Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Misal E Taweez (Episode - 6)

Misal E Taweez By Isra Rao

“یہ میں نے کیا کردیا۔۔۔۔؟”

اس نے اپنے کمرے میں آتے ہی خود کلامی کی۔۔

“مجھ سے انجانے میں یہ کیا ہوگیا۔۔۔میں نے غنی پر الزام لگا دیا۔۔جبکہ وہ تو بے قصور تھا۔۔۔”

نایاب نے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔۔

“بڑے پاپا تو اس سے بات تک نہیں کرتے صرف میری ایک غلطی نے بیچارے غنی کی عزت گرا دی۔۔۔”

وہ سوچنے لگی۔۔

“میں نے غلط کیا ہے تو سب ٹھیک بھی میں ہی کروں گی۔۔”

وہ خود سے فیصلہ کرنے لگی۔۔

“میں۔۔میں معافی مانگ لوں گی۔۔ہاں۔۔میں سب سے معافی مانگ لوں گی۔۔۔سب سے بڑی گنہگار تو میں غنی کی ہوں۔۔۔”

نایاب نے خود کو کوسا۔۔۔

پھر پورا دن وہ انتظار کرتی رہی۔۔۔ ۔۔کبھی لاؤنج میں۔۔۔کبھی لان میں۔۔۔مگر نظر اس کی گیٹ پر تھی۔۔کہ کب غنی گھر آئے اور کب وہ معافی مانگے۔۔

رات ہوگئی تھی مگر غنی گھر نہیں آیا۔۔۔

وہ لان میں بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔

وہ شرمندہ تھی کہ اس نے غنی کے ساتھ انجانے میں بہت برا کیا۔۔۔

تبھی خالدہ بیگم وہاں آئی۔۔

“یہاں کب سے بیٹھی ہے تو۔۔۔کر کیا رہی ہے۔۔چل آجا کھانا لگ گیا ہے”

خالدہ بیگم نے اسے کہا۔۔

“مما مجھ سے ایک غلطی ہوگئی۔۔”

نایاب نے شرمندگی سے کہا

“کیا ہوا۔۔؟”

خالدہ بیگم نے حیرانی سے پوچھا۔۔

“اس دن غنی نے واقع کچھ نہیں کیا تھا۔۔وہ بے قصور تھا۔۔مما مجھے۔۔۔”

نایاب بات پوری کرتی مگر خالدہ بیگم نے بات کاٹ دی۔۔

“کیا ۔۔۔؟ نایاب یہ تو کیا کہ رہی ہے؟”

وہ چونکی۔۔

“ممانی۔۔۔۔اماں بلا رہی ہیں آپ کو”

پیچھے سے تانیہ کی آواز آئی۔۔اور وہ دونوں چپ ہوگئیں۔۔

اور وہ دونوں خاموشی سے اندر کی جانب بڑھ گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔

اسے بس غنی کا انتظار تھا۔۔

جو ہوگیا تھا وہ اسے بدل نہیں سکتی تھی۔۔مگر وہ چاہتی تھی کہ وہ غنی سے معافی مانگ لے بس۔۔

سب کے سوجانے کے بعد وہ اپنے کمرے سے نکل کر۔۔۔نیچے آگئی۔۔

وہ سامنے لگے صوفے پر بیٹھ کر غنی کا انتظار کرنے لگی۔۔

کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ صرف رات میں ہی مل سکتا ہے۔۔صبح صبح وہ پھر سے نکل جائے گا۔۔

وہ اب گھر میں کم ہی رہتا تھا۔۔۔

پورا دن اس کا باہر ہی گزرتا۔۔

وہ صوفے سے ٹیک لگائے کب سوگئی۔۔۔اسے پتا ہی نہیں چلا۔۔

وہ جب گھر آیا تو سامنے صوفے پر سوئی نایاب پر اس کی نظر پڑی۔۔

جو بلو کلر کے سوٹ میں بنا دوپٹے کے بے سدھ آنکھیں موندے۔۔گہری نیند میں تھی۔۔

سلیو لیس ہونے کی وجہ سے سفید دو دھیاں بازو رونما ہورہی تھی۔۔۔۔

(نامرد ہو تم۔۔۔نامرد۔۔)

جملہ اس کی سماعت سے ٹکرایا۔۔

اور کھلتے چہرے پر یک دم ہی غصہ کی لہر اتر ائی۔۔

وہ حقارت سے نظر پھیر کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“اے لڑکی۔۔۔”

پھپھو کی آواز پر وہ چونک کر اٹھی۔۔

“یہاں کیا کیا کر رہی ہے۔۔۔؟”

پھپھو نے تلخ لہجے میں پوچھا۔۔

“جی۔۔جی۔۔” وہ یک دم اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

“یہاں کیوں سورہی تھی۔۔کمرے میں کیوں نہیں گئی۔؟۔”

پھپھو نے پھر پوچھا۔۔

“جی۔۔وہ۔۔وہ میرے کمرے کا اے سی۔۔۔کام نہیں کر رہا تھا اسی لیے۔۔”

نایاب نے فوراً بہانا بنایا۔۔

اور جلدی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔

پھپھو آنکھوں میں حقارت لیے اسے جاتا دیکھ رہی تھی۔۔پھر سر جھٹک کر کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“نایاب تیار ہوجا۔۔۔جانا نہیں ہے تجھے۔۔”

خالدہ بیگم نے اسے باہر جاتے دیکھ کہا۔۔

“کہاں؟” اس نے پوچھا

“یاسمین باجی کے گھر۔۔۔عائشہ کی نند کی شادی میں۔۔”

انہوں نے یاد کروایا۔۔

“مما میں نہیں جارہی آپ لوگ چلے جائیں۔۔”

وہ کہ کر آگے بڑھ گئی۔۔

اس پر صرف ایک ہی بھوت سوار تھا۔۔

کہ اسے غنی سے ملنا تھا۔۔

وہ سیدھی اس کے ہسپتال پہنچی۔۔

“Excuse me…”

پاس سے گزرتی نرس کو دیکھ اس نے مخاطب کیا۔۔

“ڈاکٹر عبدالغنی کہاں ملیں گے؟”

نایاب نے پوچھا۔۔

“وہ تو آج تھیلیسمیا سینٹر کے وزٹ پر گئے ہیں۔۔باقی سینئر ڈاکٹرز کے ساتھ۔۔”

اس نے انفارم کیا۔۔

“کب تک آئیں گے۔۔؟” اس نے پوچھا۔۔

“کچھ کہ نہیں سکتے۔۔” وہ کہ کر آگے بڑھ گئی۔۔

اور نایاب مرے قدموں واپس مڑ گئ۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ گھر آئی تو سب تیاریوں میں لگے تھے ۔۔

وہ چپ چاپ اپنے کمرے میں آگئی۔۔۔

“تجھے جانا نہیں ہے۔۔نایاب جلدی تیار ہوجا۔۔”

خالدہ بیگم کمرے میں آئی۔۔

“نہیں۔۔میں کیا کروں گی وہاں جا کر مما”

نایاب نے منہ بنایا۔۔

“نایاب سب جارہے ہیں اکیلی کیسے رہے گی۔۔”

خالدہ بیگم نے اسے سمجھایا۔۔

“مما میرے سر میں درد ہے پہلے ہی۔۔مجھے نہیں شادی میں میرا بلکل موڈ نہیں ہے”

نایاب نے کہا۔۔

“نایاب گھر میں کوئی نہیں ہوگا سب تو جا رہے ہیں۔۔غنی کی بھی نائٹ شفٹ ہے۔۔۔۔اکی کیسے رہے گی۔۔؟”

خالدہ بیگم نے پھر کہا۔۔

“میں نہیں ڈرتی میں رہ لوں گی اور صبح تو آپ لوگ آہی جاؤ گے۔۔” نایاب نے ڈھٹائی سے کہا۔۔

“نایاب ضد نہیں کرو۔۔چلو اٹھو تیار ہوجاؤ”

خالدہ بیگم نے تلخی سے کہا۔

“مما میں نے بس کہ دیا مجھے نہیں جانا تو نہیں جانا”

نایاب نے فیصلہ سنایا۔۔

“اچھا کرو ضد اکیلی گھر میں ڈر لگے تو مجھے مت کہنا پھر۔۔سننی تو تمہیں ہے نہیں کسی کی”

وہ غصہ سے کہ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔۔

مگر وہ اپنے کیے پر ڈٹی رہی۔۔

اسے غنی سے معافی مانگنی تھی۔۔شرمندگی اور ملامت سے اس کا کہیں دل نہیں لگ رہا تھا۔۔

اسے سکون تب ملتا جب وہ اپنے کیے کی معافی غنی سے نا مانگ لے۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

سب شام تک شادی میں چلے گئے۔۔

اور نایاب سب کی منتوں کے بعد بھی بضد رہی۔۔۔

وہ اکیلی گھر میں رک گئی۔۔

وہ کچن میں گئی اور نوڈلز بنانے لگی۔۔

تبھی اس کا فون بجنے لگا۔۔

“ہیلو” اس نے رسیو کر کان سے لگایا۔۔

“ہیلو۔۔میری جان۔۔”

زوہیب کی آواز اس کے کان میں پڑی اور وہ مسکرا دی۔۔

“کیا بات ہے آج تم نے اس ٹائم میسج کیا خیریت؟”

زوہیب نے پوچھا۔۔

“ہاں بس بور ہورہی تھی اسی لیے۔۔”

نایاب نے کہا۔۔

“اچھا واہ۔۔۔کیا کر رہی ہو ویسے تم؟”

زوہیب نے سوال کیا۔۔

“کچھ نہیں نوڈلز بنا رہی ہوں۔۔”

نایاب نے مصروفیت سے کہا۔۔

“آج تم خود کوکنگ کر رہی ہو۔۔کیا بات ہے جناب”

اس نے مزاق اڑایا۔۔

“وہ گھر پر کوئی نہیں تو خود ہی کرنی ہوگی نا”

نایاب نے معصومیت سے جواب دیا

“کیوں کہاں گئے سب؟”

اس نے حیرانی سے پوچھا۔۔

“شادی پر گئے ہیں یار ۔۔میرا موڈ نہیں تھا تو میں نے انکار کردیا۔۔”

نایاب نے بتایا۔۔

“تو تم اکیلی گھر میں رہ لو گی؟”

اس نے حیرانی سے پوچھا۔۔

“ہاں مجھے کس نے کھا جانا ہے اپنے ہی گھر میں۔۔”

نایاب نے ہنس کر کہا۔۔

“میں آجاؤں کھانے۔۔”

اس نے شرارت سے کہا۔۔

“سدھرو بیٹا۔۔مار بھول گئے شاید”

نایاب نے بھی الٹا جواب دیا۔۔

“ہاں یاد ہے۔۔شیرنی ہو تم۔۔۔ڈرتے ہیں بھئی ہم تو”

زوہیب نے ہنس کر کہا۔۔

اور اس کے انداز پر نایاب بھی ہنس دی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

رات کے 12 بج رہے تھے جب غنی کے کمرے کی لائٹ آن دکھائی دی۔۔

غنی آگیا ہے؟” وہ حیران ہوئی۔

پھر اس کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔

دروازے پر پہنچ کر وہ لمحہ بھر رکی۔۔

ہم کر کے اس نے دروازے پر دستک دی۔۔

“میں کیا کہوں گی غنی سے۔۔کیسے معافی مانگوں گی۔۔؟”

وہ سوچنے لگی۔۔

تبھی غنی نے دروازہ کھولا۔۔

اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔

“تم۔۔؟” وہ چونکہ۔۔