Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Misal E Taweez (Episode - 16)

Misal E Taweez By Isra Rao

“شٹ اس غنی پر تعویذ اثر کیوں نہیں کر رہے۔۔۔؟”

تانیہ نے کھڑکی سے نیچے لان میں بیٹھے غنی اور نایاب کو ہنستے دیکھ غصہ میں کہا۔۔

“مجھے تو یہ تمہارا بابا فراڈ لگ رہا ہے”

زوہیب نے سنجیدگی سے کہا۔۔

“نہیں۔۔۔وہ فراڈ نہیں ہے۔۔۔میں خود حیران ہوں ان کے تعویذ ضائع نہیں جاتے کبھی۔۔”

تانیہ نے سوچتے ہوئے کہا۔۔

“تو پھر غنی پر اثر کیوں نہیں کر رہے۔۔؟”

زوہیب نے سوال کیا۔۔

“یہ مجھے نہیں پتا۔۔۔مجھے بابا سے بات کرنی ہوگی۔۔۔”

تانیہ نے سوچ کر جواب دیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“چلیں نا غنی مارکیٹ۔۔پلیز”

نایاب نے منت کی۔

“تب سے تم سو رہی تھی۔۔اب مجھے اور بھی بہت سے کام ہیں۔۔۔تمہاری جیولری کے پیچھے اب میں مارکیٹ جاؤں”

غنی نے ناگواری سے کہا۔۔

“پلیز چلیں نا۔۔” وہ پھر سے منت کرنے لگی۔۔

“یار تم پاگل ہو۔۔ابھی مجھے سارے انتظام دیکھنے ہیں۔۔رات میں شادی ہے۔۔کتنے کام ہیں آج مکھے۔۔”

غنی سمجھانے کی کوشش کی۔۔

“میں نے لیے تھے جھمکے۔۔۔ابھی مل نہیں رہے۔۔”

نایاب نے اداسی سے کہا۔۔

“تو کوئی اور پہن لو۔۔”

اس نے حل بتایا۔۔

“نہیں میچ نہیں ہوں گے۔۔”

نایاب نے جواب دیا۔۔

“ایک دن کی بات ہے یار۔۔۔پہن لو۔۔”

غنی نے فون میں گم ہی جواب دیا۔۔

“اچھا نہیں چلیں۔۔اکلوتی بھابھی ہوں اور سب سے گندی لگوں گی۔۔”

اس نے خفگی سے کہا۔۔

غنی نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔

جو منہ پھلائے بیٹھی تھی۔۔

“چلو۔۔۔” وہ کہتا صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔

اور اسے دیکھ نایاب مسکرا دی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

بابا ابھی تک تو غنی پر کوئی اثر نہیں ہوا”

تانیہ نے پاس بیٹھے بابا کو دیکھا۔۔

“ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔۔میرا وار خالی نہیں جاتا”

بابا نے گھمنڈ سے کہا۔۔

“یہ مجھے نہیں پتا۔۔مگر وہ لیلیٰ مجنو۔۔ابھی تک ساتھ گھوم رہے ہیں۔۔”

تانیہ نے چڑ کر کہا۔۔

“وہ لڑکا ضرور وہ کچھ ایسا کرتا ہے جو میرے راستہ میں آرہا ہے۔۔۔۔۔میرے کام کو روک رہا ہے۔۔”

بابا نے سنجیدگی سے کہا۔۔

“اگر اس پر اثر نہیں کر رہا تو چھوڑیں آپ اس پر کریں۔۔۔”

تانیہ نے نایاب کی ایک کامدار قمیض آگے کی۔۔

“ٹھیک ہے ہوجائے گا تمہارا کام۔۔۔”

بابا نے کہا۔۔۔اور تانیہ مسکرا دی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ الماری سے برقعہ نکالنے لگی۔۔کہ اس کی نظر سامنے پڑے اپنے سوٹ پر پڑی۔۔

وہ چونکی۔۔پھر اٹھایا۔۔۔اور دیکھنے لگی۔۔

“چلو جلدی۔۔کیا ہوا؟”

غنی نے کہا۔۔

“میں نے کل پورا سوٹ فنکشن کے بعد رکھا تھا یہاں۔۔اب صرف یہاں لہنگا ہے اس کی شرٹ کہاں گئی۔۔؟”

وہ ڈھونڈنے لگی۔۔

“یہیں ہوگی۔۔آکر ڈھونڈ لینا ابھی چلو۔۔”

غنی نے ہاتھ پر گھڑی باندھتے ہوئے کہا۔۔

وہ اگنور کرتی الماری بند کر اس کے ساتھ ہولی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

عائشہ کی رخصتی کے بعد گھر میں جیسے اداسی چھا گئی تھی۔۔

رات کے تین بج رہے تھے جب وہ اپنے کمرے میں آئے۔۔۔

“کیا ہوا؟” اس نے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھے غنی کو دیکھا۔۔

“کچھ نہیں۔۔” غنی نے جواب دیا۔۔

“عائشہ باجی کے جانے پر اداس ہو؟”

نایاب نے جھمکے اتارتے ہوئے کہا۔۔

“نہیں تو۔۔بہنو کو تو ایک دن جانا ہوتا ہے اپنے گھر۔۔۔”

غنی نے مسکرا کر دیکھا۔۔

“ہاں بلکل۔۔۔۔بس اللہ تعالیٰ انہیں ڈھیرو خوشیاں دے۔۔”

نایاب نے دعا دی

“آمین۔۔۔” وہ بھی مسکرایا۔۔

“نایاب۔۔” غنی نے پکارا

“جی۔۔” وہ پلٹی۔۔

“ہمیشہ ایسی ہی رہنا۔۔تم بہت اچھی ہو۔۔”

غنی نے پیار بھرے لہجے میں کہا۔۔

“میں ایسی ہی رہوں گی۔۔کبھی بدل بھی گئی۔۔تو آپ برداشت کرلینا۔۔میں نے بھی تو آپ کے بہت نخرے برداشت کیے تھے۔۔تھوڑے آپ بھی کرلینا۔۔۔”

نایاب نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے شرارت سے کہا۔۔

“بدلہ لو گی۔۔؟” وہ پوچھنے لگا۔۔

“میں بھی تو دیکھو آپ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔۔۔مجھے برداشت کرتے ہیں یا چھوڑ دیتے ہیں۔۔”

نایاب نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔

“غنی مر سکتا ہے مگر تمہیں چھوڑ نہیں سکتا۔۔۔”

غنی پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے جواب دیا۔۔

ور وہ مسکرا کر اس کے گلے لگی۔۔۔

اور اس کے حصار میں اپنی آنکھیں بند کرگئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

گھر میں کافی رونق تھی۔۔

شادی کے بعد عائشہ پہلی بار آئی تھی۔۔

کل نایاب کی سالگرہ تھی۔۔

اس لیے سب نے مل کر سرپرائز پلان کیا۔۔۔

کہ رات کے بارہ بجے کے بعد سب مل کر سیلیبریٹ کریں گے۔

وہ گہری نیند سورہی تھی۔۔۔جب اس کے کان میں کسی نے سرگوشی کی۔۔۔۔

“ہیپی برتھ ڈے مائے لو۔۔۔”

غنی کی آواز اس کے لانوں سے ٹکرائی۔۔

ساتھ ہی اسے اپنے گال پر اس کا لمس محسوس ہوا۔۔

اس نے جھٹ سے آنکھ کھولی۔۔تو غنی کو اپنے بے حد قریب پایا۔۔

“شکریہ میری لائف میں آنے کے لیے۔۔۔”

غنی نے مسکرا کر کہا۔۔

اور ہاتھ بڑھا کر لیمپ آن کیا۔۔

نایاب نے ک دم کمرے کی جانب دیکھا۔۔۔

جہاں نقشہ ہی مانو بدل گیا تھا۔۔

ہر طرف پھول ہی پھول۔۔

سامنے دیوار پر بڑا سا برتھ ڈے لکھاتھا۔۔

اور زمین پر بھی کافی غبارے پڑے تھے۔۔۔جو سجاوٹ کو اور چار چاند لگا رہے تھے۔۔

وہ اٹھ بیٹھی۔۔۔بے اختیار ہی اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔

تبھی اس کے کمرے کا دروازہ کھلا۔۔۔

اور سب اسے برتھ ڈے وش کرتے کمرے میں داخل ہوئے۔۔

وہ منہ پر ہاتھ رکھے خوشی سے مانو اچھل ہی پڑے۔۔

کیک کاٹنے کے بعد سب نے اسے بہت سے گفٹ دیے۔۔

“کیسا لگا ڈریس؟” غنی نے اسے ایک بلیک ڈریس دکھایا۔۔۔

“واؤ۔۔۔یہ آپ نے خریدا؟”

نایاب نے خوشی سے پوچھا۔۔

“ہاں۔۔” اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔

“”بہت خوبصورت ہے”

نایاب نے کہا۔۔

“چلو پھر جلدی سے پہن کر آجاؤ۔۔۔ہم سب انتظار کر رہے ہیں۔۔۔ باہر سب گھومنے چلیں گے۔۔”

غنی نے خوش دلی سے کہا۔۔

“اس وقت؟” وہ چونکی۔۔

“ہاں۔۔۔تو کیا ہوا۔۔تم بس پہن کر آؤ جلدی۔۔۔”

وہ کہ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ ڈریس تھامے پلٹی کہ اسے دیوار پر کوئی سایہ۔۔گزرتا دکھائی دیا۔۔

وہ چونکی۔۔۔اور یہاں وہاں دیکھنے لگی۔۔

پھر چینچ کرنے چل دی۔۔

وہ چینج کر ہی رہی تھی۔۔۔۔ اسے کسی کے قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی۔۔

جیسے کوئی اس کے بہت قریب آرہا ہو۔۔

وہ گھبرا کر یہاں وہاں دیکھنے لگی۔۔

اس کے چہرے سے پسینے پھوٹنے لگے۔۔

اس بار دیوار پر اسے کسی کا عکس دکھائی دیا۔۔

تبھی پورے کمرے میں دھواں پھیلنے لگا۔۔

اور وہ سایہ مزید اسے قریب آتا دکھائی دینے لگا۔۔

وہ پوری قوت سے چیخی۔۔۔اور دروازے کی جانب لپکی۔۔

اس بات سے ںے خبر کہ اس نے کیا پہنا ہے کیا نہیں۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ سب بیٹھے باتوں میں مصروف تھے۔۔

وہ لوگ نایاب کا انتظار کر رہے تھے۔۔

“یہ نایاب اب تک نہیں آئی۔۔۔بڑی سست ہے بھئی۔۔”

فاخرہ بیگم نے کہا۔۔

“تم دیکھ کر آؤ۔۔۔کہاں رہ گئی وہ”

عائشہ نے پاس بیٹھی تانیہ کی طرف دیکھا۔۔

وہ مزید کچھ کہتے کہ انہیں نایاب کی زوردار چیخ سنائی دی۔۔

اور سب نے گھبرا کر کمرے کی طرف دیکھا۔۔