Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon NovelR50673 Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 08)
Rate this Novel
Muhabbat Aik Judai Hai (Episode 08)
Muhabbat Aik Judai Hai by Nadia Memon
ہیٹر آن ہونے کی وجہ سے کمرا بہت گرم تھا,وہ گہری نیند میں سو رہی تھی,اور نیند میں ہی کچھ بڑبڑا رہی تھی,اچانک ایک چینخ نکالی, اسکی نیند اڑ گئی وہ اٹھ گئی, لیمپ آن کیا,دیکھا تو کمرے میں کوئی نہیں تھا,وہ اکیلی ہی تھی,پورا چہرا پانی پانی ہوگیا تھا اسنے اپنے سر کو پکڑا اور لمبی سانس خارج کی,اسکے خیالوں میں ایک ہی منظر دوڑ رہا تھا,اور وہ دل ہی دل میں اس شخص کو یاد کر رہی تھی جس نے اسے ایک بھیانک حادثے سے بچایا تھا,
کسی نے دروازا کھٹکھٹایا,وہ بيﮈ سے اتری,جلدی سے دروازہ کھولا دیکھا تو مما پاپا اور تایا تائی تھے,
کیا ہوا مہرماہ تم چینکھی کیوں…..فوزیہ بیگم نے مہرماہ کے گالوں پر ہاتھ رکھا,,,
ارے مما بس عجیب خواب دیکھا,تبھی چینکھ نکل گئی,,
ہممم برا خواب دیکھا ہوگا بچی نے جاوید خان نے اپنے کندھوں چادر لپیٹتے ہوے کہا….
افففف مما آپ لوگ تو ایسے آ گۓ جیسے میرے اوپر کوئی پہاڑ گر گیا ہو,مہرماہ نے ایک ہاتھ ماتھے پر اور دوسرا کمر پر رکھ دیا,,
بیٹا ایسا نہیں بولتے..پاپا مہرماہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر بول رہا تھا… ہمیں لگا واقعی ہی کچھ ہوگیا ہوگا,کیوںکہ آواز ہی اتنی بڑی تھی,,,
اٹس اوکے پاپا اور سوری میری وجہ سے آپ سب کی نیند خراب ہوگئی,,,
کوئی بات نہیں بیٹا,,
آؤ جاوید تم چلو سو جاؤ,آفتاب خان بھائی سے مخاطب ہوا,,
مہرماہ میں سوجاؤں آپکے کمرے میں ریحانہ بیگم مہرماہ سے کہنے لگی,,,
ارے نہیں بھابھی آپ بھی آرام کریں میں پنکی کو یہاں بیجھتی ہوں,,,,
ہمممم ٹھیک ہے,,
مہرماہ آؤ تم مما نے اسے اپنے پاس بیﮈ پر بلایا,,,
سب لوگ چلے گۓ,,
مما کیا ہے میں بچی نہیں ہوں سو جاؤں گی خود,اور موٹی کو بھی نہیں بیجھنا,,,مہرماہ چڑچڑاہٹ سے بولی,,,
چھوٹی تو ایسی نہیں ہے تم کس پر گئی ہو,,وہ خشک لحجے میں بول رہی تھی,,,
میں……میں تو مسز فوزیہ خان پر گئی ہوں,,,,وہ بیﮈ پر بیٹھ گئی,,
کیا….مما حیرانگی سے مہرماہ کو تکنے لگی…میں تمہاری طرح تھی,,,
اب مما میں تھوڑی نا تھی آپ کی جوانی میں,مجھے کیا پتا آپ میری طرح تھی,,,اسنے کمبل کھینچا اور لپیٹ لیا,,,
دیکھو مہرماہ ہر وقت تم مزاق نہیں کر سکتی,اور یہ تمہیں جو ﮈراونے خواب آ رہے ہیں نا,اسکی وجہ بھی تم خود ہی ہو,تمہیں اپنے اس انجوائمینٹ کے چکر میں اپنی ہی لائف میں اپنے رب سے جدا ہو,نا نماز نا ہی کوئی مذھبی احکامات کی پابندی,بیٹا اسی وجہ سے تمہیں ﮈراونے خواب آتے ہیں,جب تم خدا کے قریب آجاؤ گی نا تو بہت سکون ملے گا تمہیں,,,
مما سونے دو نا اب,,وہ دو ٹوک انداز میں بول رہی تھی,,
دیکھنا مہرماہ بیٹا تم بدلوگی ایک دن.. اسنے مہرماہ کے سر پر پیار سے ہاتھ گھمایا اور کھڑی ہوکے جانے لگی,,,
چند لمحوں بعد پنکی مہرماہ کے روم میں آئی,,آپی سائیﮈ ہو مما نے سونے کے لیۓ بیجھا ہے,وہ آنکھوں کو مسلتے ہوۓ مہرماہ کو جھنجھوڑ رہی تھی,,,,
کیا ہے موٹی سونے دو نا,,,
تو ایک سائیﮈ سؤ نا,,,
مہرماہ اٹھ کر بیٹھ گئی,,اب ایک خواب ہی تو دیکھا ہے اتنا بڑا تماشا بنانے کی کیا ضرورت تھی,پوری نیند خراب کردی,,
تمہیں تماشا لگ رہا ہے وہاں مما پریشان تھی تمہاری وجہ سے تبھی مجھے بیجھا,,,
اففففف تو تجھے آنے کی کیا ضرورت تھی,,,
اب جگہ دوگی یا واپس جاؤں,,
ہممم,,,,مہرماہ ایک طرف ہو گئی,,,
موٹی کاش میں اسکا چہرا دیکھ پاتی نا,,,
اب کسکا چہرا….
بتایا جو تھا,جب میں اور سنہا اس رات…..
ہاں پتا ہے اب سونے دو, پنکی نے اسکی بات کاٹ دی,,,جب اسے دیکھو تو تھینکس بول دینا,اب تم بھی سو جاؤ….
کہاں بول پاؤں گی میں اس اسٹرینجر کو جانتی تک نہیں….
میں نے تو اسکا چہرا بھی نہیں دیکھا…..
اب آپی سر مت کھاؤ لیمپ آف کردو…..
مہرماہ چبھتی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی اور لیمپ آف کرکے سو گئی,,,
***************************
ﮈسمبر کا مہینا چل رہا تھا,بہت سردی تھی,اور یونی کی بھی چھٹیاں چل رہی تھی,عاشر نے لمبا سئیٹر اوڑھ کر رکھا تھا,ساتھ میں ہاتھ اور پاؤں پورے کَوَر تھے,وہ لاؤنج میں بیٹھ کر گرم گرم کافی پی رہا تھا پاس میں عشارب اور شہرناز بھی بیٹھے تھے,
عاشر رزلٹ کب آۓ گا تمہارا,عشارب نے کپ سامنے پڑے ٹیبل پر رکھا اور عاشر کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا,,
بس بھائیجان آجاۓ گا,یونی کے چھٹیاں ختم ہونے کے بعد,,
اچھا ٹھیک ہے,,,پھر پروجیکٹ پر دہیان دینا,,,
ہممم جی بھائی جان,, اسنے مختصر جواب دیا,,
عاشر ایک رشتہ آیا ہے,,,
مطلب……عاشر حیران ہوگیا,,,
وہ کرن ہے نا…… شہرناز آگے کچھ بولتی اسسے پہلے کمرے سے آروو کی آواز آئی…..
شہرناز آواز سن کر کمرے کی طرف دوڑی دیکھا تو آروو نے ہاتھوں میں کاکروچ پکڑ کے رکھا تھا,,,
شہرناز چلائی,,,,آروو……
اتنے میں عاشر اور عشارب بھی کمرے میں آگۓ اور آروو کو دیکھ کر ہنس پڑے…..
________________________
آج شام آفتاب خان اور جاوید خان گیم خیل رہے تھے-پاس میں فوزیہ اور ریحانہ بھی باتیں کرنے میں مشغول تھی,ساتھ میں پنکی اور فرح بھی تھی,فرح بھی چھٹیاں منانے اپنے چاچا کے گھر آئی ہوئی تھی,,,
جاوید کو اسلام آباد سے کراچی آۓ ہوۓ چار مہینے ہوگۓ تھے,دونوں بھائیوں کی دلوں میں آج بھی محبت قائم تھی,دونوں بھائیوں کو بیٹا نہیں تھا پر ریحانہ نے اپنے بانجھے حماد کو اپنا بیٹا مان کر پالا اسکی تربیت کی-اور کبھی بھی اسکو سوتیلا پن محسوس نہیں ہونے دیا,,
فرح,, بھائی کو بھی ساتھ لے آتی فوزیہ اس کو چاۓ دیتے ہوۓ مخاطب ہوئی,,
ہاں چاچی مینے کہا تھا بھائی کو,پر نہیں مانا اور گھر بھی اکیلا تھا نا,,,
ہاں یہ بات ٹھیک ہے بیٹا,,
دیکھو بھائی صاحب ہر بار کی طرح آج بھی آپ ہی جیت گۓ,,جاوید خان ہنستے ہوۓ بولا,,
ہاں بھئی ہم سے جیتنا اتنا آسان تھوڑی ہے,آفتاب نے گیم ایک طرف رکھ دیا اب دونوں بھائی بھی باتیں کرنے میں مشغول ہوگۓ
ہیلو ایوری ون……مہرماہ اپنے روم سے باہر آئی دیکھا تو سب مصروف تھے تو انکی طرف متوجہ ہوئی,,,
مہر آپی آجاؤ,,,فرح نے اسے اپنی طرف بلایا,,,فرح مہرماہ سے عمر میں چھوٹی پر دکھنے میں بڑی لگتی تھی,
ہممممم کیا چل رہا ہے,,وہ فرح کے ساتھ چیئر پر آکے بیٹھ گئی,,
کچھ نہیں آپی,,
بیٹا تم بھی چلو گی نا ہمارے ساتھ,,,ریحانہ خان مہرماہ سے بات کرنے لگی,,
کہاں……تائی جی,,
ارے فرح کے ساتھ یونی میں جو جاؤ گی,,,
ہاں تائی لاسٹ سیمسٹر ابھی باقی ہے,,,
اچھا جی تو دو تین مہینے میں وہ بھی ہو جاۓ گا آپی پھر تو چلو گی نا,اب کی بار فرح نے کہا,,
ہاں فرح بلکل,,,اب پاپا کی خواہش ہے اور میں پوری نا کر سکوں ایسا بھلا ہو سکتا ہے,,,
ہاہاہاہا شاباش بیٹی یہ ہی امید تھی تم سے آفتاب خان نے مہرماہ کو فخر سے کہا,,,
مہرماہ جوابًا مسکرا دی,,
مما وہ دو نا مہرماہ نے اشارہ کیا,,
دیکھنا فرح آپی اب یہ سارے پکوڑے کھا جاۓ گی,پنکی نے فرح کے کان میں سرگوشی کی,,
فرح مسکرانے لگی,,
کیا کہا موٹی,,,,
کچھ نہیں آپی آپ کھائیے نا,,,,
***************************
عاشر………..
عاشر کینٹین میں بیٹھا تھا مہرماہ نے پیچھے سے آواز دی,,,
Hey mahrmah you….how r uhh….
عاشر نے جیسے ہی پیچھے دیکھا تو مہرماہ کو سامنے پاکے خوش ہوا…
ائم گوﮈ,,,مہرماہ نے ﮈوپٹا سمبھال کر کہا,,
آؤ بیٹھو,,,عاشر نے چیئر آگے کی اور مہرماہ کو بیٹھنے کا اشارہ کیا,,
تھینکس,,
مہرماہ نے ییلو کلر کا فراک ساتھ میں وائیٹ چوڑی دار پاجامہ اور میچینگ میں سمپل ﮈوپٹا پہن رکھا تھا,,,,
ویسے مہرو آج تم کچھ زیادہ ہی خوبصورت لگ رہی ہو,,سفید رنگت پر ییلو کلر اور بھی کھل گیا تھا اور ایک سائیﮈ بال کیئے ہوۓ تھے تو وہ بہت پیاری لگ رہی تھی,تو عاشر نے اسکی تعریف کی….
تو کیا میں پہلے کم حسین تھی کیا….مہرماہ نے سامنے پڑا برگر اٹھایا,,
نہیں… نہیں… میرا وہ مطلب نہیں تھا,,,
ہاں بس مما نے ضد کی ہے اب فل سوٹ پہنوں….
ہاں اچھی بات ہے نا,اور تم اس جینز شرٹ سے تو بہتر لگ رہی ہو,,
افففف اب تم بھی مما کی طرح نا ہوجانا,,,یہ کرو وہ کرو یہ جائز ہے وہ غلط ہے,,مہرماہ بے رخی سے بول رہی تھی,,,
ہاں مائیں ہی تو ہوتی ہے جو صحیح غلط کی پہچان کرواتی ہے,,عاشر کو اپنی ماں کی یاد آگئی,,
یار یہ فیملی والے بھی نا ہماری خوشی میں خوش کیوں نہیں ہوتے ہیں,اب دیکھو ضد کرکے یہ لمبا فراک پہن آئی ہوں,ورنہ میں تو کمفرٹیبل فیل کرتی تھی جینز اور شرٹ میں, پر مما اوفففف….. اسکی مذھب اجازت نہیں دیتا,,اسکی نہیں دیتا,,یہ کرو وہ کرو,,مہرماہ دو ٹوک انداز میں بول رہی تھی—
ٹھیک ہی تو کہتی ہے تمہیں ماں,,,ان سب کی ہمارا مذھب اجازت نہیں دیتا,,,اور مینے بھی تمہیں نوٹس کیا ہے تم خدا کے احکامات سے بلکل دور ہو,,تمہیں صحیح غلط کی پہچان تو ہے پر تم جاننا نہیں چاہتی,,
اوۓ تم میری مما کے پچھلے جنم کے بیٹے تو نہیں ہو,,,مہرماہ نے عاشر کو عجیب نگاہوں سے گھورا,,,
پاگل ہو کیا,,,
نہیں تو…..
تو یہ حقیقت ہے تم جہاں بھی جاؤ گی تمہیں کوئی نا کوئی سمجھاتا رہے گا,,
اوہ اب میں بچی نہیں رہی ہوں,,سو کسی کو بھی مجھے سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے,,,
تم جب قرآن پاک کی تلاوت کروگی نا تو اسکا ایک ایک لفظ تمہاری دل میں اترتا جاۓ گا …you need to read Holy Quran
ہممممم پڑھوں گی…
پڑھوں گی نہیں…پڑھو,اب سے ہی خدا کے قریب ہوجاؤ تو جب تمہیں کسی مدد کی ضرورت ہو اور کوئی بھی تمہارے ساتھ نا ہو تو صرف ایک خدا ہی تمہاری ہیلپ کرے گا,جب تم اس وقت اپنے رب کو یاد کروگی تو خدا تمہیں تمہارے برے وقت میں یاد کرے گا,,
تم عاشر ہی ہو نا,,مہرماہ نے حیرانگی کے تاثرات ظاہر کیۓ….
نہیں اسکا بھوت ہوں عاشر نے مہرماہ کے سر پر بوک مارتے ہوۓ کہا…
ہاں تبھی میں سوچوں,عاشر تو کبھی ایسی باتیں نہیں کرتا تھا,,,
تم جسے باتیں کہہ رہی ہو نا وہ حقیقت ہے….
“”انسان اول بیباکی سے خود عذاب طلب کرتا ہے,اور برائی اپنی زبان سے مانگتا ہے مگر انسان کمزور اتنا ہی ہے کہ جہاں ﺫرا تکلیف پہنچی گھبرا کر ہمیں (خدا کو) پکارنا شروع کردیا,جب تک مصیبت رہی, کھڑے,لیٹے ہر حالت میں خدا کو پکارتا رہا,پھر جہاں تکلیف ہٹا لی گئی سب کہا سنا بھول گیا,جیسے خدا سے کبھی کوئی واسطہ نہ تھا,وہی غرور وہ غفلت کا نشا,وہی اکڑ رہ گئی جس میں پہلے مبتلا تھا,حدیث میں ہے کہ خدا کو اپنے عیش و آرام میں یاد رکھ خدا تمہیں تیری سختی میں یاد رکھے گا,,(آیت 11:12 سورة یونس)””
Ohhhh what are you saying yar I couldn’t understand…..
مہرماہ نے حیرانگی سے پوچھا,
It’s reality Maharmah one day You’ll realize…
تم لوگوں کا کچھ نہیں ہوتا,اب اٹھو کلاس سٹارٹ ہونے والی ہے
ہممممم چلو,,,,عاشر نے بیگ اٹھایا….
وہ دونوں کلاس میں چلے گۓ,,
پہلے سے بہت سردی تھی اور ہوتا بھی یہ ہی ہے جب سردیاں بڑھ جاتی ہے چھٹیاں بھی تب ختم ہوتی ہے کلاس کا ﮈور بند تھا مہرماہ عاشر سے ہنسی مزاق کرتے ہوۓ کلاس کا ﮈور اوپن کر رہی تھی کہ ایک نوک والی پن مہرماہ کے ہاتھ میں چبھ گئی,
آہ…..درد کی وجہ سے مہرماہ کی آہ نکلی سب لوگ ان دونوں کی طرف دیکھنے لگے,,,
مہرو…….سنہا نے مہرماہ کے ہاتھوں سے بہتا خون دیکھ کر آواز نکالی,,,
عاشر نے مہرماہ کے ہاتھ کو دیکھا جو پورا خون سے برا پڑا تھا,عاشر نے جلدی اپنی جیب سے رومال نکالا اور مہرماہ کا ہاتھ صاف کرنے لگا,,,تم دیکھ کر کبھی چل نہیں سکتی نا اب دیکھ کتنا خون نکل رہا ہے,,,
ارے کچھ نہیں ہے عاشر یہ چوٹیں لگتی رہتی ہے,,,مہرماہ نے اپنا ہاتھ پیچھے کیا
سب لوگ دیکھ رہے تھے,,
چپ ہو جاؤ تم اور ہاتھ آگے کر,,,عاشر ﮈانٹتے ہوۓ بولا…,
ایک کلاسمیٹ اپنی دوست کو خیالی انداز بتا رہی تھی کاش یہ چوٹ مجھے لگتی اور عاشر میرے ہاتھ کو پکڑ کر رومال باندھتا,,,,
تم مہرماہ تھوڑی ہو,,,دوسری نے جواب دیا,,,
ہاں وہی تو……
چوٹ مہرماہ کو لگی ہے درد عاشر کو ہو رہا ہے بیچارے کا چہرا تو دیکھو,,,ہارون نام کے لڑکے نے قہقہ لگاتے ہوۓ کہا وہ مہرماہ کا پرانہ عاشق بھی تھا,,,اسکی بات پر سب ہنسنے لگے….
عاشر نے وہ آواز سنی تو اسکے دل میں ایک چبھن ہونے لگی….
اور اسکی طرف گھور رہا تھا,,
عاشر ویسے بھی سائکو پیشنٹ سے اور امید بھی کیا کی جاۓ بکواس تو کرتے رہتے ہیں وہ…..مہرماہ نے اسکی بات کو نظرانداز کیا,اور عاشر کو اندر چلنے کو کہا…..
مہرماہ لڑکوں کو پھسانے کا ہنر اچھی طرح سے جانتی ہو,وہ بغیر کچھ سوچے سمجھے بول رہا تھا شاید مہرماہ کو اور تکلیف دیتے اسکو سکون مل رہا تھا,,,
عاشر نے اپنا ہاتھ مہرماہ کے ہاتھوں سے چھڑایا اور پیچھے مڑ کر اس لڑکے کی کالر پکڑی,,,دوبارہ مہرماہ کے بارے میں کچھ بھی کہا تو کچھ بولنے لائق بھی نہیں بچو گے,,,عدیل نے عاشر کا غصہ دیکھا تو ان دونوں کے بیچ آ گیا,,,
عاشر تم چھوڑو اسے,,,,,
لو آ گیا ایک اور رکھوالا,,,,ہارون نے مسکرا کر عدیل کی طرف دیکھا,,,,
عاشر اب برداشت سے باہر نکل گیا اسنے قدم آگے بڑاۓ اور ہارون کے گالوں پر پڑتی ہوئی زناٹے دار تھپڑ کی آواز پورے کلاس میں گونجی,,
وہ کچھ بولتا اسسے پہلے عاشر نے الٹے ہاتھ سے دوسری تھپڑ لگائی وہ منہ کے بل نیچے گر گیا سب کے چہروں پر سانپ سونگھ گیا,,
مہرماہ آگے آئی عاشر کا ہاتھ پکڑا…عاشر یہ کیا تماشا بنا دیا,,وہ غصے میں بول رہی تھی,,عاشر بغیر کچھ بولے کلاس سے باہر چلاگیا,,,عدیل بھی اسکے پیچھے چلاگیا,,
کچھ دوستوں نے ہارون کو اٹھایا,,,وہ مہرماہ کو گھور رہا تھا اور اسے دھمکی دینے لگا,,
مہرماہ اپنے دانت پیستے ہوۓ آگے بڑھی اور انگلی اوپر کرتے ہوۓ اسسے مخاطب ہوئی آواز نیچے رکھو اور یہ تو کچھ بھی نہیں تھا اگر مجھے یا کسی اور لڑکی کو کچھ بھی بولا تو پوری یونی کے سامنے میں تمہارے کرتوت کھول کر رکھ دوں گی سمجھے..,,مہرماہ پاؤں پٹک کر چلی گئی,,,
