا” شاہ نے اسکے کمر سے تھام کر ٹیبل پر بٹھا دیا۔

“شاہ، میں آپکو ایسے ہی پسند ہوں نا؟” وہ نجانے کیا پوچھ بیٹھی۔

“ایسے کیسے؟” شاہ نے اسکے ہاتھ تھامے

” مطلب، نالائق، فضول گو، قسم کی،” آپ میرے عیبوں کے ساتھ گزارا کرلیں گے نا؟” عجیب احساس کمتری تھا۔

شاہ کو افسوس ہوا۔

“نا تم نالائق ہو اور نا ہی فضول گو، عرش بہت سمجھدار، اور اخلاق والی لڑکی ہے، اور زندگی گزاروں گا نہیں، جیوں گا تمہارے ساتھ” وہ سچے دل سے کہنے لگا، دعوا!

وہ مسکرائی،

“انشاءاللہ” عرش کے منہ سے بے اختیار نکلا۔

“انشاءاللہ العظیم”شاہ نے سر کو خم دیا، اسکے ہاتھوں پر بوسہ دیا۔

****

وہ دونوں ایک ساتھ اسلام آباد آگئے، میمونہ کی عرش نے خوب خبر لی تھی،

اگلے چند ماہ میں امتحانات شروع ہورہے تھے، عرش کے ہوش اب نہیں اڑنے تھے، اسکا اپنا ٹیوٹر تھا وہ لاپرواہ ہوگئی تھی۔

اسے لگا اب وہ صرف ٹیوٹر نہیں شوہر بھی ہے تو عرش موڈ کےمطابق پڑھ لیا کرے گی، مگر یہ سارے خیال ہوا ہوئے تھے، پڑھائی ٹائم وہ اس کی بولتی بند کروا دیتا، اور اس طرح ہو جاتا جیسے اسے جانتا ہی نا ہو،

وہ جھنجھلاتی دانت پسیجتے، کاپی منہ کے آگے کیئے وقفے وقفے سے غصے بھری نگاہ شاہ پر ڈالتی، وہ لاتعلق ہوجاتا۔ میمونہ اپنی پڑھائی میں مصروف تھی۔

سب انجان تھے، امتحانات اسے زہر سے بھی ذیادہ برے لگ رہے تھے، ان امتحانات کے بعد شاہ نے چلے جانا تھا، وہ کسی سے کیا کہتی؟

زندگی میں خوبصورت ترین دن گزار کر اب عرش کو دوبارہ پڑھائی میں دل لگانا اتنا ہی مشکل لگ رہا تھا جتنا پہلی بار یونیورسٹی داخلے کی دفعہ لگ رہا تھا۔، اب کی بار محبت بھی ہمراہ تھی اور شاہ کا جانا…سب پر بھاری تھا

وہ شاہ کو گھورتی رہتی مجال ہے جو وہ اسائنمنٹ بناتے اس پر ایک نظر غلط بھی ڈال لیتا۔جیسے اسے فرق ہی نہیں پڑتا تھا وہ مرد تھا تاثرات چھپا سکتا تھا مگر عرش ایک روایتی لڑکی ثابت ہورہی تھی، اور سوچ سوچ کے خوفزدہ تھی، چہرہ محبت دسترس سے دور جا رہا تھا..

ایک ماہ گزر گیا تھا روٹین میں فرق نہیں آیا تھا۔

ابکی بار اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا۔

“شاہ مجھے آوٹنگ پر لے جائیں،” عرش نے کتاب پٹخی اور اٹھ کھڑی ہوئی، باہر رات ہورہی تھی، مقصد شاہ کے ساتھ وقت گزارنا تھا

“کس خوشی میں؟” شاہ نے ناگواری سے پوچھا۔

“میرا دل کر رہا ہے، میں اس چکر سے نکل جاؤں، پڑھ پڑھ کے میرے ذہن سے ساری لطافت ختم ہوگئی ہے، مجھے بیزاریت ہونے لگی ہے،” وہ اکتائی ہوئی تھی۔

شاہ نے ناگوار سی نظر اس پر ڈالی جیسے استاد اپنے نالائق شاگرد کو دیکھتا ہے۔

“تمہیں جب میں نے ایک دفعہ کہہ دیا کہ بیٹھ کے ایک گھنٹہ پڑھ لو تو تم سن کیوں نہیں رہیں؟” وہ اکتایا اپنی کتاب ٹیبل پر رکھ دی، اب حق رکھتا تھا وہ’

“مجھے نہیں پڑھنا، ہوجاؤں گی کلیئر”وہ پیر پٹختی باہر چلی گئی، حد تھی!

باہر آکر وہ ہاسٹل لان میں کھڑی ہوگئی،

شاہ جس طرح اسکا خیال رکھ رہا تھا وہ اس ایک ماہ میں اسکی عادی ہوچکی تھی، وہ ریزرو سا رہتا، مگر اس لیئے دیئے انداز میں بھی فکر ہوتی، پیار ہوتا، وہ اسکی چھوٹی چھوٹی چیزوں کی فکر کرتا، اب یہ سلسلہ دو سالوں کے لیئے ختم ہونا تھا،

اسکا محبوب ہی نہیں شوہر بھی تھا ، اور اب دور جا رہا تھا

ان دونوں نے ایک دوسرے سے کبھی اظہار ہی نا کیا تھا ،بس دل کی ڈور سے بندھے ہوئے تھے، ان دیکھی محبت میں!

انوکھی محبت جس میں ایثار تھا مگر اظہار نہیں، عطا تھی، مگر جتانا نہیں،

احساس تھا مگر کہنا نہیں،

شاہ کی تو یہ فطرت تھی، مگر عرش گم سم ہوگئی تھی۔ اسکے صبر کی بس تھی،وہ اٹھ کر باہر آگئی،،،

تاروں بھرے آسمان کو دیکھا، اور ہاسٹل کے سنسان لان کو، وہ سیڑھیوں پر بیٹھ گئی، بازو اپنے گرد باندھ لیئے اور گھٹنوں پر سر رکھ لیا۔

بس چند تھے پھر امتحانات اور پھر رزلٹ، اور پھر شاہ کی روانگی۔

جیسے جیسے دن قریب آرہے تھے وہ حواس باختہ ہورہی تھی

شاہ اسکے برابر میں آکر خاموشی سے بیٹھ گیا۔

“نہیں پڑھنا تو وقت کیوں ضائع کر رہی ہو عرش؟” وہ خفگی سے گویا ہوا۔

عرش منہ پھیرے رہی

“یہ وقت قیمتی ہے بہت، اسکے بعد تمہارے پاس ان چیزوں کیلئے وقت نہیں ہوگا، “باقی سب” بعد میں مل جائے گا یہ وقت نہیں” وہ جیسے اسکی کیفیت سمجھ کر مبہم انداز میں سمجھا رہا تھا۔

عرش کی آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا، وہ بدستور منہ پھیرے رہی۔

“چلو باہر چلتے ہیں” شاہ نے نرمی سے کہا

“اسکی طرف سے کوئی جواب نا آیا،

“عرش؟” اسنے اسکا کاندھا ہلایا۔

پھر اٹھ کر اسکے عین سامنے آ بیٹھا، اسکا جھکا ہوا سر ٹھوڑی سے پکڑ کر اٹھایا۔ جو آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔

“تم رو کیوں رہی ہو؟” وہ حواس باختہ ہوا۔

“مجھے نہیں پتا” عرش نے پھر سے ٹھوڑی چھڑا کر چہرہ چھپا لیا۔

“عرش؟ مجھے بتاؤ نا کیا ہوا ہے؟؟” وہ اس پر جھکا ہوا تھا فل آستین کی سرمئی شرٹ پہنی ہوئی تھی، ،،،

“آپ چلے جائیں گے شاہ بس چند دنوں بعد، میں کیا کروں گی؟” اسنے بھیگا چہرہ اٹھایا اور خفا نظریں اس پر جمائیں۔

وہ خاموش ہوگیا۔

“تم یہ کہہ رہی ہو تم کیا کرو گی؟ اور میں؟ میں کیا کروں گا؟” شاہ نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔

“آپکو فرق نہیں پڑتا” وہ آنسوؤں بھرے چہرے سے کہتی گئی

“بلکل” شاہ نے سر کو خم دیا اب کہا کہتا کہ میں مر جاؤں گا؟

“مجھے پتا ہے”درشتگی سے کہتے اسنے منہ پھیر لیا

“اب چلو باہر چلتے ہیں” شاہ نے اٹھایا۔

“میں کہہ چکی ہوں مجھے نہیں جانا” وہ غصے سے اٹھی ضدی لہجے میں کہتے اپنے ہاسٹل کی طرف بڑھ گئی۔

“عرش بات سنو” وہ اسکی پشت پر کھڑا رہا بے چین سا دل لیکر، وہ اسکے سامنے روتی چلی گئی تھی، .وہ اسے جاتا دیکھتا رہا، چند لمحے پھر اپنے ہاسٹل کی طرف بڑھ گیا مرے مرے قدم لیئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *