Misal E Taweez By Isra Rao NovelR50470 Misal E Taweez (Episode - 7)
No Download Link
Rate this Novel
Misal E Taweez (Episode - 7)
Misal E Taweez By Isra Rao
“مما اس نے زوہیب سے شادی کرلی ہے۔۔۔”
غنی نے فاخرہ بیگم کو بتایا۔۔
“کیا کہ سکتے ہیں غنی۔۔آپا کو کوئی اعتراض نہیں ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔۔”
فاخرہ بیگم نے کہا۔۔
“مگر مما وہ لڑکا سہی نہیں ہے۔۔۔”
غنی نے کہا۔۔
“تو تانیہ خود کون سا سہی ہے۔۔۔سب سے چھپ کر شادی کی ہے اس نے”
فاخرہ بیگم نے بتایا۔۔
“پھر بھی مما۔۔زوہیب سے۔۔۔”
غنی نے مایوسی سے کہا۔۔
“اسے چھوڑو تم۔۔نایاب کا بتاؤ۔۔”
فاخرہ بیگم نے سوال کیا۔۔
“پتا نہیں مما دو دن ہوگئے ۔۔۔
وہ بنا بتائے کیسے چلی گئی۔۔”
غنی نے پریشانی سے کہا۔۔
“تم نے اس کے دوستوں سے معلوم کیا۔۔؟”
انہیں بھی فکر ہوئی۔۔
“سب جگہ ڈھونڈ لیا مما۔۔۔وہ میری پرمیشن کے بنا تو کوئی کام بھی نہیں کرتی تھی۔۔پھر کیسے وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔۔بنا پوچھے۔۔”
غنی نے اداسی سے کہا۔۔
“شاہدہ اور اور فضل کو کیا جواب دیں گے ہم غنی۔۔۔
اسے ڈھونڈو۔۔”
فاخرہ بیگم کو فکر ہوئی ۔
“مما۔۔۔۔میں کیا کروں کہ وہ میرے پاس واپس آجائے۔۔۔”
غنی کی آنکھوں میں نمی تیر آئی۔۔
اور فاخرہ بیگم ماں ہونے کے ناطے۔۔اس کی آواز سے اس کی محبت کا پتا لگا سکتی تھی۔۔
وہ غنی کو اچھی طرح جانتی تھی۔۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو؟”
غنی نے تلخ لہجے میں کہا۔۔
“میں آپ سے معافی مانگنے آئی ہوں۔۔”
نایاب نے شرمندگی سے سر جھکائے کہا۔۔
“کیسی معافی؟”
وہ چونکا۔۔
“وہ اس دن جو میں نے آپ پرالزام لگایا تھا۔۔میں بہت شرمندہ ہوں۔۔”
نایاب نے جھجھکتے ہوئے کہا
“اوہ تو فائنلی آپ رئیلائز ہوگیا کہ آپ نے غلط کیا تھا۔۔”
غنی نے کاٹ کھانے کے انداز میں کہا۔۔
“پلیز غنی مجھے معاف کردو۔۔۔میں آپ کی قصور وار ہوں مگر۔۔۔میں اب شرمندہ ہوں میں نے انجانے میں۔۔۔”
اس نے نم آنکھوں سے کچھ کہنا چاہا مگر غنی نے اس کی بات کاٹی۔۔
“انجانے میں۔۔۔تم نے مجھ سے بدلہ لیا تھا۔۔۔کیوں کہ اس دن غصہ میں نے تمہیں بہت کچھ سنا دیا تھا۔۔
تمہیں پردے پر لیکچر دے دیاتھا۔۔۔جو شاید تمہیں برا لگ گیا۔۔اس لیے خود کو بدلنے کے بجائے تم نے مجھ پر جھوٹا الزام لگا کر مجھے بدنام کردیا۔۔۔میرے بابا کی نظروں میں مجھے گرا دیا۔۔اور اب معافی کا ڈھونگ کر رہی ہو”
غنی غصہ میں کیا بول رہا تھا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔۔
“نہیں غنی۔۔۔آپ غلط سمجھ رہے ہیں”
نایاب کی آنکھوں سے دو آنسوں گرے۔۔
“میں تمہیں اب سمجھا ہوں۔۔۔مگر تم کیا سمجھتی ہو۔۔تم کامیاب ہوگئی۔۔مجھے سب کی نظروں میں گرا کر اب معافی مانگ لو گی تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔نہیں۔۔۔اس سب کی قیمت چکانی ہوگی تمہیں۔۔”
غنی نے انگلی اٹھا کر غصہ سے کہا۔۔
وہ سر جھکائے نم آنکھوں کے ساتھ کھڑی تھی۔۔
تبھی غنی نے اسے بازو سے پکڑ اندرکھینچا۔۔
اور بیڈ تک لایا۔۔۔
“غنی۔۔۔۔” وہ پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
وہ سرخ آنکھوں میں غصہ لیے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
پھر جا کر دروازہ لاک کرنے لگا۔۔۔
اسے دروازہ بند کرتے دیکھ نایاب کی چھٹی حس نے کام کیا۔۔
وہ لپک کر دروازے تک گئی۔۔۔
“یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔۔۔؟”
نایاب نے اسے روکنا چاہا۔۔
غنی نے اسے یک دم بند دروازے سے لگایا۔۔۔اور اسے مضبوط گرفت میں لیا۔۔
“غنی آپ۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں۔۔۔؟” وہ بھیگے چہرے سے خوف زدہ ہوئی۔۔۔
“تم نے مجھے جھوٹا الزام لگا کر سب کی نظروں میں مجھے گھٹیا ثابت کردیا تھانا۔۔۔کیوں نا میں اس الزام کو سچ کر دوں۔۔”
غنی غرایا۔۔
“نہیں۔۔۔غنی۔۔۔میں سب کو سچ بتا دوں گی۔۔۔میں تم سے معافی مانگ رہی ہوں اپنی غلطی کی۔۔۔تم جو کہوگے میں وہ کروں گی۔۔۔مگر مجھے چھوڑدو۔۔”
نایاب روتے ہوئے منت کرنے لگی۔۔
“معافی مانگنے سے سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔میں نے بے گناہ ہوکر بھی سزا بھگتی ہے۔۔۔تو تم گناہگار ہوکرکیسے بچ جاؤ گی۔۔”
غنی کہ کر اس پر جھکنے لگا۔۔
“نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔” وہ چیخنے لگی۔۔۔اور خود کو چھڑوانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔۔
اس کے چیخنے پر وہ لمحہ بھر رکا۔۔
پھر تھوڑا دور ہوا۔۔
“غنی۔۔۔پلیزمجھے معاف کردو۔۔۔میں ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔کہو گے تو میں پاوں بھی پکڑ لوگی۔۔۔مگر پلیز۔۔۔”
وہ شدت سے رونے لگی۔۔
اسنے ایک لمحے کو ضبط سے آنکھیں بند کی۔۔
(نامرد ہو تم۔۔نامرد)
جملہ اس کی سماعت سے ٹکرایا۔۔
اس نے فوراً آنکھیں کھول اسے دیکھا۔۔۔
جو دروازے سے ٹیک لگائے کھڑی رو رہی تھی
ٹراؤزر پر ٹی شرٹ پہنے۔۔۔سلکی بالوں کو ہلکا سا کیچر میں قید کیے۔۔۔وہ شاید اس کو گستاخی کرنے پر خود ہی مجبور کر رہی تھی۔۔
“کیا کہا تھا تم نے مرد ہوں میں۔۔”
غنی نے اسے بازو سے پکڑا۔۔۔
“نہیں۔۔۔غنی۔۔۔میں۔۔” وہ کچھ کہتی اس سے پہلے ہی غنی نے اسے بیڈ پر لاکر پٹخا۔۔
“غنی۔۔۔نہیں۔۔تم ایسا نہیں کر سکتے میرے ساتھ۔۔۔”
وہ تیز تیز رونے لگی۔۔
“کیوں۔۔تم نے مجھ پر جھوٹا الزام لگانے سے پہلے سوچا۔۔۔
اور ویسے بھی میں نے تمہیں سمجھایا تھا۔۔۔کہ دوبارہ مجھے نامرد مت کہنا۔۔۔”
اس نے غصہ سے کہا۔۔
“نہیں۔۔غنی خدا کے لیے۔۔۔مجھے چھوڑ دو۔۔۔”
وہ گڑگڑانے لگی۔۔
“تمہاری نظر میں تو میں نامرد ہوں۔۔مردانگی تو دکھانی پڑی گی۔۔۔”
وہ کہتا اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔۔
“نہیں۔۔۔پلیزمجھے چھوڑ دو۔۔”
وہ روتے ہوئے منت کر رہی تھی۔۔۔
مگر شاید غنی عہد کر چکا تھا۔۔کہ اسے معافی نہیں بلکہ بدلہ لینا ہے۔۔۔۔اسی لیے نایاب کی ساری کوششیں، چیخیں اور آنسوں سب ناکام گئے۔۔۔
بقول اس کے۔۔۔۔کہ اس نے اپنا بدلہ پوراکیا۔۔۔
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔
جبکہ وہ صوفے پر گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی۔۔۔سسکیاں لے رہی تھی۔۔
تبھی فجر کی آذان کی آواز سنائی دی۔۔
وہ جو کب سے اسے گھور رہا تھا۔۔اٹھ کھڑا ہوا۔۔
وارڈ روب سے کپڑے نکالے اور واش روم میں گھس گیا۔۔
تھوڑی دیر بعد جب وہ نہا کر نکلا تب بھی وہ اسی انداز میں بیٹھی رو رہی تھی۔۔
غنی کے دل میں ٹیس اٹھی۔۔۔
کہ وہ رات بھر سے رو رہی ہے۔۔۔۔شرمندگی کی ایک لہر اس میں سرائیت کر گئی۔۔
اس نے ڈریسنگ کے سامنے کھڑے بال بنائے۔۔
پھر دراز سے ٹوپی نکالی۔۔۔پھر چل کر اس کے قریب آیا۔۔
“نایاب۔۔۔” غنی نے پکارا۔۔
مگر وہ ٹس سے مس نا ہوئی۔۔
“میں نماز پڑھ کر آتا ہوں۔۔۔”
جواب نا پاکر اس نے گھڑی کو دیکھا جہاں جماعت کا ٹائم ہوگیا تھا۔۔
وہ کہ کر مڑ کر جانے ہی لگا تھاکہ نایاب کی آواز نے رکنے پر مجبور کیا۔۔
“ایسی نماز کا کوئی فائدہ نہیں۔۔۔کیونکہ آپ صرف میرے نہیں۔۔اللہ کے بھی مجرم ہو۔۔۔آپ نے بدلہ لینا تھا نا لے لیا۔۔۔
مگر یاد رکھنا میرا خدا آپ سے میرے ایک ایک آنسوں کا حساب لے گا۔۔۔”
اس نے سوجی ہوئی آنکھوں اور بھیگے چہرے سے دبی آواز میں کہا۔۔
“غلطی تمہاری بھی تھی۔۔۔صرف مجھے مجرم مت بناؤ”
غنی نے کہا اور باہر نکل گیا۔۔
(تمہاری نظر میں تو میں نامرد ہوں۔۔مردانگی تو دکھانی پڑے گی نا)
سارا کا سارا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے چلنے لگا۔۔
“نہیں۔۔۔۔” وہ پوری قوت سے چیخی۔۔
اور دھاڑے مار مار کر رونے لگی۔۔
“میں ایک عورت تھی نا اسی لیے مقابلہ نہیں کرپائی۔۔
میں اتنی کمزور ہوں جو اپنی لٹتی عزت نہیں بچا سکی۔۔”
وہ خود کلامی کرنے لگی۔۔
“کیا مرد کو اللہ تعالیٰ نے اسی لیے طاقت دی ہے کہ وہ عورت کے ساتھ کھیل سکے۔۔۔؟ اور میں جو زمانے بھر میں بہادر بنی گھومتی تھی۔۔اپنی عزت و آبرو کی حفاظت نا کرسکی۔۔”
وہ آنسوں سموئے سوچنے لگی۔۔
“تجھے جینے کا کوئی حق نہیں نایاب۔۔۔تجھے تو مرجانا چاہیے۔۔اب تیرے پاس بچا ہی کیا ہے۔۔۔
کیا تیری ایک غلطی کی اتنی بڑی سزا تھی۔۔؟”
وہ خود کلامی کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
اور کچن کی جانب بڑھی۔۔
پھر یہاں وہاں کچھ ڈھونڈنے لگی۔۔
پھر اسے وہ چیز دکھائی دی۔۔۔
جسکی اسے تلاش تھی۔۔
