Shah Aur Zahra by Uzma Usman NovelR50705 Shah Aur Zahra (Episode 20)
Rate this Novel
Shah Aur Zahra (Episode 20)
Shah Aur Zahra by Uzma Usman
شام ہوتے ہی شاہ آگیا وہ اپنا بیگ پیک کر رہی تھی آنکھیں سوجی ہوئیں تھیں،
“میں ٹکٹس لے آیا ہوں،” اسنے ٹکٹس اسکے سامنے رکھیں،
“کون سی ٹکٹ کیسی ٹکٹ؟” وہ اسکی جانب دیکھے بغیر بیگ پیک کرتی رہی
“بائے ائیر جانے کی ٹکٹس ہیں،کل لے چکا تھا میں، اور میں جانتا ہوں آج کی تمہیں کوئی ٹکٹ نہیں ملی” وہ چیئر پر نیم دراز ہوگیا۔
“میں آپکے ساتھ نہیں جارہی، میں ٹرین میں جارہی ہوں اور میں نکلنے لگی ہوں” وہ چبا چبا کے بولی بیگ اٹھا کر کندھے پر ڈالا۔
“مجھے یہاں چھوڑ کر چلی جاؤ گی؟” وہ نظروں کے زاویے اس پر ٹکاتے ہوئے بولا۔ عرش ایک لمحے کو مبہوت ہوئی، تھم گئی، رک گئی،
اسنے نفی میں سر ہلاتے ہوئے بیگ بیڈ پر پھینکا اور وہیں بیٹھ گئی
“تم نے سوچ لیا کہ میں تمہیں جانے دوں گا؟” وہ اٹھ کر اسکے پاس آیا
عرش کے آنسو بہنے لگے
“آپ کو میرا خیال نہیں شاہ!” وہ رو دی
“اونہوں، ایسے مت کہو عرش،”شاہ نے اسکے آنسو صاف کرتے ہوئے نفی میں سر ہلایا
“میں مذاق کر رہا تھا، اور جو بھی ان دنوں تم نے محسوس کیا میں بس تمہیں ستا رہا تھا…میری بیوی میری منکوحہ ہو تم، میری سب کچھ!” وہ شرمندہ سا اسے صفائی دینے لگ گیا۔
عرش نے دیکھا اسکے جملے میں لفظ “محبت” نا تھا، اسے رنج ہوا،،،،
اسکے آنسو اور بہنے لگے، شاہ کو خود کو مزید اظہار سے روکنا مشکل ہوتا جا رہا تھا اسکے آنسو اسے کمزور کر رہے تھے،،،،
“اٹس اوکے، چلتے ہیں،” عرش نے اسکا ہاتھ کندھے سے ہٹایا
شاہ نے اسے اٹھنے سے روکا۔ اسکی آنکھوں میں جھانکا،،،سوالیہ نگاہیں، گھنے ابرو تلے روشن براون آنکھیں اس پر جمی ہوئیں تھیں،
“کیا ہوا ہے؟” شاہ نے اسکے اتنے آنسوؤں کی وجہ پوچھی
اور عرش نے صبر کا دامن چھوڑ دیا وہ اسکے ہتھیلی پہ چہرہ رکھ کر رو پڑی،،،سسکیوں سے،،، وہ بغیر کچھ کہے روتی گئی
شاہ کو سمجھ نا آیا کہ وہ کیسے اسے روکے، وہ بوکھلا گیا، صدماتی کیفیت میں!
“کیا ہوا ہے عرش مجھے بتاؤ، اوہ میرے اللہ، زہرا تم رو کیوں رہی ہو؟ آئم سوری، میں تمہیں ستا رہا تھا،” وہ بوکھلا گیا، اپنی ہتھیلی پر چہرہ رکھے روتی عرش کا چہرہ ہتھیلیوں میں تھاما، جو نظریں جھکائے رورہی تھی…،
“تم پاگل ہو؟ تم رو رہی ہو؟ عرش تم مجھے تکلیف دے رہی ہو” وہ جیسے اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کراہا۔
“میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں شاہ، بے حد! آپ دو سالوں کیلئے نظروں سے اوجھل ہوجائیں گے، بے شک پڑھائی کیلئے،، مگر…مجھے..عادت….نہیں ہے، شاہ میری آنکھیں آپکو دیکھے بنا کیسے رہیں گی؟ میں کیا کروں گی؟” وہ سسک اٹھی، بے اختیار، وہ خود کو روک نا پائی، بلا اختیار جذبے بہتے گئے،،، وہ اس لمحے کی گرفت میں آگئی، جو اسکو کمزور کرگیا…ورنہ چٹانوں کی مانند تنی رہتی،،،
شاہ کو کچھ سمجھ نا آئی،، اسکا دل کیا وہ سجدہ ریز ہوجائے، ان لبوں پر نثار ہوجائے،،جنہوں نے اسے اظہار سونپا تھا..وہ نکاح کا قدردان ہوا، وہ اللہ کا شکر گزار ہوا،، وہ بے بس ہوا،، اسکی محبوبہ ملی اسکی بیوی بنی،، اب اظہار کر رہی تھی،،، واللہ کرم تھا رحم تھا اور عطا تھی،،،
شاہ مسکرایا، اسکے آنسو اب اسے تکلیف نہیں دے رہے تھے، شاہ نے اسکے گرد بازو کھینچا، اور اسکا سر اپنے سینے سے لگا لیا،، اسکا سر چوما،،
“میری عرش میری زندگی ہے، میری نظر کا نور، میرے رگوں میں دوڑتے خون کی روانی، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں، جنہیں محبت مل جائے، تو وہ بھر جائیں، میرا شکر شروع ہی اب ہوتا ہے، اب ہی مجھے، قدر اور محبت کرنی ہے،” اسنے دل میں سوچا مگر کہا کچھ نہیں، خاموشی سے اسکا سر سہلاتا رہا،، وہ جو اسکے سینے میں سر چھپائے روئی تھی، ابھی وقت اظہار نہیں تھا،،،ابھی وقت شکر تھا،،،،کرم تھا….
“میری عرش تو بہت بہادر ہے،” اسنے وہ الفاظ ڈھونڈے جس سے اسے تسلی دینی تھی، اب مذاق میں نہیں لینا تھا، اب اسے طنز میں نہیں اڑانا تھا،،
“میں تمہیں ساتھ لے جاؤں گا، تم بلکل بھی پریشان نہیں ہو، میں رہ سکتا ہوں کیا تمہارے بغیر، تمہاری ٹرٹر سنے بغیر” شاہ نے شگفتہ انداز میں کہتے ہوئے اسے خود میں سمویا،، بیڈ سے ٹیک لگا لی، اسکا چہرا ایک ہاتھ سے تھاما ہوا تھا دوسرا ہاتھ اسکے گرد گھیرا ڈالے ہوئے تھا۔
جھک کر اسکے بالوں پر بوسہ دیا…..
اسکا آنسوؤں سے تر چہرہ اٹھایا،
“چلو گی نا ساتھ؟” شاہ نے اسکے بال سنوارے سر نے اسے دیکھا اور واپس سینے میں سر چھپا لیا۔ سکون تھا جو مل رہا تھا۔
وہ اسے لیئے بیٹھا رہا ….اسکے بال سنوارتا رہا،،اس سے باتیں کرتا رہا…اسکا دل بہلاتا رہا،،،
“جملوں میں محبت نظر نہیں آتی اور عمل میں شاہ محبت کا مجسمہ ہیں،دعوے نہیں کرتے، عمل کرتے ہیں”عرش نے سوچا،،
*****
ہوا کا سفر تھا شاہ اور زہرا کا ساتھ! وہ اسکے ساتھ، اس سے جڑی اسکا بازو دونوں ہاتھوں سے تھامے باتیں کئے جا رہی تھی، شاہ مسکرا کر سن رہا تھا،، وہ بس دیکھ رہا تھا،،، وہ بول رہی تھی،، چھوٹی چھوٹی باتیں، نرم لہجہ!
“پھر بتائیں نا؟” وہ اچانک سوال کرنے لگی،
“کیا بتاؤں؟” شاہ نے غائب دماغی سے پوچھا۔
“میں کیا کروں گی آپ چلے جائیں گے اس ماہ، اور مجھے ساتھ نہیں آنا؟” وہ ناراض لہجے میں بولی
“تم کوئی کام کرلینا،” شاہ نے ازراہ تفنن کہا۔
“میں سنجیدہ ہوں”عرش نے گھورا، وہ بازو سے سر ٹکائے ہوئے تھی۔
“تمہیں بس چند مہینوں نکاح کے بعد اتنی محبت ہوگئی ہے، یہ سوچو جو عورتیں، اتنے سال اپنے شوہروں کے ساتھ رہتی ہیں، ہر وقت، ہر لمحہ،، پھر انکے شوہر اگر مر جاتے ہیں، وہ کیسے رہتی ہونگی،” شاہ نے مذاق میں کہا تھا،، اسے بس تسلی و حوصلہ دینا مقصود تھا،،
عرش کی پوری ہستی ہل گئی، وہ سر تا پا لرز گئی، یہ کٹھور پن یہ ظلم، یہ تسلی دینے کا کونسا طریقہ تھا، وہ اسکا بازو چھوڑ کر سیدھی ہوئی، کلیجے میں ہاتھ پڑا تھا عرش زہرا کے، اسے اس لمحے اپنی محبت کی شدت معلوم ہوئی، اسے شاہ کے بغیر اپنا وجود بے معنی لگا، وہ تڑپ گئی،،
آنکھوں میں پانی کا ڈھیر آیا،، اسکا دل کیا وہ اس چلتے جہاز سے کود جائے، ہاں اتنی ہی تکلیف ہوئی تھی عرش زہرا کو،،،
وہ آنکھوں میں قہر لیئے اسے دیکھنے لگی جو خود ابھی عرش کو ٹکر ٹکر دیکھے جا رہا تھا،
“آپکو اب ایک لفظ بولنے کی ضرورت نہیں شاہ ارسلان، میں ٹھیک ہوں” وہ بکھرے لہجے میں کہتی گئی، منہ پھیر لیا،، “اللہ انکے دل میں رحم ڈال” عرش نے اللہ سے التجا کی گڑگڑا کر…محبت کی نہیں… رحم کی، نا کرے محبت. …، مگر یہ ظلم بھی نا کرے، یوں جان نکالنے ولی بات نا کرے، بس اللہ انکے دل میں رحم ڈالے،”
شاہ کا خاموش ہوگیا اپنی سنگین غلطی کے بعد،،،
_______
وہ آنکھوں میں قہر لیئے اسے دیکھنے لگی جو خود ابھی عرش کو ٹکر ٹکر دیکھے جا رہا تھا،
“آپکو اب ایک لفظ بولنے کی ضرورت نہیں شاہ ارسلان، میں ٹھیک ہوں” وہ بکھرے لہجے میں کہتی گئی، منہ پھیر لیا،، “اللہ انکے دل میں رحم ڈال” عرش نے اللہ سے التجا کی گڑگڑا کر…محبت کی نہیں… رحم کی، نا کرے محبت. …، مگر یہ ظلم بھی نا کرے، یوں جان نکالنے ولی بات نا کرے، بس اللہ انکے دل میں رحم ڈالے،”
شاہ کا خاموش ہوگیا اپنی سنگین غلطی کے بعد،،،
*****
وہ تیز تیز قدم بڑھاتی شاہ سے کئی قدم آگے تھے، گھر میں داخل ہوکر اس نے زور سے دروازہ بند کیا اور اوپر چلی گئی،نا شاہ سے اندر آنے کا کہا، نا ہی اس سے بات کی، جہاز کے بعد گاڑی میں بھی وہ منہ میں گنگھیا ڈالے بیٹھی رہی تھی، غصہ افسوس نجانے کیا کچھ…..
شاہ پیچھے سے پکارتا ہی رہ “عرش بات تو سنو….” مگر عرش نے نا سننی تھی نا اس نے سنی!
اندر بھی سب آوازیں دیتے رہ گئے، وہ ٹھک ٹھک کرتے اپنے کمرے میں چلی گئی،، شاہ اندر آیا تو نورینہ متوحش سی اس سے پوچھنے لگی،، کہ ہوا کیا ہے؟؟؟
“کچھ نہیں ہوا آنٹی بس ناراض ہوگئی ہے،” اسنے خجل ہوکر جواب دیا، نورینہ کے منہ سے بے اختیار “اوہ” نکلا
” کس بات پر؟” نورینہ بلا اختیار پوچھ بیٹھیں
“پتا نہیں، “بیوی ہے” بلاوجہ بھی ہوسکتی ہے ” شاہ نے جتاتے ساتھ ہی سر کو خم دیا، گویا سمجھا رہا ہو “میاں بیوی کا معاملہ ہے”
“پھر دیکھو بیٹا تم ہی اسے،” نورینہ سائڈ پہ ہوگئیں، گھڑوں پانی پڑ گیا تھا، کیا داماد ملا تھا، اف تمیز تو گویا چھوکر نا گزری تھی، ساس کے سامنے ہی جتا دیا “کہ آپکی بیٹی رونکھی ہے”
وہ سر ہلاتا اوپر چلا گیا۔
عرش مٹھیاں بھینچے بیڈ پر بیٹھی تھی، آنکھیں نم تھیں، جیسے ضبط کے مرحلے سے گزر رہی ہو،
“پیار کرتی ہوں، محبت کرتی ہوں، بیوی ہوں انکی، سوائے دل دکھانے کے اور کچھ نہیں آتا انہیں، جیسے مسلط کر دی گئیں ہوں ان پر،” عرش خود ترسی کا شکار ہوئی، سب پر غصہ آیا،
“عرش” شاہ نے گیٹ ناک کیا، وہ ٹھس بیٹھی رہی
“بجاتے رہیں،نوکر نہیں ہوں میں آپکی،”وہ دانت پسیجتے بیٹھی رہی، آنکھیں نم تھیں، محبوب شوہر کتنا ظالم تھا…
“دروازہ کھول رہی ہو؟ یا چلا جاؤں؟ ” بے نیاز سی اکتائی ہوئی آواز آئی۔ جیسے وہ بہت جلدی میں ہو،
“ایک منٹ سے بھی پہلے چلے جائیں،” عرش نے جل کر جواب دیا۔
“مرضی ہے” کہتے ساتھ ہی دستک رک گئی،، جاتے قدموں کی چانپ سنائی دی
عرش کو ڈھیر و ڈھیر رونا آیا،، ایک بار کہنے پر ہی شاہ چلا گیا،، ایسے ہی مردوں کے محبت کے دعوے پاش ہوتے ہیں، جب امتحان کا وقت آتا ہے، وہ ہاتھ کی پشت سے بہتے ہوئیے آنسو رگڑنے لگی، دوپٹہ اتار کر بیڈ پہ ڈال دیا ، اور لیٹ گئی۔ ابھی تو دو سالوں کیلئے صبر اکھٹا کرنا تھا…یہ تو چند لمحے تھے،
وہ کلستی رہی، خون جلاتی رہی، روتی رہی،
“کلک” کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا، سامنے شاہ کھڑا تھا جو اب مڑ کر گیٹ بند کر رہا تھا۔
عرش ایک دم اٹھی اور حواس باختہ ہوئی،
ہاتھ ایک دم دوپٹہ کی جانب گیا، (یہ ادب نہیں، شاہ کا ڈر تھا)
“گیٹ کیسے کھولا آپ نے؟”وہ اٹھ کر آگے آئی،
“ہر گھر کے گیٹ کی دو چابیاں ہوتی ہیں،ایک کمرے کے اندر ایک کہیں اور رکھی ہوئی،، نورینہ آنٹی سے مانگ کر لایا ہوں تمہارے لیئے” اب اسکے لہجے میں اکتاہٹ کا شائبہ تک نا تھا،،
“آپ گئے نہیں؟” عرش نے جتایا۔
“ایسے کیسے جاتا جب تم نے رونا ڈالا ہوا تھا” وہ ٹھنڈی سانس بھر کر کہنے لگا۔ ساتھ ہی عرش کے گیلے چہرے کی جانب اشارہ کیا۔
، “افف کیا سوچتے ہونگے میں مری جا رہی ہوں؟”
عرش شرمندہ ہوئی،
“اب کیوں رو رہی ہو؟ میں مذاق کر رہا تھا یار، بتا چکا ہوں، اب تو موڈ ٹھیک کرلو” شاہ نے اسکی آنکھوں میں جھانکا
“ایسے مذاق کیا جاتا ہے؟” عرش کو پھر سے تکلیف ہوئی
“کیسے؟”
“کسی کی جان نکال کر؟ تکلیف دے کر، اتنا فضول مذاق؟” عرش کا لہجہ نم ہوگیا
“کسی کی نہیں بیوی کی”شاہ نے لقمہ دیا وہ ابھی بھی غیر سنجیدہ تھا
” میں مذاق ہوں آپ کے لئیے؟” عرش نے سوال کیا
“تمہیں ایسا لگتا ہے؟”سوال کے جواب میں سوال!
“مجھے تو اور بھی بہت کچھ لگتا ہے” عرش نے سینے پر ہاتھ باندھے۔ تمسخر سے گویا ہوئی گویا مزہ چکھانے لگی ہو۔
“مثلا؟” شاہ نے مسکراہٹ دبائی
“مثلا یہی،کہ آپ کو مجھ سے پیار نہیں، اور وہ جو آپنے کسی زمانے میں، پسند بھی کیا تھا، وہ پسندیدگی بھی شاید ختم ہوچکی ہے، اب آپ مکمل طور پر بیزار ہیں، اس ارینج میرج سے؟” کن کانٹوں پر چل کر عرش نے یہ سب کہا تھا یہ عرش جانتی تھی یا اسکا دل! بحرحال سبق سبکھانا بھی مقصود تھا
“میں نے تمہیں پسند نہیں کیا تھا، میں تمہیں چاہنے لگا تھا عرش، بے حد اور بہت، تمہیں مجھے کچھ کہنا ہے کہہ لو، میری محبت کا مذاق اڑانے کی ضرورت نہیں” وہ بلبلا اٹھا تھا۔ اتنا بڑا الزام؟
“بالفرض اگر کیا بھی تھا تو مجھے لگتا ہے ، اب شاید وہ محبت ختم ہوچکی ہے، یا بیزار ہوگئے ہیں آپ، مجھ سے، آپکو اپنے مقابلے کی لائف پارٹنر کی ضرورت ہوگی، مجھ جیسی ڈفر اسٹوڈنٹ کی نہیں ” عرش بات نہیں کر رہی تھی زہر اگل رہی تھی، کم سے کم شاہ کو یہ زہر ہی لگ رہا تھا،، جو سنتے ہوئے بھی سماعتوں پر اپنا اثر چھوڑ رہا تھا…
” آئی ریپیٹ عرش، تمہیں میری محبت کا مذاق اڑانے کی ضرورت نہیں، مجھے تمہیں محبت یا یقین دلانے یا قسمیں کھانے کی ضرورت نہیں،نکاح والوں کے درمیان سب سے پاک اور بے غرض رشتہ ہوتا ہے، اگر کوئی جڑا رہتا ہے، تو یہی محبت ہے، ایثار ہے، عشق ہے، لفظی اظہار کی ضرورت باقی نہیں رہتی، تمہیں اس طرح بولنے کی ضرورت نہیں” اسکی روح پہ گھاو لگایا تھا عرش نے وہ تڑپ ہی تو گیا تھا،،
“احساس ہوا،؟” عرش کی ٹون بدلی، لہجہ بدلا
“کتنی تکلیف ہوتی ہے؟ جب محبت کا مذاق اڑتاہے؟ کتنا عزیز ہوتا ہے محبوب پتا چلا آپکو؟ میرے معاملے میں اتنے ہی ظالم ہیں آپ، ایسے ہی سنجیدہ نہیں لیتے آپ مجھے… اور میری محبت کو، کتنے آرام سے کہہ دیا، جن کے… شوہر مر جاتے ہونگے وہ کیسے رہ لیتی ہونگی،، میرے لئیے خود کو مار رہے، آپ، میں آپکو مر..سمجھوں اتنا دور ہورہے آپ” وہ سسک اٹھی، شاہ کی محبت پہ شک تو وہ مر کہ بھی نہیں کر سکتی تھی، بس اس بے حس کس احساس دلانا مقصود تھا…
شاہ کو افسوس ہوا، بے حد اور بہت ذیادہ، وہ جسے انڈرایسٹیمٹ کر رہا تھا، وہ اسی کے دماغ سے کھیل گئی تھی…….. اسی کے طریقے سے، شاہ نے ڈولتے دل کو سنبھالا
“آئم سوری” وہ آگے آیا، عرش کو کندھوں سے تھاما۔ عرش نے اس کے ہاتھ جھٹکے، “جائیں آپ ” وہ روتے ہوئے بولی۔
“ایسے کیسے چلا جاؤں؟ تمہیں پتا ہے نا بیوی کے معاملے میں، میں اللہ سے کتنا ڈرتا ہوں اسکے حق میں کوتاہی نہیں کر سکتا” وہ اسکا موڈ بہتر کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ اسکے جھٹکتے ہوئے ہاتھ تھامے۔
عرش نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا۔ اخیر ڈھیٹ انسان تھا وہ یا جان بوجھ کر بنتا تھا۔
“مارو گی کیا اب؟” اسکی خونخوار نگاہوں میں جھانکتے ہوئے شاہ نے بے اختیار جھرجھری لی۔
“جائیں آپ،” اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر عرش نے اسے دھکیلا مگر وہ ایک انچ بھی نا ہلا۔
مسکراتے ہوئے عرش کے ہاتھ دبوچے اور سینے ہر رکھ لئیے، اپنی گرفت مضبوط کرلی،
“آئندہ میری معصوم محبت کو بیچ میں نا لانا، مجھے بے شک کہہ لینا ” اسے تنبیہہ کی، کہ وہ آئندہ اسے دانستہ تکلیف نا دے
“مجھے بھی انڈراسٹیمنٹ کرنے کی ضرورت نہیں آپکو ورنہ مجھے سبق سکھانے آتا ہے “عرش کے بہتے آنسو تھمے۔ وہ اپنے ہاتھ چھڑانے لگی۔
“اونہوں” شاہ نے اسکی کوشش ناکام بنائی،
“نکالو گی نہیں سسرال سے؟”شاہ نے لب دانتوں میں دبایا اور مسکرایا
عرش اسکی مونچھیں دیکھنے لگی، واللہ کتنا پیارا لگتا تھا وہ….
وہ ایک ہاتھ چھڑا کر اسکی مونچھوں پر انگوٹھا پھیرا۔
“مجھے بہت پسند ہیں یہ، آپکو پتا ہے؟”وہ شریر ہوئی
” مطلب میں کلین شیو کروالوں اب؟” شاہ نے مونچھوں کو تاو دیا۔
“مجھے چڑانے کیلئے آپ یہ بھی کر سکتے ہیں؟” عرش جی جان سے جل گئی
“ہاں سب کچھ کر سکتا ہوں پر کلین شیو نہیں ہوسکتا” شاہ سر کو خم دے کر مسکرایا۔ وہ ہنس پڑی۔
****
قائداعظم کے چودہ نکات بھی کیا ہونگے جو شاہ ارسلان کے فرمودات تھے، عرش کو سمجھنے کے بعد ساری رات کال پر وہ اسے تسلیاں حوصلہ، امید دیتا رہا “دو سال ہی تو ہیں،چٹکیوں میں گزر جائیں گے”
“اپنا خیال رکھنا،کہیں گھومنے پھرنے نہیں جانا، “
“مجھے یاد کرنا، میرے لئیے الگ سے وقت نکالنا،”
” ہاں میں تمہیں روز کال کروں گا، اسکائپ پر بھی ویسے بھی،”
“ہاں میں کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھوں گا، ” یہ کہتے ہوئے وہ دل کھول کر ہنسا تھا
“ہاں میں خفیہ شادی بھی نہیں کروں گا،” شاہ کا ہنس ہنس کے برا حال تھا، مگر وہ عرش کے معصوم سے تحفظات دور کرنا چاہتا تھا۔
“اور بس پڑھائی اور پڑھائی پر ہی فوکس کریں گے” عرش نے آرڈر دیا
“ہاں بلکل تمہاری طرح” شاہ نے، لقمہ دیا
عرش موبائل کی اسکرین کو گھور کر رہ گئی،
گہری رات، محبوب من محرم شاہ کا ساتھ،اور لمبی کال،
عرش بیڈ پر کروٹ لے کر لیٹی ہوئی تھی، تکیہ سینے پر جکڑا ہوا تھا، رات کے چار بجے تاروں بھرا آسمان بھی رشک میں تھا۔
“مجھے یاد کریں گے” وہی عرش کی معصوم سی خواہش
“کروں گا”شاہ نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا مسکرایا…
“جلدی آجائیں گے؟” اسنے عہد لینا چاہا
“جلدی سے بھی جلدی، میری عرش” لہجہ محبت سے چور تھا…..
عہد پیمان، نصیحتیں، وعدے، محبت…اور محبت،،،،!!!!
نظر لگ جانے کی حد تک گہری، جیسی رات ویسی محبت اونہوں،،سیاہ گھنگھور نہیں، روشن اور اجلی، چمکتے چاند کی مانند..
