Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 21)

Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon

دور سے سمندر کا پانی نیلا نظر آ رہا تھا وہ ہمیشہ کی طرح سب سے پہلے اسی جگہ آیا جہاں اسکی ملاقات اندھیری رات میں ایک عجنبی سے ہوئی جس کے بعد وہ اپنوں سے بھی بڑھ کر اسکے دل میں جگہ بنا گئی,سورج کی روشنی اس نیلے پانی کو اپنے رنگ میں رنگ رہی تھی,پانی کی لہریں بار بار اسکے پاؤں کو چھو رہی تھی وہ ہاتھ باندھے سمندر کے پاس ہی کھڑا تھا,ہلکی ہلکی سرد ہوا چل رہی تھی,آس پاس بہت لوگ کھڑے تھے جس میں بچے بھوڑے اس منظر کو انجواۓ کر رہے تھے,وہ بھی سب کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا,

اب وہ بھی آگے آیا اس خوبصورت نظارے کو دور سے دیکھنے کے لیے ایک بینچ پر بیٹھ گیا,اسکے ہاتھ میں ایک کولﮈرنک کی بوٹل تھی جس کو وقفے وقفے سے اپنے ہونٹوں تک لے جا رہا تھا,اسے محسوس ہوا کے ٹھنﮈک کی وجہ سے اسکا گلا خشک ہو رہا ہے اس لیے اسنے آخری گھونٹ گلے میں اتار کر خالی بوٹل نیچے پھینک دی,آس پاس لوگوں کا بڑا میلا تھا وہ بار بار ایک ہی چہرے کو تلاش کر رہا تھا,اتنے شور میں وہ بس ایک ہی آواز کو سننا چاہ رہا تھا مگر دور دور سے کوئی آواز نہیں آ رہی تھی جو اسکے چہرے کی اداسی دور کرسکے,اسنے سامنے ایک جوڑے کو دیکھا جو ہاتھ ہاتھوں میں ﮈال کر بڑی محبت کے ساتھ سمندر کے کنارے پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے,وہ رشک بھری نگاہوں سے انھیں دیکھتا رہا اسے بھی کوئی منظر یاد آیا جب وہ بھی اپنی محبت کے ساتھ اسے ہی سمندر کے کنارے پر بیٹھے باتیں کر رہا تھا مگر اس وقت وہ ایک اچھا دوست ثابت ہونا چاہ رہا تھا,اب وہ اٹھ گیا ایک التجائی نظر آسمان پر ﮈالی اور پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ ایک دو قدم آگے بڑھا لیے اور پاؤں کے قریب ہی بوٹل پڑی تھی جسکو اسنے زور دار کک ماری تو وہ آسمان کی اوچائ تک چلی گئی…بوٹل آسمان سے نیچے اتر رہی تھی وہ اسے دیکھ رہا تھا…

مگر اکے بعد کا منظر کچھ زیادہ ہی نہایت عجیب ہنسنے والا تھا وہ بوٹل ہوا کے ﺫریعی نیچے آکے ایک چپس کھاتی ہوئی کسی عورت پر جاگرا وہ اس بےچاری بوکھلا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی…

وہ اپنی نگاہیں پھیر کر دوسری طرف ایسے دیکھنے لگا جیسے اسے کچھ پتا ہی نا ہو,وہ خود کی ایسی حرکت پر مسکرانے لگا,

“آگ لگے اسکے من میں بیڑا غرق ہوجاۓ اس لفنگے کا” اس نے اس عورت کو بڑبڑاتے ہوۓ سنا اور مسکراہٹ کی جگہ ایک قہقہ بلند کیا

ہاہاہاہا لفنگا,,,,اسنے خود ہی سے دوبارہ الفاظ نکالے اور ہنسنے لگا,,, وہ سوری بولنے کےلیے آگے گیا کہ کوئی چادر میں لپیٹی ہوئی لڑکی سے اسکی ٹکر ہوئی اور اسے ایک بڑا جھٹکا لگا وہ ااے کوئی مذھبی لڑکی لگی جس نے خود کو پورا کور کرکے رکھا تھا صرف آنکھیں ہی ظاہر تھی,ٹکر کی وجہ سے وہ لڑکی بہت گھبرا گئی اسکا نقاب اترنے والا تھا جو شاید وہ نہیں چاہتی تھی…

وہ بڑی حیرت سے اسکی آنکھوں کو دیکھ رہا تھا دیکھتے دیکھتے کب وہ چلی گئی اسے پتا ہی نہیں چلا…..جب اسکا خیال ٹوٹا تو اسکے سامنے سے وہ غائب ہوچکی تھی اور وہ ادھر ادھر وہی آنکھیں ﮈھونﮈنے میں مصروف ہوگیا,,,,,,سامنے پھر سے وہ ہی کالی چادر میں لپٹی ہوئی لڑکی نظر آئی وہ بھاگتا ہوا وہاں گیا,,,

**********************

بچپن زندگی کا ایک وہ حسین لمحا ہے جو ایک بار گذر جاۓ تو پھر چاہ کر بھی واپس نہیں آتا زندگی کے ہر موڑ پر بچپن کی یادیں تازہ ہوکے سامنے کھڑی ہوجاتی ہے وہ خوبصورت اور معصوم دن کچی عمر میں پکے رشتے بنا دیتے ہیں اور انھیں رشتوں میں عاشر اور عدیل کی دوستی کا بھی رشتہ شامل ہے وہ دونوں بچپن میں تو ساتھ رہے پر بڑھتی عمر کے ساتھ دوستی اور بھی گھری ہوتی گئی,

دوستی کی نئی لہر کے ساتھ ایک نئی زندگی کا آغاز کرنے عاشر اور عدیل نے آج اپنا پہلا قدم دھلی میں رکھا,,,

دھلی میں پہلے ہی عشارب حسین کا فلیٹ تھا رات کو ہی ملازموں سے کہہ کر اسکی صفائی کروادی گئی دونوں اپنا سامان لیکے فلیٹ میں آگۓ…..

فلیٹ کا دروازہ بند تھا ایک چابی عاشر کے پاس تھی اور دوسری وہاں کی ایک ملازمہ کے پاس,تھکاوٹ کی وجہ سے عاشر نے چابی نکالنا گوارا نہیں سمجھا اور ﮈور کی بیل بجانے لگا,,,

دروازہ کھلتے ہی ایک بڑی ایج کی عورت نمودار ہوئی,,

نمستے صاحب جی,وہ غیر مسلم تھی اس لیے اسنے اہنے مذھبی انداز میں ہاتھ جوڑے,,,

اسلام علیکم…..عاشر نے بھی اپنے انداز میں جواب دیا,,

عدیل کھلے منہ کے ساتھ عاشر کو گھورنے لگا,,عاشر آنکھوں سے عدیل کو تسلی دینے والے انداز میں پلکیں جھپکا رہا تھا,,

دیجیے صاحب میں رکھ دوں…اس عورت نے عاشر کے ہاتھوں سے سامان لینا چاہا…

نہیں آنٹی میں رکھ دوں گا,عاشر نے اسے تکلیف دینا مناسب نہیں سمجھا اس لیے سامان خود ہی اندر لے آیا…

عدیل نے بیگ سائیﮈ پر رکھ دیا اور خود سامنے بیﮈ پر جوتوں کے ساتھ ہی لیٹ گیا….

عاشر ایک تھکاوٹ اوپر سے بوکھ میری جان لے لےگی,عدیل کی نگاہیں چھت پر ٹکی تھی,,

کہو تو خان صاحب کے پاؤں دبادوں عاشر نے غصے سے نظریں گھما کر کہا,,

نیکی اور پوچھ پوچھ….عدیل اٹھ گیا…

صاحب جی کہو تو میں کھانا لگا دوں آپ کا وہ بڑے صاحب نے آپ کے آنے کی خبر دے دی تھی تو میں نے تھوڑی دیر پہلے ہی بنا دیا….

جی جی آنٹی لگا دیجیے مجھے تو بہت بوکھ لگی ہے پیٹ میں چوہوں کی ریس لگی پڑی ہے,,عدیل بھرپور مزاحیہ انداز میں بولا,,,عاشر خاموش ہوکے اسے دیکھ رہا تھا,,

ہم فریش ہوکے آ رہے ہیں…..عاشر کھڑا ہوگیا اور بیگ سے کپڑے نکالنے لگا….

عاشر یہ تو….عدیل کچھ بولتا عاشر نے اسکا چہرا پڑھ لیا اور خود بول پڑا…

ہاں یہ نان مسلم ہے جب بھائی لاسٹ ٹائیم یہاں پر آیا تھا تو یہ عورت راستے میں بے ھوش پڑی تھی مگر انسانیت کسی میں بھی نہیں تھی بھائی نے اسے ہاسپیٹل میں ایﮈمٹ کروایا, دو دن تک بے ہوش تھی جب اسے ہوش آیا تو پتا چلا کے نان مسلم ہے اور نافرمان اولاد نے اسے گھر سے نکال دیا تھا,تب یہ وہاں واپس جانا نہیں چاہتی تھی تو بس بھائی نے تب سے اسے یہاں پر پناھ دے دی, پاکستان جانے کے بعد یہ فلیٹ ویسے بھی خالی ہوجاتا تھا اس لیے اس گھر کو سمبھالنے کے لیے دلاری آنٹی اپنی خوشی سے یہاں رہنے لگی,,,,مگر اسے کبھی بھی ہم نے الگ مذھبی نظر سے نہیں دیکھا کیونکہ غیر مسلم ہونے سے پہلے یہ ایک ہماری طرح انسان ہے…,,

اوہ سو سیﮈ عدیل نے افسردگی سے کہا…

اب تم بھی فریش ہوجاؤ,عاشر نے کپڑے نکال کر عدیل کے طرف پھینکے….

*********************

فوزیہ بیگم حماد کے ساتھ نیچے باتیں کر رہی تھی,فرح بھی ان لوگوں کے ساتھ بیٹھی تھی ہنسی مزاق کرنے میں مشغول تھے…مہرماہ کی نظریں لیپ ٹاپ پر جمی تھی وہ سیڑھیوں سے نیچے آ رہی تھی…

فرح یہ لیپ ٹاپ کیوں نہیں چل رہا ہے پتا نہیں آن ہی نہیں ہو رہا ہے,,,وہ بغیر کچھ دیکھے فرح کو آواز دے رہی تھی…

ہاں آپی پتا نہیں کل مینے دیکھا تھا آن ہی نہیں ہو رہا تھا….فرح اسکے پاس آکے بولی اسکے ہاتھ میں مینگو شیک تھا,,

اوہ گاﮈ پر مجھے تو بہت ضروری کام ہے….مہر نے پریشانی والی حالت میں سر پر ہاتھ رکھا,,,

اچھا تو آپ حماد بھائی سے ہیلپ لے لیجیے…فرح حماد کے طرف اشارہ کرتے ہوۓ چلی گئی…

اوففف اب اس سائکو کے پاس جانا ہوگا,وہ سرگوشی والے انداز میں بولی اور آگے آئی…

سنو……اسنے حماد کو آواز دی…

جی….حماد نے مسکرا کر جواب دیا….

یہ نمونا چاند کی طرح کھل کیوں اٹھا,,,مہرماہ اسے دیکھ کر بڑبڑانے لگی….

کچھ نہیں مہرماہ پاؤں پٹک کر چلی گئی اور لیپ ٹاپ سامنے ٹیبل پر رکھ دیا,,

مما آج کہیں باہر چلیں…مہرماہ فوزیہ بیگم کے پاس آکے کھڑی ہوئی….

ہاں بیٹا کیوں نہیں پر پہلے ہم کو تم سے بات کرنی تھی…

حماد نے لیپ ٹاپ اٹھایا اور کمرے میں چلا گیا فرح میں اسے ٹھیک کرتا ہوں….

ہممم بتائیے مسز خان….مہرماہ مزاق والے انداز میں ایک آنکھ بند کرکے بولی…

بیٹا ہم یہاں کسی خاص کام سے آۓ تھے, مطلب تمہارے اور حماد کا رشتہ طئہ کرنے کے لیے…..

کیا……..مہرماہ جھٹکے سے کھڑی ہوگئی…

ہاں بیٹا اور حماد بھی مان گیا ہے,,

مما آپ لوگوں نے مجھ سے پوچھے بغیر میری لائف کا اتنا بڑا ﮈسیشن لے لیا…

بیٹا اس میں پوچھنے کی کیا بات ہے اور آج تک تمہارے پاپا نے جو ﮈسیشن لیا وہ تمہارے لیے ہی بہتر تھا نا تو یہ بھی ہمارا حق ہے,,,فوزیہ بیگم نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر بڑے اطمنان سے بولی….

مہرماہ نے مما کا ہاتھ غصے سے ہٹایا For God sake Mama please don’t say like that because it’s my own life

یہ کیا بول رہی ہو مہرماہ ہوش میں تو ہو….

ہاں ہوش میں ہوں اور جس کے ساتھ میں ایک پل بھی گزار نہیں سکتی تو پوری لائف کیا خاک گزاروں گی مہرماہ مما سے آنکھیں ملا کر بات کر رہی تھی…

مہرماہ ہم نے تمہیں کسی بھی بات سے روکا نہیں تمہارے من جو آیا تم نے کیا مگر ہمارے لاﮈ پیار کا یہ مطلب نہیں تھا کہ آج اپنی مما سے آنکھیں ملا کر بات کرو….

میں بس صاف صاف کہہ رہی ہوں مجھے یہ سب منظور نہیں ہے,مہرماہ نظریں گھما کر بولی…

تمہارے پاپا نے زبان دی ہے تمہارے تایا کو اور ایک بات سن لو جو تمہارے پاپا نے طئہ کیا ہے وہ ہی اچھا ہے تمہارے لیے اور آج کے بعد تم مجھے اس جینز اور شرٹ میں نا دکھو بہت کرلی منمانی اپنی….

ٹھیک ہے میں آج کے بعد یہ سب نہیں پہنوں گی,اور میں کسی بھی حالت میں حماد کو تو کیا کسی اور کو اپنا لائف پارٹنر نہیں بناؤں گی کیوں کہ مینے پہلے ہی چوز کر لیا ہے جو میرے لیے بہتر ئی ہے….

مہرماہ…. مما نے زور سے مہرماہ کا نام نکالا اور خلا میں ہاتھ بلند کیا جو مہرماہ کے گالوں پر جا پڑا….

زوردار تھپڑ کی آواز سن کر ریحانہ باہر آگئی وہ مہرماہ کو دیکھ کر دنگ رہی گئی,,,

پہلی بار آج کسی نے مہرماہ کے گالوں پر تھپڑ ماری اس کی آنکھوں سے آنسوں ٹپ ٹپ بہنے لگے وہ ریحانہ بیگم کا ہاتھ زور سے جھنجوڑ کر کمرے میں چلی گئی,

کیا ہوا بھابھی ریحانہ فوزیہ سے مخاطب ہوئی….

فوزیہ کی آنکھوں میں بھی آنسوں تھے اور نا چاہتے ہوۓ بھی آج اسکا ہاتھ مہرماہ کے اوپر اٹھ گیا شاید دل ہی دل میں اسے پچھتاؤ تھا کے اسنے ہاتھ اٹھا کر غلط کیا,,,

پانی پیؤ بھابھی اسنے فوزیہ کے ہاتھ میں گلاس تھمایا…

سب ہماری غلطی ہے ہمیں پہلے ہی مہرماہ کو سمبھالنا تھا ہم نے اسے چھوٹ دے کر بہت بڑی غلطی کی ہے…

بھابھی مہرماہ ابھی بچی ہے,اسے اتنی سمجھ نہیں ہے ابھی تک اور ہمیں لگتا ہے مہرماہ سے بیٹھ کر آرام سے بات کرنا چاہیے,,

نہیں وہ کچھ نہیں سمجھے گی وہ ضدی ہے اور مہر کی اسی ضد کی وجہ سے ہم بار بار اسکے آگے جھکتے آ رہے ہیں,,, فوزیہ بیگم کی آنکھوں سے پانی باہر آگیا تھا,,

حوصلا رکھیں بھابھی اور میں جاتی ہوں مہرماہ کو سمجھاتی ہوں…

فوزیہ بیگم خاموش بیٹھی تھی ریحانہ مہرماہ کے کمرے میں اوپر چلی گئی…

مہرماہ نے دروازہ لاک کر دیا تھا اور کپکپاتے ہوۓ ہاتھوں سے فون پر کسی کا نمبر ﮈائل کرنے لگی تھی,,,

دوسری طرف کال رسیو کی جا چکی تھی…

اے کے مجھے تم سے ابھی کے ابھی ملنا ہے,,وہ سسکیاں لیتے ہوۓ بول رہی تھی,,

کیا ہوا مہر تم ٹھیک تو ہو….

نہیں میں ٹھیک نہیں ہوں,,مجھے تم سے ابھی ملنا ہے…

ہاں ٹھیک ہے پر بتاؤ تو صحیح ہوا کیا ہے,,

وہ..وہ..چھوٹی ماں…

مہرماہ کچھ بولتی اس سے پہلے دروازے پر ریحانہ بیگم نے دستک دی,مہرماہ نے بات آدھی چھوڑ کر کال کٹ کردی….

مہرماہ بیٹا دروازہ کھولو….میں سب ٹھیک کردونگی…

مہرماہ نے کوئی جواب نہیں دیا وہ خاموش تھی…

دروازہ زور سے کھٹکنے لگا…..

Please shotii maa leave me alone..

تمہیں میری قسم دروازہ کھولو…..

مہرماہ نے مجبورًا دروازہ کھولا…

کیا ہوگیا بیٹا اتنی ضد کیوں..دروازہ کھلتے ہی اسنے مہرماہ کے گالوں پر ہاتھ رکھا,,

کچھ نہیں….

آؤ یہاں پر….ریحانہ نے ہاتھ پکڑ کر اسے صوفے پر بٹھایا,,,

اگر آپ بھی مما والا ٹاپک لیکے بیٹھیں گی تو میں پہلے ہی آپ کو بتا دیتی ہوں مجھے یہ منظور نہیں ہے,,,

مہرماہ کوئی زبردستی نہیں ہے, اور رشتے زبردستی سے نہیں جڑتے,

چھوٹی ماں میں..میں کسی اور کو چاہتی ہوں اور مجھے پتا نہیں یہ کیسے ہوا کیوں ہوا,پر میں اسے بہت چاہتی ہوں,مہرماہ روتے ہوۓ بول رہی تھی,

ریحانہ یہ سن کر چونک گئی مگر مہرماہ کی حالت دیکھ کر وہ اسے تسلی دینے لگی…ٹھیک ہے تمہیں بھی پورا حق ہے زندگی کا فیصلا لینے پر وہ کون ہے…

چھوٹی ماں میں بعد میں بتاؤں گی ابھی مجھے جانا ہے بہت ضروری کام ہے,اسنے افسردگی سے کہا….

پر جا کہاں رہی ہو…

باہر جا رہی ہوں اور ابھی مجھے کسی سے بھی کچھ بھی نہیں کہنا ہے میں واپس آکے سب بتا دوںگی,,,مہرماہ بے رخی سے بولی اور صوفے پر پڑا والیٹ اٹھا کر کمرے سے باہر چلی گئی…

مہرماہ سیڑھیوں سے نیچے اتر رہی تھی نگاہیں موبائل پر ٹکی تھی اور میسیج ٹائیپ کرتے ہوۓ غصے سے باہر جانے لگی,,

کہاں جا رہی ہو…فوزیہ بیگم اپنی سوچوں میں گم تھی,مہرماہ کے قدموں کی چاپ سن کر اسے تیکھی نگاہوں سے گھورنے لگی…

کسی سے ملنے جا رہی ہوں…مہرماہ دوٹاک انداز میں بولی اور پاؤں پٹک کر وہاں سے چلی گئی,,

*******************

عدیل بیﮈ پر سو رہا تھا مغرب کی آﺫان ہو رہی تھی عاشر ﮈائری پر کچھ فوٹوز چپکا رہا تھا,,

بہت خودار ہو نا تم ؟

بہت دیندار بنتے ہو۔

ہاں تم سے ہی ہیں ہم مُخاطب۔۔

کیا میری بات سُن رہے ہو؟؟؟

تمہیں ہم معاف کر بھی دیں۔

۔دل اپنا صاف کر بھی لیں۔۔۔

۔مگر جو زخم لگے ہیں۔۔۔

وہ بھر تو گئے ہیں مگر۔۔

اُنکے داغ باقی ہیں۔۔۔

اگر وہ تم مِٹا سکو۔۔۔

مجھے پہلے کہ جیسا تم۔۔

۔ایک خاص دل کا ٹکرا بنا دو۔۔۔

تمہیں ہم معاف کردیں گے۔۔

دل اپنا صاف کرلیں گے۔۔

ضمیر کے سارے بوجھ سے۔۔۔

تمہیں آزاد کردیں گے۔

مگر سوال اتنا ہے۔۔۔

کیا ایسا کرسکو گے تم؟؟

جو میں نے چین کھویا ہے۔۔۔

وہ واپس کرسکو گے تم؟؟؟

نا ایسا کرسکو گے تم

نا ویسے ہو سکیں گے ہم۔..

آﺫان پوری ہونے کے بعد عاشر وضو کرنے کے لیے واش روم میں گھسا,وہ وضو کرکے باہر آیا عدیل کو اٹھانے کی کوشش کی مگر وہ گھری نیند میں تھا,عاشر کمرے سے باہر آیا اور الماڑی سے جاۓ نماز نکال کر نماز پڑھنے لگا…..

نماز پوری کرنے کے بعد اسنے قرآن پاک اٹھایا اور وہیں پر ہی تلاوت کرنا شروع کردی,,

وہ زور زور سے تلاوت کر رہا تھا اسکی میٹھی میٹھی آواز دلاری کے کانوں پر پڑی وہ کمرے سے باہر آکے اسے سننے لگی…

عاشر نے مسکرہ کر اسے دیکھا اور چند لمحوں بعد قرآن پاک کو اپنی جگہ پر رکھ کر اسکے پاس آگیا….

کیا ہوا آنٹی آپ ایسے کیوں بیٹھی ہیں,,

بس صاحب جی اپنی قسمت کو کوس رہی تھی,پتا نہیں میرا کیا دوش (گناھ) تھا جو بھگوان نے اپنی مجھے ایک بیٹا ہی دیا پر اسنے بھی مجھے بے گھر کردیا,,

نہیں آنٹی ایسا نہیں کہتے اور قسمت تو خدا لکھتا ہے اور وہ جو بھی کرتا ہے ہمارے اچھے کے لیے ہی کرتا ہے,اور کیا میں آپ کے بیٹے کی طرح نہیں ہوں…

ہاں اب تم لوگ ہی تو آخری سہارا ہو ورنہ میں ودواہ (بیواہ) کہاں جاتی نا جانے کس کس گھر کی ٹھوکریں کھاتی,,دلاری عاشر کے آگے ہاتھ جوڑنے لگی,صاحب جی مجھے اس گھر سے نہیں نکالنا…

ارے یہ کیا کر رہی ہو آنٹی ایک تو آپنے ہماری ہیلپ کی ہے یہ گھر سمبھالنے میں اوپر سے ہاتھ جوڑ کر مجھے شرمندہ کر رہی ہیں…

صاحب جی…

نہیں آگے سے صاحب نہیں آپ مجھے اپنا بیٹا کہہ کر پکارنا….عاشر نے اسکے ہاتھ نیچے کردیے,,

دلاری کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے,,

رو کیوں رہی ہیں آپ,عاشر نے اپنے ہاتھوں سے اسکے آنسوں صاف کیے….عاشر نے بوڑھی آنکھوں کے پیچھے والا دکھ آسانی سے پڑھ لیا,,

میں جب سے یہاں آیا ہوں آپکو اداس دیکھا ہے اگر آپ چاہو تو مجھے بتا سکتی ہیں….

میرا کچھ نہیں ہے ایک پہلے میرا پتی(شوہر) مجھے یہاں اس اکیلی دنیا میں چھوڑ گیا پھر ضرورت پوری ہونے کے بعد بیٹے نے بھی بے گھر کردیا…ایک ہی سہارا تھا بیٹے کا اب تو وہ بھی نہیں رہا,,,

آنٹی جانے والی چیزیں چلی جاتی ہیں انھیں روکا نہیں کرتے,اور آپ اداس نا ہوں میں ہوں نا آج کے بعد میں آپ کو ماں کہوں گا آپ سمجھ لینا کے میں آپ کا بیٹا ئی ہوں,,,,اور ویسے بھی زندگی تو ایک دن ختم ہی ہونی ہے نا تو کیوں ہم انھیں یاد کرکے خود کو خفا کریں….عاشر اسے تسلی دینے لگا….

بیٹا پتا ہے یہ سب ختم ہی ہونا ہے اور میں بھی مر جاؤں گی,اب میری زندگی کا اختتام آگیا ہے,آج نہیں تو کل مجھے ﮈھل ہی جانا ہے,چاہنے کے باوجود میں اس حقیقت سے منہ پھیر نہیں سکتی,مگر بیٹا مجھے ان چیزوں سے ﮈر لگتا ہے جب اختتام کا سوچتی ہوں تو وحشت ہونے لگتی ہے کے میں مر جاؤں گی اور میری ارتھی( لاش) کو اگنی (آگھ) کون دیگا اور میرے مرنے پر آنسوں کون بہاۓ گا,,,

ماں لاش پر رونے والے چاہے لاکھوں کیوں نا ہو مگر وہ بھی دور چار آنسوں بہا کر چپ ہوجائیں گے, لوگ تو بڑے مطلبی ہے وہ مرنے پر دو چار آنسوں بہا کر ایسے بھول جاتے ہیں کے کوئی وجود بھی تھا ان کے بیچ…کل جو لوگ آپکی زندگی کی دعائیں مانگتے,سلامتی مانگتے پھرتے ہیں اور آپ کے بنا جینے کا تصور بھی نہیں کرسکتے تو جنازے پر آکے وہی لوگ پوچھتے ہیں ابھی کتنا وقت اور لگے گا,اور جب لاش کو مٹی کے حوالے کرتے ہیں تو وہاں پر وہ زیادہ دیر تک رکنا بھی گوارہ نہیں کرتے بس مٹی کی ﮈال کر اس لاش کو ایک بند قبر میں چھوڑ کر چلے جاتیں ہیں…مگر اس جسم کا کیا اس وجود کا کیا جو اکیلے اس مٹی کے ﮈھیر میں دفن ہے,ماں کسی کے پاس کوئی وقت ہی نہیں ہوتا ہے یہ سب سوچنے کا پر بس پھر بھی ہر انسان کو اسی مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے,,,کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو اس حقیقت سے دور رہ سکے اس مطلبی دنیا کے لوگوں پر یقین کرنا ہی انسان بڑی بھول سمجھتا ہے مگر کیا کریں یہ دنیا چند لوگوں کے لیے نہیں بنی ہے یہاں پر وہ بھی انسان رہتے ہیں جو خدا کے راستے پر اب تک چل رہے ہیں,,

عاشر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوۓ کھڑا ہوگیا,ماں یہ زندگی کا سفر بس یہ ہی ہے ہر روز نئے رشتے بنتے ہیں پر وقت آنے پر سارے رشتے دوست محبت سب کوئی اکیلا چھوڑ کر چلا جاتا ہے مگر اس لمبے سفر صرف ایک خدا ہی ہے جو ہر وقت ہمارے ساتھ ہوتا ہے وہ اپنے بندے کو اکیلا نہیں چھوڑتا مگر ہم انسانوں کا کیا ہے جب ٹھوکر لگتی ہے تب خدا کو یاد کرتے ہیں جب کہ وہ قرآن پاک جو خدا کا دیا ہوا تحفہ ہے جس میں لکھا ہے اے انسان تم خدا کو اپنی خوشی کے وقت یاد کر خدا تمہیں تمہارے برے وقت میں یاد کرے گا,,, عاشر اپنی بات پوری کرکے پیچھے مڑا اسنے دلاری کو دیکھا جس کے چہرے پر پریشانی کی لکیریں صاف ظاہر تھی,,,,

بیٹا تو کیا ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ جس سے موت نا آۓ اور ہمیشہ کے لیے زندھ رہا جا سکے…اسکی آواز میں بے بسی تھی,,

آپ اسلام قبول کرلیں….عاشر نے بے فکری سے اپنے الفاظ زبان پر لادئیے,,,

کیا,,,,دلاری اسے حیرانگی سے دیکھنے لگی,,,

ہم مسلمانوں میں ایک یقین ہے کہ ہم مرنے کے بعد قبر میں دبارہ زندھ ہوتے ہیں,

کیا تم لوگوں کو واقعی ڈر نہیں لگتا اس وقت سے

جب دنیا سے تمہاری آنکهیں بند کر دی جائیں گی

اور جب تم آنکهیں کهولو گے تو خود کو قبر میں پاو گے

دلاری اسے سوالیا نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی,,,

نہیں ﮈر کس بات کا جب من میں خدا بستا ہو,جب خود کو خدا کے سپرد کردیا ہو,جب اس اندھیری دنیا سے باہر نکل جائیں گے جب حق کی دنیا میں پہلا قدم رکھیں گے تو ﮈر کس بات کا,,

عاشر نے دلاری کو پریشانی والی حالت میں دیکھ رہا تھا,,وہ اسکے پاس گیا اور نیچے بیٹھ کر اسکے ہاتھوں پر ہاتھ رکھتے ہوۓ تسلی دینے لگا,,,

ماں کوئی زبردستی نہیں ہے اور نا ہی ہمارا اسلام کسی کو زبردستی سے اپنے مﺫھب میں آنے کے لیے نہیں کہتا,مگر اسلام میں ایک بات پکی ہے کہ انسان مرتا نہیں ہے بس وہ اس دنیا سے جا کر آخرت میں چلا جاتا ہے,جہاں سے ایک دوسری دنیا شروع ہوتی ہے اور شاید یہاں سے بھی بہتر پر وہ ان لوگوں کے لیے جو خدا کے بتاۓ ہوۓ راستے پر چل رہیں ہیں خدا کے احکامات کو پورا کر رہے ہیں,تو آخرت میں خدا اس دنیا سے بھی بڑھ کر اسے دیگا,یعنی سچی محنت کا اسے اچھا پھل ملے گا,,عاشر بات ختم کر کے صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور اسے دلاری کی آنکھوں میں الجھن واضع نظر آ رہی تھی,,

مجھے سوچنے کے لیئے وقت چاہیے اسنے غمگین آواز نکالی,,

ٹھیک ہے عاشر نے سر اثبات میں ہلایا,,

دلاری کچن میں جا رہی تھی…

ماں ہم کھانا نہیں کھائیں گے عدیل بھی سو رہا ہے اور مجھے بھی بھوکھ نہیں ہے,,

ٹھیک ہے بیٹا,,

*********************

مہرماہ کسی سے مل کر گھر واپس آئی اسکے چہرے پر ایک الگ ہی خوشی واضع تھی اسنے گھر میں جیسے ہی قدم رکھے تو کوئی نظر نہیں آیا وہ کچن میں گئی فرج سے پانی نکالا اور ہاتھ میں پوری بوٹل لیکے کمرے میں چلی گئی,,اسنے جیسے ہی اپنے قدم کمرے میں داخل کیے تو مما کی پشت نظر آئی,وہ پہلے ہی ایک تھپڑ کھا چکی تھی اب اسے مما سے ﮈر لگ رہا تھا,مگر وہ بھی مہرماہ خان تھی کسی سے کم نہیں اسنے بھی اپنے قدم آگے بڑھاۓ اور بغیر کچھ بولے منہ پھلا کر فوزیہ بیگم کے سامنے بیٹھ گئی,,

ناراض ہو ابھی تک,فوزیہ بیگم نے بات کا آغاز کیا,,

مہرماہ نے نظر انداز کرتے ہوۓ پانی کی بوٹل لبوں سے لگالی,,,

سوری بیٹا…اسنے کان پکڑ لیے,,

مہرماہ نے نظریں گھما لی,,

اپنی مما کو معاف نہیں کروگی,,سوری…..

وہ اب بھی خاموش تھی….

ٹھیک ہے جب تک سوری اکسیپٹ نہیں کروگی تب تک میں اٹھک بیٹھک کرتی ہوں,,فوزیہ بیگم یہ کہہ کر کان پکڑ کر اٹھ گئی,,,

مما…..مہرماہ اٹھ گئی اور اسکے گلے لگی,,آئم سوری مما…آئم سوری,

تم رو رہی ہو پاگل….فوزیہ بیگم نے اسے گلے سے الگ کرتے ہوۓ کہا,,

نہیں مما پتا نہیں کیا ہوگیا ہے مجھے, میں ایسی فیلنگ نہیں رکھتی تھی اور نا ہی کبھی سوچا تھا پر مما اب میں خود کو چاہ کر بھی نہیں روک پا رہی ہوں م.م.میں اسسے محبت کرتی ہوں میں کسی اور کے بارے میں تو….

چپ ہو جا شرم نہیں آتی مما سے ایسی باتیں کرتے ہوۓ,,فوزیہ بیگم مزاحیہ انداز میں بولی,,

ہاہاہاہا,, مما آپ بھی نا….مہرماہ لڑکھڑاتے ہوۓ بیﮈ پر بیٹھ گئی,,

بتاؤ وہ لڑکا کون ہے اور میں نے تمہارے پاپا سے بھی بات کرلی ہے وہ بھی راضی ہے کہہ رہا تھا جیسے مہر کی مرضی,,

مما آر یو سیریس….مہر چونک کر بولی…

ہاں بیٹا پر ہمیں ان کی فیملی کے بارے میں جاننا ہے پتا تو چلے کون ہیں کہاں کے ہیں,

مما سوری…مہرماہ نے کان پکڑے…

کیوں….

میں ابھی اسسے مل کر آئی ہوں وہ اور اسکے گھر والے کل یہاں آئیں گے…..

کیا…..ریحانہ بیگم ٹرے میں کھانا لیکے آئی اور مہر کی بات سن کر چونک گئی,,,,

چھوٹی ماں…آپ..

ہاں میں پر سوری ماں بیٹی کی باتیں سن لی….

ہاہاہاہا کوئی بات نہیں اور ویسے بھی ریحانہ تم بھی تو مہرماہ کی چھوٹی ماں ئی ہو,,,فوزیہ بیگم کھڑی ہوگئی,,

کل میری بیٹی کو لڑکے والے دیکھنے آ رہے ہیں اور تم اب بتا رہی ہو,,ریحانہ کھانا ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولی,,مہرماہ جوابًا مسکرائی,,

بھابھی آپ مہر کو کھانا کھلاؤ میں کل کی تیاری میں لگ جاتی ہوں,, ریحانہ بیگم فوزیہ سے مخاطب ہوئ اور کمرے سے باہر چلی گئی,,,

مہرماہ اور فوزیہ کھانا کھانے میں مصروف ہوگۓ,,

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *