Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon

عاشر کلاس میں آیا آج اسکا کلاس میں پہلا دن تھا اس نے کل ئ ایﮈمیشن کروالی تھی اور آج سے وہ ریگیولر آنے لگا اس کا بہت من تھا پڑھنے کا پر کسی مجبوری کی وجہ سے اس نے اپنا ایک سال gape کر لیا تھا اور ایک سال کے بعد اسنے اپنی پڑھائ continue کرنے کا سوچا,,,,
وہ ایک اچھی فیملی سے تعلق تھا,,,,اسکے مما پاپا کی death ہوگئ تھی اور وہ اپنے بھائ بھابی کے ساتھ رہتا تھا اسنے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اتنی کم عمر میں وہ اپنے parents کو کھو دیگا,,,, پر موت کا کیا ہے وہ تو کبھی بھی کسی پر آنی ئی ہے,,,,,
اب اسکی فیملی میں اسکا بڑا بھائی (عشارب حسین) اور اسکی بھابی( شہرناز عشارب حسین) اور ایک چھوٹا سا چار سال کا بھتیجا (آریان حسین) تھا..
اسکا بھائ عشارب حسین اور بھابی شہرناز حسین, عاشر کا بہت خیال رکھتے تھے اور کبھی بھی اسکو اپنے مما پاپا کی کمی محسوس نہیں ہونے دی,,,,,
مما پاپا کے جانے کے بعد عاشر کو بہت صدمہ لگا تھا اور پڑھائ سے من ہٹ گیا تھا,,وہ پہلے کافی انٹیلیجنٹ تھا اور خوبصورتی کی تو وہ خود ئی مثال تھا براؤن آنکھیں جو اسکی معصومیت کی گواہی دیتی تھی, سلکی کالے بال, گلابی ہونٹ اور جب ہنستا تھا تو چہرے پر ﮈمپل ظاہر ہوتے تھے جو اسکے چہرے کو اور بھی حَسین بناتے تھے، اسکے ہنسنے پر روتے ہوۓ چہروں پر بھی مسکراہٹ آجاتی تھی...
پر parents کے جانے کے بعد وہ اداس ہونے لگا اور کافی کمزور بھی اور اسی وجہ سے اسنے اپنا ایک سال miss کر دیا,,,
اور جب وہ ٹھیک ہونے لگا تو اسکے بھائ عشارب حسین نے دوبارہ اسے اپنی سٹﮈی continue کرنے کو کہا,,,,
رات کے آٹھ بج رہے تھے عشارب اپنے کمرے سے باہر آیا اور سامنے دیکھا تو شہرناز کچن میں کام کر رہی تھی,وہ آگے کچن کی طرف بڑھا اور اس سے مخاطب ہوا
سنو ناز وہ شہرناز کو پیار سے ناز کہہ کر بلاتا تھا...!!
شہرناز نے پیچھے سے ہی جواب دیا,جی کہو..
تھوڑا درد ہے سر میں چاۓ ملے گی...
کتنی بار کہا ہے کچھ ریسٹ بھی کر لیا کرو صبح آفیس اور شام کو آفیس کا کام کچھ صحت کا بھی خیال رکھ لیا کرو وہ غصے میں بولی,,,
بس کیا کروں کام کا pressure ہے,,,
میں آپ کے سر میں تیل لگالوں شہرناز کچن سے باہر آگئی,,,
نہیں بس چاۓ بنا لو,ویسے عاشر کہاں ہے...؟
وہ کمرے میں,,,
اچھا میں اسکے کمرے میں جا رہا ہوں تم وہاں لیکے آنا چاۓ,,,
ہممم ٹھیک آتی ہوں....
عشارب اوپر جانے لگا عاشر کا کمرا اوپر ہی تھا,,
وہ اب کمرے میں آگیا اور صوفے پر بیٹھ گیا
کہاں کھوۓ ہوۓ ہو عاشر....؟
عاشر جو کھڑکی کے پاس کھڑا تھا اسنے بھائی کی آواز سن کر اس کی طرف آنے لگا
ارے بھائیجان......آپ!!!!
آپ کب آئیں,,,؟
میں تو ابھی ابھی آیا ہوں بس تمہارا پتا نہیں کہاں گم ہو,,,!!
نہیں وہ تو میں بس ایسے ہی عاشر صوفے پر بیٹھنے لگا,,
ہممممممم ویسے تم سے بات کرنی تھی عاشر---عشارب نے ایک لمبی سانس لی...
جی بھائیجان کہو..؟
عشارب بولنے ہی والا تھا
تو شہرناز کی آواز آئی,,کیا باتیں کر رہے ہیں دونوں بھائی وہ دروازے پر کھڑی تھی,,,
ارے بھابھی آپ آئیںۓ اندر عاشر کھڑا ہوگیا...
شہرناز اندر آئی اسکے ہاتھوں میں چاۓ کے کپ تھے اور ایک کپ عشارب کو دیتے ہوۓ بولی شاید دونوں بھائ مل کر میری گلا کر رہے ہیں, تبھی میرے آنے سے سناٹا ہو گیا شہرناز مزاحیہ انداز میں بولی,,,
عشارب مسکرانے لگا..
ارے نہیں بھابھی ایسی بات نہیں ہے آپ بیٹھیے,,عاشر نے صوفے پر اشارا کیا.... شہر ناز مسکرا کر بولی ارے نہیں بابا میں تو مزاک کر رہی تھی,یے چاۓ پکڑو میں جاتی ہوں نیچے بہت کام کام ہے,,,,
ہمم ٹھیک ہے بھابھی عاشر نے چاۓ لیتے ہوۓ کہا,,
شهرناز جانے لگی اب عاشر بھی بیٹھا ,,دونوں چاۓ پی رہے تھے تو عشارب بولا
دیکھو عاشر تم اب کافی سمجھدار ہوچکے ہو اور میں بھی تو کام سے باہر جاتا ہوں اپنے business کے چکر میں کبھی یہاں تو کبھی وہاں
اور تم بھی گھر میں اکیلے ہو بور ہوجاتے ہو تو میں سوچ رہا تھا تم اپنی پڑھائی پھر سے continue کرو busy رہوگے تو تمہارے لیۓ بھی اچھا ہوگا اور میرے لیۓ بھی کیونکہ پپا کا اتنا بڑا business میں اکیلے تو نہیں سمبھالوں گا تم بھی ساتھ دینا....
وہ بڑے بھائی کی بات خاموشی سے سنتا رہا اور سمجھنے بھی لگا,,,,
ٹھیک ہے بھائیجان آپ میری ایﮈمیشن کروالیں وہ چاۓ کا کپ رکھتے ہوۓ بولا اور ویسے بھی میں بھی یہی سوچ رہا تھا...
ہممم تو ٹھیک ہے میرا ایک دوست ہے میں کل ہی اسسے بات کروں گا,,
ٹھیک ہے بھائیجان جیسے آپ کی مرضی...
عشارب جانے لگا اور دروازے تک پہنچتے ہوۓ عاشر کو آواز دی dinner کے لیۓ آجانا نیچے,,,
جی بھائیجان ابھی آیا...
چند لمحوں کے بعد عاشر نیچےلائونچ میں آیا دیکھا تو بھائی بھابھی کر رہے تھے اور آریان ہمیشہ کی طرح اپنی مما کی موبائل پر گیم کھیلنے پر مصروف تھا,,
اسلام علیکم سوری بھائیجان میری وجہ سے آپ لوگوں کو ویٹ کرنا پڑا...
وعلیکم السلام شہرناز اور عشارب نے ساتھ میں جواب دیا, کوئی بات نہیں, آجاؤ بیٹھو عشارب نے چیئر پر اشارہ کیا....
عاشر آریان کے پاس میں بیٹھ گیا اور اسسے مخاطب ہوا لگتا ہے یہاں کسی کو فرست ہی نہیں ہے مجھسے بات کرنے کی....
آریان نے پھر بھی کچھ نہیں سنا وہ موبائل میں ہی لگا ہوا تھا..
دیکھ لو عاشر اپنے بھتیجے کو تم نے ہی سر پہ چھڑا رکھا ہے شہرناز نے عاشر سے شکایت کی...
ہاں بھابھی صحیح کہہ رہی ہو آج کے بعد (آروو )آریان کی ساری مستیاں اور مزے بند...
نہیں چاچو بس اب میں مما کی موبائل نہیں اٹھاؤں گا آریان نے موبائل ٹیبل پر رکھ دی,,
آریان کی اسی بات پر سب ہنسنے لگے اور پاپا (عشارب) نے اب اسے اپنے گود میں اٹھا لیا,,
پاپا دیکھو ماما اور چاچو مجھے ﮈانٹ رہے ہیں,,
اچھا تو آج تمہاری مما اور چاچو کی کلاس لیتے ہیں پر پہلے تم کھانا کھاؤ عشارب نے ایک نوالا توڑ کر اسکے منہ میں ﮈالا,,,
عاشر نے مسکرا دیا اور کھانا کھانے میں مصروف ہوگیا,,,,
موبائل کی بیل بجی جو عشارب کے پاس میں پڑا تھا...اسنے دیکھا اور فون شہرناز کو دے دی...امی کی کال ہے,,
شہرناز نے موبائل لی اور بات کرنے لگی....
ہیلو امی سب خیریت...
دوسری طرف شہرناز کی امی تھی...
جی بیٹا سب خیر ہے...مبارک ہو,,تمہارے بھائی کی شادی کی ﮈیٹ فکس ہو گئی ہے....
ارے واہ امی کب ہے اور آپ نے بتایا بھی نہیں دور ہوں تو اس لیۓ,,,
ارے نہیں بیٹا سب جلدی جلدی میں ہوگیا ٹائیم ہی نہیں ملا,,,,,,,
اچھا ٹھیک ہے پر ﮈیٹ تو بتا دو شہرناز کہ منہ پر خوشی آگئی....
بس تین دن بعد ہے پر تمہیں پوری فیملی کے ساتھ کل ہی آنا ہوگا,,,,
ٹھیک ہے امی میں عشارب کو بتاتی ہو,,,
عشارب جو کھانا کھانے میں مصروف تھا اسنے اپنی نگاہیں شہرناز کی طرف کی..
شہرناز نے کال کٹ کر دی اور عشارب سے مخاطب ہوئی..
سنیے بھائی فاروق کی ﮈیٹ فکس ہو گئی ہے..
اچھا مطلب اسکو بھی پھاسی کا پھندہ گلے میں ﮈانے کا شوق چھڑا ہے ہے عشارب نے اپنی مسکراہٹ کو کنٹرول میں کیا....
کیا مطلب,, شہرناز غصے میں بولی....
ارے کچھ نہیں مزاک کر رہا تھا,,
اب عاشر کی بھی ہنسی نکل گئی,
عاشر تم تو بچ کے رہنا اس معاملے سے, عشارب نے عاشر کو آنکھ مارتے ہوۓ کہا....
تم دونوں تو چپ ہی رہو میں خود اپنی دیورانی لاؤں گی,,,
عاشر بچو توں تو گیا اب ہاہاہاہاہا عشارب ہنسنے لگا,,,,
تم دونوں ہنستے رہو میں جارہی ہوں پیکنگ کرنے اور اس بار ہم سب چلیں گے,,عاشر تم بھی وہ عاشر سے مخاطب ہوئی...
پر بھابھی میں,,,,,
عشارب, عاشر کی بات کانٹے ہوۓ بولا عاشر تم چلے جانا آروو اور شہرناز کے ساتھ مجھے تھوڑا کام ہے میں نہیں جا سکوںگا...
کیوں,کیوں نہیں چلوگے میں کچھ بہانا نہیں سنوں گی بس اس بار ہم سب کو جانا ہے تو جانا ہے اگلی بار بھی آپ نہیں چلے تھے,,,میں جارہی ہوں سامان پیک کرنے تم دونوں تیار رہنا اور عاشر ﮈرائیور کو بھی بتا دینا.....شہرناز اپنے کمرے میں جانے لگی,,
آریان بھی بہت خوش تھا وہ عاشر کے پاس آگیا,,چاچو مجھے راستے میں (آئستریم )آئسکریم بھی کھلانا,,
اوکے میری جان عاشر نے آروو کو اٹھایا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *