Shah Aur Zahra by Uzma Usman NovelR50705 Shah Aur Zahra (Episode 10)
Rate this Novel
Shah Aur Zahra (Episode 10)
Shah Aur Zahra by Uzma Usman
بہت پیارے بیٹے کی ماں ہیں آپ انساء ” نورینہ بیگم چائے کا کپ ہونٹوں سے لگاتے ہوئے مسکرائیں
“جی الحمداللہ” انہوں نے سر کو خم دیا آخر شاہ کی ماں تھیں۔
“مجھ سے ذیادہ انکی دادی اور بابا کا ہاتھ ہے انکی تربیت میں نورینہ، مجھ سے ذیادہ وہ اس سے اٹیچ ہیں، میرا بیٹا وہ واحد بیٹا ہے جسکی بچپن میں بھی کبھی شکایت نہیں آئی” انکے لہجے میں فخر عود کر آیا۔
شاہ نے چائے کا کپ پرچ میں رکھا اور عرش کی تلاش میں نظریں دوڑائیں۔ وہ نروس تھا اور بے چین سا کچھ تھا جو مصنوعی تھا۔
وہ عرش کی ماما کو دیکھنے لگا جو اسے دیکھ رہیں تھیں پھر نگاہوں کے تصادم پر وہ مسکرا کر انساء سے باتیں کرنے لگیں تھیں۔
وہ سر جھکا گیا۔
وہ عبدالہادی کی طرح چہرے تو نہیں پڑھ سکتا تھا مگر وہ اتنا اندازہ لگا پایا تھا کہ عرش کی ماما کے دل میں کچھ ہے جو بلکل بھی ٹھیک نہیں ہے نجانے کیوں شاہ کو نورینہ بیگم کے تاثرات مصنوعی لگے۔
وہ نظریں چرا گیا اور اپنے جوتوں کو تکنے لگا۔
ماما ان سے عرش کو بلانے کا کہہ رہیں تھیں وہ اسے دیکھنا چاہتیں تھیں، شاہ کا بھی دل چاہا وہ اسے دیکھے بس ایک نظر…کیسی ہے وہ..اس دن ہاسٹل میں کمرے میں بستر پر چھوڑ کر اسے دوبارہ دیکھا ہی نا تھا۔
“آآں..وہ تھوڑی تھکی ہوئی ہے اور بیمار بھی..چلنے میں بھی دقت ہے، آپ ایسا کریں میرے ساتھ آئیں میں آپکو اس کے کمرے میں لے چلتی ہوں،” انہوں نے مسکرا کر بات مکمل کی۔
“کوئی بات نہیں میں چلتی آپکے ہوں ساتھ کمرے میں” انساء بیگم یہ موقع کسی طور ضائع نا کرنا چاہتی تھیں۔
وہ عرش کا کمرہ ناک کر کے اندر داخل ہوئیں۔
“وہ ڈریسنگ ٹیبل پر چیزوں کو بلاوجہ ہی ٹھیک کر رہی تھی۔
انساء بیگم کمرے کے دروازے میں ہی ٹک گئیں وہ یک ٹک اسے تکنے لگیں جو مجسمہ حسن یا مجسمہ معصومیت تھی۔ اسکی ناک..ناک بہت پیاری تھی نازک سی چھوٹی سی میرون کلر کی شارٹ قمیض اور میرون پائجامے میں ملبوس تھی شیفوں کا دپٹہ کاندھے پر جھول رہا تھا۔ کتھئی سی آنکھیں حزن میں ڈوبی ہوئیں تھیں۔
“اسلام علیکم، آنٹی” وہ آگے آکر سلام کرتے ہوئے پیار لینے کو جھکی۔
وہ ہڑبڑا کر حال میں آئیں اسکے سر پر پیار کیا۔
“ماشااللہ بہت ہی پیاری اور اخلاق والی بیٹی ہے آپکی، نورینہ اسے تو آپ مجھے ہی دے دیں آپ کا احسان ہوگا،” وہ رندھی آواز میں کہتی گئیں
عرش کی آنکھوں میں بے یقینی اتر آئی
نورینہ بیگم کے چہرے کے تاثرات سخت ہوئے وہ بمشکل اپنے غصے کو قابو میں کیا۔
” آ…پ..چلیں، ہم باہر چل کر بات کرتے ہیں، عرش تم ریسٹ کرو، انہوں نے انساء بیگم کو مزید گوہر افشانی سے روکا۔
عرش نے میکانکی انداز میں میں دروازہ بند کیا اور گیٹ سے کمر ٹکا لی دل و دماغ میں آندھیاں سی چل رہی تھیں۔
کب وہ لوگ گھر گئے کچھ معلوم نہیں تھا وہ کمرے میں ہی بند تھی۔
گیٹ پر رخصت ہوتے وقت نجانے نورینہ بیگم نے انساء بیگم سے کیا کہا کہ شاہ نے انکے چہرے کو واضع طور پر بجھتے ہوئے دیکھا۔ وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئیں تھیں۔
****
“عرش زہرا” نورینہ بیگم کے لہجے میں ایک دھاڑ سی تھی۔ عرش کا خون خشک ہوگیا تھا۔
_________
عرش سر سے پاؤں تک کانپ گئی تھی۔ ساری زندگی لاڈو و ناز میں گزاری تھی امی نے کبھی اونچی آواز میں ڈانٹا تک نا تھا اور اب عجیب سا ماحول تھا گھر کا۔
“تمہارا رشتہ مانگ کے گئی ہیں وہ،” وہ اسکے کمرے میں آئیں تھیں لہجے میں طنز ہی طنز تھا۔
“دیکھ لئیے دنیا کی ہمدردی میں مفاد؟” بازو سے جکڑ کر اسے سامنے کھڑا کیا۔
“کب سے چاہ رہا ہوگا وہ موقع کہ….بس بہانہ بنے اور …اور ایک بےوقوف لڑکی کو اپنے جال میں پھنسایا جائے،” وہ تنفر سے گویا ہوئیں، ایسی ہی بدگمانی کبھی عرش کو بھی تھی۔ یہی سوچ یہ انداز اسنے بھی ماں سے لیا تھا۔ دوراندیشی تھی احتیاط تھا….جو بھی تھا ٹھیک تھا…مگر “کسی” کیلئے ٹھیک نہیں تھا۔
“امی میں سولہ سو ساٹھ میں نہیں رہتی، جہاں لڑکی کا باہر سے رشتہ آنے پر اسے زدوکوب کیا جائے، یہ دوہزار انیس ہے، میرا اس رشتے سے کوئی لینا یا دینا نہیں ہے نا ہی میری کسی شہہ پر یہ سب ہوا ہے،آپکی مرضی ہے مجھے کسی کھونٹے سے بھی باندھ دیں تو میں افف نہیں کروں گی، آپکو ہاں کرنا ہے تب بھی مجھے اعتراض نہیں نا کہنا ہے تب بھی نہیں، اس حوالے سے مجھے ٹارچر نا کریں میں بابا سے کہہ دوں گی” وہ بھی عرش زہرا تھی۔ کردار سب سے اول تھا۔ ماں کے ذہن پہ چھائی ہوئی بدگمانی کو دور کرنے کیلئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتی تھی۔
انہوں نے اسکا بازو چھوڑا۔
“ٹھیک ہے میں صاف انکار کردوں گی، ویسے بھی تمہارے بابا کے فرینڈز کے بیٹوں کے کافی پرپوزل ہیں، ڈاکٹرز انجینئرز…” کہتے ہوئے انہوں نے عرش کے تاثرات جانچے۔
عرش رکی آگے کو ہوئی اور نورینہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔ ایک حزن کی کیفیت تھی۔
“امی، کل کا کرتی آپ آج اور ابھی کریں انکار، میری جوتی کو بھی پرواہ نہیں، میں کل سے یونیورسٹی بھی جوائن کرلوں گی اب آپ مجھے نہیں روکیں گی،میں جا رہی ہوں بابا اور دادی کے پاس ساری بات انہیں بتانے..، کیونکہ میرے دل میں چور نہیں ” وہ پیچھے کو ہوئی، بد لحاظی سے کہتے ہوئے اس نے سر تاسف سے جھٹکا۔ گویا امی کی سوچ پہ بہت افسوس ہوا ہو۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے ڈھنڈھورا پیٹنے کی، رکو عرش..عرش..” وہ آوازیں دیتی رہ گئیں عرش کمرے کی دہلیز اور نیچے جاتی سیڑھیاں بھی پار کر گئی۔
“شاہ ارسلان، یہ سب تمہاری وجہ سے…، اس سے بہتر تھا تم مجھے خود اس کھائی میں دھکا دے دیتے، یا میرے ایگزام کلئیر نا ہوتے، اس سب سے بہتر تھا…،” دادی کے کمرے کے باہر کھڑی عرش نے زور سے مٹھیاں بھینچیں، آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی، مگر چہرہ گویا پتھر کی مورت تھا۔
اسے زندگی میں پہلی بار اتنا غصہ آیا تھا۔ وہ بھی شاہ ارسلان پر….
****
آپ نے بات کی امی؟” ڈرائیو کرتے شاہ نے گردن ترچھی کر کے ماں سے پوچھا۔
“ہوں..کی تھی،” وہ کسی سوچ میں گم تھیں۔
“کیسی لگی آپکو وہ؟ اور کیا کہا انہوں نے؟” وہ مسکرا کر گاڑی کو گئیر میں ڈال چکا تھا۔
“اچھی ہے..معصوم سی..اور تمہارے لئیے..موزوں،” انساء بیگم نے اوپری مسکراہٹ سے جواب دیا۔
شاہ ایک ہاتھ سے ڈرائیو کرتے دوسرے ہاتھ سے دوسرے ہاتھ سے ڈیش بورڈ میں پڑے موبائل کو اٹھایا۔
سرسری میسج دیکھ کر واپس رکھ دیا۔
وہ اب پرسکون ہوکر گاڑی چلا رہا تھا۔
انساء اسے تکنے لگیں…کیسے اسے بتاتیں..کہ عرش کیلئے اسکی امی نے کتنے عذر تراشے..
وہ اسے دیکھے گئیں۔ وہ الفاظ نہیں مل رہے تھے جس سے وہ گفتگو شروع کرتیں
شاہ تو شاہ.. خود انہیں وہ کتنی پسند آئی تھی۔ جیسے یہی تو سوچی ہوئی تھی…خدا نے انکی پسند کے مطابق سانچے میں ڈال کر سدھا کر بھیجا ہو..شوخ سی آنکھیں..کٹاؤ دار لب…اور من موہنی سی آواز..
انہیں لگا وہ شاہ کو سچ بتا کر اسے مایوس اور ناخوش کردیں گی۔
وہ آنکھوں میں آئی نمی کو لئیے منہ پھیر گئیں۔ شیشے سے باہر دیکھنے لگیں۔ سرد ہوا کے تھپیڑے منہ کو جما رہے تھے مگر وہ شاہ کی جانب دیکھنے سے گریز کر رہی تھیں۔
“امی آپنے بتایا نہیں انہوں نے کیا کہا” شاہ نے انکا کندھا ہلایا۔
“ہوں..وہ چونک گئیں
“وہ انہوں نے..” جھوٹ کیلئے الفاظ ڈھونڈنے لگیں “سچ” تو تلخ تھا۔
“ہاں بیٹا..وہ کہہ رہیں تھیں اسکے بابا سے مشورہ کریں گی..اور.” وہ خاموش ہوئیں تھوک نگلا۔
“انہوں نے انکار کردیا نا امی؟” وہ مسکراتے ہوئے مین روڈ ہی نظریں جمائے ہوئے تھا۔اب دونوں ہاتھوں سے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔
انکا رنگ فق ہوا
“کوئی بات نہیں شاہ، مم..میں تمہارے لئیے اس سے بھی پیاری..لڑکی..”
“نہیں امی نا پیاری نا سوہنی، بس وہی… مجھے معلوم تھا یہ لو میرج نہیں ہوسکتی، ارینج میرج ہوگی، میں “نارمل ” ہوں، دیکھیں، کل یا پرسوں آپ انکے گھر جاکر کہہ دیجئے گا، شاہ کی بات پکی ہوگئی ہے..اور رشتے سے معذرت بھی کر آئیے گا…ساتھ مٹھائی کا ڈبا بھی لے جائیے گا، مسکراہٹ دبائے کہتے۔ شاہ نے گاڑی گھر کے راستے پر ڈالی۔
انساء بیگم ہکا بکا اسکا منہ تکنے لگیں
___________
نورینہ اپنی ساس کے کمرے کے باہر کھڑی تھیں، انگلیاں مروڑتے بے چینی ہر انداز سے عیاں تھی۔ عرش کی سسکیوں کی آواز باہر تک آرہی تھی۔
وہ ماں تھیں اپنی لاڈلی بیٹی کا بڑا تو نا چاہ سکتی تھیں..یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے لڑکے کتنے تیز اور فلرٹی ہوتے ہیں…عرش تو معصوم تھی۔ اسے کیا پتا دنیا دکھائی کچھ دیتی ہے ہوتی کچھ اور ہے۔ (شاہ کا روشن اور نرم سے تاثر والا چہرہ ذہن کے پردے پر لہرایا تو وہ ایک لمحے کو سوچ میں پڑ گئیں،) پھر گڑبڑا کر خود کو ہی ڈپٹا۔ “شکل سے کیا ہوتا ہے اصل تو اخلاق اور جان پہچان ہونی چاہیئے،”
ہمت کر کے انہوں نے دروازے کو دھکا دیا تو وہ کھلتا گیا۔
عرش دادی کی گود میں سر رکھے سسک رہی تھی اور انکی ساس اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرتے اسے پرسکون کر رہیں تھیں۔ سرور خان پاس پڑی چئیر پر آگے کو ہوکر بیٹھے ہوئے تھے۔
چہرے پر پریشانی کے آثار تھے دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے میں پرویا ہوا تھا۔
انکے جانے پر تینوں نے چونک کر انہیں دیکھا تھا۔
عرش نے انہیں دیکھ کر منہ مزید چھپا لیا
“آجائیے بیٹھئے یہاں” سرور خان نے اشارے سے بیڈ پر بیٹھنے کیلئے کہا
وہ بمشکل وہاں ٹک کے بیٹھیں۔
“آپکو اپنی تربیت، اور میری بیٹی پہ شک کرنی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟؟” سرور خان ضبط سے چبا کر بولے۔
“نورینہ بیگم کا پورا منہ کھل گیا۔
“مم..میں نے کب شک کیا؟ مم..میں نے تو بس رشتے سے انکار کیا تھا”
“عرش کی یونیورسٹی جانے ہر بھی پابندی عائد کردی؟یہی نہیں رشتے کا مجھ سے یا امی سے پوچھے بغیر خود ہی فیصلہ کردیا؟ آپ نے یہ تک نہیں سوچا کہ یہ اگر سہی سلامت یہاں بیٹھی ہے تو اللہ کے بعد اس لڑکے کی مہربانی ہے، شکریہ ادا کرنے بلایا تھا آپ نے اور یہ سب ہوا،، اگر ان خاتون کو میری بیٹی پسند آئی تو اس میں عرش کا کی قصور ہے؟” وہ غصے سے چلائے۔
“بات پسند نا پسند کی نہیں ہے، وہ لڑکا اسکے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتا ہے اسکی جان بچائی..ایک بلاوے پر یہاں اپنی ماں کو لیکر آگیا..گھر آتے ہی اسکی ماں کو عرش پسند آگئی،، اسکا یہی مطلب ہوا نا کہ وہ لڑکا اس میں انٹرسٹڈ تھا؟” کھویا ہوا اعتماد بحال کرتے وہ غصے سے گویا ہوئیں۔
“اس سب میں میری عرش کی کہاں غلطی ہے؟” سرور خان نے زور سے ٹیبل پر ہاتھ مارا۔ نورینہ بیگم کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔
عرش زور سے رونا شروع ہوچکی تھی۔
“ارے بہو اتنا بھی خیال نا آیا کہ جہاں “بیری ہو وہاں پتھر تو آتے ہی ہیں” اور یہ کوئی اچنبھے کی بات تو نہیں، کیا ساری زندگی بچی کو گھر بٹھانا ہے؟” ساس نے بھی منہ کھولا۔
“بات یہ نہیں ہے امی،” وہ بے چین سی ہو کر بیڈ سے اتر گئیں۔
“سرور آپ بھی سن لیں، بے شک اس لڑکے میں کوئی خرابی نہیں ہے، اسکے یونیورسٹی جانے میں بھی اب کوئی اعتراض نہیں ہے..مگر اگر اب یا کبھی بھی آئیندہ دس سالوں میں بھی. کسی لڑکے کے توسط سے رشتہ آیا.. تو میری طرف سے صاف انکار ہوگا، کیونکہ میں لو میرج کے حق میں نہیں ہوں، یہ شادیاں نہیں چلتیں، “لڑکوں کے سر پر جنون کی طرح عشق کا بھوت سوار ہوتا ہے،اور نشے کی طرح یہ جنون یہ خمار اتر جاتا ہے،میں اپنی اکلوتی بیٹی کو ساری زندگی کیلئے دکھی نہیں کروں گی، ارینج میرج ہوگی بس،” نورینہ فیصلہ کن انداز میں کہتی ہوئی کمرے سے نکل گئیں،
“سرور تمہاری بیوی کا دماغ خراب ہوگیا ہے..مگر کوئی بات نہیں ، عمر کا تقاضہ تو میرا ہے پاگل پن کا مگر حرکتیں یہ کر رہی ہے” دادی کو نئے سرے سے غصہ آیا تھا۔ .عرش روتے ہوئے اٹھی تھی اور اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔
“اسکو کس بات کا اتنا صدمہ ہے جو آنسو نہیں رک رہے؟” دادی اسکے مسلسل رونے س تپ گئیں
“امی روئے گی تو سہی نا..اسکی ماں اپنی اولاد کیے سامنے اتنی منفی باتیں کر رہی ہے،” سرور تنک کر گویا ہوئے۔
*****
“سرور خان اندر آئے تو نورنہ بیگم کا آنسو گراتے ہوئے کمرے میں کام نمٹا رہی تھیں۔
“یہاں بیٹھئے،” نورینہ بیگم کو بازو سے پکڑا اور اپنے سامنے بٹھایا۔
“اس موضوع پہ مجھے بحث نہیں کرنی، میری بیٹی پہ میرا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا آپکا،” انگلی اٹھا کر تنبیہہ کی۔
“بلکل اور آپکا حق ذیادہ ہے، میں اس ٹاپک پر آپ سے بات کر بھی نہیں رہا، میرا دوست اپنے بیٹے کیلئے بارہا بر مجھے کہ چکا ہے، مگر میں عرش کی پڑھائی، اور اسکے کچھ بن جانے تک بات ٹالتا رہا ہوں مگر اب سوچ رہا ہوں انہیں گھر بلا لوں،” وہ پر سوچ نگاہوں سے بیوی کو تولتے ہوئے بولے۔
“کیسا ہے انکا بیٹا کیا کرتا ہے؟ عمر کتنی ہے؟ دیکھنے میں کیسا ہے؟” وہ رونا بھول کر سوال پوچھے گئیں۔
“اب گھر بلائیں گے تو پتا چلے گا بیگم کون کیسا کے میں کل انہیں بلا لیتا ہوں، وہ عرش کو بھی دیکھ لیں گے پرسوں سے میری بیٹی یونیورسٹی چلی جائے گی، یہاں آرام تو شاید اسکی قسمت میں نہیں،”وہ نا چاہتے ہوئے طنز کرگئے۔
“ہاں میں ماں نہیں دشمن ہوں نا اپنی بیٹی کی،” انہوں نے بازو چھڑایا۔ اور پھر سے رونا آیا تھا….
******
اس دن نورینہ بیگم صبح صبح اٹھ گئیں تھیں، صبح سے کام نمٹاتے اب دوپہر ہونے کو آئی تھی۔ سرور خان نے اپنے دوست کو کال کرکے شام کو گھر بلا لیا تھا۔
“میں گروسری اور دیگر چیزوں کیلئے بازار جا رہی ہوں شاید ڈالمن چلی جاؤں،آپ ڈرائیور سے کہیں گاڑی تیار کرے، دوپٹہ سر پر ٹھیک کرتے وہ آگے کو آئیں۔
“کہہ دیتا ہوں،” صوفے پر نیم دراز سرور خان نے موبائل کان سے لگایا نورینہ بیگم لاؤنج سے باہر نکل آئیں۔
“ڈالمن میں ضروری اشیاء کی خریداری کے بعد وہ ٹرالی گھسیٹتے کاونٹر تک آئیں۔ سازو سامان سے بھری ٹرالی وہاں کھڑی کر کے وہ اپنی باری کا انتظار کرنے لگیں۔
“میم” کاونٹر پر کھڑے لڑکے نے رسید انکی طرف بڑھائی۔ اور رقم کیلئے انکے چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔
نورینہ اپنا بیگ ڈھونڈنے لگیں انہیں لگا ٹرالی میں سامان کے ساتھ اندر چلا گیا ہے مگر پوری ٹرالی خالی کرنے کے بعد بھی بیگ برآمد نا ہوا تو وہ ایکسکیوزمی کہتے ہوئے گاڑی کی طرف گئیں،جس میں انکا کریڈٹ کارڈ بھی موجود تھا۔ مگر گاڑی میں بھی بیگ ندار…وہ واپس اندر کو آئیں۔ اب وہ حقیقتا پریشان ہوچکی تھیں، اتنے عالیشان مال میں وہ بغیر پیسوں کے چلی آئیں تھیں۔ انہیں یاد آیا نکلتے وقت بیگ انہوں نے صوفے پر رکھا تھا “اففففف” رسید ہاتھ میں لئیے وہ کھڑی تھیں۔
کاونٹر والا لڑکا اب سر غصے سے جھٹکتے کچھ بڑبڑاتے ہوئے سامان دوبارہ لے جا رہا تھا۔
“آنٹی؟ آپ ٹھیک ہیں،” شاہ نجانے وہاں کیا کرنے آیا تھا۔
وہ چونک کر اسے دیکھے گئیں کچھ لمحے لگے تھے اسے پہچاننے میں، اس سے مدد کا کہنا مطلب…شرمندگی…
“کچھ نہیں بیٹا، آپ شاپنگ کریں،” مسکرا کر اسے ٹالا
“آپ پریشان ہیں؟ کوئی پرابلم” وہ اردگرد دیکھتے ہوئے بولا۔
بلیک ہاف آستین کی شرٹ اور بلیک جینز..سر پر پی کیپ پہنے بے حد خوبرو لگ رہا تھا۔
مم..میں اپنا پرس گھر بھول آئی..ایکچوئلی آج کچھ مہمان آنے تھے تو..جلدی جلدی میں بھول آئی، مگر اب واپس جا رہی ہوں کسی کو بھیج کر منگوا لوں گی،”
“ایک منٹ”شاہ نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روکا اور کاونٹر بوائے کو آواز لگائی جو انکی ٹرالی لئیے جا رہا تھا۔
“وہ مینجر کے پاس جا کر نجانے کیا کہا کہ اگلے پانچ منٹ بعد وہ ٹرالی سمیت انکے پاس آگیا۔ مینجر بھی اسکے ساتھ تھا۔
“کوئی بات نہیں میم…آپ یہ سامان لے جائیں، کسی کے ساتھ یا آنلائن پے کردیجئے گا” ہروفیشنل انداز میں کہتے وہ مینجر کاونٹر بوائے کو انکا سامان گاڑی تک پہچانے کے ہدایت کرتے وہاں سے چلا گیا۔
نورینہ بیگم کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی تھی۔ ایسے کیسے ہزاروں کا سامان شاہ کے ایک بار کہنے پر انکے حوالے کیا تھا۔ اتنا پراثر لڑکا …جبکہ اسنے پیمنٹ بھی نہیں کی تھی۔ بس کہنے پر؟؟؟
“بیٹا آپکو پے نہیں کرنی چاہئے تھی مجھے بلکل اچھا نہیں لگا..” وہ خفا سی گویا ہوئیں، اپنی بات کی تصدیق بھی کرنی چاہی
“میں نے پے نہیں کی آنٹی،میں جانتا تھا آپکو برا لگے گا، بس سامان آپکو واپس دلوایا ہے، پے آپ خود کردیجئے گا” شاہ نے گردن ترچھی کر کے سر کو خم دیا
وہ “شکریہ” کہتے وہاں سے چلی گئیں
شاہ کاونٹر کی طرف بڑھ گیا جہاں مینیجر منتظر تھا۔
“جب یہ پے کرینگی تب ہم یہ گھڑی اور سیل فون آپکو واپس کردینگے مسٹر شاہ،گو کہ یہ رول نہیں ہے مگر پھر بھی ہم نے آپکی بات مان لی،” پروفیشنل انداز میں کہتے وہ دراز میں دونوں چیزیں رکھ کے کسٹمرز کے ساتھ مصروف ہوگیا۔
اگلے آدھے گھنٹے میں گھڑی اور موبائل دونوں اسکے پاس تھے ببل غم چباتے وہ گاڑی کی چابی گھماتے وہ باہر کی جانب بڑھ گیا
“بیٹی کو مفت کی ٹیوشن دی، چلو سب خیر ہے…اب اتنی شاپنگ کا بل بھی دوں وہ بھی اس ساس کا جسکو میں پسند ہی نہیں، حق حلال کی کمائی ہے بابا کی،” وہ چڑ کر اپنے آپ سے گویا ہوا..
بے نیازی سی بے نیازی تھی کتنی لڑکیوں نے ایک سیکنڈ کیلئے سہی مگر اس مغرور چہرے پر نگاہ ضرور جمائی تھی…
