Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon NovelR50673 Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 13)
Rate this Novel
Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 13)
Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon
وقت کیسے بدلتا گیا, کسی کو کچھ پتا نا چلا,دو دن سے دو مہینے دو مہینوں سے دو سال ہونے کو آۓ تھے,دن بہ دن عاشر کے دل میں محبت کا دیا اور بھی زیادہ جلنے لگا ,اسکے دن تو ہنسی خوشی مہرماہ اور باقی دوستوں کے ساتھ گذرجاتے تھے,پر تنہائی والی رات اسکے دل کو دبوچ لیتی تھی,وہ احساس,وہ جذبات حد سے زیادہ اسے تکلیف دینے لگے,عاشر نے اپنے درد کو کسی کے آگے ظاہر تو نہیں کیا پر زندگی کے انمول تحفے پر اسنے اس جدائی کو اتار لیا…محبت نا سہی پر جانے انجانے میں محبت کی ایک نشانی تو دے گئی تھی….. عاشر روز رات کو ایک ﮈائری لکھتا تھا,جس میں ایک ایک لفظ اسکی سچی محبت کی گواہی دیتے تھے,ﮈائری کے ہر پیج پر اسکے محبت کے نام کی خوشبو مہکتی تھی,,,
***************************
مہرماہ بیٹا,,,,
جی آئی پاپا…
آفتاب خان آفس سے لوٹے ہاتھ میں کچھ فائلس تھی اسنے آتی ہی مہرماہ کو آواز لگائی….
مہرماہ کو کیوں بلا رہے ہو کوئی کام ہے تو میں کردوں,,,فوزیہ بیگم بیٹھے جوس پی رہی تھی جب آفتاب خان کو دیکھا تو آخری گھونٹ پی کر وہ اٹھ گئی,,,
نہیں بیٹھو تم کام نہیں تھا وہ آمریکا سے جاوید کا فون آیا تھا,کہہ رہا تھا مہرماہ کی یہاں کی پڑھائی ختم ہو گئی ہے تو میں اسے وہاں بیجھوں MBA کرنے کے لیۓ,,,
اچھا,,,,
“جاوید خان اور اسکی پوری فیملی اسلام آباد سے آمریکا شفٹ ہوگئی تھی
پاپا کے بلانے پر مہرماہ کمرے سے باہر آئی..
جی پاپا آپ نے بلایا..
ہاں بھئی ادھر آؤ….آفتاب خان نے فائلس سامنے ٹیبل پر رکھی مہرماہ کو بیٹھنے کا اشارہ کیا,,,,,
پنکی بھی کمرے سے باہر آ گئی,,,
آپی میں پھر سے بھول گئی آپ دوبارہ بنا کے دو نا…..پنکی نے مہرماہ کے آگے لیپٹاپ کی اسکرین دکھائی….
اوووو گاﮈ گوار ہو کیا کتنی بار سمجھایا…مہرماہ نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر سر نیچے کردیا….
آپی پلیززز تم ہی بنا دو نا سارا پریزنٹیشن مجھسے نہیں ہو رہا ہے,,,,
ہاں تو کل کالیج بھی تیری جگہ میں دینے جاؤں ہے نا…..مہرماہ نے لیپٹاپ پنکی سے چھین لیا..
نہیں آپی وہ میں دے دونگی خود ہی…
وہ میں دے دوں گی خود ہی…مہرماہ نے اسی انداز میں پنکی کے الفاظ رپیٹ کیے…
ویسے پاپا آپ کیا کہہ رہے تھے….مہرماہ اپنی آنکھیں لیپٹاپ پر جما کے رکھی تھی اور پاپا سے بات بھی کر رہی تھی…
ہاں بیٹا تمہارا سیمیسٹر بھی ختم ہوگیا اور تمہارے تایا جان کا آفس میں فون آیا تھا تمہیں آمریکا بلا رہا ہے,,,
کیوں پاپا,,,
بیٹا MBA کرنے کے لیۓ,,
پر پاپا,,,,,,تایا جان اتنی جلد ہی اسلام آباد سے سیدھا امریکا کیوں شفٹ ہوگۓ,,,
بس بزنس کہ وجہ سے پر تم ابھی نہیں سمجھو گی جب بزنس میں انٹر ہوگی نا تو یہ باتیں جلد ہی سمجھ میں آجائیں گی اور تبھی کہہ رہا ہوں تم جاوید خان کے وہاں جاؤ اور وہ بھی تمہیں بہت کچھ سکھاۓ گا,آخر تم کسی بیٹے سے کم تھوڑی ہو میرے لیۓ…..
آفکورس پاپا میں آپ کی وش ضرور پوری کرونگی…مہرماہ نے نظریں اٹھا کر پاپا کے طرف دیکھ مسکرانے لگی,,,
آفتاب خان کو مہرماہ پر بہت ناز اور فخر تھا تبھی وہ اسے بیٹے سے بھی زیادہ پیار کرتے تھے اور اسے آج تک کسی بھی چیز کی کوئی بھی کمی محسوس نہیں ہونے دی,اور مہرماہ بھی اپنے پاپا کی ہر وش پوری کرنے کا یقین رکھتی تھی,,
بیٹا مینے کل رات کی ہی ٹکیٹس بک کروادی ہے,,,
لیکن پاپا یونی سے فون آیا تھا اسپیشل سٹوﮈنٹس کو ایوارﮈ دینا ہے اور انٹرنیشنل لیول کے آفسرس آئیں گے اور پاپا آپ کو بھی بلایا ہے…
کب جانا ہے بیٹا….
یہ لو ہو گیا…..اب ایک کین لیکے آؤ…..
آپی آپ بغیر رشوت لیۓ کوئی کام نہیں کر سکتی نا…
نہیں نا….اب جا…مہرماہ نے منہ بناتے ہوۓ اسکو جانے کا اشارہ کیا,,,
مہرماہ کب جانا ہے…پاپا نے دوبارا پوچھا,,,,
پاپا کل……
مہرماہ تمہارے لیے چاۓ لاؤں….فوزیہ بیگم نے آفتاب خان کو چاۓ دی اور مہرماہ سے مخاطب ہوئی..
نہیں مما…موٹی گئی ہے کین لانے…
پاپا آپ آئیں گے نا…اور ٹکیٹ رات کی ہے میں یونی سے آجاؤں گی…..
دیکھتے ہیں بیٹا کل کیس کے سلسلے میں کورٹ جانا ہے….
پاپا آپ بھی نا روز کورٹ کے کیس آپ کیسے ہینﮈل کرلتے ہیں,,,
بس بیٹا اب ایک لایر ہوں اپنے فرض تو پورے کرنے ہوںگے نا…
تو آپ نہیں آئیں گے….وہ اداس ہوکے بولی…..
نہیں بیٹا میں ٹراۓ کرون گا نہیں تو آپ پنکی کو لے جانا…
کہاں پاپا….پنکی نے مہرماہ کو کین دیکے پاپا سے سوالیا نظروں سے پوچھا….
تمہارے ہونے والے سسرال..مہرماہ نے مسکان کو چھپا کر سنجیدگی سے جواب دیا,,,
کیا……..پنکی آنکھیں اور منہ کھولتے ہوۓ چونک گئی….
منہ بند کر مکھی چلی جاۓ گی..
آپی اس سردی میں مکھی وہ بھی رات کو…وہ چاروں طرف دیکھنے لگی,,,
لاﮈو یہ بس چڑا رہی ہے تجھے,,مما نے پنکی کے سر پر ہاتھ رکھ کر مسکرہ دی….
ہاں وہ تو اسکی فطرت ہے…پنکی نے مہرماہ کو دیکھ کر منہ پھلا دیا…
کیا بولی….موٹی…
جو سنا….آپی…..اسنے بھی آپی لفظ کو غصے سے کھینچا…
پاپا میں اس کو کل نہیں لے جاؤں گی اپنے یونی……
پاپا چاۓ پینے میں مصروف تھا اور دونوں کی نوک جھونک پر مسکرا رہا تھا….
ہاں تو میں کونسا مری جا رہی ہوں ویسے بھی کل میرا کالیج جانا ضروری ہے….پنکی نے خشک لحجے میں کہا…
مما یہ کنتی سیلفش اور بدتمیز ہے یہ بڑی بہن سے بات کرنے کا طریقا ہی نہیں پتا نہیں کس سے سیکھ کر آئی ہے…..مہرماہ نے مما سے شکایت کی…
آپی سب آپ کی بدولت ہے….پنکی بھی اسی طرح جواب دینے لگی…
آ….دیکھو تو اس بھینس کو پر کیسے لگ گۓ ہیں,,,,
آپی بھینس کو پر کسنے لگاۓ,,,,ہاہاہاہاہا پنکی نے قہقہ لگایا سامنے فوزیہ بیگم بھی ہنس پڑی,,
مہرماہ نے سامنے پڑا تکیہ اٹھا کر پنکی کے طرف پھینکا…
پاپا دیکھو نا میں کام کر رہی ہوں اور یہ ﮈسٹرب کر رہی ہے…
مہرماہ بیٹا کام کرنے دو اسے….
ٹھیک ہے پاپا…مہرماہ وہاں سے اٹھی اور تیز قدموں کے ساتھ آگے بڑھ کر پنکی کے ہاتھ سے لیپٹاپ چھینا…..
مما…….پنکی نے غصے سے مما کو آواز لگائی….
مہرماہ نے وہ آف کرکے ہاتھوں سے پیچھے کردیا…..
آپی دے دو نا…
اب بچو آ لیکے دیکھا…مہرماہ نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ قدم آگے دوڑاۓ…
آپی کیوں تنگ کر رہی ہو….مما…..پنکی پھر سے مما کہہ کے چلائی…
پکڑ کے دھکا تو دونگی…مہرماہ ہنستے ہوۓ بولی اور دونوں پورے ہال میں ہنسی مزاق کیۓ دوڑ رہی تھی,,,مما پاپا ایسا ماحول دیکھ کر بہت خوش ہونے لگے,,,پر وقت کا کیا ہے وہ خوشی کو ماتم میں تبدیل کرنے میں دیر ہی نہیں کرتا…
***************************
عاشر کمرے میں ﮈائری لکھ کر خود ہی مسکرا رہا تھا,,
ہنستے ہنستے ایک دم اسکی ہنسی غائب ہوگئی اچانک اسے احساس ہوا کہ یہ محبت کا دیا شاید سمندر کی گھرائی میں ﮈوب کر بجھ نا جاۓ, اسنے گھبراہٹ سے ﮈائری بیﮈ پر پٹک کر رکھ دی,
میں کل ہی اسکو سب بتا دونگا,,وہ خود سے ہی بڑبڑا رہا تھا,,,
اسے کمرے میں موبائل کی آواز سنائی دی اسنے نظریں گھمائی کی سامنے پڑا موبائل چیک کیا کہ ایک نام اسکی آنکھوں کے آگے جگمگا رہا تھا,,
اسنے کال اٹھائی…
ہیلو محترمہ کیسے یاد کیا,,,
شاید آپ غلطفہمی میں پڑ گۓ ہم کسی کو یاد نہیں کرتے عاشر حسین جی….
تو کال کیوں کی مہرماہ خان جی,,,
کچھ بتانا تھا اسلیۓ,,,,
جی فرمائیے,,,
اب اپنی جی جی والی بکواس بند کروگے کہ میں اپنی بات شروع کروں,,مہرماہ کی آواز میں غصہ تھا,,,
اچھا غصہ نا ہو بتاؤ کیا کام ہے,,,
کل یونی آؤ گے,,
نہیں,,,,,
کیوں……….مہرماہ نے حیرانگی سے چینکھ نکالی,,,
چلا کیوں رہی ہو….کان کے پڑدے پھٹ جائیں گے,,,
تو بتا نا,,,,کیوں نہیں آرہے ہو,,,
میرے نا آنے کی تجھے کیوں فکر ہے,,,
اوہ ہلو فکر ہوگی تیری لور کو مینے سوچا تم آؤ گے کیا پتا تیرا نام بھی ہو گولﮈ میﮈل میں,,,
لور سے یاد آیا مجھے اسے کل پرپوز کرنے جانا ہے,,,
واٹ…..
ہاں بھئی تم…کہو….تو…تمہیں بھی….ساتھ….لے جاؤں عاشر نے ایک آنکھ بند کرکے ہر لفظ کو علیحیدہ کرکے بول رہا تھا,,
اوہ شٹ اپ یار میں اس بکواس چکر میں پڑنا نہیں چاہتی,,,تمہیں آنا ہے تو آنا ورنہ تمہاری مرضی ہے,,,
اچھا ٹھیک ہے مزاق کر رہا تھا میں آجاؤں گا,,,
اور تمہاری گرل فرینﮈ,,
اسکو چھوڑو اسسے پہلے تم میری دوست ہو,,,
کیا……
اب منہ بند کر میری باتیں تیری سمجھ سے اوپر ہے,,,
پر تمہیں کیسے پتا میرا منہ کھل گیا ہے,,,
محترمہ دل کی بات دل ہی جانے,,,عاشر کھڑکی سے نہیچے جہانک کر مسکرا رہا تھا,,,
باۓ……
سنو تو…….عاشر کچھ بولتا اسسے پہلے مہرماہ نے کال کاٹ دی,,,
عاشر نے خوشی سے موبائل سامنے پھینک دیا اور ناچنے کے انداز میں گول گھوم کر بیﮈ پر الٹے پاؤں لیٹ گیا,,,,
__________________________
وہ ایک بڑے ہال نما کمرے بیٹھ کر ٹیوی پر نظریں جما کر بیٹھی تھی,کمرا کافی حد تک بڑا تھا جس میں ہر ایک چیز بڑے سلیقی سے رکھی گئی تھی,ضرورت کے مطابق خاص فرنیچر,عالیشان صوفے اور بیﮈ بھی شامل تھے,
وہ انگلش موی دیکھ رہی تھی ساتھ میں منہ میں ببل بھی چبا رہی تھی,انگلش تو وہ بہت اچھی طرح سے سمجھتی تھی,
اسکا پورا دہیان مووی میں تھا,اور بڑی دلچسپی کے ساتھ ہیرو کا سین دیکھ رہی تھی,
مہر……کسی نے اسکو آواز دی,,,
مہرماہ نے ناگواری کے ساتھ دروازے پر نظر ﮈالی, ارے چھوٹی ماں آپ,,,مہرماہ پھر سے ٹیوی دیکھنے میں مصروف ہوگئی,,,
ہاں بیٹا لنچ کے لیۓ نیچے نہیں آئی,,
وہ ماں میری فیوریٹ مووی چل رہی تھی نا اس لیے ٹائیم کا پتا ہی نہیں چلا,,,
ٹھیک ہے میں ملازمہ کو کہتی ہوں وہ یہاں کھانا لیکے آۓ,,
تھینکیو,,,مہرماہ نے مسکراہٹ کے ساتھ اسے تھینکس کہا…!
وہ کمرے سے باہر چلی گئی,مہرماہ نے موبائل اٹھاکے میسج پڑھنے لگی,
چند لمحوں بعد اسے کال آئی جس کو ریسو کرکے بات کرنے لگی,,,
اے کے کب سے میں کال کا ویٹ کر رہی تھی کہاں گم ہوگۓ تھے,,,
یار سو رہا تھا,,دوسری طرف سے کسی لڑکے کی تھکاوٹ والی آواز آئی,,
اس وقت مہرماہ چونک کر بولی,,
ہاں باہر کتنی دھوپ ہے نکلنے کا دل نہیں کہہ رہا تھا اس لیۓ سو گیا..
ہمممم…..مہرماہ نے دروازے کو دیکھا تو ملازمہ کھانا لیکے کھڑی تھی تو اسے اشارے سے اندر آنے کو کہا,,,
اےکے میں بعد میں بات کرتی ہوں ابھی لنچ کرلوں,,,
اکیلے ہی,,,
نہیں آؤ تم بھی ساتھ میں کرتے ہیں,,
ہاہاہاہاہا نہیں نہیں تم کرو,میں بھی فریش ہونے جا رہا ہوں,,
ٹھیک ہے باۓ ٹیک کیئر,,مہرماہ نے آخری الفاظ نکالے اور کھانے والی ٹرے سامنے کی,,,
__________________________
تم کیسے کہو گے اسے کیا وہ تمہیں سمجھے گی,,,دیکھنا مزاق بنا کر رکھ دیگی وہ تمہارا,,
نہیں عاشر تم ہمت مت ہارنا وہ تمہیں ضرور سمجھے گی,اسے ضرور احساس ہوگا,,
عاشر تم اسکی بات میں مت آؤ یہ تمہیں بہلا رہا ہے,وہ کیا جانے تمہاری سچی محبت کو,اگر ایک دن کا بھی اسے احساس ہوتا نا وہ تمہیں خود آکے کہتی کہ تم سے محبت کرتی ہے,,
پر عاشر کچھ احساس ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو خود محسوس کروایا جاتا ہے عاشر تم نے اسسے محبت کی ہے شاید تمہارے کہنے سے اسے احساس ہوگا,ورنہ تم ایسے کیسے یہ آخری موقعہ گوا رہے ہو,,
ہاہاہاہا احساس… کونسے احساس عاشر کیا تم نے کبھی بھی اسے اکیلا چھوڑنا چاہا ہر وقت اسکی فکر کرتے تھے تو کیا کیا اسنے کچھ بھی نہیں,وہ محبت کا مزاق اڑانے والی تمہیں اپنی محبت کبھی نہیں دیگی,اگر دے بھی دی تو کیا کروگے تم اسسے پہلے تمہاری زندگی میں بھائی بھابھی ہیں تم ان دونوں کے خلاف جاؤ گے اسنے زبان دی ہے اپنی چاچی کو کیا تم اس کرن……وہ الفاظ وہیں رک گۓ کہ….
آﺫان کی آوازیں عاشر کے کانوں میں گونجی,عاشر نیند میں بڑبڑا رہا تھا,اسے محسوس ہوا جیسے کوئی اسکی سانس نکل رہا ہو,وہ نیند میں اپنا سر بستر پے ادھر ادھر کر رہا تھا,ایک ہی جھٹکے سے اسکی نیند اکھڑی,وہ بے چینی کے ساتھ اٹھ گیا,لیمپ آن کی دیکھا تو سامنے کوئی نہیں تھا وہ بس ایک خواب تھا جس میں عاشر اپنے دو عکس دیکھ رہا تھا ایک اسکو محبت کو جدا کرنے کو بول رہا تھا اور دوسرا اسکو محبت کے قریب جانے کا کہہ رہا تھا,عاشر کے ماتھے سے بارش کی طرح پسینا بہہ رہا تھا اسنے سامنے پڑی پانی کی بوٹل اٹھا کر لبوں سے لگا لی,,,,
فجر کا ٹائیم تھا ہر طرف سے آﺫانیں آرہی تھی وہ بڑی مشکل سے اپنے قدموں کو زمین پر رکھ کر اٹھا,وہ نماز تو روز پڑھتا تھا پر اس طرح کا عجیب خواب اسنے پہلی بار دیکھا تھا,ہلکی سردی کی وجہ سے وہ کمرے سے باہر جا نا سکا اس لیۓ اسنے آج کمرے میں ہی نماز ادا کرنے کا سوچا,,,,,
وہ واشروم میں گیا وضو کرکے الماڑی سے جاۓ نماز نکالی,اور نیچھے بچھا کر نماز پڑھنا شروع کی….
چند لمحوں بعد مکمل نماز ادا کرکے جاۓ نماز کو چیئر پر رکھا,اور آگے بڑھا اور صوفے پر اپنے بالوں کو پکڑ کر بیٹھ گیا,,,,,
★اور توں چل اسی راہ پر,جو حکم پہنچے تیرےطرف اور صبر کر جب تک فیصلا کرے اللّٰه اور وہ ہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے★…(آیت 109 سورة يونس)
وہ اللّٰه پاك پر یقین رکھ کر اٹھ گیا اور کل یونی کے لیۓ کپڑے نکالنے لگا,اسنے الماڑی کھولی تو سامنے ایک چھوٹا رنگ باکس نظر آیا وہاں سے رنگ اپنے ہاتھوں میں اٹھاکر کر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا,,چند لمحوں بعد اسکی خاموشی ٹوٹی اور کچھ الفاظ اسکے ہونٹوں پر آگئے,, دو سالوں کا عرصہ بہت لمبا تھا نا اگر یہ دوسال نہیں گزرتے تو تم شاید ہمیشہ کے لیۓ اس باکس میں قید رہتی پر اب اور نہیں تم جلد ہی یہاں سے آزاد ہوکے کسی کے خوبصورت ہاتھوں میں جاؤ گی,,,,
