Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon NovelR50673 Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 20)
Rate this Novel
Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 20)
Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon
عاشر کیا کر رہے ہو مار دوگےکیا..
ہاں اسی لائق ہو تم….
عاشر پاگل مت بنو میں بتانے ہی والا تھا….
کیا بتاتے اور کیوں بتاتے میں تو تمہارا کچھ لگتا ہی نہیں ہوں نا بار بار مینے پوچھا پر ایک دفعہ بھی تم نے…..
یار یقین مانو مجھے اس کے بارے میں کچھ بھی پتا نہیں تھا,یہاں تک کرن نے تمہارا نام بھی نہیں بتایا تھا,,اور گھر کا پرابلم تھا میں کیسے بتاتا تم خود پریشان تھے رات دن اس بے وفا کے لیے آنسوں بہاتے ہو تو میں کیسے تمہیں اور پریشان کرتا,میں اس لڑکی کی طرح سیلفش نہیں ہوں جو دوسروں کے دکھوں کو نظرانداز کرکے انھیں اور تکلیف دوں,,,
کرن حیران ہوکے دونوں کو دیکھ رہی تھی عدیل تم عاشر حسن کو جانتے ہو….
ہاں اسکو کون نہیں پہچانتا….اسکے رگ رگسے واقف ہوں,عدیل نے آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوۓ بول رہا تھا….
عاشر کی آنکھوں میں نمی اتر آئی اسنے عدیل کو گلے لگایا….
عاشر مینے تو نہیں بتایا پر تم تو بتا سکتے تھے اور کرن سے تم کیسے….
بس لمبی کہانی ہے اب گھر چلو وہاں بات کرتے ہیں,,,عاشر نے گلے سے الگ ہوتے ہوۓ کہا….
کرن تم کہو تو ﮈراپ کردوں…عدیل نے کرن سے پوچھا…..
نہیں تم لوگ جاؤ, اگر موم نے مجھے تمہارے ساتھ دیکھ لیا تو پتا نہیں تمہیں کیا کیا سنائیں گی…
ہممم ٹھیک ہے اب تو توں بے فکر ہوجا کیونکہ تیرا نا ہونے والا ہسبینﮈ میرے قبضے میں ہے,,عدیل عاشر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مزاحیہ انداز میں بولا…..
********
کرن جا چکی تھی عدیل اور عاشر بھی باتیں کرتے ہوۓ گاڑی میں بیٹھ گۓ,,,
عاشر میں بہت پریشان ہوں یار میں کیا کروں…عدیل افسردگی سے بولا….
Don’t worry Adeel I’m with you…
عاشر کا دھیان سامنے ﮈرائیونگ پر تھا…
ہمممم…. عدیل نے مسکرہ کر جواب دیا…
تمہارا رشتہ بچپن میں طئہ ہوگیا اور تم مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا,,,عاشر نے نظریں گھما کر عدیل کو دیکھ رہا تھا….
ایک دو بار تم سے گرل فرینﮈ کا ﺫکر کیا تھا پر یہ نہیں بتایا کہ کرن ہے وہ….
مہرماہ…….عاشر کے لبوں پر مہرماہ کا نام آتے ہی دل کی دڑھکنے لگا…
کیا…ہوا اسے عدیل نے ناگواری سے پوچھا…
اسے سب پتا تھا نا…..عاشر نے پھر سے سوال کیا….
ہاں پر تم کیسے……عدیل اسے سوالیا نظروں سے گھورنے لگا….
جس کی سانس سے میری سانسیں جڑی ہو تو بھلا مجھے کیسے پتا نہیں چلتا,,,عاشر نے بریک مارا…اترو گھر آگیا ہے اسنے عاشر نے اشارہ کیا…
وہ دونوں گھر میں آگۓ بھائی بھابھی اور آروو ٹیوی دیکھنے میں مصروف تھے,,,
اسلام علیکم…..عدیل نے آتے ہی سلام کیا….
عدیل تم…..تم کب آۓ…عشارب کھڑا ہوگیا اور چاۓ کا کپ سامنے ٹیبل پر رکھ دیا…
جی بھائی بس یہاں ضروری کام سے آیا تو سوچا عاشر سے مل لوں….
تو آؤ نا وہاں کیوں کھڑے ہو عشارب نے بیٹھنے کے لیے کہا…
شہرناز بھی کھڑی ہوگئی اور عدیل سے مخاطب ہوئی,کیسے ہو عدیل….
بلکل ٹھیک بھابھی,,
تم دونوں بیٹھو میں پانی لیکے آتی ہوں…
تو عاشر تم عدیل کو لینے گۓ تھے,,عشارب نے رموٹ سے ٹیوی آف کرتے ہوۓ بولا….
جی بھائی عدیل کو لینے ہی گیا تھا,,,
عدیل تمہیں تو عاشر نے بتایا ہی ہوگا کہ اسکی انگیجمینٹ ہونے والی ہے….
عدیل کے چہرے کا رنگ اڑ گیا
وہ بھائی عدیل… عاشر نے بولنا شروع ہی کیا کہ عدیل نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے چپ رہنے کا اشارہ دیا….
…ہا..ہا ہاں بتایا تھا عاشر نے….بڑی مشکل سے عدیل نے الفاظ نکالے…
ﮈنر تیار ہوگیا ہے کہو تو لگاؤں سب ساتھ میں مل کر کریں….شہرناز پانی دیکے بولی…
جی بھابھی ہم ابھی آۓ عاشر نے مسکرا کر جواب دیا….
************************
مہرماہ کے ہاتھوں میں کچھ شاپنگ بیگ تھے وہ فرح کے ساتھ ہنسی مزاق کرتے گھر میں داخل ہوئی,ہالمیں کافی اندھیرا چھایا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ ٹھیک سے دیکھ نہیں پائی,,
فرح یہ اتنا اندھیرا کیوں ہے,مہرماہ نے فرح کا ہاتھ پکڑا,,
پتا نہیں آپی آپ چلیے میں لائیٹس آن کردیتی ہوں,,,فرح نے موبائل کی لائیٹ آن کی اور کچن کی طرف گئی,مہرماہ نے قدم آگے بڑھاۓ اور لمبی ہیل کی وجہ سے اسکا پاؤں پھسل گیا وہ پیچھے گرنے والی تھی کے پیچھے سے کسی نے اسے سپورٹ دیا وہ گرنے سے بچ گئی,
سرپرائیز……..سب لوگوں نے مل کر آواز نکالی اور لائیٹس بھی آن ہوگئی تھی,مہرماہ اب بھی حماد کے بانھوں میں تھی,لائیٹس آن ہونے کی وجہ سے حماد خیالوں سے باہر آیا اور مہرماہ کو اپنی بانھوں سے آزاد کیا,,
مما پاپا آپ……مہرماہ نے سامنے آفتاب خان اور فوزیہ بیگم کو دیکھ کر چونک گئی….
مہرماہ باگ کر پاپا کے گلے لگ گئی,,,واؤ پاپا what a nice surprise…
لگتا ہے بیٹیاں بس پاپا کو ہی یاد کرتی ہے جیسے مما تو ہے ہی نہیں,,,فوزیہ بیگم نے خفگی سے کہا…
مہرماہ مما کو دیکھ کر مسکرائی اور اس کے بھی گلے لگ گئی…
کیسی ہو بیٹا,,
بلکل ٹھیک…اور موٹی نہیں آئی ہے کیا….مہرماہ نے اپنی نظریں ادھر ادھر دوڑائی….
نہیں مہر وہ گھر پر ہی نانی کے ساتھ,,,
پر آپ لوگ اچانک یہاں کیسے….
بیٹی کی یاد آۓ تو کیا ہم اسے دیکھنے بھی نہیں آئیں…
نہیں پاپا بلکہ میں بھی بہت یاد کر رہی آپ سب کو….
بھائی صاحب اب یہ باتیں بعد میں بھی ہوسکتی ہے پہلے آپ لوگ فریش ہوجاؤ,,,جاوید خان آگے آتے ہوۓ بولا….
ویسے مہرماہ آپی آگے ایک اور بھی سرپرائیز ہے,,فرح نے مہرماہ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر مسکراتے ہوۓ کہا….
اب اور کیا سرپرائیز ہے….مہرماہ نے سوچنے والے انداز میں انگلی ماتھے پر گھمائی…
چپ ہو جا…ریحانہ نے فرح کے سر پر تھپکی لگائی اور مہرماہ سے مخاطب ہوئی مہرو تم چھوڑو اسے تم جاؤ فریش ہوجاؤ تو ساتھ میں ﮈنر کرتے ہیں,
اوکے چھوٹی ماں…..مہرماہ خوشی سے ریحانہ بیگم کے گلے لگ گئی…
**************
میں کرن سے شادی نہیں کروںگا,,
کیا……
سب لوگ کھانا کھانے میں مصروف تھے عاشر نے بیچ میں بات کی تو شہرناز کے ہاتھوں سے پلیٹ نیچے گر گئی,,,
عاشر تم پاگل تو نہیں ہو گۓ ہو یوں اچانک منگنی سے انکار…..شہرناز نے حیرانگی سے پوچھا….
عدیل نے چپ رہنے کا اشارہ کیا..پر عاشر نے اسے اگنور کردیا…
عاشر کا انکار سن کر عشارب کا منہ کھل گیا….
وہ بھابھی میں آپ کو…
عاشر کیا ہوا اچانک پہلے تو ٹھیک تھے….عاشر کی بات کاٹ کر عشارب بولا….
بھائی میں آپ لوگوں کے فیصلے پر ایگری تھا پر بات میری نہیں ہے یہاں بات کرن کی بھی ہے کیوں کہ شادی میں صرف میں نہیں کرن بھی ہوگی اور اسے بھی پورا حق ہے اپنا لائف پاٹنر چوز کرنے کا….
عاشر تم کہنا کیا چاہتے ہو….شہرناز نے حیران ہوکے پوچھا….
بھابھی کیا آپ کو پتا ہے کرن کا بچپن میں ہی رشتہ طئہ ہوگیا تھا….
کیا……عشارب نے پھٹی آنکھوں سے عاشر کو گھورا,,,
نہیں مجھے تو نہیں پتا…شہرناز نے نفی میں سر ہلایا….
بھابھی اسکا رشتہ اسکی نانی طئہ کرکے گئی تھی…
پر میں کرن کے ننہیال والوں کو نہیں جانتی….
بھابھی اگر میں کرن کے ساتھ کوئی رشتہ جوڑ بھی دوں پر اسکی فیملی میں پرابلم آجاۓ گی اسکا کہنا تھا دو فیملیز کے رشتے ٹوٹ جائیں گے….
یہ سب تمہیں کیسے پتا چلا….بھابھی نے سوال کیا…
وہ آج میں اس سے ہی ملنے گیا تھا اور اسنے سب کچھ بتایا…
تو چاچی نے ہمیں تمہارے لیے کیوں کہا…
کیوں کہ جس کے ساتھ کرن کا رشتہ ہوا تھا وہ نکما ہے..عاشر نے ہنسی پر کنٹرول کرکے عدیل کو دیکھ رہا تھا….
مطلب….عشارب نے پوچھا…
بھائی یہ نکما آپ کے سامنے ہے کرن کا کزن عدیل…..
کیا……شہرناز اور عشارب دونوں کو پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے…
ہاں بھائی…..
پر اب کیا ہوگا پرسو تو انگیجمینٹ ہے,,,شہرناز گھبرا کر بولی…
کچھ نہیں ہوگا بھابھی انگیجمینٹ ہوگی اور وہ بھی کرن کی مگر میرے ساتھ نہیں اس کے ساتھ, عاشر نے عدیل کے کندھے پر ہاتھ رکھا…
مگر عاشر تم میری کنﮈیشنس سے واقف ہو میں اتنی جلدی پپھو کی شرط کے مطابق بزنس مین یا کوئی….
ﮈونٹ وری اسکا بھی حل میرے پاس ہے….عاشر مسکرا کر بولا…
اب کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں….عشارب بیچ میں بولا…
بھائی یاد ہے آپنے کہا تھا کے تم اپنا بھی بزنس سٹارٹ کرو پر مینے منع کردیا تھا مگر اب فیصلا کیا ہے میں اپنا بزنس کروں اور عدیل مجھسے پاٹنرشپ کرلے….
ت.ت.تم پاگل ہو کیا مجھے کچھ بھی پتا نہیں ہے میں کیسے…..
پر مجھے تو پتا ہے نا اور بھائی بھی ہے وہ پوری ہیلپ کریں گے…
بلکل عدیل بلکہ میں تو عاشر کے اس فیصلے سے بہت خوش ہوں…..عشارب نے خوشی سے ہامی بھری…
پر عاشر تم یہ سب اپنے دل سے کر رہے ہو نا,یوں اتنی بڑی قربانی کرن کو عدیل کے ساتھ….
نہیں بھابھی میں تو حد سے زیادہ خوش ہوں….عاشر کے چہرے پر خوشی صاف ظاہر تھی…
ٹھیک ہے پر چاچی کو کون سمجھاۓ گا….
بھابھی میں جاؤنگا پپھو کو منانے…..
عدیل وہ پہلے ہی تمہاری بات نہیں مان رہی تھی تو اب کیسے…وہ خفگی سے بولی…
بھابھی میں جاؤنگا نا…عاشر بیچ میں بولا….
نہیں عاشر تم دونوں کا جانا ٹھیک نہیں ہوگا شہرناز جاۓ گی اور یہی بہتر ہوگا…
******************
مہرماہ سونے کے لیے بیﮈ پر لیٹی تھی وہ بہت خوش تھی آج مما پاپا کو ایک سال بعد دیکھ کر اسکا دل جھوم اٹھا تھا…اسنے مسکرہ کر آنکھیں بند کی تو ایک خوبصورت چہرا اسکے سامنے آگیا,
اے کے….اسنے لبوں سے ایک نام لیا اور بے ساختہ مسکرا دی,
کیا وہ بھی میرے بارے میں ایسا ہی سوچتا ہوگا,وہ آج خود سے ہمکلام تھی…
اگر اسنے کبھی ایسا محسوس ہی نہ کیا ہو تو…
نہیں نہیں ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی مہرماہ خان کو رجیکٹ کرے,اسنے کروٹ بدلی دیکھا تو سامنے ٹیبل پر موبائل کی روشنی آ رہی تھی,اسنے وہاں سے ہی موبائل اٹھایا دیکھا تو اے کے نام سے کچھ میسجز آۓ تھے وہ جلدی سے اٹھ گئی اور مسکرا کر کچھ ٹائیپ کرنے میں لگی….
***************************
گھر میں سب لوگ جمع تھے اور تقریباً دونوں فیملیز کے سارے رشتیدار آ گۓ تھے,پورا گھر روشنی اور قمقموں سے جگ مگا رہا تھا,اور ہر طرف گلاب کے پھول بکھرے ہوۓ تھے,لاؤنچ سے لیکر اوپر تک پھولوں کی سجاوٹ کی گئی تھی,گھر کے کونے کونے سے خوشیوں کی مہک آ رہی تھی…
عدیل اور کرن کی انگیجمینٹ کی تیاریاں زور و شور سے چل رہی تھی اور ساری زمیداری عاشر نے لی تھی….
سامنے ہی اسٹیج ترتیب دیا گیا تھا,جسے نہایت نفاست جدت اور بڑی خوبصورتی سے آرائش کیا گیا تھا,
عاشر نے بلیک قمیس اور سفید شلوار زیب تن کیے ہوۓ تھا اور ساتھ ہی ہلکی داڑھی اور ﮈمپل والی مسکراہٹ سے اسکی شخصیت اور بھی نکھار رہی تھی,,
وہ ابھی بھی کاموں میں الجھا ہوا تھا…
بھئی سب کچھ اچھے سے تیار ہوگیا ہے نا….عاشر سامنے cook کے پاس آکے کھڑا ہوا…
جی سر اگر چاہو تو آپ ٹیسٹ کرلو,,,اسنے سامنے پڑی ﮈشز کو دیکھ کر کہا,,,
خوشبو تو اچھی آ رہی ہے پر پھر بھی ٹیسٹ کرنا پڑے گا,,,
جی شیؤر….اسنے ایک چمچ آگے بڑھایا….
عاشر باری باری سے ایک ایک ﮈش کا ﮈھکن اٹھا کر ٹیسٹ کرتا گیا….واہ ٹیسٹی فوﮈ,,عاشر نے اسکی تعریف کی…
عاشر…..کسی نے پیچھے سے آواز دی…
جی انکل….عاشر نے مڑ کر جواب دیا…
تمہارا بہت بہت شکریہ….اسنے اپنا ہاتھ عاشر کے کندھے پر رکھ دیا…
کیوں انکل….
تم نے دونوں خاندان کو جوڑ کر آج بہت اچھا کام کیا ہے,,پتا ہے عدیل کا رشتہ میری ماں نے جوڑا تھا میری بہن کی بیٹی کے ساتھ بس کسی وجہ سے ہم بھائی بہن الگ ہوگۓ تھے اور آج تمہاری وجہ سے ہم ایک ہوگۓ…..بیٹا بہت بہت شکریہ….اسنے عاشر کے آگے ہاتھ باندھ لیے تھے….
ارے انکل یہ آپ کیا کر رہے ہیں اور مینے اتنا بڑا بھی کام نہیں کیا ہے یہ تو میرا فرض تھا آخر بچپن سے لیکے میرا ایک ہی تو اچھا دوست ہے اور اس کے لیے میں اتنا بھی نہیں کرسکتا ہوں….
اللّٰه تمہیں ہمیشہ خوش رکھے…اسنے عاشر کے سر پر ہاتھ رکھا…. جوابًا عاشر مسکرایہ…
————
عدیل اور کرن ساتھ میں اسٹیج پر بیٹھے کچھی لمحوں میں رنگ سرمنی شروع ہوئی عاشر یونے کے کچھ فرینﮈز کے ساتھ کھڑا تھا جس میں سنہا اور طارق بھی شامل تھے ان دونوں کی بھی شادی ہوچکی تھی عاشر آج بہت خوش تھا وہ عدیل اور کرن کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا رنگ پہنانے کے بعد پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا,,
عاشر تمہیں جلن نہیں ہو رہی ہے عدیل کو دیکھ کر….سنہا ایک آنکھ بند کرکے بولی…
مجھے کیوں جلن ہوگی بھلا….عاشر کندھے اچکاتے ہوۓ بولا…
کیونکہ یہ کرن اب اس کی جو ہوگئی…وہ ہنسی کو چھپا کر عدیل کہ طرف اشارہ کر رہی تھی…
پاگل میں تو آج عدیل سے بھی زیادہ خوش ہوں…
اب اتنا بھی خوش کیوں….
کیوںکہ آج میں مرنے والا تھا….
کیا تمہیں شرم نہیں آتی تم خودکشی کرنے والے تھے….
نہیں پاگل اگر آج میں اس کرن کے ساتھ بندھ جاتا تو میری محبت مجھے جیتے جی مار دیتی…
اور تمہیں کیا لگتا ہے تمہیں تمہاری محبت مل جاۓ گی….
ہاں کیوں نہیں خدا صبر کرنے والے کے ساتھ ہے اور مجھے یقین ہے اس کی رحمتوں پر وہ میرا ساتھ ضرور دیگا…
اگر وہ کسی….
سنہا پلیز وہ ایسا کبھی نہجں کرسکتی اور اگر ایسا ہوا بھی تو وہ دن میری زندگی آخری ہوگا…..
ہاہاہاہا عاشر میں مزاق کر رہی تھی پتا ہے مجھے سب کچھ…
دیکھو عاشر کو طارق جی یہ جان دینے کے لیے بھی تیار ہے سنہا نے طارق سے کہا…
ہاں تو میں تھوڑی دونگا جان وان وہ بھی تمہارے لیے…ہنہہ..
دیکھا عاشر یہ کیسا بن گیا ہے سارے مرد ایک جیسے ہی ہوتے ہیں..سنہا نے شکایت والے منہ سے عاشر سے بات کی…
اب تم ہی سمجھاؤ اسے عاشر اگر میں مر گیا تو کیا یہ جی پاۓ گی…طارق نے آگے آتے ہوۓ دونوں ہاتھ عاشر کے کندھوں پر رکھ دیے….
صحیح تو کہہ رہا ہے,,یہ….عاشر نے بھی اسکی طرف اشارہ کیا…
اور سنہا میں بدلا نہیں ہوں میرے دل میں تیری محبت اب بھی ویسی ہی ہے جیسے پہلے تھی…وہ سنہا کی طرف بڑھا…
لو یو…..سنہا کی آنکھوں میں نمی آگئی وہ طارق کے گلے لگ گئی…
Love you too my sweet wife….
آ.ہاں.ہمم..عاشر ادھر ادھر دیکھ کر کھانسنے لگا….
یہ کوئی رومئنس کرنے کی جگہ نہیں ہے سب لوگ دیکھ رہے ہیں عاشر سرگوشی میں بول کر وہاں سے چلا گیا…..
**********************
رات کو دیر سے سونے کی وجہ سے مہرماہ صبح لیٹ سے اٹھی وہ فریش ہوکے نیچے آئی دیکھا تو سب لوگ ناشتا کر رہے تھے,,
گﮈ مارننگ ایوریون…..مہرماہ بھی چئیر پر بیٹھ گئی…
مہرماہ طبیعت تو ٹھیک ہے نا آپ کی…آفتاب صاحب نے مہرماہ کی تھکن والی آنکھیں دیکھ کر پوچھا….
جی پاپا…میں تو ٹھیک ہوں..
خیر ناشتہ کرلو…آفتاب خان نے مصروفیت سے کہا….
آپی آج یونی نہیں جا رہی ہو….
نہیں فرح آج میں مما پاپا کے ساتھ ہی رہوںگی….
نہیں بیٹا تم جانا چاہو تو جاؤ اور ویسے بھی ہم دوچار دنوں تک یہاں ہی رہینگے….
کیوں بھائی صاحب دو چار دن کیوں اب تو ہم آپ کو جانے ہی نہیں دینگے……
ہاں چاچا جی آپ پہلی بار آۓ ہیں اور اتنی جلدی کیوں…اب کی بار حماد بول پڑا…
نہیں حماد بیٹا وہاں پنکی بھی اکیلی ہے نا اور پھر مجھے بھی تو کام ہے….
وہ لوگ آپس میں گفتگو کر رہے تھے,کہ مہرماہ کو فون بجا….
فریال مہرماہ نے سکرین پر آتا ہوا نام دھرایا….ایکسکیوزمی….وہ ایکسکیوز کرتے وہاں سے چلی گئی…
***************************
یوں تو وہ روز آفیس جاتا تھا مگر آج عدیل کے ساتھ اسکا پہلا دن تھا اور پہلی بڑی میٹنگ جو عاشر اور عدیل کے بزنس کا پہلا قدم تھی….
وہ دونو میٹنگ حال میں بیٹھے تھے عاشر صوفے پر بیٹھے فائلس چیک کر رہا تھا عدیل بھی اسکے پاس میں ہی بیٹھا تھا…
عاشر مجھے تو گبراہٹ ہو رہی ہے….
گھبراہٹ کیوں…عاشر کی نظریں اب بھی فائل پر ٹکی تھی….
یار مجھ سے کیسے ہوگا یہ مینے تو کبھی ﮈھنگ کا پریزنٹیشن ہی نہیں دیا تو آج اتنے سارے انویسٹرس کے سامنے…
اچھا جی یونی میں تو بڑا ناک میں دم کرکے رکھتے تھے اور آج کیوں ﮈر رہے ہو…
ہاں وہ تو مہرماہ کی وجہ سے سب پاسیبل..عدیل کے الفاظ ہی رک گۓ نا چاہتے ہوۓ بھی اسکی زبان سے مہرماہ کا نام نکل گیا….
عاشر نے فائل سے نظر اٹھا کر عدیل کو گھورا…..ہمم مہرماہ واقعی ہی کوئی مہر تھی,,,,
اچھا چھوڑو اسے اور مجھے بھی سمجھاؤ کیا کرنے والے ہو..عدیل نے اسے خیالوں سے باہر لاتے ہوۓ بولا….
ہممم تو سن….وہ عدیل کو سمجھانے لگا….
تھوڑی دیر بعد سب آگۓ سب عاشر نے سلام کے ساتھ پپریزنٹیشن کا آغاز کیا…عدیل بھی سامنے ہی بیٹھا تھا…
وہ سٹارٹ کرنے ہی والا تھا کہ عشارب بھی اندر آیا,عاشر نے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر خود کنٹینیو کرنے لگا….
سب لوگ ہمیشہ کی طرح عاشر کے پریزنٹیشن سے متاثر ہوگۓ اور عاشر بیچ بیچ میں انویسٹر کے سوالوں کے جواب بھی دے رہا تھا,
میٹنگ ختم ہونے کے بعد عاشر کئبن سے باہر نکلا…
سب لوگ چلے گۓ تھے اب آفس میں عدیل عاشر اور عشارب تھا,
I’m impressed
عشارب نے مسکرا کر دونوں کو دیکھا….عاشر بہت ہی اچھی شروعات کی ہے…
بھائی اب کی بار آئﮈیا عدیل کا تھا اسپیشلی یہ ﮈزائن اسنے ہی بنائی تھی …..
Oh that’s great
عشارب نے عدیل کی پیٹھ تھپتھپائی….واقعی ہی عدیل ﮈزائینس بہت اچھی تھی…
ہاں بھائی وہ یونی میں ایک بہت اچھی پینٹر تھی بس سب اسنے ہی سکھایا تھا….
پینٹر کا نام سنتے عاشر کے کانوں میں مہرماہ کا نام گونجا…
عدیل اور عشارب باتیں کرنے میں مصروف تھے عاشر کا فون بجا تو کال رسیو کرکے باہر چلا گیا…..
بھائی ایک خوشخبری ہے….عاشر مسکراتے ہوۓ عدیل اور عشارب کے سامنے آیا….
کیا ہوا عاشر اتنا کیوں چلارہے ہو…..عدیل نے آگے آتے ہوۓ پوچھا….
یار تیری ﮈزائینس اور پورا پریزنٹیشن کلائینٹس کو بہت اچھا لگا اور انھوں نے دھلی کا آﮈار ہمیں دے دیا ہے…..
اوہ واؤ سچ میں….عدیل پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا….
ہاں یار سچ میں….
عاشر عدیل فخر ہے تم دونوں پر آج پہلے دن ہی اتنی بڑی خوشخبری….ویل ﮈن بوائز….
پر ہمیں کل ہی نکلنا ہوگا….عاشر خفگی سے بولا….
اچھا….ٹھیک ہے تو تم دونوں چلے جانا….
پر بھائی یہاں پر….
یہاں کی چھوڑو تم دونوں کل چلے جانا یہاں میں ہوں نا سمبھال لونگا میں…
مگر…
اگر مگر کچھ نہیں تم دونوں کو ہی جانا ہے…عشارب سختی سے بولا اور باہر چلا گیا…
Congregation Ashir…
عدیل عاشر کے گلے لگ گیا…ویسے میں نا ہوتا تو یہ پروجیکٹ ہاتھ میں نہیں آتا….
وہ کیوں بھلا..عاشر اسے گھورنے لگا….
کیونکہ ﮈزائینس تو مینے بنائی تھی نا…عدیل مسکرہ کر بولا….
ہاں یہ تو ہے بھئی….
چلو یار کہیں باہر جاکے کچھ کھالیں بوکھ لگی ہے…
چلیے جی…عاشر نے عدیل کے کہنے پر قدم آگے بڑھاۓ…
