Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 18,19)

Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon

اشر لاؤنج میں ٹی وی دیکھ رہا تھا اسنے جان بوجھ کر والیوم زیادہ کیا تھا تاکہ کوئی بھی تڑپ اسکے دل میں نا اٹھے اور کسی کی یاد پھر سے اسے بے چین کرے,ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ آفیس سے گھر لوٹا تھا,کچھ دنوں بعد اسکی مگنی تھی اسی وجہ سے عشارب نے اسکے اوپر کوئی بھی کام کا بوجھ نہیں رکھا تھا,وہ آفیس سے آتے ہی ہمیشہ کی طرح فریش ہونے گیا تھا اسنے اسنے بلیک سوٹ پہن کر رکھا تھا,فریش ہونے کے بعد وہ کمرے سے باہر آیا فرج سے خود ہی جوس نکالا اور ٹیوی آن کرکے سامنے بیٹھ گیا,وہ ایک مووی دیکھنے میں مصروف تھا اسنے ادھا گلاس جوس ختم کرلیا تھا جس وجہ سے وہ کافی رلیکس فیل کر رہا تھا

اسنے گاڑی سے قدم نیچے رکھے دل زوروں سے دھڑک رہا تھا,بڑی مشکل سے اسنے عاشر حسن کا گھر ﮈھونﮈا تھا,اسے پتا تھا جو یہ کرنے والی ہے شاید ساری زندگیوں کا رخ بدل سکتا ہے پر پھر بھی اسنے ہمت نا ہاری اور آگے چل پڑی,اب اسکے قدم رک گۓ وہ عاشر کے گھر کے بلکل قریب تھی,اسنے گھر کی بیل بجائی اور سائیﮈ پر کھڑی ہوکے آسپاس کا جائزہ لینے لگی,کافی انتظار کرنے کے بعد دروازہ ابھی تک نہیں کھلا,اسنے موبائل نکالا اور کسی کو کال کرنے لگی,پر نمبر مسلسل بند آرہا تھا,اس کا غصہ مزید سر پر چڑھ گیا,گھڑی پر نظر ﮈالی تو وقت بڑی تیزی سے آگے نکل رہا تھا,اسنے پھر سے اپنی انگلیا گھنٹی پر رکھی اور زور زور سے بجانے لگی,کچھ لمحوں بعد اسے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی تو وہ دروازے سے دور ہوگئی,

دروازہ کھل گیا عاشر نے سامنے آکر غصے سے کہا,یہ کیا بدتمیزی ہے کسی کوئی اس طرح سے بیل بجاتا ہے,,,

اس لڑکی کا چہرا نقاب سے ﮈھکا ہوا تھا اسکے ہاتھ میں موبائل اور انگلیا چادر کے پلو پر تھی جس سے اسنے چہرے کو چھپا رکھا تھا,

لڑکی نے عاشر کی باتوں کو نظر انداز کیا اور خود بول پڑی,,,

مجھے عاشر حسن سے ملنا ہے کیا وہ گھر پر ہے,,,

کیوں کیا کرنا ہے عاشر کا……عاشر اسے سر سے پاؤں تک دیکھ کر بولا…..

خون کر دینا ہے اسکا…..وہ بہت غصے سے بولی….

کیا خون وہ بھی میرا,مطلب عاشر کا پر کیوں کیا کیا ہے اسنے,عاشر آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھنے لگا…!

اسنے عاشر کی باتوں پر ردی بھر بھی دہیان نہیں دیا اور اسے دھکا دیکے گھر میں گھس گئی,,,

***************************

مہرماہ اور انمول کی friendship بڑھ گئی تھی وہ روز کلاس میں ساتھ ہی بیٹھتے تھے, ایک سال گزرنے کو آیا تھا فرسٹ سیمسٹر بھی آنے والا تھا اور آج مہرماہ کی ایکسٹرا کلاس تھی اس لیے انھیں دیر ہوگئی اسنے گھر پر پہلے ہی بتا دیا تھا,چھٹی میں وہ انمول کے ساتھ نکلی تھی اور دونوں اپنی اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلے گۓ,,,

مہرماہ انجان سڑک پر سوچوں میں گم ہوکے گاڑی چلا رہی تھی,گاڑی سامنے آکے کسی بائیک سے ٹکرائی,مہرماہ نے بڑی مشکل سے گاڑی سمبھالی اور زور سے بریک لگا لیا,بائیک پر ایک لڑکا تھا جو سلپ ہوتے نیچے گر گیا,مہرماہ قدم لڑکھڑاتے ہوۓ آگے اس کے پاس آئی,,,

آر یو اوکے….مہرماہ نے گھبراہٹ سے کہا….

وہ لڑکا مسکرا کر اٹھ گیا,

مہرماہ اسے یوں دیکھ کر دنگ رہ گئی اتنے میں کسی نے پیچھے سے مہر کو ﮈنﮈا مارا,,

مہرماہ سر کو پکڑتے ہوۓ نیچے گری اور بےہوش ہوگئی…..

کسی نے اسے گاڑی میں بیٹھایا اور گاڑی کو پیچھے موڑکر چل پڑے…..

***************************سامنے بڑا ہال تھا,جہاں ہر چیز بڑی خوبصورتی سے آرائش کی گئی تھی,وہ پورے گھر کو دیکھ دل ہی دل میں داد دینے لگی,

واقعی ہی یہ بزنس مین کا گھر لگ رہا ہے اسنے ہلکی آواز نکالی…

چلتے چلتے وہ اچانک رک گئی اسنے نقاب اتارا اور سامنے رموٹ پڑا تھا اسنے اٹھا کر ٹیوی آف کردی….

ارے ارے یہ کیا کر رہی ہو اور کیوں گھس آئی ہو ہمارے گھر میں وہ اسکے سامنے آگیا عاشر کو وہ چہرا جانا پہچانا سا لگ رہا تھا پر وہ ٹھیک سے اسے پہچان نہیں پایا,,

مینے کہا عاشر سے بات کرنی ہے,,وہ عاشر کو پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی,,

ہاں تو کرو میں ہی ہوں عاشر حسن…..

کیا……ت..تم….وہ عاشر کو دیکھ کر چونک گئی ہاں جتنی اسے عاشر کی تعریف سنی تھی بہت کم تھی جب وہ پہلی بار عاشر سے ملی تھی تو ٹھیک سے دیکھ نہیں پائی تھی اور آج دوسری بار عاشر کو سامنے دیکھے وہ ٹھٹک گئی تھی اسکی سانس گلے میں ہی اٹک گئی تھی, اتنے حسین لڑکے بھی ہوتے ہیں کیا…..اسنے خود سے سوال کیا…

ہاں ہوتے ہیں نا اور مثال سامنے ہے, جواب بھی اسکے دل سے ہی آئی…..وہ ایسے ہی عاشر کو دیکھتی رہی….

اوہ محترمہ کہاں کھو گئی….کون ہو….اب کی بار عاشر چلا پڑا….

چلا کیوں رہے ہو چپ کرو وہ ادھر ادھر دیکھ کر سرگوشی والے انداز میں بولی….

کیا کام ہے بولو….عاشر اعتماد اور مستحکم لحجے میں بولا….

تمہارا فون کیوں بند تھا,,,وہ لڑکی صوفے پر بیٹھ کر بولی….

ہاں وہ کل آفیس میں تھا تو کسی کی کال آ رہی تھی بہت پریشان ہو گیا تھا پر پتا نہیں…..

اتنا لمبا افسانہ کیوں سنا رہے اور وہ نمبر میرا تھا…..میں کرن صدیقی…وہ اسکی بات کانٹ کر بولی

ک…کیا….کرن تم ہو عاشر حیران ہوگیا جیسے اسکے سر پر کسی نے پہاڑ توڑ دیا ہو… اور تم یہاں تمہیں پتا نہیں کہ مگنی ہونے والی ہے یہاں کیوں آئی ہو صبر نہیں ہوتا,,,

Oh shut up….

اس خوشفہمی سے باہر نکل آؤ کہ میں تم سے ملاقات کرنے آئی ہوں ایک تو نیندیں حرام کر کے رکھی ہیں اوپر سے مجھے سکھا رہا ہے….

تمہاری پرابلم کیا ہے اور مین کب تمہاری نیندیں حرام کی ہیں…عاشر کا بھی پاڑا چڑھ رہا تھا….

دیکھو تم…..کرن نے انگلی اوپر کی……

ایکسکیوزمی یہ انگلی نیچے رکھ کر بات کیجیے اور یہاں آنے کا کیا مقصد ہے…

وہ کیا ہے نا مجھے شوق چڑھا تھا آپ کے ساتھ ﮈیٹ پر جانے کا…..

کیا ﮈیٹ پر اوہ میﮈم اپنے یہ شوق خوابوں تک ہی محدود رکھیے کیوںکہ میں تو تمہارے ساتھ چلنے سے رہا….عاشر کندھے اچکا کر بولا…

تمہیں تو میں….کرن ہاتھ اوپر کرکے اسکے گلے کے سامنے کر دیے…

عجیب زبردستی ہے ﮈیٹ پر نہیں چل رہا ہوں تو قتل کرنے پر اتر آئی ہو…..

آہ……کا کا کاکروچ…….کرن نے نیچے کاکروچ دیکھا تو چلا پڑی اور خود صوفے پر کھڑی ہوگئی….

ہاہاہاہاہا اسسے تم ﮈر رہی ہو…عاشر نے کاکروچ کو ہاتھ میں اٹھایا….

کون ہے عاشر……اندر سے شہرناز کی آواز آئی….

ک..ک.کون ہے….کرن گھبرا کر بولی……

شہرناز بھابھی….عاشر نے ہونٹ بھینج کر کہا….

کیا……آپا تو تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا…..عاشر نظریں گھما کر شہرناز کو جواب دے رہا تھا…بھابھی آپ کی…عاشر الفاظ نکالنے ہی والا تھا کہ کرن نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا….

میری بات دھیان سے سنو,اب کی بار رابطہ کال پر ہوگا سو اپنا موبائل آن رکھنا میں کال کروں گی…باۓ….وہ باۓ کہہ کر دروازے تک چلی گئی اور پھر سے منہ گھما کر عاشر سے مخاطب ہوئی….سنو اگلی بار نمبر آن ہونا چاہیے ضروری کام ہے وہ حکم دیکے بولی….

کیوں اگر آن نہیں کیا تو….عاشر نے اس دیکھ کر ہاتھ باندھے کھڑا ہوگیا….

I will kill you….

کرن نے دانت پیستے ہوۓ کہا….

OK let’s see…

عاشر کو اسے چڑانے میں مزا آ رہا تھا اور مسکرا کر جواب دیا….

کرن پاؤں پٹک کر چلی گئی

*************************

مہرماہ کی آنکھ کھلی تو اسنے خود کو ایک بند کمرے میں پایا,وہ چاروں طرف دیکھنے لگی اسے کوئی نظر نہیں آیا,اسنے اپنا باری سر اٹھایا اور بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی,,,

آہ…..اسکے منہ سے ایک آہ نکلی شاید اسکا ہاتھ زخم پر پڑا جو اسکے سر پر لگا ہوا تھا….

اسکو چکر آرہے تھے وہ گرتے گرتے بیﮈ پر بیٹھ گئی,اسنے زور سے سر کو دبوچ لیا,ناجانے کیوں پھر سے اسے کمرے میں آواز سنائی دی,

“مہرماہ سمبھل کر تم گر گئی تو چوٹ لگ جاۓ گی”

اسنے زور سے کانوں کو دبایا اور وہ کھڑی ہوگئی سامنے ٹیبل پر پانی پڑا تھا مہرماہ نے اٹھا کر گلاس لبوں پر لگا لیا,,,

مہرماہ پہلے سے کچھ بہتر محسوس کر رہی تھی اور وہ کمرے کو گھور رہی تھی

میں یہاں کیسے اسنے خود سے ہی سوال کیا….

پھر اسے ایک دم خیال آیا کہ کسی نے اسکے سر پر ﮈنﮈا مارا تھا اور اسکے بعد وہ بے ہوش ہوگئی اور اب وہ چودیواری میں بند ہے,,,

وہ گھبرا کر دروازے کے پاس گئی اور زوروں سے کھٹکھٹانے لگی……

Please open it….

مہرماہ زور سے چلائی پلیززز ہیلپ می کوئی ہے ہیلپ می…

وہ کچھ دیر تک یوں ہی چلاتی رہی مگر کوئی بھی نہیں تھا جو اسکی آواز سنتا,

وہ کھڑکی کے پاس گئی,اور جیسے ہی نیچے دیکھا تو اسکو شاک لگا گیا وہ حیرانگی سے نیچے کا ماحول دیکھ رہی تھی,,,

OMG it’s an illegal place…..

مجھے یہاں کون لایا میں یہاں کیسے…..وہ آنکھیں پھاڑ کر خود سے ہی سوال کرنے لگی…

لڑکھڑاتے ہوۓ قدموں کے ساتھ وہ پیچھے ہوگئی اور اسنے بیٹھنے کے لیے ٹیبل کا سہارا لیا جس کی سائیﮈ پر ایک نوک دار پن تھی اسنے جیسے ہی اپنا ہاتھ اس پر رکھا تو جھٹکے سے پیچھے ہوگئی,اسکے ہاتھ خون سے بھر گیا…..

مہرماہ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہہ رہے تھے,یہاں پر کوئی بھی نہیں تھا جو اسکے زخم کو پٹی باندھ تا,,,

وہ لڑھک کر نیچے گر گئی آج کوئی نہیں تھا جو اس مشکل سے اسے باہر نکالتا,وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی,اسے اس کمرے میں گھٹن ہو رہی تھی مہرماہ خود کو موت کے قریب سمجھ رہی تھی,زندگی دور ہوتی جا رہی تھی مصیبت سر پر ناچ رہی تھی, جس کے ہوٹوں پر خوبصورت مسکان ہوتی تھی اسکے چہرے پر آج آنسوں تھے,وہ آج حد سے زیادہ بے بس ہوگئی تھی,

اگر ان لوگوں نے کچھ……نہیں نہیں میں نہیں…..مہرماہ خان ہار ماننے والوں میں سے بلکل بھی نہیں تھی وہ کمرے میں ادھر ادھر دیکھ رہی تھی, اسکی نظر سامنے پرس پر پڑی جو مہرماہ کا ہی تھا اسنے کپکپاتے ہوۓ موبائل نکالا اور سوچوں میں گم ہوگئی,,میں گھر کیسے فون کروں کون آئیگا یہاں اور کیا کیا سوچیں گے اتنے عزتدار گھر کی لڑکی یہاں پر….نہیں میں گھر نہیں کروںگی,,,

اچانک اسے انمول یاد آیا اسنے جلدی سے ایک میسیج ٹائیپ کیا اور کھڑکی سے باہر کوئی خاص جگہ دیکھی اور اسکا ایﮈریس بھی لکھ کر اسے سینﮈ کر دیا…..

مہرماہ کے دل میں ایک امید بھر آئی تھی اسنے اپنی نظریں دروازے پر ٹکائی رکھی تھی….

کچھ لمحوں بعد دروازے کے کھلنے کی آہٹ آئی,کوئی جلدی سے دروازہ کھول کر اندر آیا اور پھر سے بند کردیا,,,

انمول سامنے دیکھ کر چونک گیا مہرماہ کارپیٹ پر سجدے میں پڑی تھی…

مہرماہ…..اسنے مہرماہ کو آواز دی

مہرماہ نے سر اٹھا کر دیکھا تو انمول تھا,وہ اٹھ کر اسکے گلے لگ گئی….

مجھے پتا تھا تم ضرور آؤگے انمول,میں بہت بری طرح پھنس چکی ہوں اس دلدل میں…..مجھے پتا نہیں کون لے آیا ہے یہاں پر پلیززز مجھے لے چلو,

کچھ نہیں ہوگا مہرماہ پہلے چپ ہوجاؤ…انمول اسے تسلی دینے لگا,,

دونوں اتنے قریب تھی کے وہ ایک دوسرے کی دھڑکنیں بھی محسوس کر رہے تھے,,

مہرماہ کو پتا ہی نہیں چل رہا تھا کے وہ ایک دلدل سے تو باہر نکلنے والی ہے پر خود کو جہنم میں ﮈھکیل رہی ہے

انمول نے اسے اپنی بانھوں کی گرفت میں لے لیا تھا,,,اسنے مہرماہ کو اپنے بہت قریب کر لیا تھا یہاں تک وہ اسکی سانسوں کی تپش محسوس کر رہی تھی…

“تنہائی میں گناھ کرنے سے بچو کیوںکہ خدا سب دیکھتا ہے”

اللّٰه سب سے بڑا ہے

اللّٰه سب سے بڑا ہے..

کھڑکی سے مغرب کی آزان کی آواز سنائی دی,

مہرماہ نے خود کو دور کردیا انمول چلیں پلیییز میں گھر جانا چاہتی ہوں….

ہممم فائن بٹ اس طرف خطرہ ہے اگر یہاں سے جائیں گے تو پکڑے جائیں گے ویسے بھی میں یہاں پیسے دیکے آیا ہوں مہرماہ تمہیں پتا نہیں ہے یہ بہت گھٹیا جگہ ہے,,,

تو یہاں سے کیسے نکلیں…

ہمیں کھڑکی سے جانا چاہیے….سوچنے کے بعد انمول نے جواب دیا,,

کیا……کھڑکی سے مہرماہ چونک کر بولی…

ہاں یار زمین تھوڑی گھرائی پر ہے اور اسکے علاوہ کوئی اور راستہ بھی تو نہیں ہے,,,

پر میں کود نہیں پاؤں گی….مہرماہ نیچے دیکھ کر بولی….

ایک منٹ انمول جلدی سے ایک رسی ﮈھونﮈ کے لایا جسکو بیﮈ سے باندھ لی مہرماہ پہلے تم اترو بعد میں میں آتا ہوں….

پر میں کیسے…..

میں ہوں نا تم بے فکر رہو….انمول نے اسکے ہاتھ ہاتھ رکھ کر کہا….

ٹھیک ہے….مہرماہ نے رسی کا سہارا لےتے ہوۓ نیچے آ رہی تھی,,,اسکے ہاتھ میں زخم تھا اس لیے وہ رسی کو ٹھیک پکڑ نہیں پائی بیچ میں اسکا ایک ہاتھ چھوٹ گیا,

مہرماہ دہیان سے…..پھر سے کوئی آواز اسکے کانوں میں گونجی وہ سوچ کر دنگ رہ گئی,اسکے دماغ پھر سے دو سال پیچھے چلا گیا اسے وہی کھائی دکھائی دی جو وہ اب دیکھ رہی تھی,مگر وہاں کوئی تھا جس نے اسکو سہارا دیا پر یہاں وہ صرف اکیلی تھی اسے اکیلے ہی نیچے اترنا تھا,,,

وہ دھیرے دھیرے نیچے آگئی گھڑی کو گھورا ٹائیم تیزی سے بدلتا ہوا دکھائی دیا,پانچ دس منٹ وہ یوں ہی کھڑی تھی انمول ابھی تک ظاہر نہیں تھا, وہ یوں ہی ٹہل رہی تھی کہ انمول بھی نیچے اتر رہا تھا,,

انمول کیا ہوا اتنی دیر کیوں لگا دی..

کچھ نہیں بس چلو تمہیں گھر ﮈاپ کروں….انمول آگے آیا اور گاڑی میں بیٹھ کر مہرماہ کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا,مہرماہ بغیر کچھ بولے بیٹھ گئی…..

____________________________________

عدیل اٹھو میں تیار بھی ہو گیا ہوں اور تم ابھی تک سو رہے ہو,,,عاشر عدیل کو جھجوڑ رہا تھا,,,

ابے سونے دو نا کل ہی تو شہر سے لوٹا ہوں اور اب آرام کرنے بھی نہیں دے رہے ہو,,,

اوہ کم آن یار کل سے صرف بیﮈ پر پڑے ہو اٹھو…عاشر نے عدیل کے منہ سے کمبل اٹھایا…

یار خود تو سوتے نہیں ہو اور مجھے بھی تنگ کر کے رکھا ہے,,,

ہاں سونا ہی تھا تو پاٹنرشپ ہی نا کرتے,,

اور پاٹنرشپ نہیں کرتا تو لڑکی کہاں سے ملتی اور وہ نہیں ملتی میں تو کنوارا ہی مر جاتا….عدیل اٹھ کر افسردگی سے بولا

سنو میرے پیارے دوست تم ابھی تک کنوارے ہی ہو,عاشر نے اسکے کان کو مروڑا…

آ.ہاں.میں تو بھول ہی گیا…عدیل کان چھڑا کر بولا….

اب اٹھو آفیس چلیں میں لیزہ کو سب کچھ سمجھا دوں تب تک تم ٹیکیٹس کرواکے لانا,,,

کیا….لیزہ تم مجھے اکیلا چھوڑ کر اس مس لیزہ کے ساتھ گھومنے جاؤگے,,,عدیل شررارتی انداز میں منہ پر ہاتھ رکھ کر کہہ رہا تھا,,

اوہ پلیییز یہ اپنی نوٹنگی بند کر ہم پاکستان واپس جا رہے ہیں اور لیزہ کو آفیس کا کام سمجھادونگا کیوں کہ یہاں پر وہ سمبالے گی سب کچھ اور کبھی کبھی ہم بھی چکر لگائیں گے یہاں…,,

کیا…..پر تم تو چلنے کو تیار ہی نہیں تھے اب اچانک کیسے….عدیل اسکے پاس آکے حیرانگی سے پوچھ رہا تھا,,

یار پتا نہیں بہت دل کر رہا ہے پتا نہیں کیوں میری سانسیں وہاں کھینچی جا رہی ہیں,,,

اوکے اوکے اب یہ رونا دھونا بند کر میرے گرم کپڑے نکال میں نہانے جا رہا ہوں….وہ ایک آنکھ بند کرکے مزاحیہ انداز میں بولا کیونکہ اسے پتا تھا عاشر پھر سے کسی کی یاد میں ﮈوب کر اداس ہوجاۓ گا…..

اوۓ نوکر نہیں ہوں تیرا…..عاشر چڑ کر بولا…

دوست تو ہے نا اب یہ نخرے سائیﮈ پر رکھ کر وہاں سے کپڑے نکالو نا ورنہ اور بھی لیٹ ہوجاۓ گا….عدیل التجائی نظروں سے اسے دیکھنے لگا….

جا توں میں نکال دیتا ہوں,,عاشر سنجیدگی سے بول کر بیگ کھولنے لگا….

_____________________________

وہ دبے پاؤں گھر میں داخل ہوئی اسنے بہت کوشش کی کے چھپ چھپ کر کمرے میں ہی جاۓ پر کچن میں ریحانہ بیگم ملازمہ کے ساتھ کھڑی تھی اسکو مہرماہ کے قدموں کی چاپ سنائی دی….

مہر……ریحانہ نے مہرماہ کو آواز دی…

مہرماہ کی پشت ریحانہ کے طرف تھی اسنے سر پر ہاتھ رکھ کر زبان کو دانتوں کے نیچے دبا لیا…..

تائی جان…..وہ اب اسکی طرف مڑی….

بیٹا تم ابھی تک کہاں تھی اور پتا ہے تمہارے تایاجان کتنے پریشان ہوگۓ تھے….

مہرماہ کو لگا اگر سچ بتایا تو گھر والے پریشان ہوجائیں گے اس لیے اسنے خود کو جھوٹ بولنے کے لیے تیار کردیا تھا,, تائیجان وہ.وہ آپکو بتایا تھا نا کے ایکسٹرا کلاس ہوگی تو اسی وجہ سے دیر ہوگئی…مہرماہ نے اپنی بات اسے کی جیسے وہ سچ بول رہی تھی,,,

اچھا ٹھیک ہے بیٹا تم فریش ہوجاؤ میں کھانا لگاتی ہوں,,,

ویسے کیا بنایا ہے چھوٹی ماں….

چھوٹی ماں……ریحانہ بیگم حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی,,

ہاں…اب آپ اتنا خیال رکھتی ہیں میرا مما کی طرح اس لیے سوچا چھوٹی ماں بلا لوں….

ہاہاہاہاہا ہاں بیٹا بلکل اور تم بھی میری بیٹی ہی تو ہو….ریحانہ مسکرا کر خوشی سے بولی….

تھینکیو چھوٹی ماں….

مہرماہ اسکے گلے لگ گئی,اور فریش ہونے کے لیے روم میں چلی گئی,,,,,

Episode 19

عاشر کرسی پر بیٹھا اپنی دنیا میں مگن تھا,سامنے میز پر کافی رکھی ہوئی تھی جس میں سے گرم گرم بھاپ اڑ رہی تھی,عاشر کے ہاتھوں میں ﮈائری تھی جس کو پڑھ کر وہ مسکرہ رہا تھا,اسکے چہرے پر ادسی صاف ظاہر تھی مگر گھر والوں کی خوشی کے لیے اسنے سمجھوتا کرلیا تھا,بس اب اسنے اس ﮈائری کو اپنا سب کچھ مان لیا تھا پر محبت تو اب بھی اسکے دل میں کوٹ کوٹ بری تھی,وہ جانتا تھا خدا جو بھی کرے گا سب اس کے حق میں ہی ہوگا,وہ مذھبی انسان تو پہلے سے ہی تھا مگر اس محبت کی جدائی نے اسکو اپنے رب کے بہت قریب کرلیا تھا,کافی سے بھاپ اٹھنا ختم ہوگیا تھا مگر عاشر کو ایک لمحے کے لیے بھی اپنی ﮈائری سے فرصت نا ملی وہ اب بھی اس کے ایک ایک الفاظ کو اپنی دل میں اتارتا جا رہا تھا,

موبائل کی بیل بجی عاشر کا دھیان ہٹ گیا اسے اب اندازا ہوا کے کافی بھی ٹھنﮈی ہو چکی ہے,عاشر نے کافی اٹھا کر لبوں سے لگائی اور فون اٹھا کر کال رسیو کرلی…

اتنی دیر ایک کال اٹھانے میں,,عاشر کے کچھ بولنے سے پہلی کسی لڑکی کی غصے والی آواز آئی…

اوہ ہلو میں تمہارا نوکر نہیں ہوں کہ تمہاری کال کا ویٹ کروں اور کال آنے پر ہی اٹینﮈ کروں,,عاشر بھی اس پر بڑھک گیا,,,

میں نے کوئی بحث کرنے کے لیے کال نہیں کی ہے بس ضروری بات کرنی ہے,,وہ دو ٹوک انداز میں بولی….

تو بولیے کیا بات کرنی ہے مس کرن….

نہیں ایکچولی بات کال پر کرنے کی نہیں ہے ہمیں ملنا چاہیے,,,

کیوں….ملنا کیوں..عاشر بات کرتے ہوۓ کھڑکی کے سامنے آگیا,,,

بس بات ہی کچھ ایسی ہے اور جب بھی فری ہو تو بتا دینا ویسے بھی مگنی میں دو دن ہی بچے ہیں تو تھوڑا جلدی ملنا تھا…

عاشر کے من میں سوال ابھرنے لگے,وہ خاموش ہوگیا,,

کیا ہوا عاشر حسن…

کچھ نہیں میں فری ہوں شام کو ایﮈریس بیجھ دینا میں آجاؤں گا,,,

ہممم فائن میں ویٹ کرونگی,اور ایﮈریس میسج کرکے بتادونگی,,

اوکے باۓ,,,عاشر نے کال کٹ کردی,,,

*******************

شام کا وقت تھا سورج بھی ﮈوبنے کو تھا,وہ بالکونی میں بیٹھ کر ایک بک پڑھ رہی تھی, جس کو یہ سب بکواس کہتی تھی جس نے کبھی کسی لو سٹوری پر دھیان نہیں دیا آج وہ #عشق_اعظم ناول پڑھ رہی تھی,دوسرہ صفحہ پلٹنے کے بعد اسنے تیسرا ورق پلٹا,اسکی آنکھوں کے آگے جیسے جیسے عشق نام آتا گیا اسکا دل بھی محبت کے رنگ میں ﮈوبتا گیا,وہ آج پہلی بار محبت کے احساس کو جان پائی تھی,پہلی بار اسکا دل دڑھک رہا تھا, اسنے جب چوتھا ورق پلٹا تو اسکی آنکھیں ٹھٹک گئی اس صفحے پر عنوان دیا گیا تھا….

“عشق کی تلاش”

مہرماہ کے دل میں بے چینی اور بھی بڑھتی گئی وہ چاہتے ہوۓ بھی خود کو روک نہیں پائی اس لیے اسنے وہ پڑھنا شروع کیا,,

(«احمد ملک جو ایک رئیس فیملی سے بلانگ کرتا تھا اسکا باپ افراز ملک جو بہت بڑا بزنس مین تھا وہ بھی اپنے باپ کے ساتھ بزنس سمبھالنے کے لیے وہ بھی آفیس جانے لگا, اور اسے نیو ورکرز کا انٹرویو لینا تھا,,,اور دعا بھی ان میں شامل تھی وہ بھی اپنی امید لیکے ان کی آفیس میں آئی تھی,احمد نے اسے سلیکٹ کردیا تھا,جاب کرنے کی وجہ سے وہ اپنی ماں کا بھی دھیان اچھے سے رکھ پاتی تھی یوں ہی وقت گذرتا گیا احمد دعا سے امپریس ہوگیا تھا,اسنے اپنے باپ کو اسکے بارے میں بتایا,اسکا باپ بہت ہی غصے میں آگیا اور لوئر کلاس فیملی کے ساتھ رشتہ جوڑنے کے لیے صاف صاف انکار کردیا,مگر دعا کی محبت میں وہ ﮈوبتا گیا اپنے پاپا کو منانے کے لیے وہ خودکشی کرنے کی کوشش کی,آخر مجبورا اپنے بیٹے کے خاطر وہ دعا کے گھر رشتا لیکے گیا اسنے اپنے بیٹے کی خوشی کے لیے ہاں کی تھی مگر دعا کو دیکھ کر اسکے دل میں آگ کے چھولے جلنے لگتے تھے,جب کے اس لڑکی کو کچھ بھی پتا نہیں تھا وہ ان سب سے بلکل انجان تھی وہ بس محنت کی کمائی سے گزارا کرنا چاہتی تھی,جب افراز ملک اسکے گھر رشتا لیکے گیا تو وہ ایک تعجب میں آگئی مگر اپنے بوس کو انکار نہیں کرپائی اور اسکی ماں بھی بہت خوش ہوگئی تھی آخر اس کی بیٹی کی زندگی ایک الگ اور حسین منزل کا رخ کرنے والی تھی ان ماں بیٹی نے اپنی زندگی میں بہت دکھ دیکھے تھے,اور اب اسکی ماں کو یقین ہوگیا کے اسکے جانے کے بعد اب اسکی بیٹی کو کوئی دکھ نہیں ملے گا,ان لوگوں نے دل سے رشتہ قبول کیا,کچھ عرصے بعد جب احمد اور دعا کی مگنی فکس ہوگئی اب تو دعا بھی احمد کو چاہنے لگی تھی پر افراز ملک نے ان دونوں کو الگ کرنے کا سوچا جب صرف دو دن ہی بچے تھے تو افراز ملک نے دعا کو کﮈنئپ کروالیا اسکو ایک مہینے تک بند کمرے میں رکھا گیا دعا کی ماں اور احمد دونوں مل کر دعا کو ﮈھونﮈنے لگے پر وہ کہیں نہیں ملی ایک دن سے ایک ہفتہ اور ایک ہفتے سے ایک مہینا گزر گیا پر دعا کا کچھ پتا نہیں چلا,احمد دعا کے عشق میں خود کو ہی بھول گیا وہ در در بھٹکتا رہا پر دعا کے ملنے کا نام ہی نہیں تھا,ایک مھینا ہونے کے بعد دعا بڑی بری حالت میں اپنے گھر لوٹی اور احمد کو اس کے بارے میں کچھ بھی پتا نہیں چلا دعا حد سے زیادہ تکلیف کاٹ چکی تھی اسنے بہت بڑا درد پا لیا تھا وہ ایسی بدتر حالت ہونے کے باوجود بھی احمد کو کھونا تو نہیں چاہتی تھی مگر افراز ملک نے اب کی بار اسے اسکی ماں کا بھی وہ ہی حشر کرنے کی دھمکی دی تھی,آزاد ہونے کے اسی رات افراز ملک پیسوں کا بیگ لیکے دعا کے گھر آیا اور احمد کی زنگی سے دور جانے کے لیے رشوت دے رہا تھا, دعا نے ماں کو پہلے ہی ساری حقیقت بتا دی تھی اب ان دونوں کو احمد کی زندگی اور شہر سے کہیں دور جانے کو کہا گیا تھا, غربت کی وجہ سے دعا چاہتے ہوۓ کچھ بھی نہ کر پائی اور اپنی ماں کو بچانے کے لیے اسنے شہر سے دور جانے کے لیے سامان پیک کرلیا تھا,افراز نے آخری بار الوداع کرنے کے لیے ان دونوں کو پیسوں کا بیگ تھما رہا تھا,دعا نے وہ اسکے ہاتھوں سے لیکے پورا بیگ اسکے سامنے کھول کر پیسہ اسکے منہ پر مار دیا,,

ہم وہ نہیں جو اپنی خوشی کے لیے خود کو ہی بیجھ دیں,دوسروں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھائیں,اس دولت سے کسی کے احساس کسی کا ایمان اور کسی کی محبت خریدیں,یا کسی غریب کی غربت کا مزاق اڑائیں,

“اور یاد رکھنا مسٹر افراز ملک جس دولت کی وجہ ہماری غربت کا یوں مزاق اڑایا ہے نا دیکھنا ایک دن خدا تجھے تیری اسی دولت میں ﮈبوۓ گا یہی دولت تمہارا سکون چین برباد کردےگی,

اور اپنی اس دولت کو اپنے پاس رکھو کیوں کے مینے اپنی محبت احمد ملک تم رئیس کو بھیک میں دے دی ہے, خیر جو اپنے بیٹے کا جو نا ہو پایا وہ کسی اور کے احساس کو کیا جانے گا,,دعا نے اپنے الفاظ ختم کیے اور ماں کو ہاتھ سے لیکے گھر سے نکلنے لگی,,,

افراز ملک ہم یہاں صرف اپنی زندگی گزارنے کے لیے آۓ تھے کسی کا گھر اجاڑنے کے لیے نہیں پر دیکھنا جو سب تم نے میری بیٹی کے ساتھ کیا ہے اسے تڑپایا ہے وہ ہی درد تجھے ضرور ملیگا دعا کی ماں نے بھی اپنی آہ نکالی,,وہ دونوں اب شہر سے کہیں دور چلی گئی احمد پہلے دعا کو ﮈھونﮈ رہا تھا اب اسکی ماں کو بھی افراز نے اسے ان دونوں کے لیے بہت برا بھلا کہا کہ وہ ﮈھونگی تھے جو بھاگ گئے مگر احمد خود کو روک نہیں پایا اسنے ہمت نا ہاری وہ ان دونوں کو ہر جگہ تلاش کر رہا تھا,افراز ملک کو لگا یہ کچھ ہی دن ایسے رہے گا اور بعد میں وقت کے ساتھ ٹھیک ہوجاۓ گا مگر احمد پر عشق کا جنون تھا دن بہ دن اسکی حالت خراب ہو رہی تھی وہ کئی دنوں تک کسی درگاھ میں رہتا تھا کبھی مسجدوں میں تو کبھی سڑکوں پر دعا کی تصویر لیکے پھرتا تھا وہ ایک مکمل مجنوں بن چکا تھا ایک سال ہوگیا اسکے دماغ پر اثر پڑ گیا اسکا باپ افراز ملک نے دنیا کے بڑے بڑے ﮈاکٹروں سے علاج کروایا پر نا کوئی عشق کا علاج کرپایا اور نا ہی اسکی طبیعت سدھری وہ اب بزرگوں کی مزاروں پر اپنی زندگی گزارنے لگا وہ اپنے باپ تک کو نہیں پہچان رہا تھا اسے بس ایک دعا یاد تھی جس کو اسنے بے انتہا پورے حق سے چاہا تھا افراز کو کوئی اور راستہ نا ملا وہ خود کو ہارتا ہوا محسوس کر رہا تھا آج اسے احساس ہوا تھا کے اولاد کا پیار اور ماں کی آہ کیا ہوتی ہے اسنے اپنے بیٹے کی زندگی بچانے کے لیے دعا کو ﮈھونﮈنا شروع کیا اسے تو پتا بھی نہیں تھا کہ اس شہر سے نکل کر وہ اکیلی ماں بیٹی کہاں جا سکتی ہے اسنے بھی کئی شہر ﮈھونﮈے مگر نا دعا ملی اور نا ہی اسکی ماں وہ بےبس ہوگیا تھا,آج وہ اپنے گناہوں کی اور دعا اور اسکی ماں کے ساتھ کی ہوئی زیادتوں کی خدا سے معافی مانگ رہا تھا اور وہ بھی اسی مزار پر آگیا جہاں پر احمد نے خود کو بسا لیا تھا وہ احمد سے بھی معافی مانگنا چاہتا تھا وہ اپنے بیٹے کی حالت کو دیکھ کر رو رہا تھا کہاں بزنس مین کا ایک حسین لڑکا اور کہاں وہ محبت میں خود کو برباد کرچکا تھا عشق کی تلاش میں وہ کھانا پینا ہی بھول گیا تھا,افراز اسکی حالت دیکھ کر اسکے آگے گھٹنوں کے بل ہاتھ جوڑ کر بیٹھ گیا تھا مگر احمد نے ایک جھلک بھی نہیں دیکھی جب افراز نے احمد کو خود کی طرف موڑا تو احمد فرش پر ہی لیٹ گیا شاید اسکے جسم سے سانسیں چلی گئی تھی وہ زندھ لاش کی طرح جی رہا تھا مگر اب وہ بلکل ختم ہوچکا تھا,صرف اکڑ اور پیسوں کے غرور کی وجہ سے افراز ملک نے اپنی اصلی دولت کھو دی تھی…)

مہرماہ کی آنکھوں سے آنسوں ٹپک رہے تھے وہ خود سے ہی سوال کرنے لگی…

کیا محبت ایسی ہے جو اپنو سے دور کرتی ہے,,

پھر سے بند کمرے میں آواز گونجی” نہیں محبت تو خدا کی ﺫات کے قریب لاتی ہے“

وہ کھڑی ہوکے پورے کمرے میں اسی آواز والے کو ﮈھونﮈنے لگی….

محبت…..مہرماہ کے لب لرزش کرنے لگے,,

آپی مما بلا رہی کوئی بات کرنی ہے,,فرح کی آواز سن کر مہرماہ کے خیال ٹوٹے اور پیچھے مڑ کر فرح کو دیکھا,,

اچھا پر چھوٹیماں کو کیا کام ہے,,,مہر فرح سے مخاطب ہوئی…

پتا نہیں آپی پر آپ کے چہرے پر اداسی کیوں ہے,,,

ہاں وہ یہ ناول پڑھ لیا تھا,,,مہرماہ نے بک آگے کیا اور خود صوفے پر بیٹھ گئی…

آپی مطلب آپ نے پورا پڑھا,,

ہاں پورا پڑھا بہت اچھا تھا,,,

کیا…..بہت اچھا مطلب آپ کو یہ عشق سٹوری اچھی لگی…فرح حیرانگی سے پوچھنے لگی….

ہاں اس میں کیا ہے مہرماہ نے کندھے اچکا کر جواب دیا,,

لگتا ہے آپ کو سر میں کہیں چوٹ لگی ہے,,,فرح مزحیہ انداز میں مہرماہ کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولی,,

کیا ہے پاگل ہو کیا….مہرماہ نے فرح کا ہاتھ جھٹکا…

کیا ہے آپی مزاق کر رہی تھی…فرح نے منہ پھلا دیا….

اب یہ موٹی کی طرح منہ مت پھلا ماں کو کہو میں آرہی ہوں…

اوکے….نے خشک لحجے میں کہا..

مہرماہ صوفے سے ٹیک لگا کر اپنی سوچوں میں گم ہوگئی…

_______________

اسنے سیاھ شرٹ اور سیاھ جینز پہن کر رکھی تھی ساتھ میں ہمیشہ کی طرح بائیں ہاتھ میں گھڑی اور چہرے پر وہی ﮈمپل والی مسکراہٹ سجاۓ کسی شاندار ہوٹل میں اپنے قدم رکھے….

مسٹر عاشر,,,, کسی لڑکی کی پیچھے سے آواز آئی…

عاشر نے پیچھے دیکھا تو کرن کھڑی تھی..

کرن عاشر کو دیکھ کر کسی گھری سوچ میں مبتلا ہوگئی اور وہ ہلنا تک بھول گئی تھی,

تم یہیں کھڑی رہو میں جا رہا ہوں….عاشر نے کرن کے آگے چٹکی بجائی اور وہ آگے نکل گیا….

اوہ سنو سنو….کرن بھی اسکے پیچھے چلی آئی…

کرن نے ٹیبل بک کروایا تھا وہ دونوں وہی بیٹھ گۓ….

کیا لوگے….کرن نے مینو دیکھتے ہوۓ عاشر سے پوچھا….

کچھ نہیں بس جو بتانا ہے بتاؤ مجھے دیر ہو رہی ہے….

ٹھیک ہے آپ کی مرضی اور جب تک میرا کزن نہیں آجاتا تب تک میں نہیں جانے دونگی…..

عاشر مزید سوالوں میں الجھتا گیا….کون کزن اور میں یہاں تم سے بات کرنے آیا تمہارے کزن سے نہیں…..

میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی…..کرن نے صاف صاف کہہ دیا عاشر کے چہرے پر رنگ آگیا اسنے آنکھیں میچ لی..

کرن نے غور سے اسکے چہرے کے تاثرات دیکھے جن سے وہ کچھ بھی اندازہ نہیں کرپا رہی تھی,من ہی من میں اسے عاشر کا ﮈر تھا کیوں کہ وہ بڑی سنجیدگی والا شخص لگتا تھا,عاشر اسے عجیب نظروں سے گھور رہا تھا اس کو حیرت ہوئی یا دکھ کرن کچھ بھی نہیں جان پائی,,

مگر عاشر کے لیے بھی یہ خوشگوار لمحا تھا…کیوں کہ وہ خود بھی شادی کرنا نہیں چاہتا تھا,

کیا یہی بات بتانے کے لیے آپ نے مجھے یہاں بلایا ہے….وہ سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا,,

یہ بات اتنی غیر اہم تو نہیں ہے اب مجھے اور بھی کچھ بتانا ہے……

مثلاً….عاشر نے پوچھا….

میرا رشتہ بچپن میں ہی طئہ ہوگیا تھا میری نانی نے اپنے پوتے کے ساتھ جوڑ دیا تھا مطلب کے میرا کزن ہے,,,

عاشر کو جھٹکے کے اوپر جھٹکا لگا…..کیا……

تو اب کہاں ہے آپکا کزن اور رشتہ ہونے کے باوجود بھی میرے ساتھ کیوں…..

غلطی تمہاری ہے….

واٹ اب آپ کی فیملی میں میری کیا غلطی ہے…

تمہاری یہ غلطی ہے کہ ایک بزنس مین بن چکے ہو,,,

مطلب…عاشر کو دھیرے دھیرے اندازہ لگ رہا تھا پر پھر بھی وہ کرن سے سوال کرتا گیا….

مطلب کے میرا کزن تمہاری طرح بزنس مین نہیں ہے اور میری موم کا ضد ہے کے کوئی امیر لڑکا ہو جس کے ساتھ میری لائف سیٹ ہوجاۓ جو میرے اسٹیٹس سے میچ کرے,,پر میں ان سب کو نہیں مانتی میرے لیے وہ ہی ٹھیک ہے جو میرا من کہہ رہا ہے,زندگی میں پیسوں سے زیادہ پیار کی دولت کا ہونا ضروری ہے اور جہاں تک میرا کہنا ہے جتنا پیار مجھے میرا کزن دیگا تم اسکا ایک حصا بھی نہیں دے پاؤگے….اسکے زبان میں جو آرہا تھا وہ بولتی جا رہی تھی,

عاشر کے دل میں ایک عجیب چبھن ہوئی اور دل ہی دل میں خود کو کوس رہا تھا واقعی ہی میں غلط کرنے والا تھا میں کرن کو کوئی خوشی نا دے پاتا….

تو تم اس رشتے سے صاف صاف انکار کردو….

مینے کیا تھا پر موم نے میری ایک نہیں سنی وہ نہیں چاہتی ہے کہ…..

عاشر نے اسکی بات کاٹ دی,تو تمہاری فیملی کو صرف اس بات پر اعتراض ہے کہ وہ چھوٹی فیملی سے ہے…

اگزاکٹلی….موم کو میری خوشی سے زیادہ میرے سٹیٹس سے میچ کرنے والا امیر لڑکا چاہیے,,,

تو مجھے کیا کرنا ہے اب….عاشر سیدھا بات پر آگیا…

تم منع کردو…

میں نہیں کرسکتا کیوںکہ تم سے رشتہ جوڑنا میری مرضی نہیں تھی وہ بھی مینے بھابھی کی خوشی کے لیے ہاں کی تھی….

کیا…..اور گھر والوں کے لیے تم یہ زبردستی سے شادی کر رہے تھے زندگی سے اتنا بڑا سمجھوتا,,,,,

ہاں کیونکہ مجھے میری فیملی کی خوشی پہلے دکھائی دیتی ہے,,,

ویل مینے اپنی بات کردی اب تمہاری باری ہے تم صاف صاف انکار کردو میرے رشتے سے تب موم کے پاس صرف ایک ہی آپشن ہوگا….کہ وہ میرا رشتہ وہیں کردے گی جہاں میں اور باقی لوگ چاہتے ہیں….اور اگر ایسا نہیں ہوا تو دو فیملیز میں ایک دیوار کھڑی ہوجاگی….

عاشر الجھتا گیا اسے کچھ سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا کہ اب کیا کرے….وہ خاموش ہوگیا تھا کرن اسکے جواب کا انتظار کر رہی تھی…

عاشر اب بھی خیالوں میں گم تھا کرن کا موبائل بجا وہ کال رسیو کرکے بات کرنے لگی…

میرا کزن آ رہا ہے یہاں تم سے بات کرنے….

کیا…..پر مجھے ابھی نکلنا ہوگا میرا دوست آیا ہوا ہے اسے پک کرنا ہے…..

آپ اپنے فرینﮈ سے کسی اور دن مل لینا بس تھوڑی ہی دیر میں وہ آتا ہوگا…

پر……عاشر کچھ بولتا اسسے پہلے عدیل کی کال آگئی…

ویٹ میں آتا ہوں….عاشر کرن کو بول کر تھوڑا دور ہوکے عدیل سے بات کرنے لگا….

عدیل سوری یار مجھے کام ہے تھوڑا میں نہیں آ پاؤں گا….عاشر نے بات کرنے سے پہلے ہی معذرت کرلی….

کوئی بات نہیں ہے میں بھی ایئرپورٹ سے نکل گیا ہوں تم سے ایک گھنٹے بعد گھر پر ہی ملاقات ہوگی…..

ہممم ٹھیک ہے تو توں میرے گھر آجا……

اوکے ایک دو گھنٹے میں آجاؤں گا مجھے اب کسی اور سے ملنے جانا ہے….

اچھا کس سے…..

بس بعد میں آکے سب بتاؤں گا….

پر ہوا کیا ہے تم بتا کیوں نہیں رہے ہو….

بس کچھ بول نہیں پا رہا ہوں اب سامنے ہی بات ہوگی….عدیل بڑی غمگین لحجے میں بولا

عاشر سمجھ گیا اور اسے جلدی گھر آنے کو کہا……

عاشر کو بہت غصہ آ رہا تھا دانت پیستے ہوۓ موبائل جیب میں رکھا اور کھڑکی سے سامنے کا منظر دیکھنے میں مصروف ہوگیا,,,

چند لمحوں بعد وہ پیچھے مڑا دیکھا تو کرن کے ساتھ کوئی لڑکا بیٹھا تھا اسکی پشت عاشر کی طرف تھی اسلیے وہ اسے دیکھ نہیں پایا وہ آگے اسکی طرف بڑھا….

دیکھو وہ آگیا عاشر حسن….کرن نے عاشر کو آتے دیکھا تو وہ اس لڑکے کو اشارہ کرکے کہہ رہی تھی…..

عاشر جیسے ہی سامنے آیا تو وہ دونوں ایک دوسرے کو عجیب نگاہوں سے گھور رہے تھے,,

تم…..یہاں….عاشر نے اسکے کالر کو پکڑا….

وہ کچھ بولتا اسسے پہلے عاشر نے خلا میں ہاتھ اٹھایا,اور سیدھا سامنے والے کے گال پر جاکے لگا,,,

وہاں پر بیٹھے سب لوگ ان دونوں کو دیکھ رہے تھے,,

یہ کیا بدتمیزی ہے عاشر,,,کرن عاشر کا ریئیکشن دیکھ کر بولی,,

عاشر شدید غصے میں آگیا اسے ہاتھوں سے جھنجوڑ کر نیچے پھینکا….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *