Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon NovelR50673 Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 16)
Rate this Novel
Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 16)
Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon
وہ گاڑی پارکنگ میں لگاۓ, یونیورسٹی میں داخل ہوئی تھی,آج نیو ایﮈمیشن کا پہلا دن تھا,یونیورسٹی میں کافی شور تھا,کچھ چہرے گھبراہٹ والے نظر آرہے تھے تو کچھ لوگ جلدی جلدی میں دوڑ رہے تھے,
مہرماہ نے اپنے پاؤں سفید ماربل پر رکھے,وہ مطمئن لگ رہی,اسنے اپنے سفید چہرے سے گلاسز اتارے,اسکی براؤن آنکھیں بڑی چمکدار لگ رہی تھی,اسکے گلابی ہونٹ اسکی خوبصورتی کو مزید بڑھا رہے تھے,,,
اسکے کالے بال جو ماﮈرن کٹ میں کٹے ہوۓ تھے,اور کچھ لبے بال اسنے پیچھے ہی چھوڑ دیۓ تھے جو کمر کو چھو رہے تھے,اسنےﮈارک بلو کلر کی شرٹ اور بلیک کیپری پہن کر رکھی تھی,جس میں وہ اور بھی حسین لگ رہی تھی اور ہمیشہ کی طرح ﮈوپٹے کا تو نام و نشان ہی نہیں تھا,,,,
مہرماہ آہستہ آہستہ قدم آگے بڑھا رہی تھی,بہت سی نظروں کو اسنے خود پر محسوس کیا اور یہ کوئی نئی بات نہیں تھی…..
مہرماہ اپنے انداز میں ہیل کی ٹک ٹک کرتے ہوۓ اندر آئی,وہ ادھر ادھر نظریں دوڑا کر اپنی کلاس ﮈھونﮈ رہی تھی کہ چلتے چلتے انجانے میں کسی سے ٹکر ہوگئی,,اور سامنے والے کے کچھ بکس نیچے گر گئی,,
وہ مہر کو دیکھتا ہی رہ گیا…ہاں اسنے اپنی لائف میں بہت خوبصورت لڑکیاں دیکھی لیکن مہرماہ کا حسن ان سب سے اعلیٰ تھا,,پر پھر بھی اسنے پلکیں جھپکا کر اپنے بکس اٹھانے میں مصروف ہوگیا,,
I’m so sorry
مہرماہ بھی نیچے جھکی اور اسکے بکس اٹھانے لگی,,,
اٹس اوکے…..وہ اپنی بکس الٹ پلٹ کر کے جانے لگا,,
Excuse me….مہرماہ نے اسے آواز دی,,
Yes…..
وہ پیچھے مڑا اور ہاتھوں میں بکس کو دیکھتے ہوۓ جواب دیا,,
I’m new student for MBA,so can you tell me where is my class….
مہرماہ مسکرہ کر پوچھنے لگی,,,
Sorry i don’t know and I’m also New here…
وہ بے رخی سے جواب دیکے چلا گیا,,,
اوہ یہ یوں اگنور کرکے کیسے چلا گیا…؟,,,اب میں کس سے پوچھوں….مہرماہ نے ہونٹ بھنیجے اور ہاتھ اٹھا کر اپنے ماتھے پر گھمانے لگی,,,
سنیۓ……..مہرماہ نے ایک لڑکی کو دیکھا اور اسکے آگے جاکے کھڑی ہوگئی…
جی…..اسنے سنجیدگی سے جواب دیا….
کیا مجھے آپ بتا سکتی ہیں کے ایم بی اے کے کلاسز کس طرف ہیں….
جی آئیے میں بھی وہیں جا رہی ہوں…اسنے سمنے کے طرف اشارہ کیا…
اوہ اچھا تھینکیو….وہ دونوں ایک ساتھ جا رہی تھی….
آپ کا نام…اس لڑکی نے بات آغاز کیا…
I’m Mahrmah khan…
Ooh Are you Muslim…
اس نے مہرماہ کے انداز دیکھ کر پوچھا,,,کیوںکہ کسی ماﮈرن لڑکی سے کم نہیں لگ رہی تھی…
Yeah…and you…
مہرماہ نے گلاسز پہنے ہوۓ کہا…
فریال ملک…..اسنے مختصر جواب دیا…
مہرماہ نے پہلی ہی ملاقات میں اپنی باتوں سے اسے اپنی دوست بنا لیا…
وہ ہنستی ہوئی کلاس میں داخل ہوئی…
مہرماہ نے جیسے ہی کلاس میں قدم رکھے تو اسکی نظر ایک لڑکے پر پڑی جس کے ساتھ اسکی ٹکر ہوئی تھی اور وہ بڑبڑاتی ہوئی آگے چلی گئی
_______________________________
مہرماہ کو جاۓ دو مھینے ہوگۓ تھے عاشر نے خود کو تو سمبھال لیا تھا پر اسکے دل و دماغ میں اب بھی مہرماہ کے نام کا پیار دوڑ رہا تھا,,
اسنے دس بجے کا الارم رکھا تھا, اور گھنٹی بار بار اسکے کانوں میں بج رہی تھی,عاشر نے تکیہ اٹھا کر کانوں کے اوپر رکھا,اور پھر سے نیند میں گم ہوگیا,,
نیند میں ہی اسے دروازے کھٹکنے کی آواز سنائی دے رہی تھی وہ بے ہوگیا اور نیند میں کروٹیں بدل رہا تھا,زوردار آواز سے کسی نے عاشر نام لیکے اسے پکارا تو عاشر کی جھٹ سے نیند اکھڑ گئی اور سر جھٹک کر اٹھ گیا…..
عاشر آج تمہاری پہلی میٹنگ ہے تم ابھی تک اٹھے بھی نہیں ہو..بیٹا جلدی کرو….عشارب زوروں سے دروازہ نوک رہا تھا,,,
آیا بھائی رات پروجیکٹ بناتے لیٹ ہوگئی تھی پر میں جلدی آرہا ہوں,,,عاشر جلدی واشروم میں گھس گیا…
وہ بغیر شرٹ ہی شیشے کے سامنے کھڑا ہوگیا,اسکی نیند ابھی تک پوری نہیں ہوئی تھی اسی وجہ سے آنکھیں بھی لال تھی,
وہ منہ دھو رہا تھا, تو اسکی نظر ﮈمپل پر پڑی جس کو دیکھ کر اسنے چہرے پر مسکراہٹ سجا لی….
“”آپ کی مسکراہٹ کتنی پیاری ہے…
اور آنکھیں….”””
عاشر کے آگے دوسال پہلے والے لمحے آگۓ جس کو یاد کرکے اسکے چہرے کی مسکراہٹ ہی غائب ہوگئ,,
ایک بار پھر دروازے کی دستک سنائی دی….عاشر تمہارے بھائی بلا رہے ہیں….
بس بھابھی آیا….وہ بھاگتا ہوا الماری سے سوٹ نکالنے گیا اور دس پندرھا منٹ بعد وہ فل تیار ہوکے نیچے آگیا….
عاشر ٹائیم دیکھو صرف پانج منٹ پڑے ہیں ساڑھے دس بجے میٹنگ شروع ہوگی…
آئم سوری بھائی رات پروجیکٹ بناتے دیر ہوگئی تھی تو تبھی آنکھ نہیں کھلی…
اوکے چلو اب….
تم نے تو ناشتہ کیا اب اس بیچارے کو بھی تو کرنے دو…شہرناز ٹرے میں کافی اور ہلکا ناشتہ لیکے عاشر کے سامنے کھڑی ہوگئی…
نہیں بھابھی ٹائیم بلکل بھی نہیں ہے…..
تم کھالو عاشر میں گاڑی نکالتا ہوں,,,
نہیں بھائی مجھے بوکھ بھی نہیں ہے میں واپس آکے کھاؤں گا….
ایسے کیسے آج پہلی میٹگ ہے تمہاری اور پتا نہیں کب لوٹوگے تو یہ کھاکے بعد میں جانا…
اور کچھ نہیں تو یہ بریﮈ کھاؤ میں تب تک دودھ لیکے آتی ہوں وہ پیکے جانا….
جب تم دیور بھابھی کا لاﮈ پیار ختم ہوجاۓ تو باہر آنا میں گاڑی نکال رہا ہوں…عشارب خشک لحجے میں کہہ کر باہر چلا گیا,,
تم اسے چھوڑو عاشر یہ پی لو,,شہرناز نے دودھ کا گلاس عاشر کے ہاتھ میں تھماتے ہوۓ کہا….
اسنے دودھ ایک گھونٹ میں ہی ختم کرکے گلاس ٹرے پر رکھ دیا…
اللّٰه حافظ بھابھی…
اللّٰه حافظ بیٹا….شہرناز نے مسکرا کر کہا….
عاشر دوڑتا ہوا آیا اور آگے بھائی کے ساتھ بیٹھ گیا….عشارب نے گاڑی اسٹارٹ کی…
عاشر نے یونی ختم ہونے کہ کچھ ہی دنوں بعد بھائی کے ساتھ بزنس میں مصروف ہوگیا,
عاشر نے اپنے کام سے بھائی کا دل جیت لیا تھا تو اس پروجیکٹ کی ﮈمیداری بھی عاشر کو دی اور آج عاشر کی پہلی میٹنگ تھی جس میں صرف عاشر کی ہی محنت تھی,
گاڑی آفس کے سامنے رکی عاشر گاڑی سے اترا اور جلدی اندر آگیا..
Good morning sir
عاشر کے آتے ہی سب کھڑے ہوگۓ…
Good morning everyone…
عاشر کی نظریں گھڑی پر جمی ہوئی تھی اور وہ سیدھا میٹنگ روم میں پہنچ گیا….دیکھا تو تقریبًا سارے لوگ پہنچ چکے تھے اور عاشر ہی سب سے لاسٹ میں آیا…
اسنے آتے ہی سب کو سلام کیا,اور سوری کہہ کر اپنی چیئر پر بیٹھ گیا…..
دھیرے دھیرے سب نے اپنی پریزنٹیشن دی اور لاسٹ میں عاشر کا نام آیا….
عشارب نے اسے کی حوصلا افزائی کی اور جانے کا اشارہ کیا….
عاشر نے سلام اور تعارف سے اپنی میٹنگ کا آغاز کیا اسنے رات کو ہی پوری تیاری کر رکھی تھی اور انویسٹرس کے آگے اپنے نیو آئﮈیاز پیش کیۓ,عاشر پروجیکٹ کے بارے میں ﮈسکس کر رہا تھا اور بیچ بیچ میں کافی لوگوں کے سوالوں کا جواب بھی بڑے confidence سے دے رہا تھا,,,
وہاں پر موجود employers عاشر کی باتوں سے مطمعن ہوگۓ,,
عاشر کی پریزنٹیشن ختم ہوگئی کچھ لوگوں نے کھڑے ہوکے تالیاں بجائی,عشارب دیکھ کر بہت خوش ہوا,,,
عاشر نے لیپ ٹاپ آف کرکے سائیﮈ پر رکھا اور فائیلز سمیٹ رہا تھا…
تھوڑی ﮈسکشن کے بعد کچھ employer عشارب سے مخاطب ہوا,,,,ہم یہ پروجیکٹ آپکی کمپنی کو دینا چاہتے ہیں,,,
عشارب نے کھڑے ہوکے ان لوگوں سے ہاتھ ملا کر تھینکس کہا…
عاشر نے عشارب کو خوش دیکھ کر خود بھی رلیکس فیل کرنے لگا…
سب لوگ میٹنگ ہال سے باہر جانے لگے,
عاشر بھی مسکرا کر باہر آیا تو عشارب نے اسے خوشی سے گلے لگایا اور اسکی پیٹھ تھپتھپاتے ہوۓ کہا….بہت فخر محسوس ہو رہا ہے تم پر,,,
بھائی سب آپکی محنت ہے….عاشر نے مسکراتے ہوۓ کہا,,,
دونوں باتیں ہی کر رہے تھے تو عاشر کی جیب سے فون کی آواز آئی,,
عدیل…..اسنے جیسے ہی موبائل اٹھا کر دیکھا تو عدیل کا نام لیا…
ایکسکیوزمی بھائی….عاشر ایکسکیوز کرکے آگے چلا گیا…
عاشر نے کال رسیو کرکے پہلے سلام کیا
وعلیکم سلام عاشر کیسے ہو,,
میں تو ٹھیک ہوں پر کہاں چلے گۓ ہو عدیل ملنا تو دور کال تک نہیں اٹھاتے,,,,
ہاں سوری یار فیملی پرابلم ہوگئی ہے عدیل نے افسردگی سے کہا,,,
کیوں سب خیرت تو ہے نا کیا ہوا ہے….؟
ہممم فون پر نہیں بتا سکتا وہاں آکے بتاؤنگا,,
اچھا تو کب آرہے ہو,,,
ابھی بتا بھی نہیں سکتا پر جب آنا ہوا تو بتا دونگا,,
اگر کوئی ہیلپ چاہیے تو بتادو میں کردونگا,,,
نہیں جب ضرورت پڑی تو بتا دونگا,,,
ہمممم… عاشر نے پانی کا گلاس اٹھایا اور باتیں کرتے ہوۓ پی بھی رہا تھا,,,
ویسے عدیل آج میری پہلی میٹنگ تھی اور پروجیکٹ بھی مجھے ملا,,,
Ohh that’s great news..
اور بھائی بھی پراؤﮈ فیل کر رہے تھے,,,عاشر خوشی سے بول رہا تھا
ہاں پراؤﮈ فیل کیوں نہیں کرتے آخر میرے دوست جو ٹھہرے ہو….
عاشر کی ہنسی چھوٹ گئی آفس میں موجود لوگ عاشر کو گھورنے لگے…,
_______________________________
______________________________
وہ ایک بند کمرے میں بیٹھے فون پر بات کر رہی تھی,
اے کے میں تم سے ابھی کے ابھی ملنا چاہتی ہوں,,وہ سسکیاں لیکتے ہوۓ بول رہی تھی,,
کیا ہوا مہر تم ٹھیک تو ہو,,
نہیں میں یہاں پر بہت بڑی بات ہوگئی ہے,اے کے مجھے تم سے ابھی ملنا ہے,,,
اچھا ٹھیک ہے تم پہلے بتاؤ تو سہی ہوا کیا ہے…
وہ….وہ…چھوٹی ماں….
کیا ہوا ہے بولو بھی….
اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی اور مہرماہ نے اپنی بات آدھی چھوڑ کر کال کٹ کردی,,,
مہرماہ بیٹا دروازہ کھولو,,میں سب ٹھیک کردونگی,
Please leave me alone…
مہرماہ تمہیں میری قسم دروازہ کھولو…
مہرماہ نے مجبورًا دروازہ کھولا,,,مہرماہ کیا ہوگیا ہے تمہیں… دروازہ کھلتے ہی اسنے مہرماہ کے گالوں پر ہاتھ رکھا,,
چھوٹی ماں میں ابھی باہر جانا چاہتی ہوں اور مجھے کسی سے بھی بات نہیں کرنی ہے,,مہرماہ نے چھوٹی ماں کو بے رخی سے دیکھا اور صوفے پر پڑا والیٹ اٹھا کر کمرے سے باہر چلی گئی,,
وہ جاتے جاتے میسج ٹائیپ کر رہی تھی اور کسی نے اسے غصے سے آواز لگائی….
کہاں جا رہی ہو…..
کسی سے ملنے….مہرماہ دوٹوک انداز میں بولی اور پاؤں پٹک کر چلی گئی,,,
_________________________
یونیورسٹی کی چھٹی ہوگئی تھی,مہرماہ فریال کے ساتھ بہت گھل مل گئی تھی, آج پہلے دن ہی دونوں ساتھ میں بیٹھی تھی,مہرماہ فریال کے ساتھ باتیں کرتےہوۓ اپنی گاڑی کے طرف آئی….
مہرماہ باۓ آئم گوئنگ,,,فریال چلی گئی,,
مہرماہ گاڑی میں بیٹھی اور گاڑی سٹارٹ کرنے لگی…پر گاڑی سٹارٹ نہیں ہو رہی تھی….
اوہ گاﮈ اسے کیا ہوا اب…مہرماہ نے اسٹیرنگ پر غصے سے مکہ مارا اور باہر نکل گئی….
وہ دھوپ میں کھڑی پسینا پوچھ رہی تھی,باہر بہت گرمی تھی اسلیے وہ گاڑی میں ہی اسی آن کرکے بیٹھ گئی اسنے پرس سے موبائل نکالا پر تایاجان کا نمبر نہیں لگ رہا تھا,وہ مزید تپ گئی اور گاڑی سے باہر نکل آئی……
لگتا ہے آپ کی گاڑی خراب ہو گئی ہے…مہرماہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہی لڑکا تھا جسسے صبح ٹکر ہوئی تھی….
ہاں…..مہرماہ نے نظریں پھیرا کر مختصر جواب دیا…
can I drop you…
Are you sure….
مہرماہ سوالیا نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی…..
Yes…..
اسنے اپنی گاڑی کا ﮈور کھول کر مہرماہ کو بیٹھنے کا اشارہ کیا…..
مہرماہ مسکراتے ہوۓ بیٹھ گئی….
ایﮈریس کیا ہے….
مہرماہ نے بتا دیا….
وہ بھی ﮈرائیونگ والی سیٹ پر بیٹھ گیا…..
وہ خاموشی سے ﮈرائیونگ کر رہا تھا….مہرماہ کو ایک جھلک بھی نہیں دیکھا….
مہرماہ کو یہ بات اچھی نہیں لگی…تو اسنے ہی بات کا آغاز کیا…..
آپ کا تعارف…
انمول….فرام پاکستان…
اوہ واؤ میں بھی پاکستان سے ہوں…..
گریٹ……
شاید آپ ابھی تک ناراض ہیں ناراض ہیں….مہرماہ اندازا لگا کر بولی….
ناراضگی کس بات کی….انمول نے سنجیدگی سے پوچھا….
صبح جو میری ٹکر ہوئی آپ سے شاید اسی وجہ سے….
آپ کا گھر….اسنے مہرماہ کو گھر کی طرف متوجہ کیا….
مہرماہ اسکی بے رخی دیکھ کر چونکتے ہوۓ گاڑی سے نیچے اتر گئی
اور سنیے مہرماہ میں چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر نہیں لیتا……اٹس اوکے,,,انمول نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا….
اسکی اس بات پر مہرماہ کی آنکھیں پھٹ گئی….
