Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon NovelR50673 Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 07)
Rate this Novel
Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 07)
Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon
سردیاں اپنے عروج پر تھی,دھلی کے ہر کونے میں برف باری ہو رہی تھی,آسمان پر بادلوں کی دھندھ کی وجہ سے سورج کا نکلنا مشکل تھا,اسکے ہاتھوں میں وہ ہی ﮈائری تھی جس کو سینے سے لگا کر سکون کی نیند سو رہا تھا,دن کے بارہ بج رہے تھے اسے تھوڑی بیچینی محسوس ہوئی,پورے بیﮈ پر وہ اپنے ہاتھ پھیلا رہا تھا,اچانک نیند اکھڑی وہ جلدی اٹھ گیا,سامنے گھڑی کی طرف دیکھا تو بارہ بج رہے تھے,اسنے سامنے پڑا ہوا موبائل اٹھایا,پندرھ مس کال اور دس میسیجز لگے ہوۓ تھے,اسے بہت سردی محسوس ہو رہی تھی,پر پھر بھی وہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس گیا,اسنے موبائل چیک کیا تو کچھ کالس کلائینٹ کی تھی اور کچھ عشارب بھائیجان کی تھی,اسنے پہلے بھائیجان کو کال کی,,
السلام علیکم بھائیجان….
وعلیکم السلام عاشر بیٹا کیسے ہو,صبح سے کال ہی نہیں اٹھا رہے تھے خیرت تو ہے,,
ہاں بھائیجان سب خیر ہے,بس سردی کی وجہ سے ٹائیم کا پتا ہی نہیں چلا,سو رہا تھا تو کال بھی سنائی نہیں دی,
اچھا بھئی ٹھیک ہے….
ہممم بھائیجان,آروو اور بھابھی کیسے ہیں وہاں,,,
سب بہت یاد کرتیں ہیں تجھے عاشر,,,
بھائیجان مجھے بھی وہاں کی بہت یاد آ رہی ہے عاشر کی آواز میں ایک درد تھا, وہ درد جو شاید ہی کوئی محسوس کر رہا ہو,,,
عاشر اداس مت ہو تم واپس کیوں نہیں آجاتے,,
نہیں بھائی یہاں پر بھی تو کام ہے نا بس کچھ میٹنگز ختم ہو جاۓ میں واپس آجاؤں گا,,,
ہاں پر بس عاشر اب جلد آنے کی کوشش کرنا,,,
جی بھائیجان ٹراۓ کروں گا,,,,
ٹھیک ہے تم فریش ہوجاؤ آروو آجاۓ تو بعد میں کال کروں گا,,
اوکے بھائی آروو سے ضرور بات کروانا,,,
ٹھیک ہے بابا وہ ابھی سکول گیا ہے,جب آۓ تو بات ہوجاۓ گی,
اوکے بھائی اللّٰه حافظ,,,
اللّٰه حافظ,,عشارب نے کال کٹ کردی,,
عاشر نے ایک مسیج ٹائیپ کیا اور سینﮈ کرکے موبائل بیﮈ پر پٹک دیا,خود بند کھڑکی سے باہر کا جائزہ لینے لگا,,,
«بہت ستایا ہے اسکی بے بس یادوں نے
اے شام تو گذر جا اب رویا نہیں جاتا»
____________________
مما کچن میں کام کر رہی تھی پنکی ٹیوی پر سیریل دیکھنے میں مصروف تھی,,
زور زور سے دروازے کی بیل بجی,پنکی نے نا گواری سے دروازے کو دیکھا اور پھر سے ٹیوی دیکھنے میں مصروف ہو گئی,
پنکی بیٹا دیکھو تو شاید مہرماہ آئی ہوگی,
ہاں مما دیکھتی ہوں,,
موٹی بھینس سو گئی تھی کیا,کب سے بیل بجا رہی تھی….جیسے ہی دروازا کھلا تو مہرماہ پنکی کے اوپر چلانے لگی,,
آپی اب اندر آؤ یا پورے محلے کو بلاؤ گی,,,
مہرماہ آگے بڑھی اور لائوج میں صوفے پر ہی بیٹھ گئی,,,
موٹی پانی تو پلاؤ,مہرماہ تھکاوٹ والے انداز میں بول رہی تھی,,,
اتنے میں مما پانی لیکے آئی,,,السلام علیکم بیٹا,,,
ہیلو مما,,,,,مہرماہ نے سلام کا جواب نہیں دیا اور اپنے انداز میں ہیلو کہہ کر لبوں سے پانی کا گلاس لگا لیا,,
آپی کیسا رہا ٹوئر,,,,پنکی مہرماہ سے پوچھنے لگی,,
بہت اچھا,,
بیٹا پاپا تجھے مس کر رہے تھے,,
ہاں مما کریں گے ہی نا گھر کا بیٹا جو ٹہری ہوں,مہرماہ کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی,,
مما بھی مسکرانے لگی,,
مما پاپا نظر نہیں آ رہے ہیں…مہرماہ نے چاروں طرف نظریں گھمائی,,
ارے بیٹا بس آفیس کا کام یاد آگیا تھا وہ کورٹ کی طرف گیا ہے,,,,
اچھا ٹھیک ہے مما میں تھک گئی ہوں پاپا آجاۓ تو میں نیچے آ جاؤں گی,,,
ٹھیک ہے بیٹا تم جاؤ میں کھانا اوپر ہی لے آتی ہوں,,,
اووہ تھینکس ماۓ سئیٹ مما….
مہرماہ مما کے پاس گئی اور گلے لگا کر اوپر کی طرف چلنے لگی,,
___________________
عاشر فریش ہوکر ﮈنر کے لیۓ نیچے آگیا بھائی بھابی,آپس میں باتیں کر رہے تھے عاشر کو دیکھتے ہی وہ چپ ہو گۓ,,
عاشر نے محسوس کر لیا کہ شاید برتھﮈے کی پلاننگ چل رہی تھی,,,
السلام علیکم ایوریون,عاشر نے آتے ہی مذھبی انداز میں سلام کیا,,,
وعلیکم السلام بھئی کیا حال ہے عاشر,,,
سب خیر بھائی,,,
عاشر کیسا رہا ٹوئر,,,,
بہت اچھا بھابی بہت مزہ آیا,,عاشر نے خوشی کے تاثرا ظاہر کیۓ….
آروو ناراض ہے کیا,,,عاشر نے نظریں گھما کر آریان کی طرف دیکھا,,,
بہت ضدی ہو گیا ہے یہ,,,,شہرناز نے شکایت کی,,
ارے کیوں آروو,,,عاشر نے آروو کو گود میں لیا,,,
عاشر تیرے جانے کے بعد اسنے ہم دونوں کو تنگ کرکے رکھا تھا,,عشارب نے خشک لحجے میں کہا,,,
اوہ تو اس لیۓ یہ اپنے چاچو سے ناراض ہے,,,,
چاچو آپ سے کٹی,,,آروو نے منہ پھلا کر ہاتھ کی ایک انگلی عاشر کی طرف کی,,
اوہ تو اب آروو چاچو سے غصہ ہے,,,عاشر نے اپنے ہونٹ آروو کے ماتھے پر رکھ کر بوسہ دیا,,,
عشارب اور شہرناز مسکرانے لگے,,
ٹھیک ہے تو چاچو اپنے آروو کو کل باہر لے جاۓ گا,,,
آریان خوشی سے جھوم اٹھا اور عاشر کی گود سے نیچے اتر گیا,,
ارے آرام سے گر جاؤ گے آریان,شہرناز نے آریان کی دوڑ پر آواز نکالی,,
ہاں مما…!!!آروو پورے لائونج میں دوڑ رہا تھا,,,
عاشر تم کھانا کھاؤ ٹھنﮈا ہو جاۓ گا,,,عشارب کھانے میں مصروف تھا تو بغیر کچھ دیکھے عاشر کو کہا,,
________________________
ٹوئر کی وجہ سے پرنسپال نے ایک دن کی چھٹی کی تھی اور دو تین دن بعد سیمسٹر بھی آنے والا تھا,,,,
مہرماہ نیچے آ رہی تھی,تھکاوٹ کی وجہ سے وہ رات کو جلدی ہی سو گئی,,اور صبح فریش ہوکے نیچے ناشتہ کرنے کے لیۓ آئی,,,,
سنو فوزیہ آج جاوید اور ریحانہ بھابھی آ رہی ہے,,آفتاب خان نے فوزیہ کو کہا جو ﮈائینگ ٹیبل پر سامنے ہی بیٹھی تھی,,
اچھا بہت دنوں کے بعد آ رہیں ہے سب خیرت,,,
کیوں بھئی وہ بڑے بھائی کے گھر نہیں آسکتے,,
کیوں نہیں,,بلکہ ہمیں تو خوشی ہوگی اتنے دنوں بعد وہ آرہے ہیں بھائی صاحب اور بھابھی,,فوزیہ مسکرا کر بول رہی تھی,,
مہرماہ ﮈائینگ ٹیبل کی طرف آنے لگی,,,السلام علیکم مہرماہ بیٹی…
وعلیکم السلام پاپا,,مہرماہ نے مسکرا کر جواب دیا,
بیٹھو ناشتہ کرو,,,
پاپا اگر آپی کو نہیں بھی کہتے تو پھر بھی بیٹھ جاتی,,,پنکی نے قہقہ لگایا,,
ہی ہی ہی,,,,موٹی,,مہرماہ نے پنکی کی نقل کی,,,
مما پاپا مسکرانے لگے,,یونیورسٹی نہیں گئی ہو بیٹا,آفتاب خان مہرماہ سے مخاطب ہوا,,
پاپا آج چھٹی ہے,
اچھا,,,ویسے آگے کیا کرنے کا سوچا ہے,,
مہرماہ جوس پی رہی تھی,پاپا کے سوال پر گھونٹ گلے میں اٹک گیا,وہ کھانسنے لگی,,,
آرام سے بیٹا,مما ساتھ میں بیٹھی ہوئی تھی اسنے مہرماہ کی پیٹھ پر ہاتھ گھوماتے ہوۓ کہا,,,
یہ لو بیٹا پانی پیؤ,,,پاپا نے پانی کا گلاس آگے بڑھایا,,,,
تھینکس پاپا,,مہرماہ نے پانی پی کر پاپا کو شکریا کہا,,
دہیان رکھا کرو مہرماہ اتنی بھی جلدی کیا ہے,,,پاپا نے مہرماہ کو خشک لحجے میں ﮈانٹا,,,,
سوری پاپا,,,
اوکے بیٹا کھانا کھاؤ,,,پاپا نے اشارے سے مہرماہ کو کہا,,,
********************
وہ گارﮈن کتابیں بکھیرکے بیٹھا ہوا تھا,ایک ہاتھ میں بوک اور دوسرے ہاتھ سے پینسل تھ جو بار بار ماتھے پر گھوما رہا تھا جیسے وہ کوئی گھری سوچ میں مبتلا ہو,,,
چاچو…..!!!باہر چلو نا,,
عاشر نے اوپر دیکھا اور عاشر کو سوالیا نگاہوں سے دیکھ رہا تھا,,
چاچو چلو نا اٹھو,,,,
ارے بابا کہاں چلیں آروو میں پڑھ رہا ہوں,عاشر کل والی بات بھول گیا تھا,,,
چاچو کل وعدہ کیا تھا,,گھمانے کا,,
اوہ تجھے ابھی بھی یاد ہے,,عاشر نے book نیچے رکھا اور گھٹنو کے بل کھڑے ہوکے آروو سے مخاطب ہوا,,
چاچو آپ بھول گۓ نا,,آریان نے معصومیت سے کہا,,,
ارے عاشر لے جاؤ نا تم آروو کو,
شہرناز نے آواز لگائی,,
ٹھیک ہے بھابھی,,میں تیار ہوجاتا ہوں,آروو جاؤ تم بھی تیار ہو جاؤ میں آدھے گھنٹے میں آتا ہوں,
عاشر نے کتابیں سمیٹ کر بیگ میں ﮈال دی اور کمرے کی طرف چلنے لگا,,
********************
اتنے سالوں بعد بھی دونوں بھائیوں میں آج تک اتنی ہی محبت قائم تھی,آفتاب خان سے ملنے, جاوید خان اور ریحانہ خان آج تین سالوں کے بعد کراچی میں آۓ تھے,,,
آئیے…. آئیے…..کیسے مزاج ہیں…!! آفتاب نے جاوید کو گرم جوشی سے گلے لگا کر کہا,
جاوید خان نے پاس میں کھڑی مہرماہ کو دیکھا تو چہرے پر مزید مسکراہٹ پھیل گئی,,,,
ارے کتنی بڑی ہوگئی ہے نا ہماری بیٹی,ریحانہ نے مہرماہ کے سر پر ہاتھ رکھا,”مہرماہ جواباً مسکرائی”
ارے یہ چھوٹی ہی ہے نا,,
السلام علیکم تائی جان,پنکی نے سلام کیا,,
وعلیکم اسلام بیٹا,,,,
“آپ لوگ لمبا سفر کر کے آئیں ہونگے نا” فوزیہ ان کی تھکاوٹ کا اندازا لگا چکی تھی..
جی فوزیہ بھابھی ہم تھوڑا آرام کرنا چاہتے ہیں,,,
اچھا ٹھیک ہے,مہرماہ تم سامان تایا جان کے کمرے میں رکھوادو,اور خود فوزیہ انھیں اپنا کمرا دکھانے میں مصروف ہوگئی,,,
*******
فوزیہ ﮈنر کی تیاری کر رہی تھی,
مہرماہ پاپا کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھی باتیں کر رہی تھی کہ عدیل کی کال آئی,,,
کہاں ہو مہرماہ,,
میں اپنے گھر,,,مہرماہ نے دور جاکے کال رسیو کی,,
آج عاشر کا برتھﮈے ہے,
تو……مہرماہ بے رخی سے جواب دے رہی تھی,,
تو کا کیا مطلب تمہیں بھی انوائیٹ کیا ہے اسنے,,,
یار تایا جان والے آ گۓ ہیں میں نہیں آسکتی,,
عاشر بہت ناراض ہو جاۓ گا مہرو……
ہاں وہ تو ہوگا ہی…پر میں اسے منا لونگی,,
اچھا ٹھیک ہے,,تمہاری مرضی,,ہم تو جارہیں ہیں,,,
ہمم اوکے باۓ,,
سب لوگ ﮈائینگ ٹیبل پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے,مہرماہ بھی ﮈنر کے لیۓ آگے آئی,,
بھابھی فرح کو ساتھ کیوں نہیں لاۓ,,فوزیہ ریحانہ سے مخاطب ہوئی,,(فرح جاوید اور ریحانہ کی اکلوتی بیٹی تھی)
بس بھابھی ایگزامس آنے والے ہیں نا تو اسکی تیاری کر رہی تھی,,
ویسے مہرماہ کیا کر رہی ہے آج کل,,,جاوید خان مہرماہ کی طرف متوجہ ہوۓ,,
تایا جی میں BBA کر رہی ہوں اور لاسٹ ییئر چل رہا ہے,,,
اوہ نائیس بیٹا,تو آگے کیا کرنے والی ہو,,
میں سوچ رہا ہوں مہرماہ کو اب اسلام آباد بیجھوں MBA کرنے کے لیۓ,,,,جاوید کی بات کا جواب آفتاب نے دیا,,
ہاں بھائی صاحب تو ٹھیک ہے نا مہرماہ ہمارے ساتھ ہی چلے گی,وہاں فرح کے ساتھ جاۓ گی,,
مہرماہ کھانا کھانے میں مصروف ہوکے, تایا اور پاپا کی باتیں سن رہی تھی,,
____________
پورا گھر روشنیوں سے جگمگا رہا تھا,ہر طرف پھولوں کی خوشبو تھی,ﮈائنگ روم سے لیکر لائونج تک پھولوں کی سجاوٹ کی گئی تھی,گھر میں ایسا خوشی کا ماحول کبھی نہیں آیا تھا,
شہرناز ملازمہ کو کچن کا کام سمبھالنے کا سمجھا رہی تھی,اتنے میں کچن میں عروسہ آگئی,,
آپی عاشر نہیں آیا ہے ابھی تک,,
ہاں جب وہ آروو کو گھوما کر لوٹ رہا تھا تو مینے راستے میں ہی کام بتا دیا تھا,تاکہ دیر سے آۓ,,
اوہ اچھا,,,,
ہاں,تم جاؤ عاشر کے اوپر کپڑے نکال لو میں بھی آ رہی ہوں,,,
آپی میں کیوں جاؤں وہ خود کر لیگا,,,
اچھا بابا تو چاچی اور بھابھی کے ساتھ بیٹھے باتیں کرو وہ دونوں اکیلی ہیں,,
آپی اتنی بڑی پارٹی ارینج کیوں کی بس کیک کاٹ دیا ہوتا,,,
عروسہ……شہرناز اسے تیکھی نگاہوں سے گھورنے لگی,
اوکے آپی جا رہی ہوں,,غصہ مت ہو,,
شہرناز اور عشارب نے مل کر عاشر کے لیۓ سرپرائیز برتھﮈے پارٹی رکھی تھی,جس میں عاشر کے خاص دوستوں کے ساتھ کچھ مہمانوں کو بھی انوائیٹ کیا تھا,,,,
عاشر نے گاڑی گھر کے سامنے روک دی,اور بھابی کا سامان گاڑی سے نکالا,آروو بھی نیچے اترا,,عاشر نے لاؤنج کا دروازہ کھولا گھر میں کوئی نہیں تھا,اور پورے گھر میں اندھیرا تھا, عاشر نے جیسے ہی قدم آگے بڑھاۓ کسی نے پھولوں کی برسات کردی,عاشر کو پتا تھا آج اسکی برتھﮈے ہے اور بھائی بھابھی کی باتیں بھی سن لی تھی کہ وہ کیا پلان کرنے والے ہیں,,,
لائیٹس آن کردی گئی,سب لوگوں نے برتھﮈے سانگ گایا,عاشر حیران ہوگیا تھا,اسے لگا بس کچھ دوست اور فیملی والے ہی ہونگے,مگر شہرناز کے گھر والے بھی موجود تھے,سب عاشر کو وش کرنے لگے,,
عاشر تم چینج کرکے آؤ تب تک تمہارے دوست بھی آجائیں گے ,,,
جی بابھی ابھی آیا,,عاشر بہت خوش تھا وہ مسکرا کر اوپر چلا گیا,
*********
عاشر نے سفید شلوار قمیص پہنی ہوئی تھیاور ساتھ میں ہی ہلکی داڑھی اور بالوں میں جیل کی وجہ سے اسکی شخصیت نکھار رہی تھی,وہ نیچے آ رہا تھا سب لوگ اسے دیکھ رہے,پورے گھر میں خوشی کا ماحول سمایا ہوا تھا,عاشر کی نظر اپنے دوستوں پر پڑی عدیل اور طارق بھی تھا ان میں پر مہرماہ اور سنہا نہیں تھی,جب وہ سب سے مل رہا تھا تو بس کسی ایک کو ہی ﮈھونﮈنے میں مصروف تھا,اسکی نگاہیں کسی کی راہ تک رہی تھی,اسے اس پوری محفل میں تنہائی محسوس ہو رہی تھی,
عدیل سامنے کھڑا تھا,وہ ناراض تو تھا,پر عاشر کے اس خاص موقعے پر اسنے ناراضگی دور کردی تھی,,
اوۓ عاشر بڑے ہی پیارے لگ رہے ہو,وہ سامنے آیا اور عاشر سے مخاطب ہوا,
عاشر جوابا اداسی سے مسکرایہ,,,
عدیل مہرماہ اور سنہا نہیں آئی,,
سنہا کا تو پتا نہیں پر مہرماہ کو تھوڑا کام تھا,
اچھا ٹھیک ہے,,
********
پارٹی چل رہی تھی بارہ بجنے میں کچھ ہی وقت تھا لوگ گھڑی کو دیکھ رہے تھے شہرناز نے جو کیک منگوایا تھا وہ بھی سامنے بڑی خوبصورتی سے ترتیب دیا گیا تھا,ٹائیم ہونے پر عاشر کو کیک کاٹنے کے لیۓ کہا گیا عاشر نے کیک کاٹا پورا لائونج تالیوں میں گونج رہا تھا,عروسہ عاشر کے پیچھے ہی کھڑی تھی اسکے ہاتھوں میں اسپرے تھا,جو پورا عاشر کے منہ پر لگا لیا,سب ہنسنے لگے,
چڑیل تجھے تو میں دیکھ لونگا عاشر دانت پیستے ہوۓ بولا,,,
پہلےخود کو تو دیکھ لو بھائیجان,وہ زور سے ہنسنے لگی,,
عاشر آگے گیا اور ٹشو پیپر سے چہرا صاف کرنے لگا اور بالوں کو ہاتھ گھوما رہا تھا,عروسہ بھی ساتھ میں ہی تھی,
عاشر حسین جی…
عاشر نے بھی اسی انداز سے عروسہ کو طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا,,فرمائیے مس عروسہ جی…!!!
آپ کو پتا ہے یہ چاچی جی کیوں آئی ہے,وہ ﮈائینگ ٹیبل پر بیٹھ گئی,,
مطلب,,,,,عاشر حیران ہو گیا,,,
مطلب کے وہ صرف آپ کی برتھﮈے پر نہیں بلکہ کسی خاص مقصد سے آئی ہیں,,,
واٹ,,,,,,,کونسا خاص مقصد…!!!
وہ آپ چاچی جی سے ہی پوچھ لو,,,,یہ کہہ کر عروسہ شرارتی مسکان سجاۓ چلی گئی,
پر عاشر ابھی بھی سوالوں میں الجھا ہوا تھا,,,
اوۓ عاشر کیا سوچ رہا ہے,,
کچھ نہیں عدیل بس یوں ہی,,
یوں ہی نہیں ہمارا عاشر اب کسی کو مس کرنے لگا ہے,اتنے میں طارق آگیا اور عدیل کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہہ رہا تھا,,
سمجھ گیا بس,,,ہمارے ہوتے ہوۓ بھی کسی اور کو مس کیا جا رہا ہے,,,عدیل منہ پھیر کر بول رہا تھا,,,
جب توں میری جگہ پر آجاۓ گا نا تب پوچھوں گا عدیل بھائی,,
ہاہاہاہاہا تجھ سے پہلے ہی ہم اس دور سے گذر رہے ہیں,,,,
کیا……….مطلب تم بھی,
عاشر تم چھوڑو عدیل کو آؤ تم ہماری خاتیداری کرو,,,,طارق نے کہہ کر اپنے قدم آگے بڑھاۓ,,,
چلیۓ جی آپ کا حکم آنکھوں پر,,,
مہرماہ ہوتی تو مزا آتا نا عاشر,,,عدیل نے سنجیدگی سے کہا,,
ہاں بھئی ٹرپ پر وہ تجھے مس کر رہی تھی اور آج توں اسے,,ہماری پرواہ تو کسی کو ہے ہی نہیں,,,عاشر خشک لحجے میں بول رہا تھا,,,,
**************************
پارٹی ختم ہونے سے سب چلے گۓ,شہرناز چاچی اور اپنی بھابھی کے ساتھ باتیں کرنے میں مصروف تھی ٹائیم بہت ہوگیا تھا,پر خوشگوار ماحول کی وجہ سے کسی کو نیند نہیں آ رہی تھی,,,
عشارب چاۓ پینے میں مصروف تھا,اس نے عاشر کو اپنی طرف بلایا,,,
عاشر..
آیا بھائی جان عاشر کا توجہ موبائل پر تھا, بھائی کی آواز پر موبائل جیب میں رکھ دی اور اس کی طرف آیا,,,
برتھﮈے کا گفٹ نہیں لوگے,,,
نہیں بھائی گفٹ کی کیا ضرورت ہے,میرے لیۓ آپ سب نے اتنا کچھ کیا,یہ کسی گفٹ سے کم تھوڑی ہے,,عاشر نے مسکرا کر کہا,,,
اچھا جیجو اسکا گفٹ مجھے دے دیۓ ویسے بھی اسکو بہت گفٹس ملے ہیں,,, عروسہ نے عاشر کے انکار کرنے پر آواز لاگائی,,
ہاہاہاہاہا نہیں بیٹا یہ خاص گفٹ صرف عاشر کے لیۓ ہی ہے,,,
ٹھیک ہے,,,وہ اداس ہوکے بولی…
ارے عشارب تمہیں دوسری گفٹ دے دیگا اداس ہونے کی کیا بات ہے,,,شہرناز عروسہ کی طرف مخاطب تھی,,,
عاشر یہ لو فائل اور میں چاہتا ہوں,جو نیکسٹ پروجیکٹ ہے وہ تم ھینﮈل کرو,,,,
بھائی میں…..اسنے اپنی طرف اشارہ کیا,,
ہاں تم عاشر,,,,
پر میں تو اب,,,,اسکی بات گلے میں اٹک گئی,,,
ہاں پتا ہے تم سٹﮈی کر رہے ہو پر یہ بھی نیکسٹ ییئر سٹارٹ ہوگا,جب تمہاری ﮈگری پوری ہوجاۓ گی,,,
اچھا بھائی میں سمبھال لوںگا,,,عاشر نے خوشی سے گفٹ اکسیپٹ کیا,,,
*******************
مہرماہ یونی کے لیۓ نیچے آگئی,,
ہیلو تایا جان,مہرماہ نے آتے ہی تایا جان کو آواز دی,,
جاوید خان جو نیوز پیپر پڑھ رہا تھا اسنے مہرماہ کی آواز پر چشمہ نیچے اتارا اور اخبار لپیٹ لی,,ارے مہرماہ السلام علیکم بیٹا..آؤ بیٹھو…..
نہیں تایا مجھے لیٹ ہو رہا ہے,,باۓ میں بعد میں آکر بیٹھوں گی,,مہرماہ دو ٹوک انداز میں بولی اور کچن میں مما کے طرف گئی,,,
یہ کیا تھا بیٹا,,,,,
کیا مما…..مہرماہ دودھ پی رہی تھی,,
بیٹا تایا جان کے ساتھ کوئی ایسے پیش آتا ہے,,,
مطلب…..
اب بڑی ہو گئی ہو بیٹا,تم چھوٹی نہیں ہو,ایک تو آتے ہی تم نے اسے سلام نہیں کیا اور جب تایا نے خود کیا تو جواب بھی نہیں دیا,,,,
Ohh God mama forget it..
ویسے بھی عادت ہے میری,,,
تو تم بدلو اپنی عادت اور یہ کیا ہے جینز شرٹ,بغیر ﮈوپٹے کے یہ اچھا نہیں ہے ہمارا مذھب اسکی اجازت نہیں دیتا,تم بھلے جاؤ پڑھائی کرنے,پر اپنے اسلام کے اصولوں میں رہ کر,فوزیہ مہرماہ کو اپنے سمجھا رہی تھی,پر مہرماہ نے ایک کان سے سنا دوسرے کان سے نکال دیا,,,
مما ابھی وقت پڑا ہے,اور میں کون سا بھاگی جا رہی ہوں,,,پہلے لائف کے تو مزے لے لوں,مہرماہ نے ایک آنکھ بند کرکے کہا…..
مہرماہ بیٹا وقت کسی کے لیۓ بھی نہیں رکتا اور کہاں کسی کو کیسے ﮈھکیلتا دیتا ہے پتا ہی نہیں چلتا,تم ابھی سے ہی سمبھل جاؤ,,,
مما مجھے دیر ہو رہی میں جا رہی ہوں,,,اور ناشتہ کینٹین میں ہی کرلونگی,,,باۓ
مہرماہ لائونج سے باہر نکل گئی,,
_______________________
بیٹا عاشر کہاں جا رہے ہو,,,,رزمینہ چاچی نے عاشر کو باہر جاتے دیکھا تو سوال کیا,,
آنٹی یونیورسٹی,,عاشر نے احترام سے جواب دیا,,
ارے آج ہمارے ساتھ بیٹھ جاتے,,
ہاں آنٹی پر سیمسٹر آنے والا ہے اسکی تیاری کرنی ہے,,,
بس اسکے ایگزامس ہو جائیں پھر تو چاچی یہ آپ کے گھر بھی آتا جاتا رہے گا,,,شہرناز عاشر کی طرف مسکرا کر دیکھ رہی تھی,,
عاشر نے بھی مسکرا دیا,اور اللّٰه حافظ کہہ کر چلا گیا,,,,
شہرناز میں چاہتی ہوں کے یہ رشتیداری اور بھی گھری بن جاۓ,,,
چاچی سچ پوچھو تو ہماری بھی یہ ہی خواہش تھی,,,کہ کرن میری دیورانی بنے,,,,
زرمینہ ہنسنے لگی,,
*******************
وہ یونی میں داخل ہوا اور پیچھے سے کسی آواز اسکے کانوں میں گونجی…..ہاۓ عاشر ھیپی برتھﮈے,,,,
عاشر پہچان گیا وہ آواز مہرماہ کی تھی….تھینکس عاشر نے مہرماہ کو بغیر دیکھے شکریہ کہہ کر چلا گیا,,,,
اوہ یہ تو ناراض ہے,,,مہرماہ نے سر پہ ہاتھ رکھا اور عاشر کے پیچھے چلنے لگی,,,سوری عاشر وہ کل گیسٹ آ گۓ تھے تبھی میں نہیں آ سکی,,,ائم سوری مہرماہ نے آگے آکر کان پکڑے,,
اوکے فائن…..عاشر نے پھر سے اسے نظرانداز کیا اور آگے چلا گیا,,,
★★★
وہ کینٹین میں بیٹھا کافی پی رہا تھا کہ کسی نے آواز دی عاشر تم یہاں ہو مہرماہ لیب میں بےہوش پڑی ہے,بہت چوٹ لگی ہے اسے,,,
کیا…….عاشر کے اوپر جیسے کوئی پہاڑ گر گیا وہ چونک گیا اسکے ہاتھوں سے کافی کا کپ نیچے گر گیا وہ بغیر قدم روکے لیب کی طرف دوڑا,,,
سنو کونسی لیب,,,عاشر نے رک کر دوبارہ اسسے پوچھا,وہ سامنے اسنے اشارہ کیا,,,
وہ تیزی سے بھاگا اور لیب میں گھس گیا,,
اندر جاکے دیکھا تو کوئی نہیں تھا,عاشر نے آواز لگائی……مہرماہ……
عاشر کی آواز پر لیب میں غبارے پھٹنے کی آوازیں آ رہی تھی مہرماہ سنہا,طارق اور عدیل باہر نکل آگۓ,,
مہرماہ نے چلا کر کہا ھیپی برتھﮈے عاشر,,,,
عاشر کی سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھی اسے پتا ہی نہیں چل رہا تھا کے کیا ہو رہا ہے,مہرماہ کو سامنے پاکے اسکی سانسیں تو لوٹ آئی پر غصہ اتنا ہی بھرا پڑا تھا,,,,
تم پاگل ہو گئی ہو,کتنی بار کہا ہے ایسی مزاک مجھ سے نا کیا کرو,آخر چاہتی کیا ہو تم,,,,
رلیکس عاشر میں تو,,,,,,
کیا میں تو……!!! جب مینے کہہ دیا فائن,تو یہ گھٹیا مزاک کرنے کی کیا ضرورت تھی,,,
عاشر سنو…..مہرماہ کی اس میں کوئی غلطی نہیں تھی,,عدیل نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا,,,
تم تو چپ ہی رہو,ہر بار ٹھیکہ لے رکھا ہے کیا اسکی گھٹیا مزاک میں ساتھ دینے کا,,,تم تینو کو پتا ہے نا,میری جان بستی……عاشر اپنے حواس کھو رہا تھا,عدیل نے جلدی اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور چپ کروایا,,بس کرو عاشر مہرماہ کو دیکھو وہ تیرے سامنے کھڑی ہے,اور یہ سب بھی اسنے تیرے لیۓ ہی کیا ہے,اور تم ہو کہ……
عاشر مہرماہ کی طرف دیکھنے لگا,مہرماہ کسی گھری سوچ کے تاثرات ظاہر کیۓ کھڑی تھی,,عاشر اسکے پاس گیا اور سوری کہہ رہا تھا,,,سوری مہرماہ مجھے پتا ہی نہیں چلا میں پریشان ہوگیا تھا,مجھے لگا تم سچ میں,,,,,
مہرماہ ہنسنے لگی ہاہاہاہا عاشر کیا مجھے,اور تم کیوں اتنی پرواہ کرنے لگے ہو بھئی…..
تم دوست ہو میری مجھے واقعی ہی جھٹکا لگا تھا,کیونکہ دو بار میں نے تمہیں موت کی طرف جاتے دیکھا ہے,,,
ہاہاہاہا,,ارے یہ موت تو ایک دن آنی ہی ہے پھر کیوں اسکے ﮈر سے خود کو پریشان کریں,,,
اور دوسری بات تم نے تو ایک بار ہی بچایا ہے مجھے وہاں پہاڑی سے,تو دوسری بار کیسے,,,,
وہ اس رات,,,,عاشر بتانے ہی والا تھا کہ سنہا آگے آئی اور اسے آنکھیں دکھانے لگی,,,عاشر……!!!
عاشر نے بات بدل لی,,,مہرماہ کیک نہیں منگوایا ہے کیا,,,!!
اوۓ مجنوں ادھر دیکھو کیک یہاں ہے,طارق نے اسکا دہیان اپنی طرف کیا,,اگر یہ چار سو بیس والا ﮈراما ختم ہو گیا ہو تو آگے تشریف فرمائیں گے,,,
جی بلکل عاشر آگے بڑھا…..
کیک کٹ کیا پہلے اسنے مہرماہ کو کھلایا عدیل نے فوٹو کلک کی اور سب نے کیک کھایا,
عاشر………مہرماہ نے عاشر کو آواز دی,,,
جی…… عاشر نے ایک مختصر جواب دیا,,
I’ve something for uhh but first uh should close ur eyezzzz….
Okkk dear
عاشر نے آنکھیں بند کی اور مہرماہ کی گفٹ کا منتظر تھا,,
مہرماہ نے عاشر کا ہاتھ اوپر کیا اور گفٹ اسکے ہاتھوں میں پکڑا دی,,,عدیل پکچرس نکالنے میں مصروف تھا,,
عاشر نے آنکھ کھولی,,اور بڑی خوشی کے ساتھ مسکرایا,,
مہرماہ………. یہ تو,,,,
اوہ واہ عاشر کتنی پیاری ہے نا یہ,,,سنہا نے عاشر کو آنکھ ماری,,,
ہاں سنہا یہ میرا سب سے انمول گفٹ ہوگا,,
آخر دیا کس نے ہے,,,
مس مہرماہ خان نے….مہرماہ کے الفاظوں پر سب نے زور سے آواز لگائی,,
سب ہنس رہے تھے,,
مہرماہ ٹیبل کی طرف گئی اور کیک کی پلیٹ اٹھائی,وہ آگے بڑھی….
چارو باتوں میں مصروف تھے وہ پلیٹ کو ہاتھوں میں پیچھے چھپا کر عاشر سے مخاطب ہوئی
عاشر…….یار میرا بڑا دل تھا کہ جس طرح برتھ بواۓ کا منہ کیک میں دبا دیتے ہیں میں بھی ویسے ہی کروں,,
پر تم سب تو جانتے ہو میں سامنے کھانے کی چیز پڑی ہو تو خوامخہ ضایع نہیں کرتی,,
“پر سوری آج اسکو کسی کے منہ پر لگنا ہے” مہرماہ اپنے الفاظ پورے کرتے ہوۓ پوری کریم عاشر کے منہ پر لگا دی عاشر کا منہ پوری طرح بھر گیا تھا,اور بالوں اور شرٹ پر بھی کریم لگ گئی,
مہرماہ عاشر کا چہرا دیکھ کر ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی,,,,
ساتھ میں سنہا اور طارق بھی ہنسنے لگے,عدیل نے وﮈیو رکارﮈ کرنا شروع کیا,
ہاہاہاہا عاشر کتنے پیارے لگ رہے ہو مہرماہ دروازے سے کہہ کر باہر بھاگنے لگی,عاشر ایسے چہرے کے ساتھ باہر جا نہیں سکتا تھا اس لیۓ اسنے قدم روک دیۓ اور چہرا صاف کرنے لگا,,
