Misal E Taweez By Isra Rao NovelR50470 Misal E Taweez (Episode - 9)
No Download Link
Rate this Novel
Misal E Taweez (Episode - 9)
Misal E Taweez By Isra Rao
اس نے ماربل کے ٹھنڈے فرش پر قدم رکھا۔۔۔
پھر دوسری سیڑھی پر قدم بڑھایا۔۔
آنسوں کاایک قطرہ اس کے گال پر لڑھک گیا۔۔
وہ قدم رکھتا اوپر پہنچا۔۔
اس کی نظر سامنے جالیوں پر پڑی۔۔
وہ اس درگاہ پر آج پہلی بار آیا تھا۔۔۔
وہ آہستہ قدم اٹھاتا قریب پہنچا۔۔۔
دعا اس شدت سے مانگنے لگا کہ آنسوؤں کی قطار بندھ گئی۔۔
وہ دعا مانگنے ہر در پر گیا۔۔
اب وہ تھک چکا تھا۔۔۔
رو رو کر۔۔ڈھونڈ ڈھونڈ کر اسے۔۔۔
مگر وہ تو شاید اس سے ناراض بیٹھی تھی۔۔یا کہیں گم ہوگئی تھی۔۔۔مگر اس سے دوری کی تکلیف غنی کو پاگل کیے دے رہی تھی۔۔
وہ کتنی ہی دیر وہاں دعا مانگتا رہا۔۔۔
پھر اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دعا ختم کی۔۔
بھیگا چہرہ لیے اس نے نظر اٹھائی۔۔
سامنے ہی جالیوں میں اسے کسی کی جھلک دکھائی دی۔۔
یہ وہی چہرہ تھا جسے وہ 2 مہینے سے تلاش کر رہا تھا۔۔
اس کےلیے مارا مارا پھر رہا تھا۔۔
وہ حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
اس نے برابر سے نکلنا چاہا مگر اس طرف جانے کا راستہ بند تھا۔۔
وہ تیزی سے واپس سیڑھی اترنے لگا۔۔
بھاگتا ہوا دوسری طرف سے اندر گیا۔۔مگر وہاں بہت سی عورتیں تھی مگر ان میں بس وہی نہیں تھی۔۔
وہ تھک ہار کر واپس باہر نکلا….پھر وہیں سیڑھیوں پر بیٹھ گیا۔۔۔اچانک سے کوئی اس کے قریب آیا۔۔اس نے نظر اوپر کی۔۔۔اور اسے اپنے بلکل سامنے دیکھ حیران ہوا۔۔۔
“مما یہ میں نہیں ہونے دوں گی۔۔”
تانیہ روہانسی ہوئی۔۔
“بکواس نہیں کر کوئی سن لے گا”
پھپھو نے اسے دھمکایا ۔
“تو سن لے۔۔۔مگر میں غنی کو کسی اور کا نہیں ہونے دوں گی۔۔”
وہ غصہ میں کہنے لگی۔۔
“میں نے کہا نا آہستہ بول۔۔۔غنی تیرا ہے اور تیرا ہی رہے گا۔۔ابھی خاموش ہوجا”
انہوں نےسمجھایا۔۔
ایسے کیسے خاموش ہوجاؤں وہ چڑیل مجھ سے چھین لے گی غنی کو۔۔”
وہ نم آنکھوں سے کہنے لگی۔۔
“تجھے اپنی ماں پر بھروسہ ہے نا میں سب ٹھیک کردوں گی۔۔۔ابھی اس شادی کو ہوجانے دے۔۔مگر یہ شادی زیادہ دن نہیں ٹکے گی۔۔”
انہوں نے اس کے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا۔۔
دوسرے دن ان کا نکاح رکھا گیا تھا۔۔
وہ رات اس نے کانٹوں پر گزاری۔۔
وہ بیڈ کراون سے ٹیک لگائے۔۔۔اپنی قسمت کوسنے میں مصروفتھی۔۔آنسوں آنکھوں سے قطرہ بہ قطرہ بہ رہے تھے۔۔
“کیوں صرف عورت کی غلطی کو کوئی نہیں بھولتا۔۔مرد کی غلطی کو ہر کوئی نظر انداز کردیتا ہے۔۔”
وہ بھیگی پلکوں سے سوچنے لگی۔۔
“کیوں ہر جگہ صرف ایک عورت کو ہی جھکنا پڑتا ہے۔۔”
وہ روتے روتے خود کلامی کرنے لگی۔۔۔
تبھی اس کا سائیڈ ٹیبل پر رکھا فون زور زور سے چیخنے لگا۔۔
اس نے گردن موڑ کر اسکرین کی طرف دیکھا جہاں زوہیب کا نمبر جگمگا رہا تھا۔۔
وہ ہاتھ بڑھا کر اٹھانے لگی تھی کہ فوراً اسے اپنے پاپا کا خیال آیا۔۔ان کی نم آنکھیں اور شرمندہ چہرہ اس کے بڑھتے ہاتھ کو روک گیا۔۔
عائشہ اور تانیہ اسے تیار رہی تھی۔۔
وہ آئینے کے سامنے کسی مجسمے کی طرح بیٹھی تھی۔۔
اس کے ساتھ کیا ہورہا تھا وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔۔
وہ الفاظوں کو کوس رہی تھی۔۔
جو اس نے بنا سوچے سمجھے غنی کو اچھالے تھے۔۔
اور خمیازہ وہ اب بھگت رہی تھی۔۔
تھوڑی ہی دیر میں اسے تیار کر کے نیچے لایا گیا۔۔
اور اسے غنی کے برابر بٹھا دیا گیا۔۔
تھوڑا سا گھونگھٹ کیے وہ خاموش بیٹھی تھی۔۔۔
جس میں اس کا آدھا چہرہ ظاہر ہورہا تھا۔۔۔
مگر اس کے دل میں ہول اٹھ رہے تھے
کہ وہ یہاں سے اٹھ کر بھاگ جائے۔۔۔
مگر اپنے ماں باپ کی عزت کے لیے خاموشی اسکی مجبوری بن گئی۔۔
حالانکہ وہ جانتی تھی۔۔غنی اس سے نفرت کرتا ہے۔۔
وہ یہ شادی کر کے خوش نہیں رہے گی۔۔
مگر اپنے پاپا کا شرمندہ چہرہ دیکھ اسے خود کو کوسنے کو جی چاہ رہا تھا۔۔
تمہیں کیا لگتا تھا مجھ سے شادی کر کے تم سکون سے رہ سکو گی۔۔۔؟”اس نے خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے اس کے بال اپنی مٹھی میں جکڑے۔۔۔
نایاب کی آنکھوں سے قطرہ بہ قطرہ آنسوں گرنے لگے۔۔
وہ خود کو چھڑوانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔۔
“پتا ہے میں نے تم سے شادی کیوں کی ہے؟ تاکہ میں تم سے اپنی ہر بے عزتی کا بدلہ لے سکوں۔۔۔تمہیں یہ بتا سکوں کہ مرد کیا چیز ہوتی ہے”
اس نے نایاب کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑتے ہوئے چبا کر کہا۔۔۔
اور جھٹکے سے اسے بیڈ پر پھینکا۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اس پر جھکتا۔۔
نایاب چیخ کر اٹھی۔۔۔
“نہیں۔۔۔” وہ حواس باختہ بیڈ پر بیٹھی تھی۔۔
اس نے پورےکمرے میں نظریں دوڑائی۔۔
کمرے میں اس کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔۔۔
پھر اس نے خود کو دیکھا۔۔جو دلہن کے لباس میں تھی۔۔
کمرے میں ہلکی ہلکی پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔۔
اس نے گہرا سانس خارج کیا۔۔
پیشانی کو چھوا جہاں پسنے کی بوندیں ابھر آئی تھی۔۔
وہ سمجھ چکی تھی کہ یہ بس اس کا خواب تھا۔۔۔
مگر وہ یہ بھی جانتی تھی کہ حقیقت اس سے بھی بھیانک ہوگی۔۔
وہ کتنی ہی دیر باہر بیٹھا رہا۔۔۔
سوچ کو مہور بنانے لگا۔۔
“کیا سوچ رہے ہو۔۔؟” اسے پیچھے سے آواز سنائی دی۔۔
اس نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔جہاں افضل صاحب تھے۔۔
“بابا۔۔۔” وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
کتنے دنوں بعد آج اس کے بابا نے اسے خود سے مخاطب کیا تھا۔۔
“غنی مجھے اس دن کے لیے معاف کرنا جب میں نے تم پر یقین نہیں کیا تھا اوربنا سو چے سمجھے۔۔۔”
افضل صاحب نے کہا
“نہیں بابا۔۔۔بس آپ مجھ سے ناراض نہیں ہوا کریں۔۔میں برداشت نہیں کرسکتا۔۔۔” غنی کی آنکھوں میں آنسوں تیر آئے۔۔
“تم نے نایاب کو خوش رکھنا ہے۔۔۔مانا اس نے غلطی کی تھی۔۔مگر وہ بچی ہے۔۔۔ناسمجھی میں کیا جو کیا۔۔
مگر اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ تمہاری غلطی کو نظر انداز کیا جائے گا۔۔
تم نے بدلے میں آکر غلطی نہیں کی۔۔۔غلطی تو نایاب نے کی تھی۔۔تم سے تو گناہ ہوا ہے۔۔۔جس کی معافی نا صرف نایاب سے مانگنی ہے بلکہ اپنے رب سے بھی مانگنی ہے۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے کہنے لگے۔۔اور غنی سر جھکائے ان کی بات پر ور کرنے لگا۔۔
