Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Aur Zahra (Episode 09)

Shah Aur Zahra by Uzma Usman

تب ایسا کچھ خیال آیا ہی نا تھا..اتنی پاکیزگی تھی اسکی آنکھوں میں، اتنی ملاحت..اور حیا، بھلا اتنی اجلی آنکھوں والا شخص گھٹیا سوچ رکھ سکتا؟ یا کوئی مفاد ہوتا اسکا؟

اگر میمونہ سے وہ رشتے کی بات نا کرتا…یا میمونہ اسے نا بتاتی تو وہ قیامت تک لاعلم رہتی…

سارے اظہار گویا اسکی آنکھوں میں کہیں اندر قید تھے۔

اب جب اسنے انکار کیا تھا، اسے بدنگاہ اور “نظرباز” شاگرد پہ نظر رکھنے والے کا طعنہ دیا تھا تب سے…تب سے وہ اسے دیکھا بھی نہیں کرتا تھا..بس اس دن پتا نہیں کیسے..وہ ٹرپ پر ساتھ آگیا..شاید عرش کو بچانے کیلئے..اونہوں…کیا کہا تھا بھلا اسنے؟ “اپنی “جان” بچائی ہے” ہاں شاید عرش کی حفاظت کیلئے ہی آیا ہوگا…ہاں وہ دو ماہ ٹیوشن پڑھی تھی اسے سے جان گیا ہوگا کتنی لابالی ہے وہ، اسی لئیے آگیا ہوگا…

کیسے اتنی دور سے وہ بھاگتے ہوئے اسکے لئیے آیا تھا۔ پھر اسے گود میں لئیے بیٹھا تھا۔

عرش کو یاد آیا اسکے چہرے پر شاہ کے آنسو گرے تھے…

وہ اسکے خلوص پہ شک کر رہی تھی جس پر ساری یونی کی لڑکیوں کا کرش تھا۔

وہ خود گواہ تھی کتنا کم گو تھا وہ کبھی کسی سے بات کرتے نا دیکھا گیا۔

کسی کی خلوص پہ شک کرنا گناہ ہے تو کسی کی بے غرض محبت پہ شک کرنا کیا ہے..اسے سمجھنا آئی…بس وہ روتی گئی۔ ہاں اتنا ادراک کوا تھا کہ اسے شاہ کی محبت پہ یقین سا آیا تھا۔

****

وہ چائنہ پورٹ چلا آیا اتنے ٹھنڈے موسم میں جیسے ساحل ویران سا تھا۔ کوئی اکا دکا شوقین نوجوان نظر آجاتے دوستوں کے ساتھ یا پارٹنر کے ساتھ۔

وہ ایک چاک کے بڑے سے پتھر پہ بیٹھ گیا، اور پاؤں نیچے ٹکراتے پانی میں لٹکا لئیے۔ گہری نیلی شال کندھوں پہ پڑی ہوئی تھی۔ ہوا سے بال اڑ رہے تھے آج جیل لگا کے سیٹ نہیں کر کے آیا تھا۔ مونچھوں پہ انگلی پھیرتے وہ سورج کے اس گولے کو دیکھنے لگا جو ڈوبنے کے قریب تھا…

” بھائی سن میں یہاں بیٹھ جاؤں؟ میں بھی تیری طرح سنگل ہوں،” ایک خوش شکل سا نوجوان پتھر

پہ کھڑے اس سے اجازت لینے لگا۔ لمبا سا نوجوان جس کہ چہرے پہ ایک ملاحت سی تھی۔دونوں ہاتھ جینز کی جیبوں میں ڈالے ہوئے تھے۔

“آجاؤ بھائی”شاہ نے مسکرا کر اسے جگہ دی

وہ جمپ لگا کر اسکے پاس آ بیٹھا۔

” کیا کرتے ہو اور اکیلے کیوں ہو؟ کیا تم بھی میری طرح آؤٹ آقگ سٹی سے ہو؟” وہ لڑکا کافی باتونی سا تھا شاید ایک سانس میں تین سوال پوچھ بیٹھا۔

“نمبر ون تو یہ کہ میں ڈاکٹر بن رہا ہوں، نمبر دو: دل کر رہا تھا کچھ وقت اپنے ساتھ گزارنے کا اسلیئے یہاں چلا آیا، نمبر تین یہ میرا اپنا شہر ہے،”شاہ نے مسکرا کر خوشدلی سے تفصیلی جواب دیا۔

“اوہ نائس ٹو میٹ یو، سیم پروفیشن، میں بھی ڈاکٹر ہوں ہاوس جاب چل رہی میری، اور میں نواب شاہ سے ہوں، یہاں میں ایک دوست کے پاس آیا تھا، آج اسے ضروری کام سے جانا پڑ گیا، شرمندہ ہورہا تھا پھر میں نے اسے بمشکل رخصت کیا اور ادھر چلا آیا، کیونکہ کراچی میں تو پارکس وغیرہ میں سنگل بندہ مشکل سے ہی جا سکتا ہے..ہوٹل میں جانا بیکار..سو یہاں چلا آیا..اور یہاں بھی ہر بندہ بزی..تم نظر آئے مجھے سو یہاں چلا آیا تمہارا سر کھانے” اتنا باتونی بندہ دیکھ کر شاہ کو اسکے ڈاکٹر ہونے پر شک ہوا۔

“نام کیا ہے تمہارا؟”شاہ نے گردن ترچھی کر کے اسے دیکھا۔

“ڈاکٹر عبدالہادی، اور تمہارا؟

“اٹس شاہ ارسلان،”

“مجھے آج پتا چلا ڈاکٹرز بھی بور نہیں ہوتے اور خوش مزاج بھی ہوتے ہیں عبدالہادی، میں بھی تمہاری طرح ہونا چاہوں گا”شاہ مسکرایا

“تم کسی سے محبت کرتے ہو ارسلان؟” عبدالہادی اسکے چہرے کو بغور دیکھتے اچانک پوچھ بیٹھا

شاہ ک رنگ فق ہوگیا۔ علامات محبت چہرے سے نظر آنے لگی تھیں اور یہ اچھی بات نہیں تھی۔

__________

سمندر کی جھاگ اڑاتی ایک لہر زور سے پتھر سے ٹکرائی تھی۔ یہاں سے وہاں تک ٹھنڈے قطرے برسات کی مانند برس گئے۔ ٹھنڈا سورج مغرب کی جانب جھکاؤ کر رہا تھا۔

“کیا مطلب؟” شاہ نے نظریں چرائیں

“میں نے پوچھا کہ تم کسی سے محبت کرتے ہو کیا؟” عبدالہادی مسکرایا۔

“عبدالہادی تم بھول رہے ہو شاید، تم ڈاکٹر ہو، پامسٹ یا نجومی نہیں” شگفتگی سے بات ٹال دی گئی۔

“ہاں مگر میری امی کہتی ہیں میں بہت اچھا فیس ریڈر ہوں، اور میرے قیافے،اندازے، بہت کم ہی غلط ہوتے ہیں” وہ سر نیچے کر کے ہنسا۔

عبدالہادی تھوڑا اوپر کی جانب بیٹھا تھا ایک گھٹنہ اوپر کئے اور ایک لمبا بچھائے ہوئے۔ ہاتھ گھٹنے کے اوپر لمبا کیا ہوا تھا۔ سفید شرٹ، اور بلو جینز میں ملبوس، شاہ کے بر عکس ہلکی موچھیں اور باریک داڑھی۔

شاہ کو دل بوجھل سا ہوتا محسوس ہوا۔

وہ ٹلنے والا نہیں تھا۔

اور نجانے کیوں اسکا دل کیا تھا کہ وہ اس اجنبی کو بتا دے سب۔

“تمہاری امی ٹھیک کہتی ہیں عبدالہادی” وہ پتھر کی پشت سے کمر ٹکا گیا اور سکون سے بیٹھ گیا۔

“اوہ دیٹس گریٹ..اور میں یہ بھی بتادوں کہ تمہاری محبت مشکل میں ہے آئی ایم رائٹ؟”

“مشکل نہیں ناممکن سی ہے” آنکھوں میں شعلہ سا لپکا۔

” اوہ برو..اس زمانے میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے، بس انسان مستقل مزاج ہونا چاہیے” اسنے فرضی کالر جھاڑے۔

“کیا تم بھی؟”

“جی بلکل جناب میں بھی اسیر محبت ہوں، عنقریب منگنی ہونے والی ہے،بڑی مشکلات سے کھیل کر بڑی آزمائشوں کے بعد ملی ہے یہ محبت” وہ پیارا لڑکا پورے دل سے مسکرایا۔

“بہت مبارک ہو” شاہ مسکرایا،

“یہ محبت بہت خوار کرتی ہے شاہ، یہ بندے کو رول کے رکھ دیتی ہے، یہ دل مانگتی ہے، آنسو مانگتی ہے، درد مانگتی ہے، قربانی مانگتی ہے، یہ آسان نہیں ہے، یہ کم نہیں ہوتی، یہ بڑھتی رہتی ہے کسی نیک پرہیزگار انسان کے درجات کی طرح، اوپر سے اوپر، یہاں تک کے عرش تک، پھر عرش والے تک لے جاتی ہے” عبدالہادی سر جھکائے نجانے کس جہان میں تھا۔

“دیکھنے میں تو بلکل لاابالی سے لگتے ہو،اور باتیں بہت گہری کرتے ہو عبدالہادی، کیا یہ بھی محبت کی کارستانی ہے؟”

“ہاہا..بھائی جتنا میں بولنے لگا ہوں اتنا ہی “خاموش پتلا” ہوا کرتا تھا، یہ آپکی بھابھی کی مہربانیاں ہیں جنہوں نے مجھے “فل چارج”کردیا ہے” وہ دل کھول کے ہنسا۔

” مطلب میرا مستقبل بھی کچھ ایسا ہی ہونا ہے؟ اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ اور “شاہ مسکرایا دل میں کلی سی کھل گئی۔

“انشاءاللہ بھائی مجھے سے بھی ذیادہ چارج کریں گی بھابھی آپکو، ویسے وہ بھی ذیادہ بولتی ہیں کیا؟” عبدالہادی نے پاس پڑا پتھر اٹھایا اور پانی میں اچھالا۔ دور کھڑی بحریہ آئیکون، اور ٹوئن ٹاور کی بیرونی لائٹس آن ہورہیں تھیں۔

“ذیادہ؟”شاہ ارسلان نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔

عبدالہادی دیکھ کر ہنسنے لگا

” بہت پیاری لڑکیاں ہوتی ہیں جو ذیادہ بولتی ہیں، اللہ کی نعمت ہی سمجھو، انکا نا..دل بہت پیارا ہوتا ہے..جو میٹھا میٹھا بولتی ہیں، کانوں میں رس گھلنے لگتا ہے..دل کرتا ہے بندہ سنتا رہے یہ بولتی رہے،” عبدالہادی سر جھکا کے بلااختیار کہتا گیا۔

“واقعی کانوں کا عذاب” شاہ نے لقمہ دیا۔

“ایسے تو نا کہو بعد میں پوچھوں گا” عبدالہادی جل سا گیا۔

بعد میں؟ مگر وہ کیسے جناب؟ پھر ہم کراچی اور آپ نواب شاہ”

“تم بھول رہے ہو شاہ یہ جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے، ہر لمحہ باخبر رہا جا سکتا ہے، بشرطیکہ تعلق رکھنا ہو” عبدالہادی نے جینز کی جیب سے آئی فون نکالا “واٹساپ نمبر نوٹ کروائیں ” وہ موبائل پر جھکا۔

“پہلی بار کسی نے نمبر مانگا وہ بھی لڑکے نے” شاہ کے تاسف زدہ لہجے کو دیکھ کر عبدالہادی نے سر سے پاؤں تک اسے گھورا،

“جیسی تمہاری پرسنالٹی ہے نا لڑکیاں دور سے ہی تکتے ہوئے رہ جاتی ہونگی، بات کرنے کی ہمت کہاں”

“تمہیں بڑا تجربہ ہے”شاہ نے موبائل نکالتے ہوئے طنز کیا۔

” ہاں میری ہونے والی منگیتر کی دوستیں بہت ہیں “

وہ دونوں ہنس پڑے تھے۔

سورج کا گولہ بلکل ہی ٹھنڈا پڑ گیا تھا، نارنجی گولے نے آسمان کے کنارے بھی نارنجی کردیئے تھے۔ لہروں کی ساکت سی اٹھا پٹھک جاری تھی، اسٹریٹ لائٹس آن ہوگئیں تھیں، کھانے پینے کی اشیاء فروشوں نے ساحل کا رخ کرلیا تھا۔ وہ نارنجی گولہ ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہیں پانی میں گھل سا گیا تھا۔

****

“کب سے آؤ گی یونیورسٹی؟ بازو کیسا ہے؟ میں مس کر رہی ہوں تمہیں،” میمونہ ایک سانس میں بولتی گئی۔

“آجاونگی امی اجازت تو دے دیں، بازو بھی ٹھیک ہے اب پلاستر کھل گیا ہے بس گرم پٹی باندھی ہوئی ہے” عرش نے الماری کا ڈور بند کرتے ہوئے موبائل کندھے اور کان میں دبایا۔ پلاستر والا ہاتھ اب لٹکا ہوا نہیں آذاد تھا۔ بالوں میں ہاف کیچر ڈالا ہوا تھا باقی بال پشت پر آذاد تھے۔ چند لٹیں چہرے کے اطراف میں بکھری ہوئی تھیں۔ چہرہ شاداب سا تھا۔

“آنٹی سے کہو نا پڑھائی کا حرج ہورہا ہے، اور میمونہ بھی اکیلی ہوگئی ہے”

“تم سے بات کرواونگی تم خود کہہ دینا یہ بات، میری تو وہ کچھ سنتی ہی نہیں ہیں،” عرش جل کر بولی۔ پھر سر پر ہاتھ مارا زبان دانتوں تلے دابی۔

“مجھے کچھ کہنا ہے میمونہ بات سنو”

ہاں کہو میں سن رہی ہوں”

“مجھے شاہ کا نمبر چاہئیے”، ہاتھ میں پکڑے ہوئے سوٹ پر گرفت سخت ہوگئی۔

“واٹ؟” میمونہ کی چیخ نکلی سو نکلی موبائل بھی ہاتھ سے گرتے گرتے بچا۔

“مم..مجھے غلط مت سمجھو..امی کو بات کرنی ہے..غالبا…انہیں شاہ کو تھینکس کہنا ہے.. اسلیئے چاہئے” وہ جھجک کر بولتی گئی

“نوٹ کرو نمبر”، میمونہ سوال جواب چھوڑ کے اسے نمبر نوٹ کروانے لگی۔

“تم بھی کرلینا دو چار باتیں جب امی کر چکیں” میمونہ شوخ ہوئی

“بکو مت، ویسے وہ تمہیں بھی اگر انوائیٹ کریں تو پلیز آجانا میں تمہیں پورا کراچی گھماوں گی” عرش نے لالچ دیا۔

“دعا کرو مامابابا مان جائیں ورنہ میں کل ہی آجاوں، مس کر رہی ہوں میں تمہیں، پورا ہاسٹل گویا سنسان ہوگیا ہے، ابھی برابر کمرے والی فاریہ پوچھ رہی تھی، کیا ہوا آج کل بڑا سکون ہے کمرے میں؟ اور ٹیرس پر بے فالتو کپڑے بھی نہیں بکھرے پڑے؟” میمونہ نے اسے جوش دلایا۔

“اس موٹی کی تو..اسے کہنا…”عرش جل کر راکھ ہوئی اور دو چار کھٹی سی صلواتیں میمونہ کے کانوں میں گھولیں..

میمونہ ہنسنے لگی تھی۔

بہت دنوں بعد عرش کا موڈ بہتر ہوا تھا اور یہ میمونہ کی کال کی وجہ سے….

*****

امی کو کال لگا کے دے کر وہ خود کمرے میں آگئی اور ناخن کترنے لگی۔ دروازے کی اوٹ سے وہ امی کی باتیں سننے لگی۔

“جی بیٹا میں عرش زہرا کی ماما بات کر رہی ہوں، آپکی یونیورسٹی میں جو پڑھتی ہے،جی بیٹا ٹھیک ہے وہ….

وہ دروازہ بند کر کے گیٹ سے پشت ٹکا گئی دل کی دھڑکن تھی کہ کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔

“افف یہ مجھے کیا ہورہا ہے” وہ ڈریسنگ ٹیبل کے پاس آکر بلاوجہ ہی خود پہ اسپرے کرنے لگی۔

چند منٹ بعد نورینہ بیگم نے گیٹ کھولا تو عرش کے ہاتھ سے پرفیوم گرتے گرتے بچی۔ بلاوجہ ہی وہ گھبراہٹ کا شکار ہورہی تھی۔

“یہ لو موبائل، ہوگئی بات” انہوں نے موبائل اسکی طرف بڑھاتے ہوئے اسکے چہرے کو جانچا۔

وہ آنکھیں ادھر ادھر کئیے موبائل پکڑنے لگی گویا کسی چیز میں دلچسپی نا ہو

“ادھر میری بات سنو عرش”امی نے اسے بائیں بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔

وہ خوفزدہ نظروں سے امی کو دیکھنے لگی جو پہلی بار اس طرح اسے دیکھ رہی تھیں انگلیاں تھیں کی بازو میں گڑ سی گئیں تھیں۔

” ہم نے تمہیں یونیورسٹی پڑھنے،اور صرف پڑھنے کیلئے بھیجا تھا، اگر اپنی تربیت اور تم پر یقین نا ہوتا تو تمہاری ماں تم پر سوالات کی بوچھاڑ کردیتی، اس لڑکے کو یہاں بلایا ہے اسکی ماں سمیت، میں پرکھنا چاہتی ہوں اسکا مفاد کیا ہے”

وہ کڑے لہجے میں اسے کیا کچھ باور کروا گئیں

“آپ مجھ پہ شک کر رہی ہیں امی؟” عرش کا دل رو دیا۔ آنکھوں سے بھی پانی گرنے لگا۔ بازو چھڑایا

“شک نہیں کر رہی عرش،میں بیٹی کی ماں ہوں، مجھے اپنی بیٹی کو ٹوٹنے سے بچانا ہے، تم یونیورسٹی تب جاو گی جب میں اسے لڑکے اور اسکے گھر والوں سے مل لوں گی” وہ اسے تنبیہہ کر گئیں۔

عرش سناٹے میں رہ گئی

“اتنی بے اعتباری؟”

_________

آنکھوں سے موتی ٹوٹ ٹوٹ کے گرنے لگے وہ بازو دیکھنے لگی جو سرخ ہوگیا۔

“اتنی بے اعتباری؟ وہ بھی امی؟ کیا انہیں مجھ پر اور اپنی تربیت پر بھروسہ نہیں، کیا میں اتنی بری ہوں؟” وہ خودکلامی کرتے ہوئے رونے لگی۔

امی کی باتیں ذہن کے پردے پر گونجنے لگیں۔

“یونیورسٹی تک بھیجنے سے انکاری ہوگئیں،” اسنے گھٹنوں میں سر دے لیا اور رونے لگی

“سب کچھ شاہ کی وجہ سے،جو میری اپنی ماں مجھ سے بے اعتبار ہوگئی،” اسکی آنکھوں میں جیسے حزن و طیش اتر آیا۔

*****

“امی، امی….” شاہ انساء بیگم کو آوازیں دیتا اندر داخل ہوا۔

انساء بیگم شاہ کا منہ تکنے لگیں، جو فرط مسرت سے چمک رہا تھا۔

“کیا ہوا؟

“امی…میری امی…” شاہ نے انہیں بازووں سے پکڑ کر گھما ڈالا۔

“ارے ہوا کیا ہے شاہ..، بتائیں بیٹا کچھ،” انساء بیگم اسے روکتے ہوئے بولیں اسے تکنے لگیں جو مجسم خوشی لگ رہا تھا۔

“امی آپ مجھے کہا کرتی تھیں نا مجھے عرش کے گھر لے جاؤ….میں کیسے لیکر جاتا..دیکھیں آج، آج اسکی ماما نے خود کال کر کے مجھے اور آپکو انوائٹ کیا ہے..اتنا تھینکس کر رہی تھیں وہ..کہ میں نے عرش کو بچایا..رئیلی ماما میری اتنی چھوٹی،معمولی سی کوشش کو انہوں نے احسان کی طرح لیا ماما..یہ تو میرا فرض تھا نا…” وہ جذبات سے بوجھل لہجے میں جوش سے بولتا گیا۔

“اوہ میرے خدا…کب بلایا ہے؟ اور کب جانا ہے؟” وہ حقیقتا خوش ہوئیں تھیں، انکا لاڈلا بیٹا انکی کل کائنات انہیں اسکی خوشی کیوں نا عزیز ہوتی؟ انہوں نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھاما۔

“کل ماما…کل چلیں گے..پھر پرسوں سے میں یونیورسٹی چلا جاؤں گا، اور آپ مجھے نہیں روکیں گی پلیز پہلے ہی میرا اتنا حرج ہوگیا ہے ماما..بہت برڈن ہوگیا ہے اسٹڈی کا” وہ انہیں بازو کے حصار میں صوفے تک آیا۔

“انشاءاللہ شاہ چلیں گے کل، اللہ کامیاب کرے، ہر مشکل میں ہر، ہر مسئلے میں، تمہاری ماں کی دعا تمہارے ساتھ ہے”انہوں نے دل سے دعا دی اور اسکا ماتھا چوما…..

“ماں کے لبوں سے دعا نکلی تھی، اور شاہ کے سر پر مثل نور سایہ فگن ہوگئی تھی”

*****

نورینہ بیگم سارے میں طائرانہ نظر گھماتے ہوئے جائزہ لے رہیں تھیں، عرش سے انکا دو دن سے سامنا نہیں ہوا تھا۔

وہ دوپٹہ کاندھے پہ ٹھیک کرتے ہوئے عرش کے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔ دروازے کو ہاتھ لگایا تو وہ کھلتا گیا۔

اس سے قبل عرش کمرہ بند کر کے فل والیوم میں میوزک چلایا کرتی… یا کمرے میں کپڑے وغیرہ پھیلائے ہوتے اسکی وجہ سے وہ نا کھولتی جب تک کمرے کی حالت درست نا ہوتی۔

وہ اندر گئیں، کمرے کی لائٹس بھی آن تھیں وہ کروٹ لے کر لیٹی ہوئی تھی۔ اسکی پشت نورینہ بیگم کی طرف تھی۔ انکے آنے پر بھی اس میں جنبش نا ہوئی تھی۔

“عرش ابھی تک سو رہی ہو چار بجنے والے ہیں” انہوں نے اسکے پاس بیٹھ کر اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرے۔

عرش کو ساری ناراضگی کافور ہوتی محسوس ہوئی۔ اور آنکھوں سے پانی بہنے لگا۔

“دو دن سے کمرے میں کھانا منگوا کر کھا رہی ہو، اور دو نوالے سے ذیادہ کھاتی بھی نہیں ہو؟ اتنا غصہ آیا ہوا ہے اپنی ماں پر،کہ دیکھنا بھی گوارا نہیں ماں کو؟”

وہ اٹھ کر بیٹھ گئی، بندھا ہوا جوڑا ڈھیلا سا ہو کر پشت پہ پھیل گیا۔ چہرے کے اطراف میں کٹی ہوئی لٹیں جھول رہی تھیں۔ آنکھیں سوج گئیں تھیں

“امی آپ نے مجھ پر شک کیا، مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا، میری اپنی ماں مجھ سے اس طرح بازپرس کرسکتی ہے،” وہ بے آواز رونے لگی۔

“شک نہیں کیا عرش، ماں پوچھے گی..کسی اور کو پوچھنے کی اجازت نہیں دے گی، ماں کو حق ہے سوال کرنے کا، تم شک کی بات کرتی ہو؟ یہ شک نہیں احتیاط ہے، ایک ماں اپنی بیٹی کو روکتی ہے سوال کرتی ہے اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس پر شک کرتی ہے..ماں کو اپنی اولاد پر بھروسہ اور یقین ہوتا ہے مگر دوسروں پر نہیں، اولاد کی زندگی آنکھوں کے سامنے گزری ہے کسی غیر کی نہیں،کون کیسا ہے اولاد سے بہتر ماں باپ جانتے ہیں، اسلیئے روکتے ہیں سوال کرتے ہیں عرش،”

وہ اسکے آنسو صاف کرنے لگیں

عرش کی سمجھ میں بات آئی تو وہ سر جھکا گئی

“اور میری عرش تو بہت معصوم ہے، اسے کیا پتا دنیا کے بھید کا..”اسے کیا پتا لوگ جو دکھائی دیتے ہیں ویسے ہوتے نہیں ہیں” انہوں نے ٹھوڑی سے اسکا چہرہ اوپر کیا

“آئن سوری امی” جیسے ہی دل سے غبار صاف ہوا وہ امی سے لپٹ گئی۔

“اٹس اوکے” انہوں نے اسکا سر چوما۔ “اب اٹھ کے تیار ہوجاؤ، جن کو بلایا تھا ایک گھنٹے میں انہوں نے آجانا ہے، میں مل لوں ان سے تاکہ تمہیں بے فکر ہوکر یونیورسٹی بھیج سکوں” وہ مسکرائیں۔

“ہوتی ہوں تیار امی” وہ بمشکل مسکرائی دل عجیب سا ہوگیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *