Shah Aur Zahra by Uzma Usman NovelR50705 Shah Aur Zahra (Episode 05,06)
Rate this Novel
Shah Aur Zahra (Episode 05,06)
Shah Aur Zahra by Uzma Usman
عرش زہرا نے اپنی ٹوپی ڈھونڈی اسے پہن کر کانوں تک کھینچی دائیں بائیں سر ہلایا شرارت سے مسکرائی۔
کوٹ جسم پہ ڈالا بٹن بند کئیے اور سوئچ کی جانب جاکر فل اسپیڈ سے پنکھا چلا دیا۔
میمونہ نے جو کمبل کے سہارے ہی زندہ تھی اور جسم پہ سوائے دوپٹے کے کسی چیز کا تکلف نہیں کیا تھا بڑی طرح سے ٹھٹھرنے لگی۔
“ظالم پنکھا بند کرو زہرا، یہ کیا مذاق ہے میں مر جاؤں گی؟” وہ جو چیز ہاتھ میں آتی اٹھا کے زہرا کے جانب پھینکنے لگی۔
تکیہ بیڈ شیٹ گول مول کر کے زہرا کی جانب پھینکے اور مجبورا ٹھنڈے فرش پہ پاؤں رکھے اور سوئچ بند کیا عرش کے پیچھے بھاگتی تو وہ یہاں سے وہاں پھدک جاتی۔
“زہرا کی بچی تم بچ جاؤ آج مجھ سے” میمونہ دانت پیستی اسکے پیچھے لگی
زہرا ہنستے ہوئے مرنے والی ہوگئی بیڈ پہ چڑھ گئی اور تکیہ کو اپنی حفاظت کے لئیے ڈھال بنا لیا میمونہ بھی بیڈ پہ چڑھ گئی اور اسکا تکیہ چھین کے نیچے پھینکا۔ زہرا دوسرا تکیہ اٹھانے جھکی۔
میمونہ نے بھی وہی تکیہ تھاما۔ دونوں کی گرفت مضبوط تھی تکیہ تاب نا لاتے ہوئے پھٹ گیا اور سفید برف کی رنگت جیسی روئی باہر ابل آئی۔ میمونہ بھی ہنسنے لگی وہ دونوں ایک دوسرے کو اور تکیے کو دیکھ کر ہنسنے لگیں پھر زہرا نے ساری روئی ہوا میں اچھال دی
میمونہ بھی بیڈ پہ اچھلنے لگی اور زہرا بھی جمپنگ کرنے لگی بے ساختہ اور بے وجہ کی ہنسی سفید برف کی رنگت والی روئی ان کے اوپر گر رہی تھی یہاں وہاں پھیل رہی تھی۔ ایک اور تکیہ بھی زہرا نے کھول کے اڑا دیا۔
“انسان بنو زہرا ہاسٹل والے نکال دیں گے” میمونہ کمرے کا حال دیکھ کے متوحش تھی۔ اور ہنسنے لگی تھی
“نکالتے ہیں تو نکال دیں “دو تکیے پھاڑنے کے جرم میں، جان چھوٹ جائے گی میری اس پڑھائی سے”
کیسی شاپنگ کہاں کی شاپنگ آوٹنگ وہ سب بھول گئی تھی۔
*******
شاہ گھر آگیا تھا۔
دادی جان تھیں کہ لمحے کیلئے نظروں سے اوجھل نا ہونے دیتیں، ہزار قسم کے سوالات اور جانچتی پرکھتی نگاہوں سے اسے دیکھتیں “کہیں ذیادہ بولنے تو نہیں لگا؟، پتلا دبلا تو نہیں ہوگیا؟، تسلی کر لینے کے بعد وہ مطمئن ہوجاتیں صدقے واری جانے لگتیں۔
شاہ ہمیشہ کی طرح پہلے دادی کے کمرے میں کمرے میں آیا تھا وہ چشمہ لگائے پلنگ پہ انہماک سے کسی کتاب کے مطالعے میں مصروف تھیں
وہ ابھی بھی ایسی ہی تھیں چست چاک و چوبند چہرے پہ اتنی جھریاں بھی نہیں تھیں جتنی عموما اس عمر میں دادیوں اور نانیوں کے چہرے پہ نمودار ہوجاتی ہیں…
“اسلام علیکم دادی جان”وہ سلام کر پیار لینے کے لیئے جھکا۔
“وعلیکم سلام جیتے رہو خوش رہو آباد رہو میرا بیٹا”
وہ کھل سی گئیں آج بھی اتنا ہی پیارا تھا ہر بار اسکے آنے پر ایسے ہی کھل جایا کرتی تھیں۔
“کیسی ہیں دادی جان” شاہ نے انہیں دبوچا ماتھے پہ بوسا دیا
دادی چھپ سی گئیں کیا کڑیل جسم تھا انکے شہزادے کا گرفت اتنی قوی۔
روشن چہرہ اس پر گھنی موچھیں۔
دادی نے اسے خود سے دور کیا اور شکوہ کناں نظروں سے دیکھنے لگیں۔
“اپنے آپ کو دیکھو اور مجھ دھان پان سے جان کو، کیا دم نکالنا ہے دادی کا”
“اللہ نا کرے دادی اور کس نے کہہ دیا آپ دھان پان سی ہیں ابھی بھی ماشااللہ سے فٹ اور ایکٹیو ہیں امی جان سے زیادہ” وہ انکے گھٹنے پہ سر رکھے لیٹ گیا جان بوجھ سے متنازع موضوع چھیڑا۔
“ہنہ بیٹا جان کو “ہلانا” پڑتا ہے یہ نہیں بندہ مشینوں اور ملازموں پہ ہی انحصار کرتا رہے” وہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگیں۔
شاہ آنکھیں موندے لیٹ گیا۔
“تمہاری ماں تمہاری ہاؤس جاب کے بعد تمہاری شادی کا کہہ رہی ہے” دادی نے اسکی سماعتوں میں نئی بات ڈالی۔
وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔
“کیا؟”
“ہاں نا ” وہ مطمئن تھیں.
“اچھا ہے نا کوئی تو میرے پوتے کا ہاتھ بٹائے، کوئی ڈاکٹر انجینئر آکر اس خاندان میں چار چاند لگائے”
“مگر دادی مجھے ابھی شادی نہیں کرنی” وہ متوحش ہوگیا دادی کے ارادے سن کر انہیں کیا پتا وہ آرٹس کی نالائق اسٹوڈنٹ کو اس گھر میں لانا چاہتا تھا۔
“میری ترجیحات میں ابھی کہیں شادی کا نمبر نہیں ہے” آنکھوں کے سامنے زہرا کا سراپا لہرایا تھا دل لرزا تھا کہیں ان سب نے لڑکی نا فائنل کرلی ہو
وہ سوفٹی پاوں میں اڑستے امی کے پاس گیا۔
******
“امی میں یہ کیا سن رہا ہوں” سلام دعا کے بعد اصل مدعا پہ آیا۔
“کیا سنا ہے؟”
“آپ میری شادی کردینا چاہتی ہیں؟ ہاؤس جاب کے بعد؟”
“تو بیٹا اس میں حرج ہی کیا ہے؟ آپکی دادی جان نے آپکی زبان بند کی سو کی، اسکے بعد خود بھی گفتگو سے بیزار ہوئیں ہر وقت کمرہ بند کئے ذکر و اذکار میں مصروف، بابا آپکے ڈاکٹر جن کی زندگی کی اولین ترجیح انکا پیشہ ہے اور آپ سدھار گئے ہاسٹل میں یہاں کس جرم میں تنہائی کاٹوں؟”
انہوں نے شاہ کا ہاتھ اپنےگھٹنے سے ہٹایا۔
“اور کس سے کریں گی آپ میری شادی؟ شاہ نے بمشکل تھوک نگلا تھا۔
انساء بیگم مسکرائیں
“بیٹا یہ کام تو آپکی ماں خود سرانجام دے گی” ورنہ آپکی دادی کا پورا پلان ہے ایک ڈاکٹر یا انجینئر لڑکی اس گھر میں لانے کا، جس سے بات کرنے کیلئے ہم ترسا کریں گے اور وہ محترمہ یہ جا وہ جا کہاں کی محفلیں کہاں کی رونق ایک اور خاموش فرد کا اضافہ اس گھر میں، اور ایسا میں ہونے نہیں دونگی”
“تو آپ نے لڑکی فائنل نہیں کہ آئم رائٹ؟ شاہ نے دھک دھک کرتے دل کے ساتھ پوچھا تھا۔
“نہیں کی فائنل مگر جلد ہی کرلوں گی” وہ مسکرائیں۔
“اور کیسی لڑکی؟ لگے ہاتھوں ماں کی پسند جاننی چاہی۔
“لڑکی تو ہوگی کوئی من موہنی سی جسکی میٹھی میٹھی باتیں ہونگی۔ جو میرے ساتھ مل کر کھانا پکائے، میرے سر میں تیل ڈالے یہاں گھر میں رہ کر تمہارا انتظار کرے میرے پاس آکر بیٹھے میری تنہائی دور کرے” امی آبدیدہ ہوگئیں
“شاہ ہنس دیا سر دائیں جانب جھٹک کے (شکر)
“اگر ایسی لڑکی میں آپکو خود لا کر دوں امی تو آپ وعدہ کریں امی آپ اپنے بیٹے کو غلط نہیں سمجھیں گی اور میری پسند پہ بھروسہ کریں گی ” وہ بولتی مینا آنکھوں کے سامنے اپنی پٹ پٹ کرتی آنکھوں کے ساتھ براجمان تھی۔
انساء بیگم کی آنکھیں پھٹ سی گئیں گوکہ انہیں شاہ سے اس قسم کی بات کی امید نہیں تھی مگر انہیں اپنے بیٹے پہ پورا بھروسہ تھا اسکی روشن آنکھیں اسکی پاکیزگی کی گواہ تھیں۔ اگر اس نے اپنے لئیے لائف پارٹنر پسند کی تھی تو انہیں کوئی اعتراض نا تھا وہ جابر ماں نہیں تھیں۔
“مجھے اپنے بیٹے پہ پورا بھروسہ ہے” انہوں نے اسکا سر چوما۔
“میں آپکو چلتی پھرتی بولتی ہوئی گڑیا لا کردوں گا امی من موہنی سی” وہ شرارت سے مسکرایا تھا۔
“شاہ” انساء بیگم اسے آنکھیں دکھانے لگیں۔
“اف امی ” شاہ نے سر دائیں جانب جھٹکا پھر ہنس دیا
“دادی سے پہلا اختلاف وہ بھی لڑکی کےمعاملے میں یا اللہ آسانی کر” شاہ نے بیئرڈ میں انگلی گھماتے دعا کی تھی
_______
عرش زہرا گھر نہیں آئی تھی گویا “چھوٹ کے آئی”تھی کہیں سے..
پچھلے ریکارڈ توڑے تھے اس نے سستی کے آرام کے اور اینجوائے کرنے کے
امی اور ابو بھی حیران تھے جب وہ گھر آئی تھی۔
اسلام علیکم امی ابو” تایا ابو کی ہمراہی میں وہ گھر میں داخل ہوئی تھی۔
بیگ صوفے پہ ڈالا اور امی کو دبوچ لیا
“میری بچی میری گڑیا میری عرش” امی نے چٹا چٹ اسے چوم لیا۔
“پیپر کیسے ہوئے” اسے بازو سے پکڑ کے ساتھ بٹھایا۔
“بہت اچھے، اچھے سے بھی ذیادہ اچھے” وہ پورے اعتماد سے بولی تھی آنکھوں میں گویا قندیل روشن تھے..
وہ خود بھی خوش تھی جیسے پہلی بار…
“ماشاللہ اللہ رزلٹ بھی اچھا لائے” انہوں نے اسے خود سے لگایا۔ وہ حیران تھیں ورنہ پہلے وہ جب بھی پیپر دے کر آتی تو پہلے سے ہی کہہ دیتی “کلئیر ہونے کا بھی چانس نہیں ہے امی یاد ہی نہیں آرہا تھا کچھ” وہ انکی گود میں لیٹ جاتی وہ باتیں سنائیں جاتیں وہ کان لپیٹے پڑی رہتی۔
وہ ماں تھیں انہوں نے مثبت تبدیلی نوٹ کی تھی وہ خوش تھیں۔
“کیسے ہیں بابا” وہ امی سے مل کر ابو کے پاس آئی۔
“ٹھیک ہوں خوش ہوں بہت کہ میری بیٹی بہت اچھے پیپر دے کر آئی ہے میری بات مانی میری لاج رکھی میری خوشی کا احترام کیا”سرور خان نے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرا وہ انکے بازو سے لگ گئی۔
“میرے بابا نے کہا تھا کیسے نا مانتی بھلا..عرش کی مجال اتنی..” (ہاں بھئی اللہ نے موقع دیا تھا کیوں نا شو خیاں مارتی؟)
تائی اماں اسکے لئیے کیا کچھ لے آئیں تھیں وہ ان سے تپاک سے ملی۔
تایا ابو اسے سارے راستے سنتے آئے تھے اسکے قصے کہانیاں…
“امی پتا ہے مجھے اتنی اچھی دوست ملی ہے میمونہ علی وہ اسلام آباد کی رہنے والی ہے امی..اتنی پیاری ہے نا وہ..اس ہی نے میرے تیاری کروائی…میرا خیال رکھا..یہاں تک کے مجھے کھانا تک پکا کے دیا ہے..اور تو اور اتنے کم ٹائم میں مجھے تیاری بھی کروائی…” وہ شاہ کا ذکر گول کر گئی۔
“ہماری بیٹی ہے ہی اتنی اچھی تو اسے اچھے لوگ ہی ملے..” دادی جان بھی لاؤنج میں لاٹھی ٹیکتے تشریف لائیں تھیں۔
سرور خان اور اسفرخان انہیں تھامنے کیلئے آگے بڑھے تھے دونوں بہووں پہ بھی متفکر ہوگئیں ..اتنی سردی میں تو ضرورت کے تحت بھی کمرے سے نا نکلا کرتی تھیں اب وہ بلا وجہ نکل آئیں تھیں.
“امی آپ ہمیں بلوا لیتیں ہم آجاتے کمرے میں” تائی اماں انہیں صوفے پہ بٹھاتے ہوئے بولیں۔
“نہیں میری عرش آئی ہے اسلئیے میرا دل کیا میں خود جاوں تھوڑے پاؤں بھی رواں ہوجائیں” وہ عرش کو پیار سے دیکھنے لگیں۔
عرش انکے برابر آ بیٹھی۔
جیسے وہ دو ڈھائی ماہ بعد نہیں دو ڈھائی سالوں بعد گھر آئی ہو..
“اوہ میری دادی” اس نے چٹا چٹ دادی کو چوما
“ہٹو پڑے یہ تمہارے چپکنے کی بیماری گئی نہیں ابھی کب سدھرو گی” دادی نے اسے دور ہٹایا..
“کبھی بھی نہیں سدھروں گی، اور اتنی پیاری عادت ہے نا چپکنے کی” وہ دوبارہ دادی کا جپھی ڈالنے لگی۔
” یہ شادی کے بعد سدھرے گی اماں، اپنی ساس کو جھپیاں ڈالے گی اور باتیں سنے گی تب” تائی اماں نے ہنستے ہوئے لقمہ دیا۔
“میں تب بھی نہیں سدھروں گی انہیں بھی زچ کرتی رہوں گی اسی لئیے مجھے خود سے دور کرنے کا پروگرام بنائیے گا بھی مت” وہ جیسے چٹخارہ لے کر بولی
امی اسے آنکھیں دکھانے لگیں تھیں غضب خدا کا سرور خان اسفر خان بیٹھے تھے اور اس لڑکی کی گز بھر کی زبان….
“بیٹا یہ آپ کو جب پہلی جھڑکی ملے گی نا تب ہی سارے ششکے دور ہوجائیں گے، ساس تو چلو اگر اماں جیسی ہوئی تو خیر ہے..شوہر اگر سخت مزاج نکلا تب پوچھوں گی” ٹائی اماں فل موڈ میں تھیں۔ اسکی دوست بھی تھیں تائی اماں بھی..
“میں اسے بھی جھپی ڈال دوں گی تائی اماں پھر بولتا رہے” وہ بنا سوچے سمجھے بولتی گئی ہمیشہ کی طرح۔
امی کو جوتی کی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑاتے دیکھ کر عرش زہرا نے زبان دانتوں میں دابی تھی۔
دادی غصے سے اسے دیکھ رہی تھی تائی اماں منہ کے آگے میگزین کر کے ہنسے جارہیں تھیں۔
اسفر اور سرور خان لبوں میں ہنسی روکے ہوئے تھے
“ٹہر جاو تم زہرا تمہیں تو میں جپھی ڈالتی ہوں” امی جوتی اٹھائے اسکی طرف لپکی تھیں
وہ صوفے کے پیچھے امی اس کے پیچھے
“اللہ کوئی بچاو مجھے دادی، ابو تایا ابو اپنی بھابی کو دیکھیں” وہ یہاں سے وہاں گھومتی جا رہی تھی منہ پہ بیچارگی چھائی ہوئی تھی۔ سب کے قہقہے آسمان کو چھو رہے تھے۔
اسکے آتے ہی لاؤنج پھر سے آباد ہوا تھا۔
*******
وہ دسمبر کی بہت ٹھنڈی رات تھی۔
گلیاں روڈ گویا سنسان پڑے تھے..آسمان پہ دھند کے گولے سے اڑتے دکھائی دیتے۔
کالا سیاہ آسمان سارے ٹھنڈے دھوئیں خود میں اتار رہا تھا..
لوگ گھروں میں دبکے ہیٹر کی گرمائش میں کمرے بند کئیے چائے کافی سے لطف اندوز ہورہے تھے۔
شاہ اپنے گرم کمرے کو چھوڑ کر اپنے کمرے کی ٹیرس پہ کھڑا تھا۔
وہ بنا سوئیٹر پہنے یا گرم شال لئیے سفید کاٹن کے شلوار سوٹ میں ملبوس دونوں ہاتھ ٹیرس کی ریلنگ پہ رکھے دور خلاوں میں دیکھ رہا تھا۔
“شاہ” انساء بیگم کمرے میں آئیں تھیں۔ اسے کمرے میں نا پا کر ٹیرس میں آئیں تھیں۔
“جی امی؟” وہ مڑے
“بیٹا اتنی سردی میں آپ بنا گرم کپڑوں کے ٹیرس پہ کھڑے ہو؟ بیمار ہونا ہے؟” وہ شال ٹھیک کرتے آگے آئیں تھیں
وہ سر دائیں جانب جھٹک کے ہولے سے ہنس دیا۔
“نہیں ہوتا بیمار مجھے اچھی لگ رہی ہے یہ ٹھنڈ” شاہ نے انساء بیگم کے گرد بازو کا حصار بنا لیا
انہوں نے اسکے بازو پہ سر ٹکا لیا
“پتا ہے شاہ تمہاری حصار میں آکر تمہاری ماں کو خود پر فخر ہونے لگتا ہے”
“میرے بیٹے کی آنکھوں میں کتنی حیا ہے..
تم جانتے ہو جب تم نے مجھے اس لڑکی کے بارے میں بتایا تو میں بد گمان کیوں نہیں ہوئی؟”
وہ مسکراتے ہوئیے امی کو دیکھنے لگا
“کیونکہ مجھے اپنے بیٹے پہ بھروسہ ہو یا نا ہو آپکی دادی اور اپنی تربیت پہ پورا بھروسہ تھا..”
“دادی کی بھی؟” وہ حیران ہوا کیونکہ امی کم ہی دادی سے اتفاق کرتی تھیں
“ہاں نا انکے بغیر میں تھوڑی نا تمہیں قابو کر سکتی تھی” وہ انجانے میں ہی سہی انکی معترف تھیں
“کیسی ہے وہ لڑکی کون ہے؟ ہم کب جائیں انکے گھر؟” انہوں نے اسکے کان کھینچتے استفسار کیا۔
“امی دھیرج رکھیں…وہ تو خود بھی نہیں جانتی کہ میں اسے اس حوالے سے پسند کرنے لگا ہوں،
“کیا؟؟ شاہ کہیں اسکی بات نا طے ہو کہیں،” امی کو خدشہ ستایا..
“کونسے شہر کی ہے اور کیسی طبیعت ہے ہم میں گھل مل جائے گی نا؟ روڈ تو نہیں ہے؟” انساء بیگم کی اپنی کوئی بیٹی نہیں تھی سارے پیار لاڈ انہوں نے بہو کے لئیے سوچے تھے..اگر وہ ہی نخریلی اور آدم بیزار نکل آتی تو؟؟…
شاہ انکے تفکرات دیکھ کے ہنسنے لگا
وہ یہیں کی ہے کراچی کی..امی بہت پیاری ہے وہ اور کہیں اسکی بات طے نہیں ہے، میں نے میمونہ سے پوچھا تھا..اسکی دوست ہے وہ..میں نے دو ماہ اسے ٹیوشن پڑھایا امی اور یہ دو ماہ میری زندگی کے سب سے خوبصورت ماہ تھے..
“اتنا بولتی ہے نا وہ…
جب شروع ہوتی ہے تو بس شروع..
اتنی میٹھی باتیں اتنا پیارا لہجہ من موہنی”
وہ مسکرایا تھا اسکی بے ساختہ گفتگو اور کچھ بولنے پر اسکا زبان کو دانتوں میں دبانا یاد آیا تھا…
“مجھے اندازہ ہے وہ لڑکی کتنی پیاری ہوگی”
کتنی؟
“جس نے میرے بیٹے کو بولنے پہ لگا دیا اور اس طرح تعریفوں پہ، تو ہوگی زندہ دل خوش باش میں اس سے ملنے کیلئے بے تاب ہوں شاہ” وہ بے حد خوش تھیں اللہ کرے وہ ویسی ہی ہو جیسی وہ سوچ رہی ہیں..
“میں بھی” شاہ شرارت سے بولا تھا
“تم تو رکو” انہوں نے اسکا کان مروڑا
“کب جائیں گے ہم انکے گھر؟؟
“یونیورسٹی کھل جائے پھر میں اس سے اجازت لے کر آپکو بتاؤں گا امی” دل کچھ ویران سا ہوا تھا اس لمحے..
کہیں وہ کسی اور کی نا ہوجائے..
________
شاہ ہاسٹل واپس آگیا تھا۔ مگر میمونہ اور عرش زہرہ نہیں آئی تھیں۔ وہ کچھ پریشان تھا دل میں ایک دھڑکا سا تھا کہیں وہ کسی اور کو پسند نا کرتی ہو یا کہیں اسکی بات طے نا ہو۔
گوکہ وہ میمونہ سے باتوں باتوں میں پوچھ چکا تھا مگر پھر بھی وہ مطمئن نہیں تھا۔
ہاسٹل میں رافیل،علی رضا ہی آئے تھے باقی سب نے آرام آرام سے چھٹیاں گزار کر آنا تھا۔
“تم کچھ پریشان لگ رہے ہو؟” رافیل نے پوچھا
شاہ کتاب سینے پہ الٹی لٹائے ہوئے ایک بازو سر کے پیچھے رکھے پچھلے ایک گھنٹے سے سوچ میں گم تھا
“نہیں میں ٹھیک” وہ چونکتا ہوا سیدھا ہو بیٹھا۔
رافیل نے اسکا چونکنا محسوس کیا۔
“پھر بھی بتاو بڈی کیا بات ہے، مانا کہ تم کم گو ہو مگر ایسے اداس شہزادے بلکل نہیں ہو، ہوا کیا ہے، ٹیل می” رافیل اسکے بیڈ پہ پاؤں پسار کر بیٹھ گیا تکیہ گود میں رکھا اور ٹی وی آن کرنے لگا انداز سرسری تھا۔
“کچھ نہیں ہونا کیا ہے بس ویسے ہی…فیملی میں میری شادی کی بات چل رہی ہے اس وجہ سے آپ سیٹ ہوں” شاہ نے حتی الامکان کوشش کی کہ لہجہ سرسری رہے۔
“واٹ؟ شادی؟ او مائی گاڈ اٹس رئیلی؟” رافیل بری طرح اچھلا تھا۔
“یس”
“بٹ تم تو..، آئی مین ابھی تم مشکل سے ٹوئینٹی ٹو ایرز کے ہوئے ہو اور سٹڈی بھی کمپلیٹ نہیں ہوئی دین ہاو کین یو گیٹنگ میرج؟” اس نے گویا استہزاء کیا۔
” شادی میری ہاؤس جاب کے بعد ہونی ہے فی الحال وہ لوگ اینگیجمنٹ کرنا چاہ رہے ہیں” شاہ اکتایا۔
“اٹس امیزنگ یار! بہت خوشی کی بات ہے،اور ایک ہم ہیں منگنی شادی کا نام لے لیں تو گھر والے ایسے دیکھتے ہیں گویا گناہ کردیا ہو، وہاں سے کھسکتے ہی بنتی ہے” وہ دکھی انداز میں گویا ہوا
“میری دادو اور امی نے کمر کس لی ہے اب وہ کسی ٹھکانے لگ کر ہی دم لیں گی ” شاہ بیڈ کراون سے ٹیک لگاتے مسکرایا
“اور وہ بیچاری کون ہے جس کے نصیب پھوٹنے والے ہیں؟” رافیل نے ٹھٹھا لگایا اور اصل بات پوچھی
“بکو مت” وہ گھورنے لگا
“ہم سے رازداری”رافیل مشکوک انداز میں اسے گھورنے لگا۔
“ابھی فائنل نہیں ہوا یہ” شاہ نے نظریں چرائی تھیں پتہ نہیں خود سے یا حقیقت سے۔
Episode 6
اوہ مائی گاڈ تھک گئی” میمونہ نے سارے سوٹ کیس ایک کونے مین کھڑے کئیے اور بیڈ پہ دھم سے لیٹ گئی۔
“واقعی سر میں درد ہوگیا ہے یار اتنا لمبا سفر اور سردی میں یہ فلو” زہرا سرخ ہوتی ناک کے ساتھ بولی۔
“کمرے کا حال دیکھو کہیں سے لگ رہا ہے یہاں ایک دو ماہ پہلے ایک نفیس لڑکی رہ کے گئی ہے، اور لگتا ہے ان ہاسٹل والوں نے بس جھاڑ پونچ کروائی ہے جما کے صفائی نہیں کی” میمونہ صفائی کا سوچ کے ہلکان ہوئی
“ایک نہیں دو نفیس لڑکیاں” زہرا نے تصیح کی اور وہ جوتے اتارے جو وہ کمرے میں بھی پہن کے گھس آئی تھی ایک سفر کی تھکان دوسرا سردی کی وجہ سے اسکا دل نہیں کیا تھا۔
“بی بی تم نے ہل کے کبھی ڈسٹنگ بھی نہیں کی،نا ہی کوئی چیز کبھی ٹھکانے پہ رکھی ہوئی ہے، ہر چیز ڈھونڈنے پہ ملتی ہے تمہاری، اور تو اور بچوں کی طرح گندگی پھیلاتی ہو” میمونہ نے جوتوں کی جانب اشارہ کیا اور اسکی طبیعت صاف کی۔
“کتنا اچھا ہوتا میں اکیلی پہلے آجاتی تمہیں کال نا کرتی، اور دو چار دن مزے سے اپنی مرضی کے مطابق نکال لیتی” زہرا کو سخت تاو آیا
“پھر تو مجھے گھر سے ماسی بلوانی پڑتی باقاعدہ تفصیلی صفائی کیلئے” میمونہ نے ہنستے ہوئے اور کیا۔
زہرا جل بھن کے رہ گئی۔
“میمونہ کا موبائل بجنے لگا
اس نے اشارے سے زہرا کو خاموش کروایا
“شاہ کی کال آرہی”
وہ حیران ہوئیں،
“ہیلو اسلام علیکم” ٹہرا ہوا مضبوط لہجہ۔
“وعلیکم سلام”
حال چال پوچھنے کے بعد وہ اصل مدعے پہ آیا
“مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی تھی میمونہ آپ کب تک ہاسٹل آجائیں گی؟”
میمونہ چونکی
“میں تو آچکی ہوں انفیکٹ زہرا اور میں آدھے گھنٹے کے ڈیفرینس سے پہنچے ہیں ہاسٹل” اس نے ٹہر ٹہر کے جواب دیا۔
شاہ کا دل بے ساختہ دھڑکا۔
“آپ بتائیں مجھے کیا کام ہے؟”
“مجھے کام تو اصل میں زہرا سے تھا مگر میں نے سوچا پہلے تم سے بات کروں، کیا تم لان میں آسکتی ہو؟” وہ جھجکا۔
“ہاں میں فریش ہو کر اور سامان رکھ کے آتی ہوں ” وہ حیران سی ہوئی
“ٹھیک ہے میں ویٹ کر رہا ہوں”
“شاہ نے کیوں کال کی تمہیں اور کیا کہا؟” زہرا کی زبان میں کھجلی ہوئی اور مشکوک نگاہوں سے اسے گھورا۔
“پتہ نہیں کچھ کام ہے اسلئیے بلایا ہے، ایگزام کے دوران میں نے نمبر سیو کیا تھا مگر کبھی کال نہیں آئی، نا گھر نا یہاں اب پتہ نہیں کیا کام ہے” اس نے زہرا کا نام گول کردیا مبادا وہ تجسس میں پڑ جاتی
“کہیں میرا رزلٹ تو نہیں آگیا میں فیل تو نہیں ہوگئی” زہرا کا رنگ فق ہوا۔
“افوہ ابھی دیر ہے رزلٹ آنے میں تم سیاپا ہی ڈال دیتی ہو” میمونہ نے پاوں میں موزے پہنتے اسے جھڑکا۔
زہرا دل ہی دل میں ورد کرنے لگی۔
“میں پوچھ کے آتی ہوں کیا بات ہے” وہ شال میں خود کو ڈھانپنے لگی۔
وہ چلی گئی اور عرش زہرا ہر چیز پہ گویا مٹی ڈال کے فریش ہونے چلی گئی۔
*****
کوئی پونے گھنٹے بعد میمونہ کی واپسی ہوئی تھی
وہ خاموش تھی بلکل اور زہرا کو جانچتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
“تم ملکی حالات ڈسکس کرنے لگیں تھیں بی بی جو اتنی دیر؟” زہرا اتنی دیر خاموش رہ کے اکتا گئی تھی
“نہیں”
“پھر”
“زہرا وہ..” میمونہ کچھ متامل تھی تھوڑی خوش تھوڑی گھبرائی ہوئی جیسے پتہ نہیں زہرا اسکی بات سے کیا نتیجہ اخذ کرے گی
“کیا وہ؟”
“شاہ ارسلان نے مجھے اسلئیے بلایا تھا کہ” میمونہ نے تھوک نگلا
“ہاں کیوں؟ “
“وہ تمہیں پسند کرتا ہے انفیکٹ محبت کرنے لگا ہے اور تم سے شادی کرنا چاہتا ہے وہ اپنی امی کو بتا چکا ہے اور وہ تمہارے گھر رشتہ لے کر جانا چاہتے ہیں” میمونہ نے ایک ہی سانس میں ساری بات بتا دی۔
“واٹ” زہرا نے منہ پہ ہاتھ رکھا
“اسنے ایسا سوچا بھی کیسے میں اس سے..” وہ کھول گئی۔
“ابھی جا کر میں پوچھتی ہوں” وہ بیڈ سے اترنے لگی۔
“ریلکس ہوجاو زہرا” اس نے زہرا کو تھاما
زہرا نے بے دردی سے اپنا ہاتھ چھڑوایا
“چھوڑو مجھے تم،تم نے اسکا منہ کیوں نہیں توڑ دیا؟ مانتی ہوں مجھ پہ احسان ہے اسکا مگر یہ کونسا طریقہ ہے احسان کا بدلہ لینے کا؟” زہرا کی آنکھوں میں آنسو آئے تھے۔ وہ بے حد بد گمان تھی
“زہرا ایسا کچھ نہیں ہے وہ بس پرپوزل بھیجنا چاہتا ہے تم اسے اچھے لگی ہو بس سمپل” میمونہ نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔ “تم ریلکس ہوجاو میری جان وہ ایسا لڑکا نہیں ہے جیسا تم سوچ رہی ہو”
زہرا بھل بھل رونے لگی۔ اسے بے حد بڑا لگا تھا یہ سب اسے گھن آئی تھی اسکی سوچ پہ ایک چھوٹے سے احسان کا اتنا بڑا بدلہ؟
میمونہ اسے پہلی بار روتے ہوئیے دیکھ رہی تھی اسکے دل کو کچھ ہوا تھا۔
“وہ اسے چپ کروانے لگی جو ساری دنیا سے ہی بد گمان تھی۔
“اور تم نے سوچا بھی کیسے میں کسی ایسے “چپ شاہ” سے شادی کرلوں گی گی” کیا تم مجھے جانتی میں کس مزاج کی ہوں اور وہ…” وہ پھر سے رونے لگی
میمونہ اسے دیکھنے لگی ہیٹر کی گرمائش سے اسکا چہرہ سرخ ہورہا تھا سر پر وہی اونی ٹوپی تھی وہ نفی میں سر ہلاتے روئے جا رہی تھی گال بھیگ گئے تھے۔
میمونہ تاسف سے اسے دیکھنے لگی پھر سب بھول کے اسے چپ کروانے لگی۔
________
جنوری کا سورج اس ہاسٹل پر اپنی کرنیں بکھیر رہا تھا۔ پورا ہاسٹل گویا سنہری سا لگ رہا تھا دسمبر کی بہ نسبت ٹھنڈ میں خاطر خواہ کمی آئی تھی۔
میمونہ اپنے بیڈ پہ بیٹھی کسی کتاب کی ورق گردانی میں مصروف تھی۔ آج اسکا یونیورسٹی جانے کا دک نہیں تھا۔
“کہاں جا رہی ہو؟” عرش زہرا کو صبح صبح اٹھتے دیکھ کے اس نے استفسار کیا
“یونیورسٹی” یک حرفی جواب آیا تھا۔ چہرہ متورم تھا آنکھیں سوجی ہوئی اور آواز بھاری۔
میمونہ نے نظریں چرائیں
“تم اس سے کچھ مت کہنا پلیز ، ابھی اس ٹاپک کو ہم کلوس کردیں گے، اور میں، میں اسے بات کرلوں گی تم باتیں سنانے مت بیٹھ جانا” میمونہ نے اسکا ہاتھ نرمی سے تھامتے ہوئے سمجھایا۔
“میں کیوں نا کہوں کچھ؟ میرے بارے میں اس طرح فضول قسم کی سوچیں لئیے وہ پھرتا رہے اور میں کچھ کہوں بھی نا؟؟” ایک جھٹکے سے اس نے ہاتھ چھڑایا۔
“زارو میری جان دیکھو جیسا تم سوچ رہی ہو ویسا کچھ نہیں ہے.. تم بلکل غلط سمت میں سوچ رہی ہو..اسنے تم سے فلرٹ کرنے یا کسی قسم کی بدتمیزی یا خدانخواستہ کوئی غلط بات نہیں کی بس اپنے پرپوزل کا کہا ہے.، اب دیکھو تم، تم راضی نہیں ہو غصہ ہو رہی ہو میں اسے منع کردوں گی آئندہ ایسی کوئی بات نہیں ہوگی، مگر تم یونی میں اسے کچھ مت کہنا میری خاطر” میمونہ لجاحت پر اتر آئی۔
“مجھے نہیں پتا اس نے تم سے ایسا کیا کہا ہے جو تم اسکی اتنی فیور لے رہی ہو خیر! میں کچھ نہیں کہوں گی اب، اسے بھی کہہ دینا آئندہ مجھ سے بات کرنے اور کچھ بھی فضول سوچنے کی ضرورت نہیں ہے” وہ چلی گئی۔
وہ اسکی سے بھی بدگمان تھی میمونہ پریشان سی ہوگئی۔
******
وہ جیسے ہی یونی میں داخل ہوئی شاہ اپنے ڈیپارٹمنٹ کے باہر کھڑا نظر آیا جب سے وہ اسے ٹیوشن دیا کرتا تھا وہ اسے دیکھتے ہی سلام کرتی یا مسکرا کر دیکھا کرتی۔
اور آج ایسی کٹیلی نگاہ ڈالی تھی شاہ بری طرح گڑبڑا گیا تھا۔
اسنے موبائل کان سے لگایا۔
“یہ مجھے کیوں ایسے دیکھ کے گئی ہے؟” شاہ نے میمونہ کو کال کی تھی۔
“شکر کریں آپ کو دیکھا ہے غصے سے ورنہ ارادے تو آج آپ کا قتل کرنے کا تھا”
“اوہ رئیلی؟
“ہاں! اور میں نے بہت مشکل سے اسے کام کیا ہے شاہ، اور اسنے کہا ہے کہ آپ سے کہہ دوں کہ آپ اسے مخاطب بھی نا کریں” میمونہ تو ذمےداری لے کے پچھتائئ تھی۔
“معاملہ کافی گھمبیر ہے یعنی؟” شاہ مے تصدیق چاہی۔
“گھمبیر ہی نہیں کافی تشویشناک”
“خیر ہے” وہ مسکرایا تھا۔
“خیر ہے؟” میمونہ چونکی۔
“ہاں نا چیلنج نا ہو تو فائدہ؟” وہ جی بھر کے محفوظ ہوا تھا۔
“میں سائیڈ کرجاوں گی آپ خود دیکھیے گا” میمونہ نے کنارہ اختیار کرنا چاہا۔
“اونہوں، تم کہیں نہیں جاؤ گی میمونہ، تمہیں ساتھ تو دینا ہوگا” دھونس بھرا انداز
“ساتھ نہیں جان دینی ہوگی” وہ جل کے بولی تھی”
شاہ نے لائن کاٹی اور مسکرا کے اسکے ڈیپارٹمنٹ کی طرف دیکھا تھا جہاں وہ کہیں نہیں تھی۔
*****
“زارو.. شاہ نے اپنی امی کی پسند کی لڑکی سے شادی کرنے کیلئے ہاں کردی ہے، میں کہتی تھی نا وہ برا لڑکا نہیں ہے بس تمہیں پسند کر بیٹھا تھا”
میمونہ نے کھانے کے لوازمات دسترخوان پہ لگاتے سرسری طور پہ اسے اطلاع دی تھی وہ دونوں ہی میس کے کھانوں سے بھاگتی تھیں اپنا کھانا وہ خود بنا لیا کرتی تھیں۔
“ہنہ.. جناب کے تو مجھ سے محبت کے دعوے تھے وہ کیا ہوئے” سر پہ بندھا رومال کھولتے عرش زہرا بڑبڑائی تھی۔
“اب ساری زندگی ایک ہینڈسم لڑکا کنوارہ تو نہیں رہ سکتا نا” میمونہ نے رائیتے کا چمچ منہ میں رکھا نمک چیک کیا پھر سر ہلایا ٹھیک تھا۔
“تمہیں بڑا ہینڈسم لگنے لگا ہے” زہرا نے زور سے چمچ پلیٹ میں رکھا۔
“جو سچ ہے وہ چھپ تو نہیں سکتا”
“بک بک نا کرو زہر لگتا ہے مجھے” وہ خفگی سے کہتے ہوئے چاولوں میں چمچ گھمانے لگی۔
********
رزلٹ آوٹ ہوچکا تھا نوٹس بورڈ پہ اسٹوڈنٹ کا رش تھا۔ تین چار ماہ تو آسانی سے نکل جاتے ہیں مگر رزلٹ آنے کے بعد ایک لمحہ انتظار نہیں ہوتا۔
میمونہ اپنا رزلٹ دیکھ آئی تھی وہ شاندار نمبروں سے پاس ہوئی تھی اب گھر پہ کال لگائے سب سے مبارکبار وصول کر رہی تھی۔
اور عرش زہرا کی ٹانگیں ساتھ ہی نہیں دے رہیں تھیں کہ وہ جا سکتی۔
یہاں سے وہاں وہ دانت کترتی گھوم رہی تھی۔ رش چھٹتا جا رہا تھا کچھ زور زور سے شور کرتے کچھ “شٹ” کے انداز میں مکا ہوا میں لہراتے۔
“اب چلی بھی جاو کتنی عجیب لڑکی ہو تم،لوگ ایک منٹ صبر نہیں کرتے اور تم ہو کے جا کے نہیں دے رہیں” میمونہ کال پہ بات کرتے ہوئے اسے تیسری بار ٹوکے گئی۔
“جاتی ہوں”
“وہ مرے مرے قدموں سے یونیورسٹی آئی تھی اسکی ٹانگیں تھیں کہ کانپے جا رہی تھیں وہ آرٹس کی اسٹوڈنٹ تھی۔ اسکے لئیے یہ بھی بہت تھا کہ وہ کلئیر ہوجاتی۔ بہت اچھے نا سہی اچھے نمبروں سے سہی…وہ نالائق نہیں تھی۔ بس اسے پڑھائی نہیں پسند تھی۔ اسکا شوق یہ نہیں تھا۔ اور اسکا شوق کیا تھا وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔
وہ نوٹس بورڈ کے پاس گئی تھی جہاں آس پاس اسٹوڈنٹس ٹولیوں میں کھڑے باتیں کر رہے تھے اسنے مٹھیاں بھینچیں۔ پھر آنکھیں بند کیں۔
“یااللہ تو جانتا ہے میں پڑھائی میں بہت کمزور ہوں..اور جو یہ بھی میں نے پڑھا ہے اپنے لئیے یا اپنے فیوچر کیلئے نہیں صرف اپنے ماں باپ کی وجہ سے..تاکہ وہ خوش ہوجائیں انہیں مجھ سے گلہ نا رہے..میں نے پوری کوشش کی..جتنی مجھ سے ہوسکی میں نے اس بار کی..اور کوشش سے زیادہ میں نے دعائیں کی ہیں اللہ جی. میری عزت رکھ لیں میری نیت بڑی نہیں ہے..” وہ جذب کے عالم میں دعائیں مانگ رہی تھی جیسے اگر اسکے برے مارکس ہوئے تو وہ تبدیل ہوجائیں گے یا کوئی معجزہ ہوجائے گا۔
وہ نوٹس بورڈ پہ انگلی نیچے نیچے کرنے لگی۔
زیڈ کی لسٹ پہ کتنی زہراوں کی سپلیاں دیکھ کے اسکا دل اچھل رہا تھا۔ زہرا سرور کے نام پہ اسنے انگلی روکی
وہ غور سے دیکھے گئی ایک کے بعد سارے سبجیکٹ کلئیر..دل کی دھڑکن تھی کہ کانوں میں سنائی دیتی تھی۔ اے کے ساتھ پلس تھا…جو عرش زہرا نے صرف حساب کے سوالات کے ساتھ دیکھا تھا وہ پلس اے کے ساتھ تھا وہ آنکھیں مسلنے لگی ایک بار دو بار تین چار…یہاں تک کہ وہ گنتی بھول گئی اسنے کتنی بار رزلٹ دیکھا۔ کتنی بار کنفرم کیا کتنی بار خود کو یہ باور کروایا کہ یہ کوئی اور بھی ہوسکتی ہے…رول نمبر اسے ازبر تھا وہ بار بار دہراتے ہوئے پکا کر رہی تھی ہاں یہی تھا یہ اسکا ہی رزلٹ تھا۔ کچھ منٹ لگے تھے اسے خود کو کمپوز کرنے میں…لمحوں میں آنکھیں بھر آئیں تھیں پھر چھلکیں تھیں..”تھینک یو اللہ پاک” اسنے ہمیشہ کی طرح خوشی دینے والے سے شئیر کی تھی اسکا شکریہ ادا کیا تھا پھر اسکے بعد جسکا کرنا چاہئے تھا اسکا خیال آتے ہی اسکا حلق کڑوا ہوا تھا۔ جیسا بھی تھا شکریہ تو ادا کرنا چاہیے تھا۔ “احسان نہیں کیا کوئی” وہ اسے بھاڑ میں جھونکتی ہاسٹل کی طرف بھاگی تھی جہاں میمونہ کو اسنے ہلا کے رکھ دینا تھا اور نوافل ادا کرنے تھے پرئیر ہال میں نہیں بھئی کمرے میں…
______
زہرا واپس آئی تو میمونہ بدستور کال پہ مصروف تھی اسے دیکھ کر موبائل کان سے ہٹایا اور ہانپتی ہوئی عرش زہرا کو گھور کے دیکھا۔
“خیر رہی ہے؟؟”
“ہاں” زہرا لمبی سانسیں لے رہی تھی چہرہ سرخ ہورہا تھا۔ میمونہ جو اپنی بھابی سے باتوں میں مصروف تھی ان سے بعد میں کال کرنے کا کہہ کر اس نے کال کاٹ دی۔
“کیا بنا؟”
“مت پوچھو” چہرہ تمتما رہا تھا۔
“پہیلیاں مت بجھواو عرش زہرا.. کیا بنا بتاو؟ تم کلئیر ہوگئی؟؟” وہ متفکر تھی
“کلئیر؟؟ بس کلئیر نہیں مونی اے ون گریڈ بنا ہے میرا” اسنے میمونہ کے ہاتھ تھامے۔
“اوہ مائی گاڈ اٹس میرسیکل” میمونہ نے اپنے کھلتے ہوئے منہ پہ ہاتھ رکھا۔
“نو ڈاوٹ یار یہ معجزہ ہے اور اللہ کا کرم”
پورے تیس نوافل ادا کئیے میں نے ہاسٹل میں آکر تمہارے پاس تو بعد میں آئی” کتنا خوش تھی وہ بتانے کی ضرورت نہیں تھی اسے۔
“اللہ کے بعد اپنے استاد کا بھی شکر ادا کر آو لڑکی اتنے کم وقت میں تمہیں پڑھایا، اتنا کونسیٹیٹ کیا تم پر، اتنے فرینڈلی انداز میں تمہیں نا صرف پڑھایا بلکہ اپنا سارا کھڑوس پن بھی بالائے طاق رکھ کر تمہیں خوشدلی سے پڑھاتا گیا اور کوئی معاوضہ بھی نہیں لیا اس دور میں مخلص انسان مل جانا بھی نعمت ہے” میمونہ نے اسے شرم دلائی۔
“آخر میں اپنی اسٹوڈنٹ کو پرپوز بھی کردیا بی بی یہ پوائنٹ تم کیوں اگنور کردیتی ہو؟ یہی وہ پوائنٹ ہے جو سارے کئیے کرائے پر پانی پھیر دیتا ہے” زہرا نے بے دردی سے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے نکالا۔
“وہ بات ختم ہوچکی اسکے بعد اسنے کبھی اسکا ذکر نہیں کیا خود تم سے وہ جب بھی ملا جسٹ اباوٹ اسٹڈی بات کی ہے ٹو دا پوائنٹ۔ اسکی شرافت اور نیک نیتی کیلئے اتنا کافی ہے، ویسے بھی تمہیں پرپوز نہیں کیا تھا اس نے، تم منہ دھو رکھو،بس پوچھا تھا وہ بھی ان ڈائیریکلی..،” میمونہ نے اسکی طبیعت صاف کی۔
“جو بھی ہے اپنی اسٹوڈنٹ پہ بڑی نظر رکھی اس نے” زہرا نے منہ بنایا۔
“لاحول ولا قوتہ زہرا….حد کرتی ہو تم، بی بی وہ کوئی پروفیسر نہیں ہے میڈیکل کا اسٹوڈنٹ ہے جس نے صرف اچھی نیت سے ایک نالائق لڑکی کو پڑھانے کا ٹھیکہ لیا 23سال کا نوجوان ہے وہ جسے تم استاد،استاد کرتی پھر رہی ہو..نا صرف یہ بلکہ پھر بھی وہ استادوں سے بڑھ کر ثابت ہوا..رزلٹ سامنے ہے” زہرہ نے اسکی چمکتی شکل کی طرف اشارہ کیا
“اچھا”
(تم ہی متاثر ہو میمونہ میں نہیں ہوسکتی) زہرا سوچ کہ رہ گئی۔
******
شاہ پر سوچ انداز میں اپنے انگوٹھے سے داڑھی کو کھرچ رہا تھا۔
“تو تم نے اس لڑکی کو پرپوز کیا اور اس نے انکار کردیا؟ ارسل (کلاس میٹ) نے پوری بات سننے کے بعد تحمل سے سر ہلایا۔
“ہوں” شاہ نے سر ہلانے پر اکتفا کیا۔
“مگر سوال یہ ہے کہ شاہ تم کیا چاہتے ہو اور اب کیا کرو گے؟ کنارہ یا دوبارہ کوشش؟” ارسل نے بیڈ کراون سے ٹیک لگا لیا۔
“کنارہ” یک لفظی جواب آیا۔
“مگر تم تو ابھی اس سے محبت کا دعوا کر رہے تھے اور اس کے متعلق گھر میں بات کر چکے ہو اس قدر سنجیدہ تھے؟؟” ارسل الجھا۔
“ہاں تو میں نے کب انکار کیا ان باتوں سے؟؟
“پھر کنارے کا کیا مطلب ہے؟”
“مطلب یہ ہے کہ میں کنارہ تو کرلوں گا مگر کوشش اور عملی اقدام جاری رکھوں گا دنیا میں ارینج میرج بھی تو ہوتی ہے’ وہ عجیب سے انداز میں مسکرایا تھا۔
“ارینج میرج مگر کس سے؟”
ارسل ناسمجھی کے عالم میں پوچھ بیٹھا۔
“عرش زہرا سے”
“مگر اس سے ہوئی تو لو میرج ہوگی نا؟ تم محبت کرتے ہو اس سے ؟؟”
“یہ ٹوٹل ارینج میرج ہوگی ارسل بس تم دیکھتے جاو۔
“خیر یہ بتاؤ اسائنمنٹ کا کیا ہوا کب سبمٹ کروانی ہے؟ شاہ نے موضوع بدل دیا۔
*******
“ہاں امی میں سچ کہہ رہی ہوں آپ میرا یقین کریں بس ایک دو دن میں مارک شیٹ آجائے گی آپ یقین کریں میں مذاق نہیں کر رہی ہوں میرا اے ون گریڈ آیا ہے”
عرش زہرا موبائل پہ امی سے بات کر رہی تھی اور میمونہ ہنس ہنس کے دہری ہوئی جا رہی تھی جس طرح آنٹی بے یقینی کا شکار تھیں اور عرش زہرا قسمے کھا کھا کے انہیں کب سے یقین دلا رہی تھی۔
“کہیں تمہارے تایا ابو نے سورس تو نہیں لگوائی یا تمہارے ابو نے عزت بچانے کیلئے پیسے دے کر تمہارا گریڈ بڑھایا ہو…عرش زہرا تم نے تو نرسری میں بھی اے ون گریڈ نہیں لیا تو اب یونیورسٹی میں کیسے؟؟ نورینا بیگم بے یقینی کی ہر حد پار کر رہی تھیں۔
“یار امی میں نے محنت کی تھی بہت میمونہ نے میری مدد کی تھی میں نے بہت محنت اور دعائیں کی تھیں امی، اس طرح مٹی میں نا رولیں میری محنت کو” زہرا رونے والی ہوگئی۔
