Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 02)

Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon

آریان چاچو کے کمرے میں گیا روم کھلا ہوا تھا آریان اندر چلا گیا اور اسکے پاس بیﮈ پر بیٹھ گیا,,,

چاچو اٹھو مما بلا رہی ہے آریان اسکو جھنجوڑ رہا تھا عاشر کی آنکھ کھلی,,,

کیا ہے یار سونے دو نا عاشر نے پھر سے آنکھیں بند کی,,,,

چاچو مما ﮈانٹے گی اٹھو,,,,

ہہممممم,,عاشر ابھی تک سو رہا تھا,,

آریان باہر آگیا مما اسکو دکھی ہی نہیں سامنے عروسہ کھڑی تھی خالہ چاچو نہیں اٹھ رہا آریان نے عروسہ کو ہی بتادیا,,,

اچھا تو کمرے میں ٹیبل پر پانی پڑا ہے وہ عاشر بھائی کے اوپر ﮈال لو,,,

آریان بھاگتا ہوا گیا کمرے میں سامنے پانی کا جگ پڑا تھا آریان نے پورا جگ عاشر کے اوپر ﮈال لیا,,,

عاشر جلدی ہی کھڑا ہوگیا آریان کو دیکھ رہا تھا آریان ہنس رہا تھا,,,

آروو تجھے نہیں چھوڑوں گا آریان کمرے سے بھاگنے لگا اور عاشر بھی اسکے پیچھے آرہا تھا پر سامنے گیسٹ نظر آئے تو وہ وہیں رک گیا اور اپنا ہلیا دیکھا پھر دروازہ لاک کیا اور خود سے ہی بڑبڑانے لگا,,

یہ سب اس عروسہ چڑیل کا کیا دھرا ہوگا کیونکہ ایسی حرکتیں صرف اسے ہی سجھتی ہیں,,

عاشر نے الماڑی سے بلیک کلر کی شیروانی نکالی اور فریش ہونے کے لیۓ گیا,,,,

نیچے دلہن والے بھی آگۓ تھے رسمیں شروع ہوگئی تھی,,,

عاشر تیار ہوگیا تھا,,وہ ہاتھ میں گھڑی پہنتے ہوۓ کمرے سے باہر آ رہا تھا,,

وہ جیسے جیسے قدم آگے بڑھا رہا تھا تو کچھ لڑکیوں کی نگاہیں اپنے اوپر پڑتی ہوئی محسوس کر رہا تھا,,,

عاشر وہاں سے چلا گیا سامنے عروسہ کھڑی تھی,,,

سنو عروسہ,آروو کہاں ہے,,؟

آروو اپنی مما کے پاس ہوگا,,,

اچھا ٹھیک ہے عاشر وہاں سے چلا گیا,,,

عاشر…..!!!! کسی نے عاشر کو آواز دی,,,

عاشر نے پیٹھ پھیر کے دیکھا تو شہرناز کھڑی تھی,

جی بھابھی,,,,

آؤ عاشر میں تمہیں مہمانوں سے ملاتی ہوں,,

عاشر حیران ہو گیا,,,بھابھی میں,,,,

جی تم عاشر,,,

ٹھیک ہے,,,عاشر شہرناز کے پیچھے جانے لگا,,

سامنے کچھ گیسٹ کھڑے تھے شہرناز عاشر کو وہاں لے گئی,,

دیکھو چاچی رزمینہ یہ میرا دیور عاشر حسین,,,

السلام علیکم عاشر نے سلام کیا,,

وعلیکم السلام کافی اچھا ہے تیرا دیور شہرناز,,رزمینہ عاشر کی بلائیں لینے لگی,,

آؤ بیٹا یہاں ہمارے ساتھ بیٹھو..!! رزمینہ نے چیئر پر اشارہ کرتے ہوۓ کہا,,

جی,, جی میں عاشر گھبرا گیا,,

ارے آؤ بیٹھو,رزمینہ نے اسے پھر سے کہا تو عاشر منع نہ کر سکا اور بیٹھ گیا عاشر کے سامنے رزمینہ کی بیٹی بیٹھی تھی شہرناز اب عاشر کو اسکے بارے میں بتا رہی تھی,,,

عاشر ان سے ملو یہ میری کزن کرن ہے,,

ارے آپی آپ یہاں ہو امی بلا رہی تھی آپ کو,,پیچھے سے عروسہ کی آواز آئی,,

اچھا ٹھیک ہے میں آتی ہوں,,

نہیں آپی ضروری کام ہے ابھی جانا ہوگا,,

جاؤ شہرناز شاید ضروری کام ہوگا رزمینہ نے اسے جانے کو کہا,,

ہاں آپی جاؤ نا کام ہے,,

ارے بابا بس جاتی ہوں اب خوش شہرناز نے عروسہ کے گال پہ تھپکی لگائی اور موبائل اٹھا کے جانے لگی,

اچھا عاشر تم چاچی اور کرن کے ساتھ باتیں کرو میں آتی ہوں شہرناز نے جاتے جاتے عاشر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے بولی,,

عاشر پریشان ہوگیا اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے,,

عاشر کے پاس میں عروسہ کھڑی تھی جس نے عاشر کے کان میں سرگوشی کی,,

کیا حال ہے بھائی بڑے خوش نظر آرہے ہو,,

کیا مطلب عاشر نے حیرانگی سے عروسہ سے پوچھہ,,

کچھ نہیں عروسہ مسکرا کر وہاں بیٹھ گئی,,,

عاشر پھنس گیا تھا ان لوگوں کے بیچ,,

تو بیٹا کیا کرتے ہو آج کل رزمینہ نے عاشر سے سوال کیا,,

عاشر خود ہی بڑبڑانے لگا,اب یہ بھی عمر ہے کچھ کرنے کی,,,,

نہین آنٹی بس سٹﮈی عاشر نے نظریں اوپر لی اور سامنے مخاطب ہوا,

اچھا ہماری کرن بھی MBBS کر رہی ہے رزمینہ نے کرن کی طرف نظر ﮈالی جو ہر بات سے بے خبر بس موبائل پر لگی ہوئی تھی اپنے آپ مسکرا بھی رہی تھی,,

عروسہ گفتگو سن کر مسکرانے لگی,,,

عاشر نے عروسہ کو التجائی نظروں سے دیکھا,,یار کچھ کرو نا,,,اسنے دھیمی آواز میں عروسہ سے ہیلپ مانگی,,

عاشر رزمینہ کے سامنے مسکرانے لگا,,

میں کچھ تھوڑی کرنے والی,,ویسے جوڑی بڑی اچھی لگے گی,,,

عاشر دنگ رہ گیا اور عروسہ کو حیرت سے دیکھنے لگا,,,

عروسہ نے اپنی ہنسی روکی اور وہاں سے چلنے کے لیۓ اٹھنے لگی,,

عروسہ تم آنٹی کے ساتھ بیٹھو میں آتا ہوں ضروری کال آ رہی ہے عاشر نے excuse کرتے ہوۓ اپنی موبائل جیب سے نکالی اور جانے لگا,,,

عروسہ کے منہ سے ہنسی نکل گئی,,

عاشر نے دور آکے لمبی سانس لی,جیسے وہاں اسکا دم گھٹ رہا تھا,اسنے سامنے سے ایک ویٹر کو بلایا اور coldrink لی,,

عاشر اپنے قدم پیچھے کر رہا تھا,اسکے ہاتھ میں coldrink تھی,,وہ جیسے ہی پیچھے مڑا تو کسی لڑکی سے ٹکر ہوئی جس کے ہاتھ میں سیل فون تھا جو نیچے گر گیا اور ساری coldrink اس لڑکی کے اوپر گر گئی,,

عاشر اسے سوری بولنے ہی والا تھا کہ سامنے والی نے الفاظوں کی بارش کردی,اندھے ہیں کیا کچھ نظر نہیں آتا اپ کو,,

عاشر اسے بس دیکھتا ہی رہ گیا جیسے بس پوری محفل میں صرف وہ دونوں ہوں اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا بس نظریں سامنے ہی ٹکی تھی,,

اسکی آنکھوں میں coldrink چلی گئی تھی اور آنکھیں جل رہی تھی اور وہ بس اپنی آنکھیں بند کیۓ بس عاشر کو سنا رہی تھی,,

آئم سوری عاشر معذرت کرنے لگا اور نیچے جھک کر اسکا فون اٹھانے لگا,,,

سامنے والی عاشر کا چہرا نہ دیکھ پائی بس وہ اپنی آنکھوں کو مسل رہی تھی,,اوفففف اللّٰه پتا نہیں صبح صبح کس کا چہرا دیکھا تھا جو یہ حشر ہوگیا,,

ائم سوری یہ اپکا فون عاشر اسکے ہاتھ میں دیا,,

کیا سوری خدا نے اتنی قیمتی دو آنکھیں دیکھنے کے لیۓ دی ہے اسکو استعمال نہیں کرسکتے وہ غصے میں بول رہی تھی اور عاشر کے ہاتھوں سے فون چھین لیا,,,

ہاں تو میں اب بھی آپ کو ہی دیکھ رہا ہوں,عاشر نے اپنا نچلا ہونٹ اپنے دانتوں کے نیچے دباتے ہوۓ کہا,اور چہرے پر ایک شرارتی مسکراہٹ سج گئ,,,

اتنے میں کسی نے اس لڑکی کو آواز دی ,,

وہ لڑکی پیچھے مڑی,اسکے آنکھوں کے آگے دھندلاہٹ چھا گئی تھی,,,

ارے دیکھ نا یار پتا نہیں کس پاگل سے ٹکر ہوگئی ایک تو فون ٹوٹ گیا اوپر سے اسنے پوری cooldrink میرے سر پہ گرا دی ,,اب میرے بال اور آنکھیں……وہ جہنجھلاہٹ سے بول رہی تھی,,

چھوڑو اسے تم چلو واشروم میں جاکے صاف کرو,دونوں جا رہی تھی,,

عاشر نے انہیں آواز دی excuse me,,,

دونوں رک گئی,,,

جی…!! دوسری لڑکی نے عاشر کی طرف دیکھا,,

وہ یہاں سے رائٹ جانا پہر سامنے ایک روم ہوگا,اگر چاہو تو آپ لوگ وہاں جا سکتے ہو عاشر نے انہیں ایک کمرے کا راستہ بتایا,,

وہ لڑکی عاشر کو دیکھتی ہی رہ گئی اور جسے عاشر کی نگاہیں دیکھ رہی تھی اس نے اپنے پاؤں پٹک دیۓ اور وہاں سے جانے لگی

ارے یار رکو تو میں چلتی ہوں وہ بھی اسکے پیچھے چلنے لگی

سن تو یار وہ لڑکا کون تھا بڑا handsome لڑکا تھا,,,

اب مجھے کیا پتا اس احمق کے بارے میں میری آنکھیں جل رہی تھی اور مجھے کوئی شوق نہیں ہے کسی کو دیکھنے کے لیۓ,, وہ دونوں آپس میں باتیں کرتے ہوۓ چلی گئی پر عاشر ابھی بھی انہیں دیکھ رہا تھا,,

چاچو,,,,,

عاشر جو اپنے حواس کھو بیٹھا تھا آروو کے بلانے سے اسکے خیالوں کا تجسس ٹوٹ گیا,,,

جی میری جان کہاں تھے تم تجھے پتا ہے چاچو نے کتنا مس کیا عاشر نے آروو کو اٹھایا اور اسکے گال پہ kiss کی,,,

چاچو مجے آئستریم کھانی ہے,,

اچھا جی آئسکریم کھانی ہے تبھی چاچو یاد آیا بدمعاش,,,

چاچو چلو نا,,,

اچھا ٹھیک ہے بابا چلتے ہیں عاشر آروو کو لیکے باہر چلا گیا,,

گھر میں سب رسمیں ہو گئی تھی کل فاروق کا نکاح تھا,,

سارے مہمان چلے گۓ,, آدھے گھنٹے بعد عاشر آروو کے ساتھ آیا اور اسکے ہاتھوں میں آئسکریم کا بڑا پیکیٹ تھا,,,

وہ ہال میں داخل ہوا آروو بھاگتا ہوا نانی کے پاس گیا اور عاشر نے عروسہ کو آواز دی,,

چھوٹی,,,,,

عروسہ آگے بڑی جی بھائی,,

یہ لو سب میں تقسیم کرو میں اور آریان باہر سے ہی کھا کے آئیں ہیں عاشر پیکیٹ عروسہ کو پکڑاکر بولا,,,

ہمم ٹھیک ہے اور عروسہ کچن کی طرف گئی,,,

سنو عروسہ.عروسہ پیچھی مڑی کیا ہے اب اسنے تھکاوٹ والے لحجے میں کہا,,,

وہ سارے گیسٹ چلے گئیں کیا…

ہاں چلے گئیں عروسہ نے جواب دیا,,,

مطلب سارے چلے گئیں,,

نہیں آپ کے سسرال والے نہیں گۓ وہ کمرے میں آپ کا انتظار کر رہیں ہیں,,,عروسہ غصے میں بول رہی تھی,,,

ہاہاہاہاہاہا پاگل لگتا ہے کہاں سے ﮈانٹ پڑی ہے تجھے

کیا بھائی تم بھی صبح سے یہ کام وہ کام بہت تھک گئی ہوں اور اب بھی آپ نے یہ پکڑا دی اسنے آئسکریم کی طرف اشارہ کیا,,تو غصہ نہیں آئیگا

ہاہاہاہاہاہا چلو جاؤ بعد میں آرام کرلینا,,

عاشر کمرے میں چلا گیا اور آئینے میں خود کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا,,,اتنے میں فاروق واشروم سے نکلا عاشر کو ایسے دیکھ کر حیران ہوگیا,,,

وہ آگے بڑا اور عاشر کے کندھے پر ہاتھ رکھا,,,اوۓ کس کے خیالوں میں گم ہو…!!!؟

عاشر کی مسکراہٹ چلی گئی اور آئینے سے فاروق کو دیکھا وہ پیچھے مڑا,,نہیں یار کچھ نہیں ویسے تو بتا تیرا دن کیسا گیا,,,,

میرا تو بہت برا پتا ہے میری ہونے والی سالیوں نے پورا کنگال کر دیا ہے فاروق بیﮈ پر لیٹ گیا,,

ہاہاہاہاہا کنگال مطلب,,عاشر نے ہنستے ہوۓ کہا.

یار بس مت پوچھ ہر رسم میں ان لوگوں نے میری جیب خالی کروائ ہے,,

ہاہاہاہاہاہاہاہا بس اتنی سی بات عاشر نے قہقہ لگایا,,

تجھے یہ اتنی سی بات لگتی ہے کل نکاح اور رخستی پر دیکھنا پورا غریب بنا دیگیں وہ لوگ,,

اچھا اب تو میں سو رہا ہوں تھک گیا ہوں,,فاروق نے اپنی آنکھیں بند کردی,,

سنو کل تیرے نکاح پر سارے لوگ آنے ہیں عاشر نے پوچھا,,

ہاں نا سب آئیں گے فاروق جواب دیکے سو گیا,,

عاشر بھی پاس میں بیٹھ گیا اور آنکھیں بند کرکے کچھ سوچنے لگا,,

چند لمحوں بعد اسکے کانوں میں ایک آواز گونجی عاشر کو ایک جھٹکا لگا اور ایک ہی پل میں آنکھیں کھول لی سامنے دیکھا تو کوئی نہیں تھا نہ ,اسنے اپنا موبائل اٹھایا اور خود کو دیکھ کر مسکرانے لگا پھر آرام سے لیٹ کر سو گیا

_____________

شادی کا ماحول ہے اور تم ابھی تک سو رہے اٹھو آروو کے پاپا بہت کام ہے,شہرناز کے ہاتھ میں چاۓ تھی وہ عشارب کو اٹھا رہی تھی,,,

ارے سونے دو نا ناز,,,,

اٹھتے ہو یا نہیں,,,

نہیں میں نہیں اٹھنے والا,,اسنے تکیہ اٹھا کر اپنے منہ پر رکھ دیا,,

شہرناز نے چاۓ نیچے کی اور عشارب کی انگلی چاۓ میں ﮈالی,,,عشارب کو جھٹکا لگا اور اپنی انگلی منہ میں ﮈال لی,,,

ہاہاہاہاہاہاہاہا شہرناز ہنس رہی رہی تھی عشارب نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اپنے پاس کھینچا,,,,

شہرناز ہاتھ چھڑا کر باہر جانے لگی,,,,,

چاۓ پی لینا اور تیار بھی ہوجانا شہرناز دروازے تک پہنچ کر عشارب کو کہا,,

__________________

شام ہوگئی تھی فاروق تیار ہورہا تھا سب لوگ ایک ساتھ بیٹھے تھے بس عاشر نظر نہیں آرہا تھا,,

آریان چاچو کہاں ہے عشارب آریان سے پوچھ رہا تھا,,

جیجو وہ شاید باہر گیا ہے کام سے عروسہ آریان کے ساتھ کھڑی تھی اسنے عشارب کو جواب دیا,,

اچھا پر اس وقت عاشر کو کیا کام ہوگا,,,

خیر جب وہ آجاۓ تو روم میں بیجھ دینا,,

ٹھیک ہے جیجو,

عشارب اپنے کمرے میں گیا,,

بھائیجان جلدی کرو نا میری ہونے والی بھابھی آپکا انتظار کر رہی ہوگی, شہرناز نے دروازے پر دستک دی اور فاروق سے مخاطب ہوئی,,

جی میری بہنا میں تیار ہوں فاروق نے مسکرا کر کہا,,

اوووہو بڑی جلدی ہے تمہیں شہرناز نے فاروق کے کان کھیچنے لگی,,

آپی چھوڑو نا اتنا بڑا ہوگیا ہوں آپ اب بھی میرے کان کھیچ رہے ہو,,

کیوں بھئی کیوں میرے لاﮈلے کو تنگ کر رہی ہو شہرناز نے پیچھے دیکھا تو امی جان کھڑی تھی,

امی دکھو نا اپنی بیٹی کو اتنا بڑا ہو گیا ہوں اب بھی کان کھیچ رہی ہے,فاروق نے امی سے شکایت کی,

کتنا بڑا ہوگیا ہے نا توں امی نے فاروق کو دیکھا اور آنسوں نکل آئیں,,

فاروق امی کے گلے لگ گیا,,,

ارے امی فاروق شادی کر کے یہیں رہےگا اپنے سسرال تھوڑی نا جانا ہے اسے جو آپ رو رہے ہو شہرناز ہنس رہی تھی,,

آپی جیجو بلا رہا ہے اتنے میں عروسہ شہرناز کو بلانے آئی,,

ہممم جا رہی ہوں,,, بھائی آپ باہر آجانا بس ہم چلنے ہی والے ہیں امی تم بھی چلو بات کرنی ہے آپ سے,

بیٹا تم جاؤ پہلے عشارب بلا رہا ہے مجھ سے بعد میں بات کر لینا امی نے چیئر پر بیٹھتے ہوۓ کہا,,,

اوکے امی جان شہرناز جانے لگی,,,

یہ کیا ہے عاشر…؟

شہرناز کمرے سے باہر نکلی تو لائونج میں عاشر سے ٹکر ہوئ اور نیچے عاشر کے ہاتھوں سے ایک باکس گر گیا شہرناز نے وہ اٹھایا اور عاشر سے سوال کرنے لگی,,,

کچھ نہیں بھابھی وہ تو بس,,,عاشر کے منہ سے الفاظ نکلنا بند ہوگۓ,,,اور چہرا پانی پانی ہوگیا جیسے کسی نے اسکی چوری پکڑلی ہو,,

کیا وہ تو بس,,میں کھول کر دیکھتی ہوں شہرناز کھولنے لگی,,

نہیں بھابھی یہ تو چھوٹی کی ring ہے وہ ٹوٹ گئی تھی تو اسنے بنوانے کے لیۓ دی عاشر نے باکس لے لیا,,

میری ring..؟ عروسہ جو ہاتھوں میں پھولوں کی ٹوکری لیکے جارہی تھی اور عاشر کے منہ سے اپنا نام سن کر اسسے پوچھنے لگی,,

ہاں تیری صبح ہی تو کہہ رہی تھی بناوا کے لاؤ,,

عروسہ حیرانگی سے عاشر کو دیکھنے لگی,,,ارے بھائی مینے کب,,,

ہاں یہ پکڑو اپنی Ring عاشر نے عروسہ کی بات کاٹ دی اور اسکے ہاتھوں میں باکس دے دیا اور التجائی نظروں سے گھور رہا تھا,,,

عروسہ سمجھنے لگی ضرور کچھ ہے تو اسنے چپ چاپ box لے لیا اور وہاں سے چلنے لگی,,

شکریا بھائی وہ جاتے جاتے عاشر کو شکریا کہہ گئی,,

شہرناز کو پہلے شک ہوا پھر سوچا عروسہ کی ہی ہوگی ring اور وہاں سے چلی گئی,,

عاشر نے لمبی سانس لی اور سر پر ہاتھ رکھ صوفے پر بیٹھ کر کچھ سوچ رہا تھا,,

آگئی تم,,,

ہاں جی بتاؤ کونسا کام تھا جو اتنی جلدی بلایا

عشارب نے اپنا دہیان لیپٹاپ سے ہٹایا اور نظریں اٹھا کر شہرناز کی طرف دیکھنے لگا…

ایسے کیا دیکھ رہے ہو بولو نا شہرناز اپنے ہاتھ باندھ کر کھڑی تھی,,

کیوں اپنی بیگم کو اب دیکھ بھی نہیں سکتا,,,

نہیں نہیں بلکل دیکھ سکتے ہو کہو تو لیپٹاپ کی جگہ میں آپ کے سامنے بیٹھ جاؤں,,,

اوففففف نیکی اور پوچھ پوچھ

عشارب کھڑا ہوگیا اور شہرناز کو اپنی بانہوں میں قید کرلیا

مما…..!!!

آریان جو دروازے پر کھڑا تھا اور مما کو پکارا,,

جی بیٹا,,شہرناز کی ہنسی نکل گئی,

عشارب بھی نظریں چرا کر لیپٹاپ اٹھانے لگا,,

کیا ہوا میری جان شہرناز گھٹنو کے بل نیچے بیٹھ گئی اور آریان سے مخاطب ہوئی,,

نانو بلا رہا ہے گاڑی بھی آگئ ہے مما چلو ہم گاڑی میں بیٹھیں,,,

ہاں جی چل رہے ہیں,,

عشارب جلدی کرونا وہاں لوگ ہمارا انتظار کر رہیں ہے بھابھی بھی تیار ہوگئی ہے,,

ہاں میں تیار ہوں ویسے کہہ رہا تھا سامان پیک کرلو ہم نکاح کے بعد گھر چلیں گے ایک کلائینٹ کے ساتھ ضروری میٹنگ ہے,,,

اچھا ٹھیک ہے میں امی کو بتاتی ہوں,,,

ہمممم شہرناز جانے لگی,,

بیٹا کہاں چلی گئی تھی سب تیار ہوگئیں ہیں اور دلہن والوں کا فون بھی آگیا ہے مینے کہا ہم نکل گئیں ہیں,,

اچھا بابا بس آپ سب گاڑی میں بیٹھو میں عشارب اور عاشر کو لیکے آتی ہوں,,,

عاشر فاروق کے ساتھ کار میں ہے,,,تم لوگ جلدی آؤ,,,

ہاں جی بابا بس آئی,,

_______________

ششششش…

کیا ہے بھائی

چلا کیوں رہی ہو محلے کو اکٹھا کرنا ہے کیا,

اب گاڑی میں محلا کہاں سے آیا عروسہ اپنا ﮈوپٹا سمبھالتے ہوۓ بولی,,,

سنو وہ Ring دے دو عاشر پیچھے والی سیٹ پر بیٹھا تھا جب کہ عروسہ عاشر کے آگے والی سیٹ پر بیٹھی تھی وہ عروسہ سے سرگوشی میں بات کر رہا تھا

کونسی Ring,,,

یار مزاک چھوڑو نا ring دے دو,,

پہلے ایک وعدہ کرنا ہوگا پھر دوں گی,,,,

اچھا بتا کیا کرنا ہوگا مجھے,,

پوری کہانی بتانی پڑے گی اس ring کی ورنہ ہاتھ دو بیٹھنا کیونکہ اب یہ میرے پاس ہے عروسہ نے پرس سے box نکال کے عاشر کو دکھایا,,

عاشر نے جلدی وہ box عروسہ کے ہاتھوں سے چھین لیا,,, اور زور زور سے ہنسنے لگا,,

بھائی,,,,,,عروسہ چڑچرے منہ سے عاشر کو دیکھنے لگی,,,

میں ابھی آپی کو بلاتی ہوں,,,

ہاہاہاہاہاہاہا بھابھی یہاں ہے ہی نہیں اسکو مینے car میں بٹھایا اور میں یہاں چڑیل کے قید سے اپنی قیمتی چیز کو آزاد کرنے کے لیۓ آگیا ہاہاہاہاہاہا پوری گاڑی میں عاشر کے قہقے گونج رہے تھے,,,

کیا ہوا ہے عاشر بیٹا اتنا کیوں ہنس رہے ہو ,,شہازیب خان نے عاشر کی ہنسی دیکھ کر کہا,,,

نہیں انکل بس ایسے ہی,,,عاشر نے اپنی ہنسی روک لی,,,

____________________

آدھے گھنٹے بعد گاڑیاں رک گئی سب نیچے اترے دلہن والوں نے سب کا اچھے سے استقبال کیا اب سب ایک بڑے ہال میں اندر داخل ہونے لگے,,

پورا ہال روشنیوں اور قمقموں سے جگمگا رہا تھا اور ہر طرف اور ہر طرف گلاب کے پھول بکھرے ہوۓ تھے,پورے گھر کو شادی کے حساب سے سجایا گیا تھا اور سامنے ہی اسٹیج ترتیب دیاگیا تھا,جسے نہایت نفاست,جدت اور خوبصورتی سے آرائش کیا گیا تھا,,

عاشر جیسے ہی اندر داخل ہوا لڑکیاں انھیں گھور رہی تھی,,

بلیک شیروانی سفید شلوار اور بالوں میں اور ﮈمپل والی مسکراہٹ سے تو اسکی شخصیت کافی نکھار رہی تھی,,

ہر طرف خوشی کا ماحول تھا سب لوگ اپنی اپنی خوشی میں مگن تھے عاشر جیسے جیسے آگے بڑھ رہا تھا اسکی مسکراہٹ دور ہوتی جا رہی تھی, وہ چاروں طرف دیکھ رہا تھا جیسے اسکی آنکھیں کسی کی منتظر ہوں اسکا دل کسی کو پکار رہا ہو وہ خود کو اتنی بڑی محفل میں بھی تنہا محسوس کر رہا تھا,

عاشر چلو کہاں کھوۓ ہوۓ ہو,,

فاروق نے عاشر کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اپنے ساتھ اسٹیج پر لے گیا,اسٹیج کے بیچ ایک لال کلر کا پڑدہ لگا ہوا تھا اور ایک سائیﮈ دلہن بیٹھی ہوئی تھی جسنے گولﮈن کلر کا فراک ہاتھ اور پاؤں میں مہندی اور لمبا گھونگھٹ اوڑھ کر رکھا تھا,,,

فاروق اسٹیج پر پہنچا اور ایک نظر اپنی ہونے والی دلہن( انجم خان) پر ﮈالی اور مسکرا کر آگے بڑھا,,

رسم کے مطابق نکاح ہونے کے بعد بیچ والا پڑدہ ہٹ گیا اور دلہن کا گھونگھٹ بھی اٹھایا گیا,,سب لوگ فاروق اور اسکی بیوی انجم کی بلائیں لے رہے تھے جوڑی بہت پیاری لگ رہی تھی,,

چند لمحوں بعد رخستی کا وقت ہوگیا سب لوگ جانے لگے فاروق اور انجم کار میں بیٹھ گۓ,,

امی اب ہمیں بھی جانا ہوگا,میں جانا تو نہیں چاہتی پر عشارب کی ضروری میٹنگ ہے جانا پڑے گا شہرناز امی سے اجازت لے رہی تھی,,,

کیا بیٹا اتنے دنوں بعد آئی ہو وہ بھی بھائی کی شادی کے بہانے, پر اب جانے کا بھی کہہ رہی ہو امی ناراض ہوگئی,,

ارے نہیں امی میں پھر کبھی چکر لگاؤں گی نا,

ارے بچی کہہ رہی ہے تو مان جاؤ نا عشارب کی واقعی ہی ضروری میٹنگ ہے,,

ہاں بابا جان آپ ہی سمجھاؤ اب امی کو,,,

اچھا ٹھیک شہرناز تم جاؤ,,

پکا نا امی,,غصہ تو نہیں ہو نا,,

نہیں ہوں بچا تم جاؤ بھلے امی نے شہرناز کو گلے لگایا,,

اچھا ٹھیک مما میں آروو کو لیکے آتی ہوں شہرناز نے اپنے قدم آگے بڑھاۓ اور دیکھا تو آروو عشارب کے ساتھ آرہا تھا آروو نانی سے مل لو ہم لوگ اپنے گھر چل رہیں ہیں,,

نانی نے آریان کو اٹھایا اور پیار کرنے لگی,,,,,,

عشارب نے سامان اٹھایا باباجان اور امی جان سے ملکے باہر گاڑی کی طرف چلے گۓ

عاشر کہاں کھوۓ ہوۓ ہو طبیعت تو ٹھیک ہے نا,,عشارب عاشر کا اداسی والا موﮈ دیکھ کر پریشان ہوگیا

ہاں بھائی میں ٹھیک ہوں,,

ہممم وہ تو دیکھ رہیں ہیں کب سے کے توں ٹھیک ہے,,عشارب مسکرانے لگا,,

عاشر نے بھی مسکرہ دیا

ابے اب ایسے ہی مسکراتے رہو گے یا گاڑی بھی سٹارٹ کروگے,, کب سے بیٹھ کر تمہیں ہی دیکھ رہا ہوں وہاں پیچھے دیکھ تیرا بھتیجا اور بھابھی سو بھی گۓ ہیں,,اور تمہارا تو پتا ہی نہیں ہے,,,

سوری بھائی عاشر نے ہنستے ہوۓ معذرت کی اور گاڑی سٹارٹ کردی,,,,

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *