Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 11,12)

Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon

دہلی میں آج بھی شدید سردی تھی اتنی سردی میں اسکا آفس میں رہنا بہت مشکل تھا عاشر کو یہاں آۓ ہوۓ ایک سال ہو چکا تھا,وہ تو چاہتا تھا کہ کہیں تنہائی والی جگہ پر جاکے خود کو سکون بخشے پر وہ یہاں آکر بھی بےسکون ہونے لگا,جب بھی وہ خود کو یوں اکیلا محسوس کرتا تھا تو اپنی زندگی کے کچھ خاص لمحے اسکے سامنے آجاتے تھے,پر وہ کیا کرتا وہاں پر رہنے کا کوئی مقصد ہی نہیں بچا تھا اسکے لیۓ,تبھی وہ اس دنیا میں آگیا,,,

وہ اپنی کئبن میں بیٹھے بار بار گھڑی میں ٹائیم دیکھ رہا تھا,شاید وہ کسی کا انتظار کر رہا تھا, بہت دیر ہو چکی تھی,اب اس کو غصہ آنے لگا اسنے زور سے بیل بجائی,,,,

May I com in sir,,

کسی نے اندر آنے کی اجازت مانگی,,,

کتنی دیر سے میں ویٹ کر رہا ہوں ابھی تک وہ میٹنگ کے لیۓ کیوں نہیں پہنچے,,,وہ دروازے پر ہی کھڑی تھی کہ عاشر اس پر برس پڑا,,,

وہ سر,,,,سر,,,اسکی گھبراہٹ میں آواز ہی نہیں نکل رہی تھی,,,

کیا…سر سر مینے پوچھا کلائینٹس ابھی تک کیوں نہیں آۓ ہیں,

وہ سر میں بھول گئی تھی آپ کو بتانا کے انھوں نے کل کے لیۓ ﮈیٹ فکس کی تھی,,,

عاشر نے شیشے کا گلاس اسکے آگے پھینکا تو تم مجھے اب بتا رہی ہو,,,عاشر کا غصہ شدید بڑھ گیا,,

سوری سر,,,عاشر کا ایسا غصہ دیکھ کر اسکے ہاتھ پاؤں کپکپا رہے تھے اور ﮈر تھا کہ کہیں جاب نا چلی جاۓ کیونکہ بڑی مشکل سے اسے اس کمپنی میں جاب ملی تھی,,

کیا سوری مینے بھی پتا نہیں کیا دیکھ کر تجھے ہی فائنل کیا تھا,ایک کام ﮈھنگ کا نہیں کرتی ہو,,,اگر دوبارہ ایسا کیا نا تو تم خود اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھوگی…

عاشر کے بے رحم الفاظ سن کر اسکے آنسوں نکل آۓ,,,

اب یہ رونا دھونا بند کرو نکلو یہاں سے,,,عاشر آگے بڑھا اور دروازے کی طرف اشارہ کیا,,

I said get out….

وہ عاشر کے آخری الفاظ سن کر بڑی مشکل سے باہر جانے لگی کیونکہ کانچ کا ٹکرا اسکے پیر میں چبھ گیا تھا

___________________________________

کیسا فیل کر رہی ہو……مہرماہ

ہممم ٹھیک ہوں…یار کیا ضرورت تھی مجھے ہاسپیٹل میں لانے کی,,مہرماہ لیٹی ہوئی تھی عاشر کے آنے سے وہ اٹھ گئی,,,

ضرورت تھی مہرماہ تبھی تہیں یہاں لانا پڑا….

Excuse me dear frndz may I come in….

عدیل نے دروازا ناک کیا….

ہممم شیور,,,عاشر نے پیچھے مڑ کر کہا,,,

یہ لو مہرماہ medicines,,,عدیل نے ایک شاپر آگے کی..

ohhh God….Are you mad…??

مہرماہ نے سر پر ہاتھ رکھا اور عدیل کو گھورنے لگی…

پر کیوں مینے کیا کیا اب….

اتنی دوائیاں کیوں اور میں اس مریضوں والے بستر پر کیا کر رہی ہوں,,,

توں خود مریض بن گئی تھی تبھی تمہیں یہاں پر لاۓ تھے..,,

عاشر نے گلاس میں جوس ﮈالا اور مہرماہ کو جوس تھماتے ہوۓ بولا اور ﮈاکٹر نے کہا تھا بہت ویک ہوگئی ہو تبھی یہ medicines لانی پڑی,

یار عاشر مجھے لگتا ہے ﮈاکٹر کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے,,,

غلطفہمی کیسی…

وہ مہرو کیا ہے نا ﮈاکٹر نے کہا ہے تم ویک ہوگئی ہو,پر جہاں تک میں تمہیں جانتا ہوں تم کچھ بغیر کھاۓ رہ ہی نہیں سکتی ہو,,,

ہاں یار عدیل کی بات میں تو سچائی ہے,,,عاشر نے بھی سر ہلایا….

مہرماہ میں تو کہہ رہا ہوں بھئی کیڑوں والے ﮈاکٹر کے پاس چلو,تمہارے پیٹ میں کیڑے ہیں,,,,,

واٹ……مہرماہ حیرانگی سے پوچھنے لگی…

ہاں دیئر اور اس میں ایک کیڑے مارنے والی بھی دوائی ہے تم ضرور اور ٹائیم کے ساتھ کھانا,,,عدیل شرارتی انداز میں بولا….

تیری تو…..مہرماہ نے تکیا اٹھایا,,

عدیل پیچھے ہوگیا……

I’ll kill you Adeel…

مہرماہ عدیل کہ طرف آگے بڑھی…

عدیل ہنستے ہوۓ عاشر کا گلا پکڑ کر پیچھے ہوگیا

توں تو گیا بیٹا,,,,مہرماہ کے ہاتھ میں ابھی بھی تکیہ تھا وہ عدیل کو مارنے آئی…

ہاہاہا عاشر بچاؤ اس چڑیل سے..عدیل بار بار اپنے آگے عاشر جھنجوڑ رہا تھا,,

عدیل کیا کر رہے ہو مہرماہ کو چوٹ لگ جاۓ گی….

میں کچھ نہیں کر رہا,اس چڑیل کو روکو مار تو یہ رہی ہے,,,وہ عاشر کے پیچھے مہرماہ کو دیکھ کر منہ بنا رہا تھا.,,

اب تو چھوڑونگی بھی نہیں..مہرماہ دانت پیسنے لگی,,,

مہرماہ رکو گر جاؤ گی,,,

نہیں عاشر میں اسکو نہیں چھوڑوں گی…

عدیل بیﮈ کے اوپر چڑھ گیا….

مہرماہ بھی اوپر چڑھی تو عاشر نے اسکا ہاتھ پکڑا,ابھی ابھی اٹھی ہو اور ایسے بندروں کی طرح ناچ رہی ہو گر گئی تو….

تو میں بندر ہوں….عاشر….؟مہرماہ نے تکیہ عدیل کے طرف پھینکا اور ہاتھ کمر پر رکھ کر عاشر کی طرف مخاطب ہوئی,,,

مہرو کوئی ﮈائوٹ ہو تو میں کلیئر کردوں,,عدیل نے عاشر کی بات کا جواب دیا اور تکیہ مہرماہ کے طرف پھینک کر باہر بھاگ گیا,,,,

مہرماہ بیﮈ پر بیٹھ گئی اور تکیہ عاشر کے طرف پھینکا….

مہرماہ ایک خوشخبری سناؤں,,,,عاشر نے مسکرا کر کہا,,

کونسی….

سنہا اور طارق کی انگیجمینٹ فکس ہوگئی ہے,,,,

کیا……!!!!!!مہرماہ آنکھیں پھاڑکر عاشر کو دیکھنے لگی…

ہاں عاشر نے جواب کے ساتھ منہ بھی ہلایا…

پر کب ہے…..

دو تین دنوں میں….پر زیادہ مجھے بھی پتا نہیں,,,

اوہ…..

مہرماہ اب گھر چلیں,باہر سونیا بھی کھڑی ہے,تمہارے ساتھ وہ بھی یہاں آئی تھی….

ہاں یار چلو مجھے بھی یہاں گھٹن محسوس ہو رہی ہے,,,مہرماہ افسردگی سے بولی…..

میں گاڑی نکالتا ہوں تم باہر آؤ,,,عاشر نے جیب سے چابی نکالی,,اور چل پڑا..

************************

مہرماہ اور اسکی کلاسمیٹ پیچھے بیٹھ گئی عاشر ﮈرائیونگ کررہا تھا عدیل بھی اسکے ساتھ ہی بیٹھا تھا,عاشر نے ایک سانگ پلے کیا اور گاڑی سٹارٹ کی,,,,

*********

گاڑی مہرماہ کے گارﮈن کے سامنے رکی,مہرماہ کے اترنے پر عاشر فورًا بولا مہر یہ پہن لو,,,

اتنا باری ہے عاشر اور پہننے کے بعد میں کتنی موٹی دیکھنے لگتی ہوں,,,میں نہیں پہنوں گی یہ جیئکیٹ تم خود ہی پہنو,مہرماہ نے عاشر کی طرف پھینکی,,

عاشر کو اسکی اس حرکت پر غصہ آیا پر ضبط سے سانس کھیچ کر بے رخی سے بولا As your wish,,,

باۓ گائیز,,مہرماہ نے قدم آگے بڑھاۓ,,

یار عاشر آج کل کے لوگ بڑے احسان فراموش ہیں عدیل خلا میں دیکھنے لگا,,,

مہرماہ رک گئی,,,مطلب…

مطلب مہمان دروازے پر کھڑے ہیں اندر بلا کر کچھ چاۓ پانی ہی پلادو,,,

اچھا پر میں نہیں پلاؤں گی,,,مہرماہ آگے ہوکر عدیل سے مخاطب ہوئی,,,,

کیوں,,,,

کیوںکہ میرا گھر کوئی پاگل خانا نہیں ہے جو میں پاگلوں کو چاۓ پانی پلاؤں سمجھے,,مہرماہ دانت پینس کر پیچھے ہوگئی,

عاشر اور پیچھے والی لڑکی ہنسنے لگے,,,

تم دونوں ہنس کیوں رہے ہو

ایسے ہی عدیل…اس لڑکی نے جواب دیا,,,

چلو بھئی عاشر اب بکھڑوں سے امید بھی کیا کی جاۓ,,,

ہمممم,عاشر نے ہونٹ بھینجتے ہوۓ کہا,,,

سونیا تمہارا گھر کس سائﮈ ہے,

عدیل پیچھے ہوکے اس لڑکی سے پوچھنے لگا,,,

یہاں سے رائٹ اور پھرآگے سے مارکیٹ کی طرف,,,,

اچھا,,,

پر میں تمہیں چاۓ نہیں پلاؤں گی,,,اگر عاشر چلے تو ممکن ہے تمہیں برگر اور فرائس بھی کھلا سکتی ہوں وہ مسکرا کر بولی,,,

عدیل غصے سے اسے گھرنے لگا,,,

نہیں بہن اسکی ضرورت نہیں ہے,,,عاشر نے بیک ویو مرر سے دیکھنتے ہوۓ اس لڑکی سے مخاطب ہوا

عدیل نے اسکو دیکھ کر زوردار قہقہ لگایا,,,,ہاہاہاہاہا دل کے ارمان آنسؤ میں بہہ گۓ,,,

زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے آگے دیکھیۓ,,,

آگے دیکھنے والا عاشر بھائی ہے نا میری چھوٹی بہنا,,,,

تم مہرماہ کے ساتھ رہ کر بلکل اسکی طرح بن چکے ہو ﮈفر کہیں کے,,,,وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ بولی اور کھڑکی سے نیچے جھانکنے لگی,,

عاشر بھی دونوں کی باتیں سن کر ہنس کر بڑی سنجیدگی کے ساتھ ﮈرائیونگ کر رہا تھا….

*************************

مہرماہ بیٹا کیا ہوا ہے تمہیں یونی سے سویرے کیوں…..اور اتنی اکھڑی اکھڑی سی کیوں لگ رہی ہو….فوزیہ بیگم نے یوں اچانک مہرماہ کو گھر میں دیکھ کر پوچھا,,,

مما بس بےہوش ہوگئی تھی تو کچھ frndz ہاسپیٹل لے آۓ تو بس وہاں سے یہاں آگئی,,,

کیا……!!! تمہیں منا کیا تھا کہ مت جاؤ طبیعت ٹھیک نہیں ہے تمہاری پر کچھ سنتی ہو ہماری,,, اور بے ہوش کیوں ہوگئی تھی اور ﮈاکٹر نے کیا کہا,,,وہ مہرماہ کےماتھے پر ہاتھ رکھ کر چیک کر رہی تھی

او ہو مما کتنے سوال پوچھ رہی ہو وہ چڑچڑاہٹ سے بولنے لگی,,

اچھا تم کمرے میں جاکے آرام کرو میں کچھ فروٹ وغیرہ لیکے آتی ہوں,,,

ہاں مما اور یے دوائیاں رکھ لیجۓ….

********************************

عاشر اتنی جلدی لوٹ آۓ سب خیریت,,,,شہرناز میگزین پڑھ رہی تھی اور عاشر کو آتے دیکھا تو سوال کرنے لگی,,,

ہاں بھابھی بس کسی دوست کی طبیعت خراب تھی تو اسے گھر چھوڑ کر سیدھا یہاں پر آیا,,,عاشر نے مختصر جواب دیا….

اچھا ٹھیک کیا تم نے,,

بھائی نظر نہیں آ رہے ہیں ہے بھابھی,,,

آفس جو گۓ ہیں, کوئی کام تھا کیا,

نہیں بھابھی ایسے ہی…

ہممم….

عاشر کمرے میں جانے لگا اسے ﮈر تھا کے اگر بھابھی کے سامنے بیٹھا تو وہ ضرور رشتے والی بات چھیڑے گی,اس لیۓ وہ دبے پاؤں چلنے لگا,,,

عاشر…..سنو,,,

عاشر نے بھابھی کے بلانے پر آنکھیں بند کرکے ماتھے پر ہاتھ رکھا,,,جس بات سے بھاگ رہا تھا شاید وہی گلا پکڑے گی,,,

وہ بھابھی کے طرف مڑا,,,جی بھابھی….

تم کچھ کھاؤگے,,,,

ہاں بھابھی…عاشر لمبی سانس کھینچ کر مسکراتے ہوۓ بولا,,,

ٹھیک ہے میں کمرے میں لاتی ہوں,,,

**************************

وہ کمرے میں لیٹے کسی سے فون پر بات کر رہی تھی….

فوزیہ بیگم نے دروازے پر دستک دی,,,

ییس کم ان……اسنے بغیر دیکھ کر جواب دیا,,,

مہرماہ یہ کچھ پھل ہیں کھالو,اور جب تمہارے پاپا آئینگے تو تمہیں ﮈاکٹر کے پاس لے جاۓ گا,,,

مہرماہ نے کال کاٹی اور مما کے ہاتھ سے پلیٹ لیکے اسکی طرف متوجہ ہوئی…جی مما..

مینے کہا تمہارے پاپا آۓ تو اسکے ساتھ جانا ﮈاکٹر کے پاس,,,

کیا……..اب اتنا بھی کیا ہے مما جو بار بار ﮈاکٹر کے پاس….

تو کیا ہے تسلی کے لیۓ تو جانا بہتر ہے,,مما نے مہرماہ کی بات کاٹتے ہوۓ کہا…

مما پلیییز پاپا کو آج بے ہوشی والی بات مت بتانا ورنہ وہ پرمیشن نہیں دینگے,,,,

اب کس کی پرمیشن…فوزیہ بیگم مہرماہ کے کپڑے سمیٹتے ہوۓ بولی,,,,

مما ابھی سنہا سے ہی بات کر رہی تھی دو تین دن بعد انگیجمینٹ ہے اسکی,,,اور آپ کو بھی انوائیٹ کیا ہے,,,

تو تمہیں کیا لگتا ہے اس حالت میں,میں تمہیں جانے دونگی,,مما حیرت سے گھورنے لگی,,,

مما پلیییییززززز ایک ہی تو بیسٹ فرینﮈ ہے اسکی خوشی میں بھی میں شامل نا ہوں,بیچاری کو کتنے دکھ سہنے پڑے تو کیا میرا حق نہیں بنتا وہاں جانے کا,,,مہرماہ فلمی انداز میں فوزیہ بیگم کو اموشنل کرنے لگی,,,

مما پلییییز وہ التجائی نظروں سے مما کے آگے کھڑی ہوگئی,,,

کتنی چلاک ہو نا تم,,,,,

ہاں مما سو تو میں ہوں ئی,,,

ہممم ٹھیک ہے تم چلی جانا پر میں نہیں آ پاؤں گی,,,,

واہ مما یہ تو اور بھی اچھا,,مہرماہ نے واہ والے انداز میں ہاتھ کھڑا کیا,,,

مطلب…..

کچھ نہیں مما میں فرح اور آپ کی لاﮈو کو لیکے جاؤں گی,,,

ٹھیک بیٹا اسی بہانے وہ بھی گھوم کر آئیں گی…

ہممم میں ابھی سے ہی کپڑے سلیکٹ کر لیتی ہوں,,,مہرماہ الماڑی کا دروازا کھولنے لگی,,,

سنو یہ جینز اور شرٹ تم نہیں پہنو گی,,,,

کیوں,,,,,,,,مہرماہ منہ کھول کے اور آنکھیں پھاڑ کر مما کو دیکھنے لگی,,,,

کیوں کیا میں اجازت نہیں دیتی ہوں بس….ورنہ جانا کینسل,,,

استغفراللّٰه بچی کو بلیکمیل…..

ہمممم ایسا ہی سمجھ لو,,,مما نے مہرماہ کے گال پر ہلکی تھپکی ماری,,,

ٹھیک ہے تو,,,میں جینز نہیں پہنوں گی…

ٹھیک ہے میں فرح کو اوپر بیجھ رہی ہوں تم اسے بتا دینا,,,

ٹھیک ہے مما…..

Episode 12

تقریبًا ایک گھنٹا ہوگیا عاشر اپنی آفس لیب میں ہی کام کر رہا تھا,ٹائیم کا اندازا لگا کر اسنے بکھری ہوئی فائلس سمیٹ لی اور لیپٹاپ اٹھا کر بیگ میں ﮈلا,اور بیل بجا کر پیئون کو بلایا,

انکل یہ تھوڑی صفائی کروادیجۓ گا…

ٹھیک ہے بیٹا….

عاشر نے بیگ کندھے پر لٹکایا اور نیچے دیکھ کر کئبن سے نکلا,,,

وہ آفس سے باہر نکلا دیکھا تو وہ ہی لڑکی کھڑی تھی اور رو رہی تھی…

عاشر نے آگے جاکے اسسے پوچھا,,

لیزہ ابھی تک یہیں کھڑی ہو گھر کیوں نہیں گئی,,

سر وہ پاؤں میں چوٹ لگی تھی اور دیر ہو گئی تو کوئی ٹیکسی نہیں ملی…

عاشر نے اسکے پیر کو دیکھا تو احساس ہوا یہ چوٹ بھی اسکی وجہ سے لگی ہے…

آؤ میں چھوڑ دیتا ہوں,,,عاشر آگے بڑھ کر گاڑی میں بیٹھ گیا…

آؤ….

سر….

مینے کہا آو میں چھوڑ دیتا ہوں اور ویسے بھی ٹیکسی نہیں ملنے والی اب….

لیزہ نے ادھر ادھر نظریں دوڑائی تو واقعی ہی کوئی ٹیکسی نظر نہیں آئی…

عاشر نے بغیر اسے دیکھے گاڑی سٹارٹ کی…

لیزہ تیز قدموں کے ساتھ آئی اور پیچھے بیٹھ گئی….

چند لمحوں بعد خاموشی ٹوٹی عاشر نے اسسے ایﮈریس پوچھا…

کہاں اترو گی….

لیزہ نے ایﮈریس بتایا…

پندرہ,بیس منٹس کے بعد عاشر نے اسے گھر کے سامنے گاڑی روکی…

لیزہ نیچے اتری اور تھینکس بولنے والی تھی کہ عاشر نے گاڑی سٹارٹ کرکے پیچھے مڑا…

_______________________

دو دن گزر گۓ مہرماہ کا من نہیں لگا یونی جانے کے لیۓ اس لیۓ طئہ کر لیا کہ سنہا کی انگیجمینٹ کے بعد ہی جاۓ گی,,

اور آج سنہا کی انگیجمینٹ پر جانے کے لیۓ مہرماہ نے بیﮈ پر کپڑے پھیلا کر رکھے تھے

مہرماہ آپی میں آ سکتی ہوں,,,

ہاں فرح آؤ یار,,وہ غمگین انداز میں بولی,,

OMG….

کیوں کیا ہوا چلا کیوں رہی ہو…

آپی تم نے بازار کھول کر رکھی ہے کپڑوں کی,,,

ہاں نا اب تم ہی بتاؤ مجھے کچھ سمجھ میں ہی نہیں آ رہا ہے کہ کیا پہنوں,,,

آپی کتنے پیارے پیار سوٹ پڑے ہیں اور اب بھی تم پریشان ہو,,

ہاں اب بتا بھی دو…

آپی تم نے کونسا پسند کیا ہے,,,

یار ایک یہ بلیک اینﮈ دوسرا براؤن,,,

ہممممم تو یہ بلیک ہی ٹراۓ کرو,,

ہاں میں بھی یہ ہی کہہ رہی تھی اب تم بھی جاؤ تیار ہو,,

آپی میرا من نہیں ہے,,,

کیوں بھئی,,,

بس یوں ہی,,,

ابے اسے کیسے یوں ہی…جاؤ تیار ہوجاؤ,,

پر آپی,,فرح اداسی سے بولی,,

کچھ نہیں سنوں گی میں تم جلدی کرو,,,مہرماہ واشروم میں چلی گئی,,,

اچھا ٹھیک ہے تو میں بھی تیار ہوتی ہوں,,,

کچھ لمحوں بعد مہرماہ تیار ہوکے نیچے آئی اور سنہا بھی تیار ہوگئی تھی,,

مما موٹی کو کہو نا جلدی کرے,,,,

ارے واہ میری دونوں بچیاں کتنی پیاری لگ رہی ہیں,,,ریحانہ دونوں کی طرف دیکھ کر بولی,,,

تھنکیو تائیجان,,,مہرماہ ریحانہ کے گلے لگ کر بولی,,,

بیٹا تم لوگ اکیلے جاؤ گی,,,,

جی تایا جان,,مہرماہ نے مسکا کر جواب دیا,,,

ایسے کیسے بیٹا میں تم لوگوں کو چھوڑ آتا ہوں,,,

ٹھیک ہے تایاجان جیسے آپکی مرضی,,,

ہممم میں گاڑی نکالتا ہوں تم لوگ آجاؤ,,,,,جاوید خان نے چابی نکالی اور لاؤنج سے باہر چلاگیا

********************

عاشر بھی تیار ہو کر کمرے سے باہر آیا,,,اسنے وائیٹ شرٹ اوپر سے بلو کوٹ پہن کر رکھا تھا ساتھ میں گھڑی بھی پہن کر رکھی تھی اور بالوں میں جیل لگائی تھی سفید رنگت میں وہ اسکی خوبصورتی اور بھی نکھار رہی تھی,,,

چاچو…..گھومنے جا رہے ہو,,

ہاں آروو میرے دوست کی اینگیجمینٹ ہے وہاں جا رہا ہوں,,,عاشر نیچے آریان کے طرف جھکا,,,

کس کی منگنی ہے عاشر,,,

وہ بھابھی طارق یونی کا ایک دوست ہے بچپن میں بھی ساتھ میں ہی پڑھتے تھے,,,,عاشر نے بھابھی کے پوچھنے پر جواب دیا

اوووہ اچھا,,,

چاچو یہ انیمیٹ(انگیجمینٹ) کیا ہوتا ہے,,,,آروو معصوم انداز میں پوچھ رہا تھا,,,

عشارب اور شہرناز بھی پاس میں بیٹھے ہنس رہے تھے,,,

انیمینٹ…..ایک پارٹی ہی سمجھو,,,عاشر نے پہلے تھوڑا سوچا,پھر مختصر جواب دیا,,

میں بھی چلوں گا چاچو,,

تم چلو گے,,عاشر کو پہلے ہی دیرا ہو رہی تھی آروو کے بولنے پر اسنے دوبارہ پوچھا,,

ہاں چلو چاچو چلیں انیمینٹ پر,,,,آروو نے عاشر کا ہاتھ کھینچ کر چلنے کے لیۓ کہہ رہا تھا,,,

ارے آروو ایسے کیسے جاؤ گے تیار تو ہو جاؤ,اور عاشر کو دیر بھی ہو رہی ہے,,,,,تم اگلی بار جانا,,,

نہیں مجھے ابھی جانا ہے….آروو ضد کرنے لگا,,,

ٹھیک ہے نا بھابھی آپ تیار کر لو اسے میں تھوڑا ویٹ کر رہا ہوں,,

اوکے عاشر تم بیٹھو میں آتی ہوں,,شہرناز آروو کو لے گئی,,

عاشر بھی بھائی کے ساتھ بیٹھ گیا,,,

**********************

مہرماہ نے بلیک کلر کی ساڑھی پہن رکھی تھی جس پر گولﮈن دھاگے سے کڑھائی کی ہوئی تھی ساتھ میں وائیٹ کلر کا سمپل نیکلیس پہنا ہوا تھا اور دائیں ہاتھ میں بلیک گھڑی,میک اپ اسنے بلکل بھی نہیں کیا تھا,بس ہلکی پنک لپسٹک لگائی تھی اور بال تھوڑے آگے باقی پیچھے کمر تک آرہے تھے,,,

السلام علیکم بیٹا…..مما کو ساتھ نہیں لائی,,سنہا کی امی نے مہرماہ کو گلے لگا کر پوچھا,,

نہیں آنٹی مما کو کام تھا,,

یہ تو پنکی ہے,اور یہ,,,اسنے فرح کی طرف اشارہ کرکے پوچھا,,,

آنٹی یے فرح ہے میری کزن جاوید چاچا کی بیٹی,,,

اوہ اچھا…اچھا,,ماشااللّٰه بڑی پیاری بچی ہے سنہا کی امی بلائییاں لینے لگی اور اندر آنے کو کہا…. اندر آؤ تم,,,

وہ ہال میں داخل ہوئی پورا گھر سفید لائیٹس سے چمک رہا تھا,سامنے ایک لکڑی کا جھولا تھا جس کو مخصوص انداز میں گلابوں کے پھولوں سے سجایا گیا تھا,,,,

واؤ آپی گھر کی سجاوٹ کتنی پیاری کی گئی ہے,,,پنکی پورے گھر کو تنکنے لگی,,,

ہاں ﮈونٹ وری موٹی تمہاری شادی میں اسسے بھی اچھی ارینجمینٹ ہوگی دیکھنا,,

ہاں تم اپنے ہاتھوں سے کرنا آپی,,,

ہاں اب چلو یہاں سے سنہا کے کمرے میں چلیں,,,,

سنہا کمرے میں تیار ہوکر بیٹھی تھی مہرماہ کے جاتے ہی وہ اٹھ گئی,,,

سنہا تینو سے ملی اور گفتگو کرنے لگی,,,,

**********************

عاشر بھی آروو کے ساتھ نکل پڑا اور راستے میں عدیل کو بھی پک کیا,,,

وہ لوگ بھی طارق کے گھر گۓ اور وہاں سے ہی سنہا کے یہاں جانے کے لیۓ نکل پڑے,,,

★★★★★

وہ تینو باتیں کرنے میں مشغول تھی کے اچانک دروازے پر دستک سنائی دی,,,,مہرماہ نیچے رسم کے لیۓ لےکے آؤ سنہا کو….لڑکے والے آ گۓ ہیں…

ہاں آئی آنٹی..مہرماہ بیٹھی ہی ہوئی تھی تو جواب دے دیا,,,

او ہو اب ایک دوست میرا جیجا بنے گا ہاؤ سئیٹ نا,,,,مہرماہ چھت کی طرف دیکھ کر بیﮈ پر لیٹ گئی,,,

کاش کوئی اور دوست میرا بھی جیجا بن پاۓ,,,سنہا بھی اسکی طرح بول کر لیٹ گئی,,,

کیا مطلب میں اور تمہاری طرح اس بکواس چکر میں پڑوں,,,

ہاں بلکل ٹھیک فرمایا تم نے,,,

اوہ شٹ اپ یار میں اس چکر میں پڑنا تو دور بلکہ میں سوچ بھی نہیں سکتی,,,

ہاں پتا ہے پر بہت جلد تمہیں احساس ہوگا,,,

سنہا آپی آپ کس دیوار سے اپنا سر مار رہی ہو…

ہاں واقعی ہی یار پنکی صحیح کہا تم نے,,,

فرح کبﮈ کے سامنے کھڑی بکس دیکھنے میں مصروف تھی اور باتیں سن کر مسکرا رہی تھی,,,

اب تم دونوں کی وضاحتیں ختم ہو گئی ہو تو ہم باہر چلیں,,,

جی بلکل…سنہا نے مسکرا کر جواب دیا…

شرم تو بچی ہی نہیں ہے نا لوگوں میں کتنے بےتاب ہیں جانے کے لیۓ,,مہرماہ نے سنہا کو دیکھ کر مزاحیہ لحجے میں بولی,,,

اب چلو گی یار اور کہنا باقی ہے,,,سنہا اسکو گھور رہی تھی,,

ہممم چلیۓ جی…آؤ فرح تم تو یہاں پر بھی بکس دیکھنے میں بزی ہوگئی ہو,,,

ہاں آپی بس آئی….

مہرماہ سنہا کو لیکے نیچے آئی, دوسری سائیﮈ پنکی تھی اور پیچھے فرح تھی جس کے ہاتھ میں اب بھی ایک ناول بوک تھا,,جو پڑھتے ہوۓ سیڑھیوں سے نیچے اتر رہی تھی,,,

سنہا نے پنک کلر کا فراق پہنا تھا اور ہاتھوں میں پھولوں کے کنگن پہن کر رکھے تھے جس میں وہ اور بھی خوبصورت لگ رہی تھی,,,

واہ یار آج تو ہونے والی بھابھی قیامت لگ رہی ہے,,,,عدیل سامنے ہی کھڑا تھا,تو مہرماہ والوں کو دیکھ کر عاشر کو کندھا لگا کر بولا….

عاشر تو اپنے ہی خیالوں میں گم اسے کچھ سنائی ہی نہیں دے رہا تھا…

“سنو زبان تو نہیں کہہ سکتی,پر تمہیں احساس تو ہوگا,میری آنکھیں پڑھ لو,مجھے تم سے محبت ہے”

مہرماہ سنہا کو لیکے نیچے آگئی سب لوگ اسکی طرف متوجہ ہوۓ,,

طارق جو اپنے چھوٹے بھائی احمد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا,تو سنہا کے آنے سے وہ کھڑے ہوگۓ,,,طارق نے براؤن کلر کی شیروانی اور وائیٹ پاجاما اور ہلکی شیونگ کے ساتھ اسکی رنگت اور بھی کھل رہی تھی,,,

آپ سائیﮈ پر ہوجائیں گے کے میری دوست یہاں بیٹھ سکے,,,مہرماہ احمد سے مخاطب ہوئی,وہ بغیر کچھ سنے مہرماہ کو دیکھنے میں مصروف تھا,,

اوہ ہلؤ……مہرماہ اسکے خیالات توڑ کر اسکے سامنے چٹکی بجائی,,,جی….جی آئیۓ,,,اسنے بیٹھنے کے لیۓ اشارہ کیا,طارق کے پیرنٹس بھی سنہا سے ملنے ان کے پاس آگۓ,سنہا کی مما بھی اسکے ساتھ تھی,,,

بڑی پیاری جوڑی لگ رہی ہے نا,,عدیل نے تعریف کرکے فوٹوز نکالنے لگا,,,

مہرماہ نے عاشر کو دیکھا تو اسکی طرف جانے لگی….

ہاۓ عاشر…

کسی ہو مہرماہ….

میں ٹھیک…..اور تھینکیو…..

تھینکس کیوں بھلا…..عاشر نے مسکرا کر پوچھا….

مجھے یونی سے ہاسپیٹل لے جانے کے لیۓ,,,

ہمممم پھر ٹھیک ہے,,,

چاچو یہ آنٹی کون ہے,,,,

ہاں…………..آ..آنٹی,,مہرماہ کا منہ کھل گیا,,,

ہاہاہاہاہا عاشر نے قہقہ بلند کیا…

اب اس طرح ساڑھی پہن لوگی تو آنٹی ہی لگو گی نا…

پیچھے سے عدیل بھی آ رہا تھا اسنے بھی عاشر کی بات پر قہقہ لگایا,,,بلکل ٹھیک کہا عاشر تم نے,,,

مہرماہ دونوں کو چبھتی ہوئی نگاہوں سے دیکھنے لگی,,,

بیٹا یہ آنٹی تیرے چاچو کی دوست ہے,,,عدیل نے نچلا ہونٹ دبا کر مہرماہ کو دیکھنے لگا,,

تم باز نہیں آوگے نا,,مہرماہ نے کولﮈرنک کا گلا اٹھایا اور عدیل کے طرف اچھالنے لگی….

مہرو سوری سوری….مزاق کر رہا تھا پر یہ مت پھنکنا یار پورا ﮈریس خراب ہوجاۓ گا,,,

مہرماہ چھوڑدو اسے مزاق ہی تو کر رہے تھے,عاشر نے سنجیدگی سے کہا….

مہرماہ نے گلاس ٹیبل پر پٹک دیا.,,,

Well Mahrmah he is my nephew Ariyan Hassan

عاشر نے آروو کے بارے میں بتایا,,,

اوہ نائس میں چھوٹا عاشر….مہرماہ نے آروو کے طرف دیکھ کر مسکرائی…

ہاں بھئی اب عاشر کا چھوٹا عاشر بھی بن گیا……

ہمممم ایسے مہرماہ یہ ساڑھی اچھی لگ رہی ہے…

تھینکیو تعریف تو کی ورنہ کچھ لوگوں کو تو جلن کے مارے الفاظ ہی نہیں نکلتے…مہرماہ عدیل کے طرف نہار کر دو ٹوک انداز میں بولی…..

ہاں تو لوگوں کو جھوٹی تعریف کرنی نہیں آتی ہے,

عاشر روکو نا اپنے دوست کو…

محترمہ ہم سے پہلے آپ اسکی دوست ہیں تو آپ ہی سمبھالو اس کو…عاشر اداسی سے بول کر وہاں سے چلا گیا…..

اوۓ اسے کیا ہوگیا…..مہرماہ نے عاشر کے جانے کے بعد عدیل سے پوچھا,,,,

میں سمجھ گیا……

تو بتا نا مجھے بھی,,,,

تم خود جاؤ وہ شاید بتا دے,,,

عدیل بھی وہاں سے چلا گیا,,

مہرماہ عاشر کے پیچھے گارﮈن میں گئی,,

سنہا کی رنگ سرمنی شروع ہوگئی پنکی اور فرح بھی وہیں کھڑی تھی عدیل بھی پاس میں ہی کھڑا تھا,

آپکا تعرف عدیل فرح سے مخاطب ہوا,,,

آپ سے مطلب وہ بھی سپاٹ چہرے سے دیکھنے لگی,,

مطلب کچھ نہیں بہن مینے ایسے ہی پوچھا,,

ٹھیک ہے بھائیجان,,فرح بھی اسی انداز میں بولی…

مہرماہ آپی نظر نہیں آ رہی ہے,,,

مہرماہ آپی…..فرح کی بات پر عاشر نے الفاظ دھراۓ,,,

مہرماہ کیا لگتی ہے آپ کی

میری بہن ہے,

بہن تو اسے ایک ہی ہے,,,عدیل حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا,,,

ہاں میں اسکی کزن ہوں,,فرح خان…..

اوہ اچھا,,,,,پھر تو خوبصورتی خاندانی ہے,,,

کیا کہا……

کچھ نہیں…..عدیل مسکرا کر سامنے متوجہ ہوا,,,

********

عاشر اکیلا گارﮈن میں چاند کو گھور رہا تھا,,,,

عاشر تم یہاں کیوں آگۓ,وہاں رنگ سرمنی بھی ہوگئی,,,مہرماہ نے پیچھے سے آواز دی,,,

عاشر نے کچھ نہیں سنا وہ اب بھی اسی انداز میں کھڑا تھا,

عاشر…..!!مہرماہ نے اب عاشر کے کندھے پر ہاتھ رکھا,,,

ہممممم کہو…عاشر نے لمبی سانس ضبط کی اور چاند سے نظریں گھما کر مہرماہ کو دیکھنے لگا,,,

اداس کیوں ہو,,,,

ارے کچھ نہیں مہرماہ بس ایسے ہی….وہ چیئر پر بیٹھ گیا,,,

وہاں سے کیوں آگۓ,,,مہرماہ بھی اسکے پاس میں بیٹھ گئی..

من نہیں تھا,,,

اچھا اندر تو اچھی خاصی پارٹی چل رہی تھی….

ہاں پر میں پریشان ہوں….

ہممم وہ تو میں اندازہ لگا سکتی ہوں,پر بات کیا ہے,,,

یار بھابھی نے میری شادی کا سوچا ہے,,

ہاں یہ تو اچھی بات ہے….عاشر,

پر میرے لیۓ بہت بری ہے,,,

تو تم اپنے مما پاپا کو بتا دو کہ تم ایگری نہیں ہو…..

وہ نہیں ہے,,

مطلب…

مما پاپا کی ﮈیتھ ہوگئی ہے,,

کیا……!!!!

ہممممم عاشر نے افسردگی سے سر ہلایا,,اور نیچے دیکھنے لگا,,اسکی أنکھوں میں پانی آگیا تھا,,

سمپل ہے مہرماہ نے کندھے اچکاۓ..تم بھابھی کو ہی منع کردو…

میں نے انکار کیا تھا پر آج بھائی نے پھر سے فورس کیا ہے,,اور میں اسے منع نہیں کرپایا کیونکہ اسنے مما پاپا کا پیار دیا ہے,مجھے کبھی بھی کسی چیز کی کمی محسوس ہونے نہیں دی,,

ہممم ٹھیک ہے تو ان کی بات مان لو…

اور میری محبت…..

کونسی محبت……

میں کسی اور سے محبت کرتا ہوں,اور میں کبھی بھی اپنے پیار کو کسی اور سے بانٹ نہیں سکتا….,

یار مجھے تم لوگوں کی بات سمجھ میں نہیں آتی…یہ پیار محبت یار ملتا کیا ہے ان سب سے تم لوگوں کو….

سکون…پر تم نہیں سمجھو گی,,

ہاں اور سمجھنا بھی نہیں ہے مجھے,,,مہرماہ بےرخی سے بولی,,,

پر ایک بات تو بتاؤ عاشر یہ پیار جو ہوتا ہے تو تم لوگ سمجھ کیسے جاتے ہو یہ محبت ہے..کیونکہ زندگی میں لڑکے لڑکیاں تو بہت ہی آتے جاتے ہیں,پر تم لوگ کیسے جان جاتے ہو,کہ یہ محبت کرتا ہے یا مجھے اسسے محبت ہوگئی ہے ,,,مہرماہ سوالیا نگاہوں سے دیکھنے لگی…

بس دل دھڑکنے لگتا ہے,بار بار اسکے خیالات آتے ہیں,(عاشر نے غزل سنا کر مہرماہ کو جواب دیا)اور….

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے,

جب واپسی کے سفر میں

دل میں اسے دیکھنے کی

معصوم سی خواہش جنم لیتی ہیں,

تو آنکھیں بیتابی سے

بھیڑ میں چاروں طرف

اپنے محبوب کو دھونﮈنے لگتی ہیں,

لیکن پھر مایوس ہوکے

جھک جاتی ہیں,

اور پھر بے پناھ اداسی لیۓ

واپسی کے سفر پے

قدم بڑھانے لگو تو

اچانک دل انوکھے طرز

پر ﮈڑھکنے لگتا ہے,

آنکھیں دل کا پیغام پاکے

جب اوپر اٹھتی ہیں تو

اور دشمن جان

اپنی تمام تر وجاہت لیۓ

سامنے سے آتا دکھائی دے تو

ایسا لگنے لگتا ہے کہ

اسے محسوس ہوتا ہے

جو ہم اسکے لیۓ محسوس کرتے ہیں

یہ محسور کن خیال

بہت مغرور کرتا ہے

اس کا نظر ہی آجانا بہت مسرور کرتا ہے,,,

یار مجھے تو کچھ سمجھ میں نہیں آیا,میں جارہی ہوں,

ہمممممم جاؤ,,,

جاؤ نہیں تم بھی آؤ,مہرماہ عاشر کے ہاتھ کو پکڑا اور آگے کھینچ کر چلنے لگی….

***********

گھر کے گیسٹ جانے لگے تھے,فرح چیئر پر بیٹھ کر ناول پڑھ رہی تھی,عدیل کے ہاتھ میں کیئمرا تھی وہ طارق اور سنہا کو پکس دکھا رہا تھا,,

مہرماہ عاشر کے ساتھ اندر داخل ہوئی کہ ایک عورت آریان کو لیکے انکے سامنے آئی,آریان رو رہا تھا,,

یہ آپ کا ہے,,,اسنے مہرماہ کو دیکھ کر کہا…

ہاں یہ وہ,,,مہرماہ عاشر کو دیکھتے ہوۓ بولنے لگی تو اس عورت نے آروو کو مہرماہ دے دیا,,,

آروو تم رو کیوں رہے ہو,عاشر نے آریان کے گالوں پر سے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولا…

توبہ اتنی کم عمر میں شادی کرلتے ہیں اور بچے پیدا کرکے انھیں رونے کے لیۓ چھوڑ جاتے ہیں,,,

واٹ….مہرماہ آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھنے لگی,,

دیکھیۓ یہ…عاشر بول رہا تھا تو وہ عورت ان دونوں پر برس پڑی….

صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہے ,اپنے بچے پر دہیان دو دیکھو تو رو رو کر کیا حالت بنا دی ہے اس معصوم نے,,,,

عدیل ان دونوں کے پاس آرہا تھا اور وہ باتیں سن کر وہیں کھڑا ہوگیا,,,,

وہ عورت چلی گئی,عاشر نے مشکل سے ہنسی کو روک کر آروو کو مہرماہ سے لیا..,,,

عدیل نے تینوں کی کچھ تصویریں کھینچی اور ہنسی کے مارے لوٹ پھوٹ ہو رہا تھا,,,

اتنی ہنسی کس خوشی میں,,,

وہ اس خوشی میں کہ تم آنٹی سے سیدھا اماں بن گئی,,,,ہاہاہاہاہاہاہا

ہی ہی ہی ویری فنی…مہرماہ نے دانت نکالے اور پاؤں پھٹک کر وہاں سے چلی گئی,,

ارے آروو چپ ہوجاؤ کیوں رو رہے ہو,,

چاچو گھر چلو…..آریان سسکیاں بھرتے ہوۓ بولا,,,

ہاں بابا چل رہے ہیں….

عدیل یار آ رہے ہو یا میں چلا جاؤں,,, یہ رو رہا ہے,,

ہاں جانے من تمہارے بغیر میں غریب کہاں جاؤنگا,,,اسنے بڑی اداکاری کے ساتھ منہ بنایا…

ہاں یہ ایکٹنگ چھوڑو اور چلو…

ایک منٹ تم گاڑی میں بیٹھو میں آرہا ہوں,,

جلدی آنا….عاشر آروو کو باہر لے گیا,,,

آپی میں کب سے آپا ویٹ کر رہی ہوں گھر چلیں,,,پنکی نے مہرماہ کو جھنجلاہٹ سے کہا…

ہاں پر کس کے ساتھ جائیں گے گاڑی تو تایاجان لے گیا,,

ہاں میں گھر پر کال کرتی ہوں آپ فرح آپی سے کہو وہ ابھی تک ناول پڑھنے میں گم ہے,,

ہممم میں اسے دیکھتی ہوں تم فون ٹراۓ کرو,,,,

مہرماہ بال پیچھے کر کے آگے بڑھی…

فرح اٹھو گھر جانا نہیں ہے کیا,,

فرح سنہا کے ساتھ بیٹھی ناول پڑھ رہی تھی,مہرماہ کے آنے سے اسنے اپنی نظریں اوپر کی,,,

ہاں آپی پر تھوڑا یہ پڑھ لوں,,

ارے اٹھو گاڑی بھی نہیں ہے گھر میں کوئی کال بھی نہیں اٹھا رہا ہے,,,

ہاں تو آنے دو نا کسی کو….

نہیں آۓ گا کوئی ہم پیدل چل رہے ہیں…..

ہاں…..فرح کا منہ کھل گیا…

ہاں نا دیکھ ہلکی ہلکی سردی اور رات بھی ہے کسی ریسٹورنٹ میں جاکے پیٹ پوجا کرلیں….

اس وقت پیٹ پوجا……

ہاں اس میں کیا ہے,,

فرح تم نہیں جانتی اسکو..یہ ایسی ہی ہے,خوابوں میں بھی خود کو ریسٹوریٹ میں دیکھتی ہے,,

ہاں تو اس میں کیا ہے,,

فرح چلو نا جلدی بہت بوکھ لگی ہے…

ارے یہ ناول تو پڑھوں کتنا اچھا ہے….عشق اعظم

اوففف یہ بھی اپنے ساتھ لیکے چلو گھر جاکے پڑھنا,,مہرماہ نے فرح کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھایا…

میں لے جاؤں….فرح نے سنہا کو التجائی نظروں سے دیکھا….

ہاں ٹھیک ہے تم لے جاؤ…

مہرماہ اور فرح جانے لگی تو پیچھے سے سنہا نے آواز دی…

کم سے کم مل کر تو جاتی مہروو…

اوووہ سوری….مہرماہ پیچھے مڑی اور کان پکڑ کر سنہا کے سامنے کھڑی ہوگئی….

جا تمہیں تو دیر ہو رہی ہے نا,,وہ ناراضگی سے بولی,,,

ارے نہیں جان سوری نا…مہرماہ سنہا کے گلے لگ گئی…

اچھا ٹھیک ہے….ا

فرح دونوں کو دیکھ کر مسکرانے لگی….

فرح چلیں….

ہممم آپی….

باۓ سنہا…جواباً سنہا مسکرا دی…

**********

کہاں چلے گۓ تھے عدیل کتنی دیر سے ویٹ کر رہا ہوں اور آروو بھی سو گیا…..

یار کچھ کام یاد آ گیا تھا سوری اب چلو…عدیل گاڑی میں بیٹھ کر بول رہا تھا,,,,

عاشر گاڑی سٹارٹ کرنے لگا کے سامنے مہرماہ والے بھی آگۓ…

آپی رک جاؤ نا کوئی نا کوئی آجاۓگا اتنی رات کو ٹھیک نہیں لگ رہا….

چپ کر موٹی ﮈرپوک…مہرماہ پنکی کو ﮈانتے ہوۓ آگے بڑھی…

عاشر گاڑی کیوں روک دی…

سامنے دیکھ….

اوہ…

لفٹ چاہیے…..

عدیل نے کھڑکی سے مہرماہ کو کہا…

جی نہیں ہم چلے جائیں گے…

ٹھیک ہے مہرماہ حسن…

مہرماہ حسن…..وہ سپاٹ چہرے سے عدیل کو دیکھنے لگی….

Sorry I mean Mahrmah khan…

عاشر گاڑی سے باہر نکلا…آؤ بیٹھو پیچھے…

تھینکس عاشر ہم چلے جائیں گے…

ٹائیم دیکھو….عاشر نے گھڑی والا ہاتھ مہرماہ کو اوپر کرکے دکھایا….

پنکی یار کتنا ھینﮈسم ہے…

ہاں آپی کے ساتھ یونی میں پڑھتا ہے…

اچھا….!!!فرح کی نظریں عاشر پر ہی رک گئی تھی…

ارے نہیں ہم چلے جائیں گے عاشر ضد کیوں کر رہے ہو…مہرماہ نے منہ پھیر کر کہا..

ضد میں کر رہا ہوں یا تم….

تم…..!!

یار عجیب لڑکی ہو کبھی کبھی تو سچ میں سمجھنے میں ہی نہیں آتی…

آپی چلیں….

ہممم وہ تینو جانے لگی….

تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہیں اس سنسان راستے میں اکیلا جانے دوں گا,,,عاشر ان کے سامنے کھڑا ہوگیا…

آپی چلو نا بیچارا کتنی ضد کر رہا ہے….فرح نے عاشر کو دیکھ کر کہا…

ہاں آپی کیوں ضد کر رہی ہو…

اوکے چلو….

وہ تینوں گاڑی میں بیٹھ گئی…

آئیے مس مہرماہ خان…عدیل نے مسکرا کر کہا…

وہ تینو بیٹھ گئی اور عاشر نے آروو کو سائیﮈ پر کر دیا,وہ اب بھی نیند میں تھا…

یار مجھے بوکھ لگی ہے میں ریسٹورنٹ جا رہی تھی…مہرماہ نے افسردگی سے کہا….

اس وقت…عاشر مرر سے اسے دیکھ رہا تھا…

ہاں نا…

یہ لو کھاؤ عاشر نے چاکلیٹس کا ﮈبا پیچھے دیا….

اوہ تھینکیو….عاشر,,,,

فرح یہ میرا بیسٹ فرینﮈ ہے عاشر حسن….

ہاں کبھی میں بی اسکا بیسٹ فریﮈ تھا…عدیل نے گردن پیچھے موڑی…

تم تو چپ ہی رہو….مہرماہ نے غصے سے اسکی طرف دیکھا,,,

ویسے یہ عدیل ہے,,,

ایکسکیوزمی میرا انٹرو مت دو وہ جانتی ہے….

اچھا تم جانتی کیا اسے…وہ فرح سے پوچھنے لگی,,

ہاں آپی آج ہی ملا تھا..

ہممم ٹھیک…مہرماہ چاکلیٹس کھانے میں مصروف تھی…عاشر مرر سے اسے دیکھ رہا تھا…

ویسے عاشر میں تو تم سے ناراض ہوں…عدیل نے عاشر کے کندھے پر ہاتھ رکھا..

وہ کیوں…

تم نے شادی کا تو نہیں بتایا پر بچے کی بھی خبر نہیں دی افسوس ہے ایسے دوستوں پر….

ہاہاہاہاہاہا.دوسری شادی پر بلا لونگا….عاشر بھی اسے اسکی زبان میں جواب دے رہا تھا…

تو پہلی والی کو قتل کردوگے کیا…

ہاں کرنا پڑے گا….

کیا…آپ کی شادی بھی ہو گئی ہے اور بچہ بھی ہے,,

فرح عاشر کو حیرت سے دیکھ رہی تھی….

عاشر جوابًا مسکرایا…

ہاں جی یہ پیچھے سو رہا ہے نا یہ عاشر کا بیٹا ہے اور حیرت والی بات تو یہ ہے مجھے بھی آج پتا چلا…..

فرح حیرانگی سے عدیل کو دیکھنے لگی….

تم سدھروگے نہیں نا…..مہرماہ نے عدیل کو گھور کر دیکھ رہی تھی…

عدیل نے ردی بھر کا بھی دہیان نہیں دیا,

ہاں جی اور تو آج مہرماہ بھی آنٹی سے سیدھا امں جی بن گئی,,

عاشر نے بڑا قہقہ بلند کیا….

مہرماہ نے چاکلیٹس کا پیکیٹ اسکی طرف اچھالا…

پنکی اور فرح ہنسنے لگی….

اب تم دونوں کیوں دانت نکال رہی ہو,وہ تو ایک لیﮈی کو غلطفہمی ہوئی تھی….

اچھا…..دونوں مسکرا کر مہرماہ کو دیکھ رہیں تھی,,,,

ہاں…..

عاشر نے گاڑی روکی…

آپ کا گھر آگیا…

تھینکس عاشر….مہرماہ نے شکریہ ادا کیا…ھمممم عاشر نے صرف منہ ہلایا….

سنو……..

اب کیا ہے عاشر….عاشر کے بلانے پر مہرماہ چڑچڑاہٹ سے بول پڑی….

ساڑھی میں بہت اچھی لگ رہی تھی.

تھنکیو….مہرماہ نے دونوں ہاتھ آگے کر کے اور سر جھکا کر کھڑی تھی….

عاشر نے مسکرا کر گاڑی سٹارٹ کی..

واہ گریٹ سین دیکھ لیا…..عدیل نے اندازاً ہاتھ اوپر کیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *