Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon NovelR50673 Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 22)
Rate this Novel
Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 22)
Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon
ہر طرف خوشی کا ماحول تھا,سب لوگ اپنے اپنے کام میں مصروف تھے,پورے گھر میں ہل چل مچی ہوئی تھی جاوید خان اور آفتاب خان ہوٹل سے کھانا آرﮈر کرکے لوٹے تھے فوزیہ بیگم نے ان کی تھکاوٹ کا اندازا لگایا اور ٹرے میں جوس کے گلاس لیکے آئی,,
شکریہ بھابھی,,جاوید خان گلاس اٹھا کر بولا,
مہرماہ کہاں ہے اور سے پوچھا وہ کب تک آرہے ہیں….
ہاں وہ روم میں تیار ہو رہی ہے اور میں ابھی پوچھ کے آئی ہوں ان لوگوں نے شام کو آنے کا کہا ہے,,,
شام تو ہو ہی گئی ہے,خیر راستے میں ہونگیں,,آفتاب خان نے گلاس لبوں سے لگالیا,,
فوزیہ مہرماہ کے کمرے میں چلی گئی,,
دروازے پر دستک سن کر مہرماہ نے دروازے کو ناگواری سے دیکھا,کون ہے کم ان….وہ آنکھیں گھماتے ہوۓ بولی…
مہرماہ بیٹا ابھی تک کہاں ہیں وہ لوگ,,,فوزیہ آتے ہی مہرماہ سے سوال کرنے لگی…
مما دیکھو میں کیسی لگ رہی ہوں,,مہرماہ نے گولﮈن کلر کا سمپل فراک پہنا تھا اور میچنگ میں ﮈوپٹا جس کی سائیﮈ پر ریﮈ کلر کی کڑاھی اور ریﮈ کلر کا چوڑی دار پاجاما پہن کر رکھا تھا,بال ہمیشہ کی طرح کھلے تھے اور بلکل لائیٹ میکپ میں جیسے وہ کوئی پری لگ رہی تھی,
بہت پیاری لگ رہی ہو,,فوزیہ کی آنکھوں میں نمی اور اسکے ہاتھ مہرماہ کے گالوں پر تھے,,
مما ان کو فون بند آ رہا ہے,میں ٹراۓ کرتی ہوں,مہرماہ نے ٹیبل سے موبائل اٹھایا اور نمبر ﮈائل کر رہی تھی,,
مما نہیں لگ رہا ہے,,مہرماہ افسردگی سے بولی..
کوئی نہیں بیٹا تم ٹراۓ کرتی رہو میں تب تک نیچے کام دیکھتی ہوں,,
اوکے مما,,
***************************
دہلی کی آفس میں عاشر اور عدیل کا آج پہلا دن تھا وہ تپتے ہوۓ سورج کی روشنی میں آفیس سے باہر آئیں,
دونوں نے کوٹ اتار کر ہاتھ میں لے لیا تھا,عاشر نے ٹائی ﮈھیلی کردی تھی اور شرٹ کا بٹن کھول دیا تھا,
یار عاشر گرمی کتنی بڑھ گئی ہے نا….
ہاں….
اور دیکھ کیا حال بنا لیا ہے مینے خود کا تیرے اس بزنس والے چکر نے تو مجھے کالا کلوٹا بنا دیا ہے,,
ہاہاہاہا تو پہلے کونسا چاند تھا عاشر نے ہنستے ہوۓ کہا,,,
چاند ہی تو تھا اففففف
Those days were very awesome…
عدیل نے آسماں پر نظر ﮈال کر کہا,,,
چل اب دیر ہو رہی ہے,,,عاشر نے اسکا بازوں کھینچ کر گاڑی کی طرف لے گیا,,
یار چلو کہیں گھومنے جاتے ہیں نا,,عدیل نے بازو چھڑا کر بولا,,
یہ حالت دیکھ میری اور تمہیں گھومنے کی پڑی ہے,,عاشر نے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا,,
ہاں ہوتی تمہاری ہونے والی بھابھی تو مجھے زبردستی لے جاتی اور ایک تم ہو….
ہاں میں ہوں اور اگر یہ رونا دھونا ہوگیا ہو تو چلیں ہم…عاشر نے گاڑی کا ﮈور اوپن کیا,اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا,,
لگتا ہے لوگوں کو مجھ میں گرل فرینﮈ نظر آ رہی ہے جو گاڑی کا ﮈور بھی میرے لیے اوپن کر رہے ہیں,,,
اگر تمہارا ہو گیا ہو تو میں بھی بیٹھوں….
جی,جی بلکل,,عدیل نے اپنا سر اثبات میں ہلایا,,عاشر بھی ﮈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا,,
***************************
سب کی نظریں دروازے پر ٹکی تھی ویسے تو وقت تیزی سے گزر رہا تھا مگر ایک ایک منٹ مہرماہ کے اوپر بہت باری تھا,,
مہرماہ بیٹا نیچے تیرے پاپا, تایاجان اور باقی سب نیچے ویٹ کر رہیں کہاں ہے اب تک وہ,فوزیہ بیگم مہرماہ کے کمرے میں آتے ہی مہرماہ کے اوہر برس پڑی…
مما میں کب سے ٹراۓ کر رہی ہوں اسکا نمبر بند آ رہا ہے شاید وہ کسی پرابلم میں پھنس گۓ ہو,,,
ٹھیک ہے تم فون ٹراۓ کرتی رہو اور جیسے ہی کوئی خبر ملے مجھے بلا لینا میں نیچے ہی ہوں سب کے ساتھ,,
اوکے مما…مہرماہ پھر سے موبائل میں مصروف ہوگئی,,
سیکنﮈ سے منٹ اور منٹ کیسے گھنٹوں میں تبدیل کوگۓ کسی کو پتا ہی نہیں چلا,مہرماہ کی نظریں اب بھی انتظار کر رہی تھی وہ کھڑکی سے نیچے جھانک رہی تھی,
مہرماہ بیٹا دروازہ کھولو….کسی نے اسے آواز دی,,,
مہرماہ بغیر کچھ بولے دروازے کے پاس آئی,اب کیا بولوں گی کیا جواب دوں گی صبح سے سب نے تیاریاں کرکے رکھی تھیں وہ سوچنے میں گم ہوگئی,,
ایک بار پھر دروازے پر دستک ہوئی…ییس پاپا بس آئی..مہرماہ نے مشکل سے الفاظ نکالے,
دروازہ کھول کر دیکھا تو پاپا کھڑے تھے,
وہ پاپا.,وہ…
کوئی بات نہیں بیٹا شاید انھیں ضروری کام ہوگیا ہوگا,,مہرماہ کا گھبراہٹ والا چہرا دیکھ کر آفتاب خان نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا,,,
آؤ آج ہم بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں,آفتاب خان آگے بڑھے اور مہرماہ کو آنے کے لیے کہا,,
مہرماہ مما پاپا کے ساتھ بیﮈ پر بیٹھ گئی,,
پتا ہے بیٹا جب تم چھوٹی تھی نا تو ایک دن بہت بیمار پڑ گئی تھی تب ہم نے تجھے ہاسپیٹل میں ایﮈمٹ کروایا تم بہت کمزور ہوچکی تھی, ہمارہ دل تو جیسے حلق میں آگیا تھا,اور ﮈاکٹر نے تمہیں خوش رکھنے کو کہا تھا اور تب سے آج تک ہم نے تمہیں کسی بھی بات کے لیے نہیں روکا تمہیں دنیا کی ہر خوشی دینی چاہی پر شاید ہی کوئی کمی رہ گئی ہو,
نہیں پاپا آپ ایسا کیوں بول رہے ہیں,,مہرماہ کی آواز میں اداسی تھی,
بیٹا ہم نے تو اپنی زندگی گزار لی ہے بس جب خدا کا بلاوا آۓ تو ہم بھی چلے جائیں گے,بس ایک خواہش تھی تمہیں ہمیشہ کے لیے یہاں پر خوش رکھنے کی مگر دیکھو آج تم اتنی بڑی ہوگئی ہو اپنی زندگی کا فیصلا بھی تم نے خود کرلیا,,آفتاب خان کی آواز میں باپ کا درد اداسی شکوے سب کچھ مہرماہ نے ایک ہی جھٹکے میں سمجھ گئی…
پاپا آئم سوری,,سوری پاپا پر یقین کریے وہ بہت اچھا لڑکا ہے میں بہت خوش رہوں گی پاپا,مہرماہ آفتاب خان کو تقین کے ساتھ تسلی دینے لگی,,اور میرے ہوتے ہوۓ آپ کو کچھ بھی ہوسکتا ہے بھلا,,,مہرماہ پاپا کے گلے لگ گئی,,دونوں کی آنکھوں میں نمی تھی,,مہرماہ نے مشکل سے اپنے آنسوں روکے,,
ٹھیک ہے بیٹا بہت رات ہوگئی ہے تم سو جاؤ….آفتاب خان بیﮈ سے اٹھ گیا,,
پاپا سوری….مہرماہ نے ایک بار پھر التجائی نظروں سے اسے دیکھنے لگی,,
کوئی بات نہیں بیٹا تم سو جاؤ,,,آفتاب خان نے مہرماہ کے سر پو ہاتھ رکھا اور چلا گیا,,مہرماہ دروازہ بند کردینا…
جی پاپا…مہرماہ کھڑی ہوگئی اور پاپا کے جانے کے بعد دروازہ بند کرنے لگی,,,وہ دروازہ بند کرکے وہی پر ہی ٹیک لگا کر بالوں کو نوچنے لگی,کہاں گۓ ہو تم فون بھی نہیں اٹھا رہے اگر کوئی پرابلم تھی تو بتا دیتے نا,مہرماہ کی آنکھوں سے آنسوں نکلنے لگے,وہ ہاتھ جوڑ کر اوپر دیکھنے لگی,,یا رب آج سے پہلے مینے کچھ بھی نہیں مانگا میرے مانگنے سے پہلے ہی آپ نے مجھے ہر خوشی دی اور جب میں نے خود سے کچھ پسند کیا مجھے محبت کا احساس ہوا تو آج کیوں وہ چیز مجھ سے دور ہے آج کیوں میں خود کی ہی نظروں میں گر گئی ہوں,پاپا,ماما کیا سوچتے ہونگے,,پلیز گاﮈ میری یہ دعا قبول کردو اسے بیجھ دو میں, میں سب کچھ کرونگی خدا پلیزززز مجھے یہ خوشی دے دو,پلیز مہرماہ سسکیا لیتے ہوۓ خود سے ہی شکوے کر رہی تھی,,اگر وہ نہیں آیا تو,نہیں نہیں ایسا نہیں ہوسکتا مجھے پتا ہے وہ کسی مصیبت میں ہوگا,مہرماہ کا چہرا پورا آنسؤں سے بھیگ گیا وہ روتے روتے گھٹنوں کے بل سجدے میں گر گئی اور کئی گھنٹوں تک اسی حالت میں رہی,,,
***************************
دہلی میں عاشر اور عدیل نے کافی ترقی کرلی تھی,دونوں کی محنت صاف ظاہر تھی ان دونوں کو بزنس آسمان کی اونچائیوں کو چھونے لگا کچھ ہی مہینوں کے اندر وہ دونوں بہت مشہور ہوگۓ تھے اور دہلی کے بڑے بڑے شہروں سے انھیں آﮈرز آ رہے تھے,,
عاشر بالکونی میں بیٹھ کر ﮈزائینس بنا رہا تھا اس نے اپنے آسپاس فائیلز کا ﮈھیر جما کر رکھا تھا,,
عاشر یہ کیا حالت بنا رکھی ہے,,عدیل نے نیچے دیکھ کر کہا جہاں بہت ساری فائیلز پڑی تھی,,
اچھا ہوا توں آگیا مجھے نیو پروجیکٹ کی ﮈیٹیلز نہیں مل رہی ہے تم دیکھو تو یہاں کوئی فائیل ہوگی,,,عاشر کی نگاہیں لیپ ٹاپ پر تھی وہ بغیر عدیل کو دیکھ کر بولا
یار چھوڑ نا توں اس میﮈ کو بول دے وہ ایک جگہ پر ترتیب سے رکھ دے گی پھر تم آسانی سے ﮈھونﮈ لینا,,عدیل بیٹھنے کی جگہ بناتے ہوۓ بول رہا تھا,,
اوہ شٹ اپ پہلی بات وہ کوئی میﮈ نہیں ہے اور دوسری بات یہ سب تیری وجہ سے ہوا ہے کس نے کہا تھا سارے ﮈاکیومینٹس کو ایک ہی کلر کے فائیلز میں ﮈالنے کا,,,عاشر غصے میں بولا,,
توبہ توبہ آج کل تو بھلائی کا زمانہ ہی نہیں رہا,لوگ دن بہ دن سیلفش ہوتے جا رہیں ہیں,, ایک تو بغیر پوچھے سارہ کام کرو اوپر سے باتیں بھی سنو,, عدیل منہ بناتے ہوۓ اسکے گھٹنوں پر اپنا سر رکھ دیا,,
جی آج اتنا رومئنس کس خوشی میں,,,عاشر لیپ ٹاپ آف کرکے بولا,,,
جی کیونکہ مجھے تمہاری بھابھی کی یاد آ رہی ہے,,عدیل بھی اسی انداز میں بولا,,
ایکسکیوزمی میں عاشر حسن ہوں ناکہ کرن صدیقی,,تو اپنے پیار پھول برسانا بند کرو,,
او ہلو اس خوشی فہمی سے باہر نکلو کے تم میں کرن نظر آ رہی ہے وہ تو بس پاکستان جانے کا کہہ رہا تھا,,
دوبارہ جانے کے لیے کہا نا تو مکہ مار کر زمین میں دفنا دونگا,عاشر نے دانت پیستے ہوۓ خلا میں مکہ بلند کیا,,
کتنے ظالم بن گئے ہو,دو پیار کرنے والوں کو ملنے ہی نہیں دے رہے ہو,,
صاحب جی جانے دیا تو پتا ہے تم آنے کا نام ہی نہیں لوگے سو اچھا یہی ہوگا تم یہاں پر رہو,,
کھڑوس کہیں کے,عدیل نظریں گھما لی اور جانے لگا,,
سنو اپنا سامان پیک کرلو,عاشر نے پیچھے سے آواز دی,,
کیا……..سچ میں…عدیل نے پیچھے مڑ کر اسے حیرانگی سے تکنے لگا,,
ہاں…سچ میں…
اوہ تھینکیو ماۓ جان,,عدیل باگھتا ہوا عاشر کو گلے لگانے کے لیے آگے آیا,,
او…اوہ….رک..رک..عاشر نے پیچھے ہوکے ہاتھوں سے اشارہ کیا,,
نہیں اپنی جان کو تو گلے لگا ہی لونگا,,
اوۓ اس خوش فہمی سے باہر نکل کیونکہ تمہیں یہاں سے واپس نہیں بلکہ کلائینٹس سے ملنے کے لیے دوسرے شہر جانا ہوگا,اور تب تک یہاں نہیں لوٹوگے جب تک وہ ہمارے کام سے امپریس نا ہو….عاشر بیﮈ کے اوپر چڑھ کر بول رہا تھا,,,
کہ.کہ.کیا….میں جاؤں..عدیل نے انگلیاں اٹھا کر اپنی طرف اشارہ کیا,,
ہاں توں…عاشر نے تکیہ اٹھا کر اسکی طرف پھینکا…
اوہ خدا کس ظالم اور کھڑوس سے میری قسمت لکھ دی,عدیل نے تکیہ پکڑ کر واپس اسکی طرف پھینک کر سر پر ہاتھ رکھ کے بیٹھ گیا,,
ہاہاہاہاہا شکر کر میں ہوں ورنہ تمہیں تو سانس لینے کی بھی فرست نہیں ملتی,عاشر نے قریب آکر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا,,
شرم ہی نہیں لوگوں کو ایک تو معصوم سے بچے کو قید کرکے رکھا ہے اوپر سے خود کی ہی واہ واہ کر رہے ہیں,,ہنہہ عدیل نے اپنے کندھے سے عاشر کا ہاتھ پیچھے کیا..
معصوم بچا اور توں…
ہاں میں….پتا نہیں کب مرے گا توں اور مجھے آزادی ملے گی,,
چل یہ نوٹنگی بند کر اور کل کے لیے تیار ہوجا,,,اور جب مروں گا نا تو دیکھنا سارا بزنس تیرے نام کردونگا پھر دیکھنا میں کیسے سمبھال تا تھا,,,عاشر نے دوبارہ تکیہ اسکے سر پر مارا اور باہر چلا گیا,,,
دنوں سے ہفتے اور ہفتوں سے مہینے گزر گئے پر اس لڑکے کا کچھ پتا نہیں چلا مہرماہ ہر دن ہر گھنٹے میں اسے کئی کالز کرتی تھی مگر نمبر مسلسل بند آ رہا تھا اب تو مما پاپا بھی پاکستان واپس جا رہے تھے انھوں نے مہرماہ کی پوری ﺫمیداری جاوید اور ریحانہ خان کو سونپ دی تھی آج ان کی فلائیٹ تھی مہرماہ اپنی محبت کے انتظار میں خود ہی بدل دیا تھا اب وہ ہر روز نماز پابندی سے پڑھتی تھی وہ خدا کے سارے احکاموں کو اچھی طرح نبھانے کی پوری پوری کوشش کر رہی تھی,,
وہ اب کمرے سے باہر کم نکلتی تھی بس اندر ہی اندر میں ٹوٹتی جا رہی تھی,
وہ آج بھی اپنے بند کمرے میں بیٹھے تلاوت قرآن پاک کر رہی تھی,
مما پاہا دونوں اسے ملنے کے کیے آۓ اور مہرماہ کو اس حالت میں دیکھ کر ایک طرف خوش ہو رہے تھے تو دوسری طرف بیٹی کا درد اندر ہی اندر ان دونوں کو کانٹے کی طرح چبھ رہا تھا,
مہر بیٹی……پاپا کی دکھ سے بھری آواز مہرماہ کے کانوں پر پڑی,,
مما پاپا آپ….اسنے قرآن پاک کو چوم کر اوپر رکھ دیا,,
مہرماہ کے چہرے سے وہ ہنسی وہ مسکراہٹ سب کچھ چلا گیا تھا, وہ من ہی من میں موم کی طرح پگھلتی جا رہی تھی,, مگر اسے یقین تھا کیونکہ وہ خود کی محبت کو سچا مانتی تھی اور تبھی اسنے انتظار کی امید کو برقرار رکھا,,
بیٹا ہم جا رہیں ہیں اب مزید انتظار نہیں کر سکتے…مما نے اسکے گالوں پر ہاتھ رکھا,,
پر مما….
بیٹا تم پریشان کیوں ہو رہی ہو بیٹا یہاں پر سب ہیں نا تمہارے تایا,اور چھوٹی ماں وہ سب سمبھال لینگے,,فوزیہ نے اسے تسلی سے کہا,مگر اسے لوگوں کا ان کی چال کا پتا تھا اور اسے یقین ہو گیا کہ شاید وہ لڑکا نہیں آۓ گا پر مہرماہ ٹوٹ کر بکھر نا جاۓ اس لیے وہ ہر دن مہرماہ کو ایسے ہی جھوٹی تسلی دیتے تھے,,
ٹھیک ہے مما…مہرماہ کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ سج گئی,,
مہرماہ تمہارا لاسٹ سیمسٹر آنے والا ہے,بس بیٹا وہ ہوجاۓ تو تم واپس آجانا بس اب اور کچھ نہیں تمہارے بنا گھر بھی سونا سونا سا لگ رہا ہے,,
جی پاپا پر کچھ دن اور رک جاتے,,
نہیں بیٹا ہم آۓ تو ایک ہفتے کے لیے تھے مگر مھینوں تک یہاں رک گۓ اب تو پنکی بھی بور ہوگئی ہے وہ بھی پریشان ہے,,
ٹھیک ہے پاپا,,
***************************
عدیل نے جانے کے لیے سامان پیک کر لیا تھا, عاشر اسے کچھ ﮈاکیومینٹس کے بارے میں سمجھا رہا تھا عدیل بھی بڑی سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے میں مشغول تھا,,
میں اندر آؤں دلاری نے دروازہ کھٹکھٹایا,,
ہاں ہاں آئیے,,عدیل کی نظریں فائیلس پر ٹکی تھی مگر سر اثبات میں ہلا کر کہا,,,
یہ لیجیے صاحب جی….دلاری نے اسے کھانے کا ٹفن دیتے ہوۓ کہا,,,
اسکو وہاں رکھ دو,,عدیل نے ٹیبل کے طرف اشارہ کیا,,دلاری نے ٹفن ٹیبل پر رکھ دیا,,
اوکے بھائی اب جانا ہوگا ٹائیم ہوگیا ہے,,
عدیل کھڑا ہوگیا اور مرر میں دیکھ کر بال بنا رہا تھا,,دیکھ عدیل کام کو مزاک کے علاوہ سنسیئرٹی سے سمجھنا….عاشر نے اسکےکندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا,,,
ارے ہاں بابا ٹھیک ہے میں اتنا بھی نکما نہیں ہوں,,,
نہیں بھئی کس کی مجال جو تمہیں نکما بولے…عاشر نے مسکراتے ہوۓ آنکھ بند کی,,
تمہیں شرم نہیں آتی عدیل نے دانت پیس کر کہا…
نہیں تم لڑکی تھوڑی ہو جو تم سے میں شرم کروں,,
ہاں ہاں اڑا لے مزاق میرا دیکھ نا ایک دن میرا بھی دن آئیگا,,عدیل نے منہ موڑ کر ٹفن اٹھایا,,,
ہاہاہاہا بیٹا ابھی تو توں نکل جب وقت آئیگا تو ساتھ میں دیکھیں گے ایک دوسرے کو,,عاشر نے اسے دھکا دیا,,,
دیکھو نا آنٹی کتنا بے وفا ہوگیا ہے یوں دھکے مار کر نکال رہا ہے,,وہ دلاری سے کہنے لگا جو اسکے سامنے کچھ لیکے کھڑی تھی,,,
وہ جوابا صرف مسکرائی,,صاحب جی یہ دھی شکر ہے آپ کھا لوگے تو کامیابی ملے گی,,,
ویسے ایک شکایت ہے آپ سے عاشر کو بیٹا جی اور مجھے صاحب جی,ناٹ فیئر آنٹی,,
نہیں پتر (بیٹا) تم بھی میرے بیٹے جیسے ہی ہو,,
دیکھا یہ ہوئی نا بات عدیل نے ایک چمچ دھی اپنے منہ میں ﮈالی,,اب یہ ساری دھی اسکو کھلانا تاکہ میری طرح یہ بھی کامیاب ہو سکے,,,اسنے عاشر کی طرف دیکھا جو دروازے کو ٹیک لگا کر سارا منظر دیکھ رہا تھا,,
تم جاؤ گے نہیں نا….عاشر تیکھی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا,,
دیکھو تو آنٹی آپ کا منہ بولا بیٹا کتنا کھڑوس اکڑو ہے اور اسے سمجھا دینا میرے جانے کے بعد جب بیوی آۓ گی نا تو ساری اکڑ ٹھکانے آجاۓ گی,,
ابے نوٹنگی باز جاتا ہے یا جوتوں سے تجھے وداع کروں,,,,عاشر نے اپنے جوتوں میں ہاتھ ﮈالا,,
باۓ جانیمن….عدیل بیگ اٹھا کر بھاگ گیا,,,
عاشر مسکرہ کر اندر چلا گیا,,
آپ کا کھانا لگا دوں…..دلاری عاشر سے مخاطب ہوئی,,,
جی ماں لگا دیجیے میں آتا ہوں,,,
***************************
مہرماہ گھری نیند میں سو رہی تھی اسکے کانوں میں فجر کے آﺫان کی آواز گونجی,,,
نماز نیند سے بہتر ہے
نماز نیند سے بہتر ہے,,
اسنے آنکھیں کھولی اور ﮈوپٹا لپیٹ کر بیﮈ سے اٹھی اور وہ واشروم میں چلی گئی,,
چند لمحوں کے بعد وہ واشروم سے باہر نکلی اسکا چہرا پانی سے بیگھا ہوا تھا مگر وہ پانی وضو کا کم اور آنسؤں کا زیادہ تھا,جاۓ نماز ٹیبل پر پڑی تھی اسنے اٹھا کر نیچے بچھائی اور لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ جاۓ نماز پر کھڑی ہوگئی,,
نماز پڑھتے وقت اسکے آنسوں مسلسل بہہ رہے تھے,اسنے جب نماز ختم کردی تو ہاتھ اٹھا کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی,اسکی آنکھوں میں وحشت تھی وہ آج اپنے اور اپنے رب کے بیچ کسی کو نہیں لانا چاہتی تھی,
ہر وقت ہر لمحا وہ رب سے دور رہی گھر میں کالیج میں یونیورسٹی میں وہ چھوٹے کپڑے,کھلے بال بغیر ﮈپٹے سے وہ لڑکوں کے آگے کھڑی ہوجاتی تھی,وہ لڑکی آج رب سے رو رو کر اپنی محبت کی بھیک مانگ رہی تھی,جس نے ہر وقت مﺫھب کے احکامات کو بے ﺫاری سے سنا آج وہ ہی لڑکی رب کے آگے جھک گئی تھی,اس کے سامنے ہر وہ لمحا آتا گیا جس میں پارٹیز میں جاکے لڑکوں سے مستیاں کرتی تھی اسے اپنے وجود سے گھن آ رہی تھی,اے کے کیوں برباد کی میری زندگی کیوں آۓ,,وہ خود سے شکوے کر رہی تھی,
“محبت برباد نہیں محبت آباد کرتی ہے محبت خدا کے قریب کرتی ہے”
آج اسے عاشر کے الفاظوں کا مطلب پتا چلا تھا,
اسکے کانوں میں عاشر کے الفاظ گونجے,
اسنے ہاتھ اٹھا کر رب سے دعا مانگنی شروع کی وہ خدا سے اپنے کیے ہوۓ گناہوں کی معافی مانگ رہی تھی,
مجھے پتا ہے مالک میں معافی کے قابل نہیں ہوں پر آپ تو مجھ سے بڑے ہیں نا تو اس نا چیز بندی کو معاف کردو,میں واقعی ہی غلط تھی,مینے آج تک کوئی بھی ایسا کام نہیں کیا جو آج میری بخشش کی گواہی دے سکے,میں ٹوٹ چکی ہوں مجھے اپنا سہارا دو, میں اس دنیا میں نہیں رہنا چاہتی مجھے اپنی طرف بلادو,
مہرماہ خان… ماۓ لائف ماۓ چوائیز,,,جس کو اپنے حسن پر جس کو اپنے وجود پر اپنی ہر ایک ادا پر فخر تھا آج وہ ہی مہرماہ خود کو بدصورت اور بدنصیب سمجھ رہی تھی جو مسلمان ہوکے بھی کافروں کی زندگی جیتی تھی آج اسے احساس ہوا کے وہ کتنی غلط تھی,محبت سب بکواس سب بکواس ہے اور آج اسی بکواس کی وجہ سے وہ سجدے میں پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی,
مما…..اسکے زبان سے درد بھرے لحجے میں مما کا الفاظ نکلا,,مما میں غلط تھی اور جو ماں باپ فیصلا کرتے ہیں وہی بچوں کے لیے صحیح ہوتے ہیں میں بھٹک گئی تھی یا رب میں بھٹک گئی تھی مجھے اپنے راستے پر چلانے کی توفیق بخش….,,,
***************************
عاشر کمرے میں سو رہا تھا بےزاری کی حالت میں وہ اپنے سر کو بار بار ہلا رہا تھا جیسے کوئی برا خواب دیکھ رہا ہو,وہ اپنے پاؤں تڑپتے ہوۓ بیﮈ پر پٹک رہا تھا,
مہرماہ…….. اسی لمحے میں ایک درد بھری چیخھ نکال کر نیند سے اٹھ گیا عاشر کا دل جیسے حلق میں آگیا,اسکا پورا چہرا پسینہ پسینہ ہوگیا تھا اور کمرے میں نظریں دوڑائی تو اسے کوئی بھی نظر نہیں آیا نا ہی اسکی نیندیں اڑانے والی مہرماہ تھی اور نا ہی کوئی اور,,اسنے پانی کی بوٹل اٹھائی اور گھبراہٹ کے مارے ہونٹوں سے لگا کر ایک ہی گھونٹ میں سارا پانی پی گیا,نا جانے کیوں آج اسکا کمرے میں دم گھٹ رہا تھا وہ سونے کی کوشش کر رہا تھا مگر نیند کہاں آنی تھی اسکی سانسوں میں بسنے والی موت کا انتظار کر رہی تھی اور یہ سکون کی نیند سوۓ ایسا کہاں لکھا تھا عاشر کی قسمت میں وہ مزید بے چین ہوگیا,اسنے اپنے قدم نیچے رکھے وہ سانس لینے کے لیے باہر جانے لگا,,
**************************
مہرماہ نے رو رو کر سجدے سے سر ہٹایا اور جاۓ نماز کو لپیٹ کر اپنی جگہ پر رکھ دیا, اسکے سر میں درد کی ایک عجیب لہر دوڑی وہ ماتھے پر ہاتھ گھماتے ٹیبل کا سہارا لیکے چیئر پر بیٹھ گئی خود کے بال نوچنے لگی,,
*ﮈوبی ہوئی ہوں زہر میں پر پی نہیں رہی
میں زندگی کو سہہ رہی ہوں جی نہیں رہی*
آہ………اسکے منہ سے درد برھی آہ نکلی اور سامنے پڑی نیند کی گولیاں اٹھا کر دو ایک ساتھ منہ میں ﮈال لی,اور یہ مہرماہ کا اب روز کا معاملا بن گیا تھا وہ روز ایسے ہی گولیاں کھا کر خود کو سونے کے قابل بنا تھی جس کی وجہ سے وہ بہت کمزور بھی ہوچکی تھی,,,,
