Misal E Taweez By Isra Rao NovelR50470 Misal E Taweez (Episode - 13)
No Download Link
Rate this Novel
Misal E Taweez (Episode - 13)
Misal E Taweez By Isra Rao
“سردی ہے؟”
غنی نے اسے واش روم سے نکلتے دیکھا تو مزاق اڑایا۔۔
“بہت۔۔” نایاب نے بال خشک کرتے ہوئے کہا
“عائشہ کی شادی ہے۔۔گھر چلنا ہے کل”
غنی نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“اچھا۔۔واہ عائشہ باجی کی شادی ہے”
وہ خوش ہوئی۔۔
“اور تانیہ باجی۔۔ان کی؟”
نایاب نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔۔
“اس نے کرلی شادی”
غنی نے ناگواری سے کہا ۔۔۔
“کرلی۔۔کس سے ۔ اور کب ان کا رشتہ بھی نہیں ہوا تھا ابھی اور اتنی جلدی کردی پھپھو نے۔۔۔”
نایاب نے حیرانی سے کہا۔۔
“اس نے سب کی بنا اجازت ہی کرلی۔۔اور پھپھو۔۔۔انہوں نے اسے معاف بھی کردیا۔۔”
غنی نے سنجیدگی سے کہا۔۔
“کیا۔۔۔تانیہ باجی نے ایسا کیا۔۔وہ کسی کو پسند کرتی تھی۔۔۔کبھی بتایا نہیں۔۔مجھے تو بہت حیرانی ہورہی ہے”
نایاب نے افسوس سے کہا۔۔
“اور بھی حیرانی ہوگی جب لڑکے کا نام سنو گی۔۔”
غنی نے حقارت سے کہا۔۔
“کون ہے؟” نایاب نے فوراً پوچھا۔۔
“زوہیب” غنی نے بتایا اور نایاب کو مانو جھٹکا لگا۔۔
“کیا؟” وہ حیرانی سے پوچھنے لگی۔۔۔
“ہاں۔۔۔اسے زمانے بھر میں کوئی نہیں ملا تھا وہی ملا تھا بس۔۔۔” غنی نے کہا
“چھوڑیں نا ہمیں کیا” وہ کہ کر پھر سے اپنے بال بنانے لگی۔۔
غنی اس کے قریب آیا۔۔۔
“تمہیں برا نہیں لگا۔۔؟” وہ پوچھنے لگا۔۔
“نہیں۔۔۔مجھے کسی بات سے فرق نہیں پڑتا۔۔۔میرے پاس آپ جو ہو۔۔”
وہ پلٹ کر کہنے لگی۔۔
“میں صرف آپ سے محبت کرتی ہوں۔۔اپنے شوہر سے محبت کرتی ہوں۔۔۔”
نایاب نے اس کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے کہا۔۔
وہ اس کی بات سن مسکرا دیا۔۔
“میں تو نہیں کرتا۔۔” غنی نے شرارت سے کہا۔۔
“مثل تعویذ ہوئے تیرے الفاظ
سن کر اکثر شفا ملتی ہے”
نایاب نے ٹون میں کہا۔۔۔
اور غنی کا قہقہہ گونجا۔۔
“میری ڈائری ہے تمہارے پاس؟”
وہ ہنستے ہوئے پوچھنے لگا۔۔
نایاب نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
“چوری۔۔۔؟” وہ منہ بنا کر پوچھنے لگا۔۔
“بلکل۔۔۔” نایاب نے مسکرا کر کہا۔۔
“بری بات ہے۔۔۔اب سزا تو ملے گی۔۔۔”
غنی نے اسے اپنی بانہوں میں لیتے ہوئے کہا۔۔۔
“ڈرا رہے ہو؟” نایاب اس کی گرفت میں قید پوچھنے لگی۔۔
“تم ڈر رہی ہو؟” غنی نے شرارت سے پوچھا۔۔۔
“نہیں” نایاب نے نفی میں سر ہلایا
غنی نے اس کے گال پر محبت کی مہر ثبت کی۔۔۔
“اب بھی نہیں؟” وہ مسکرا کر پوچھنے لگا۔۔۔
“آہاں۔۔۔نہیں۔۔” نایاب نے اترا کر جواب دیا۔۔۔
غنی نے اس کے دوسرے گال پر وہی عمل دوہرایا۔۔۔
“ابھی بھی نہیں؟” وہ ہنسی روکتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔
“نہیں۔۔۔” اس نے پھر وہی جواب دوہرایا۔۔
“اچھا مطلب اب بات سیریس ہوگئی۔۔۔؟”
وہ سوچنے لگا۔۔
وہ بھی اسے دیکھنے لگی۔۔
غنی بنا وقت ضائع کیے اس کے لبوں پرجھکا۔۔۔
اور چھوٹی سی شرارت کی۔۔
جو نایاب کو مزید سر جھکانے پر مجبور کرگئی۔۔
“ابھی کیا کہیں گی آپ؟” وہ پھر سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
وہ نظریں جھکائے شرما رہی تھی۔۔
اور اسے دیکھ غنی کا زور دار قہقہہ نمودار ہوا۔۔
وہ اس کے سینے سے لگی اس کی دھڑکنوں میں اپنا نام سننے لگی۔۔
وہ دونوں ساتھ بہت خوش تھے۔۔
وہ جب اسلام آباد پہنچے تو ایک فلیٹ میں ٹھہرے۔۔۔
وہ بہت تھک چکے تھے۔۔۔
غنی بیڈ پر آنکھیں موندے لیٹا تھا۔۔
نایاب ابھی فریش ہوکر ہی آئی تھی۔۔
“کیا ہوا؟”
نایاب نے اس کی حالت دیکھ پوچھا۔۔
“کچھ نہیں بس سر میں درد ہے”
وہ آنکھیں موندے ہی کہنے لگا۔۔
وہ اس کی بات سن بیڈ پر اس کے قریب بیٹھی۔۔۔
پھر اپنے نازک ہاتھ اس کے ماتھے پر رکھے۔۔۔
غنی یکدم آنکھیں کھول اٹھ بیٹھا۔۔
“کیا کر رہی ہو؟” وہ تعجب سے پوچھنے لگا
“سر دبا رہی تھی۔۔آپ کے سر میں درد ہے نا”
وہ معصومیت سے کہنے لگی۔۔
“میں مے کہا تمہیں دباؤ۔۔؟ نہیں نا۔۔تو پھر”
غنی نے تلخ لہجےمیں جھڑکا۔۔
وہ یک دم سر جھکا گئی۔۔
آنکھوں میں تیزی سے پانی اتر آیا۔۔
غنی اس کی طرف بنا دیکھے ہی اٹھا۔۔
اور واش روم چلا گیا۔۔
نایاب اس کی بے رخی دیکھ آنسوں بہانے لگی۔۔
وہ گہری نیند سورہا تھا۔۔۔جب نایاب کی آنکھ کھلی۔۔
اس نے وال کلاک کو دیکھا۔۔
“غنی۔۔۔۔” نایاب نے پکارا۔۔
مگر وہ ٹس سے مس نا ہوا۔۔
“غنی نماز کا وقت ہوگیا۔۔”
اس نے بازو ہلایا۔۔۔
“ہاں۔۔۔” وہ یک دم اٹھا۔۔
“نماز کا ٹائم ہوگیا ہے۔۔قضا ہوجائے ھی۔۔اٹھ جائیں۔۔”
وہ کہتی اٹھ کر واش روم کی جانب بڑھ گئی۔۔
اور غنی حیرانی سے اسے دیکھنے لگا۔۔
جسے ہر بار غنی زبردستی نماز کے لیے اٹھاتا تھا۔۔
آج وہ اسے اٹھا رہی تھی۔۔
وہ اس کے سامنے جائنماز بچھا کر نماز ادا کر رہی تھی۔۔
وہ بھی اٹھا۔۔وضو کیا اور اس کے مقابل جائنماز بچھا کر نماز پڑھنے لگا۔۔
دونوں نے دعا مانگی۔۔۔دونوں نماز پڑھ کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔۔
“شکریہ۔۔۔” نایاب نے مسکرا کر کہا۔۔
“کس لیے؟” غنی نے حیرانی سے پوچھا۔۔
“مجھے نمازی بنانے کے لیے۔۔۔مجھے ہر برے عمل ڈے بچانے کے لیے۔۔”
نایاب نے کہا۔۔
اور وہ اس معصوم سے چہرے کو دیکھنے لگا۔۔
جو دوپٹہ کے گرد لپٹا۔۔نور ہی نور۔ جھلکا رہا تھا۔۔
![]()
ابھی تو وہ اسلام آباد ہیں۔۔ہم ان کے بیچ نفرتیں پیدا کر سکتے ہیں۔۔۔”
تانیہ نے فون کان سے لگائے کہا۔۔
“کیسے۔۔۔؟” وہ پوچھنے لگا۔۔
“صرف تمہیں لے کر ان کے بیچ غلط فہمی کرئیٹ ہوگی۔۔”
تانیہ کہنے لگی۔۔۔
ہممم۔” وہ سوچ میں پڑ گیا۔۔
“لیکن اس کے لیے تمہیں میرے گھر میں داخل ہونا ہوگا۔۔۔
ایک چھت کے نیچے رہ کر ہم بہتر کام کرسکتے ہیں”
تانیہ نے کہا۔۔
“مگر میں گھر میں کیسے رہ سکتا ہوں۔۔تمہارے گھر وے مجھے کیوں اندر گھسنے دیں گے؟”
زوہیب نے پوچھا
“مجھ سے شادی کر کے رہ سکتے ہو۔۔۔کوئی تمہیں وہاں سے نہیں نکال سکتا۔۔اور نایاب ہمیں ساتھ جب تکلیف میں ہوگی تو مجھے بڑا ہی مزہ آئے گا۔۔”
تانیہ نے چبا کر کہا۔۔
اور زوہیب سوچ میں پڑگیا۔۔
“چلو گھومنے چلتے ہیں۔۔۔”
غنی نے چائے ختم کرتے ہی کہا۔۔
“جی۔۔۔”.نایاب خوش ہوئی۔۔
“ہاں۔۔چلو۔۔۔تیار ہوجاؤ”
غنی نے کہا۔۔
اور نایاب سنتے ہی۔۔تیاری میں لگ گئی۔۔
اچھا سا سوٹ پہنا ہلکا سا میک اپ کیا۔۔۔
“چلیں۔۔۔۔”غنی نے کہا
“جی چلیں۔۔۔”.وہ چادر پہنتی کہنے لگی۔۔
“برقعہ پہنو۔۔۔” غنی نے اسے ٹوکا۔۔
“مگر۔۔۔” وہ کچھ کہتی کہ غنی نے اسے گھورا۔۔
وہ نظر جھکائے اثبات میں سر ہلاتی۔۔۔۔برقعہ پہننے چلی گئی۔۔
“جب برقعہ ہی پہنانا تھا تو مجھے تیار کیوں کروایا”
وہ سوچ کر مسکرانے لگی۔۔
پھر برقعی پہن اس کے ساتھ چل دی۔۔
کافی دیر گھومنے کے بعد ان لوگوں نے باہر ہی کھانا کھایا۔۔
واپسی پر انہیں شام ہوگئی تھی۔۔اور ٹھنڈ بھی کافی لگنے لگی۔۔
نایاب کو بہت سردی لگ رہی تھی۔۔۔
“تم کمبل میں بیٹھو میں چائے بنا کر لاتا ہوں۔۔۔”
غنی نے اسے کانپتے دیکھ کہا
“نہیں میں بنا لوں گی۔۔”
نایاب نے کہا۔۔
“میں بنا رہا ہوں نا تم جاؤ۔۔”
غنی نے تلخ لہجے میں کہا۔۔
وہ سر جھکائے کمرے میں آگئی۔۔
تھوڑی ہی دیر میں جب غنی چائے لے کر کمرے میں آیا۔۔
وہ تکیے سے ٹیک لگائے۔۔کمبل اوڑھے نیند میں گم تھی۔۔
وہ اسے دیکھ مسکرایا۔۔
پھر چل کر اس کے قریب گیا۔۔
سائیڈ ٹیبل پر کپ رکھ اسکا کمبل ٹھیک کرنے لگا۔۔
اس نے جھگانا مناسب نہیں سمجھا۔۔
غنی صبح ہی کسی کام سے نکل گیا تھا۔۔
اور وہ گھر پر اکیلی تھی۔۔
صبح سے صفائی کر رہی تھی۔۔
الماری کھول الماری کے کپڑے سیٹ کرنے لگی۔۔
تبھی اسے ایک چھوٹا سا بیگ دکھائی دیا۔۔
“یہ کیسا بیگ ہے۔۔۔؟”
نایاب چونکی۔۔
اس نے کھول کر دیکھا۔۔
جس میں کچھ ضروری پیپرز تھے۔۔
اور ایک دو اسکیٹچ تھے۔۔جو نایاب کے ہی تھے۔۔
اور ڈائری تھی۔۔
وہ کھولنے ہی لگی تھی۔۔کہ دروازہ بجا۔۔
وہ جلدی سے واپس رکھ الماری بند کرنے کے بعد دروازے کی طرف لپکی۔۔
اس نے جلدی میں بنا پوچھے ہی دروازہ کھولا۔۔
سامنے ایک نوجوان لڑکا کھڑا تھا۔۔
“میم۔۔آپ نے پیزا آرڈر کیا تھا”
لڑکے نے کہا۔۔
“نہیں میں نے کوئی پیزا آرڈر نہیں کیا۔۔”
نایاب نے جواب دیا
تبھی وہاں غنی پہنچا۔۔
“ہم نے کوئی پیزا آرڈر نہیں کیا۔۔۔آپ جا سکتے ہیں۔۔۔”
غنی نے تلخ لہجے میں کہا۔۔
اور وہ چلا گیا۔۔
“دوپٹہ کہاں ہے تمہارا؟” غنی نے پوچھا
“وہ اندر۔۔۔” نایاب ہکلائی
“تو تم باہر کیا کر رہی تھی؟ اور تمہیں اگر پیزا چاہیے تھا تو مجھے کہ دیتی۔۔”
غنی نے اندر آتے ہی کہا۔۔
“نہیں میں نے آرڈر نہیں کیا۔۔سچ میں۔۔”
نایاب روہانسی ہوئی۔۔
“تم اکیلی ہوتی ہو گھر پر ایسے بنا پردے کہ تم دروازے پر چلی جاتی ہو۔۔یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔۔”
غنی نے غصہ سے کہا۔۔
“لیکن۔۔۔” نایاب نے کچھ کہنا چاہا۔۔
“دل تو کر رہا ایک لگاؤں تمہیں۔۔تاکہ تمہیں سب یاد رہے۔۔۔
دوپٹہ پہنو جا کر”
وہ غرایا۔۔
وہ تیزی سے اندر کی طرف گئی۔۔
کمرے میں آکر اس نے دوپٹہ پہنا۔۔
سامنے دیکھا تو کھڑکی کے دروازے زور زور سے ہل رہے تھے۔۔شاید ہوا تیز تھی۔۔
وہ کھڑکی کے پاس گئی۔۔
“بس اب کھڑکی میں کھڑی ہوگئی۔۔”
وہ کھڑکی بند کررہی تھی کہ غنی کی آواز آئی۔۔
وہ پلٹی۔۔
غنی چلتا اس کے قریب آیا۔۔
“تم جیسی آزاد اور آوارہ لڑکیاں گھر کی چار دیواری میں رہ ہی نہیں سکتی۔۔”
غنی نے سرخ آنکھوں سے کہا۔۔
اس کے الفاظ نایاب کو تکلیف پہنچا گئے۔۔
“پتا نہیں کیا سوچ کر میں نے تم سے شادی کی تھی۔۔۔
جسے مردوں کے سامنے یوں شو پیس بننے اور ادائیں دکھانے کا شوق ہے۔۔میں کب تک تم پر روک ٹوک لگاؤں۔۔۔کتنا سمجھاؤں تمہیں؟ سچ تو یہ ہے کہ تم گھر میں رہ ہی نہیں سکتی۔۔تم میری پسند بلکل نہیں بن سکتی۔۔۔”
غنی غصہ سے اسے سناتا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔
اور وہ اس کے الفاظوں کو سن آنسوں بہاتی رہی۔۔۔
