Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon NovelR50673 Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 09)
Rate this Novel
Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 09)
Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon
شام کا وقت تھا آسمان پر سیاح بادل چھاۓ ہوۓ تھے ٹھنﮈی ٹھنﮈی ہوا چل رہی تھی چاروں طرف سناٹا پہلا ہوا تھا,مہرماہ یونی سے لوٹ رہی تھی,گاڑی پارکنگ پر لگاۓ تھکے پاؤں گارﮈن میں داخل ہوئ,سامنے دیکھا تو پنکی اور فرح پینٹنگ بنانے میں مصروف تھی,وہ بغیر کچھ بولے دبے پاؤں آگے بڑھی,,,
اسنے بیگ چیئر پر رکھ دیا اور چپ چاپ ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہوگئی,,وہ دونوں بس پینٹنگ بنانے میں مشغول تھی,مہرماہ نے چیئر پر پڑی ایک بلیک چادر اٹھا کر اوڑھ کر بالوں سے اپنا پورا چہرا ﮈھک لیا,,اور ایک عجیب چینخھ نکال کر ان دونوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ دیا,,,
پنکی اور فرح نے زور سے چینخھے نکال کر پیچھے دیکھنے لگی,پنکی چلاتے ہوۓسامنے اسٹینﮈ کے اوپر گر گئی فرح گھبراہٹ کے مارے پیچھے ہو گئی….
مہرماہ نے چادر نیچے پھینکی اور بال پیچھے کرکے زور زور سے ہنسنے لگی,,
پنکی مہرماہ کو تعجب سے دیکھ کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگی,,,,
آپی کیا کردیا ساری پینٹنگ خراب کر ﮈالی…….
فرح مینے کہاں خراب کی ہے یہ تو موٹی اسٹینﮈ کے اوپر گر گئی تبھی خراب ہوگئی ہے,,, ہاہاہاہاہا مہرماہ قہقہ لگانے لگی,,,
فرح موٹی کو دیکھ مہرماہ نیچے اشارہ کرتے ہوۓ بولی….
ہاہاہاہا ہاتھ دو پنکی…..فرح ہنستے ہوۓ پنکی کو ہاتھ پکڑنے کو کہہ رہی تھی,,,,
آپی کیوں کرتی ہو ہر بار ایسا اب دیکھو پوری محنت پر پانی پھیر دیا,,,,
مینے تو کچھ نہیں کیا,تمہارے موٹے پن کی وجہ سے یہ اسٹینﮈ ٹوٹ گئی اب اس میں میری کیا غلطی ہے,,,
تو چڑیلوں کی طرح چلا کر ﮈرانے کیوں آگئی,,پنکی دانت پیستے ہوۓ بولی…..
ہاہاہاہا میں تو بس مزا لے رہی تھی چڑیلوں کی طرح تو تم دونوں چینخھی…..
مہر آپی اب ہم کیا کریں,,,کتنی دل سے بنائی تھی اور کمپلیٹ بھی ہونے والی تھی دیکھو,,,اس بار فرح نے پینٹنگ ہاتھ میں لیکے مہرماہ سے مخاطب ہوئی….
اب اتنی بھی اچھی نہیں تھی…دیکھو یہاں سے لکیریں ٹیڑھی ہیں,تم دونوں نے اسکیچ تو بنایا ہے پر کوئی خوبصورتی نظر ہی نہیں آ رہی ہے..مہرماہ غور سے دیکھ کر خامیاں نکالنے لگی….
ہاں مہر آپی آپ صحیح کہہ رہی ہو……
آپی آپ کے ہاتھ کو کیا ہوا ہے….پنکی کی نظر جب مہرماہ کے ہاتھ پر پڑی تو سوال کیا…
ہاں وہ آج یونی میں تھوڑی چوٹ لگ گئی تھی,,,
دکھاؤ تو……فرح آگے بڑھی…
ارے کچھ نہیں ہوا ہے ہلکی سی چوٹ ہے فرح…
اچھا ایسا کرو تم دونوں یہ سب صاف کرو میں پینٹنگ بناتی ہوں اور تم دونوں سیکھو مجھ سے کہ کیسے بناتے ہیں ….مہرماہ چیئر پر بیٹھ گئی,,,
آپی مفت میں……پنکی سوالیا نگاہوں. سے پوچھنے لگی….
اب میں اتنی بھی اچھی نہیں ہوں,جو تیرا کام مفت میں کروں,,,,مہرماہ مسکرا کر بولی…
ہاں وہی تو…..پنکی نے کنھے اکچاۓ,,,
ہیلپ چاہیے یا نہیں…..مہرماہ دونوں کو تکنے لگی….
ہاں ہاں چاہیے….دونوں نے ہامی اختیار کی….
اوکے ﮈیل کا تو پتا ہی ہوگا…
ہاں پتا ہے آپی ورنہ کہو تو ہم رپیٹ کریں آپ کی ﮈشز کو……
نہیں….!!! ورنہ منہ میں پانی آجاۓ گا…..یہ سیدھا کرو تو میں ہیلپ کرتی ہوں….مہرماہ نے اسٹینﮈ کی طرف اشارہ کیا….مہرماہ نے ایک ہاتھ میں پینسل اور دوسرے ہاتھ میں کلر پلیٹ اٹھا کر کھڑی ہو گئی——
***********************
باہر کا موسم بہت ہی خوشگوار تھا,آسمان پر کالے بادلوں نے سورج کو اپنی گرفت میں کرلیا تھا,,ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی,جیسے جیسے عاشر کے جسم کو وہ ہوا چھو رہی تھی وہ خود کے وجود کو کھوکھلا سمجھ رہا تھا,,نجانے کیوں آج عاشر کے چہرے پر اداسی تھی, کیوں وہ حسین منظر اسے تنہائی کی دنیا میں ﮈھکیل رہا تھا….
عاشر……..؟؟
عاشر نے بھابھی کے بلاوے پر کوئی آواز نہیں دی…
عاشر کہاں گم ہوگۓ ہو,,,,اب کی بار شہرناز نے عاشر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف متوجہ کیا,,,,
ہاں…..جی,,,,,عاشر کھڑکی کے پاس کھڑا ہوا باہر کا منظر جھانک رہا تھا,بھابی کی آواز پر وہ پیچھے مڑا….جی بھابی…
کہاں گم ہو بھئی…اتنی دیر سے آوازیں دے رہی ہوں,,,
بس یوں ہی بھابی,,وہ سنجیدگی سے بولا,,
آؤ بیٹھو بات کرنی ہے,,,شہرناز نے صوفے پر بیٹھنے کے لیۓ اشارہ کیا,
عاشر بغیر کچھ کہے وہاں بیٹھ گیا,,,
اس دن زرمینہ چاچی آئی تھی کسی خاص مقصد سے,,
اچھا کیوں,,ایک اداس آواز میں عاشر نے سوال کیا…
تمہارے لیۓ کرن کا رشتہ لیکے,,,شہرناز نے اپنی بات شروع کردی….
کیا……..!!!!
عاشر کے کانوں میں چاروں طرف سے گھنٹیاں بجنے لگی وہ حیران ہوگیا اسے کچھ سنائی ہی نہیں دے رہا تھا,,,
عاشر… تم اتنے چونک کیوں گۓ…
بھابھی میں کیسے….اس کرن کو میں جانتا تک نہیں,
تو جان جاؤگے نا,ملوگے باتیں کروگے تو جان پہچان ہو جاۓ گی,,,وہ بے فکر ہوکے بولی…
نہیں بھابھی میرا اور اسکا کوئی میل جول ہی نہیں ہے,میں تو سوچ بھی نہیں سکتا کہ میں اور کرن,,,نہیں بھابھی میں تو کسی….عاشر کے الفاظ وہیں رک گۓ,,,
کیوں کیا ہرج ہے اس میں اچھی خاصی لڑکی ہے میں جانتی ہوں اسکو,تمہارے بھائی بھی اچھی طرح سے واقف ہیں,,
پر بھابھی……
عاشر تم سوچ لو…..میں ابھی تھوڑی کہہ رہی ہوں بس ابھی تو بات چل رہی ہے اور وہ بھی تو آئوٹ آف سٹی گئی ہے پڑھائی کمپلیٹ کرنے کے لیۓ,,,
پر بھابھی بات تو سنو,,,,عاشر کچھ بول ہی نہیں پایا کہ بھابھی نے عاشر کے سر پر ہاتھ رکھا کمرے سے باہر جانے لگی,,,,
عاشر کے سر میں پہلے ہی درد تھا,اور اس بات کی وجہ سے وہ اور بھی شدید تکلیف محسوس کرنے لگا,اسنے اپنے بال دبوچ لیۓ,اسکا اپنے ہی کمرے میں دم گھٹ رہا تھا سردی تو تھی پر اسکا جسم درد کے مارے تپ رہا تھا,اسے کچھ سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے,عاشر نے اپنی آنکھیں نوچ لی,اور ٹیک لگا کر اپنے ہی دل کو تسلی دینے لگا,,,,,
دل چاہتا ہے آج میرے پاس تم رہو،
میرے بدن کا روح کا احساس تم رہو،
میں زندگی سے ساری محبت نچوڑ لوں،
میری خوشی ہے میرا غم و یاس تم رہو،
ہر خواب قتل کرکے تمہیں سوچتا رہوں،
میں ہوں وجودِ عشق مرا ماس تم رہو،
یہ مانتا ہوں دل سے کہ کچھ بھی نہیں ہوں میں،
ہوکر میرا یقین, میرا راس تم رہو،
لفظوں میں ﮈھل رہی ہے محبت کی واردات،
میں ﺫات لکھ رہا ہوں میری قرطاس تم رہو،
ایسا نہیں کہ کھیل کا کوئی ہنر نہیں،
میں ہارنے لگوں تو میری آس تم رہو،
بنتے سنورتے وہ رہیں,شیشے کے سامنے،
لیکن اداۓ حسن کے عکاس تم رہو،
ليكن سکون کہاں آنا تھا اسے,وہ صوفے سے اٹھ کر بیﮈ کی طرف گیا سامنے ﮈائری پڑی تھی وہ اٹھائ اور اسے ہوٹوں سے چوم کر آنکھیں بند کرلی,,,,
“”رب نے اتنی قیمتی دو آنکھیں دی ہے دیکھ کر نہیں چل سکتے تھے”””
ایک آواز اسکے کانوں میں گونجی اور جھٹکے سے وہ اٹھ گیا اسنے ﮈائری کھولی اور ایک آنسوں اس ﮈائری پر گر گیا
«پلکوں کی حد کو توڑ کر دامن پہ آ گرا
ایک آنسو میرے صبر کی توہین کر گیا»
,,وہ آج بڑی شدت سے کسی کو یاد کر رہا تھا,وہ جو شاید اسکے نصیب میں نا ہو,,پر عاشر کیسے اپنی امید چھوڑ سکتا ہے,محبت تو اسکو اس ہی وقت ہو گئی تھی جب اسنے وہ آنکھیں دیکھی تھی, اپنا دل تو اسی وقت بیجھ آیا تھا جب پہلی بار بڑی فرست سے اسکو اپنے محبت کی دید نصیب ہوئی,,,اسکا دل بے چین تھا وہ حد سے زیادہ تکلیف محسوس کر رہا تھا,پہلے تو ایک ہی درد تھا اپنی محبت کے پاس ہوتے ہوۓ بھی دوری…..,اور اب اسکی زندگی میں ایک الگ راہ نے جنم لیا وہ تھی کرن,,,وہ سوچتہ رہا ایک طرف میری محبت اور دوسری طرف بھابی کی کزن وہ کیسے مانتا اسکے لیۓ بہت مشکل ہوگیا تھا,,,
عاشر کا دوسرہ آنسو بھی موتی کی طرح باہر نکل آیا اسنے ﮈائری کو زور سے سینے سے لگایا شاید وہ ایک ہی انمول چیز تھی,جو اسکے درد کو دور کرتی تھی,جب بھی وہ اسے کھولتا تھا تو ایک نام سامنے آجاتا تھا جسکو اپنی آنکھوں میں بسا کر ایک حسین مسکراہٹ سجا لیتا تھا,,وہ صرف ایک ﮈائری نہیں تھی اسکی محبت,اسکی زندگی کا وجود تھی,,,
________________________
واہ آپی کتنی پیاری پینٹنگ بنائی ہے,فرح نے تعریف کی,,,
پینٹنگ میں بنائی ہوئی ہر چیز خوبصورتی اور نفاست اجاگر کر رہی تھی,مہرماہ کو بچپن سے ہی ﮈرائنگ کا شوق تھا بس اسی وجہ سے وہ ہاتھ کی صفائی ماہر تھی,وہ اپنے خیالوں میں کھو کر بہت اچھی اچھی پینٹنگز بنا دیتی تھی بعد میں اسے خود پر یقین ہی نہیں ہوتا تھا کے کیسے بنایا,,,
بچی ہاتھوں کا کمال ہے,,,مہرماہ نے کندھے اچکاۓ…..
مہر آپی اس نظارے میں تو یہ آپ لگ رہی ہو تو پھر یہ شخص کون ہے,,,,,پنکی نے ہاتھ لگا کر پوچھا,,,,
ہاں یہ تو میں ہی ہوں,,,اور یہ سمندر جہاں ہمیشہ میں جاتی ہوں….
اچھا پر یہ کس کا اسکیچ ہے…..
پتا نہیں مجھے بس جو آتا گیا میں بناتی گئی….
بہت پیارا بنایا ہے آپی مجھے بھی ایسی پینٹنگس بنانا سکھاؤ نا,,فرح اسے التجا کرنے لگی,,,
ہاں بابا جب میں وہاں آؤں گی تو سکھا دوں گی,,,,
پنکی تھک گئی ہوں جوس وغیرہ لیکے آؤ نا…..
ہاں آپی لیکے آتی ہوں….
سنو کچھ کھانے کے لیۓ بھی لیکے آنا…
اوکے….
سنو…..موٹی…
اب کیا حکم ہے میﮈم جی,,,پنکی غصے سے پیچھے مڑی اور مہرماہ کو کھاجانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی,,
آئسکریم بھی….اگر یہ سب تم دونوں بھی کھاؤ تو اپنے لیۓ الگ سے لیکے آنا…..
پتا ہے آپی آپ سے کھلانے والی امید تھوڑی رکھتا ہے,,
اچھی بات ہے نا بری باتوں کی تو امید کرنا بھی بیکار ہے اور بھی مجھ سے تو بلکل بھی نہیں,,مہرماہ نے طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجائی…
پنکی پاؤں پھٹک کر چلی گئی….
ویسے فرح گھر کے دونوں کپلس ظاہر ہی نہیں ہیں کہاں گۓ ہے وہ کھڑکی سے لاؤنج کی طرف دیکھ رہی تھی…
امی جان اور چاچی جان انجم جیجی کے گھر گۓ ہیں اسکی شادی پر ہم یہاں نہیں آۓ تھے نا اس لیۓ…..
اچھا تو تایا جان اور پاپا,,,
وہ ابا جان کے بزنس کے چکر میں کسی کلائینٹ سے ملنے گۓ ہیں,,,
ہممم ٹھیک ہے…..
آپی یہ لو……پنکی نے کچھ پھل ٹیبل پر رکھے اور ہاتھ میں جوس,آئسکریم لیکے مہر سے مخاطب ہوئی….
اوہ ماۓ گریٹ سسٹر تھینکیو سو مچ…..مہرماہ نے پنکی کے ہاتھوں سے آئسکریم اور جوس لے لیا اور تھینکس کہہ کر جوس لبوں سے لگا لیا….
فرح آپی آپ بھی لے لو….
تھینکیو پنکی…..فرح نے بھی جوس لیا…
ویسے گائیز اچھا موقعا ہے اور موسم بھی کافی اچھا ہے باہر چلیں……
آپی گھر میں کوئی نہیں ہے پاگل ہو کیا….
نہیں سر پھر گیا ہے….
اچھا پر چاہے پاگل ہو یا سر پھر گیا ہو بات تو سیم ہی رہی نا,پنکی نے ہنسی روکتے ہوۓ معصومیت سے بولی,,,
ہی ہی ویری فنی مہرماہ نے پنکی کی بات پر دانت نکالے…..
فرح اس کو چھوڑو ہم دونوں چل رہے ہیں,,,
ہاں آپی,,,,فرح نے ہامی بھری,,,
لیکن میں,,,,,,پنکی نے انگلی اٹھا کر اپنی طرف اشارہ کیا….
تو چل نا کس نے منا کیا ہے…..,مہرماہ کھڑی ہوگئی…
پر مما کیا سوچے گی,,,
اوفففف مما کی چمچی ﮈر کیوں رہی ہو میں پاپا کو کہہ دونگی,,
ٹھیک ہے,,,پنکی نے منہ ہلایا,,
ایک منٹ میں سنی کو بھی کال کرتی ہوں….
سنی….کون ہے,,,فرح سوالیا نگاہوں سے دیکھ رہی تھی,,,
آپی کی پکی سہیلی….مہرماہ موبائل میں بزی تھی تو فرح کی بات کا جواب پنکی نے دیا,,,
اچھا….ٹھیک ہے,,,
مہرماہ نے کال لگائی تو دوسری طرف کا رسیو کی جا چکی تھی…
یار سوری میں نہیں آ سکتی,,سنہا نے معذرت کی..
پر کیوں,,
یار ایکچولی طارق کی امی آئی ہے رشتہ لیکے,,,
What…? Are y0u serious…
مہرماہ نے حیرانگی سے پوچھا….
ہممم,,,,I’m serious
پر تم نے انفارم کیوں نہیں کیا مجھے,,,
یار سب جلدی جلدی ہوگیا اور مجھے لگا توں آج یونی والی بات کو لیکے اپسیٹ ہوگی تبھی نہیں بتایا,,,
تو تجھے لگتا ہے میں ان باتوں پر دہیان دینے لگی ہو..not fair yar….
ارے مجھے لگا مہرو تبھی نہیں بتایا,,,
میں کوئی ﮈرپوک اور کمزور نہیں ہوں جو اتنی سی بات پر پریشان ہونے لگون
ہاں پتا ہے مجھے تیرا,تمہیں کسی بھی بات کا فرق نہیں پڑتا…
ہمم باۓ میں جا رہی ہوں…مہرماہ نے کال کٹ کردی,,,
آپی کیا کہا سنہا نے,,,
وہ نہیں آ رہی ہے اسکا رشتہ ہونے والا ہے,,,
کیا…..اور کس سے..کیا آج بھی تم کسی اور کو….پنکی حیرانگی سے کہہ رہی تھی,,
نہیں رے لڑکا طارق ہی ہے اب,,,
شکر ہے ورنہ مجھے لگا تم خود کو اب چار بچوں کی ماں بناؤ گی,,,,
ہاہاہاہاہا پگلی کہیں کی,,,مہرماہ نے پنکی کو سر پر تھپکی ماری,,,
مجھے کچھ سمجھ میں ہی نہیں آ رہا ہے,,,,فرح نے پرشانی کے تاثرات ظاہر کیے,,,
فرح آپی لمبی کہانی ہے آؤ میں راستے میں بتاتی ہوں,,پنکی فرح کو لیکے گاڑی کی طرف گئی,,
پنکی یہ فروٹس گاڑی میں رکھ دو میں بس چینج کر کے جلدی آئی…مہرماہ نے پنکی کو آواز دی…
آپی اچھی لگ رہی ہو اس سوٹ میں اور دیر ہوجاۓ گی,,,فرح نے مڑ کر کہا,,,
ہاں آپی بارش کا بھی اندیشہ ہے,اگر بادلوں نے گرجنا شروع کیا تو آپ کو چھپنے کی بھی جگہ نہیں ملے گی,,ہاہاہاہا پنکی مہرماہ کا مزاق اڑا رہی تھی,کیونکہ مہرماہ کو بادلوں کی آواز سے ﮈر لگتا تھا,,
مہرماہ نے غصے سے چبھتی ہوئی نظر پنکی پر ﮈالی اور بغیر کچھ کہے گاڑی کی طرف چلی گئی,,,تینو گاڑی میں بیٹھ گئی..مہرماہ نے گاڑی سٹارٹ کی پنکی فرح کو سنہا والی کہانی بتا رہی تھی,مہرماہ کا دہیان ﮈرائیونگ پر تھا پر باتیں سن کر وہ بھی ہنس رہی تھی,,,اسنے گاڑی ریسٹورنٹ کی طرف موڑی.
