Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Aur Zahra (Episode 24)

Shah Aur Zahra by Uzma Usman

تھینک یو میری پوزیشن سمجھنے کیلئے” وہ مشکور ہوا۔

“جی جی” عرش نے بناوٹی مسکراہٹ چہرے پر سجا لی۔ اندر تو کہیں بھانبھڑ جل رہے تھے الفاظ کی صورت۔

“میں تو سمجھا تھا میں کمرے میں آؤں گا، تو کہرام مچا ہوگا، مگر سب ٹھیک ہے،” وہ حیران ہوتے ہوئے اپنے تاثرات بتا رہا تھا۔ اور عرش کا دل چاہ رہا تھا وہ واقعی کہرام مچا دے۔

“سچ کہوں تو واقعی مجھے خوشی ہوئی”

عرش ضبط کے کڑے مرحلے سے گزر رہی تھی۔

“مجھے فخر ہے، میری بیوی اتنی سمجھدار اور معاملہ فہم ہے،” شاہ نے اسکے کان کے پاس جھولتی لٹ کو کان کے پیچھے ٹکایا۔

“عبدالہادی نے کہا تھا، زیادہ بولنے والی لڑکیاں بےوقوف ہوتی ہیں، کم عقل، مطلب کہ، دماغ سے ذیادہ زبان سے کام لینے والی،” وہ ہنس کر کہہ رہا تھا۔

عرش کا منہ سرخ ہوگیا اہانت سے، وہ بالواسطہ اس پر طنز کر رہا تھا۔

“اور تمہیں پتا ہے؟ اس نے کہا تھا….”

“ایک منٹ”عرش بیڈ سے نیچے اتری۔ اسکی بس ہوگئی تھی۔

“میں بھاگ کر نہیں آئی آپکے ساتھ،، نا ہی لو میرج کر کے آئی ہوں، یہ امی نے رشتہ مانگا تھا۔ ایک بار نہیں کئی بار” وہ انگلی اٹھا کر بپھر کر بول رہی تھی تنفس تیز تھا۔

“میں یہاں فضول میں آپکے طنز کیوں سنوں؟” میں نے کہا تھا مجھ سے شادی کریں؟،،جب نہیں پسند تھی تو نا کرتے،، کر لیتے اپنی طرح کسی ڈاکٹر سے شادی آپ،، ایک بات میری سن لیں شاہ،” وہ آگے کو ہوئی۔ شاہ کا ہونق چہرہ دیکھا۔

” میں بالکل بھی بلا وجہ باتیں نہیں سنوں گی، میں امی کو کال کر کے بتا دوں گی، یہ لو میرج نہیں ہے، جو میں اپنے ماں باپ سے باتیں چھپاوں گی، میں جیسی تھی، ویسی ہی رہوں گی، میں یہاں سے کسی صورت کہیں نہیں جانے والی، بلکہ یہیں رہ کر آپکے سینے ہر مونگ دلوں گی” اس کی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے۔ مگر لہجہ چٹانوں سی سختی لئیے ہوئے تھا۔

شاہ حق دق تھا۔ اسکے سر پر آسمان بھی گر پڑتا تو اسے اتنا صدمہ نا ہوتا جتنا اب عرش کو بے خبر رکھ کے ہورہا تھا۔ وہ سر تھام کر بیٹھ گیا۔ جبکہ عرش کمرے سے باہر چلی گئی تھی۔

“یا اللہ کیسے اور کہاں تک سنبھالوں گا میں” وہ کراہ کر رہ گیا۔

****

وقتی غصہ تھا عرش کا جو اتر گیا۔ وہ شاہ سے سوری کر کے نارمل ہوگئی۔ شاہ کے سر سے ٹنوں کے حساب سے بوجھ اترا تھا۔ ورنہ وہ پریشان تھا۔عرش کی باتیں بہت سخت تھیں اور غصہ دلانے والی،،،،،

وہ درگزر کرگیا، لاڈلی اکلوتی من پسند، اور محبوب بیوی تھی آخر، اتنی محنتوں کے بعد اسے ملی تھی…..

ایک دن گزرا،، شاہ کو کچھ کھٹکا سب کچھ نارمل ہونے کے بعد بھی “نارمل” نہیں تھا۔ مگر کیا؟ یہ شاہ کو اندازہ بھی نہیں تھا نا ہی خبر تھی۔

***

لاؤنج پھر سے سنسنان ہوگیا۔ عرش زہرا ہلکی آواز میں ضرورت کے الفاظ خرچ کرتے ہوئے، انساء کے ساتھ کچن میں ہاتھ بٹا دیتی۔ ذیادہ تر سر ہلانے پر اکتفا کرتی یا ہوں ہاں پر، انساء لاکھ کوشش کرتیں، مگر وہ کچھ بول کر نا دیتی۔

شاہ کے سامنے بھی ہوں ہاں، اسکی کسی بات سے اختلاف نا کرتی۔ شاہ کو اسکی طبیعت کی خرابی پر شک گزرا تھا۔

“تم ٹھیک ہو؟” ڈریسنگ ٹیبل پر چیزیں سیٹ کرتی ہوئی عرش زہرا سے اس نے پوچھا۔

“جی مجھے کیا ہونا ہے؟” کندھے اچکا کر سارے سوال ختم کرتے ہوئے وہ صفائی کر کے نیچے چلی گئی۔

“تم نے ابھی تک امی (شاہ کی دادی) کی بات کو دل سے لگایا ہوا ہے نا عرش؟” انساء نے آنسو بھری آنکھوں سے پوچھا وہ عرش کی پہلے کی سی آوازیں سننا چاہتی تھیں۔

عرش شرم سے پانی پانی ہوگئی۔ انساء بہت شرمندہ نظر آر ہیں تھیں۔ عرش کو افسوس ہوا۔

“امی سچ میں ایسا کچھ نہیں ہے،،” وہ انکو کندھوں سے تھام کر تشفی کروانے لگی۔”

“پھر تم اب بولتی کیوں نہیں ہو؟ ہنستی ہوئی نظر نہیں آتی؟” وہ آنکھوں کے کنارے خشک کرنے لگیں۔

عرش کا دل کیا شاہ کی ساری باتیں بتا دے،، بڑی مشکل سے اس نے خود کو روکا،

“آپکو غلط فہمی ہوئی ہے پیاری امی” عرش نے انکے کندھے پر سر ٹکا لیا۔ وقتی طور پر ہی سہی بات سنبھل گئی۔

شام ہوتے ہی۔ شاہ زمان لاؤنج میں کوئ میگزین لے کر بیٹھے،دادی اپنی تسبیح سمیت اور انساء ٹی وی لگا بیٹھ گئیں، شاہ بھی سیڑھیوں سے اترتے دکھائی دئیے،،،خیال تھا عرش جو کچن میں سب کے لئیے، نگٹس، فرائی کر رہی ہے، سب مل کر پہلے کی طرح کھائیں گے باتیں کریں گے،

عرش ہاتھ میں ٹرے میں نگٹس کیچپ کباب لیکر نمودار ہوئی سلیقے سے کانچ کی ٹیبل پر رکھا۔ مسکرا کر سب کو پیش کیا۔ اب وہ تھوڑی بہت کوکنگ کرلیتی تھی۔ شاہ اسکے بنائی چیزوں کو نقص نکالے بنا کھا لیا کرتا تھا۔ اسکی حوصلہ افزائی کرتا،،

شاہ اسے پہلے کی طرح چیزیں سرو کرتا دیکھ کر مطمئن ہوگیا۔ مطلب وہ بلا وجہ وہم میں مبتلا تھا۔

عرش نے سب کی پلیٹیں بھر کر، اپنا دوپٹہ سر پر جمایا۔ خاموشی سے خالی اضافی برتن اٹھائے، اور کچن میں رکھ کر واپس یہ جا وہ جا… اوپر کمرے میں،،، خاموشی سے

میمونہ نے آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ ٹی وی کا ریموٹ پٹخا۔ شاہ زمان شکوہ کناں نظروں سے اماں کو دیکھ رہے تھے۔ پھر اٹھ کر اسٹڈی میں چلے گئے۔ دادی شاہ زمان کی نظروں کی تاب نا لاتے ہوئے، اپنی تسبیح سنبھالتی کمرے میں چلی گئیں۔

پیچھے شاہ اور انساء رہ گئے، اور شاہ سے باتیں کرنے کی امید رکھنے سے بہتر تھا۔ انساء دیواروں سے بات کرلیتیں،،،،

“نجانے کس کی نظر لگ گئی میرے گھر کو، میری بچی بولنا ہی چھوڑ گئی ہے” انساء ٹی وہ بند کرتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئیں،،

شاہ نے لمحوں میں آباد اور پھر ویران ہوتے لاؤنج کو دیکھا۔ اسکا ماتھا ٹھنکا تھا۔ مطلب یہ اسکا وہم نہیں تھا

اوہ میرے خدا،عرش ابھی تک ناراض ہے،پھر وہ اس دن سوری؟ …” شاہ سر پکڑ کر رہ گیا۔ یہ بلا وجہ کا وہم نہیں تھا۔ عرش زہرا واقعی “خاموش” ہوگئی تھی۔ شاہ کے دل کو دھکا لگا۔ کمرے میں بھی وہ اسکے باتوں کا جواب یا مسکرا کر دیتی یا ہوں،ہاں سے،، وہ اسے شرم سمجھتا تھا اور یہ “ناراضگی” تھی

***

“عرش بات سنو”وہ نیند کی وادیوں میں جانے ہی لگی تھی کہ شاہ نے اسکا کندھا ہلایا۔

“جی کہیں؟” وہ کروٹ اسکی طرف کہتے ہوئے بولی۔

“تم مجھ سے ناراض ہو ابھی تک؟” شاہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا، ساتھ ہی اسکا سر اپنے بازو پر رکھ لیا۔

“نہیں میں کیوں ہونگی؟” دل جلی مسکان چہرے پر سجا کر عرش زہرا نے کہا۔

“تم بولتی نہیں ہو اتنا،، ایسا لگ رہا ہے جیسے میرے کان خراب ہوگئے ہیں، میں کچھ سننے کے قابل نہیں رہا، وہ میٹھی سی باتیں نہیں سناتیں تم اب مجھے” وہ اس پر جھک کر محبت سے کہہ رہا ، اسے بتا رہا تھا اسکی باتیں کتنی امپورٹنٹ ہیں،،

عرش کو لگا شاہ پھر طنز کر رہا ہے،، وہ لڑ پڑے گی، یا جتا دے گی،

“مجھے نیند آرہی ہے میں سو جاوں؟” اسکا بازو ہٹاتے ہوئے عرش نے نرمی سے کہا۔

شاہ چونک گیا۔ پھر اثبات میں سر ہلایا۔ وہ تکیے میں منہ گھسا کر سوگئی۔ اور شاہ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔ ناراض بیوی کو انسان منا سکتا ہے، مگر عرش زہرا کو کیسے منائے، جو ناراضی ماننے کو تیار ہی نا تھی، شور خفا بھی انتہا درجے کی تھی۔ وہ بیڈ پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔

“یااللہ” ہلکی آواز میں وہ کراہ گیا۔

“ابھی تو شروعات ہے مزہ چکھاوں گی، میرےپیار کو میری باتوں کو ہلکا لیا ہوا تھا” عرش بڑبڑائی اور کمبل منہ تک ڈال لیا۔

!نکے کمرے کی سیاہ کھڑکی کے پیچھے، چاند بھی ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ سیاہ گھنگھور رات میں گورا، حسین چاند….ویسے ہی جیسی انکی ناراضگی میں بھی انکی محبت تھی چمکتی ہوئی..دمکتی ہوئی۔ آنکھیں چندھیاتی ہوئی…!!

شاہ اسکے لئیے پریشان تھا ،

عرش پریشان کر بھی خوش نا تھی۔

پہلے بولتی تھی تو بری لگتی تھی، اب خاموش ہی ٹھیک ہوں، یہ عرش کا خیال تھا۔

“میری عرش کتنا بولتی تھی، اللہ کیا ہوگیا ہے اسے،” شاہ متفکر تھا۔ اسکی پیٹھ کو تک رہا تھا وہ جو اسکی جانب سے کروٹ لئیے ہوئے تھی۔

شاہ جو مرضی بولتا بس محبت کرتا تو وہ اس کان سے سن کر دوسرے سے اڑا دیتی.. مگر کرتا تب نا…

وہ جو عرش زہرا تھی،

وہ بن شاہ کے ادھوری تھی

وہ جو شاہ ارسلان تھا۔

وہ بن عرش کے ٹوٹا تھا۔

وہ جو باتیں اسکی تھیں،،

وہ کانوں میں گونجتی تھیں،،

“وہ جو لہجہ اسکا تھا،،

“ابھی تک دل دکھاتا تھا،،

“یہ جو غصہ آیا تھا،،

محبت پر تھا نا اس پر تھا،،

یہ عرش کو آیا تو بس،،

شاہ کی کج ادائیوں پر تھا…،،

***

ایک دن دو دن تین دن، شاہ کی بس ہوگئی۔ نا کچھ بتاتی تھی نا کچھ کہتی تھی۔ بس مسکرا کر ٹال دیتی۔

وہ بلاتا پاس تو آجاتی۔ اسکی باتیں سنتی،سر ٹکائے خاموشی سے،، شاہ اسکی خاطر بول بول کر تھک جاتا۔ مگر ہوں ہاں سے زیادہ نا بولتی۔ شاہ جھنجلا جاتا۔ عرش کو دزدیدہ نظروں سے دیکھتا شاید وہ ترس ہی کھا لے،، غصہ ہی کرلے۔ مگر نہیں۔ وہ ٹس سے مس نا ہوتی۔ (اسٹیمنا تھا جو بڑھ گیا تھا عرش زہرا کا.

_________

اس نے ثابت کرلیا کہ وہ بولنا جانتی ہے تو خاموش رہنا بھی،،

انساء بھی اسے اسکے حال پہ چھوڑ چکیں تھیں،شاہ زمان کئی بار اسکے سر پر ہاتھ رکھے پیار سے پوچھ چکے تھے، وہ مسکرا دیتی۔ اور ان سب کے دل منوں بوجھ تلے آجاتے۔ انساء ہول جاتیں، کیا جواب دیں گی نورینہ کو اتنی چنگی بھلی لڑکی تھی، یہاں آکر کیا ہوگیا، کتنے ارمانوں سے بیاہ کر لائی تھیں اور یہ حال؟؟ وہ ہول جاتیں۔

دادی شرمندہ تھی، ان پر بھی کھلا تھا۔ عرش نے جو چند دنوں میں یہاں اپنے میکے کی طرح سب کو زندہ دل کیا تھا۔ اب وہ سب مس کرتے تھے، عرش کی ہنسی،

“امی صرف یہ دن ہیں اسکے، جب وہ اپنی زندگی جی سکتی ہے، کھیل سکتی ہے، کھل کر ہنس سکتی ہے، شرارتیں کر سکتی ہے،،جب ماں بن جائے گی، تو اسے مثال بننا ہوگا اپنی اولا کے لئیے، یہ سب مستیاں بالائے طاق ویسے بھی رکھنی ہونگی، رول ماڈل بننا ہوگا اولاد کیلئے، امی ہم اس سے ابھی سب کیوں چھین لیں؟؟” انساء سوال نہیں کر کے گئیں تھیں، وہ اپنی ساس کو کٹہرے میں کھڑا کر کے چلی گئیں تھیں، وہ شرم سے پانی پانی ہوگئیں، ،ساری زندگی پوتے بہو بیٹے کا دل نا دکھایا نا شکایت ہونے دی؟ پھر لاڈوں پلے شہزادے جیسے پوتے کی بیوی سے کیوں بلا وجہ خدا واسطے کا بیر رکھا تھا؟؟ دل میں جھانکا تو جواب ندار۔ وہ شرمندہ ہوئیں،پہلے اللہ سے معافی مانگی پھر جسکا دل دکھایا تھا اس سے، عرش تو تڑپ گئی۔ دادی کے سینے میں سر چھپا کر رو پڑی،

“آپ میری بزرگ ہیں، دادی، آپ کی مار کھا کر بھی میں افف نا کروں، میری ماں نے یہ سکھایا ہی نہیں،،میں..میں تو.. شاہ سے ناراض ہوں اور کسی سے نہیں،” وہ روتے ہوئے بول پڑی تھی۔ .دادی نے اسے چپ کروایا پانی پلایا اسکے نرم دودھ ملائی جیسے چہرے کو محبت سے دیکھا تو خود ہی دل میں جگہ بن گئی۔

دادی نے اسے سمجھایا تھا ایک گھنٹہ پتا نہیں اسکی سمجھ میں آیا تھا یا نہیں

واللہ اعلم۔

****

شاہ تھک گیا تھا ہار بھی ماننے ہی والا تھا۔ اسے اب ایسی عرش زہرا کے ساتھ رہنا تھا جو اسے زبانی تو معاف کر چکی تھی مگر دل سے نہیں، اسے افسوس ہوتا،، یونیورسٹی کے دنوں والی عرش کا اب والی عرش سے موازنہ کرتا، پھر شرم سے گڑ جاتا۔ اسکا مسئلہ سمجھ سے باہر تھا، آخر وہ ناراض کس بات پر تھی؟ اس دن ٹوکنے پر، یا کچھ اور؟؟” سمجھ میں پھر سے بات نا آئی۔

وہ کس سے مسئلہ شئیر کرے؟ اسے کوئی سمجھ ہی نہیں سکتا تھا۔ کیا کہتا پہلے بیوی بہت بولتی تھی اب خاموش اداس ہوگئی ہے؟ اگلا بندہ ہنستا مذاق اڑاتا۔ کسی کے ساتھ ایسا ہوا ہی نا ہوگا۔

مگر ایک منٹ زندگی میں ملنے والے انسان بیکار نہیں ملتے،،یا تو سبق دے جاتے ہیں، یا مدد، غیبی مدد بھی ایسے ہی ہوتی ہے، کوئی فرشتے آسمانوں سے آکر کانوں میں سرگوشیاں نہیں کرتے۔

یہاں سے دور جاو کراچی کے ساحل پر، چائنہ پورٹ کی مدھم ہوتی روشنیان اور سمندر کی لہروں کہ اٹھا پٹخ…،،

سفید چونے کے پتھروں پر بیٹھے شاہ ارسلان، اور وہ پیارا سا لڑکا عبدالہادی….،،

کانوں میں اسکی آوازیں گونجنے لگیں

“ہاہا..بھائی جتنا میں بولنے لگا ہوں اتنا ہی “خاموش پتلا” ہوا کرتا تھا، یہ آپکی بھابھی کی مہربانیاں ہیں جنہوں نے مجھے “فل چارج”کردیا ہے” وہ دل کھول کے ہنسا تھا۔

” مطلب میرا مستقبل بھی کچھ ایسا ہی ہونا ہے؟ اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ اور “شاہ مسکرایا دل میں کلی سی کھل گئی تھی،

“انشاءاللہ بھائی مجھے سے بھی ذیادہ چارج کریں گی بھابھی آپکو، ویسے وہ بھی ذیادہ بولتی ہیں کیا؟” عبدالہادی نے پاس پڑا پتھر اٹھایا اور پانی میں اچھالا۔ دور کھڑی بحریہ آئیکون، اور ٹوئن ٹاور کی بیرونی لائٹس آن ہورہیں تھیں۔

“ذیادہ؟”شاہ ارسلان نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔

وہ دونوں ہنس پڑے تھے،،

وہ ماضی سے حال میں آیا۔

“اللہ” وہ موبائل کان سے لگاتے ہوئے اوپر چھت پر چلا گیا۔

***

نیلی ٹھنڈی سی شام…، سفید پریوں نما کبوتر آسمان پر محو رقص تھے…شاہ موبائل کان سے لگائے کھڑا تھا۔

عبدالہادی ہنسے جا رہا تھا۔ شاہ بے زاری سے اسکی ہنسی تھمنے کا انتظار کر رہا تھا۔

“اوہ گاڈ،،یو مین؟ آر یو میڈ؟ اپنی بیوی کو تم نے بولنے پر ٹوکا،،؟؟ اور ابھی تک اسے بتایا نہیں کہ یہ لو میرج ہے؟” وہ ہنستے ہوئے بمشکل بول رہا تھا۔

“بھائی میرے،،ادھر جن کو محبت نہیں بھی ہوتی، وہ بھی شادی کے اگلے دن بیوی کو کہہ رہے ہوتے ہیں، “پہلی نظر میں ہی تم میرے دل میں اتر گئیں تھیں، ای ٹی سی،، اور تمہاری محبت تو اچھی خاصی، دلکش اور سوبر سی تھی؟ دعوتیں بھی اچھی خاصی کی تھیں دوستوں کی؟ابھی تک بتایا کیوں نہیں؟” نواب شاہ میں بیٹھے اتنے دور بس ٹیکنالوجی سے جڑے ہوئے تھے بس عبدالہادی اور شاہ، مگر ہادی اس چیز تک پہنچ گیا تھا جہاں شاہ نہیں پہنچا تھا۔ شاہ کے ذہن میں جھماکا ہوا۔ مطلب عرش زہرا؟ اسکی جانب سے محبت کا اظہار چاہتی تھی، اور گتھیاں سلجھانا…؟؟

“ویٹ میں بعد میں کال کرتا ہوں تمہیں،اینڈ تھینک یو،” وہ موبائل پاکٹ میں ڈالتے نیچے بھاگا۔ ایسی کی تیسی انا کی عرش سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا۔ دوسری جانب عبدالہادی نے قہقہ لگایا تھا،، اتنا تیز کہ اسکی بیوی اسے بے ساختہ ناگواری سے ٹوک گئی۔

***

کمرے کا دروازہ کھولا تو عرش جائے نماز پر بیٹھی ہوئی تھی۔ کریم کلر کی چادر کے ہالے میں متورم سا چہرہ وہ اور دعا کو اٹھے ہوئے ہاتھ۔بند آنکھیں لرز رہیں تھی۔ دعا مانگ کر اسنے چہرے پر ہاتھ پھیرے۔ اور ادھر ہی بیٹھی رہی۔ شاہ دبے قدموں چلتے ہوئے آکر اسکی گود میں سر چھپا لیا۔شاہ سفید شلوار قمیض میں تھا۔ عرش کو بے ساختہ وہ فجر یاد آگئی۔ اختلاف اپنی جگہ، رنجش اپنی جگہ وہ شاہ سے بے حد محبت کرتی تھی۔ اور وہ یوں بچوں کی طرح اپنا چہرہ اسکی گود میں چھپائے ہوئے تھا۔ عرش کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا۔ وہ اسکے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی۔

“کیا مانگا عرش؟” وہ سیدھا ہوا۔ اسکے گھٹنوں پر سر رکھ گیا۔

“محبت” یک حرفی جواب

“کب سے مانگ رہی ہو؟” وہ امتحان لینے پر اتر آیا۔

“پانچ سالوں سے” شاہ سے ملے ہوئے پانچ سال ہی ہوئے تھے۔

“تمہیں رب الرحمن پہ اتنا یقین نہیں؟ کہ وہ اتنا مانگنے پر بھی نہیں دے گا؟ وہ بھی محبت؟” شاہ کے لہجے میں تاسف در آیا۔عرش سے جواب نا بن پڑا۔

“بتاؤ؟ “

“اب لگ رہا ہے دیا ہے شاید” شاہ کی آنکھوں میں آنے والی نمی دیکھتے ہوئے اسکا دل پگھلا۔

“اب؟” اس نے نفی میں سر ہلایا۔

“میں پچھلے چھ سالوں سے تم سے محبت کرتا ہوں عرش،بے حد یونی کے پہلے دن سے،” عرش متحیر ہوئی۔

“میں سمجھتا تھا محبت الفاظ کی محتاج نہیں ہوتی، نا ہی اسے سبق کی طرح دہرانے کی ضرورت ہوتی ہے،،” وہ اٹھ بیٹھا۔

عرش نے آنکھوں سے پانی بہنے دیا عجیب کیفیت تھی۔ یہ وقت مغرب ایک بار پہلے اس پر آگہی کے در کھول چکا تھا۔ ایک بار پھر کھول رہا تھا۔

عرش نے جائے نماز لپیٹ کر رکھی۔ اور شاہ کے پاس آ بیٹھی وہ نیچے بیٹھا ہوا تھا۔

“مجھے لگتا تھا میری عرش مجھے سمجھتی ہے، مجھے اظہار کی ضرورت ہی کیا،؟ شاہ مسکرا کر کہہ رہا تھا۔ مسکراہٹ جس میں حزن تھا۔ عرش نے آنکھیں جھکا لیں۔

“پھر بھی میں نے کہا تھا، جب تمہیں اپنے پاس لایا، میں تم سے بے حد محبت کرتا ہوں عرش،”

“جھوٹ” عرش نے منہ کھولا۔ آنسو بہہ رہے تھے

شاہ نے استفہامیہ نظروں سے دیکھا۔

“آپ مجھ سے محبت کرتے، تو یوں بات بات پہ مجھے ٹاونٹ نا کرتے،

اگر آپ کرتے، تو آپ کو میں جیسی بھی ہوتی اچھی لگتی۔

آپ نے نکاح سے پہلے ایک بار بھی بات نہیں کرنے کا کہا،،”وہ دھیرے دھیرے بھڑاس نکال رہی تھی۔ شاہ خاموشی سے سن رہا تھا۔

“آپ نے ایک بار میرے پرپوزل ریجیکٹ کرنے دینے پر، دوبارہ سوال تک نہیں کیا،” اب وہ باقاعدہ رو رہی تھی ہچکیوں سے

“آپ نے انکار پر کہیں… اور منگنی کی بات بھی کرلی تھی،”

“آپ نے..م امی کی… اس دن گروسری کا بل بھی پے نہیں کیا تھا، حلانکہ اس دن آپ چاہتے تو امی کو منانے کیلئے کچھ کرتے،” وہ روتے ہوئے بول رہی تھی۔ شاہ جو اتنی سنجیدگی سے سن رہا تھا۔ اب ہنس پڑا۔ روتی ہوئی عرش اور بپھر گئی۔

“آپ مجھ پر ہنستے بھی ہیں،” وہ ہاتھ کی پشت سے گالوں کو رگڑ رہی تھی۔ ناک گلابی ہوگئی تھی

“میں تمہارے اعتراضات کے جواب میں کچھ نہیں کہوں گا،” ایک منٹ”شاہ نے موبائل نکالا۔ “مجھ پر نا سہی، اپنی دوست پر اعتبار تو ہوگا نا؟ جو میری ہمراز رہی؟” عرش چونکی۔

اسنے کال لگائی میمونہ سے کہا کہ وہ عرش کو بتائے جو سب ہوا تھا، کیا وہ عرش سے دستبردار ہوگیا تھا؟۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *