Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 23)

Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon

عدیل کے جانے کے بعد عاشر اداس ہونے لگا اور کام زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ چڑچڑا سا ہوگیا,اسنے خود کو حد سے زیادہ بزی رکھنا چاہا,دن رات آفیس کے کاموں میں مصروف ہوگیا تھا پر پھر بھی کام کا اتنا پریشر تھا کہ اکیلے اسے سمبھالنا بہت مشکل تھا اسی لیے اسنے نیو ورکرز رکھنے کا سوچا اور آج ان کا انٹرویو خود لینا چاہ رہا تھا,,,وہ تیار ہوکے ہاتھ میں گھڑی پہنتا ہوا کمرے سے باہر آیا,

ماں مجھے دیر ہو رہی ہے ناشتہ تیار ہے تو ٹفن میں پیک کرلیجیے گا,…وہ دلاری سے مخاطب ہوا جو سامنے ہی کچن میں کھڑی تھی,,

ہاں بیٹا….بس پیک کر رہی ہوں تب تک بیٹھو بات بھی کرنی تھی,وہ کھانا ٹفن میں ﮈالتے ہوۓ بولی,,

ہاں جلدی کیجیے پہلے ہی میں لیٹ ہوگیا ہوں,عاشر فائیل چیک کرتے ہوۓ بولا,,,

بیٹا تمہیں یاد ہے ایک دن تم نے مجھے اپنے مﺫھب میں آنے کے لیے کہا تھا,,

ہاں جی کہا تھا…!!

تو کیا تمہارے مذھب میں آنے سے میں دوبارہ زندھ ہونگی,,,

ہاں ماں میں اب بھی کہہ رہا ہوں اور اس دن بھی مینے یہ ہی کہا تھا,ہمارا مﺫھب مکمل ہے اور دوبارہ زندھ ہونگے,,

دلاری نے اپنی نگاہیں اوپر کی,,لیکن یہ تو سبھی مذھب والے کہتے ہیں کے ان کا مذھب مکمل ہے,,

ماں میرے پاس ایسے دلائل ہیں جو کسی بھی مذھب میں نہیں ہے,ماں آپنے اکثر دیکھا ہوگا کہ دوسرے مذھب کے لوگ ہمارا اسلام قبول کرتے ہیں مگر کیا أپنے کبھی ایسا سنا ہے یا دیکھا ہے کہ ہم مسلمان کوئی اور مذھب قبولیں….

دلاری چپ ہوگئی….

ماں…وہ پاک کتاب جو صدیوں سے چلتا آرہا ہے آپ اس کا ترجمہ پڑھیے دیکھیے کئی معجزے ہوۓ ہیں حضرت ابراھیم علیہ اسلام جب رب پاک کے حکم سے اپنے بیٹے کو خدا کی راہ میں قربان کرنے جا رہے تھے تو خدا پاک نے اسکے بیٹے کی جگہ آسمان سے ایک دنبہ اتارا تھا ,اور اسی وجہ سے ہم اپنی خوشی ہر سال مناتے ہیں,ماں کیا یہ معجزا نہیں ہے,,,؟حضرت بلال رضي اللّٰه تعالیٰ عنہ نے آﺫان نہیں دی تھی تو سورج نہیں نکلا تھا کیا یہ معجزہ نہیں ہے,؟اسلام آنے سے پہلے بیوہ عورتوں کو اسکے شوہر کی لاش کے ساتھ زندھ جلایا جاتا تھا اور جب اسلام آیا جب خدا کا رسول آیا تو عورت کو مرد کی طرح رتبہ دیا گیا,ماں کیا یہ معجزہ نہیں ہے,

ماں قرآن پاک ہی پورا ثبوت ہے آپ اسکو کھول کر پڑھیے تو سھی اس میں خدا کے پیارے پیغمبر حضرت محمد مصطفٰي صلي اللّٰه عليه وآلهٖ وسلم کی زندگی کی ہر ایک قربانی کی صبر کی اعلیٰ مثالیں موجود ہے…عاشر کی بات اب مکمل نہیں ہوئی تھی کے اسکا فون بجنے لگا,عاشر نے سکرین پر نظر ﮈالی دیکھا تو آفیس سے فون تھا,سوری ماں آفیس سے کال تھی,,اسنے دلاری سے معذرت کرتے ہوۓ فون کو بند کردیا,,

پر بیٹا مجھے تو کچھ نہیں آتا مجھے تمہارے دین کا کچھ بھی نہیں پتا مجھے تو نماز بھی نہیں آتی,,دلاری کے ماتھے پر پریشانی کی لکیریں تھی,,

اس میں کونسی بڑی بات ہے عاشر مسکرا کر بولا,ماں آپ منزل اختیار کریں راستہ خود بخود نکل آۓ گا,,

میں آنا چاہتی ہوں,میں نے اپنی زندگی تو گﺫار لی ہے پر اس غفلت کی دنیا سے میں باہر آنا چاہتی ہوں,,

ماں میں کلمہ پڑھوں آپ میرے ساتھ ساتھ پڑھنا تو آپ بھی ایک مسلمان بن جائیں گی,,

ٹھیک ہے بیٹا,,,

بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم

(شروع اللّٰه کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے)

وہ عاشر کے ساتھ بولتی گئی,

لا الٰه الا اللّٰه

(اللّٰه کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں)

محمَّد رسول اللّٰه

(حضرت محمد صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم اللّٰه پاک کے رسول ہیں)

دلاری بھی اسکے پیچھے وہ ہی الفاظ بولتی گئی

مبارک ہو ماں آپ مسلمان بن گئی ہیں,عاشر نے مسکرا کر کہا,

دلاری کی آنکھیں نم ہوگئی تھی,عاشر بیٹا میں تمہارا احسان کبھی نہیں بھول پاؤں گی تم نے مجھے صحیح راستہ دکھایا ہے,

ماں یہ میرا فرض تھا آپکی پریشانی دور کرنے کا,,

پر اب مجھے نماز اور باقی کچھ کون سکھاۓ گا,وہ افسرگی سے بولی,,

ماں میں ہوں نا, یہاں پر پاس میں ہی خواتین کے لیے ایک اسلامی مدرسہ ہے میں انھیں کہوںگا وہ آپ کو سب سکھا دینگیں,عاشر اسے تسلی دینے لگا,,

ٹھیک ہے بیٹا تم مجھے کل ہی لے جانا,,

ٹھیک ہے ماں اب آفیس جانا ہے میں آپ سے بعد میں ملوں گا,عاشر نے ﮈائینگ ٹیبل سے ٹفن اٹھایا اور آفیس جانے لگا،،

★★★

گﮈ مارننگ سر..گﮈمارننگ سر,وہ جیسے ہی آفیس پہنچا تو سارے ورکرز کھڑے ہو گۓ,,چاروں طرف سے عاشر کو گﮈمارننگ کی آواز سنائی دی,,

گﮈ مارننگ ایوریون عاشر نے مسکراہٹ سے جواب دیا,,اور اپنی کئبن کی طرف جا رہا تھا

…….

چلیے باہر چلیے آپ کو کتنی بار کہا ہے کل آنا…کسی نے زور سے اسکا بازوں پکڑا اور اسے آفیس سے باہر نکال رہا تھا,,

پلیز سر پلیز,,,,مجھے اس جاب کی بہت ضرورت ہے,,,وہ ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہوگئی آنکھوں سے پانی مسلسل بہہ رہا تھا,,

اسنے لڑکی کو زور سے دھکا دیا,وہ آگے عاشر کے قدموں میں گر گئی,,

یہ کیا بدتمیزی ہے پہلاج,,,,عاشر اسکے اوپر چلا پڑا اور اس لڑکی کو سہارا دیکے اٹھایا,,

سر میں اسے کب سے کہہ رہا ہوں آپ انٹرویو کل لینگے یہ مان ہی نہیں رہی ہے,,

تو کیا تم اس طرح سے کسی کو یہاں سے نکالو گے,عاشر کی آواز آفیس میں گونج رہی تھی سب کھڑے ہوکے یہ منظر دیکھ رہے تھے,,,

وہ سر…پہلاج نے شرمندگی سے سر نیچے کیا,,

شٹ اپ مجھے دوبارہ ایسی حرکت اس آفیس میں دکھائی نا دے,,عاشر نے دانت پیستے ہوۓ ایک انگلی اسکے سامنے کر دی,,

سوری سر…..

وہ لڑکی سسکیاں بھرتے ہوۓ اب تک رو رہی تھی,,

اور تم جب ایک بار کسی نے کہہ دیا کہ آج انٹرویو نہیں ہوگا تو بات سمجھ میں نہیں آتی,,,عاشر اس لڑکی کے اوپر بڑھک پڑا,,,

وہ…میں…

یہ پکڑو…عاشر نے نیچے سے کچھ پیجز اٹھاۓ جو اس لڑکی سے گر گۓ تھے اور اسکے ہاتھوں میں تھما دیے,,,

اب رو کیوں رہی ہو…پانچ منٹ بعد سامنے والے کئبن میں آنا,,عاشر اسے آنکھیں دکھا کر آگے چلا گیا,,,

*****************

مہرماہ کا دھیان سٹﮈی سے بلکل ہٹ گیا تھا,اسکا لاسٹ سیمسٹر بھی ہوگیا تھا اور جیسے ہی اسے رزلٹ کا پتا چلا تو وہ مزید ٹوٹ گئی,,,مہرماہ خان گولﮈ میﮈل جیتنے والی کلاسز میں ٹاپ پر آنے والی,کالیج اور یونی کی پرنسز,مما کی لاﮈلی,پاپا کا غرور,سب کی جان آج حد سے زیادہ ٹوٹ گئی تھی,

وہ نیچے صوفے پر بیٹھے رو رہی تھی,آپی پریشان نا ہو سب ٹھیک ہوجاۓ گا,فرح اسکے ساتھ بیٹھی دلاسے دے رہی تھی,,

نہیں فرح پاپا کا ﮈریم تھا اور میں….میں ایسا کیسے کر سکتی ہوں میں اندازہ بھی نہیں لگا سکتی تھی اور جب پاپا کو پتا چلے گا تو وہ کیا سوچے گا,,

آپی آپ کیوں پریشان ہو رہی ہیں سب ٹھیک ہوجاۓگا,اور دیکھنا ہر بار کی طرح تم ٹاپ پہ آؤگی,,,

نہیں فرح بس میں ختم ہوچکی ہوں مجھسے کچھ بھی نہیں ہورہا ہے اب,,,

آپی روئیے تو مت میں پانی لیکے آتی ہوں,,فرح اسکے آنسو پوچھنے لگی,,,

********************

میں آۓ کم ان…..کسی نے دستک دی,,

ییس عاشر نے نظریں اٹھائی اور اس لڑکی کو دیکھ کر فائیلز سمیٹ کر سائیﮈ پر رکھ دی,,

بیٹھو…عاشر نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا,,

اسکی آنکھوں میں صاف ظاہر تھا وہ پریشان ہے اور جاب کی ضرورت ہے,,,

سر یہ کچھ…اسنے کچھ ﮈاکیومینٹس عاشر کو دکھاۓ,

عاشر نےاسے لے کر سائیﮈ پر رکھ دیے,,

اگر یہ جاب نا ملی تو,,,عاشر اسے سوالیا نظروں سے گھور رہا تھا,

سر ایسا مت کریں پلیز….

اففف اب یہ اپنا رونا دھونا بند کرو…عاشر دوٹوک انداز میں بولا,,

وہ لڑکی آنسوں صاف کرنے لگی,,

جو خود کو سمبھال نہیں سکتی وہ میرے آفیس کو کیسے سمبھالے گی,,,

عاشر کی باتوں سے اس لڑکی نے سمجھ لیا یہ جاب نہیں ملنے والی,,,

سوری آپ جا سکتی ہیں,,کیونکہ مجھے کوئی اسٹرانگ پرسن چاہیے جو میرے بعد بھی یہ کام سمبھال سکے,,,

پر سر….وہ کچھ بول نے والی تھی عاشر نے اسکی بات کاٹ دی,,آپ جائیے مجھے اور بھی کام ہیں….

وہ اٹھ کر چلی گئی,,چند لمحوں بعد عاشر کی نظر اسکے فائیل پر پڑی….پتا نہیں کیسے کیسے لوگ ہیں اپنے امپارٹنٹ ﮈاکیومینٹس بھی بھول گئی,,عاشر سرگوشی میں بولا اور فائیل چیک کرنے لگا,,,

مہر……عاشر کے لبوں پر ایک مسکراہٹ سج گئی اور ایک ہی جھٹکے میں اٹھ کر باہر گیا,,,

وہ لڑکی باہر جانے والی تھی عاشر نے اسے آواز دی…سنو مہرو….

اس لڑکی نے نام سنا تو پیچھے مڑی,

جی سر….

یہ تمہاری فائیل… عاشر نے اسکے ہاتھوں میں فائیل دے دی,,,

سوری میں بھول گئی تھی شاید,,

کل سے جوائن کرلینا اور پہلاج تمہیں کام کے بارے میں بتا دے گا,اور سیلیری پچاس ہزار سے زیادہ نہیں ہوگی,,,

وہ لڑکی خوشی سے جھوم اٹھی تھینکیو سر…..

سر پر…پہلاج اسکے پاس کھڑا ہوگیا اور عاشر سے مخاطب ہوا,,

مینے لیزہ مہر کو فائینل کردیا ہے تم اسے سب سمجھا دینا,عاشر نے اپنے آخری الفاظ نکالے اور وہاں سے چلا گیا,,,

____________________________________

مہرماہ اپنے کمرے میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھی تھی اور ایک درد بھرے لحجے میں خود سے شکایت کر رہی تھی…..

کیوں ہوا میرے ساتھ ایسا,آخر کیا غلطی تھی میری,مینے تو ہر بار اپنا سر جھکایا اسکے آگے,پھر بھی اسنے میری پرواہ نہ کی, ایسے کیسے چلا گیا میری زندگی سے, مینے ہر چیز سے بڑھ کر چاہا تھا تمہیں پر کیوں چلے گۓ میں میں تو پیار پر یقین ہی نہیں کرتی تھی پر پتا نہیں کیسے یہ احساس میرے دل میں آیا اور وہ بھی تمہارے لیے,ایک بار صرف ایک بار مجھ سے ملو میں ایک سوال پوچھوں بس صرف ایک بار واپس آؤ کہاں چلے گۓ ہو اےکے پلیززز آج میں صرف تمہاری وجہ سے اس حالت میں ہوں.

,,وہ بس اپنے آپ سے شکوے کر رہی تھی اور آنکھوں سے جیسے پانی کا ایک سمندر بہہ رہا تھا,مہرماہ نے اپنی آنکھیں نوچ لی اور واشروم میں چلی گئ اور اپنا منہ صاف کرنے لگی-جب باہر آئ تو اسکا موبائل بج رہا تھا,,فریال…نمبر دیکھ کر اسکے لبوں پر فریال کا نام آگیا جو یونی میں اکی اچھی دوست تھی,اس نے آگے بڑھ کر کال اٹھائ تو دوسری طرف سے فریال کی آواز آئ,,,ہیلو…کیا ہال ہے

میں ٹھیک ہوں_مہرماہ ایک غمگین آواز میں بولی,,,,,

اچھا پر مجھے پتا ہے تم اداس ہو…اور کیوں وہ بھی پتا ہے,,

نہیں فریال میں ٹھیک ہوں,, ٹھیک ہے ویسے سنو کل شاپنگ کے لیۓ چلیں….؟

نہیں یار میرا من نہیں ہے تم چلی جانا ورنہ پھر کبھی چلیں گے…!!

پاگل ہو کیا کچھی دنوں میں یونی کی ایﮈمیشنس سٹارٹ ہو رہی ہے تو پھر ٹائیم کب ملے گا….!!

تمہیں کیا لگتا ہے میری ایﮈمیشن ہوجاۓ گی میرا رزلٹ ہی خراب آیا ہے وہ اداس ہو گئ تھی,,,

ارے ایسا مت سوچ,کونسا ہم پڑھنے جائیں گے یار ٹرینگ تو ہے بس اور یہ رزلٹ کام کا ہے بھی نہیں…

ہاں پر فریال…..

یار ﮈونٹ وری سب اچھا ہی ہوگا,,میں کل آؤں گی تم Ready رہنا میں گھر سے ئی تجھے pick کروں گی ٹھیک ہے……؟

ہمم ٹھیک ہے,,میں کل تیار ہوجاؤںگی….

اوکے مہرو باۓ,,

اللّٰه حافظ—مہرماہ نے کال کٹ کر دی اور وہ سونے کے لیۓ بيﮈ کی طرف بڑھی اسنے اپنا ہاتھ لیمپ پر ﮈالا لائیٹ آف کرکے وہ سوگئ,,, مگر اسے نیند کہاں آنی تھی اسکی نیند, اسکا چین,اسکا سکون تو کوئ اور لے گیا تھا بس وہ من ہی من میں بہت ٹوٹ چکی تھی..!!

مہرماہ پھر سے اٹھ کر میﮈیسین باکس اٹھایا اور نیند کی گولیاں کھا کے لیٹ گئی,,

“”جب نیند سے آنکھیں بوجھل ہوں،

اور اپنی آنکھ سے اوجھل ہوں،

پھر نیند بھلا کب آتی ہے__

جب دل میں بسنے والے بھی،

اور ساتھ میں ہنسنے والے بھی،

دور کہیں وہ بستے ہوں،

کسی اور کے ساتھ وہ ہنستے ہوں،

پہر نیند بہلا کب آتی ہے__

جب غم کی رات اندھیری ہو،

اور اس میں یاد بھی تیری ہو،

نہ دل میں کبھی اجالا ہو،

پہر نیند بھلا کب آتی ہے__

روتے روتے کب وہ نیند کی دنیا میں چلی گئی اسے پتا ہی نہیں چلا,,,,

________________________

عاشر کو دہلی میں آۓ ایک سال ہوگیا تھا اسنے کچھ مہینے عدیل کے ساتھ گﺫارے اور کچھ مہینے اسکے بنا ہی آفیس کا کام خود سمبھالا جس میں لیزہ نے بھی اسکا بہت ساتھ دیا,پہلے تو اسے عاشر کا کام سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا,عاشر کو گھٹن ہوتی تھی جب بھی اسے کچھ سمجھاتا تھا,وہ روز غصہ کرتا تھا لیزا مہر پر مگر دھیرے دھیرے لیزہ نے سارا کام سمبھال لیا اور عاشر بھی اسکے کام سے مطمئن ہوگیا تھا,

پانچ چھے مہینوں بعد عدیل عاشر کے پاس واپس آیا,عاشر باہر کا کھانا کم کھاتا تھا وہ دلاری کے ہاتھوں کا بنا ہی کھانا اچھا لگتا تھا,مگر عاشر نے اسے ماں کا درجہ دیا تھا اور اسنے تو اسلام بھی قبول کرلیا تھا اس لیے اسکی خواہش تھی کہ ایک بار رب کے گھر کا دیدار کرے, عاشر نے اسے عمرہ کرنے کے لیے بیجھ دیا تھا,سنﮈے کا دن تھا اور لنچ خود بنایا تھا,عدیل آج واپس آگیا اور عاشر کے ساتھ بیٹھے اسکے ہی ہاتھوں سے بنا ہوا لنچ کرنے بیٹھا,مگر عاشر کا بنا ہوا کھانا عدیل کو پسند نہیں آیا اس لیے اسنے خود کا ہی لنچ باکس نکالا لیا,,,اور دونوں نے مل کر لنچ کی کیا,,,,

****

عدیل اٹھو میں تیار بھی ہوگیا ہوں تم ابھی تک سو رہے ہو,,عاشر عدیل کو جھنجھوڑ رہا تھا……

ابے سونے دو نا کل ہی تو آیا ہوں اور اب آرام کرنے بھی نہیں دے رہے ہو,,,

کل سے ہی ایک ہی بیﮈ پر پڑے ہو,,اٹھو عاشر نے عدیل کے منہ سے کمبل اٹھایا,

یار خود تو سوتے نہیں اوپر سے مجھے بھی تنگ کرکے رکھا ہے,,عدیل سر پکڑ کر بیٹھ گیا,,

اچھا سونا ہی تھا تو پاٹنرشپ ہی نا کرتے,,,

اگر پاٹنرشپ نہیں کرتا تو کرن کہاں سے ملتی اور اگر کرن نہیں ملتی تو میں تو کنوارا ہی مر جاتا,,عدیل افسردگی سے بولا,,

لسن میرے پیارے دوست تم ابھی تک ہی کنوارے ہو,,عاشر نے اسکا کان مروڑا,,

آ…ہاں….میں تو بھول ہی گیا تھا,,عدیل اپنا کان چھڑا کر بولا,,,,

اب اٹھو آفیس چلیں لیزہ کو سب سمجھا دوں تب تک تم ٹکیٹس کرواکے لانا….

کیا…لیزہ….مطلب تم مجھے اکیلا چھوڑ کر لیزا کے ساتھ گھومنے جاؤگے,,,عدیل شرارتی انداز میں منہ پر ہاتھ رکھ کر کہہ رہا تھا,,,

ابے یہ ناٹنگی بند کر ہم پاکستان جا رہے ہیں,,,

کیا……پاکستان…جب میں کہتا تھا تو تم چلنے جو تیار نہیں تھے اور اب کیسے….

ہاں بس یار پتا نہیں کیوں میری سانسیں وہاں کھینچی جا رہی ہے,,,

افففف اب یہ رونا دھونا بند کرو میں اٹھ رہا ہوں…..

ٹھیک ہے جلدی کر سامان پیک کر دینا مجھے پتا چلا ہے رات کی فلائیٹ ہے,ہمیں رات کو ہی نکلنا ہوگا,,,

________________________

اسنے اپنے چہرے پر سورج کی کرنوں کو محسوس کیا صبح ہو چکی تھی اسکی آنکھ کھل گئی,,,اسکا سر ابھی بھی باری تھا,,وہ اٹھ کے بیٹھ گئی,,تھوڑی دیر بعد اسنے اپنے پاؤں زمین پر رکھے کھڑی ہونے والی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی..اٹھ جاؤ مہرماہ بیٹا ناشتہ تیار ہے ……….

ہممممممممم آتی ہوں چھوٹی ماں اسنے تھکاوٹ والی آواز میں کہا…

بیٹا نیچے کب سے تمہاری دوست بیٹھی ہے وہ آپ کا انتظار کر رہی ہے,,,

ہاں ماں بس آئی تھوڑی دیر میں,,,مہرماہ واشروم میں چلی گئی,,,

———————–

دیکھو آگئی مہرماہ بھی,,,

مہرماہ فریش ہوکے نیچے آئی اسنے بلو کلر کا سوٹ پہن کر رکھا تھا اور سر پر ﮈوپٹا تھا,,اسکو نیچے آتا دیکھ کر ریحانہ بیگم فریال سے مخاطب تھی,,,,

ویسے آنٹی مہرماہ جب مجھے پہلی بار ملی تھی تو بہت ﮈفرنٹ تھی اور آج دیکھیے,,,

اسلام علیکم کیسی ہو فریال,مہرماہ گرم جوشی سے پیش آئی….

میں ٹھیک پر تم اتنی ویک کیسے…

ارے کچھ نہیں بس ٹھیک ہوں تم بیٹھو…مہرماہ نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا,,

یار کب سے تو بیٹھی ہی ہوں اب چلو….اور میری گاڑی خراب ہو چکی ہے تم اپنی لے لینا….

اچھا تو چل…..مہرماہ نے چلنے کا کہا,,,,

پر مہرماہ بیٹا ناشتہ تو کرلیتی…

نہیں چھوٹی ماں میرا من نہیں رر ہاتھ رکھ دیے…

مہرماہ تم آرام کرو میں ابھی ﮈاکٹر کو بلاتا ہوں..آفتاب خان نے جیب سے فون نکالا….

پاپا میں ٹھیک ہوں ﮈاکٹر کی ضرورت نہیں ہے…..

مما بتاؤ میں تو امریکا میں تھی تو یہاں کیسے…

بیٹا تم بے ہوش ہوگئی تھی اور ﮈاکٹرس نے کہا کوئی گہرا صدمہ لگا ہے اور ہوش تمہیں تھا مگر حالت خراب ہوگئی تھی تیری تم نا بول پا رہی تھی اور نا ہی کچھ سن پا رہی تھی اسی وجہ سے تمہارے تایا جان کو ہم نے تمہیں یہاں لانے کو کہا تھا تو بس اب تم اپنے مما پاپا کے ساتھ ہی رہوگی….

اچھا ہوا مما بس میں اب یہاں سے دور کہیں نہیں جاؤں گی میں آپ کے ساتھ ہی رہوں گی,,,مہرماہ روتے ہوۓ مما کے گلے لگ گئی…

بیٹا یہ نور ہے اب یہ آپ کے ساتھ ہی رہے گی…

ٹھیک ہے پاپا…مہرماہ نے اسکی طرف دیکھ کر مسکرا دی….

اچھا بیٹا تم اب آرام کرو تب تک میں تمہارے لیے کچھ کھانا بناتی ہوں بہت کمزور ہو گئی ہے,,

اوکے مما…مہرماہ پیچھے لیٹتے ہوۓ بولی..

نور تم مہرماہ کا دہیان رکھنا…جاتے جاتے مما نور سے مخاطب ہوئی…

جی…اس نے سر اثبات میں ہلایا,,,

***********************

شہرناز آچکی تھی اور عاشر عدیل سے بھی ملی تھی…عاشر فریش ہوکے نیچے آیا جب کہ عدیل کرن سے ملنے گیا تھا,,,,

آروو…….عاشر نے آریان کو آواز دی اور خود گھٹنو کے بل نیچے بیٹھ گیا,,

چاچو….آریان عاشر کے گلے لگ گیا….

آروو تمہارے چاچو پورے ﮈیڑھ سال کے بعد آیا ہے اب تو پورے ہی دنوں کا پیار وصول کرنا اسسے,,,شہرناز مسکراتے ہوۓ بولی….

ہاں بھابھی کیوں نہیں آخر اکلوتا بھتیجا جو ٹہرا ہے,,عاشر آروو کے گال کھینچ کر بولا….

آہ….چاچو درد ہو رہا ہے…

اچھا جی میں نے تو زور سے دبایا ہی نہیں پھر کیسے درد ہوا…..عاشر کھڑا ہوگیا….

نہیں درد نہیں ہو رہا تھا پر یہ لال لال ہوجاتا نا تو اچھا نہیں لگتا,,,آروو بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولا….

ابے بدمعاش تم آٹھ سال کے ہو اور ابھی سے ہی یہ اسٹائیل مارنے لگے ہو,,,عاشر اسکی ہائیٹ کو دیکھ کر بولا….

ادھر آؤ چاچو میں آپ کو سیکریٹ بتاؤں….آریان نے ہاتھ سے اشارہ کرکے عاشر کو قریب آنے کے لیے کہا…..

ہاں بتاؤ……

آروو عاشر کے کان میں سرگوشی کرنے لگا…وہ چاچو میری ایک فرینﮈ ہے میں اسے اچھا لگتا ہوں اور میرے یہ اسٹائیل اسے پسند ہیں..

اوہ تیری خیر,,,مطلب گرل فرینﮈ,,عاشر نے چلا کر کہا…

چاچو دھیرے مما سن لیگی….

آروو کے بچے تم سکول پڑھنے جاتے ہو یا لڑکیاں پھسانے…..

عاشر کھانا ریﮈی ہے آجاؤ,,شہرناز نے کچن سے اسے آواز دی….

ہاں بھابھی ابھی آیا….عاشر اٹھ گیا..اب دیکھ میں مما سے تیری شکایت کرتا ہوں…عاشر جانے لگا…

چاچو چاچو پلیززز مما کو مت بتانا…پلیزز آروو آگے آتے عاشر کو التجا کرنے لگا…

نہیں میں تو آج بتاؤں گا ہی…

عاشر نے آروو کو اگنور کردیا…

ٹھیک ہے تو پھر میں بھی مما کو بتاؤں گا اس باکس کے بارے میں جو آپنے چھپا کے رکھا تھا,,,

اب کونسا باکس…..چاچو وہ جس میں گفٹ تھا رنگ والا….آروو نے عاشر کی وہ رنگ دیکھ لی تھی…

آروو کیا کہہ رہے ہو اور کب دیکھی وہ….عاشر آروو کو گھورنے لگا,,

وہ عدیل چاچو نے کھلونے لینے کے لیے کہا تھا تو میں نے دیکھ لیا پھر عدیل چاچو نے بتایا یہ میری چاچی کی ہے…

کیا………اس عدیل کو تو چھوڑوں گا نہیں,,

اب جاؤ چاچو مما سے شکایت کرو….آروو نے اپنے ہاتھ پیچھے باندھ لیے اور خوبصورت انداز میں کھڑا ہوا تھا,,,

نہیں اب نہیں…..

کیا باتیں ہو رہی ہے شہرناز ان دونوں کے پاس میں کھڑی ہوگئی تھی,,,

وہ مما چاچ…..آروو کچھ بولنے ہی والا تھا تو عاشر نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا…کچھ نہیں بھابھی بس اسے آئسکریم کھانی تھی….

کیا…..سردی میں آئسکریم..آروو پتا نہیں تمہیں سردی جلدی لگ جاتی ہے اور دوبارہ آئسکریم کا نام بھی لیا تو پتا ہے تجھے…شہرناز نے آنکھیں دکھاتے ہوۓ کہا….

عاشر کا ہاتھ اب بھی آروو کے منہ پر تھا…بھابھی آپ کھانا لگادو میں اسے دیکھتا ہوں,,,

شہرناز منہ بناتے ہوۓ چلی گئی…

جھوٹ کیوں بولا اور ﮈۃنٹ بھی مجھے ہی کھلا دی..عاشر کا ہاتھ اٹھتے ہی آروو اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کے بڑھک پڑا….

سوری بابا…عاشر نے کان پکڑ لیے…آروو منہ پھلاتے ہوۓ بیٹھ گیا,,اور عاشر اسے منانے لگا,,,

***************

مہرماہ آپی نماز…….پنکی دروازے پر کھڑی مہرماہ کو دیکھ کر حیران ہوگئی,,,

مہرماہ سجدے میں تھی,پنکی دوڑتی ہوئی نیچے گئی,,,

مما…..مما…..آپی…

کیا ہوا مہر کو….پنکی کے ہانپنے پر فوزیہ بیگم کمرے سے باہر آگئی,,

مما آپی نماز پڑھ رہی ہے,,,

تم بھی نا جان نکال دی تھی….فوزیہ نے ماتھے پر ہاتھ رکھا…

مما…

ہاں لاﮈو مہرماہ اب بدل گئی ہے,,,

پر کیسے مما جو لڑکی آﺫان نہیں سنتی تھی اور آج آﺫان آنے پر نماز…

بس تم چھوڑو اسے تمہیں سمجھ میں نہیں آۓ گا,,,

پنکی نے اپنی ایک انگلی دانتوں میں دبا دی اوکے مما اور کندھے اچکا کر پھر سے اوپر جانے لگی,,,

لاﮈو سنو….مما نے اسے آواز دی…

ہممم جی..اسے پیچھے مڑ کر جواب دیا…

وہ مہرماہ کو شاپنگ کے لیے لے جاؤ اسکا من چینج ہوجاۓ گا اور اسے کہنا انجم کو بیٹا ہوا ہے تو ہم سب جائیں گے اسکی شادی میں بھی نہیں گۓ تھے مہرماہ کی آنکھوں میں انفیکشن ہوگیا تھا نا,,

جی مما میں ابھی آپی کو کہتی ہوں…مگر کب جانا ہوگا انجم آپی کے یہاں….

کل بیٹا کل ہی ہے بیٹا….

اوہ اچھا تو ابھی ہی جانا ہوگا نا شاپنگ پر….

ہممم….مما نے مختصر جواب دیا…

——————————-

عاشر تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا……عشارب نے عاشر کو کھانستے ہوۓ دیکھا تو اسکے پاس میں بیٹھ گیا…

ہاں بھائی میں ٹھیک ہوں بس تھوڑی سردی کا اثر ہے,,,

اچھا ٹھیک ہے…ویسے کل فاروق والے آنے ہیں شہرناز نے بچے کا نام رکھنے کے لیے یہاں پر انھیں بلایا ہے اور تھوڑا فنکشن بھی ہوگا,شاید کرن کا نکاح بھی ہوگا یہاں پر ہی….

کیا…..مطلب عدیل کی شادی ہونے والی ہے…عاشر سن کر دنگ رہ گیا…

ہاں….عشارب نے مسکرا کر کہا,,,

اور اسنے بتایا بھی نہیں….وہ ہونٹ بھینج کر بولا

اب تم بعد میں اسسے لڑائی کرلینا ابھی بہت کام ہیں تمہیں بازار جانا ہوگا کچھ ضرورت کا سامان لانے کے لیے…عشارب نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا,,

ابھی….

ہاں ابھی..

ٹھیک ہے بھائی میں جاتا ہوں…

ہمم میں شہرناز سے کہہ کر لسٹ بنواتا ہوں تم جلدی آجانا

****************

مہرماہ بہت مشکل سے مانی شاپنگ کے لیے مگر انجم کے یہاں جانے سے اس نے صاف صاف انکار کردیا…..

وہ دونوں شاپنگ مال میں گئی مہرماہ بلکل گم سم تھی اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا بس ساری شاپنگ پنکی نے کی…

آپی پہلے تو آپ شاپنگ کے نام سے ہی جھوم اٹھتی تھی مگر آج کچھ بھی نہیں خریدہ کیوں….پنکی نے گاڑی میں بیٹھتے ہوۓ پوچھ رہی تھی…

بس پنکی دل نہیں لگ رہا ہے,,,

اچھا….

********************

عاشر کو باہر جانے کا موقعا ملا تو سب سے پہلے وہ سمندر پر ہی آیا جہاں پر اسنے پہلی بار مہرماہ کو دیکھا تھا, وہ ہمیشہ کی طرح پہلے سمندر پر ہی آیا,,مہرماہ بھی پنکی کے ساتھ وہاں آئی ہوئی تھی,,

عاشر اپنی سوچوں میں مگن تھا اور اسکی ایک بچکانی حرکت پر وہ ایک عورت سے سوری بولنے کے لیے آگے بڑھا,,,

عاشر کی کسی سے ٹکر ہوئی,,,

وہ چونک گیا اسکے آگے کچھ سال پہلے والا منظر آگیا,اسے ٹکر سے عجیب جھٹکا لگا,جب اسنے نظریں اوپر کی تو اسکی دھڑکنے بے ترتیب ہو رہی تھی,وہ ہی آنکھیں,وہ ہی سمندر وہ ہی سردی کی سرد اور خشک ہوائیں مگر بدلا تو صرف وقت تھا اور اس لڑکی کا لباس…

عاشر کا جب خیالی تصور ٹوٹا تو اسنے اس لڑکی کو دور جاتے ہوۓ دیکھا….

مہ…مہ….مہرماہ,,, عاشر نے مشکل سے الفاظ نکالے…..

نہیں مہرماہ ایسے ﮈوپٹے میں لپیٹی ہوئی….نہیں نہیں میرا وہم ہوگا,,عاشر خود سے ہی سرگوشی کرنے لگا,,,

اس لڑکی کے ہاتھ میں موبائل تھا جو نیچے گر گیا تھا اور اسے اٹھاتے ہوۓ اسکے چہرا کا نقاب اتر گیا…

جب عاشر نے اسکا چہرا دیکھا تو دنگ رہ گیا….مہرماہ اسنے نام لیتے ہوۓ آنکھیں مسلتے ہوۓ بولا,,,

مہرماہ……وہ چلاتے ہوۓ دوڑا….

یہ پنکی بھی نا پتا نہیں کہاں چلی گئی…وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی…..

مہرماہ…… عاشر نے پیچھے سے اسے آواز دی….

مہرماہ نے اپنا نام سنا تو اسکی طرف مڑی…

ت.ت.تم کہاں گئی تھی…عاشر کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی…

سوری میں کسی نامحرم سے بات نہیں کر سکتی…

نامحرم…..عاشر کا دل زور سے دھڑکنے لگا,,جو لڑکی لڑکوں کے بیچے رہنے والی ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ﮈال کر چلنے والی آج وہ اس لڑکے کو نامحرم بول رہی تھی جس نے دل و جان سے اسے چاہا تھا,,,

مہرماہ میں عاشر…وہ ہی عاشر جو تمہارا بیسٹ فرینﮈ ہوا کرتا تھا,,,

مہرماہ عاشر کو دیکھ کر حیران ہوگئی کیونکہ دو سال پہلے والے عاشر اور اس عاشر میں بہت فرق تھا,اب تو وہ زیادہ ہی خوبصورت لگ رہا تھا,

تم وہ ہی عاشر ہو….

ہاں مہرماہ…. پر تم نے مجھے پہچاننے سے انکار کیسے کردیا…

کیونکہ تم پہلے ایسے نہیں تھے جیسے یونی میں ہوا کرتے تھے….

اور تم بھی تو ایسی نہیں تھی نا…عاشر بھی اسی انداز میں بولا,,,

خیر..میں کسی بھی مرد سے اس طرح سے بات نہیں کر سکتی…

مہرماہ گاڑی کا ﮈور اوپن کرتے ہوۓ بولی….

مہرماہ کہاں جا رہی ہو مجھے بات کرنی ہے تم سے,,

سوری عاشر میں زیادہ دیر یہاں رک نہیں سکتی…اسنے نقاب کو سمبھالا…

مہرماہ پلیزز ایسا مت کرو میں اب دوسال پہلے والا لمحا میں واپس آنے نہیں دونگا….مجھے تمہیں کچھ بتانا ہے پلیززز صرف دس منٹ کی ہی بات ہے….

عاشر مینے کہا نا….

مہرماہ پلیزززز عاشر گھٹنو کے بل بیٹھ کر اسکے آگے ہاتھ جوڑ کر بیٹھ گیا,,,

عاشر یہ کیا کر رہے ہو اٹھو مہرماہ نے اپنے ہاتھوں سے اسے اٹھایا اسکے دل میں احساس ہونے لگا کہ کسی کو تڑپتا ہوا دیکھنے سے تو اچھا ہے اسے سہارا دیا جاۓ,,,

ٹھیک ہے عاشر میں کل ملوں گی تم سے ابھی مجھے دیر ہو رہی ہے اور مغرب کی آﺫان ہونے والی ہے میں یہاں دس منٹ تو کیا پانچ منٹ بھی رک نہیں سکتی…

تم….نماز…عاشر کو پھر سے جھٹکا لگا,دوسال میں اتنی تبدیلی وہ بھی مہرماہ میں….

ہاں عاشر بس وقت کی بات ہے خیر میرے گھر کا نمبر نوٹ کرلو میں کل ملوں گی….

ٹھیک ہے….عاشر نمبر نوٹ کرنے لگا,مہرماہ گاڑی میں بیٹھ کر ﮈرائیور کو چلنے کے لیے کہا اور پنکی تھوڑی دور کھڑی تھی تو اسے بھی بلا لیا…..

**********************

عاشر کو خوشی تھی یا گم مگر اسکے دل میں امید کی کرن جاگ گئی تھی… کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ لڑکھڑاتے ہوۓ قدموں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا اور گھر کی طرف چلنے لگا,,

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *