Shah Aur Zahra by Uzma Usman NovelR50705 Shah Aur Zahra (Episode 08)
Rate this Novel
Shah Aur Zahra (Episode 08)
Shah Aur Zahra by Uzma Usman
اسنے کانپتے ہاتھوں سے موبائل نکالا اور نمبر ملانے لگی۔ ہر نمبر ملانے کے بعد مٹا دیتی کراچی فون کرنے کی غلطی وہ کر نہیں سکتی تھی۔ “شاہ، شاہ ضرور آئے گا،
اسنے فون لسٹ میں سے شاہ کا نمبر نکالا اور موبائل کان سے لگایا۔ کال جا رہی تھی۔ اور ریسو بھی ہوگئی۔
“شاہ”..وہ روپڑی۔
“کیا ہوا میمونہ؟ تم رو کیوں رہی ہو، اور کہاں ہو تم دونوں ہم لوگ تو اتنا آگے آچکے ہیں تم ٹھیک ہو،عرش کہاں ہے؟ وہ ٹھیک ہے نا” دھک دھک ہوتے دل کے ساتھ وہ پوچھتا گیا۔
“عرش،عرش..گر گئی… شاہ.. وہ نیچے گر گئی،…پتھر پہ… نظر آرہی وہ..شاہ اسے..اسے بچا لو پلیز سب کو.. لیکر آو پلیز میرا دماغ کام نہیں کر رہا….” وہ ہچکیوں کے درمیان بولتی گئی۔
“کیا”شاہ کی آنکھیں پھٹ گئیں ارسل اور رافیل اسے تکنے لگے، کیا ہوا ہے؟ارسل نے پوچھا۔ “میری عرش زہرا وادی میں گر گئی” لمحوں میں آنکھیں لال انگارہ ہوئیں تھیں….موبائل جیب میں ڈالا اور الٹے راستے پر بھاگا۔
رافیل اور ارسل بھی اسکے پیچھے بھاگے۔ لمحوں میں سب کو خبر ہوچکی تھی۔
اور سب ہواس باختہ ہوکر بھاگے آئے تھے۔
“کہاں ہے وہ”شاہ نے روتی بلکتی میمونہ کو جھنجوڑ کے پوچھا۔
“وہاں..وہ.. اس پتھر… کے پیچھے… سے نظر آرہی ہ..ے..شا..ہ…وہ بے..ہوش ہے….پتا..نہیں..و..ہ..زندہ..بھی.. ہے..یا..نہیں.. “میمونہ سے بولا نہیں جارہا تھا۔ کچھ لڑکیاں اسے تسلی دینے لگیں..شاہ سب کو چھوڑ کر نیچے وادی میں اترنے لگا بیٹھ کر چل کر جیسے بھی۔
رافیل ارسل اور بھی چند مزید لڑکے جن کے دل میں انسانیت کا مادہ موجود تھا سب اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالے ہوئے تھے۔
شاہ جیسے تیسے کر کے نیچے اتر رہا تھا۔
“یااللہ میری عرش کو بچا لیں”..روم روم دعا گو تھا۔ آنسو تھے کہ گر رہے تھے….لب بھینچے ہوئے تھے۔
وہ ایک جگہ آکر رک گیا۔ اب مزید نیچے راستہ نہیں تھا۔ اوپر سب کا رش لگ گیا تھا۔ کسی نے انتظامیہ کا کال کردی تھی۔ کچھ مقامی افراد اسے نیچے سے اوپر آنے کا کہہ رہے تھے کچھ واپس بلا رہے تھے۔ مگر وہ سن تھا…اس پتھر کو دیکھ رہا تھا جو ابھی مزید بیس فٹ تک نیچے تھا….اور جانے کا ایک ہی راستہ تھا “چھلانگ” اور لمحوں میں اس نے اپنا بیلنس ٹھیک کیا اور..اور..چھلانگ لگا دی …یا جیئے یا مرے…..محبت کم نہیں تھی…بس اسکی خوشی عزیز تھی۔
وہ اس پتھر کے بلکل کنارے پر گرا تھا گھٹنوں کے بل…وہ کوئی فلم نہیں تھی کہ وہ چھلانگ لگا کر بلکل سہی سلامت اپنے پاؤں کے بل کھڑا ہوجاتا.. یہ حقیقت تھی…اسنے اندازے سے چھلانگ لگائی تھی…کی وہ اس بڑے سے پتھر جو کہ پہاڑ کا حصہ تھا اسکے وسط میں گرے گا…مگر وہ کنارے پر گرا تھا…اور اللہ نے اسے بچایا تھا. اتفاق اور خوش قسمتی تھی کہ وہ اس پتھر کو کراس کر کے نیچے وادی میں نہیں گر تھا ورنہ شاید……نا بچ پاتا…اسکا پاؤں مڑ گیا تھا اور جسم میں جھٹکا آیا تھا..وہ ہر چیز نظر انداز کئے آگے بڑھا اور عرش کے پاس آیا…وہ کچھ نہیں لگتی تھی اسکی…مگر اسکا سب کچھ تھی…وہ اسکے گال تھپتھپانے لگا تھا….اردگرد کہیں خون کا نام و نشان نہیں تھا..شاہ کو حوصلہ سا ہوا….وہ بے ہوش تھی اسکی سانسیں چل رہی تھیں ..شاہ نے اپنے دستانے اتارے اور گرم ہاتھ اسکے چہرے پر لگائے وہ کراہی..شاہ کا دل کیا وہ وہیں سجدہ ریز ہوجائے…اسکی عرش زہرا زندہ تھی…مگر حرکت نہیں کر پا رہی تھی ….وہ سیدھے بازو کے بل گری ہوئی تھی…غالبا اسنے اپنا سر بچانے اور دماغ کو چوٹ سے بچانے کیلئے اپنا سر اونچا کر لیا تھا گرتے وقت…اسی وجہ سے زندہ تھی…شاہ نے اسے اٹھانا چاہا..وہ کراہی تھی…غالبا اسکے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹی تھی…اور درد کی تاب نا لاتے ہوئے وہ بے ہوش ہوگئی تھی پھر سے شاہ کے آنسو اسکے چہرے پر گرنے لگے تھے… وہ اس پر جھکا اور…اور. رو دیا…ساری خلش جو اتنے عرصے سے دل جسم اور روح کو کھا رہی تھی اس خلش کو بہنے دیا….وہ یہ بھی نہیں سوچ رہا تھا کہ اب واپس کیسے جانا ہے اوپر کیسے جانا ہے…بس وہ رو رہا تھا..اسنے عرش کا سر اپنے گھٹنے پر رکھا۔ اور اپنی جیکٹ کی اندرونی جیب سے موبائل نکالا…ارسل کو کال لگائی…
“تم کسی کو نیچے سے بھیجو ارسل…عرش کا شاید ہاتھ ٹوٹ گیا ہے..وہ ٹھیک..ہے زندہ ہے مگر حرکت نہیں کر پا رہی…ہاں میں بھی ٹھیک ہوں..نہیں. نیچے نہیں گرا..وہ ہنس دیا…ہاں مجھے کچھ نہیں سوجھا … تم بھیجو کسی کو …ہاں کوئی بات نہیں لگ جائے ٹائم. . میں عرش کو ہوش میں لانے کی کوشش کرتا ہوں ” کال کاٹی اور اسنے بے ہوش پڑی عرش زہرا پر نگاہ جمائی…جو اسکے گھٹنے پر سر رکھے پڑی تھی…ہوش میں ہوتی تھی تو دیکھنے بھی نا دیتی تھی اور اب اتنے پاس تھی……”
اسکی ٹوپی ٹیڑھی ہوگئی تھی…شاہ نے اسکے سر پر ٹھیک سے جمائی…اور اسکے گال جو رگڑ کھا کے سرخ ہوگئے تھے چھل بھی گئے تھے ..وہ اسے دیکھنے لگا اور خود پیچھے ٹیک لگا لی….اسے جگانے لگا..ایک گھنٹہ لگا تھا..ریسکیو ٹیم اور انتظامیہ کو اوپر تک آنے میں اور کچھ مقامی لوگ جو ان پہاڑوں پر روز ہی چلا کرتے تھے وہ بھی ساتھ تھے…
________
میمونہ اور اسکی دوست عرش کو سہارا دے کر ہاسٹل لائیں تھیں۔ ابھی تک اسکے گھر والوں کو بتایا نہیں تھا۔ اور عرش نے بھی منع کردیا تھا۔ آٹھ گھنٹے لگے تھے اسے وہاں سے نکالنے میں پھر ہاسپٹل سے اسکے ہاتھ پر پلاستر ہوا تھا۔ اب بازو گردن سے بندھا ہوا تھا۔ پیشانی ایک طرف سے چھلی ہوئی تھی اور آنکھیں سرخ سوجی ہوئی۔ وہ ایک بازو اور پیشانی کے بل گری تھی مغز کو اسنے زمین پہ لگنے سے بچایا تھا جسکے سبب وہ زندہ تھی۔
انہوں نے اسے بیڈ پہ بٹھا دیا۔
“بابا کو کال مت کرنا پلیز” وہ رندھی آواز میں بولی۔
“عرش آج نہیں تو کل انہیں پتا لگنا ہی ہے، تم خود سوچو کتنا خفا ہونگے، کتنا دکھی ہونگے وہ انکی بیٹی نے اتنی بڑی بات ان سے چھپائی، میمونہ اسکے سامنے بیٹھ گئی۔
“مگر میں کیسے انہیں بتاؤں کہ میں موت کہ منہ سے بچ کر آئی ہوں؟..میں پہاڑ سے گری ہوں، پہاڑ سے،کتنی مشکلوں سے اجازت لے کر گئی تھی میں بابا سے…ماما نے مجھے کہا بھی تھا، اپنا خیال رکھنا موبائل اور سیلفیز میں مصروف ہوکر اپنی جان کومت بھول جانا..اب میں کیسے انہیں بتاؤں؟”
آنسو گرنے لگے۔
“میمونہ اٹھ کے اسکے پاس آبیٹھی اور اسکا سر اپنے کندھے سے لگا لیا..اسےسمجھانے لگی
“دروازہ ناک ہوا تھا۔
گیٹ پہ شاہ کھڑا تھا۔ نڈھال سا۔ سیاہ شلوار قمیض میں پاؤں پہ بندھی بینڈیج چھپی ہوئی تھی۔
“یہ انکی میڈیسن اور کچھ فروٹ وغیرہ ہیں، ویکنس نا ہونے پائے، اور ایکسرسائز کا کہا ہے ڈاکٹر نے،” شاہ نے شاپر میمونہ کو پکڑایا۔
“اندر آو، کافی پی کر چلے جانا،” میمونہ نے راستہ دیا۔
نہیں میں گھر جاؤں گا کچھ دن، تم عرش کا خیال رکھنا،” شاہ نے سر بائیں جانب ہلایا۔
“مل تو لو، روئے جا رہی ہے بس وہ نا گھر پر بتانے پر آمادہ ہورہی ہے،” میمونہ نے شاہ کی آنکھوں میں چھایا حزن دیکھا پھر ابرو سے اندر کی جانب اشارہ کیا۔
“ہوں” شاہ اندر داخل ہوگیا۔
وہ گھٹنوں میں سر دئیے کمبل اپنے گرد لپیٹے بیٹھی تھی۔
“ٹھیک ہوجاؤ گی تم عرش” وہ بیڈ کے کنارے ٹک کے کھڑا ہوگیا۔
عرش کا سر مزید جھک گیا پتہ نہیں ندامت سے یا افسوس سے…
“اپنے بازو کی ایکسرسائز کرتی رہنا اور کھانے پینے کا خیال رکھنا، اور رونا مت،” وہ اسکے جھکے سر کو دیکھتے ذرا سا مسکرایا۔
“آپ نے میری خاطر خود کو خطرے میں کیوں ڈالا شاہ؟” جھکا ہوا سر اٹھا کر اسنے بازو پہ چہرہ جمایا آنکھوں میں آنسو..
“میں نے خود کو خطرے میں نہیں ڈالا عرش بلکہ “اپنی” ہی جان بچائی، تھوڑا خودغرض ہوں میں” وہ مسکرایا۔
عرش کی گردن میں ابھر کر معدوم ہوتی گلٹی واضع دکھائی دی۔
“آپکے گھٹنے کی چوٹ کیسی ہے؟” اسے کچھ اور سمجھ نا آیا۔
“اچھی ہے بہت” بڑے دل سے جواب دیا ظالم محبووب نے حال درفیات کیا تھا۔
“چوٹ ہے یا آپکی عزیز جو “اچھی” ہے؟” وہ مسکرائی۔
“اب تو عزیز ہی ہے بہت” دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے۔
“تم اپنی فیملی کو انفارم کردو عرش، گھر چلی جاؤ، کچھ دن آرام کرو، اپنا خیال رکھو، میں بھی گھر جا رہا ہوں، امی کو بتا دیا تھا وہ رو رو کے ہلکان ہیں انکا بس نہیں چل رہا کہ وہ یہاں آکر خود لے جاتیں مجھے، تسلی کروانے کیلئے جارہا ہوں کہ میں ٹھیک ہوں ” وہ ہلکے سے مسکرایا۔
“کرتی ہوں”
“گڈ گرل ہوں انفارم” وہ مسکرایا اور چلا گیا۔
عرش نے پھر سے گھٹنوں میں سر رکھا چند لمحے سوچتی رہی پھر سے پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔
پتا نہیں درد کی وجہ سے… یا امی ابو کو بتا کر متوقع پریشانی کا سوچ کر…شاہ کیلئے بولے گئے پہلے الفاظ پر ندامت تھی..یا اب ہونے والی “مدد” اور “ہمدردی” پر شرمندگی، یا خیال رکھنے پر مشکور…وہ خود سمجھ نہیں پا رہی تھی
*****
“سرور خان مٹھیاں بھینچے آنکھوں میں نمی لئیے بیٹھے تھے۔ پاس نورینہ بیگم بیٹھی پھوٹ پھوٹ کے رو رہی تھیں، اور سرور خان کو کوس رہی تھیں۔ جنہوں نے عرش جیسی لابالی اور بیوقوف لڑکی کو اتنا دور پڑھنے کیلئے بھیجا سو بھیجا اس بے وقوف کی باتوں میں آکر اسے مری تک بھیج دیا۔
“پتا نہیں کتنا لگا ہوگا اسے لے آئیں سرور خان، میری بچی کو لے آئیں پلیز، مجھے نہیں پڑھانا اسے، میری بچی کی زندگی اسکے کرئیر سے زیادہ اہم ہے، اسے لے آئیں پلیز” وہ بلک رہی تھیں، عرش نے ایک گھنٹہ قبل انہیں کال کی تھی، اور کچھ بتانے کے بجائے رونے لگی تھی، ساری بات میمونہ نے بتائی اور شاہ کا ذکر بھی کردیا کہ۔
کس طرح اس نے اپنی جان کی پرواہ کئیے بغیر اتنئ اونچائی سے نا صرف چھلانگ لگائی، بلکہ عرش کو سہی سلامت واپس لے آیا، اور اسے ہاسپٹلائز کیا..،،
“اللہ بھلا کرے اس بچے کا، جس نے اسے وہاں سے نکالا اور لے کر آیا ورنہ میری بچی…، وہ منہ پہ دونوں ہاتھ ڈھکے رونے لگیں۔ اریب اور اظہر بھی سہمے ہوئے بیٹھے تھے انکی آپی پہاڑی سے گر گئیں تھیں۔
دادی کے ہاتھ میں تسبیح تھی۔
“اب بس کرو ٹھیک ہے وہ کچھ نہیں ہوگا اسے، ایک میں پریشان ہوں اوپر سے تم نے واویلے مچائے ہوئے۔ “
سرور خان کی آدھے گھنٹے بعد میں اسلام آباد کی فلائٹ تھی اور وہ یہ وقت کانٹوں پہ گزار رہے تھے،
*****
وہ عرش کو گھر لے آئے
نڈھال سی سرور خان کے بازو میں تقریبا جھولتی ہوئی ہاتھ میں چڑھا پلستر اور گردن سے لٹکا ہوا بازو، چہرے پہ جابجا خراشیں، اور چال میں لڑکھڑاہٹ..
سلکی بال کھلے ہوئے تھے کندھے پر بکھرے ہوئے۔ سر پہ وہی ٹوپی تھی کانوں کو ڈھکے ہوئے.. یہ شاہ نے وہاں سے اٹھا لی تھی اور اپنی جیب میں ڈال لی تھی بعد میں اسے دے دی تھی۔ اس پہ کتنی اچھی لگتی تھی۔ یہ کریم کلر کی ٹوپی جس پہ گیند لڑکھتی تھی ذرا سا سر ہلاتی اور وہ گیند یہاں سے وہاں گرنے لگتی۔
“عرش کیا حال ہوگیا تمہارا” نورینہ بیگم نے روتے ہوئے اسے تھاما۔
سرور خان اندر چلے گئے ان سے دیکھا نہیں جا رہا تھا۔
“میں ٹھیک ہوں امی” وہ بدقت مسکرائی۔
“کتنا منع کرتی تھی میں عرش نا جاو..صرف اسی ڈر سے..مجھے پتا تھا میں ماں ہوں نا…اولاد کو جانتی ہوں..میری اولاد موبائل میں اور اپنی مستی میں اپنی جان کا بھی خیال نہیں کرے گی..اسی لئیے منع کرتی تھی..عرش میں تمہارا کیا کروں” وہ اسے چھونے لگیں..رونے لگیں۔
“وہ لڑکا کون تھا؟ فرشتہ؟ کلاس فیلو؟ یا کوئی اور؟ اسے بلاو یہاں میں شکریہ ادا کروں اسکا…اسے بتاؤں کہ اس نے مجھ پر کتنا بڑا احسان کیا ہے..اسنے انسانیت کیلئے اپنی جان تم خطرے میں ڈال دے..ایسا فلاحی جذبہ اس میں کہاں سے آیا تھا؟ اللہ نے تمہیں بچانے کیلئے فرشتہ تو نہیں بھیجا تھا؟” وہ روتے ہوئے بول رہیں تھیں۔
عرش سناٹے میں آگئی
اس لمحے اسے ادراک ہوا تھا کہ اسنے شاہ کو شکریہ تک نہیں کہا تھا…نا پہلے نا اب..
اس کی وجہ سے وہ اے پلس لائی (یہ تو ابھی امی کو پتا نہیں تھا) اسی کی وجہ سے وہ مرتے مرتے بچی.. مگر عرش نے اسے تھینک یو تک نہیں کہا..کیوں؟ کیا وہ یہ اسکا حق سمجھی تھی؟ مگر کیسا حق؟ کیا فرض؟ اسے بے اختیار وہ الفاظ یاد آئے “نظرباز” “سستا استاد” اور نجانے کیا کیا
اسے رونا آیا پھر سے
_________
“مجھے اس سے ملوانے لے جاو شاہ” انساء بیگم کچن سے پاستا باول اٹھا کر کمرے میں آئیں۔
“وہ آپکو نہیں جانتی امی” صوفے پہ پاؤں پسارے چینل سرچنگ کرتے شاہ نے تاسف سر ہلایا۔
“تمہیں تو جانتی ہے نا؟ساتھ پڑھتے ہو تم، میں اسی بہانے اسے دیکھ بھی لوں گی،اور عیادت بھی کر آؤں گی، میں اسکے ماں باپ کی رائے بھی دیکھنا چاہتی ہوں شاہ” انساء بیگم پاس بیٹھتے ہوئے ایپرن کھولنے لگیں۔
“امی آپ اتنا کچھ سوچ چکی ہیں،وہ اور اسکے گھر والوں کو کچھ بھی نہیں پتا، میں نے صرف اس کی دوست کے ذریعے عرش کی رائے لینا چاہی تھی تو وہ،وہ تب سے مجھے دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی تھی” شاہ نے ماں کو حقیقت کی دنیا میں لانا چاہا۔
“شاہ وہ برگشتہ ہوگی، تم بتاتے رہے ہو مجھے، وہ نادان ہے کم عقل ہے، اسی لئیے اچھے برے کا فرق نہیں پتا اسے، تم بس لے جاو مجھے، بھلا میرے اتنے خوبرو بیٹے کو بھی کوئی لڑکی انکار کر سکتی ہے،غلط فہمی ہوئی ہوگی اسے یا تمہیں” انہوں نے پیار سے اسکے بال سنوارے اور محبت پاش نظروں سے دیکھنے لگیں۔
“یہ آپکی ممتا ہے امی، سچ تو بہت کڑوا ہوتا ہے” شاہ نے انکا ہاتھ تھام کر ہونٹوں سے لگا کر مسکرایا
“ماں کی ممتا سے ذیادہ سچا تو کچھ بھی نہیں ہے شاہ، ماں سے ذیادہ اولاد کو کوئی نہیں جانتا اولاد کی برائی بھی، اچھائی بھی، ماں بہتر جانتی ہے”
اسے لگا اس بحث میں وہ امی سے ہار جائے گا، شاہ کو لگا شاید امی ان ماؤوں میں سے تھیں جو اولاد کے بارے میں کچھ بھی منفی بات سن نہیں سکتیں۔
****
عرش کے کمرے کی بتیاں گل تھیں۔ مغرب کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ وہ گھٹنوں میں منہ دئیے بیٹھی تھی۔ ہاتھ ہنوز گردن سے لٹکا ہوا تھا،البتہ چہرے پر سوجن اور نشانات میں کمی تھی۔
“عرش بیٹا اذان ہونے والی ہے کیوں اتنا سناٹا اور اندھیرا کیا ہوا کمرے میں”
نورینہ بیگم کمرے میں آئیں، اور سوکٹ پہ ہاتھ مارا ساری لائٹس روشن ہوگئیں عرش نے آنکھیں مذید بھینچ لیں جیسے اس روشنی سے بھاگ جانا چاہتی ہو
“کیا ہو بیٹا بخار ہے کیا” وہی ماؤوں کی ازلی فکرمندی۔
“نہیں امی میں ٹھیک ہوں” بازو پہ گال ٹکایا
“بیٹا میں نے تم سے کہا تھا اس لڑکے کو کھانے پہ بلا لو تمہارے بابا اور میں ملنا چاہتے ہیں اس سے کم سے ایک “تھینک یو” ڈنر یا لنچ ہونا چاہئے، میں دیکھنا چاہتی ہوں اسے، ملنا چاہتی ہوں”
عرش کو وہ لنچ پارٹی یاد آئی جس میں اس نے انواع اقسام کھانوں سے میمونہ اور شاہ کی دعوت کی تھی ایک خوشگوار ماحول میں کھائی گئی وہ تھینک یو پارٹی یا ٹریٹ، کتنی حیرت ہوئی تھی اسے جب اسنے عرش کو یہ سب کرتے دیکھا تھا، اور جب انہیں پتا لگا کہ سب باہر کا ہے…تو انہوں نے کتنا مذاق بنایا تھا اسکا۔ مگر تب وہ بس ایگزام سے فارغ ہوئی تھی، جو کہ بہت اچھے ہوئے تھے، ایگزام کا اور اے پلس کا تھینکس بھی ابھی باقی تھا۔
“میں کہہ دوں گی تھینکس ، آپ فکر نہیں کریں، اتنے مینرز ہیں مجھ میں، اور بھی بہت احسانات باقی ہیں” آخری جملہ منہ میں بڑبڑائی۔
“میں تم سے کہہ رہی ہوں اسے یہاں بلواو، آخر کون تھا وہ جو اتنی اونچائی سے سپر مین کی طرح تمہارے لئیے اوپر سے کود گیا، اپنی “جان” کی پرواہ کئیے بغیر، یہاں تو مرتے ہوئے سگے یا عزیز کو لوگ خطرے سے نکالنے نہیں جاتے مبادا کہیں ہمیں نا کچھ ہوجائے اور وہ..وہ اتنا کچھ “کر” گیا تو “اور بھی” کچھ “کرنا” چاہتا ہوگا تمہارے لئے عرش، جسکے لئیے اپنی جان اہم نا رہی تمہارے لئیے وہ انسان کتنا مخلص ہوگا.. بغیر وجہ کے یہاں پتہ بھی نہیں ہلتا” نورینہ بیگم اسکے اوپر غرائی تھیں۔
عرش سن رہ گئی جو بات وہ اتنے عرصے میں نہیں سمجھ پائی تھی یا سمجھنا نہیں چاہتی تھی امی دو دن میں سمجھ گئیں تھیں وہ کچھ بولنے کی پوزیشن میں ہی نا رہی۔
“مم..میں میمونہ سے کہوں گی، یا اس سے نمبر لے کر آپ کو دوں گی آ..آپ بات کرلیجئے گا” عرش نے بمشکل تھوک نگلا
“ہوں..ذرا جلدی ہوجانا چاہئے یہ کام” وہ اٹھ گئیں
“اب لیٹ جاؤ کمر اکڑ جائے گی اس طرح بیٹھ بیٹھ کر، میری میمونہ سے بھی بات کروانا، بھلی بچی ہے، میری عرش کا اتنا خیال رکھا، اسے بھی ساتھ ہی انوائیٹ کردوں گی، اسکی ماما کو بھی تاکہ انہیں پرابلم نا ہو” وہ جاتے ہوئے اسے ہدایات کرگئیں۔ گیٹ لاک ہوا تھا۔
عرش نے گھٹنوں پہ سر رکھا پلاستر والے بازو کو گود میں کیا اور ایک ہاتھ گھٹنے کے گرد لپیٹ کر گھٹنوں میں سر دے دیا۔ اسے رونا آیا تھا بے حد بے تحاشا۔
کتنے برے القابات استمعال کئیے تھے اس نے شاہ کیلئے۔ کتنا خیال رکھا کرتا تھا وہ ، اسے پڑھاتے ہوئے وہ کس طرح رک کے اسے دیکھنے لگتا، رک جاتا…کھو جاتا…اتنا کہ عرش کو چٹکی بجا کر اسے ہوش کی دنیا میں لانا پڑتا، وہ مسکرا کر جھک جاتا آنکھیں نیچے کرلیتا…
