Shah Aur Zahra by Uzma Usman NovelR50705 Shah Aur Zahra (Episode 16)
Rate this Novel
Shah Aur Zahra (Episode 16)
Shah Aur Zahra by Uzma Usman
شاہ کا دل چاہا وہ اس سرپھری کے پاس چلا جائے مگر نجانے کیوں وہ اپنے کپڑے خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اسے کوفت سی ہوتی تھی
وہ وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا
یکایک ایک لہر آئی اور عرش کا قدم لڑکھڑایا وہ ایک سیکنڈ کیلئے پانی میں ڈوب کر ابھری لہر اسکے قد سے اونچی تھی
شاہ بھاگ کر اسکے پاس پہنچا اسے زبردستی باہر کھینچ آیا۔
عرش کے پاؤں میں پتھر لگا تھا جسکی وجہ سے وہ لڑکھڑائی تھی۔ شاہ بے خبر اسے غصے سے باہر لے آیا وہ پورا بھیگ گیا تھا، سفید شرٹ گیلی ہوکر اسکے جسم سے چپک گئی تھی۔ اسکا کسرتی بدن نمایاں تھا۔
“شاہ میرا پاؤں” وہ کراہی
“کک کیا ہوا” شاہ نے اسکا بازو چھوڑا اور اسکے پاؤں پر جھکا
وہاں انگوٹھے سے خون رس رہا تھا اور غالبا تھوڑا سا ناخن اکھڑ بھی گیا تھا۔ اور پاؤں پلٹنے کے سبب اسکے گھٹنے پر بھی پتھر لگا تھا
“منع کیا تھا نا اندر پتھر ہیں؟ نا جاو یہاں سے؟ تمہاری سمجھ میں عقل کی بات کیوں نہیں آتی؟ کھارا پانی اس زخم کو کتنا خراب کرے گا یہ تمہیں گھر جا کر پتا لگے گا” شاہ کی غصے سے پیشانی کی رگیں تن گئیں، وہ ریت پر بیٹھے تھے وہ اسکے پاؤں پر جھکا تھا اور سیدھے ہوتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں
عرش رونے لگی
“بہت درد ہورہا ہے” اسکی آنکھوں سے پانی بہنے لگا
“کیوں تم تو بچی نہیں ہو نا؟ اب درد کیوں ہورہا ہے؟”
“آئم سوری شاہ مجھے..نہیں پتا تھا کہ میرا پاؤں رپٹ جائے گا،” عرش کے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی اور شرمندگی الگ شاہ کے سامنے دعوے کئیے تھے اور اب چوٹ لگوا بیٹھی تھی نجانے اسی کے سامنے اسکی سبکی کیوں ہوتی تھی۔
“اب اٹھو اندر Hut میں چلو میں اسے منرل واٹر سے صاف کر کے کور کردوں” وہ اسکے آنسو دیکھ کر نرم ہوا۔
اسکا ہاتھ تھام کر اسے اٹھانا چاہا
مگر سر نے اٹھنے سے انکار کردیا
“نہیں اٹھنا یہیں کردیں، بہت درد ہورہا ہے، نیل بھی اور اور گھٹنے پر بھی درد ہے” اسنے روتے ہوئے بتایا
“یہاں کیسے کردوں؟ تھوڑی ہمت کرو اٹھو نا عرش
“وہ موم ہوا پگھل ہی گیا
“ایک منٹ” وہ رکا جھکا اور ریت پر بیٹھی عرش کو اپنے بازووں میں اٹھا لیا۔ اسے ڈپٹنے لگا۔ اردگرد سے بے نیاز اسے بازووں میں اٹھائے وہ دس قدم دور ہٹ میں لے آیا لائف گارڈز بھی اسے دیکھ رہے تھے جو اپنی بیوی کو ڈانٹ رہا تھا ہے سمجھا رہا تھا پھر اسے اٹھا بھی لیا تھا۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟” ابھی اسے اتارا نہیں تھا وہ اسکی بانہوں میں تھی ہونق بنی عرش زہرا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں
عرش نے آنکھیں میچ لیں۔
شاہ نے اسکا گال چوما،اسکی بانہوں میں لیٹی عرش زہرا لرز گئی سر تا پا دل تھا کہ ابھی پسلیاں ٹوڑ کر باہر آجائے گا شاہ نے اسے موڑھے نما چھوٹی سی چارپائی پر بٹھایا اور خود اسکے قدموں میں بیٹھ گیا، وہ ایفیشنٹ سا، نفیس، اور مہذب سا لڑکا اسکے پاؤں کو اپنے گھٹنے پر رکھے ریت سے صاف کر کے اب پانی سے دھو رہا تھا۔
پھر پانی اور ریت سے بچانے کیلئے اسنے پلاسٹ کا ریپر چڑھا دیا،
“گھر جانے تک اسے ایسے ہی رکھنا ہے، اب تمہیں بڑا لگے یا اچھا اس سے بہتر طریقہ پانی اور ریت سے بچنے کا نہیں ہے” شاہ اسکے پاس بیٹھ گیا وہ دونوں گھٹنے کھڑے کئیے، بازو گھٹنوں کے گرد لپیٹے خاموش بیٹھی تھی۔ اسے تک رہی تھی…وہ کچھ کہہ رہا تھا وہ سن رہی تھی..مگر کہہ کیا رہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی
“تم سن رہی ہو؟” بنا پلکیں جھپکے وہ اسے کب سے دیکھے جارہی تھی تو شاہ نے اسکا سر ہلایا
” میں یہاں شکرانے ادا کروں، مجھ پر واجب ہوا ہے” عرش نے بھیگی آنکھوں سے ایک بلکل مختلف بات کہی،
“سوری؟ میں سمجھا نہیں؟ ” شاہ نے نا سمجھی سے استفسار کیا
“کچھ نہیں!” اور کہتے ساتھ ہی شاہ کا بازو پکڑا اور سر ٹکا لیا۔
شاہ اسے دیکھے گیا، محبوب تھی اور محرم تھی، محبت تھی، اور کرتی تھی، کرم تھا رحم تھا،عطا تھی، وہ اسکی تھی، شاہ مسرور ہوا،
ایک بازو اسکے گرد کھینچ لیا اور اسکے بالوں پر بوسہ دیا۔
وہ مسکراتی رہی آنکھیں بند تھیں، رب رحمان کی نعمتوں کا شمار کر رہی تھی،،
شاہ نے Hut سے ٹیک لگا لی،
“صرف تم ہی نہیں، مجھے بھی شکرانے ادا کرنے ہیں عرش،”شاہ اسکی ادھوری بات کا مفہوم اب سمجھا تھا
“آپ پر بھی واجب ہوا؟” آنکھوں میں محبت کی روشنی لئیے وہ اسے دیکھتی سیدھی ہوئی، اظہار کا نجانے یہ کونسا طریقہ تھا، جو بھی تھا،، بہت خوب تھا
“تم سے پہلے مجھ پر ہوتا ہے، میرے دل اور جسم نے تو نجانے کتنے شکرانے ادا کئیے ہیں اور ابھی کتنے ہی قضا ہو رہے ہیں”
” پھر میں اسے آپکا اظہار سمجھوں؟” شرارتی سی عرش جاگی
“کونسا اظہار؟” وہ اپنے تاثرات چھپا گیا
“یہی جو ابھی اپنے کہا کہ آپ مجھے مجھ سے ذیادہ محبت کرتے ہیں،” عرش نچلا ہونٹ دانتوں تلے دابا۔
“میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا، تم کہہ رہیں تھیں کچھ کیا کہہ رہیں تھیں اب کہو” وہ انجان بنا، پھر ہاتھ اسکی ٹھوڑی پر ٹکا کر اسکا لب دانتوں کی قید سے چھڑایا۔
“میں نے کچھ نہیں کہا،مونی کو ڈھونڈیں اور چلیں اب اسے پارکس، سے سیدھا گھر لے جائیں گے میں تھک گئی بہت، چرنا جانے کی ہمت اور حوصلہ دونوں نہیں” عرش نے موضوع بدل دیا مبادا وہ اسکے اظہار والی بات پکڑ لیتا
“جیسے آپکا حکم” شاہ نے سر کو خم دیا اور ہٹ سے نکل آیا،
مسکراتی ہوئی عرش کی نگاہ اپنے پاؤں پر گئی تو اسکی ہنسی نکل آئی،ریپر سے اسکا پاؤں ڈھکا ہوا تھا،”اب کھسے کیسے پہنوں گی اسے فکر لاحق ہوئی”
کچھ منٹوں بعد شاہ اور میمونہ کی واپسی ہوئی، میمونہ سر تا پا ریت سے اٹی ہوئی تھی، کپڑے اسکے خشک ہوچکے تھے
عرش کا پاؤں دیکھ کر تو پہلے اسے دکھ ہوا پھر شاہ کی زبانی اسکی کارستانی سن کر تو جو وہ بولنا شروع ہوئی الامان!
“اگر تم میں عقل نہیں تو جن میں ہے انکی بات مان لیا کرو،، تم نے طے کیا ہوا ہے، ہر جگہ جاکر چوٹ لگواو گی اور میرے معصوم سے جیجو کو جی بھر کے پریشان کرو گی” وغیرہ وغیرہ، وہ بولتی جا رہی تھی شاہ ہنسی روکنے کے چکر میں ہٹ سے باہر نکل آیا مبادا عرش اسکی دیکھ کر اس پر خفا ہوتی
*****
پھر شاہ ان دونوں کو آلہ دین پارک لے گیا تھا وہاں سے سفاری، پھر گھر،اگلا دن آخری تھا، ہفتے کی شام انہوں نے چلے جانا تھا پھر یونیورسٹی اسٹارٹ تھی۔ سندباد،پھر گھر
نورینہ بیگم دہائیاں دے رہیں تھیں،”میرے بیٹے کو گھن چکر بنایا ہوا ہے، روز ان مفتیوں، کو لے کر یہاں وہاں خوار ہوتا رہتا ہے”شاہ کیا کہتا؟
“انساء بیگم سمجھاتیں، “کوئی بات نہیں، نورینہ یہی تو دن ہیں گھومنے پھرنے کے، پھر شاہ باہر چلا جائے گا اسپیشلائزیشن کیلئے،پھر آنے کے بعد انکی شادی تو گھومنے پھرنے دو انہیں،” شاہ امی کا مشکور ہوتا جنکی وجہ سے وہ عرش کے ساتھ ساتھ تھا۔
“میرا نمبر نہیں سیو کرو گی؟ یا ابھی میں تم سے بات کرنے کیلئے میمونہ کا سہارا لیا کروں؟” انکے گھر سے نکلتے ہوئے شاہ نے پوچھا
“لائیں میں سیو کروں،” وہ ہنسی
شاہ نے اسے نمبر سیو کروایا،
“نام کیا رکھوں؟”
“اپنی مرضی کا رکھو، میں تو تمہارا نام، کیا ہوا سیو،” شاہ نے بتایا
“مجھے بتائیں کیا سیو ہے؟” وہ پرجوش ہوئی
“کوئی ضرورت نہیں ہے،تم اپنا دماغ لگاو، اور کرو سیو، میں جارہا ہوں، جب بات کرنی ہو کال کرلینا، لو میرج تو ہے نہیں جو میں تمہیں روز کال کرتا پھروں،” جاتے جاتے وہ اسے ستا گیا۔
وہ ہنس پڑی
فی امان اللہ!
نوازش” شاہ نے سر کو خم دیا
وہ چلا گیا۔
عرش وہیں کھڑی،اونگے بونگے نام سیو کرنے لگی،کبھی سائلنٹ بوائے، کبھی ہبی، کبھی مسٹر ایٹیٹیوڈ ، کبھی کیا تو کبھی کیا…
مگر دل مطمئن ہی نہیں ہورہا تھا
پھر وہ رک گئی، اردو کیبورڈ لگایا اور “زندگی” کے نام سے محفوظ کیا،
اب وہ مطمئن تھی،
اس نے موبائل، سینے سے لگایا…..
” اونہوں میری زندگی بس!
__________
میمونہ کی کل فلائٹ تھی اور انساء بیگم نے اس سب کی دعوت رکھی تھی نکاح کے بعد پہلی دعوت اسی بہانے عرش گھر بھی دیکھ لے گی، پرسوں اس دونوں نے بھی اسلام آباد چلے جانا تھا اس سال فائنل پیپرز کے بعد شاہ نے اسپیشلائزیشن کیلئے باہر چلے جانا تھا،
عرش تھی کہ بدحواسی کا عملی نمونہ بنی ہوئی تھی۔ کوئی کپڑا پسند ہی نا آرہا تھا۔ امی ذرا کام والے سوٹ دکھاتیں، تو “یہ بہت ہیوی ہے، شادی پہ اچھا لگتا ہے، دعوت پہ نہیں،”
نسبتا ہلکا ایمرائڈی سوٹ بتاتیں، “بلکل عام سا ہے” کہہ کر ریجیکٹ کردیتی۔
نئے کپڑوں کی ایک بہترین کلیکشن بھی اسے مطمئن نہیں کر رہی تھی۔
“مجھے نہیں پتا،مجھے اور بھی کام ہیں،تم یہاں کھڑی رہو لگاو گھنٹے اور نکال لو کپڑے، میں تنگ آگئی ہوں” امی اسکی وارڈروب کھولے کھڑی تھیں تنگ آکر وہ بھی چلی گئیں
عرش مارے باندھے کپڑے الٹ پلٹ کرنے لگی، کمرہ الگ پھیلایا ہوا تھا حلانکہ میمونہ جب سے آئی تھی اسے چیزیں ٹھکانے پر ملنے لگی تھیں،
اسے ہینگر میں لٹکتی سرخ لانگ شرٹ نظر آئی، گلے میں ہلکا سا سفید ایمرائڈی کا کام تھا بازووں میں اور دامن میں، باقی قمیض سادہ تھی۔
سرخ چوڑی دار پاجامہ اور سفید شیفون دوپٹہ، جس کے کنارے پہ بڑے بڑے سکے نما، لچھے سے لٹکتے تھے
اسنے وہ سوٹ نکالا اور خود سے لگایا، بہت پیارا لگ رہا تھا خود کو تو اب باقی کا پتا نہیں…!!
وہ سوٹ سلیکٹ کر کے مطمئن ہوئی اور کانوں میں پہننے کیلئے،لمبے سے بندے نکالے، جن میں سرخ ڈورے، لچھوں کی شکل میں لٹکتے تھے، اوپر سفید موتی!
میمونہ نہا دھو کر تیار ہوکر نیچے بھی جا چکی تھی، ایک وہی تھی جو سستی اور کاہلی کا نمونہ بنی ہوئی تھی، دل تھا کہ دھڑک دھڑک جاتا،،نجانے کیوں!
وہ واش روم میں گھسی، فرصت سے باتھ لے کر وہ چوڑی دار پجامے اور سرخ قمیض میں آئینے کے سامنے آئی تو اپنا آپ اجنبی لگا، یوں تیار ہوکر تو کبھی خود کو نا دیکھا تھا، نا اتنی باریکیوں کا خیال، وہ تو ہاتھ آیا سوٹ چڑھا لیتی، مارے باندھے بال بنا لیتی، اور جیولری سے تو جیسے اسے الرجی تھی، اور آج بغیر کسی کے کہنے پر وہ خود سنور رہی تھی، اور ذہن میں کچھ تھا تو بس “شاہ ارسلان”
“کیا میں انکے لئیے تیار ہورہی ہوں؟ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوکر اسنے خود سے استفسار کیا،، جواب ہاں آیا تھا، وہ خود سے نظریں چرا گئی، خجل سی ہوگئی،
“یہ نکاح تو میرے دل و دماغ پہ سوار ہوگیا ہے،” اسنے جھرجھری لے کر بال ڈرائیر کیئے
“ویسے کوئی حرج بھی نہیں،” وہ مسکرائی، عشق اول عشق آخرم، محبوب اول، و آخرم،اسی کی منکوح،اسی کی منظور نظر، اسی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بننا تھا، تو کیوں نا اسکی نظر میں جچنے کیلئے تیار ہوتی؟” تاویلیں، تسلیاں، دل کو جو دینا تھا دے لیا،
بالوں کو اسٹریٹ کیا، آگے سے لٹکتی لٹوں کو فولڈ کر کے، ٹوئسٹ بنا کر سرخ کلپ لگائے، اور باقی پشت پر کھلے چھوڑ دئیے، گھنے بالوں نے پشت ڈھانپ لی، کانوں میں بندے ڈالے، اور کٹاو دار لبوں پہ سرخ لپ اسٹک، اور آنکھوں میں بھر بھر کے کاجل، ایک ہاتھ میں سلور بریسلٹ،،
پاؤں میں کھسےڈالے اور مطمئن سی ہوکر لاؤنج میں آگئی،
“ماشاللہ..عرش بیٹا” تائی اماں کچن کی جانب جاتے جاتے اسکی جانب پلٹ آئیں،
“کیا ہوا” وہ بوکھلائی
“کتنی پیاری لگ رہی ہو ماشااللہ ،،نورینہ….” انہوں نے ٹھوڑی پکڑ کے اسکا چہرہ اٹھایا۔ اور نورینہ بیگم کو آواز دے ڈالی
“کیا ہوا” نورینہ بیگم بھی وہاں نمودار ہوئیں،
ایک لمحے کو وہ بھی مبہوت رہ گئیں، عرش پہلی بار اس طرح تیار ہوئی تھی ورنہ جینز پہ اونگی بونگی کرتیاں چڑھائے رہتی، اور بالوں کا یا تو جوڑا بنا لیتی یا پونی!
نورینہ نے اسکے کان کے پیچھے بچوں کی طرح تلک لگایا۔
“افوہ آپ لوگ میرا کانفیڈنس ہی لوز کر رہے ہیں”وہ جھنجلائی
“اب جیجو کی پرسنالٹی کے اگے، یہ ہائی فائی کانفیڈنس لو تو ہونا ہی ہے”میمونہ بھی آ دھمکی،
“بکو مت،” عرش نے منہ پھیرا
“مجھے پتا ہے میں مضحکہ خیز سینٹاکلاس لگ رہی ہونگی،” وہ روہانسی ہوئی، اپنے سرخ اور سفید لباس کی طرف اشارہ کیا۔ ا
وہ تینوں ہنس پڑیں،
“ایک ماں نہیں، نیوٹرل ذہن سے کہہ رہی ہوں، میری عرش بہت پیاری لگ رہی ہے، نکھری نکھری سی، نئی نئی، اب پہلی بار شوہر کے گھر جانے کیلئے تیار جو ہوئی،،اللہ برکت دے عمر میں، نکاح میں ان دونوں کے ساتھ میں، محبت میں” انہوں نے عرش کا سر چوما۔
“وہ جھینپ گئی، سر اور نگاہیں، جھکا لیں،دل میں گدگدی سی ہورہی تھی، ایک نیا احساس،
اسکی ہتھیلیاں تر ہوگئیں!
گاڑیاں تیار ہورہیں تھیں نکلنے کے لئیے، میمونہ اسکے کانوں میں سرگوشیاں کرنے لگی تھی….!!
****
“تیار ہو شاہ” انساء نے شاہ کے کمرے کا دروازہ کھولا، خوشبووں کا ریلا انکی ناک سے ٹکرایا۔
“جی امی تقریبا” بال تولیے سے رگڑتا، وہ نہا کر نکلا تھا، سفید کرتا اسٹینڈ پر پریس ہوا پڑا تھا
بئیرڈ اور بالوں کی کٹنگ نمایاں تھی، تازگی کا ایک احساس نکھرا نکھرا سا،
“مجھے کچھ بات کرنی تھی” وہ بیڈ پہ ٹک گئیں
“جی کہیں” وہ شیشے کے سامنے کھڑا قمیض کے بٹن لگا رہا تھا،
“ادھر میرے پاس بیٹھو” وہ سر ہلاتا انکے پاس آیا
“کہیں” انکا ہاتھ تھاما
“تمہاری دادی ابھی تک خفا ہیں، ہم نے انہیں لاعلم رکھا، بعد میں منایا، وہ نکاح میں بھی اکھڑی اکھڑی سی تھیں، اب میں نہیں جانتی آج وہ باہر آئیں گی یا نہیں، نجانے مہمان کیا سوچیں گے” وہ متفکر تھیں،”
شاہ کے چہرے پر پریشانی نمودار ہوئی دادی کی ناراضگی کا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا
“میں ہینڈل کرلوں گا امی آپ فکر نا کریں” تسلی دی
“دیکھنا شاہ کوئی بدمزگی نا ہو” وہ ہنوز پریشان تھیں
“ڈونٹ وری امی میں دیکھ لوں گا” اسنے سر کو خم دیا
انہوں نے سر ہلا دیا، اور بیڈ سے ٹیک لگا لی، وہ اٹھ کر تیار ہونے لگا وہ اسے دیکھ رہیں تھیں، وہ آستین فولڈ کر رہا تھا، پھر اسنے بال بنائے، گھنے سے بالوں کو جیل سے ترتیب دے کر، وہ خود پر اسپرے کر رہا تھا۔
کلائی میں واچ ڈالی، مونچھیں سیٹ کیں، دونوں انگوٹھوں سے آنکھوں کو مسلا، گویا فریش کر رہا ہو، پھر موبائل پہ کچھ ٹائپ کرتا، وہ باہر چلا گیا
انساء اٹھیں، شوز ریک سے اسکے پشاوری چپل نکالے، پالش کئیے، اور گیٹ کے پاس رکھ دئیے باقی چیزیں وہ خود ٹھکانے پر رکھ چکا تھا۔
وہ اسکا کمرہ بند کرتیں باہر چلی گئیں،
“میرا شہزادہ” انساء بیگم کے منہ سے بے اختیار نکلا تھا۔
****
“دادی” اسنے کمرے پہ ناک کی
“ہوں”
“آپ کو ماما نے ساری شاپنگ دکھائی؟” وہ انکے بیڈ پر ٹک گیا
“کونسی شاپنگ؟” دادی کو حیرت ہوئی
“وہی جو انہوں نے آج عرش کو دینے کیلئے کی ہے، رنگ وغیرہ آئی ڈونٹ نو” معصومیت
“انساء نے نا تو مجھے کچھ دکھایا ہے، نا ہی بتانا مناسب سمجھا ہے” دادی پاوں لٹکا کر بیٹھ گئیں، گویا ابھی جا کر انساء کی طبیعت سیٹ کریں گی
“اوہو امی نے آپکو نہیں بتایا؟، وہ آپ کی ناراضگی کی وجہ سے باتیں چھپانے لگی ہیں” لہجے میں تاسف تھا
“ناراضگی؟ میاں میں تو جی کو مار کر سمجھوتا کر چکی ہوں، مگر یہ جو حرکت انساء نے کی ہے نا میرے دل سے اترنے والی حرکت ہے”دادی کا تنفس پھول گیا
“دادی آپ بھی تو ہر بات مان لیتی ہیں، میری خوشی، اپنے دل کی خوشی کی کیلئے، نا چاہتے ہوئے بھی تقریبات میں شرکت کرلیتی ہیں، امی کو احساس کیسے ہوگا؟” وہ انہیں بھڑکا رہا تھا
“بس تمہاری خوشی شاہ، جو میں نا چاہتے ہوئے بھی حصہ لے لیتی ہوں مگر اب نہیں” وہ رنجیدہ ہوئیں، شاہ کو افسوس ہوا، دادی کو سوگوار کردیا،
“بس آج سے دادی میں آپکے ساتھ ہوں،بائیکاٹ کردیں آج کے ڈنر کا، جب سب امی سے پوچھیں گے تو وہی سنبھالیں گی” انکے ہاتھ تھامے، پلان سمجھایا
“ٹھیک ہے، اب بلاتی رہے انساء، میں کھانا بھی ادھر ہی کھا لوں گی” انہوں نے پاؤں دوبارہ اوپر کئیے اور بازو آنکھوں پہ رکھ لیا” شاہ تاسف سے انہیں دیکھتا باہر نکل گیا
“ایم ساری اللہ جی دادی کو گولی دے دی” کان پکڑا
****
“امی دادی کہہ رہی ہیں کہ کچھ طبیعت ٹھیک نہیں انہیں ڈسٹرب نا کیا جائے” وہ کچن میں انکے پاس آیا
“کیا ہوا انہیں؟” انہوں نے دہل کر سینے پر ہاتھ رکھا اور انکے کمرے کی جانب بڑھیں،
“ارے امی، کچھ نہیں ہوا، بس انہوں نے ریسٹ کا کہا ہے، اور مجھے کہا ہے کسی کو کمرے میں مت بھیجنا” شاہ نے انہیں کندھوں سے تھاما
“یہ کیا بات ہوئی؟ آج مہمانوں نے آنا ہے اور امی کمرہ بند ہوگئیں ہیں کیا تاثر پڑے گا ” وہ خفا ہوئیں، آنکھوں میں بے تحاشا خفگی در آئی
“اب کیا کرسکتے ہیں” شاہ نے بے چارگی سے کندھے اچکائے
“امی کو ہماری خوشیاں عزیز نہیں اب اس عہد میں آکر وہ اختلاف کرنے لگی ہیں”انساء نے آنکھ میں در آیا آنسو پونچھا
“میں کھانا دیکھ لوں نہیں جانا آج انہیں ڈسٹرب کرنے ” وہ کچن میں بڑبڑاتے ہوئے پلٹ گئیں
وہ سر ہلاتا باہر آگیا…بھنویں اکھٹی کئیے کتھئی آنکھوں میں سوچ کی پرچھائی تھی..
ایک گولی امی کو دی تھی اففف..
