Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 15)

Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon

عاشر نے گاڑی سمندر کے پاس روکی,وہ اپنے حواس کھو بیٹھا تھا,جس سمندر سے اسے محبت تھی, آج اسے اس سمندر سے نفرت ہونے لگی تھی اسے اس دنیا میں کسی وجود کی کمی کا احساس ہوا,وہ چاروں طرف اسکے وجود کو ﮈھونﮈ رہا تھا,مگر وہ کہیں نہیں تھی وہ صرف اسکے دل و دماغ میں گھوم رہی تھی,,,عاشر کی آنکھوں میں تڑپ صاف ظاہر تھی وہ گھٹنے کے بل گر کر چلا رہا تھا,خاموشی اور اندھیرے میں اسکی آواز دور دور تک جاکے واپس لوٹ رہی تھی,,

کاش تم بھی اس آواز کی طرح لوٹ آتی ,کاش تمہیں بھی احساس ہوتا میری اس بے پناھ محبت کا,عاشر زور زور سے چلا رہا تھا مگر کوئی نہیں تھا جو اسکی آواز سنتا,عاشر نے ہاتھ پھیلا کر آنکھیں بند کی,اور آنسوں اسکی آنکھوں سے بے ترتیب بھہ رہے تھے

مہر……….عاشر کا انگ انگ مہرماہ کو پکار رہا تھا,وہ آج اس زمین کو اس آسمان کو اور اس سمندر کو بتانا چاہتا تھا اسنے غلطی کی ہے,,,

میں پچھتا رہا ہوں مہر…..میں پچھتا رہا ہوں مجھے پہلے ہی تمہیں بتا دینا تھا,,,

Please come back Mahar…..

عاشر کی آواز آسمان تک جا رہی تھی,, کوئی نہیں ہے جو مجھے سمجھے میرے دل کی بات سنے,,عاشر خود سے ہی شکایت کر رہا تھا,

“خدا انسان اور اسکے قلب کے بیچ حائل ہے”اسکے دل میں سے ایک آواز آئی تھی,,,

کچھ لمحوں بعد عدیل ہانپتا ہوا آیا اور عاشر کو دیکھ کر سر پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کرلی,,,

اففف یہ یہاں ہے,,

عدیل عاشر کے پاس آیا اور اسکے کندھے کو پیچھے سے دبوچ لیا,,,مجھے پتا تھا تم یہیں ملوگے,,,

عاشر اب عدیل کے طرف پیچھے گھوم گیا,,

یار عشارب بھائی کی کال آئی تھی وہ پریشان ہیں,,,,عدیل نے ہانپتے ہوۓ بول رہا تھا,,,

ہمممم جا رہا ہوں,,,عاشر نے اسکا ہاتھ نیچے کیا اور آگے چل پڑا,,,

سنو……عاشر..!! عدیل بھی اسکے پیچھے چلا گیا,,

تم کیوں خوامخہ اس خودغرض کے لیۓ خود کو برباد کر رہے ہو,,

اسنے ہی تو میری زندگی آباد کی تھی,,عاشر نے روکھے انداز میں کہا,,,

تم بھول جاؤ اسے یار وہ تمہاری قدر کرنا نہیں جانتی,,

تم بھی تو کسی سے محبت کرتے ہو,تو کیا تم اسکو بھول سکتے ہو,,,عاشر نے قدم روکے اور عدیل کو گھور رہا تھا,,,

ہممم جب وہ بے رخی کا راستہ اختیار کرے تو میں بھی اسکی پرواہ نہیں کرونگا,,

اسکی بے رخی کو دیکھ کر تم اسے بھول جاؤ تو کیا یہ محبت ہے,,,

عاشر اگر اگلے کو کوئی فرق ہی نا ہو تو اسکی قدر کرنا بھی نہیں چاہیے,,,

تمہاری نظر میں فرق پڑنا ہی محبت ہے, پر کیا صرف اسی وجہ سے اپنے احساسوں کا قتل کرنا چاہیے کے اگلے کو فرق نہیں پڑتا, عدیل محبت کو معامولی چیزوں سے کمپئیر نہیں کرتے,,,

پر عاشر اس بے وفا انسان کو کچھ نہیں ہوگا وہ تمہارے احساسوں کو نہیں سمجھے گی,,,

دیکھو یہ اسکے الفاظ اسکو احساس ہوا ہے,,,عاشر نے وہ لیٹر اسکے آگے کیا.

یار تم سمجھ کیوں نہیے رہے ہو یہ بھی اس کی طرح ایک بکواس ہے

پر مجھے اسکے ہر لفظ پر یقین ہے,,,

عاشر کس پر یقین کر رہے ہو جو تمہیں اکیلا چھوڑ گئی,,,اور اس دنیا میں اسے بھی کئی حسین لڑکیاں تجھ پر مر مٹتی ہیں,,,

پر مجھے اسکے حسن سے تو محبت نہیں ہوئی ہے,اور دوسری بات جو بھی ملے اسسے پیار کر لو یہ سمجوتا ہے,جسے پیار کرے وہ ہی مل جاۓ یہ کامیابی,اور جو نہیں ملنے والا یہ جانتے ہوۓ بھی اسسے محبت کی جاۓ وہ سچا پیار ہوتا ہے, عاشر نے مسکرا کر جواب دیا….

تمہیں واقعی ہی ابھی تک کوئی نہیں جان پایا,,,عدیل نے عاشر کے بازؤں پر ہاتھ رکھا

پر مجھے پیدا کرنے والا سب کچھ جانتا ہے عاشر نے آنکھیں آسمان پر ﮈالی….

عدیل نے اسے گلے لگایا,,,

عاشر اب چلیں گھر تمہارے بھائی بھابی پریشان ہیں,مینے اسے کہا تھا تم میرے ساتھ ہو,,,

ہممم چلو,,

******************

مہرماہ ائیرپورٹ پر پریشانی کی حالت میں ادھر ادھر ٹہھل رہی تھی,وہ غصے سے تپ گئی کوئی اسے رسیو کرنے ہی نہیں آیا تھا,وہ اپنا پرس پاکستان ائیر پورٹ پر ہی بھول آئی جس میں موبائل بھی تھا,اسکے ہاتھ میں ایک بیگ تھا,وہ اپنے آسپاس دیکھ رہی تھی,مگر کوئی نظر نہیں آیا……

مس مہرماہ خان….

مہرماہ جلدی سے پیچھے پلٹی…..تم…..مہرماہ کے چہرے پر غصہ صاف صاف واضع تھا….

ہاں تمہیں رسیو کرنے مجھے بیجھا گیا…

تو اب آ رہے ہو تم….وہ سپاٹ چہرے سے بولی….میں ایک گھنٹے سے ویٹ کر رہی ہوں…

ہاں تو مجھے کیا پتا تم اتنا سویرے ٹپک پڑوگی…..

کیا کہا…..!!!

کچھ نہیں اب چلو ممی پاپا ویٹ کر رہے ہیں,,وہ مہرماہ کا بیگ آگے لے آیا…

حماد گرمی بہت ہے نا…..مہرماہ اپنے بال پیچھے کرکے بولی….

نہیں مجھے سردی ہو رہی ہے…حماد نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوۓ کہا…..

پاگل…..مہرماہ نے کندھے اچکاۓ…

حماد نے گاڑی میں سامان رکھا,اور مہرماہ کے لیۓ آگے والی سیٹ کا ﮈور اوپن کیا….

مہرماہ بے رخی سے پیچھے والی سیٹ پر بیٹھ گئی,,,

میں تمہارا کوئی ﮈرائیور نہیں ہوں محترمہ آگے تشریف فرمائیے,,

ﮈرائیونگ کرنی ہے تو کرو ورنہ ایﮈریس دو مجھے ﮈرائیونگ کرنی آتی ہے,,,,وہ دو ٹوک انداز میں بولی…

حماد دانت پیسنے لگا اور غصے سے آگے بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کی,,

مہرماہ اسے دیکھ کر مسکرائی اورٹیک لگا کر آنکھیں موند لی….

_________________

دہلی کا موسم اب بھی آلودہ تھا,سردی جانے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی,عاشر کچن میں دوپہر کا کھانا بنا رہا تھا,اسکو کھانا بنانا تو نہیں آتا پر مجبوراً اسے خود ہی کچن میں گھسنا پڑا,کیوں کہ میﮈ چھٹی پر گئی تھی اور باہر کا کھانا وہ کم کھاتا تھا,,,

کچھ دیر سوچنے کے بعد اسنے چھری اٹھائی اور آلو کٹ کرنے لگا,بڑی مشکل سے اسنے آلو کٹ کیۓ اور ایک کڑاھی میں دو کپ گیھ ﮈالا,اور آلو اس میں ﮈال دیۓ,,,

اوۓ یہ ابل کیوں نہیں رہا ہے,,عاشر نے سر پر ہاتھ رکھا اور اسپون سے آلو کو گول گول گھما رہا تھا…

پاس میں سبزی پڑی تھی وہ بھی آدھی ادھوری کاٹ کر ﮈال دی,,,,

عاشر نے فون کی بیل سنی اور جلدی سے مصالے ﮈال کر باہر روم میں آگیا,,,اسنے کال رسیو کی….

ابے کہاں ہو ابھی تک….عاشر نے کال رسیو کرکے غصے سے بڑھک پڑا,,,,

جان تیرے دل میں,,,

میں تمہاری وائیف نہیں عاشر بول رہا ہوں,,,

پتا ہے سئیٹ ہرٹ…..

اب بتا رہے ہو کب آنا ہے یا میں فون بند کروں سبزی جل جاۓ گی….عاشر کچن کے طرف گیا,,,

کیا……عاشر حسن کوکنگ کر رہا ہے,,,وہ حیرانگی سے پوچھ رہا تھا….

ہاں یار وہ ماں ولیج گئی ہے وہ نہیں ہے اس لیۓ خود ہی سب کرنا پڑا,,,

اچھا تو تیار رکھ کھانا میں دس منٹ میں پہنچ رہا ہوں….

تو مطلب تمہاری میٹنگ ہوگئی..اور ﮈیل کا کیا ہوا….عاشر نے فون اسپیکر پر رکھ دیا اور خود سبزی چیک کرنے لگا,,

میں بس وہاں دس منٹ میں پہنچ رہا ہوں اور سب کچھ بتاؤںگا,,,,

*********

کچھ دیر بعد عاشر نے سارا کھانا ٹیبل پر لگایا,اور بالکونی میں کھڑا نیچے دیکھ رہا تھا,اسنے ایک گاڑی کی آواز سنی جب گاڑی اسکے فلیٹ کے سامنے آ رکی….

وہ دروازے پر گیا اور جیسے ہی اسنے دروازا کھولا تو اسکا چہرا کھل گیا,کہاں تھا عدیل اتنی دیر ہوگئی ہے

مطلب کے عاشر حسن میرا بے صبری سے انتظار کر رہا تھا,,

ابے تیرا نہیں جو تیرے ساتھ خوشخبری آنے والی تھی میں اسکا ویٹ کر رہا تھا,,

اچھا تو تم اپنے جگری یار کو اس بزنس کے چکر میں بھول گیا….

اب نوٹنگی بند کر اندر آ مجھے بوکھ لگی ہے….عاشر نے اسے ہاتھ سے کھینچ کر اندر کیا…

واہ خوشبو تو بہت اچھی آ رہی ہے…عاشر کیا پکایا ہے…عدیل سونگھتے ہوۓ آگے بڑھا…

ہاں بیٹھو ساتھ میں مل کر کھاتے ہیں…عاشر چیئر آگے کرکے بیٹھ گیا…

عدیل نے جیسے ہی کھانے پر نظر ﮈالی تو زور سے چینکھا….

عاشر……..!!!!! کیا پکایا ہے…

کیوں…چلا کیوں رہے ہو آلو پکاۓ ہیں….

یہ آلو اتنے موٹے اور آلو میں یہ کیا ﮈالا ہے بیگن…اور یہ یہ گرین گرین کیا ہے…عدیل کھانے کو دیکھ کر منہ بناتے ہوۓ کہہ رہا تھا….

یار تم چکھ کر تو دیکھو ٹیسٹ میں اچھا ہوگا….عاشر نے چمچ آگے بڑھایا….

عدیل نے چمچ لیکے ٹیسٹ کرنے لگا…

واہ کیا ٹیسٹ ہے عاشر…..

ہے نا مجھے یقین تھا بہت اچھا بنایا ہے مینے….

ہاں آخر دوست کس کا ہے,,,عدیل نے اپنی کالر کو پکڑ کر کہا….

اب لو تم بھی ٹیسٹ کرلو….عدیل نے پوری پلیٹ اسکے آگے رکھ دی….

ہمممم عاشر نے چمچ اٹھایا اور خود بھی ٹیسٹ کرنے لگا….

اہییی اتنا زھر اور پوری سبزی کچی پڑی ہے,,,,

ہاہاہاہاہا پتا تھا تم سے کھانا نہیں بنے گا تبھی میں اپنا باہر سے لیکے آیا ہوں….

پر تم نے تو کہا کہ بہت ٹیسٹی بنی ہے,,,

ہاں اگر پہلے بتا دیتا تو تم ٹیسٹ تھوڑی کرتے,,,عدیل چلتے ہوۓ بولا اور ایک وائیٹ شاپر اٹھا کر عاشر کے آگے رکھی…

یہ لو کھانا….

اور جو مینے روٹیاں…..عاشر بتا ہی رہا تھا پر عدیل نے بات کاٹ کر ہاتھ جوڑے….بخش دو بھائی سبزی کا یہ حال ہے تو روٹی تو اس فلیٹ کے نقشے بنائی ہوگی…..

عاشر عدیل کی بات پر ہنس پڑا….اچھا بابا ٹھیک ہے ہم دونوں یہ ہی کھا لیتے ہیں,,,

ہمممم ویسے تیری بھابھی نے تو تجھ سے بھی زیادہ ٹیسٹی کھانا بنایا تھا….

ہاہاہاہاہا اسکا پتا ہے جیسے وہ دکھتی تھی لگتا نہیں تھا کے بیچاری کچن میں بھی جاتی ہوگی….عاشر نے مسکراتے ہوۓ کہا….

شرم نہیں آتی میری بیوی کی گلا میرے سامنے ہی کر رہے ہو عدیل نے مسکراہٹ ضبط کرکے کہا……

اب کھانا کھاؤگے یا اور بھی ٹھنﮈا ہونا ہے اسے….عاشر نے ٹرے اسکے سامنے رکھی…اور خود بھی کھانے میں مصروف ہوگیا…

________________________

حماد نے گاڑی کو زور سے بریک مارا,مہرماہ کی آنکھ لگ گئی تھی تو اسے بریک سے ایک جھٹکا لگا,اور اسکی آنکھ جلدی کھل گئی…

اندھے ہو کیا تم دیکھ کر بریک نہیں لگا سکتے…..

ایکسکیوز می مینے کچھ دیر پہلے بیل بجائی تھی پر تم تو اپنی کھراٹیں لینے میں مگن تھی تو تمہیں ہوش میں لانے کے لیۓ یہ سب کرنا پڑا,,,وہ بھرپور مزاحیہ انداز میں بول رہا تھا,,

تو میں کھراٹیں مار رہی تھی….

بلکل مینے وﮈیو بھی رکارﮈ کی ہے کہو تو دکھاؤں,,حماد گاڑی سے اتر گیا,,

واٹ……..مہرماہ بھی چونک کر نیچے اتری…

ہاں اور اب یہ فرح کو دکھاؤں گا,,,حماد نے موبائل اوپر کرکے آنکھوں سے اشارہ کیا…

مجھے دکھا موبائل….مہرماہ نے ہاتھ آگے بڑھایا….

تمہیں لگتا ہے جو چڑیا اتنے سالوں بعد قید میں آئی ہے میں اسے اتنی آسانی سے آزاد کروںگا…آآ…ہاں اتنی جلدی نہیں…اسنے منہ کے ساتھ اپنی گردن کو بھی ہلایا,,,

مہرماہ اسکے ہاتھ کو پکڑ موبائل لینے کی کوشش کر رہی تھی,,پر حماد نے آسانی سے ہاتھ چھڑا کر بھاگنے لگا,,,

اگر کسی کو بھی دکھایا تو کچا کھا جاؤںگی…..

ہاہاہاہاہاہا تمہاری سانسیں ان کھراٹوں کے ساتھ میرے قید میں ہیں تم کچھ بھی نہیں کرپاؤگی,,وہ ہنستے ہوۓ اندر بھاگ گیا….

مہرماہ بھی اسکے پیچھے بھاگنے لگی….

تم نہیں بچوگے….دروازا کھلا ہوا تھا, فرح وہاں ہال میں ہی بیٹھی تھی, اسنے جیسے ہی مہرماہ کو دیکھا تو چلائی آپی…..

مگر مہرماہ نے کچھ دہیان نہیں دیا وہ حماد کے پیچھے بھاگ رہی تھی….حماد فون دو ورنہ مجھسے برا کوئی نہیں ہوگا,,

ہاہاہا تم سے برا کوئی ہے بھی نہیں….

حماد……وہ ﮈائینگ ٹیبل کے اوپر چڑھ گئی اور اسے پکڑ کر موبائل چھیننے لگی…..

حماد نے فرح کو آواز لگائی,,فرح یہ پکڑو….اسنے موبائل فرح کے طرف اچھالی….

فرح نے موبائل پکڑی…..کیا ہے اس میں آپ دونوں لڑ کیوں رہے ہو…..فرح موبائل آن کرکے دیکھنے لگی…..

مہرماہ ہنستے ہوۓ آگے فرح کے پاس آئی….

فرح اس کو میری موبائل سے دور رکھنا…..حماد نے چلا کر کہا…اور مہرماہ سے پہلے بھاگ کر اسنے فرح سے موبائل کے لی….

آپی کیا ہوا ہے بتاؤ تو,,,فرح نے مہرماہ کا ہاتھ پکڑ کر اس بھاگنے سے روکا….

یار اسنے میرا وﮈیو رکارﮈ کیا ہے…

پر مینے چیک کیا ایسا تو کوئی وﮈیو مجھے نہیں دکھا,,

کیا…..تو مطلب….وہ حماد کو غصے سے دیکھنے لگی….

ہاہاہاہاہاہا کیوں بتایا اسے فرح تھوڑا اور بے وقوف بناتا حماد اسکو دیکھ کر ہنس رہا تھا…

yOu I’ll kill y0u….

مہرماہ کے اگے پلیٹ پڑی تھی وہ اٹھا کر حماد کے طرف پھینکی…

حماد نیچے ہوگیا اور پلیٹ سائیﮈ پر جاکے گری….

فرح دونوں کو دیکھ کر ہنسنے لگی….

فرح کیا ہوا ہے کیوں توڑ پھوڑ کر رہی ہو….

ممی جلدی نیچے آؤ……فرح نے چلا کر اپنی مما کو جواب دیا,,,

مہرماہ نے تکیہ اٹھایا اور وہ بھی حماد کو لگانے آگے بڑھی….

مہرماہ تم……ریحانہ بیگم کمرے سے باہر نکلی اور مہرماہ کو دیکھ کر مسکرا کر بولی….

تم دونوں لڑ کیوں رہے ہو,,

تائی جان……مہرماہ بھی ریحانہ بیگم کو دیکھ کر چلائی…اور دوڑتی ہوئی اسکے گلے لگ گئی…..

کیسی ہو مہرو…..

میں بلکل ٹھیک مہرماہ نے منہ کو بھی ہلایا,,,

اور کہاں تھی کب سے تیرا انتظار کر رہی تھی….

تائیجان یہ آپ اس مینﮈک سے پوچھو اور کتنا تھکا دیا ہے اسنے….مہرماہ حماد کو دیکھنے لگی جو صرف ہنسنے میں مصروف تھا….

کیوں حماد….تم تو سویرے گۓ تھے یہاں سے….

ہاں ممی راستے میں دوست مل گیا تھا اسے ہاسپیٹل جانا تھا تبھی تھوڑی لیٹ ہوگئی,,,

اور اب مہر سے لڑ کیوں رہے تھے…

وہ آپ اسسے پوچھیۓ ممی,,حماد نے منہ بناتے ہوۓ مہرماہ کو دیکھا اور اپنے روم میں چلاگیا…

مہرماہ تم چھوڑو اسکو اور تھک گئی ہوگی نا تم,,,,ریحانہ بیگم نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا,,

ہاں بہت…..اور بوکھ بی لگی ہے,,

آپی آؤ میں آپ کو آپکا روم دکھا دیتی ہوں,,,فرح اسکے آگے آئی…

ہاں بیٹا تم جاؤ فرح کے ساتھ میں تب تک ملازمہ کو کہہ کر کھانا بنواتی ہوں….

تھینکیو……تائیجان,,, مہرماہ مسکرا کر فرح کے ساتھ چلی گئی…..

******************

مہرماہ ﮈنر کے لیۓ باہر آئی اور جاوید خان کو دیکھا تو خوشی کے مارے چلائی تایاجان…..

جاوید خان کو مہرماہ کی آمد کا پہلے ہی پتا چل گیا تھا اور وہ بھی اپنی بھتیجی کا انتظار کر رہا تھا,,,

أؤ بیٹا کیسی ہو….

بلکل ٹھیک تایاجان….

اور گھر میں کیسے ہیں سب….

وہ بھی ٹھیک…

آؤ ﮈنر کرو پہلے باتیں بعد میں بھی کرسکتے ہیں….جاوید خان نے اسے ﮈائنگ ٹیبل پر بیٹھنے کا اشارہ کیا…

جی شیؤر مہرماہ آگے چیئر پر بیٹھی…

گﮈ ایوننگ مہرماہ…..حماد نے شرارتی مسکراہٹ سے کہا…

گﮈ ایوننگ مہرماہ نے دانت نکال کر جواب دیا…

آپی اور بھائی آپ دونوں بچپن سے ہی ایک دوسرے کے پیچھے کیوں پڑے ہوتے ہو….فرح نے دونوں کو دیکھ کر کہا….

اس سے میری خوشی برداشت نہیں ہوتی ہے نا تبھی teas کرنے کے لیۓ بہانے ﮈھونﮈتا پھرتا ہے,,,,

ایکسکیوزمی میں بہانے ﮈھونﮈتا ہوں…..

حماد بیٹا مہرماہ کو کھانا کھانے دو وہ تھکی ہوئی آئی ہے….ریحانہ بیگم حماد سے مخاطب ہوئی…..

ہاں تو مینے اسکے ہاتھ تھوڑی باندھے ہیں یہ خود کھا سکتی ہے….

دیکھا تائیجان میں آئی ہی آج ہوں اور اسکی بک بک شروع ہوگئی….اب چین کی سانس بھی لے نہیں پاؤں گی…

ہاہاہاہا اور سانس لینے بھی نہیں دونگا,,,,اسنے ایک آنکھ بند کرکے بھرپور مستی واکے انداز میں کہا…

حماد……

سوری ممی…

مہرماہ کھانا کھانے میں مصروف تھی,اسنے حماد کی باتوں کا ردی بھر بھی دہیان نہیں دیا…

ویسے مہرماہ بیٹا تمہاری ایﮈمیشن مینے کروالی ہے دو مہینوں بعد تمہارے کلاسز سٹارٹ ہونگے…,

ٹھیک ہے تایا جان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *