Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon NovelR50673 Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 10)
Rate this Novel
Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 10)
Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon
رات ہوگئی تھی مگر مہرماہ والوں کا کچھ پتا نہیں تھا…مما دروازے پر نظریں بچھا کر ان کی راہ تک رہی تھی,,
کہاں گۓ تھی تم تینو,,,,ان لوگوں کے آتے ہی فوزیہ بیگم برس پڑی,,
مما باہر گھومنے,,,,مہرماہ نے مما کا غصہ دیکھا دحیمی آواز نکالی,,
یہ کوئی وقت ہے گھومنے کا,تم ٹائیم کا اندازا بھی لگا سکتی ہو کہ کیا ہوا ہے,,
وہ مما……مہرماہ کچھ بولتی اسسے پہلے فوزیہ بیگم چلا پڑی,,چپ ہوجاؤ آگے ایک لفظ بھی نہیں,سب تیرے پاپا کا کیا دھرا ہے سر پہ چڑھا رکھا ہے تمہیں,,,فرح اور پنکی دونوں خاموش تھی ان دونوں کے الفاظ ہی نہیں نکل رہے تھے,,
توبہ توبہ کوئی معصوم بچی پر اتنا چلاتا ہے کیا,,مہرماہ بچوں کی طرح منہ پھلانے لگی,,
تمہارا ہوگا کیا,,,کب سدھروگی اپنی حرکتوں سے….
اب اندر تو آنے دو بتاتی ہوں سدھرنے کی تاریخ بھی,,مہرماہ کو ٹھنﮈ لگ رہی تھی وہ چھینکھ رہی تھی,,
فوزیہ بیگم کا پاڑھا چڑھ رہا تھا,وہ مزید کچھ بولتی ریحانہ بیگم نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا,بھابھی مہرماہ اکیلی نہیں تھی فرح اور پنکی بھی ساتھ میں تھی,آپ اتنا غصہ نا کریں انھیں اندر تو آنے دیں وہ پوری طرح بیگھ گئی ہے ٹھنﮈ لگ جاۓ گی اسے…
آؤ بیٹا اندر… فوزیہ نے تینوں کو اشارہ کیا,,,
مہرماہ آگے آئی تائی جان کے گلے لگ گئی,تھینکیوں تائیجان اگر آپ نہیں ہوتی تو بس ہمہاری تو چھٹی ہوجاتی,,,وہ مما کی طرف مسکرا کے بولی
مہرماہ پوری گیلی ہوگئی ہو جاؤ چینج کر آؤ بیٹا سردی لگ جاۓ گی,,,,فوزیہ الگ ہوکے بولی,
ہاں تائیجان باۓ,,اور مما میں کھانا نہیں کھاؤں گی اور آگے بڑھی مما کے گلے لگ کر سوری کہے وہاں سے چلی گئی,,,فرح اور پنکی بھی دبے پاؤں مما کی ﮈانٹ نا پڑے وہاں سے چلی گئی,,,
________________________
جب اسکی آنکھ کھلی تو گھڑی کی طرف نظر گھمائی,پتا چلا کے سات بج گۓ ہیں,عاشر سر پر ہاتھ رکھ کر کھڑکی کے پاس گیا,اسکا سر ابھی بھی باری تھا,کھڑکی کھولی نیچے گارﮈن کی طرف دیکھا,پورا گارﮈن سر سبز تھا ہر طرف ہریالی تھی,جیسے کسی نے پورا گارﮈن دھو لیا ہو,
عاشر نے بے فکری سے لمبی سانس لےکر پھولوں کی خوشبو کو اپنی رگوں میں بسا لیا,اور فریش ہونے کے لیۓ واشروم چلا گیا,,,
********************
مہرماہ نیچے آئی اسکو سردی لگ گئی تھی سرمیں درد اور آواز بھی بدلی ہوئی سی لگ رہی تھی, اسکے نیچے آنے پر پاپا نے اپنے پاس بلایا,,
مہرماہ بیٹا ادھر آؤ طبیعت خراب ہوگئی ہے کیا,,,
رات کو بارش میں گھومے گی تو سردی کو تو لگنا ہی ہے,فوزیہ بیگم بے رخی سے بولی وہ مہرماہ سے ابھی تک ناراض تھی,,
مگر مہرماہ کو تو بارش میں بھیگنا بلکل بھی پسند نہیں تو یہ بیگھی کیسے,پاپا نے مہرماہ کے سر پر ہاتھ رکھا,,
مہرماہ کا زکام بڑھ گیا تھا,وہ چھینکنے لگی,
بیٹا ﮈاکٹر کو بلائیں کیا….!!
نہیں پاپا ٹیبلیٹ لے لی ہے ہلکا سا درد ہے بس ٹھیک ہوجاؤں گی,,
ہاں ٹھیک ہے میں پرنسپال کو بتا دیتا ہوں تم آج یونی نہیں جانا,,,
ہاں پاپا میں تو نہیں جاؤں گی پر پرنسپال سر کو بتانے کی کیا ضرورت ہے,….
ابھی ابھی ہی کال آئی تھی یونی سے تمہیں پرنسپال نے بلایا ہے,,,
کیا…….مہرماہ حیران ہوکے کھڑی ہوگئی,,,
ہاں بیٹا پر تمہیں کچھ پتا ہے کیا کے کیوں بلایا ہے,,,
مہرماہ کے دماغ میں وہی ہارون والی بات دماغ میں آئی…پر پاپا کے آگے وہ بے خبر ہونے لگی,,نہیں پاپا مجھے تو کچھ بھی پتا نہیں,,
اچھا ٹھیک ہے تم کمرے میں جاکے آرام کرو میں سر سے بات کر رہا ہوں,,آفتاب خان فون نکالنے لگا..
نہیں پاپا آپ انہیں کال مت کریں میں جا رہی ہوں یونی شاید پروجیکٹ بنانے کا کام ہوگا,,
پر بیٹا اس حالت میں تم کیسے جاؤ گی….
پاپا کچھ نہیں ہے میں ٹھیک ہوں…اور یونی جانا بہت ضروری ہے ٹائیم بھی ہوگیا ہے میں تیار ہوکے آتی ہوں,,مہرماہ آخری الفاظ بول کر جلدی سے کمرے کی طرف بڑھی,,,
______________________
عاشر کو بھی کال آئی تھی وہ جلد ہی تیار ہوکے نیچے آیا اور سب کو سلام کرکے لاؤنچ سے باہر نکلنے لگا,,,
عاشر بغیر ناشتہ کیۓ کہاں جا رہے ہو,,,,عشارب کی آواز پر وہ پیچھے مڑا…بھائی دیر ہو رہی ہے یونی میں کام ہے ضروری بھی…بعد میں آکے کھاؤنگا,,,
ارے رات کو بھی کچھ نہیں کھایا ہے عاشر ایسے کیسے کھالی پیٹ جا رہے ہو,,,شہرناز کچن سے باہر آکے بولی….
سوری بھابھی میں وہاں پر ہی کچھ کھالونگا ابھی دیر ہو رہی ہے..اللّٰه حافظ,,عاشر نے قدم آگے بڑھا لیۓ…
—————————————
مہرماہ کینٹین میں بیٹھی تھی آج پہلا دن تھا جو اسکا من کھانے کے لیۓ من نہیں لگ رہا تھا,,وہ یوں ہی بیٹھی بار بار کتاب کے پیج پلٹ رہی تھی,,
اسلام علیکم مہرماہ,,,
عاشر کو پتا ہوتا ہے کے مہرماہ سب سے پہلے کینٹین میں ہی ہوتی ہے,وہ ﮈاریکٹ کینٹین میں آیا اور مہرماہ کو بیٹھے دیکھ کر سلام کیا,,,
ہاۓ عاشر بیٹھ جاؤ…..مہرماہ نے سر اوپر کیا اور نظروں سے چیئر پر اشارہ کیا
مہرماہ تمہاری آواز کو کیا ہوا ہے طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمہاری….؟
ہاں بھئی ٹھیک ہوں بس رات بارش میں بیگھ گئی تھی تو سردی لگ گئی,,,
سردی لگ گئی ہے اور تم نے سئیٹر بھی نہیں پہنا ہے,,مرنا ہے کیا,,,
او ہو مجھے اچھا نہیں لگتا ہے یہ باری باری وزن خود پر ﮈالنا.., ہے
اور ویسے بھی اتنی سردی میں میں مری تھوڑی جاؤں گی مہرماہ مسکرا کر بولی,,
یار تو آرام کرنا چاہیے تھا نا کیوں آئی آج یونی,,,
نہیں آ رہی تھی سر نے کال کی تھی آنے کے لیۓ,,,
کیا…….مطلب تجھے بھی بلایا ہے,,
ہاں اور پکا تمہیں بھی بلایا ہوگا,,
آف کورس مہرماہ,پر پتا نہیں کیوں بلایا ہوگا….
ارے سمجھ جاؤ نا خود ہی کل والی بات کے لیۓ…..
مطلب ہارون…..
ہاں عاشر اسی لفنگے کے لیۓ,,,
مہرماہ کو ٹھنﮈ محسوس ہو رہی تھی,,
مہرماہ ہوا چل رہی ہے تم بمار پڑ جاؤ گی,آؤ کلاس میں چلتے ہیں…
اوفففف عاشر میں ٹھیک ہوں…
کتنی ضدی ہو تم,,,کسی کی بات کیوں نہیں مانتی ہو,,,
یار تمہیں کیا ہے سردی مجھے ہو رہی ہے نا اور ضدی تو میں ہوں ہی,اس میں کونسی نئی بات ہے,,وہ دو ٹوک انداز میں بولی…
مہرماہ کا ہر ایک لفظ عاشر کے دل کو جاکے لگا,پر اسنے خاموشی اختیار کرلی,,,
ایکسکیوزمی مہرماہ,,,,کوئی مہرماہ سے مخاطب ہوا,,,
ییس…..مہرماہ نے اوپر دیکھ کر مختصر جواب دیا,,,
سر اظہر نے آپ دونوں کو آفس میں بلایا ہے,,,
ہممم فائن….
عاشر اٹھو,,,چلیں…
عاشر نے بیگ ایک سائیﮈ کندھے پر لٹکایا اور چلنے لگے,,,
ایسا پہلہ بار ہو رہا تھا کہ سردی کی وجہ سے مہرماہ کے ہاتھ کانپ رہے تھے,ورنہ اسنے تو سردی کو کبھی محسوس ہی نہیں کیا تھا,,
عاشر نے مہرماہ کو ایسے کپکپاتے ہوۓ دیکھا تو اپنی جئکیٹ اتار لی اور مہرماہ کے کندھوں پر رکھ لی,,,
مہرماہ نے قدم روک کر عاشر کی طرف گھورنے لگی,,,
گھورو مت آگے چلو,پتا ہے تمہیں اچھا نہیں لگا,پر یہاں اچھا لگنے سے بہتر تمہاری صحت ہے,,,عاشر یہ سب کہہ کر آگے چل پڑا..
مہرماہ کو جیئکیٹ کے ساتھ عجیب فیل ہو رہا تھا کیونکہ اسکو ان سب کی عادت نہیں تھی پر اب خود کو کمفرٹیبل سمجھ رہی تھی تو بغیر کچھ کہے وہ پہن لی اور آگےبڑھی,,,
سامنے آفس تھی عاشر نے ﮈور ناک کیا..May I come in sir
سر جو اپنے کام میں بزی تھا عاشر کی آواز پر صرف منہ ہلایا,
مہرماہ بھی پیچھے تھی وہ بھی اندر آئی,,
سر آپ نے بلایا…..عاشر نے پوچھا
ہاں…….سر اپنی فائیلس سمیٹ رہا تھا اور کھڑا ہوکے سامنے کی طرف مخاطب ہوا,,,,
مجھے تم دونوں کی شکایت ملی ہے,,
بتانے کی ضرورت نہیں ہے…پتا ہے,,,مہرماہ نے ہلکی آواز میں کہا,تو عاشر نے اپنے لبوں پر انگلی رکھ کر چپ رہنے کا اشارہ کیا,,,,
عاشر لڑنا جگھڑنا یہ سب ہماری یونورسٹی میں نہیں ہوتا,,اور تم مار پیٹ پر بھی اتر آۓ,,,,تمہیں پتا نہیں ہے یہاں کے رولس اور ریگیولیشن سختی سے منع کیا گیا ہے لڑائی, جگھڑا, مار پیٹ ریگنگ, سر بہت غصے میں تھا…
عاشر خاموش ہوکے سن رہا تھا,پر مہرماہ خاموش رہنے والوں میں سے نہیں تھی,,سر آپ ہمیں کیوں ﮈانٹ رہے ہو اور ویسے بھی غلطی اس ہارون کی ہی تھی,,,وہ نظریں پھیر کر دیوار پر لگی پینٹنگز کو تکنے لگی
شٹ اپ مہرماہ….اور مجھے پتا ہے شرارت تمہاری ہی ہوگی,,
کھڑوس کہیں کے,,مہرماہ پھر سے دانت پیستے ہوۓ دھیمی آواز میں بولی,,,
میں تم دونوں کو وارن کر رہا ہوں اگر مجھے کبھی بھی کوئی شکایت آئی نا تو تم دونوں اچھی طرح سے سمجھ جانا,,,
سر آپ نے ہمیں بلایا تو اس ہارون کو بھی بلا لیتے نا غلطی کس کی تھی پتا چل جاتا,,,
عاشر نے مہرماہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے بولنے سے روکا,,,
مجھے سب پتا ہے غلطی کس کی تھی,اور اگر ہارون کی ہے تو تم لوگوں نے شکایت کیوں نہیں کی سیدھا مار پیٹ پر کیوں اتر آۓ….
سر پر……عاشر نے جیسے ہی منہ کھولا تو سر نے انگلی اٹھا کر چپ کروادی….
چپ اور آگے سے میں یہ سب نا سنوں,خاص کر کے مہرماہ تمہاری شکایت دوبارہ نہیں آۓ,,,,
اوکے سر……مہرماہ غصے سے پاؤں پٹک کر چلی گئی,,,
عاشر بھی سر سے سوری کہہ کر باہر چلا آیا,,,
مہرماہ نے دیکھا تو ہارون کھڑکی کے پاس کھڑا ہوا سب سن رہا تھا اور ان دونوں کو دیکھ کر دوسرے لڑکوں کے ساتھ مزاق اڑا رہا تھا,,,
مہرماہ غصے سے کلاس کی طرف چلی…رکو مہرماہ….عاشر نے آواز لگائی,,
کیا ہے منہ میں چھالے پڑ گۓ تھے کیا جو کچھ بول نہیں سکتے تھے,,,
ارے بابا سر تھا وہ اور ٹیچرس سے بحث کرنا مجھے نہیں آتا,,,
ہاں تو غلط الظام سہنا تمہیں آتا ہے…. ﮈرپوک,,,,
یار تمہاری طبعیت خراب لگ رہی ہے تم گھر چلی جاؤ,,,
نہیں میں ٹھیک ہوں,,وہ آگے کلاس میں گئی
وہ دونوں کلاس میں آگۓ,مہرماہ کی طبیعت واقعی ہی خراب تھی جسم بخار کے مارے تپ رہا تھا,اور چکر بھی آ رہے تھے,وہ اپنی چیئر پر بیٹھ نے والی تھی عاشر نے کلاس میں عدیل کو دیکھا تو اسکے پاس چلا گیا,
مہرماہ کھڑی ہی تھی اور بیگ سے بک نکال رہی تھی کہ اچانک بیگ کو نیچے پھینک کر زور سے چلائی,,,
سارے لوگ اسکی طرف متوجہ ہوۓ,عدیل اور عاشر بھی دوڑتے ہوۓ آئیں,
کیا ہوا مہرو….عدیل نے بیگ کو دیکھ کر کہا,,,,
مہرماہ بہت ﮈر گئی اسنے منہ پر ہاتھ رکھے ہوۓ تھے اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگی,,
عاشر پاس آیا….کیا ہوا مہرماہ یہ بیگ کیوں…
عاشر…. سانپ…سانپ ہے اس میں,,,,
کیا…….سانپ کچھ لوگوں نے حیرانگی سے پوچھا…..
ہاں میری بیگ میں ہے,,,
کیا…..جو پاس میں کھڑے تھے وہ دور بھاگ گۓ اور کچھ لوگ چلا کر چیئرس کے اوپر کھڑے ہوگۓ….
سب کا شور سن کر پرنسپال بھی آگۓ,,مہرماہ ابھی بھی حیران تھی,عاشر بھی پاس میں ہی کھڑا تھا….
کیا ہوا ہے شور کیوں مچا رہے ہو,,سر کی آواز تھی…
کسی نے جواب دیا سر مہرماہ کے بیگ میں سانپ ہے,,,
کیا……سر بھی چونک گیا,,,
سر آگے بڑھا بیگ کو اسٹک سے ادھر ادھر کر رہا تھا مگر کچھ باہر نہیں آیا,,,
پھر ہاتھوں سے بیگ اٹھا کر دیکھنے لگا,,,اور مسکرا کر سانپ باہر نکالا…..
سب لوگ سر کی طرف دیکھ رہے تھے,,,,
سر نے سانپ کو ہاتھ میں لیکے آگے کیا….ایک نقلی سانپ,ربڑ سے بنا ہوا تھا جسکو تھوڑا بھی ہلاتے تو پورا ہل جاتا تھا,دیکھنے میں اصلی لگتا تھا,,,
اب یہ کیا بدتمیزی ہے مس مہرماہ خان,,,سر مہرماہ سے مخاطب ہوا….
وہ سر….مجھے سچ میں کچھ نہیں پتا کہ یہ کہاں سے آیا ہے,,,
اسکو تیز بخار ہوگیا وہ کپکاتے ہوۓ چیئر پر بیٹھ رہی تھی….
مہرماہ….. عاشر نے اسکو اپنی طرف کھینچا….
یہ دیکھو چیئر ٹوٹی ہوئ ہے بیٹھوگی تو گر جاؤ….
سر نے چیئر کی طرف دیکھا تو واقعی ہی ٹوٹی ہوئی تھی,,,,
مہرماہ دیکھ کر دنگ رہ گئی اور سر سے مخاطب ہوئی,,,
سر مجھے نا اس سانپ کے بارے میں کچھ پتا ہے اور نا ہی چیئر کے بارے میں بلکہ عاشر اور میں ابھی ابھی ہی آئیں ہیں آپ کی آفس سے,,,,
سر کو مہرماہ کی باتوں میں سچائی نظر آئی,تو پوری کلاس سے پوچھنے لگا,,,
یہ حرکت کس نے کی ہے,,سارے چہروں پر خاموشی چھائی ہوئی تھی کوئی کچھ نہیں بول رہا تھا,,,
ہارون…….بیچ میں عدیل نے ہارون کا نام لیا…
کیا ہارون……؟سر سوالیا نگاہوں سے دیکھ رہا تھا,,,
جی سر میں جب کلاس میں آیا تھا تو ہارون کہ علاوہ کوئی نہیں تھا,,,
ہاں سر مینے بھی اسکے ہاتھوں میں بلیک شاپر دیکھی تھی وہ کینٹین کی طرف جا رہا تھا,,,
واٹ……سر کو بھی یقین ہونے لگا کیونکہ مہرماہ کی کل ہی اسکے ساتھ لڑائی ہوئی تھی….
ہارون کلاس میں تھا ہی نہیں سر نے ہارون کو بلانے کے لیۓ کسی کو باہر بیجھا….
چند لمحوں بعد وہ کلاس میں آیا,سر کو سامنے پا کر اسکے پسینے چھوٹنے لگے….
یہ کیا ہے ہارون…..
سر…سر….وہ,,,ہارون کچھ بول ہی نہیں پایا,,اسکے چہرے پر پورا واضع تھا کہ یہ حرکت اس کی ہی ہے,,,
مہرماہ باری قدموں کے ساتھ آگے بڑھی اور سب کے سامنے ہارون کو زوردار تھپڑ لگائی,,اتنی گھٹیا حرکت کرتے ہوۓ تمہیں شرم نہیں آئی…..
سر کو بہت غصہ آ رہا تھا…
مینے تمہیں آخری بار وارننگ دی تھی نا,شاید تمہیں میری وارننگ کو تم نے مزاق سمجھا تھا,,,
ہورون شرم کے مارے کچھ بول ہی نہیں رہا تھا…..
سر مجھے آپ سب کو ایک وﮈیو دکھانا ہے…..
کونسا وﮈیو…..
ہارون نے نظریں اوپر کی وہ سمجھ گیا آج اسکا آخری دن ہے….
مہرماہ نے فون نکالا اور وﮈیو پلے کرکے سر کو دیا,,,
سارے لوگ سر کے آگے بھیڑ جما کر کھڑے ہوۓ,عاشر کو کچھ پتا ہی نہیں تھا,پر عدیل سب جانتا تھا,,,
سر نے جسے ہی وﮈیو دیکھا وہ چونک گیا..,,اسی حرکت….
ہاں سر,,,,میں کیمسٹری لیب کے پیچھے گئی تھی کسی کام سے تو دیکھا یہ کسی لڑکی کو پریشان کر رہا تھا میں پاس میں گئی اور وﮈیو رکارﮈ کیا مجھے پتا تھا میری باتوں پر کوئی یقین نہیں کرتا سب مزاق سمجھتے ہیں تو اس لیۓ یہ رکارﮈ کیا….اور اسنے ﮈرکس بھی لے رکھی تھی,,,
تو تم ہمیں اب بتا رہی ہو…
سر بتانے والی تھی پر ہارون نے اس لڑکی کو دھمکایا,وہ رو رہی تھی,,,
تو مینے نظرانداز کردیا….
سر آگے بڑھا اور زناٹے دار تھپڑ ہارون کے گالوں پر لگائی…
وہ سر جھکاۓ کھڑا تھا,,,,,پورا کلاس تماشا دیکھ رہا تھا…
سر نے ہارون کو یونی سے نکال دیا….اور تین سالوں کے لیۓ اسکی ایﮈمیشن پے بیل لگا دی…
سر کلاس سے باہر چلا گیا,اب لوگ ہارون کو بری نظروں سے دیکھ رہے تھے,وہ بھی کلاس سے باہر چلا گیا….
مہرماہ کو تیز بخار ہوگیا,اسکا کھڑا ہونا بھی مشکل ہوگیا تھا,
وہ دھیرے دھیرے آگے بڑھی,مگر اسکو چکر آنے لگے,اور درد کے مارے نیچے گرنے والی تھی…
پیچھے عدیل کھڑا تھا اسنے مہرماہ کو سہارا دیا…عاشر بھی آگے بڑھا,,
یار اسکو تو تیز بخار ہے….عاشر نے مہرماہ کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا……
ہاں یار سردی بھی لگ رہی ہے اسے….
عاشر نے مہرماہ کو بانھوں میں اٹھایا اور چیئر پر بیٹھا دیا…
مہرماہ کو ہوش نہیں تھا,کسی نے مہرماہ کے چہرے پر ہاتھ سے پانی چھڑکا,,مہرماہ آنکھیں بھی نہیں کھول پائی,عاشر کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا,اسکی سانس اٹک گئی تھی,
عدیل یہ چابی لے گاڑی سٹارٹ کر…. ہاسپیٹل چلیں عاشر نے جیب سے چابی نکال کر عدیل کے طرف اچھالی..
عدیل نے چابی دونوں ہاتھوں سے کیچ کی اور کلاس سے باہر چلا گیا…..
عاشر نے کسی لڑکی کا سہارا لیکے مہرماہ کو اٹھایا,,,,
اور کلاس سے باہر جانے لگے,,
وہ گاڑی میں مہرماہ کو بٹھانے لگے کے عاشر نے عدیل سے سنہا کے لیۓ پوچھا….
یار سنہا کیوں نہیں آئی ہے آتی تو مہرماہ کو ہاسپیٹل سے سیدھا گھر لے جاتی,,,
عاشر….ان دونوں کی انگیجمینٹ فکس ہو گئی ہے,,
عاشر نے کچھ دہیان نہیں دیا اور ﮈرائیونگ والی سیٹ پر بیٹھ گیا…..
عدیل بھی آگے ہی بیٹھا….
سنو……عاشر نے اس لڑکی کو آواز دی,,,
وہ پیچھے مڑی…..
کیا آپ مہرماہ کے ساتھ پیچھے بیٹھ سکتی ہیں…
وہ لڑکی پہلے سوچنے لگی پھر گاڑی میں بیٹھ گئی….
ہلکی ہلکی بارش بھی ہو رہی تھی عاشر نے گاڑی ہاسپیٹل کہ طرف موڑ دی..
