Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon NovelR50673 Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 05,06)
Rate this Novel
Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 05,06)
Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon
پھپھو حیدرآباد آگیا ہے آپنے کہا تھا ناں
ہاں بلی مجھے یاد ہے جب دس منٹ کیلیے رکے گی تو لیلینا اوکے انہوں نے پیار سے کہا
جی وہ بھی مسکرادی
@@@@@@
مریم تم کونسے کلر کی لوگی چوڑیاں اقا نے ہرے رنگ کے سیٹ کو دیکھتے ہوے کہا
تمہے تو پتا ہے نا پھر بھی
شانی نے کہا
اسبار لیلو ناں میڈم
عتیق نے کہا
تمسے کسی نے پوچھا نے پوچھا
اقا اور اسنے ایک ساتھ کہا
مجھے ریڈ کلر کی دیدیں عتیق نے کہا
اچھا تو اب تم چوڑیاں بھی پہننے لگے
اقا نے آنکھیں سکیڑ کر کھا
نی نی
کیا نی نی ہاں لڑکی تو تمہیں کوی ملنے ہی نی والی تو سکا یہی مطلب ہوا نا کے تم خود ہی پہنوں گے نا
اقا نے کہا
بلی کیوں تنگ کرتی ہو اسے
عاشق حاحب نے اسے گھورتے ہوے کہا
بابا آپ آپانکی باتوں میں مت آئیں
یہ تو پاگل ہے
آصف اور فوزیہ نے کہا
آپی آپنے مجھے پاگل کہا
اقا نے پوچھا
نی تمہے میں پاگل کہہ سکتی ہوں کیا
فوزی نے اسے مکھن لگاتے کہا
بللکہ کہہ چکی ہے عتیق نے کہا اور سب ہنسنے لگے
اور اقا بھی ہنس دی
۔ ۔ ۔
تجھسے محبت ہوگئ اقا معاف کرے
تھوڑی برفی کھالی اقا معاف کرے
عتیق نے گانا گایا جو کے بلکل ہی بے سرا تھا
اوے بے سرے کیوں کانوں میں رد کررہا ہے
اقا جو ناول پڑھ رہی تھی اسکی بے سری آواز پر کہے بنا نا رہ سکی
ہاں تمہے تو سروں کا نوبل ایوارڈ ملا ہے ناں
اسنے ناک سے مکھی اڑاتے ہوے کہا
جو بھی ہے وہ کم سے کم وہ تمہاری طرح بےسری تو نئی ہے ناں
مریم نے اسکی آواز پر طنز کیا
لو اب تم بھی میرے پیچھے پڑگئی
عتیق نے اسے گھورا
ارے نی نی ایسی کوئی بات نی ہے میں بھلا تمہرے پیچھے کیوں پڑنے لگی
مریم نے ایکٹنگ کرتے ا
تمہارے پیچھے تو کوئی چڑیل بھی نا پڑے
اچھا پر وہ کیسے
اسنے ناسمجھی سے پوچھا
وہ ایسے بھئی کے بھوت کے پیچھے کبھی کسی کو پڑتے دیکھا ہے تمنے کبھی
اسنے اسکی بات کو سمجھتے ہو اسے گھوری سے نوازا
پر وہاں رواہ کیسے تھی
@@@@@@@
اقا کیا کررہی ہو جلدی کرو کوئی آجاے گا
شانی ے ادھر اْدھر دیکھتے ہوے اقا سے کہا جو سیٹ پر گوند لگارہی تھی
ہوگیا ہے اسنے انگھوٹھے کا اشارہ دیکھایا
اب آے گا اس بے تکے انسان کو مزہ کے کیسے اسنے اقصٰی صدیقی سے پنگاہ لیا ہے
ارے یار نے صرف تمہے محترمہ ہی کہا تھا اسمیں اتنی بڑی تو کوئی بات نی ہے
مریم نے اسسے کہا جو کب سے اسے گھورہی تھی کے اسنے اسے کہا کے محترمہ اپنی ٹانگیں سائیڈ پر کرلیں ۔
تاکہ میں اپنا سامان رکھسکوں
اچھا تم اس بڈھے کی طرف داری کررہی ہو اسکی جسنے مجھے
بس کرو اقا اب چھوڑو تم کرچکی ناں جو تمہیں کرنا تھا
اب خوش رہو مریم نے کہا
وہ تو میں بہت ہونگی جب وہ اسپر بیٹھے گا
ارے ارے تم کہاں ارہے ہو
اقا نے عتیق سے پوچھا
کہی بھی نی اپنے شوز بند کرنے لگا ہوں یوں نا کروں
اور خیر ہے تمہے میری فکر کیوں ہورہی ہے اسنے بھنویں اچکا کر پوچھا
بھاڑ میں جاو میری بلا سے
اسنے نخوت سے کہا
یہاں کیوں بیٹھرہے ہو اقا نے کہا جو اس بدتمیز شخص(بقول اقا کے)کی سیٹ پر بیٹھنے جارہا تھا رک گیا
کیوں یہاں کیلیں لگی ہے اسنے مڑ کر دیکھا
نی وہ کسی کی جگہ پر بغیر اجازت کے نی بیٹھنا چاہیے نااسلیے
اسنے عقلمندی سے جواب دیا
اجازت
تمہے بسے مریم والے دورے پڑنے لگے میری بہنا
وہ کہتے ساتھ ہی بیٹھ گیا اور تسمیں بند کرنے لگا
گیا عتیق گوند میں
مریم نے اقا کے کان میں سرگوشی کی
اپنے کیے کا خود ہی ذمہ دار ہوگا کونسا ہمنے اسے یہاں بیٹھایا تھا
اقا نے بھی جواباً سرگوشی کی
یہ کیا تمدونوں کھسر پھسر کررہی ہو
اسنے مزے سے جوتے بند کرتا بولا تھا
وہ اٹھنے لگا پر اسسے اٹھا نا گیا
ارے یہ کیا ہوگیا ہے اسنے طاقت لگا کر اٹھنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا
ارے اسسے اٹھا کیوں نی جارہی ریم نے اقا سے پوچھا
یار مینے تو صرف آدھی بوتل ہی لگائی تھی اسے بھی ب پریشانی ہورہی تھی
کہ اک گوند اتنی بھی طاقت ور نی ہوتی
دیکھاو مجھے کیا لگایا تھا تمنے
یہ لگایا تمنے اقا
مریم دیکھ کر چلائی
ہاں کیوں کیا ہوا اقا نے پوچھا
ارے گدھی یہ ایلفی تھی وہ بھی ترکی کی
پھر کیا ہوا ایلفی تھی تو
ہا ایلفی تھی
وہ جو اپنی ترنگ میں بولے جارہی تھی اسکی بات پر غور کرکے چلائی
ارے مدونوں کو کیا ہوگیا کیوں چیخ رہی ہو اور میری مدد کرو مجھسے اٹھا نی جارہا
شاید کمزوری ہوگئہی ہے ایک ہی پلیٹ کھائی تھی اور ایک ہی روٹی
اسنے کہا
تمبھی ا مریم نے اسے کھینچتے ہوے کہا جو خود تو نکل آیا پر اسکی پینٹ پھٹ گئی
آہ
وہ چلایا
کیا ہوگیا اب مرین نے پوچھا نکل تو گئے ہو موٹے
میری پینٹ
کیا ہوا پینٹ پینٹکو
اقا نے پوچھا
میری پینٹ پھٹ گئی ہے ے افسردگی سے کہا
آہ چھی دفعہ ہو
ڈنگر نا ہوتو
دونوں نے کہا
مجھے پنا کوٹ دیدو پلیز تاکہ میں چینج کرسکوں اسنے مریم کے آگے ہاتھ پھیلاتے کہا
مجھسے ہی مانگنا تم
اسنے کہا اور اپنا ڈوپٹہ اسپر ڈال دیا
وہ جاہی رہا تھا کے وہ آدمی یانی لڑکا جسکی سیٹ تھی آگیا
ارے کیا ہوا بھائی
نیا فیشن ہے کیا
اسنے پوچھا
نی مجبوری کا نام شکریہ ہے اور سے ساری بات بتادی
او بہت برا ہوا
مجھے لگتا ہے کہ کسی نے جان بوجھ کر کیا ہے اسنے اقا کی طرف دیکھکے کہا یونکے وہ اسے دیکھ چکا تھا ایلفی لگاتے
او انکل میری طرف کیوں دیکھرہے ہو اقا نے کہا
میری مرضی محترمہ میری آنکھیں ہیں میں جدھر چاہوں مرضی دیکھوں محترمہ اسنے شرارت سے کہا
محترمہ مت کہو مجھے سمجھے اسنے اسے وارن کیا
میں تو کہوں گا محترمہ آپکو محترمہ ہی اسنے اسے چڑایا اور وہ چڑ بھی گئی
تم محترمہ تمہری ماں تمہاری بہن انفیکٹ تمہارا پورا خاندان محترمہ ہے وہ غصے سے کہے جارہی تھی اور مریم س اسکی سیٹ پر لیگئی
محترمہ اتنا غصہ اچھا نی ہوتا صحت کیلیے
وہ بھی ڈھیٹوں کا سردار تھا کیسے باذ آجاتا
دفعہ دور کھوتیا اقا نے کہا
وہ اسے مسکراکے دیکھی جارہا تھا
ابے او تمسے کہا نا اسنے کے مت دیکھو تو اپنی آنکھیں دوسری طرف گھومالو
وہی تمہارے لیے اچھا ہے
وہ تو شکر ہے کے سب سوے ہوے تھے ر عتیق واش روم گیا تھا ی تو سبنے اقا کی کھیلی اڑانی تھی کے اسے بھی کوئی ٹکر کا ملا ہے
اوکے جی جیسے آپ ہیں
اسنے تابعداری سے کہا
اچھا ویسے آپلوگ جاکہاں رہےہے
اسنے کہا
جہنم میں کیوں جانا ہے تمنے
مریم نے جل ر کہا جو اب اقا کو چھوڑ کر اسے گھورہا تھا
او تو یہ ٹرین وہاں بھی جاتی ہے
آپ ٹکٹ جارہی جارہیہں یا ویسے ہی
آپکا جہنم کا سفر اچھا گزرے اور مجھے وئی شوق نی ہے جانے کا اسنے آنکھیں گھما کے
کہا
اتنے میں رضیہ بیگم اٹھ جاتی ہے اور تبتک وہ لڑکا منہ پر کپڑا ڈال لیتا ہے
@@@@@@@
شکر ہے وہ اتر گیا ایک نمبر کا کمینہ تھا اقا ے کہا
مریم اب بس یہ دعا ہے کے وہ دوبارہ ا لے کبھی
انہونے اپنا سامان ٹیکسی میں رکھتے ہوے کہا
آمین
پر ان میسے کوئی بھی یہ ات ی جانتی تھی کے قسمت انہیں ملا کر رہے گی
چاہے جیسے بھی حالات ہوں
قسمت نے کہا کے تم چاہے جو مرضی کرلوکروں گی تو وہ جو جھے کرنا ہے
وقت نے کہا تم میرے آگے ہار جاوگی
قسمت اور وقت کی لڑائی شروع ہوگئی
اور وہ اپنی نزل پر روانہ ہوگئے یہ جانے بنا ہی ے آنے والا وقت ان کہ لیےکیا فیصلہ کرتا ہے
________
السلام و عليكم ماموں اینڈ آل
مریم نے انہیں لینے آنے والے ماموں ارشد ۔خالہ کے بیٹے جاوید بھائی اور ماموں اور پھپھو کے بیٹے عمران جسکی شادی پر آے تھے کو کہا
وعليكم و السلام
کیسے ہو بیٹا
ماموں نے کہا
اللّٰہ کا شکر ہے
مریم نے کہا اور چند اور رسمی باتیں کرکے وہ صدیق ویلا چلنے کیلیے نکل گئے
@@@@
صدیق صاحب اور شریفاں بی بی کی شادی کو دو سال بعد اللّٰہ تعالٰی نے انہے رحمت سے نوازا تھا
نانا ابّا نے انکا نام سکینہ بی بی رکھا تھا
انکی شادی انکے چچا زاد سے کی گئی تھی جنکا نام معشوق احمد تھا۔
انکے چار بچے تھے
بڑا شاہد نکے دو بچے افراء اور عمیر تھا
انسے چھوٹا بھائی کا نام جاوید وارس تھا
انسے چھوٹی بیٹی تھی جنکا نام مصباح کوثر ہے
اور انسے چھوٹی بہن جنکا نام نادیہ کوثر ہے
وہ لوگ صدیق ویلا کے پچھلی سائیڈ پر رہتے تھے
جسدن جاوید بھائی کی شادی تہہ ہوئی تھی اسی دن انہیں اور نازیہ کو گولی لگ گئی تھی ۔جسسے نازیہ تو موقعے پر شہید ہوگئی
اور جاوید بھائی زخمی ہوگئے۔
انکی بہو کی موت ہوگئی
جسے سکینہ بیگم برداشت نا کر پایں اور فوت ہوگئی
معشوق صاحب بھی اپنی جان سے پیاری بیوی کی موت سے گمسم ہوگئے اور انکے جانے کے ٹھیک تین دن بعد وہ بھی خالق حقیقی سے جاملے اسطرح شادیانے ماتم یں تبدیل ہوگئی۔
ایک گھر میں تین موتیں ایک ساتھ ہوگئیں۔
انسے چھوٹی ایک اور بیٹی تھی جنکا نام نسیم تھا
انکی شادی انکے پھپھو اور موموں زاد
امین سے کی گئی تھی۔ جنکے پانچ بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔جنمیسے چار کی شادی ہوگئی تھی خاندان ہی میں اور ایک کی خاندان سے باہر انکی یونی فیلو سے
سب اپنی زندیگیوں میں خوشباش تھے۔
انسے چھوٹے بیٹے کا نام نزیر احمد ہے۔ انکی شادی انکی ماموں اور پھپھی زاد سے جمیلہ (عاشق کی بہن)سے ہوئی تھی جنکے دو بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں
جنکی شادی پر وہ لوگ آئے تھے
بڑے بیٹے عمران بھائی اور شگفتہ باجی کی شادی انکے ماموں کی بیٹی اور چاچو کے بیٹے سے ہورہی تھی۔
انسے چھوٹے دو بہن بھائی جنکا نام
صغریٰ بی بی اور عبدلمجید تھا وہ دونوں چونکے جڑواہ تھے اسلیے انکی شادی بھی ایک ساتھ ہی کی گئی تھی۔
دونوں کی ہی شادی خاندان سے باہر ہوئ تھی جوکے صدیق صاحب اور شریفاں بیگم کے دوست تھے تو انہوں نے دوستی کو رشتے داری میں تبدیل کرلیا تھا
صغریٰ بیگم کے سات بچے تھے چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہے۔
انسے چھوٹی رضیہ بیگم اور ردا ہے ان دونوں کیشادی ایک ساتھ نی ہوی تھی مگر ایک ہی گھر میں ہوئی تھی وہ اپنے ماموں اور پھپھو کے گھر بیاہی گئیں تھیں رضیہ اور عاشق کے تین بچے (حیات) تھے۔
انکی شادی پر صدیق صاحب نے کوئی کسر نا چھوڑی تھی
جبکہ انکے کافی عرصہ بعد ارشد صاحب اور شبانہ بیگم کی شادی ہوی انکے سات بچے ہے جنمیسے تین بیٹیاں اور چار بیٹے تھے انکے پہلے دو بچے جڑواہ اور پھر اقا اسکے بعد بھی جڑواں بچے ہوے
وہ سب مریم سے بڑے تھے
انکے بعد نجمہ جو گھر بھرکی لاڈلی تھی انکی شادی ہوئ اور انکی ایک ہی بچی تھی
انکے بعد ردا کی شادی ہوی
پر انکی شادی پر سوائے رضیہ بیگم اور ارشی کے علاوہ کوئی بھی خوش نا تھا۔ انکی شادی عاشق صاحب اور رضیہ بیگم نے کروائی تھی جنسے انکی اماں ناراض وگئی تھیں اور انسے سارے تعلقات توڑ دیے تھے
بیٹی کی جدائی کا صدمہ وہ برداشت نا کرپاے اور چلبسے
جسسے شریفاں بی بی نے انسے ملنا بھی گوارہ نا کیا
آج خاندان کے سبھی گ شادی میں شرقت کرنے کیلیے موجود تھے سوائے شاہد چاچو اور ردا خالہ کے
لیکن
صرف ارشی اور بانو بیگم کے آخری تین بچوں کے علاوہ سب ہی مریم سے بڑے تھے جبکہ اور ماریہ اسکی ہم عمر ہی تھی
@@@@@
شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں
انکے خاندان میں مریم کی پیدائش کے بعد دوسری شادی تھی
اسلیے وہ بہت ایکسائٹت تھی
پر مما ہم ایک ساتھ دو دو شادیاں اٹینڈ کیسے کریں گے۔
مریم ے پوچھا
شانی ہم تمہارے چاچو کے گھر جارہے ہیں اور تم بچے لوگوں کو جہاں دلکرے
عاشق صاحب نے کہا
ڈیڈ میں تو وہاں نی جاوںنگی پہلے کیونکہ آپکو پتہ ہے وہ ندیم کا بچہ مجھے پتوں سے ڈراتا ہے مریم نے انہیں رازداری سے کہا تاکہ مما نا سنلیں
پر اسکی رازداری سے کہی سے بھی وہ سن نا پاتیں ایسا ممکن نا تھا
بری بات اور آپبھی ہنس رہے ہیں اسے پتہ ہے کے وہ اسسے مذاق کرتا ہے اور کچھ نی
انہونے کہا
اوکے پھپھو ہم تیار ہیں
جانے کیلیے اقا نے کہا
اچھا تمبھی جارہی ہو مریم نے پوچھا
ہاں جارہی ہوں تایا ابو کے گھر
اوکے مما میں بھی جارہی ہوں پھر ماموں کے گھر مریم نے کہا
اقی بیٹا بات سنو اور مریم کو بھی لیتی آنا
تمہارہ کزن آیا ہے جلدی آو
شبانہ بیگم نے اسے آواز لگائی
اف اب یہ کزن کون ہے جسے ابھی ہی ٹپکنا تھا
اقا نے بیزاری سے کہا
بری بات اقا اب چلو مللیتے ہیں
مریم نے کہا اور اسکا ہاتھ پکڑکر اندر لے گئی
ہیں یہ یہاں کیا کررہا ہے اندر جو تھا سے دیکھکر ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوے کہا
Episode 6
وہ سردی سے بچنے کے لئے آج گھر سے باہر نہیں نکلا تھا۔ باہرسرد ہوائیں چل رہی تھیں اور رات میں برف باری کی پیشن گوئی تھی۔ یوں تو وہ اپنی کمپنی کا آنر تھا اور اس کے جانے اور نہ جانے پر کسی کا زور نہیں تھا مگر وہ ضروری میٹنگز کبھی نہیں چھوڑتا تھا۔
فلیٹ میں اکیلے زندگی گزارنے کی عاشرکو عادت ہوگئی تھی۔ انسان کی زندگی میں بہت سے اسے موڑ آتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں اس اکیلے پن کو اپنا لیتا ہے۔ کافی ٹیبل پر رکھی ٹھنڈی ہورہی تھی۔ بچپن سے ہی اسے بلیک کافی پسند تھی۔ وہ کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھ رہا تھا,آج اسے اپنے وطن کی بہت یاد آرہی تھی,وہاں کے لوگ خاص کر کے وہ جسے اسنے اپنی دل میں ہمیشہ بسایا تھا,,اسنے ایک لمبی سانس لی اور صوفے پر بیٹھ کر کافی پی رہا تھا,,,سامنے ہی ایک ﮈائری پڑی تھی جو عاشر کے دل کے بہت قریب تھی,,,وہ خود کو بہت اکیلا محسوس کر رہا تھا اور ﮈائری کا جائزہ لینا چاہا,,,
اپنی پلکوں کے شبستان میں رکھا ہے تمہیں
تم صحیفہ ہو سو جزدان میں رکھا ہے تمہیں
ساتھ ہونے کے یقین میں بھی میرے ساتھ ہو تم
اور نا ہونے کے بھی امکان میں رکھا ہے تمہیں
ایک کم ظرف کے ساۓ سے بھلی ہے یہ دھوپ
تم سمجھتے ہو نقصان میں رکھا ہے تمہیں
جتنے آنسوں ہیں سبھی نذر کیۓ ہے تم کو
ہم نے ہر شعر کی وجدان میں رکھا ہے تمہیں
دل تو دیوانہ ہے اپنا ہی اسے ہوش نہیں
اس لیۓ دل میں نہیں جان میں بسا کر رکھا ہے تمہیں
میرے زخموں کا سبب پوچھے گی دنیا تم سے
میں نے ہر زخم کی پہچان میں رکھا ہے تمہیں..
___________________
سب لوگ جانے کے لیۓ بہت خوش تھے,,ایک بڑی گاڑی سامنے کھڑی تھی,لڑکیاں ایک طرف اور لڑکے دوسری طرف قطار باندھے کھڑے تھے,,پرنسپال نے سب کی شرٹ پر کالیج ٹرپ کا ایک لیبل لگایا جیسے لگے کوئی کالیج ٹرپ ہے,,
پر مہرماہ سب سے الگ کھڑی تھی وہ بہت غصہ تھی,,,
آئم سوری,,کوئی اس سے معذرت کر رہا تھا…
دیکھو عاشر مجھسے بات کرنے کی کوشش بھی مت کرنا,,,مہرماہ پاؤں پٹک کر گاڑی کہ طرف چلی گئی,,,,عاشر بھی اسکے پیچھے چلا گیا…
سارے سٹوﮈنٹس گاڑی میں بیٹھ گۓ
عاشر نے اپنی بیگ سے پیج نکالا اور مہرماہ کو منانے کے لیۓ ایک شعر لکھ کر سنہا کو دینے کے لیۓ دیا….
جلے چراغ بجھانے کی ضد نہیں کرتے
اب آگۓ ہو تو جانے کی ضد نہیں کرتے
کسی کی آنکھ میں آنسو ہمیں پسند نہیں
دلوں کے زخم دکھانے کی ضد نہیں کرتے
تمہارے نام کا بھی ﺫکر ہو نا جاۓ کہیں
غزل کے شعر سنانے کی ضد نہیں کرتے
خلا میں کوئی عمارت کبھی ٹکتی نہیں
وہاں مکان بنانے کی ضد نہیں کرت
یہ شہر سنگ ہے پتھر کے لوگ رہتے ہیں
یہاں پے پھول کھلانے کی ضد نہیں کرتے
زمین جیسا کہیں چاند بھی نا ہوجاۓ
زمین پہ چاند کو لانے کی ضد نہیں کرتے….
مہرماہ نے شعر پڑھ کر اور نا سمجھنے کے انداز میں اسے دبوج کر اپنی بیگ میں بے رکھی سے رکھ دیا….
عاشر کے دل کو ایک چبھن ہوئ…اور نظریں گھما کر کھڑکی سے نیچے جھانکنے لگا….
**********************
پورے 5 گھنٹوں کے بعد گاڑی کسی ماؤنٹین کے پاس میں آ کھڑی,,مہرماہ سنہا کے ساتھ گاڑی سے نیچے اتری,,,
یار اتنی غصے میں کیوں ہو کیا ہوا ہے,,
کچھ نہیں سنہا,,مہرماہ نے مسکراتے ہوۓ کہا,,,
سب لوگ بہت خوش نظر آرہے تھے..ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی ..ہر کوئی اپنے اپنے گروپ کے ساتھ باتیں کر رہے تھے کوئی سیلفیاں لینے میں مصروف تھے تو کوئی تھکاوٹ کی وجہ سے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر آرام کے آمادہ تھے….
عدیل,عاشر سے ناراض تھا اس لیۓ وہ ٹرپ پر آیا ہی نہیں,,مہرماہ بھی عاشر سے غصہ تھی وہ اپنے دوسرے دوستوں کے ساتھ ہنسی مزاک میں مصروف تھی,,
عاشر کی مہرماہ اور عدیل کے علاوہ کسی کے ساتھ جمتی نہیں تھی اس لیۓ وہ مہرماہ کے پاس آگیا,,,
یار کیوں ناراض ہو…اب اتنا بھی کیا کردیا میں نے….
اوہ ریئلی تمہیں نہیں پتا کہ تم نے کیا کیا ہے…..مہرماہ غصے سے وہاں چلی گئی,,غصے میں چلتے چلتے اسے پتا ہی نہیں چلا وہ پھاڑی پر آگئی…
عاشر بھی اسکے پیچھے دوڑتا ہوا آیا….
ارے میں نے جو کچھ بھی کیا صحیح کیا…عاشر نے اپنی بات شروع کی…
تمہیں لگتا ہے کسی کو جھوٹی خوشی دینا صحیح بات ہے,,,
یار بات اتنی بڑی بھی تو نہیں ہے,,,
آپ کی نظر میں بڑی نہیں ہوگی پر میری نظر میں بڑی ہے,,,میں جھوٹی جیت سے سچی ہار کو ترجیع دیتی ہوتی ہوں….
مگر مینے جو بھی کیا اپنی دل سے کیا تم لوگوں کے لیۓ کیا
ہمارے لیۓ کیا……؟مطلب تم یہ ثابت کرنا چاہتے ہو کہ ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے,,,,,
دیکھو مہرماہ تم غلط سمجھ رہی ہو…..مجھے اپنی جیت سے زیادہ تم لوگوں کی خوشی کی پرواہ تھی….
عاشر تمہیں یہ نہیں لگتا کہ تمہاری جیت میں ان لڑکوں کی بھی خوشی تھی….اور اتنا بھی سوچا کہ جب مجھے پتا چلے گا تو کتنا دکھ ہوگا….مہرماہ بہت غصے سے بول رہی تھی….
یار پر وہ بوائز اب بھی تو خوش ہیں…..اور سامنے دیکھو اور بتاؤ کیا ایک بھی سٹوﮈینٹ تمہیں اداس نظر آرہا ہے,,,ان لوگوں کو میچ کی جیت یا ہار سے خوشی سے زیادہ یہاں آنے کی خوشی ہے,,ہیں اگر ہم جیت جاتے کیا یہاں پر ٹرپ کے لیۓ آتے,,,مینے جو کچھ کیا ان لوگوں کے لیۓ کیا اور میری وجہ سے اتنے لوگ خوش ہیں تو ان کی خوشی کے لیۓ میری یہ ہار کچھ بھی نہیں ہے,,,اگر پھر بھی تم یہ ہی چاہتی ہو تو میں سب سے معذرت کرنے جا رہا ہوں اور سر کو سب کچھ بتا رہا ہوں کے مینے چیٹنگ کی تھی میچ میں,,, اور تم لوگوں کو جیتایا تھا جب یہ سب انہیں پتا چلے گا تو کتنا دکھ ہوگا انہیں….
یہ سب تمہیں پہلے سوچنا تھا…..مہرماہ بےرخی سے بولی,,,
عاشر نے بغیر کچھ کہے اپنے قدم آگے بڑھاۓ…..
سنو..!!!!
ہمممممم جی..,,,مہرماہ کی آواز پر عاشر پیچھے مڑا
عاشر بس چھوڑو تم سب ٹھیک ہے….
پکا..
ہاں کہہ دیا نا ٹھیک ہے,,
ہمممم As your wish عاشر مسکرانے لگا…
مہرماہ نے بھی عاشر کے مسکرانے پر اپنی مسکان ظاہر کی اور ایک قدم آگے بڑھایا…مہرماہ جیسے ہی آگے بڑی تو اسکا پاؤں لمبی ہیل کی وجہ سے پھسل گیا اور وہ پہاڑی سے نیچے گرنے والی تھی…
عاشر…..
مہرماہ کی ایک چینکھ نکل گئی سب لوگ ان طرف متوجہ ہوۓ
اتنے میں پاس میں کھڑے عاشر نے مہرماہ کا ہاتھ پکڑا اور خود کی طرف کھینچا……عاشر پیچھے گر گیا مہرماہ بھی اسکے اوپر گر گئی…عاشر کو ایک جھٹکا لگا جیسے اسکی سانسیں اسکے جسم سے دور ہو رہی تھی, کوئی اسکا روح اسکے وجود سے الگ کر رہا تھا…وہ مہرماہ کے اتنے قریب تھا کہ اسکی ایک ایک سانس کی تپش خود پر محسوس کر رہا ہو..عاشر نے کبھی بھی کسی لڑکی کو اپنے قریب نہیں دیکھا تھا,,,وہ عاشر کے اتنے قریب تھی کہ عاشر اسکی دھڑکن کی آواز بھی سن رہا تھا……مہرماہ کے سلکی کالے بال عاشر کے چہرے کو چھو رہے تھے,,عاشر کی آنکھوں کے آگے وہ ہی منظر آ رہا تھا جب اسکی ٹکر کسی سے ہوئی تھی اور عاشر کی وجہ سے اسکی آنکھیں جل رہی تھی…
مہرماہ تم ٹھیک تو ہو….سنہا کچھ اور دوستوں کے ساتھ مہرماہ کے پاس آگئی,,,,
سنہا کی آواز پر عاشر کا خیالی تصور ٹوٹا اور دونوں اٹھنے کی کوشش کر رہے تھے,,,
گرنے کی وجہ سے مہرماہ کے ہاتھ میں چوٹ لگی تھی سنہا اسے اپنے ساتھ لے گئی…
عاشر کھڑا ہوگیا اور آنکھیں بند کرکے تنہائی میں اسکے وجود کی خوشبو کو محسوس کر رہا تھا,,,
★★★
تم ٹھیک تو ہو نا مہرماہ,,
ہاں بس ہاتھ میں چوٹ لگی ہے,,ویسے Thanks عاشر آج تم نا ہوتے تو میں اوپر بھی……
چپ ہو جا پاگل خدا کرے میری بھی عمر تجھے لگ جاۓ…مہرماہ کے الفاظ کاٹ کر عاشر اسے دعائیں دینے لگا…
آآہاں……بڑی زندگیاں لٹائی جا رہی ہیں…طارق نے پیچھے سے عاشر کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اسے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ دیکھ رہا تھا….
ارے بیٹھ جاؤ تم دونوں کہاں گم تھے….
بس عاشر ان دونوں کو ایک دوسرے سے فرست ملے تب ہمیں یاد کریں گے نا مہرماہ نے سنہا سے منہ پھیر کر عاشر سے مخاطب ہوئی….
ارے میری چڑیل بکھڑ دوست ہم یہیں تھے….
OMG……
مہرماہ کے چلانے پر سب نے سوال کیاہوا…..
بھوکھ لگی تھی پر میں بھول گئی….ابھی یاد آیا
ہاہاہاہاہا پاگل بھوکھ کو بھی کوئی بھولتا ہے…سنہا نے ہنستے ہوۓ کہا….
یار چھوڑو نا ان باتوں کو دیکھو سب کیسے Enjoy کر رہے ہیں ہم بھی گھومنے چلیں یہاں بور ہو رہے ہیں…عاشر نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا….
گائیز وہ دیکھو سامنے….مہرماہ نے سامنے اشارہ کیا,,,
سب دیکھنے لگے,,,کیا ہے مہرو,,,طارق نے سوال کیا….
یار بھوکھ بھی لگی ہے اور سامنے گولگپوں والا کھڑا ہے…میں تو جا رہی ہوں جس جس نے آنا ہے وہ آجاۓ,,,مہرماہ اچھل کود کر سامنے کی طرف چلی گئی….
چلو بھئی ہم بھی کچھ پیٹ پوجا کریں….سنہا اٹھی اور دونوں کا آنے کے لیۓ کہا….
سنی…(سنہا)..کامپٹیشن ہوجاۓ کون زیادہ کھاتا ہے….
اب تو پتا ہی ہے جیتوگی تو تم ہی تو ٹکر لینے کا فائدہ ہی کیا….سنہا نے پیچھے سے مہرماہ کو اپنی بانھوں کی گرفت میں کیا….
اففففف عدیل ہوتا تو وہ ضرور میرے ساتھ شرط لگاتا…مہرماہ نے اداسی سے عاشر سنہا کی طرف گردن موڑ کر دیکھا…
ویسے عاشر عدیل کو کیا ہوا تھا تجھ سے ناراض تھا….اور مہرماہ بھی تجھ سے ناراض لگ رہی تھی….طارق نے عاشر کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا…
ہاں مہرماہ تجھے کیا ہوا تھا… صبح تم دونوں پہاڑی پر کیوں گۓ تھے….سنہا نے مہرماہ کو اپنی طرف موڑا اور اسسے حیرانگی سے پوچھنے لگی,,,
بس اس عاشر کی وجہ سے خوامخہ….وہ عاشر کی طرف دیکھنے لگی…
کیوں کیا ہوا ہے…..طارق مہرماہ سے مخاطب ہوا,,,,,
Friends I’m sorry
عاشر معافی مانگنے لگا….
پر کیوں عاشر….
سنہا میچ کی وجہ سے….
اوہ اچھا تو یہ بات ہے,,طارق نے عاشر کی بات پر مسکرانے لگا…
سنہا کی بھی ہنسی چھوٹ گئی….
تم دونوں ایسے کیوں ریئکٹ کر رہے ہو….مہرماہ حیران ہو گئی..
کیوں کہ ہمیں سب پتا تھا…عاشر نے پہلے ہی لاسٹ بول پر طارق کو بتا دیا تھا,,, سنہا نے مسکرا کر مہرماہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا….
واٹ,,,,,,
ہاں مہرماہ ہمیں پتا تھا اور میں agree ہو گیا تھا کیون کہ سر نے شرط رکھی تھی کہ گرلس کے جیتنے پر ہی ہم ٹرپ پر آئیں گے…اور میں نے بھی سوچا یہ ہی ٹھیک رہے گا….
طارق کے بتانے پر مہرماہ حیران ہوگئ…مطلب تم دونوں کو پتا تھا…اور عدیل کو…
وہ ایکچولی عدیل اور تم کو بتاتے تو شاید انکار کرتے اس لیۓ….سنہا نے اپنے کان پکڑے اور سوری کہا….
عاشر اور طارق بھی کان پکڑ کر کر سوری کہنے لگے….
ہاہاہاہاہاہا پاگل کے پاگل ہو تم تینوں مہرماہ ہنسنے لگی….
مجھے پتا تھا میری best friend بہت اچھی ہے…سنہا نے مہرماہ کو ھگ کیا…..
ویسے کامپٹیشن ہوجاۓ…..عاشر نے تینوں کو کہا….
ہاں ہاں ایک طرف میں اور سنی دوسری طرف تم دونوں…مہرماہ خوشی سے بولنے لگی…
چارو نے گولگپے کھانا سٹارٹ کیا….
★★★★
واہ مس کئین very great friendship…..
مہر نے ہاف گھٹنو تک شرٹ اور جینز پہن کر رکھی تھی….موسم آلودہ تھا…ہوائیں چل رہی تھی کالے بال کمر تک آرہے تھے اور ہمیشہ کی طرح کھلے ہی تھے….
مہرماہ عاشر کے ساتھ ساحل پر بیٹھے باتیں کر رہی تھی,,,
او جیسے ہی اچانک کسی کی آواز کانوں پر پڑی تو وہ دونوں کھڑے ہوگۓ,,,مہرماہ اسے چبھتی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی….
Yes ofcource only very great & sensitive friendship….
مہرماہ نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اسکے سوال کا جواب دیا….
وہ بغیر کچھ بولے مسکرا کر وہاں سے چلا گیا….
یہ ایسا کیوں بول رہا تھا مہرماہ….
یار چھوڑ یہ ایسا ہی ہے….
ایسا ہی مطلب….عاشر نے حیرت کے تاثرات ظاہر کیۓ….
ارے کسی وقت یہ کہتا تھا مجھ سے محبت کرتا ہے پر میں نے ردی بھر کا بھی دہیان نہیں دیا اور اسے اگنور کر دیا….اب دیکھو یہ کل کو بڑے دعوے کرتا تھا اب کیسے کسی اور کے ساتھ عشق کر بیٹھا
پر کیوں …..عاشر کے دل میں ایک تیر چبھنے لگا….
کیوں کہ My life my choice…
مہرماہ اپنے انداز میں بولنے لگی…ایک تو میں اس بکواس پیار ویار پر یقین نہیں کرتی اور سب کو پتا ہے مس مہرماہ خان زندگی کے کھانے پینے اور عیش کرنے پر یقین رکھتی ہے…وہ آگے آتے ہوۓ بالوں کو پیچھے کر کے بول رہی تھی…
عاشر یہ سب سن کر دنگ رہ گیا…..کیا تمہیں محبت پر یقین نہیں….عاشر کو یہ سب پتا تھا پر پھر بھی وہ حیرانگی سے پوچھ رہا تھا…
نہیں بلکل بھی نہیں…وہ بے رخی سے جواب دیتے جا رہی تھی….
پاگل ہو تم محبت کا مطلب بھی جانتی ہو کہ کیا ہے…..
Ohhh ho yar..already i’ve told uhh that I don’t believe on this bakwas word…
وہ اپنے آپ پر غرور کرکے بس محبت کو بکواس کہہ کر قہقے بلند کرنے لگی…ہاہاہاہاہاہاہا…
عاشر وہ الفاظ سن کر دنگ رہ گیا….اور مہرماہ کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا….وہ چلتے چلتے باتیں کر رہے تھے….
ہاۓ مہرماہ تم کیا جانو محبت کیا ہے….عاشر اپنی خیالی دنیا میں ﮈوب کر مہرماہ کو محبت کا مطلب سمجھا رہا تھا….
تم کیا جانو محبت کے “م” کا مطلب…؟
ملے تو “معجزا”
نا ملے تو “موت”
تم کیا جانو محبت کے ح کا مطلب…؟
ملے تو “حکومت”
نا ملے تو “حسرت”
تم کیا جانو محبت کے ب کا مطلب…؟
ملے تو “بادشاہی”
نا ملے تو “بربادی”
تم کیا جانو محبت کے ت کا مطلب…؟
ملے تو “تاج” و “تخت”
نا ملے تو “تنہائی” و “تڑپ”
وہ کہتے ہوۓ عاشر کی آنکھوں میں پانی آگیا….
مہرماہ اسے گھورتی رہی…تم دکھنے میں تو بلکل میرے جیسے ہو..برائون آنکھیں,گلابی ہونٹ,سفید رنگت,دکھنے میں پتلا سا,کالے سلکی بال,مسکراہٹ بھی دل کو چھونے والی,چلنا بھی بلکل میرے جیسا,تو پھر عادتیں میری جیسے کیوں نہیں….مہرماہ گن گن کر عاشر اور اپنی خوبیوں کو ایک ساتھ جوڑتے ہوۓ اپنے معصوم انداز میں بتا رہی تھی…..پھر یہ محبت کا پارٹ کب پڑھ لیا تم نے….
محبت کو پڑھتے نہیں پاگل محبت تو وہ احساس ہے جس سے انسان خود کو پہچانتا ہے,محبت وہ سمندر ہے جس میں ﮈوب کر انسان اپنے رب کے قریب ہوجاتا ہے…..
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا سب بکواس ہے عاشر سب بکواس ہاہاہاہاہاہاہا…مہرماہ زور زور سے ہنسنے لگی اسکے قہقے ہر طرف گونج رہے تھے کچھ سٹوﮈنٹس مہرماہ کی طرف متوجہ ہوۓ اور پھر اپنی مستیوں میں مگن ہو گۓ…..
دیکھنا مہرماہ ایک دن تم ضرور بدلو گی خود کو….
میں جو ہوں خوش ہوں بدلنا مجھے نہیں تجھے چاہیۓ مجنوں……
ہاہاہاہا…..عاشر مسکرانے لگا,میں نہیں بدلوں گا مجھے سکون ملتا ہے اس محبت سے,,اور محبت کی جدائی سے….تم بدلوگی ایک دن مہرماہ……
اچھا بتاؤ تو وہ کونسی لیلا ہے جس پر تم مجنوں ہو….
بس ہے ایک لیلا جس کے لیۓ میں مجنوں ہوں…..
نام تو بتاؤ اور وہ Lucky girl کہاں رہتی ہے,,,,مہرماہ مزاحیہ لحجے میں عاشر سے پوچھنے لگی….
نام تو نہیں بتاؤں گا پر رہتی میرے دل میں ہے وہ……عاشر نے نچلا ہونٹ دانتوں سے دباتے ہوۓ بولا….
عاشر سامنے دیکھو آئسکریم چلو ایک دو کھا لیتے ہیں نا….پلییییززززز مہرماہ عاشر کو التجائی نظروں سے دیکھ رہی تھی,,,,
اب گولگپوں میں تم اور سنہا جیت گئی تھی پر اب کوئی کامپٹیشن نہیں صرف ایک ایک ہی کھائیں گے,,,,
اوکے اب چلو تو سہی…..
*************************
سٹوﮈنٹس……..
سر سب سے مخاطب ہوا…
سارے سٹوﮈنٹس دھیرے دھیرے ایک جگہ پر جمع ہوۓ….
دو دن کا کہا گیا تھا آپ لوگوں سو اب تیاری کر لیجیے واپس لوٹنا بھ ہے یا نہیں……
سر کے کہنے پر سب کے چہروں پر اداسی چھا گئی اور زبردستی سب نے ہاں کی…..
*********
مہرماہ گاڑی میں بیٹھ کر آئسکریم کھا رہی تھی عاشر اسسے مخاطب ہوا….
مہرماہ میرا برتھﮈے آنے والا ہے اور بھابھی پارٹی ارینج کرے گی…میں سب کو انوائیٹ کروں گا اور تجھے آنا ہوگا…..
اور ہمیں……سنہا نے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوۓ ک
پوچھ رہی تھی…وہ مہرماہ کے ساتھ ہی بیٹھی تھی….
ہاں تم اور طارق اور عدیل کو تو ضرور آنا ہوگا…
ہاں بھئی اکلوتے دوست کی پارٹی ہوگی آنا تو ہوگا ہی نا….
پر مجھے نہیں آنا….مہرماہ نے منع کردیا….
پر کیوں…..
مجھے گھر کا ایﮈریس ہی نہیں ہے…..
اوففففف یہ بھی کوئی بات ہوئی پاگل….میں ابھی دے دیتا ہوں…عاشر نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا…..
پر مجھے کسی کا ایﮈریس ملتا ہی نہیں ہے,,,
عاشر مہرماہ نا آنے کے بہانے ﮈھونﮈ رہی ہے…طارق نے عاشر کو اپنی طرف کھینچا پیچھے ہی بٹھا دیا…
اچھا ایک منٹ……
عاشر نے ایک دو منٹ کے بعد ایک میپ تیار کیا اور آگے والی سیٹ پر بیٹھی ہوئی مہرماہ کے ہاتھ میں دےدیا…..
یہ لو اب کوئی بہانا نہیں چلے گا مینے میپ بنا دیا ہے تم تینوں کو آنا ہوگا…
ہمممم ٹھیک ہے…..مہرماہ songs سننے میں مصروف تھی اور پیچھے عاشر کو دیکھنا بھی گوارا نا سمجھا بس اسنے وہ پیج لیکے سائیﮈ پر رکھ دیا….
