Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 17)

Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon

ﮈوبتے ہوۓ سورج کی تپش عاشر کے چہرے کو چھونے لگی اسنے آفس سے نکلتے ہی اپنی ٹائی کو ﮈھیلا کر دیا اور بیگ گاڑی میں پٹک دی….اور خود بھی بیٹھ گیا اسے بہت تھکاوٹ محسوس ہوئی وہ آرام کرنا چاہتا تھا اس لیے گاڑی کو تیز سپیﮈ میں گھر کے طرف موڑی, اور چند لمحوں بعد گاڑی کو گھر کے سامنے روکا….

عاشر کی آنکھوں میں تھکاوٹ صاف ظاہر تھی, ٹائی ﮈھیلی ہاتھ میں کوٹ اور پورے بال بکھرے ہوے تھے,اور ہاتھ بیگ لیکے وہ گھر میں داخل ہوا تو اسکے کانوں میں ہنسی قہقے گونجنے لگے,,,

دیکھو بھئی جس کی بات کر رہے تھے وہ آ گیا,,,عشاب نے عاشر کو دیکھ کر کہا…

یہ..یہ..کرن کی ممی یہاں کیا کر رہی ہے,,عاشر نے رزمینہ چاچی کو دیکھ کر خود سے ہی سرگوشی کی…

عاشر کیا حالت بنا کر رکھی ہے,شہرناز آگے آئی اور عاشر کے ہاتھوں سے بیگ لتے ہوۓ بولی,,

ہاں بھابھی بس…

اچھا چاچا چاچی آۓ ہیں تم ان سے مل کر بعد میں فریش ہونے جانا….

عاشر کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا,وہ کپکپاتے ہوۓ آگے گیا,

اسلام علیکم انکل آنٹی…عاشر نے بڑی مشکل سے آواز نکالی…

وعلیکم اسلام عاشر بیٹا کیسے ہو…زرمینہ صدیقی نے کھڑے ہوکے عاشر کے سر پر ہاتھ رکھا,,

میں ٹھیک آنٹی,,

عاشر آؤ بیٹھو…صابر صدیقی(چاچا) عاشر سے مخاطب ہوا..

نہیں انکل آپ بیٹھیے میں فریش ہوکے آتا ہوں,,عاشر نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود اوپر چلا گیا….

عاشر نے زور سے دروازہ بند کیا اور شرٹ اتار کر پھینکی خود جوتوں کے ساتھ ہی بیﮈ پر گھٹنو کے بل اوندھا سو گیا,,,,

********************************

آؤ مہرماہ بیٹا کیسا رہا پہلا دن….جاوید خان کی نظریں لیپ ٹاپ کی اسکرین پر تھی,مہرماہ کو آتے دیکھ کر نظریں اسکی طرف کردی

بہت اچھا تایاجان….مہرماہ بھی ساتھ میں بیٹھ گئی,,,

پر تایا جان وہ گاڑی خراب ہوگئی تھی….

اوہ بیٹا تو فون کردیتی میں حماد کو بیجھتا تمہیں لے آتا ویسے بھی وہ سویرے ہی آفس سے آتا ہے…

اسسے اچھا تو میں پیدل آتی…وہ سرگوشی میں بولی…

کچھ کہا بیٹا جاوید خان پھر سے کام کرنے میں مصروف ہوگیا…

نہیں تایاجان وہ میں ایک دوست کے ساتھ آگئی…

ہمممم ٹھیک میں ابھی حماد کو کہہ کر گاڑی ٹھیک کرواتا ہوں…

ہیلو ایوریون…

شیطان کا نام لیا شیطان حاضر…مہرماہ حماد کے آنے سے چڑتے ہوۓ بولی….

کچھ کہا محترمہ جی….حماد طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ مہرماہ کے پاس ہی بیٹھ گیا,,,

نہیں جی..مہرماہ نے بھی اسی انداز سے جواب دیا…

آپی آپ کب آئی…..فرح بھی کمرے سے باہر آتے ہوۓ بولی…

بس ابھی آئی….یہ کیا پڑھ رہی ہو….مہرماہ اٹھ کر فرح کے پاس گئی…

وہ آپ کی فرینﮈ سے جو بک لے آئی تھی وہ پڑھ رہی تھی…

اوہ تو یہ سنہا کا بک ہے…

ہاں آپی بہت اچھا ہے آپ پڑھو گی….

ہممم دکھاؤ کونسا ہے…مہرماہ نے فرح کے ہاتھ سے بک لے لیا اور اسکو کھول کر پڑھنے میں مشغول ہوگئی…..

کونسا بک ہے,,,,حماد نے سامنے سے بک کو گھورتے ہوۓ پوچھا…

بوکھ لگی ہے…..

ہاہاہاہا بوکھ لگی ہے….وہ ہنس کر بولا….

مہرماہ نے نظریں اٹھا کر حماد کو دیکھا..کیا ہے ہنس کیوں رہے ہو….

یہ بھی کوئی بک ہے بوکھ لگی ہے….

ہاہاہاہاہا نہیں بھائی مہرماہ آپی کو بوکھ لگی ہے اور یہ ناول بک ہے….

اچھا مجھے بھی دکھاؤ کونسا ناول ہے….حماد اٹھ کر مہرماہ کے پاس آیا…

آپی میں ملازمہ کو کہتی ہوں آپکا کھانا لگاۓ…

ہاتھ بھی مت لگانا…مہرماہ نے بک کو پیچھے چھپاتے ہوۓ حماد کو کہا….

اچھا پر میں تو دیکھوں گا ہی…وہ مہر کے پاس بیٹھ گیا,مہرماہ پاؤں پٹک کر اٹھ گئی…

حماد نے پیچھے سے ہی بک چھین لی…

تم سدھروگے نہیں نا آرام ہی نہیں آتا تجھے جب تک مجھے پریشان نا کرو…..

ہاہاہاہا یہ کوئی نئی بات تھوڑی ہے….

حماد آخری بار کہہ رہی ہوں بک لوٹا دو ورنہ….مہرماہ ہونٹ بینجھتے ہوۓ بولی…

ورنہ…ورنہ کیا….حماد پیچھے ہوکے بک پڑھنے لگا….

نہیں دے رہے ہو نا….

ہنہہ…..جوابًا اسنے سر ہلایا…

تو توں اب سمبھال خود کو….مہرماہ نے آخری الفاظ منہ سے نکالے اور سائی پر پڑا ہوا پانی کا جگ اٹھا کر حماد کو پورا بگھو دیا…..

یہ کیا…..کیا….حماد چلا پڑا….

مجھسے ٹکر لینے کا انجام….مہرماہ بک چھنتے ہوۓ پیچھے ہوگئی,,,,

جاوید کام میں بزی تھا پر بیچ بیچ میں مہرماہ اور حماد کو بھی دیکھ رہا تھا….

تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہیں چھوڑ دونگا…..اسنے بھی جوس کا جگ اٹھایا….

دیکھو میں نے یہ..یہ…مہرماہ بول رہی تھی کہ حماد دوڑتا ہوا آگے آیا…..

ہاہاہاہاہا لگا کر تو دیکھنا….مہرماہ بھی بھاگ کر کمرے کی طرف گئی….

آپی کھانا…..مہرماہ کے جانے پر فرح خود ہاتھ میں کھانا لیکے کھڑی تھی….

روم میں بجھوا دینا…وہ ہنستے ہوۓ بولی…حماد اب بھی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا…مہرماہ کمرے میں پہنچ کر اسے منہ بناتے ہوۓ دیکھ رہی تھی جب حماد قریب آگیا تو اسنے زور سے دروازہ بند کیا……

********************************

عاشر کو پتا ہی نہیں چلا چھے سے نو بج گۓ وہ اب بھی نیند کی دنیا میں گم تھا وہ نیند میں بہت بے چینی محسوس کر رہا تھا یہ عاشر کی نیند کا تو ٹائیم بلکل بھی نہیں تھا بے وقت سونے کی وجہ سے اسکا سر درد سے پھٹ رہا تھا,وہ بھاری قدم اٹھاتے الماڑی کے طرف گیا وہاں سے medicine box اٹھا کر پین کلر کھالی,,,

آدھے گھنٹے بعد وہ فریش ہوکے نیچے آگیا اسنے ییلو ٹی شرٹ اور بلیک جینز پہنی ہوئی تھی,,

چاچو…….آریان نے عاشر کے آتے ہی شہرناز کی گود سے اٹھ کر اسکے پاس چلا گیا….

آروو ہوم ورک کون کرے گا…چلو آؤ جلدی فنش کرو,,

مما آپ کردو…..

آروو بہت ضدی ہو گۓ ہو پہلے آکے یہ فنش کرو بعد میں جانا,,,شہرناز نے آنکھیں دکھائی…

آروو تم اچھے بچے ہو نا,جاؤ پہلے اپنا ہوم ورک ختم کرو,,,عاشر نے اسکے گالوں کو تھپتھپایا,,,

نہیں میں آپ کے ساتھ بیٹھ کر ہوم ولک کرونگا,,

اچھا جی تو چلیے,,عاشر آروو کو لیکے شہرناز کی طرف آیا…مجھے دے بھابھی میں کرواتا ہوں….

ہمممم یہ لو تب تک میں کھانا گرم کرتی ہوں…

عاشر نے بھابھی سے بکس لی اور عاشر کو گود میں لیکے بیٹھ گیا….

ہوم ورک ختم کروانے کے بعد عاشر ﮈائینگ ٹیبل پر بیٹھ گیا,اور کھانا کھانے میں مصروف ہوگیا,,

عاشر سنو تو یہ فائل سمجھ میں نہیں آ رہی ہی تم نے بنائی تھی نا یہ……عشارب کمرے سے باہر آتے ہوۓ بول رہا تھا,,,

کیا ہے آروو کے پاپا آپ کم سے کم اسے کھانا تو کھانے دیں,شہرناز عشارب کو دیکھتے ہوۓ بولی,,,

اوہ سوری کھانا کھا لو میں بعد میں آتا ہوں….

نہیں بھائی آؤ میں بتا دیتا ہوں,,

تم کھانا کھاؤ یہ کام بعد میں بھی ہوسکتا ہے,,میں اپنے روم میں ہوں تم فری ہوکے وہاں آجانا….عشارب نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا….

جی بھائی میں آتا ہوں….

عشارب کے جانے کے بعد شہرناز عاشر سے مخاطب ہوئی,,عاشر تمہارے لیۓ خوشخبری ہے….

کونسی خوشخبری بھابھی عاشر نے مسکراتے ہوۓ پوچھا,,,

تمہارا رشتا طئہ ہوگیا ہے,,,

عاشر کھانا کھانے مصروف تھا بھابھی کی بات سن سن کر اسکو جھٹکا لگا اور ہاتھوں سے چمچ گر گیا اور اسکی سانسیں تو جیسے گلے میں ہی اٹک گئی,,,

بھابھی میرا رشتہ اور کیوں…..میں ابھی یہ سب نہیں چاہتا,,,,

دیکھو عاشر تم بڑے ہوگۓ ہو اب اور بزنس میں بھی سیٹل ہوچکے ہو….

ہاں بھابھی بزنس میں آنے کا یہ مطلب یہ نہیں کہ میں شادی کرلوں…..اسکے چہرے پر غصہ صاف ظاہر تھا,,

عاشر ایک سال سے باتیں چل رہی تھی اور اب ہم نے زبان بھی دے دی ہے,,,,

لیکن بھابھی….میں نے پہلے بھی انکار کردیا تھا اور اب بھی کر رہا ہوں……مجھے شادی نہیں کرنی ہے ہرگز نہیں…

عاشر اگر اماجان اور بابا جان ہوتے تو کیا تم انہیں بھی یہی کہتے,,,

بھابھی وہ الگ بات ہے,,,

کیوں عاشر کیا ہم نے کبھی بھی تم سے اماں جان سے کم پیار دیا,ہاں شاید ہی ہمارے پیار میں کوئی کمی رہ گئی ہو پر کیا ہم نے کبھی بھی تمہیں ان کی کمی محسوس ہونے دی ہے….

عاشر کے دل کو یہ بات ایک کانٹے کی طرح چبھ گئی,شاید اماجان ہوتی وہ ایسا کبھی نہیں کرتی,وہ میری مرضی کے خلاف کبھی نہیں جاتی,عاشر کی آنکھوں میں نمی آ گئی ,وہ سوچوں میں گم ہوگیا تھا,ہاں واقعی ئی اسکے بھائی بھابھی نے کبھی کسی کی کمی محسوس ہونے نہیں دی پر آج اسکو اپنے ماں باپ کی کمی بڑی شدت سے محسوس ہو رہی تھی,,

ٹھیک ہے بھابھی جو آپ اور بھائی کو ٹھیک لگے,,,,عاشر نے بڑی مشکل سے الفاظ نکالے,,,

مجھے تم سے یہ ہی امید تھی عاشر اور بس کچھ مہینوں بعد تمہاری انگیجمینٹ بھی ہوجاۓ گی….

عاشر بغیر کچھ بولے وہاں سے جانے لگا,,

عاشر خوش تو ہو نا,,پیچھے سے شہرناز نے آواز دی…

ہاں بھابھی عاشر نے پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا….

**************************

مہرماہ سب کے ساتھ بیٹھے ﮈنر کر رہی تھی,حماد اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا رہا,ریحانہ بیگم ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی,مہرماہ بھی کھانے میں مصروف تھی اور مصروفیت سے اسے منہ بناتے ہوۓ دیکھ رہی تھی,

مہرماہ بیٹا……جاوید خان نے خانا ختم کرکے مہرماہ کی طرف متوجہ ہوا,,,,

جی تایاجان,,,مہرماہ نے پانی کا گلاس لبوں پر لگا لیا,,

وہ گاڑی رپیئر کرنے کے لیے بیجھ دی ہے اگر تم چاہو تو کل حماد تمہیں ﮈراپ کردے گا,,,

جی تایاجان آۓ ہیو نو پرابلم…

مہرماہ نے مسکرا تے ہوۓ جواب دیا……!!!

Ooh really you haven’t any problem…..

حماد نے مہرماہ کی حامی پر چونک کر پوچھا,,,,

Yeah ofcourse….

مہرماہ نے کندھے اچکاۓ…..!!

کیوں بھئی تم تو ویسے بھی آفیس لیٹ سے آتے ہو تو اتنا حیران کیوں ہو رہے ہو,,,

نہیں پاپا بس میں تو یوں ہی,,,وہ چیئر سے اٹھ گیا,,,اور گﮈ نائیٹ کہہ کر وہ چلاگیا,,,

آپی آپ کو یاد ہے میں کراچی آئی تھی تو آپ نے پینٹنگ سکھانے کا کہا تھا…فرح نے انگلی اٹھا کر مہرماہ کو یاد دلانے کی کوشش کروا رہی تھی,,,

ہممم ہمممم….مہرماہ نے سر ہلا کر جواب دیا….

تو آج سکھا دو نا….پلیییز

ہاں تم میرے روم میں آؤ,,,,مہرماہ کی نگاہیں موبائل پر ہی جمی تھی اور چیئر سے اٹھتے ہوۓ بولی….

تھینکیو آپی میں ابھی آتی ہوں…فرح خوشی سے اٹھی اور اپنے کمرے سے سامان لینے گئی,,,

**************************

عاشر باری قدموں کے ساتھ کمرے میں آیا,وہ دھیرے دھیرے اپنے حواس کھو رہا تھا اسے کچھ سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا اسکے لبوں پر ایک ہی الفاظ آ رہا تھا,مہرماہ…..

مہرماہ کا چہرا بار بار اسکے سامنے آ رہا تھا,وہ آج بڑی شدت سے مہرماہ کو یاد کررہا تھا,اسنے آتے ہی دروازہ بند کیا اور خود دروازے سے پیٹھ لگا کر نیچے بیٹھ گیا,اسکی آنکھوں سے آنسوں بے ترتیب بہہ رہے تھے,عاشر نے اپنے بال نوچ لیۓ اور چیخھتے ہوۓ مہرماہ کا نام لیا…..

پلییز مہر لوٹ آؤ لوٹ آؤ میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں,مہرماہ میں نے تم سے بڑھ کد کسی کو بھی نہیں چاہا ہے تم میرے روح میں بستی ہو میں کیسے تمہاری محبت کو کسی اور کے ساتھ بانٹ دوں,میں اپنی محبت میں کیسے کسی تیسرے کو شریک کروں یہ میرے لیے گناھ کبیرا ہے میں کیسے تم سے بے وفائی کرلوں مہر آخر کیا گناھ ہے میرا جو پہلے تم چھوڑ کر گئی اور اب یہ…….

میں…. میں…. نہیں کرسکتا ایسا بلکل کبھی نہیں….میں اپنی محبت میں کسی اور کو شریک نہیں کرونگا……

عاشر کا پورا چہرا آنسوؤں سے گیلا ہوگیا تھا اسی وقت اسکے کمرے میں ایک آواز گونجی….

“عاشر کیا ہم نے تجھے اماجان سے کم پیار دیا ہے”

وہ آج مجبور ہوگیا تھا ایک طرف بھائی, بھابھی اور دوسری طرف اسکی محبت,,, وہ کیا کرتا اسے کچھ پتا نہیں چل رہا تھا,اسنے اپنی آنکھوں کو نوچ لیا اور اوپر دیکھ کر چیخھ رہا تھا,سر درد اتنا بڑھ گیا کہ وہ کچھ بھی سوچ نہیں سکتا تھا وہ اٹھ کر آگے بڑھا,اور medicine box باکس نکال کر نیند کی دو گولیاں کھالی اور پانی پیکے وہ سونے کے لیۓ بیﮈ کی طرف گیا….

_______________________________________________

مہرماہ صبح جلدی ہی تیار ہوکے نیچے حماد کا انتظار کر رہی تھی…..وہ پریشانی کی حالت میں بار بار ہاتھ میں پہنی گھڑی کو گھور رہی تھی….فرح نے اسے ٹھلتے دیکھا تو اسکے سامنے کھڑی ہوگئی…آپی آپ ابھی تک یہاں ہو بھائی نہیں آیا ہے کیا….

نہیں فرح دیکھو نا اگر میں اسے بلانے بھی گئی تو مجھے پتا ہے وہ پھر سے جان بوجھ کر دیر کرے گا…

مجھے بلانے کی ضرورت نہیں ہے میں آگیا….حماد گھڑی پہنتے ہوۓ نیچے آ رہا تھا….

تھینک گاﮈ یہ آگیا…..مہر نے لمبی سانس خارج کرتے ہوۓ بولی….

مہرماہ نے بکس اٹھاۓ اور ہال سے باہر آگئی حماد بھی اسکے پیچھے گنگناتا ہوا آرہا تھا….

مہرماہ پیچھے بیٹھ گئی….لگتا ہے یہ کل کا بدلہ لے رہا ہے مہرماہ اسے گھورتے ہوۓ سرگوشی کرنے لگی….

حماد ﮈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا اور بیک ویو مرر سے مہرماہ کو دیکھ کر بال سیٹ کرنے لگا….اسے پتا تھا مہرماہ کو غصہ تو بہت آ رہا ہے پر پھر بھی اسے چڑاتے ہوۓ حماد کو مزا آرہا تھا,,,

اگر تمہارا یہ ناٹک ختم ہوگیا ہو تو گاڑی سٹارٹ کریں گے,,مہرماہ ہونٹ بھینج کر بولی….

جی بلکل آپ کا حکم ہماری آنکھوں پر وہ بھی بھرپور شرارت سے بولا,,,اور گاڑی سٹارٹ کی….

مہرماہ نے نگاہیں پھیر کر بکس میں جھانکنے لگی…

حماد مسکرا کر گاڑی چلا رہا تھا وہ یونی کے قریب پہنچنے والا تھا تو بریک لگالی….

کیا ہوا اب…..

جاؤ یونی قریب ہے میں یہاں سے آفیس جا رہا ہوں….

تو کیا میں یہاں سنسان سڑک پر اتروں….مہرماہ حیرانگی سے پوچھنے لگی….

ہاں تو کیا ہوجاۓ گا,,مجھے بھی تو لیٹ ہو رہی ہے….وہ مرر میں دیکھ کر ہی مہرماہ سے بات کر رہا تھا….

تو کیا مینے کہا کہ لیٹ کرو وہ تم نے خود کی….

میری مرضی….وہ دو ٹوک انداز سے بول رہا تھا…

اب چل رہے یا یہیں نہیں….مہرماہ مزید تب گئی تھی

ایک شرط پر چلوں گا….اگر تم کل کے لیۓ سوری کہو وہ بھی دل سے….

Are you mad…..مہرماہ آنکھیں بھاڑ کر اسے دیکھنے لگی

جو توں سمجھ…..حماد بھی خشک لحجے میں بولا…

مہرماہ دانت پیسنے لگی…تجھ سے تو بحث کرنا ہی فضول ہے اب بھاڑ میں جا توں اور تیری یہ دو ٹکے کی گاڑی….مہر گاڑی سے باہر نکلی اور زور سے لات ماری گاڑی کو……

حماد بغیر کچھ بولے گاڑی کو موڑ کر تیزی سے چلا گیا….

حماد کی اسی حرکت کی وجہ سے مہرماہ بہت غصے میں تپ گئی تھی,دل تو کہہ رہا ہے کہ اسکا ابھی کہ ابھی قتل کردوں وہ اسکی گاڑی کو دور تک جاتے ہوۓ دیکھ کر بولی….اسنے موبائل نکالا جب ٹائیم کا اندازا ہوا تو خود ہی پیدل چلنے لگی….

ایئر کنﮈشنر رومس اور گاڑیوں میں سفر کرنے والی آج سنسان سڑک پر دھوپ میں پیدل چل رہی تھی….

“”تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہیں اس سنسان سڑک پر اکیلا چھوڑ کر جاؤں گا””

اسے کسی لڑکے کی آواز سنائی دی اسنے قدم روکے اور پیچھے دیکھنے لگی….مگر پیچھے کوئی نہیں تھا….

عاشر…….یہ آواز تو عاشر کی تھی….وہ ادھر ادھر دیکھ رہی تھی مگر وہاں ایک پنچھی بھی نہیں تھا,,

میں بھی نا وہ یہاں کیسے….مہرماہ نے منہ پھیرا اور خاموشی سے آگے چلنے لگی….

“اگر عاشر یہاں ہوتا تو تجھے یوں اکیلا کبھی نہیں چھوڑتا” اسکی دل سے ایک آواز آئی اور عجیب سا درد ہونے لگا….

عاشر تو میرا دوست تھا اور یہ کزن اگر کزن میری کوئی پرواھ نہیں تو وہ عاشر کیوں میری فکر کرتا تھا….اسکے من میں سوال ابھرنے لگے وہ آج نا چاہتے ہوۓ بھی عاشر کو یاد کر رہی تھی…

وہ سوچتے سوچتے یونی میں تک آ چکی تھی اور خود کلاس میں چلی آئی….

دیکھا تو پورا کلاس سٹوﮈنٹس سے بھرا پڑا تھا فریال بھی کسی اور کے ساتھ بیٹھی تھی اسے کوئی اور چیئر خالی نظر نہیں آئی…..

Mahrmah come here…

فریال نے اسے اشارہ کیا…..

مہرماہ وہاں چل پڑی….

فریال کے پیچھے ایک لڑکا بیٹھا کتاب میں کھویا ہوا تھا….مہرماہ اسکے قریب آئی….

Excuse me May I sit here

اس لڑکے نے نگاہیں اوپر کی اور مسکرا کر مہر کو جواب دیا…یییس….

مہرماہ اسے دیکھ کر چونک گئی انمول مہرماہ نے اسکا نام لیا….

You may sit…..

انمول نے بیگ سائیﮈ پر رکھ دیا اور مہرماہ کو بیٹھنے کا اشارہ کیا….

مہرماہ بال پیچھے کرتے ہوۓ بیٹھ گئی….

وہ اپنی بک میں مگن تھا,مہرماہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی,

ہاں اسکی زندگی میں بہت سے لوگ آۓ مگر یہ پہلا لڑکا تھا جس کو وہ بڑی فرست سے دیکھ رہی تھی,اور یہ کوئی واحد خوبصورت چہرا نہیں تھا پر ناجانے اس لڑکے میں ایسی کیا غیر معمولی بات تھی جو اسکے دل کی دھزکنیں بے ترتیب ہو رہی تھی,شاید وہ اسکے دل کو اسکی نظر کو بھا گیا تھا,مہرماہ آج پہلی بار یوں بے اختیار ہو رہی تھی…

کچھ چاہیے….انمول نے مہرماہ کو یوں دیکھا تو اسے سوال کرنے لگا…..

نہیں.. ہاں…نہیں…مہرماہ کے منہ میں الفاظ ہی نہیں آ رہے تھے,,,

Wait a mint….

انمول نے بک بند کرکے بیگ میں رکھ دی….

Now tell me what happened….

انمول مہرماہ کو دیکھنے لگا….

Nothing….

مہرماہ نظریں چرا کر بولی…

انمول ہنس پڑا,,,

یہ ہنسی کس خوشی میں…..

مہرماہ سوالیا نظروں سے دیکھنے لگی….

بس آپ کا چہرا دیکھ کر,,,

کیوں ایسا کیا ہے,,,مہرماہ اپنے چہرے کو چھونے لگی….

کچھ نہیں ہے بس ایسا چہرا بنا کر بیٹھی ہو جیسےآپ کی کوئی چوری پکڑی گئی ہو….

اچھا…..

ہاہاہا نہیں ایسی کوئی بات نہیں مہرماہ نے ہنستے ہوۓ جواب دیا…

وہ دونوں ہنستے ہوۓ باتیں کر رہے تھے اتنے میں سر آگیا اور کلاس شروع ہوگیا…

*******************

بارا بج چکے تھے نیچے شور کی وجہ عاشر بھی گھری نیند سے اٹھ گیا…..

عاشر کو نیچے سے ہلکی ہلکی آوازیں سنائی دے رہی تھی,,,وہ آنکھیں مسل کر موبائل اٹھا کر دیکھ رہا تھا…

یہ نمبر کس کا ہے…..کوئی انجان نمبر موبائل کی سکرین پر ﮈگمگا رہا تھا…..عاشر نظراندار کرتے ہوۓ موبائل کو بیﮈ پر پٹک کر دروازہ کھولنے لگا,,,

فاروق اور انجم بھابھی….عاشر نے نیچے گیسٹ کو دیکھا اور خود کی حالت دیکھ کر پیچھے ہوگیا….

آپی عاشر نظر نہیں آرہا ہے…..فاروق چاۓ پیتے ہوۓ شہرناز سے عاشر کے بارے میں پوچھا…

وہ اوپر ابھی تک سو رہا ہے….

ہاں بھئی یہی تو دن ہے آرام کرنے کے ورنہ شادی کے بعد تو بیویاں نیندیں حرام کردیتی ہیں….فاروق نے انجم کی طرف دیکھ کر کہا……

ہاہاہاہا شہرناز اسے دیکھ کر ہنسنے لگی….

مطلب میں نے آپ کی نیندیں حرام کردی ہے…انجم نے حیرانگی کے تاثرات ظاہر کرکے پوچھا…..

جی بلکل…فاروق نے ایک آنکھ بند کرکے مزاحیہ انداز میں کہا….

انجم نے پاس میں پڑا تکیہ اٹھا کر سامنے فاروق کو مارا….

نہیں بھائی شاید آپ کو کوئی غلطفہمی ہوئی ہے….میری بھابھی تو world’s best بھابھی ہے,عروسہ صوفے کے پیچھے کھڑی تھی اور انجم کو پیچھے سے ہگ کرکے بولی,,,

سیکھو کچھ عروسہ سے….انجم نے فارق کو آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوۓ بولی…..

آپی میں اوپر بھائی کو مبارک دیکے آتی ہوں…..عروسہ شہرناز کو کہہ کر اوپر کی طرف جانے لگی….

عاشر واشروم میں تھا,عروسہ نے آواز لگائی پر جواب نہیں آیا….

چلو ٹھیک ہے نیچے ہی آجاۓ گا….عروسہ نے دھیمی آواز نکالی اور واپس پیچھے مڑی,,اسکی نگاھ ٹیبل پر پڑی جہاں پر وہی باکس پڑا تھا جو دو سال پہلے عاشر نے اسے لےلیا تھا,,,

عروسہ آھستہ آھستہ قدم بڑھا کر وہاں پر آئی اور باکس اٹھا کر مسکراتے ہوۓ کھولا…..

مہرماہ….. اسنے رنگ پر لکھے نام کو رپیٹ کیا….وہ چونک گئی اور پاس میں پڑی ﮈائری اٹھائی اور وہ کھولتے ہوۓ صوفے پر بیٹھ گئی,,,,

اسکو پڑھ کر عروسہ کی آنکھوں میں پانی آ گیا,اتنے میں عاشر واشروم سے باہر آگیا,اسنے وائیٹ شرٹ اور بلو جینز پہنی ہوئی تھی,اسکی نظریں جیسے ہی عروسہ پر پڑی وہ شاکﮈ ہوگیا اور آگے آکے اسکے ہاتھوں سے ﮈائری چھین لی…..

تم پاگل ہو کیا اور پتا نہیں ہے بغیر اجازت کے کسی کی بھی چیزوں کو ہاتھ نہیں لگاتے,عاشر کے منہ سے غصے کی آگ بڑھک رہی تھی….

اسکے لیۓ سوری پر یہ کیا ہے,,عروس اسے دیکھتی ہی رہ گئی….

عاشر خاموش ہوکے کھڑا تھا اور اسکی خاموشی سے عروسہ سب کچھ سمجھ گئی,,میں ابھی آپی کو سب کچھ بتا دیتی ہوں,,,وہ کمرے سے باہر جانے لگی….

رکو عروسہ تمہیں میری قسم…..

عاشر کے دیۓ ہوۓ قسم کی وجہ سے عروسہ نے قدم روک لیے…

بھائی یہ کیا ہے تم خود کو کیوں برباد کر رہے ہو….

عروسہ دیکھو…عاشر اسے سمجھانے لگا….

زندگی میں ایک چیز ہوتی ہے جسے کمپرومائز کہتے ہیں,پرسکون زندگی گزارنے کے لیۓ اسکی بہت ضرورت پڑتی ہے,جس چیز کو تم بدل نا سکو اس کے ساتھ تم کمپرومائز کرلیا کرو مگر اپنی کسی بھی خواہش کو اپنا جنون مت بنانا

کیونکہ زندگی میں کچھ چیزیں اسی بھی ہوتی ہیں جو ہمیں کبھی نہیں ملتی,چاہے ہم روئیں چلائیں یا بچوں کی طرح ایریاں رگڑیں,وہ کسی دوسرے کے لیۓ ہوتی ہیں,مگر اسکا یہ مطلب نہیں زندگی میں ہمارے لیۓ کچھ ہوتا ہی نہیں,کچھ نا کچھ ہمارے لیۓ بھی ضرور ہوتا ہے بس کوشش کرکے ﮈھونﮈنا پڑتا ہے

اور خدا کا پاک کلام خد کہتا ہے,,

“اور شاید کے تم کو بری لگے ایک چیز اور وہ بہتر ہو تمہارے حق میں,اور شاید تم کو بھلی لگے ایک چیز اور وہ بری ہو تمہارے حق میں اور خدا جانتا ہے جو تم نہیں جانتے” (سورة البقر آيت ١٠٦)

مطلب بھائی میں نہیں سمجھی…

مطلب کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ جس چیز کو تم اپنے حق میں نافع یا مضر سمجھو وہ چیز واقعے میں ہی تمہارے حق میں ویسی ہی ہواکرے,بلکہ ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو اپنے لیۓ مضر سمجھو اور وہ مفید ہو,پر ہمارے نفعے اور نقصان کو خدا ہی خوب جانتا ہے جسے ہم نہیں جانتے,,

تو کیا بھائی آپ کی محبت خدا کے آگے سچی نہیں ہے….

نہیں عروسہ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ میری محبت جھوٹھی ہے,اور جھوٹی ہو بھی نہیں سکتی کیوں کہ ہمارے دل میں احساس خدا خود ﮈالتا ہے پر دوسرے وقت ہمیں خدا نے صبر کرنے کی ہدایت بھی کی ہے اور میں جانتا ہوں میرا خدا میری محبت مجھے ایک دن ضرور لوٹاۓ گا مجھے یقین ہے اگر اس دنیا میں نہیں تو اگلے جہان میں خدا مجھے میری محبت ضرور عطا کرےگا……کیا پتا خدا مجھے آزما رہا ہو,میں اپنی خوشی کے لیے اپنی فیملی کو کیسے ناراض کروں اور اگر ایسا کروں بھی تو کیا خدا ناراض نہیں ہوگا,اس لیے میں اپنی محبت کو پورے حق سے پانا چاہتا ہوں,,,,,

بھائی بولنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہے پر میں دعا کرتی ہوں آپ کو اپنی محبت ضرور ملے گی….عروسہ اٹھ کر کمرے سے باہر جانے لگی…

عاشر کی آنکھیں پھر سے پانی سے بھر گئی وہ مہرماہ کو حد سے زیادہ یاد کر رہا تھا,اور ﮈائری کو سینے سے لگا کر لمبی سانس لینے لگا….

بہت ستایا ہے اسکی بے بس یادوں نے

اے شام تو گزر جا اب رویا نہیں جاتا

*********************

یونی کی چھٹی ہوگئی تھی مہرماہ انمول کے ساتھ باتیں کرتے ہوۓ باہر آئی,انمول تم جاؤ جب میری گاڑی آجاۓ گی تو میں چلی جاؤں گی,,مہرماہ اور انمول کھڑے ہوکے باتیں کر رہے تھے تو مہرماہ نے بیچ میں اسے جانے کے لیے کہا…

کیوں مہرماہ گاڑی نہیں ہے کیا…

نہیں یار وہ رپیئر کرنے کے لیے بیجھ دی صبح کزن کے ساتھ آئی تھی,,,

اچھا تو اب میرے ساتھ چلو میں ﮈراپ کردیتا ہوں….

آر یو شیؤر…..مہرماہ نے آگے آتے ہوۓ پوچھا….

Yes I’m sure

انمول نے اسکا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کے طرف لے گیا….

مہرماہ چونک گئی اسکی سانسیں رک گئی تھی پتا نہیں کیوں اسکی دل کی دڑھکنیں تیز ہوگئی…..

مہر اگر برا نا مانو تو کافی شاپ چلیں……

جی بلکل جیسی آپ کی مرضی…..مہرماہ نے مسکرا کر جواب دیا,انمول نے گاڑی سٹارٹ کی..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *