Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 14)

Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon

وہ کمرے میں بہت سکون کی نیند سو رہی تھی,فوزیہ بیگم کمرے میں داخل ہوئی,,

مہرماہ بیٹا ابھی تک سو رہی ہو اٹھو یونی جانا ہے اور تمہارے پاپا بھی بلا رہا ہے,,,فوزیہ بیگم نے مہرماہ کے منہ سے چادر اٹھائی,,,

مما تھوڑی دیر سونے دو نا….مہرماہ نے چادر دوبارہ لپیٹ لی,,

ار بیٹا اٹھو کپڑے نکال کے رکھے ہیں تم جلدی تیار ہوجاؤ نو بج چکے ہیں,,,,مما نے پھر سے مہرماہ کو اٹھانے کی کوشش کی,,

کیا….نو….بج گۓ اوہ گاﮈ ساﮈے نو کا ٹائیم ہے اب تیار کیسے ہونگی,,اور پیکنگ……مہرماہ جلدی سے اٹھ گئی اور پریشانی کی حالت میں سر پر ہاتھ اکھ دیا,,,

تم پریشان نا ہو مینے ساری پیکنگ کردی ہے تم بس جلدی سے تیار ہوکے نیچے آؤ,,,

***************************

عاشر نماز کے بعد سویا ہی نہیں تھا بس بڑی بے صبری سے سورج نکلنے کا انتظار کر رہا تھا,,,جب سورج کی ہلکی سی کرنیں محسوس کی اور پنچھیوں کی آواز اسے گارﮈن میں سنائی دی تو وہ خوبصورت سی مسکان سجاۓ کھڑکی کھول کے باہر کا جائزا لینے لگا….

***

عاشر سفید قمیص اور بلیک شلوار زیب تن کیۓ نیچے آگیا,,اور ناشتہ کرنے کے لیۓ ﮈرائینگ ٹیبل پر بیٹھ گیا,,,

عاشر تم کہیں جا رہے ہو,,,

جی بھابھی کل یونی سے فون آیا تھا کسی خاص پروگرام میں مجھے انوائٹ کیا ہے,,,

ہمممم ٹھیک ہے پر کب تک لوٹو گے…..شہرناز کافی کا کپ آگے رکھ کر بولی,,,

بھابھی ٹائیم کا تو پتا نہیں ہے کیونکہ ایک کلاس بھی ہوگی آج,,,

کیوں….کلاس کیسی تمہارے تو ایگزامس بھی ہو چکے ہیں,,,

ہاں بس بزنس کے بارے کچھ لیکچر ہوگا,,عاشر اپنے بالوں میں انگلیاں پھیر کر بولا,,,

اچھا…ٹھیک ہے,,,پر اگر سویرے آؤ تو آروو کو سکول سے لیکے آنا…

دیکھتا ہوں بھابھی اگر سویرے آیا تو لیکے آؤں گا,,,

ہمممم شہرناز نے مختصر جواب دیا,,,

عاشر نے بیگ اٹھائی…اوکے بھابھی میں چلتا ہوں,,عاشر آخری الفاظ نکال کر چلا گیا

***************************

Good Morning papa….

مہرماہ تیار ہوکے نیچے آئی اور پاپا سے مخاطب ہوئی…..

آؤ بیٹا جلدی میں تمہارا ہی ویٹ کر رہا تھا,,,

پاپا آپ بھی چل رہے ہو.,,,مہرماہ نے پاپا کے پاس میں بیٹھتے ہوۓ کہا,,,,

نہیں بیٹا میں کورٹ جا رہا ہوں اور تجھے ﮈراپ کروں گا,,,

ہممم ٹھیک ہے پاپا….چلیں,,مہرماہ کھڑی ہوگئی,,,

اور تم نے پیکنگ کر لی,کیونکہ شام تمہیں یونی سے ﮈاریکٹ ایئرپورٹ چلو گی,,

ہاں ٹھیک ہے پر پاپا میں اکیلی جاؤں,,,مہرماہ کے چہرے پر اداسی چھا گئی,,

بیٹا پنکی کو تنہارے ساتھ بیجھتا پر گھر اکیلا ہوجاۓ گا نا تم بھی جاؤ گی,,,پر دکھی نا ہو مینے حماد کو کہہ دیا ہے وہ تمہیں پک کرنے آجاۓ گا,,,

Alright papa love you….

مہرماہ پاپا کے گلے لگ گئی,,,

Love you too my princess….

سارا پیار پاپا کے لیۓ جیسے مما تو ہے ہی نہیں,,,فوزیہ بیگم انہیں دیکھ کر منہ پھلانے لگی,,

اوہ پاپا دیکھو اپنی وائیف کو کتنی جلن ہو رہی ہے پاپا بیٹی کا پیار دیکھ کر,,مہرماہ ہاتھ باندھے ایک آنکھ بند کرکے مزاحیہ انداز میں بولی,,,

شرم نہیں آتی,,,مما نے تیکھی نظروں سے دیکھا,,

اممم ہممم….مہرماہ نے منہ بند کرکے صرف سر ہلایا…

آفتاب خان دونوں کو دیکھ کر مسکرانے لگے,,,

اوہ تو میری مما غصہ ہوگئی,,مہرماہ آگے بڑھی مما کو پیچھے سے ہگ کیا,,,

سوری مما مزاق کر رہی تھی,,

اسٹس اوکے ماۓ سئیٹ ہرٹ,,,

اور پاپا آپ اکیلے نا آنا مجھے لینے موٹی اور مما کو ساتھ لانا پھر ہم ﮈنر کرکے بعد میں جائیں گے….

ٹھیک ہے بیٹا بہت لیٹ ہو گئی ہے اب چلو….

اوہ ہاں عاشر کے بھی میسجز آ رہے ہیں…مہرماہ دھیمی آواز میں بولی اور جلدی سے بیگ اٹھا کر پاپا کے ساتھ چلی پڑی….

***************************

مہرماہ یونیورسٹی میں اندر داخل ہوئی دیکھا تو تقریبًا سب لوگ آگۓ تھے, پورا گراؤنﮈ ہلکی ہلکی روشنیوں سے جگمجا رہا تھا,مہرماہ نے قدم آگے بڑھاۓ سنہا اور طارق کے شادی کی ﮈیٹ بھی فکس ہوگئی تھی تبھی وہ دونوں نہیں آۓ تھے,مہرماہ نے موبائل نکالا دیکھا تو چارج ختم تھی اسنے واپس غصے سے موبائل پرس میں رکھ دیا….

مہرماہ تم کب آئی….مہرماہ نے عدیل کی آواز سنی تو پیچھے مڑی یار اتنا سناٹا کیوں ہے,,مہرماہ اسٹیج کی طرف اشارہ کیا…

ارے کچھ نہیں یار بس اندر میٹنگ چل رہی ہے پروگرام کچھ گھنٹوں بعد شروع ہوگا….

کیا….وہ چونک گئی…تو یہ عاشر مجھے بار بار میسجز کیوں کر رہا تھا,,

ہاں اسے تم سے ضروری بات کرنی تھی تم اسسے ضرور ملنا..

ٹھیک ملوں گی,پر کتنی بورنگ ارینجمینٹ کی گئی ہے,,,یار اسٹیج پر چل مجھ سے یہ ماتم ٹائیپ پروگرام برداشت نہیں ہو رہا ہے,,,مہرماہ نے عدیل کے ہاتھ کو کھینچ کر سامنے چلی گئی,,

عدیل کے گلے میں کیئمرا لٹک رہا تھا مہرماہ نے سامنے پڑا مائیک اٹھایا,,,

گﮈ آفٹر نون ایوریون……مہرماہ نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا..!!

بینﮈ کی آواز آنے لگی سب لوگ مہرماہ کا نام لیکے چلا رہے تھے,,

ششششش…..مہرماہ نے انگلی ہونٹوں پر رکھ کر سب کو خاموش کرانے لگی,,,

پھر بھی اسکے نام کے نعرے لگنے لگے,,,

مہرماہ نے مائک ہٹا کے عدیل سے بات کرنے لگی…یار عدیل جیسے یہ لوگ چلا رہے ہیں مجھے لگتا ہے یہ لوگ میری میٹھی آواز سسنے کے لیۓ بیتاب ہیں…..

تو گاؤ نا….عدیل نے ہنسی کو ضبط کرکے کہا…

اگر یہاں مینے گانا شروع کیا تو پنچھی بھی اڑ کے بھاگ جائیں گے….

ہاہاہاہاہاہا یہ تو مجھے پتا ہے عدیل نے ہنستے ہوۓ کہا….

ارے ارے میں گانا نہیں گاؤں گی مجھے گانا نہیں کھانا آتا ہے پھر بھی اتنی عزت دینے کا بہت شکریہ….مہرماہ نے سر جھکایا

یہ تو سب کو پتا ہے بکھڑ کچھ نیا بتاؤ…عدیل نے اسکی مائک چھین کر سب کے آگے ہنستے ہوۓ بولا…..

سب لوگوں کے ہنسی کے مارے قہقے گونجنے لگے,,,

مہرماہ نے عدیل کے ہاتھوں سے مائک چھینی اور سب سے باتیں کرنے میں مصروف ہوگئی….

مہرماہ کی باتوں سے ماحول کافی خوشگوار ہوگیا اور موسم بھی کافی اچھا ہوگیا تھا لوگوں کو ہلکی ہلکی سردی بھی محسوس ہونے لگی…

اچانک پیچھے سے عاشر ایک گٹار لیکے آیا سفید قمیص بلیک شلوار ساتھ میں ہمیشہ کی طرح بلیک گھڑی بھی پہنی ہوئی تھی,,اور ﮈمپل والی مسکراہٹ کے ساتھ وہ اور بھی حسین لگ رہا تھا, لڑکیوں کے تو اسکو دیکھ کر منہ کھل گۓ,,

مہرماہ عاشر کے پاس آگئی,دیکھو تو کیسے گھور رہی ہیں تمہیں یہ لڑکیاں,,

تمہیں جلن ہو رہی ہے کیا,,,عاشر نے نظریں گھما کر اسے دیکھ رہا تھا….

مسٹر اس غلطفہمی سے باہر نکل جا کہ مجھے جلن ہوگی,,ہاہاہاہاہا مہرماہ ہنسنے لگی…

عاشر کے چہرے سے خوشی کی مسکان غائب ہوگئی,,,

مہرماہ کی بات سن کر عدیل عاشر کے برابر آکے کھڑا ہوا…اداس نا ہو یار یہ سمجھ جاۓ گی اور تمہارا آخری دن ہے یہاں پر سو جس مقصد کے لیۓ یہاں پر دو سال گذارے ہیں آج اسکا حساب وصول کرکے رہنا….عدیل نے ایک آنکھ بند کرلی…

سنیۓ……مہرماہ چلانے لگی…آپ کو تو پتا ہی ہے ہمارا لاسٹ سیمسٹر ختم ہوگیا ہے اور اس خاص فنکشن کی شان بڑھانے کے لیۓ آپ کی اس یونیورسٹی میں ہماری اینٹری ہوئی ہے,,,

لوگوں نے ہنستے ہوۓ تالیاں بجانے لگے,,

تو اس خاص دن کا آغاز یہ کنؤاں کاں کاں کرے گا…اسنے عاشر کے طرف اشارہ کیا…

عدیل ہنس ہنس کے لوٹ پھوٹ ہو رہا تھا عاشر کھا جانے والی نظروں سے مہرماہ کو گھور رہا تھا,,,

گھورو مت یہ مائک پکڑ اور شروع ہوجا,,,مہرماہ نے اسکے ہاتھوں میں دے دی…

یار مجھسے اچھی آواز تمہاری ہے تم گا لو میں گٹار بجالیتا ہوں,,,

پھر سے چاروں طرف مہرماہ عاشر کے نام کے نعرے لگنے لگے,,

عدیل نے بھی مہرما کو سنگنگ کرنے کے لیۓ فورس کیا,,

مہرماہ مجبوراً مائک آگے کرکے کھڑھی ہوگئی,,,

عاشر بھی پاس آگیا,,,اور مہرماہ عاشر ایک ساتھ نام سن کر مسکرانے لگا,,,

مہرماہ نے سانگ سٹارٹ کیا عاشر بھی گٹار بجانے لگا,,,

میٹنگ ختم ہوگئی تھی عاشر اور مہرماہ کی وجہ سے وہ غمگین ماحول خوشی میں تبدیل ہوگیا سب لوگ بہت انجواۓ کرنے لگے,,,

آفسرس باہر آۓ اور سارے سٹوﮈنٹس رسپیکٹ سے کھڑے ہوگۓ…

عاشر اور مہرماہ اب بھی اسٹیج پر تھے پرنسپال سر نے انھیں کنٹینیو کرنے کو کہا,,

سونگ ختم ہونے کے بعد سارے اسٹوﮈنٹس نے کھڑے ہوکے تالیاں بجائی…..

پرنسپال اسٹیج پر آگیا,,,

مہرماہ کو لگا سر اس پہ بہت غصہ ہوگا اس لیۓ گھبراہٹ کے مارے عاشر کا ہاتھ پکڑ لیا……

عاشر اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں دیکھ کر چونک گیا,,,,,سر نے مہرماہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور عاشر کا بازو تھپتھپانے لگا,مہرماہ نے لمبی سانس خارج کی,,,

تھینکیو سر دونوں نے ایک ساتھ آواز نکالی اور نیچے اترنے لگے,,,

سر نے دونوں کو جانے سے روکا,,,مہرماہ خان,اور عاشر حسین کہاں جا رہے ہو واپس آؤ….

لگتا ہے سر اظہر ٹانﮈؤ کرواۓ گا مہرماہ عاشر کے قریب ہوکے بولی,,,

چپ ہوجا اور چل سب ہم دونوں کو ہی گھور رہے ہیں,,,

عاشر پھر سے مہرماہ کو لیکے اوپر چڑھا اور سر نے کچھ اور سٹوﮈنٹس کو بھی بلایا,,,,

سب لوگ اوپر کھڑے ہوگۓ,,اور سر نے اپنی باتیں شروع کی,,,

یار اب یہ فزکس کی طرح یہاں پر بھی شروع ہوگیا,,,مہرماہ دو ٹوک انداز میں بولی….

اب چپ رہنے کی مہربانی کروگی…عاشر نے نظریں پھیرا کر کہا…..

ہممممم مہرماہ نے مختصر جواب دیا…

تو یہ وہ خاص سٹوﮈنٹس ہے جن کو ہم سلور اور گولﮈ میﮈل پہنا کر ایک بیسٹ سٹوﮈنٹ کا ٹائیٹل ملے گا….

مہرماہ نے خوشی کے تاثرات ظاہر کیۓ اور ایک چینکھ نکالی….

اوہ گاﮈ میں بھی ہوں,,,

بریانی یا سموسے نہیں بٹ رہے ہیں کے ناچ رہی ہو سیدھے کھڑی ہو جا…..عاشر نے دانت پیستے ہوۓ کہا….

بندر تمہیں تو دیکھ لونگی….بس ویٹ کر تھوڑا,,,مہرماہ چبھتی ہوئی نگاہوں سے اسے تکنے لگی…

سر نے کچھ اسپشل گیسٹس کو اسٹیج پر آنے کے لیۓ بلایا,سب سے پہلے سلور میﮈلیسٹ کے نام لیۓ اور باقی صرف تین لوگ بچے تھے جس میں عاشر ,مہرماہ اور ایک دوسرا لڑکا تھا,جس میں ایک گولﮈ میﮈل عاشر کو پہنایا گیا اور عاشر سائیﮈ پر ہوگیا,

اب مہرماہ کی دھڑکنیں اوپر نیچے ہو رہی تھی,

And this last gold medal goes to………

سارے سٹوﮈنٹس چلانے لگے مہرماہ.. مہرماہ..اور سب کو یقین تھا مہرماہ کو تو ملے گا ہی,,,کیونک لاسٹ ٹائیم بھی وہ ایک جیت چکی ہے,,

Miss Mahrmah khan

سر نے مہرماہ کا نام لیا,,,

مہرماہ خوشی سے جھمومنے لگی پر یہ اسکا سیکنﮈ میﮈل تھا اسکو پہلے بھی ایک مل چکا تھا,,

پریزیﮈنٹ نے اسے گولﮈ میﮈل پہنایا مہرماہ ابھی بھی وہیں کھڑی تھی پرنسپال نے کسی کو اشارے سے بلایا جس کے ہاتھوں میں ایک ٹرے تھی پر پورے سفید کپڑے سے ﮈھکی ہوئی تھی…..

سب لوگ اسے حیرانگی سے دیکھ رہے تھے سر نے وائیٹ کور اٹھایا تو ایک خوبصورت تاج چمکتا ہوا سب کو دکھائی دیا,,,

اوہ واؤ…….سب لوگ اسے دیکھتے ہی رہ گۓ,,,

مہرماہ خان تم نے اس ہارون کو ہمارے سامنے لاکے بہت بڑا کام کیا تھا جب ہم نے اسکا بیک گراؤنﮈ چیک کیا پتا چلا کے وہ ﮈرکس لیتا تھا اور ہماری یونورسٹی کی کئی لڑکیوں کو پریشان کرتا تھا پر تمہاری وجہ سے ہی ہم اتنی بڑی بات کو جان پاۓ سو یہ تمہارے لیۓ,,,

سر نے ٹرے کی طرف آنکھوں سے اشارہ کیا…

اوپر سے کسی نے رنگ برنگی چمتی ہوئی پتیوں کے غبارے پھاڑے,عاشر بھی مہرماہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوا,کچھ لوگوں نے سیٹی بجائی…

پرنسپال آگے آکےمہرماہ سے مخاطب ہوا مہرماہ خان آپ کے پاپا نہیں آۓ ہیں….

سر پاپا کو ارجنٹ کام آگیا تھا,,,

کوئی فیملی میمبر ہوتا تو تمہیں یہ کراؤن پہناتا….کیونکہ اس کا حق تمہاری فیملی والوں کا ہے,,

مہرماہ افسردگی سے ادھر ادھر دیکھنے لگی….

کوئی بات نہیں بیٹا تم اس پوری یونیورسٹی کی شان ہو یہ کام بھی ہم ہی کرلیتے ہیں….

سر نے اسکو کراؤن پہنایا,,,

سب لوگ کھڑے ہوگۓ عاشر بھی مہرماہ کو اتنا خوش دیکھ کر خود بھی خوش ہونے لگا,,,

*******************

عدیل عاشر کہاں ہے,,,,دکھائی ہی نہیں دے رہا ہے….

ہاں اسکو مینے گارﮈن میں دیکھا تھا اور تجھے بلا بھی رہا تھا,,,

ہاں جا رہی ہوں….

ویسے مہرماہ congregation عدیل نے ہاتھ آگے بڑھایا,,

Thankyou

مہرماہ نے مسکرا کر جواب دیا,,,

لیکن عاشر وہاں کیا کر رہا ہے,,,مہرماہ نے سامنے عاشر کو دیکھ کر بولی…

اب تم ہی جاکے پوچھو اسسے, میں تو جا رہا ہوں

ہممم ٹھیک ہے,,,,

ہلکا سا سرد موسم خشک ہوا پرندون کی میٹھی میٹھی آواز اور چاروں طرف مہکتے ہوۓ پھولوں کی خوشبو میں عاشر کھو کر ایک خوبصورت گارﮈن میں کتاب ہاتھ میں لیۓ بیٹھا ہوا تھا اور بڑی سنجیدگی کے ساتھ وہ کتاب میں کھویا ہوا تھا….

تھوڑی دیر بعد عاشر نے کتاب پاس میں رکھی اور دیوار سے پیٹھ لگا کر اپنی آنکھیں موند لی اور کسی کے خیالوں میں ئی گم ہو گیا, ایک حسین چہرا بار بار اسکے خیالوں میں گھوم رہا تھا,,,ہلکی ہلکی ہوا کا جھونکا عاشر کے وجود کو تنہائی کے سمندر میں اتارتا جا رہا تھا…..

Hello mister Ashir Hassan

دل کو چھونے والی آواز اسکے کانوں پر پڑی,,,

اور ایکدم سے عاشر خیالی دنیا سے باہر آگیا اپنی آنکھیں کھولی ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ خیالی چہرا اسکے سامنے ہو اسکی سانس گلے میں اٹک گئی…

وہ آج کچھ زیادہ ئی خوبصورت لگ رہی تھی بِلُو کلر کا فراک, گلابی ہونٹ,چھرے پر ایک شرارتی مسکراہٹ,لمبے بال جو ہوا کی وجہ سے بار بار اسکے چہرے کو چُھو رہے تھے وہ اپنا ہاتھ اسکی آنکھوں کے سامنے ہلا رہی تھی تاکہ وہ اپنی دنیا میں واپس آجاۓ….کہا کھوۓ ہوۓ ہو پاگل…

اوہ مہرماہ آؤ بیٹھو,,,

یار آج میں تو بہت خوش ہوں کاش پاپا آتے وہ دیکھ کر بہت خوش ہوتے…مہرماہ بیٹھتے ہوۓ بولی,,,

گارﮈن میں صرف وہ دونوں ہی بیٹھے تھے…

ہمممم تو لے آتی نا انکل کو…..

یار کہا تھا پاپا کو پر پاپا کو کام تھا آفس میں…..

اچھا ویسے مہرماہ مجھے تم سے بات کرنی ہے,,,

عاشر تم اب بھی بک پڑھ رہے تھے,,,مہرماہ نے بک دیکھا تو بول پڑی….

ارے یار ابھی لائبریری سے لایا ہوں یہ ناول ہے بہت اچھا ہے,,,

اچھا….اور یہ ﮈائری وہی ہے نا جو پچھلے سال مینے گفٹ دی تھی تیرے برتھﮈے پر….مہرماہ نے ﮈائری اٹھائی اور باہر سے چیک کرکے اسکو کھولنے والی تھی…

ارے ابھی نہیں…عاشر نے اسکے ہاتھوں سے لے لی,,,

دیکھنے تو دیتے ایسا کیا ہے….

بعد میں دے دوں گا اور سن یار بات کرنی ہے عاشر نے پھر سے کہا.

ہمممم کہو….

یار جس سے میں محبت کرتا ہوں اسکو کچھ پتا ہی نہیں ہے وہ جانتی تک نہیں اور تو اسے محبت کے بارے میں کچھ پتا ہی نہیں,,,

اچھا تم نے بھی کس گدھی سے محبت کرلی,,,کون ہے وہ….

ہاہاہاہاہاہاہاہا عاشر زوروں سے ہنسنے لگا,,,

ہنس کیوں رہے ہو مینے کیا کچھ غلط کہا……..پر غلط کہا ہوتا تو تم کچھ اور ریئکٹ کرتے….مہرماہ ماتھے پر اپنی انگلیاں پھیر کر بولی….

کچھ نہیں تم نے میری محبت کو کدھی بولا تو عجیب لگا….اسنے مشکل سے ہنسی روک کر کہا…

ہاں کدھے کو تو کدھی ہی ملے گی نا….

قسم سے یہاں پر عدیل ہوتا نا اسکا تو ہنس ہنس کر برا حال ہوجاتا تمہارے الفاظ سن کر…..

بڑے عجیب انسان ہو تم…مہرماہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی…

ہاں عجیب تو ہوں ہی تبھی تو ایک ہی لڑکی کو پٹانے کے لیۓ دو سال گذارے ہیں….

اچھا کون ہے وہ خوشنصیب اور تمہاری بھابھی نے تو اپنی کزن کو چوز کیا تھا نا….وہ کہاں گئی…

ہاں وہ MBBS کرکے لوٹ رہی ہے کرن نام ہے انکا…..

کیا……..ک.ک..کرن وہ چونک کر بولی….

ہاں پر تم جانتی ہو کیا اسے…

ہاں پر وہ کرن کوئی اور ہوگی,,

ہممم یار چھوڑو اس کرن کو مینے آج طئہ کرلیا ہے آج اس لڑکی کو اپنی فیلنگز بتا کر کل بھابھی کو انسے ملاؤں گا….

ہاں یہ بھی ٹھیک ہے…

ویسے مہرماہ اگر تمہیں کوئی پرپوز کرے تو تمہارا ریئکشن کیا ہوگا….

ہاہاہاہاہاہاہاہاہا میں ہاہاہاہاہاہا جوتے اٹھا کر پیٹنے لگتی,پر یہ الگ بات ہے کوئی مجھے پرپوز کر رہی نہیں سکتا کیونکہ سب کو پتا ہے مہرماہ خان پیار محبت پر یقین نہیں رکھتی….

عاشر کو یہ سب سن کر بہت جھٹکا لگا…..

کیسی ہو….عاشر نے بات چینج کرتے ہوۓ ہلکی آواز میں بولا….

کیا…..!!!! مہرماہ حیران ہوگئی….

کیسی ہو…..عاشر نے آنکھیں پھاڑ کر دوبارہ پوچھا…

اب تم اندازہ لگا سکتے ہو بندی تو تیرے سامنے ہی ہے اتنی خوش… وہ بالوں کو پیچھے کرتے ہوۓ بولی,,,پر لگتا ہے بھانگ پی کر آۓ ہو…

تم کبھی نہیں سدھروگی اسنے اپنے منہ کو ہلاتے ہوۓ کہا,کبھی تو صحیح جواب دیا کرو…!!!

اب میں تو ہمیشہ صحیح جواب دیتی ہوں پر سامنے والے نے بھانگ پی رکھی ہو اور بہرا بھی ہو تو میرا تو قصور نہیں ہے نا… مہرماہ کے چہرے پر شرارتی مسکان آ گئ….

کیا….!؟ وہ حیرانگی سے پوچھنے لگا….

اوووفففففف اسنے اپنے سر پر ہاتھ رکھا واقعی ئی بہرے ہو تم اب میں دوبارہ repeat نہیں کروں گی….0k

پہلے بھانگ اور اب مطلب میں تجھے بہرا دکھتا ہوں,,,عاشر نے انگلی اٹھاکر خود کی طرف اشارہ کیا….

نہیں تو……..تم بہرے دکھتے نہیں بلک بہرے ہو….

ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا وہ زور زور سے ہنسنے لگی,,

کہ اچانک بادلوں کے گرجنے کی ایک آواز آئی اور اسنے ایک لمبی سانس لیکے ہنسی کو روکا اور اِدھر اُدھر نظریں دوڑانے لگی تو دیکھا سب لوگ اندر کلاسز میں جا رہے تھے اور اوپر دیکھا تو پورا آسمان بادلوں سے بھرا ہوا تھا جیسے بارش ہونے ہی والی تھی…

اس بارش کو بھی ابھی برسنا تھا… اس کے چھرے پر اداسی چھا گئ,,وہ تیز برسات اور بادلوں کی آواز سے بہت ﮈرتی تھی,,,

“پتا نہیں وہ آوازیں اسے اداس کر دیتی تھیان آوازوں سے اسکا دل کانپ جاتا تھا, وہ آوازیں اس کی زندگی میں اندھیرا کر دیتی تھی………

عاشر بارش کا تو کوئی موسم نہیں تھا پھر یہ کیوں….

پتا نہیں پر سردی کے لاسٹ دیز چل رہے ہیں بارش تو ہوگی ہی… میں تو جارہی ہوں کلاس میں,تم چلوگے….؟؟

ارے کتنی پاگل ہو تم,اتنا اچھا موسم ہے اور تم چلنے کا کہہ رہی ہو,عاشر ناراضگی والے لحجے میں بولا،،،

بارش کی ہلکی ہلکی بوند اب دونوں کے اوپر گرنے لگی….

لگتا ہے تمہیں سر اظھر کا پتا نہیں اس نے دیکھ لیا تو آفت آجاۓ گی چلو ابھی, پھر کبھی بھیگنا بارش میں… وہ اب چلنے لگی تھی تو پیچھے سے آواز آئی,,,

ﮈرپوک کہیں کی اس نے ایک قہقہ لگا کر کہا…!

آواز سن کے مہرماہ نے اپنے قدم روکلیۓ اور پیچھے مڑی,, اچھا مطلب آج بندر کا بارش میں بھیگنے کا من ہے وہ مزاحیہ انداز میں بولی…

کیا مطلب ہے تمہارا میں بندر ہوں…

جی بلکل صحیح سنا آپ نے…..!!!

ٹھیک ہے ایک دن میری بھی باری آۓ گی دیکھ لوںگا تمہیں بھی میری ہر بات کو مزاق سمجھتی ہو…..,,

اچھا کہو تو اپنی ایک خوبصورت سی picture دے دوں پھر جتنا چاہے دیکھ لینا اب کان ٹھیک نہیں ہے خیر ہے پر آنکھیں تو اچھی خاسی دکھ رہی ہے پھر بھی مجھے دیکھنے کا شوق رکھتے ہو تو دے دوںگی ایک تصویر, یہ کہہ کر وہ بھاگنے لگی کیونکہ اسے پتا تھا وہ اب چپ نہیں بیٹھے گا…..

عاشر نے بھی اپنے قدم دوڑاتے ہوۓ کہا,,توں تو گئی آج نہیں چھوڑوں گا ہر بار میرا مزاق بنا دیتی ہو اور وہ لگا,,,

مہرماہ اب بھی بھاگ رہی تھی اور پیچھے مڑ کر اسے دیکھنے لگی…کہ اچانک سامنے کسی سے ٹکرائی وہ گرتے گرتے بچ گئی,,,

اوہ گاﮈ ابھی کھڑوس کا نام لیا اور یہ برسات کی طرح ٹپک پڑا مہرماہ نے سر پر ہاتھ رکھا اور پیچھے چل کر عاشر کے کان میں سرگوشی کی…..

مہرماہ عاشر…..

عاشر نے نام سنا تو مسکرانے لگا اور اپنی زبان سے دوبارہ نام لیا…مہرماہ عاشر..

جی سر….عاشر خاموش ہوکے مسکرا رہا تھا تو مہرماہ نے سر سے پوچھا…

کیا پلان ہے تم دونوں کا…

کیا…….دونوں نے آنکھیں پھاڑ کر پوچھا…

ہاں بھئی آگے کچھ نہیں پڑھوگے کیا…

نہیں سر میں تو بھائی کے ساتھ بزنس سمبھالوں گا,,

اور سر میں MBA کرنے والی ہوں…..

اچھا بڑے اچھے خیالات ہے

InshaAllah you’ll get success…..

سر نے مسکراتے ہوۓ کہا اور چلا گیا…..

عاشر اور مہرماہ چلتے ہوۓ باتیں کر رہے تھے

عاشر مینے تمہیں نوٹس کیا ہے اس سردیوں میں تم نے کوئی شال سئیٹر وغیرہ نہیں پہنا….

کیونکہ تم بھی تو نہیں پہنتی ہو…..عاشر نے بغیر سوچے بول دیا…

مطلب…..مہرماہ گھورنے لگی…

مہرماہ تمہیں پتا ہے مجھے محبت کس سے ہے اور کب ہوئی….

مہرماہ خاموش ہوکے کھڑی باتیں سن رہی تھی..

وہ مجھے ایک سمندر کے کنارے پر ملی اندھیری رات میں,اور دوسری بار کسی فنکشن میں اور مجھے اسکا نام پتا چلا اور دوسرے دن مینے اسکے نام کی رنگ بنوائی….

اور پھر…..مہرماہ عاشر کے آگے کھڑی ہوگئی,,,

عاشر اپنی جیب سے کچھ ﮈھونﮈنے لگا….

اوہ نو……وہ رنگ میں لائبریری میں ہی بھول گیا…..مہرماہ تم ابھی رکو میں رنگ لاکے تمہیں دکھاتا ہوں,,,

پر عاشر میں جا رہی ہوں دیر ہو رہی ہے……

رکو بس ایک منٹ….عاشر دوڑتا ہوا گیا……

عاشر…….!! مہرماہ نے آواز لگائی…پر عاشر نے کچھ نہیں سنا….

مہرماہ تمہارے پاپا آۓ ہیں باہر…سکیورٹی گارﮈ نے اسے انفارم کیا….

انکل آپ اسسے کہو بس پانچ منٹ میں آ رہی ہوں….

جی ٹھیک ہے…

اب یہ عاشر کہاں رہ گیا…..مہرماہ نے پریشانی سے کہا,,,,

پانچ سے دس منٹ بھی ہوگۓ عاشر ابھی تک نہیں آیا….

عاشر کو اندر دوستوں نے گھیر لیا تھا,,

وہ ادھر ادھر گھوم کر گھڑی کو دیکھ رہی تھی…پھر کچھ دیر بعد وہ خود ہی لائبریری کے طرف چلنے لگی…..

سنو بیٹا تمہارے پاپا انتظار کر رہے ہیں,,,

ہاں انکل….اسنے پرس سے موبائل نکالا پر وہ اب بھی آف تھا…..اوہ گاﮈ اسکی چارج..اسنے سر پر ہاتھ رکھا….

انکل آپ کے پاس کوئی پیج ہے…

نہیں بیٹا……مہرماہ نے نظریں دوڑائی پر کوئی پیپر نظر نہیں آیا….اانے پرس کھول کر ٹشو پیپر اور پین نکالا سامنے چیئر پر بیٹھ کر کچھ لکھنے لگی….

انکل یہ لو جب عاشر آۓ تو آپ اسے یہ دیدینا

ٹھیک ہے اسنے پیپر لیکے جیب میں ﮈالا……

مہرماہ باہر گاڑی کے طرف گئی….

آپی کب سے ویٹ کر رہے ہیں آپ کہاں گئی تھی…مہرماہ کے بیٹھنے پر پنکی نے کہا…..

بس موٹی کام تھا…اور موبائل کا تو پتا ہے تمہیں….

یہ لو مہرماہ نیو فون پاپا آگے ﮈرائیونگ والی سیٹ پر بیٹھا تھا اسنے پیچھے مہرماہ کو موبائل باکس دیا…

تھینکیو پاپا….مہرماہ وہ لیکے مسکرانے لگی….

مما پاپا پتا ہے آج یونی میں کیا کیا ہوا…..

مہرماہ نے سٹارٹنگ سے ساری سٹوری بتائی….

مما پاپا دونوں مہرماہ کی باتیں سن کر خوش ہو رہے تھے…

اور وہ لوگ باتیں کرتے ہوۓ ائیرپورٹ پر پہنچ گۓ….

****************

عاشر بڑی مشکل سے وہاں سے جان چھڑا کر آگیا اور دیکھا تو مہرماہ نہیں تھی,,,وہ کلاسز میں گیا اسے لگا مہرماہ شاید وہاں ہو….اسنے ایک ایک سے پوچھا مہرماہ کو کسی نے بھی نہیں دیکھا….

آخر مایوس ہوکے وہ باہر آنے لگا…گارﮈ نے اسے آواز دی….عاشر,,,

جی انکل…..یہ مہرماہ آپکے لیۓ کچھ دے گئی ہے….اسنے پیپر آگے دیا….

کیوں وہ خود کہاں ہے….

اس کا پاپا آیا تھا وہ آپ کا انتظار کر دہی تھی پر آپ نہیں آۓ تو یہ کچھ لکھ کر دے گئی…

عاشر نے وہ کھولا اور پڑھنے لگا….

سوری عاشر مجھے دیر ہو رہی ہے میری فلائیٹ مس ہوجاۓ گی,میں امریکا جا رہی ہوں اپنے تایا جان کے پاس MBA کرنے کے لیۓ اور شاید کچھ سالوں کے بعد لوٹوں,,اور تم اپنی محبت کا اظھار ضرور کرنا اسے جسے تم چاہتے ہو,میں جب واپس آؤنگی تو اس خوشنصیب گرل سے ضرور ملوں گی,بہت ہی لکی ہوگی وہ جس کو تم ملوگے,,کیونکہ تم نے ایک دوستی ہی اتنی اچھی نبھائی ہے تو اس لڑکی کا خیال تم کتنا رکھوگے جو تمہاری لور ہو اور آج پہلی بار مجھے محبت کا احساس ہوا ہے آج میں جان گئی ہوں کہ محبت کیا ہے,عاشر تمہاری آنکھوں میں مینے تڑپ دیکھی ہے اس لڑکی کے لیۓ,,,اور میں یہ ہی کہوں گی تمہیں وہ ضرور ملے گی,اور اگر نہیں بھی ملی نا تو مجھے بتانا میں اس لڑکی کو اصلی جگہ پر لاؤں گی….اسکا ایک ایک لفظ پڑھ کر آنسو بہانے لگا,,,

By Aashir and All the best…

مہرماہ………….

عاشر نے مہرماہ کا نام لے کر گھٹنوں کے بل نیچے گر گیا,وہ آسمان کو دیکھ کر صرف مہرماہ کا نام لیکے چلا رہا تھا,اسکا پورا چہرا آنسوؤں سے بھر گیا تھا,

مہرماہ وہ تم ہی ہو…..تم ہو وہ خوشنصیب مہرماہ تم ہو,,,,,وہ چلا چلا کر رو رہا تھا,صرف عاشر ہی نہیں اسکی محبت پر آسمان بھی رونے لگا

****

مہرماہ کی فلائیٹ بارش کی وجہ سے لیٹ ہو گئی وہ اپنی فیملی کے ساتھ ہنسی مزاق میں مشغول تھی…پاپا یہ بارش کیوں تیز ہوگئ ہے….

بس بیٹا تم دہیان نا دو اور یہ لو…..پاپا نے اسکو ایک پیسٹری دیکے کہا,,

نہیں پاپا میرا من نہیں ہے…

آپی آپ کھانے سے انکار کر رہی ہو….پنکی نے حیرانگی سے پوچھا….

ہاں…..مہرماہ نے کندھے اچکاۓ,,

بیٹا تم ٹھیک تو ہو…..پاپا نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا….

ہاں پاپا سب ٹھیک ہے پر پتا نہیں کچھ عجیب فیل ہو رہا ہے…

ہاہاہاہاہا آپی عجیب فیلنگ اور آپ کو…..

مہرماہ نے پنکی کو کونی ماری..ہاں تو کیا ہے….

پنکی بیٹا مہرماہ کو پریشان نا کرو……

جی پاپا ویسے بھی اسکا آج آخری دن ہے پھر تو پورا پیار مجھے ہی ملے گا…

ہاں میں بھی دیکھتی ہوں موٹی تم کیسے میری جگہ لیتی ہو…مہرماہ نے چبھتی نگاہوں سے دیکھا,,,

********

عاشر کیا ہوا ہے اور تم تو مہروو کو ﮈھونﮈ رہے تھے نا وہ کہاں ہے…..عدیل بھاگتا ہوا آیا اور عاشر کو اس حالت میں دیکھ کر گھبرا گیا…..

عاشر کچھ بول ہی نہیں سکا…

بتاؤ عاشر کیا ہوا اور مہرماہ کہاں ہے,,,

عاشر نے پیپر اسکے آگے کیا….

عدیل نے وہ پڑھا اور اسکی آنکھوں میں بھی پانی آگیا…وہ بھی نیچے جھکا….

عاشر سمبھالو خود کو یار کیا حالت بنا ﮈالی ہے,,,

عدیل مہرماہ چلی گئی,,,,

نہیں گئی ہے وہ,وہ تمہای دل میں بستی ہے,تمہاری سانسوں سے وہ جڑی ہوئی ہے,,

عاشر اپنے حواس کھونے لگا,اسکی آنکھوں سے آنسو اور آسمان سے بارش بغیر رکے برس رہی تھی…

عاشر……ہوش میں آؤ,,,عدیل نے اسے گلے لگایا,,,

آئم سوری عاشر یہ سب ہماری وجہ سے ہوا ہے ہمیں تم کو روکنا نہیں چاہیے تھا,آئم سوری عاشر….

سنو عاشر اس میں لکھا ہے مہرماہ امریکا جا رہی ہے اور وہ بھی ابھی ہی پر خدا کا کرم دیکھو بارش ہو رہی ہے اور فلائیٹ کینسل ہوگئی ہوگی….تم چلو اپنی مہرماہ کو لے آؤ,,,

عدیل کے کہنے پر عاشر کے من میں امید کی ایک کرن جاگی وہ مسکرانے لگا,,,

عدیل بھی اسکے مسکرانے پر مسکرایا اور عاشر کو گاڑی کے طرف لے گیا…

عاشر ﮈرائیونگ میں کرونگا تم دوسری سائیﮈ بیٹھو,,,عدیل تیزی سے آیا اور بیٹھ گیا,,,

عاشر بھی دوسری طرف بیٹھا,,,بارش تھم چکی تھی,عدیل نے گاڑی سٹارٹ کی اور عاشر کو مہرماہ کو کال ٹراۓ کرنے کو کہا,,,

عاشر کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگی مہرماہ کا فون بند آرہا تھا,,,

بادل بھی آسمان سے الگ ہورہے تھے,روشنی پھہل رہی تھی….راستے میں ٹئرفک تھی عدیل کو مجبورًا گاڑی روکنی پڑی,

اس ٹئرفک کو بھی ابھی….عدیل نے زور سے مکہ لگایا…..

ادھے گھنٹے بعد عاشر اور عدیل ائرپورٹ پہنچے,عاشر نے کچھ لوگوں سے فلائیٹ کے بارے میں پوچھا تو پتا چلا قریب پندرہ منٹ پہلے ہی فلائیٹ جا چکی ہے,,,

عاشر بلکل ٹوٹ گیا,عدیل حیران ہوگیا,ایسا کیسے ہوسکتا ہے,,,

عاشر دیکھو مہرماہ آۓ گی ایک دن وہ ضرور آۓ گی,اسکو احساس تو ہوا ہے نا کے محبت کیا ہے وہ ضرور لوٹے گی,,,

عاشر خاموش ہوکے وہاں سے چلا گیا اور اکیلے ہی گاڑی سٹارٹ کیۓ تیزی سے چلا گیا,,,

پیچھے عدیل دوڑتا ہوا آرہا تھا مگر عاشر نے ایک بھی نہیں سنی وہ تیز رفتار میں گاڑی چلا کر عدیل کی نظروں سے غائب ہوگیا,,,

________________________

کبھی میں نہیں ہونگا

تمہیں یاد آۓ گا

وہ میری بے کراں چاہت

تمہارے نام کی عادت

وہ میرے عشق کی شدت

وصال و ہجر کی لذت

تمہاری ہر ادا کو شاعری کا رنگ دے دینا

خود اپنی خواہشوں کو بے بسی کا رنگ دے دینا

تمہیں سب یاد آۓ گا

وہ میری آنکھ کا نم بھی

وفاؤں کا وہ موسم بھی

جنون خیزی کا عالم بھی

مری ہر ایک خوشی غم بھی

مرا وہ مسکرا کر دردکو دل سے لگا لینا,

تمہاری آنکھوں کا ہر ایک آنسو چرا لینا

تمہیں سب یاد آۓ گا

تمہاری سوچ میں رہنا

تمہاری بے رخی سہنا

بھکا کر رنجشیں ساری

فقط “اپنا” تمہیں کہنا

تمہارے نام کو تسبیع کی صورت بنا لینا

تمہارے ﺫکر سے دل کا ہر ایک کونہ سجا لینا

ابھی تو مسکرا کر مری باتوں کو سنتی آئی ہو

مگر یہ جان لو جاناں

بہت مہنگا پڑے گا یہ ہجر کا فسانا,,

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *