Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Misal E Taweez (Episode - 4)

Misal E Taweez By Isra Rao

“نایاب کہاں ہے؟” اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا غنی نے اس کو گریبان سے پکڑے سوال کیا

“یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔اور مجھے نہیں پتا نایاب کہاں ہے؟”

زوہیب نے اپنا گریبان سے اس کے ہاتھ ہٹائے۔۔

“جھوٹ بول رہے تم۔۔۔نایاب تمہارے پاس آئی ہے”

غنی غرایا

“میرے پاس وہ کیوں آئےگی۔۔۔میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔۔۔میرا صرف ایک ہی کے ساتھ واسطہ ہے۔۔۔”

زوہیب نے مسکرا کر کہا۔۔

اور سامنے سے ذرا سائیڈ ہٹا۔۔۔

اور وہ جو اس کے پیچھے کھڑی تھی۔۔۔غنی اب اسے صاف دیکھ سکتا تھا۔۔۔

“تم یہاں۔۔۔؟” وہ حیرانی سے پوچھنے لگا۔۔

“ہاں ہم دونوں نے شادی کرلی۔۔”

زوہیب نے ڈھٹائی سے کہا۔۔اور غنی کو جھلسا گیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“اس میں میری کیا غلطی تھی بتاؤ؟”

وہ فون کان سے لگائے پوچھ رہی تھی۔۔

“غلطی اگر تمہاری نہیں تھی تو اس کی بھی تو نہیں تھی یار۔۔”

زوہیب نے کہا

“اسے اس ڈاکٹر کو سبق سکھانا چاہیے تھا”

نایاب نے شکوہ کیا

دیکھو نایاب جو ڈاکٹر نے تمہیں کہا۔۔وہ غنی نے نہیں سنا۔۔نا اس نے دیکھا کہ ڈاکٹر نے کیا بدتمیزی کی تھی تمہارے ساتھ۔۔تو وہ کیسے سینئر پر ہاتھ اٹھاتا بتاؤ؟”

زوہیب نے سمجھایا

“مگر میں نے اسے سب بتایا پھر بھی وہ مجھے بلیم کرنے لگا”

وہ روہانسی ہوئی

“بتانے میں اور دیکھنے میں فرق ہے۔۔اور وہ بیچارہ تو شریف انسان ہے اسے مار دھاڑ کرنا نہیں آتا۔۔۔وہ نمازی پرہیزی بندہ ہے لڑائی جھگڑائی اسے نہیں آتی ہوگی۔۔”

زوہیب نے کہا۔۔

“ہاں شاید تم سہی کہ رہے ہو”

وہ نرمی سے کہنے لگی۔۔

“الٹا تم نے اسے نامرد کہ دیا وہ بھی اس کے منہ پر۔۔اسے برا لگا ہوگا۔۔تمہیں سوری کرنی چاہیے۔۔”

زوہیب نے سمجھایا

“ہاں۔۔میں کچھ زیادہ ہی بول گئی۔۔”

نایاب کی سمجھ میں بات آئی۔۔

اور وہ شرمندہ ہوئی۔۔

“میری شیرنی بس مجھ سے لڑتی اچھی لگتی ہے باقی کسی سے نہیں۔۔سمجھی”

زوہیب نے شرارت سے کہا اور وہ ہنس دی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ بال خشک کرتا واشروم سے باہر نکلا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔۔

“کم ان۔۔۔” اس نے لاپرواہی سے کہا۔۔

وہ دروازہ کھول کر اندر آئی۔۔

غنی نے خاموشی پاکر دروازے کی طرف دیکھا۔۔جہاں وہ چپ چاپ کھڑی تھی۔۔

اسے دیکھ غنی کے چہرے پر ناگواری اتری۔۔۔

“وہ نیچے پھپھو بلا رہی ہیں آپ کو۔۔” نایاب نے جلدی سے کہا۔۔

غنی نے اس کی بات سن کوئی جواب نہیں دیا۔۔

“سوری کل کے لیے۔۔۔”

نایاب نے نظر جھکائے کہا اور باہر جانے کے لیے مڑی۔۔

(میری نظر میں وہ نامرد ہے)

غنی کو اس کا جملہ پھر سے یاد آیا۔۔یا یہ کہو کہ وہ بھلا ہی نہیں سکا تھا۔۔وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔۔۔

اور اسے بازو سے پکڑ کر دیوار سے لگایا۔۔۔

وہ اس حملے کے لیے تیار نہیں تھی۔۔

اس سے پے وہ کچھ بولتی غنی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا۔۔

وہ خود کو چھڑوانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔۔

“نامرد ہوں نا میں تو چھڑواؤ خود کو”

اس نے غصہ سے چبا کر کہا

نایاب کی آنکھوں میں خوف اتر آیا۔۔

“چاہتا تو اس ڈاکٹر سعد کو اسی وقت دھول چٹوا سکتا تھا مگر غلطی اس کی نہیں تمہاری تھی۔۔جب بنا پردے کے بے حودہ کپڑے پہن کر نکلو گی تو۔۔کوئی بھی مرد تمہاری عزت نہیں کرے گا۔۔۔

جب بنا پردے لے ایک عورت نامحرموں کی آنکھوں کی زینت بنتی ہےتو فرشتے بھی اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔۔۔مگر تم نہیں سمجھو گی۔۔۔اس لیے دوبارہ مجھے نامرد مت کہنا ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ میں تم سے۔۔۔”

وہ کہتے کہتے رکا۔۔۔

اور یک دم اسے چھوڑ کر پیچھے ہٹا۔۔

“جاؤ یہاں سے” اس نے غصہ سے کہا۔۔

“مجھے لگاکہ میں نے زیادہ بول دیا تھا۔۔۔اس لیے سوری کہنے آئی تھی۔۔مگر آپ اس لائق ہی نہیں۔۔۔

جس کی نظر اور نیت ہی خراب ہوگی اس کے لیے سات پردے بھی کم ہیں۔۔۔

اور میری نیت اور نظر جب صاف ہے تو مجھے پردے کی ضرورت نہیں ہے”

وہ تلخ لہجے اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہنے لگی۔۔

“پردے کا حکم ہر عورت کے لیے ہے۔۔۔تمہاری نظر اور نیت۔۔

حضرت فاطمتہ الزہرا سے زیادہ تو صاف نہیں ہوسکتی۔۔۔مگر پردے کا حکم تو انہیں بھی تھا۔۔تو تم کیا چیز ہو”

غنی نے غصہ سے اسے سمجھانا چاہا۔۔

اس کی بات سن نایاب خاموش ہوئی۔۔شاید اس کے پاس جواب نہیں تھا۔۔

اسے خاموش دیکھ غنی۔۔۔کچھ بھی کہے بنا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔

اور وہ وہیں ساکت کھڑی رہ گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

(پردے کا حکم ہر عورت کے لیے ہے)

(تمہاری نظر اور نیت۔۔حضرت فاطمتہ الزہرا سے زیادہ تو صاف نہیں ہوسکتی۔۔۔مگر پردے کا حکم تو انہیں بھی تھا۔۔تو تم کیا چیز ہو)

اسے غنی کی کہی باتیں۔۔سن شرمندگی ہورہی تھی

وہ کھڑی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔۔۔

جہاں غنی لان میں کھڑا ڈیکوریشن والوں کے ساتھ صبح سے کام میں لگا تھا۔۔۔

اس کی نظر اسی پر ٹکی تھی۔۔

تبھی پھپھو کی آواز پر چونکی۔۔۔

“اے لڑکی یہاں کھڑی کیا کر رہی ہے؟”

پھپھو نے تلخ لہجے میں کہا۔۔

“جی۔۔نن۔۔نہیں کچھ نہیں۔۔”

اس نے سر جھکائے کہا۔۔

“کبھی کچھ کام میں ہاتھ بھی بٹا لیا کر۔۔اونٹ سی ہوگئی ہے تو۔۔مگر خالدہ نے ذرا ڈھنگ نہیں سکھایا۔۔گھر داری نہیں سکھائی۔۔”

پھپھو اسے جلی کٹی باتیں سنانے لگی۔۔

جسے وہ خاموشی سے سن رہی تھی۔۔

“لے پکڑ یہ کپڑے اور استری کر لے۔۔۔آج گھر میں بہت کام ہیں شام میں عائشہ کی سگائی والے آجائیں گے۔۔”

پھپھو نے اسے کپڑے تھمائے۔۔

“جی۔۔” وہ کپڑے پکڑے۔۔اور اندر کی جانب بڑھ گئی ۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

عائشہ کی منگنی کی کافی تیاریاں مکمل ہوگئی تھی۔۔

وہ ڈیکوریشن والوں کے ساتھ کام کروا رہا تھا۔۔

جب اسے شدید پیاس نے آگھیرا۔۔

وہ سیدھا کچن کی جانب بڑھ گیا۔۔

سامنے ہی کچن میں تانیہ کھڑی تھی۔۔

تانیہ ایک گلاس پانی دینا۔۔

وہ چیئر پر بیٹھتے ہوئے کہنے لگا۔۔

“وہ ۔۔میں۔۔۔” تانیہ نے ہاتھ دکھائے جہاں مہندی لگی تھی۔۔

“کوئی بات نہیں میں لے لوں گا۔۔” وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا۔۔پھر اٹھ کر فریج سے پانی کی بوتل نکالی۔۔

اور گلاس میں انڈیلنے لگا۔۔

“جب تمہیں مہندی لگی ہے تو یہاں کیا کر رہی ہو۔۔؟”

غنی نے پوچھا۔۔

“میں تو نایاب کو ڈھونڈنے آئی تھی۔۔مل ہی نہیں رہی پتا نہیں کہاں گئی۔۔آپ نے دیکھا ہے کہیں۔۔؟”

تانیہ نے اس سے پوچھا۔۔

“نہیں۔۔” نایاب کا نام سن اس نے مختصر جواب دیا۔۔

اور پانی پی کر گلاس ٹیبل پر رکھا۔۔اور اٹھ کر باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔

“غنی۔۔” تانیہ نے پیچھے سے پکارا۔۔

“ہاں۔۔” وہ پلٹا۔۔

“کیا یہ میرا دوپٹہ سر پر اوڑھا سکتے ہیں۔۔۔مجھے مہندی لگی ہے”

تانیہ نے معصومیت سے کہا۔۔

“کوئی بات نہیں میں کردیتا ہوں”

وہ اس کے قریب آیا اور اس کے سر پر دوپٹہ اوڑھایا۔۔

کچن کے دروازے پر کھڑی نایاب انہیں دیکھ رہی تھی۔۔

“تھینک یو۔۔۔وہ میں بنا دوپٹے کے نہیں گھومتی۔۔۔اور گھر میں مہمان بھی ہیں بس اس لیے آپ کو کہا۔۔”

تانیہ نے مسکرا کر صفائی دی۔۔

“اچھی بات ہے۔۔”

وہ پلٹا ہی تھا کہ نایاب پر اس کی نظر پڑی۔۔

جو گلے میں دوپٹہ ڈالے کھڑی۔۔ انہیں ہی دیکھ رہی تھی۔۔

“دوپٹہ سر پر ہی ہونا چاہیے۔۔۔حیا اور پاکیزہ عورت کی یہی نشانی ہے۔۔مگر لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے۔۔”

وہ طنزیہ نظروں سے نایاب کو گھورتا باہر نکل گیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

بیوٹیشن نے عائشہ کو تیار کیا۔۔

سارے مہمان آچکے تھے۔۔

تانیہ اور فارہ بیگم بھی اس کے پاس کھڑی تھی۔۔

“آج تو میری بیٹی بہت خوبصورت لگ رہی ہے۔۔”

فاخرہ بیگم نے اس دیکھ پیار سے کہا۔۔

وہ مسکرائی ۔

تبھی دروازہ کھول نایاب اندر داخل ہوئی۔۔

شارٹ فراک پہنے۔۔۔ بالوں کو رول کیے۔۔۔

وہ بھی الگ ہی انداز جھلکا رہی تھی۔۔

“بڑی مما وہ نیچے سب بلا رہے ہیں”

نایاب نے کہا۔۔

“اچھا۔۔بس آرہے ہیں۔۔”

فاخرہ بیگم نے کہا۔۔۔اور عائشہ کو ساتھ لیے وہ باہر نکل گئے۔۔

نایاب بھی جانے لگی کہ اس کا دوپٹہ دروازے میں اٹک گیا۔۔

وہ وہیں کھڑی دوپٹہ نکالنے لگی۔۔

تبھی اسے اپنی طرف آتا فیضان دکھائی دیا۔۔

اس نے ایک نظر اسے دیکھا پھر دوپٹہ نکالنے لگی۔۔

“میں نکال دیتا ہوں”

فیضان نے اسے جدوجہد کرتے دیکھ کہا۔۔

پھر آگے بڑھ کر اس کا دوپٹہ دروازے سے نکالنے لگا۔۔

“میں کرلوں گی۔۔۔”

نایاب نے روکھے لہجے سے کہا۔۔

“کیوں میرے نکالنے پر اعتراض ہے؟”

فیضان نے اس کا دوپٹہ نکال ہاتھ میں لیے کہا۔۔

“نہیں ایسی بات نہیں”

نایاب نے جھٹکے سے اپنا پلو اس کے ہاتھ سے چھڑوایا۔۔

اور جانے کے لیے پلٹی۔۔

“اچھی لگ رہی ہو”

فیضان کی آواز پر وہ لمحہ بھر رکی۔۔پھر تیز قدم بڑھاتی وہاں سے نکل گئی۔۔

اور فیضان کے لبوں پر عجیب مسکراہٹ پھیل گئی

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

منگنی کی رسم ہورہی تھی۔۔

سب اسٹیج پر تھے۔۔

وہ بھی وہیں کھڑی تھی۔۔۔عائشہ نے جیسے ہی فرحان کو رنگ پہنائی۔۔سب نے شور مچایا۔۔۔

فیضان نے جلدی سے اسپرے نکال اوپر کی طرف کرنے لگا۔۔۔

مانو سب پر snow گرنے لگی۔۔۔ہر طرف سفیدی پھیل گئی۔۔

فیضان کی نظر پاس کھڑی نایاب پر پڑی۔۔جو اپنے بال جھاڑ رہی تھی۔۔

وہ اسے دیکھ مسکرایا۔۔

اور پھر سے جان بوجھ کر اسی طرف اسپرے کرنے لگا۔۔

اس کے سارے بال خراب ہوگئے تھے۔۔

وہ غصہ سے اسے گھورنے لگی۔۔

پھر پیر پٹختی اندر کی جانب بڑھ گئی۔۔

وہ بھی اسپرے پھینک اس کے پیچھے لپکا۔۔

وہ سیدھی اپنے کمرے کی طرف گئی۔۔

ڈریسنگ کے سامنے کھڑی شیشے میں دیکھ بالوں کو صاف کرنے لگی۔۔

یک دم اندھیرا چھا گیا۔۔

وہ چونک کر یہاں وہاں دیکھنے لگی۔۔

“یہ لائٹ کیوں چلی گئی۔۔” وہ بڑبڑائی

تبھی اسے اپنے پیچھے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔۔

“کون ؟” اس نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔۔

یک دم ہی کسی نے اسے کسی نے پیچے سے اپنی گرفت میں سمیٹا۔۔

“کون ہو۔۔۔؟” وہ چلائی

مگر وہ مزید چلاتی کسی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا۔۔

اس نے خود کو چھڑوانے کی بہت کوشش کی۔۔۔مگر گرفت مضبوط تھی۔۔

اسے دوپٹہ اپنے شانوں سے الگ ہوتا محسوس ہوا۔۔

اس کی آنکھ سے آنسوں جاری ہوگئے۔۔۔

اسے اپنی گردن میں کسی کا لمس محسوس ہونے لگا۔۔

تبھی کسی کی آہٹ ہوئی اور وہ اسے جھٹکے سے پرے کر پیچھے ہٹا۔۔۔

“کون ہو تم۔۔۔۔۔۔بچاؤ۔۔۔” وہ پوری قوت سے چلائی۔۔

تبھی لائٹ آگئی اور پوری کمرے میں پھر سے روشنی پھیل گئی۔۔

نایاب نے نظر اٹھا کر سامنے کھڑے شخص کو دیکھا۔۔

آنکھیں پانی سے بھر گئی تھی۔۔۔۔۔

اس آؤ دیکھا نا تاؤ۔۔۔اور زوردار تھپڑ سامنے کھڑے شخص کے گال پر جھڑ دیا۔۔

“آپ اتنے گھٹیا بھی ہوسکتے ہیں میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔۔۔” وہ بھری آواز کے ساتھ چلائی۔۔

“نایاب۔۔۔” وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا

“خود کو مرد کہتے ہیں نا آپ۔۔یہ تھی آپ کی مردانگی۔۔۔

مانا میں نے کل غصہ میں آپ کو بہت کچھ کہ دیا تھا۔۔

مگر اس سب کا غصہ آپ اس طرح نکالیں گے مجھے اندازہ نہیں تھا۔۔”

نایاب نے روتے ہوئے کہا

“نایاب یہ تم کیا کہ رہی ہو؟”

غنی نے ناسمجھی سے کہا

“مجھے اکیلے کمرے میں دیکھ اندھیرے میں دیکھ آپ نے میری عزت کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی ۔۔۔صرف کل کا بدلہ لینے کے لیے۔۔خود کو مرد ثابت کرنے کے لیے۔۔

یہ بتانے کے لیے آپ میں مردانگی ہے طاقت ہے”

نایاب نے کاٹ دار لہجے میں کہا۔۔

“کیا بکواس کر رہی ہو تم؟”

غنی غرایا

“صرف کل کا بدلہ لینے کے لیے آپ اس حد تک گر گئے۔۔

یہ مردانگی نہیں ہے۔۔۔میں نے کل بھی ٹھیک کہا تھا

اور اب پھر کہ رہی ہوں۔۔۔نامرد ہیں آپ۔۔۔نامرد۔۔۔”

نایاب نے غصہ سے کہا۔۔

تبھی شور سن کر سب کمرے میں آگئے۔۔۔۔۔

اور وہ خالدہ بیگم کی طرف لپکی۔۔

ان کے گلے لگ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔