Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Misal E Taweez (Episode - 15)

Misal E Taweez By Isra Rao

وہ دونوں اس جگہ تھے جہاں کافی رش تھا۔۔پاس ہی سامنے ایک بڑی سی داڑھی والا شخص بیٹھا تھا۔۔

پاس ہی بہت سے لوگ بیٹھے تھے۔۔

وہ دونوں بھی بیٹھ گئے۔۔۔

“تم مجھے یہاں کیوں لائی ہو؟”

زوہیب آہستہ آواز میں پوچھنے لگا

“کیوں کہ لاکھ کوششوں کے باوجود ہم ان کا کچھ نہیں بگاڑ پا رہے۔۔۔یہ بابا بہت پہنچے ہوئے ہیں ایسا تعویذ کرے گا کہ غنی خود ہی نایاب کوچھوڑ دے گا”

تانیہ نے کہا۔۔۔

“دیکھو کوئی ط تعویذ مت کروانا ہمیں صرف انہیں الگ کرنا ہے کوئی نقصان نہیں ہونا چاہیے۔۔”

زوہیب نے کہا۔۔

“پانی سر سے اوپر نکل گیا ہے اب اگر کچھ نہیں کیا تو پھر کچھ نہیں ہوگا۔۔میں صرف غنی پر تعویذ کروا رہی ہوں۔۔۔تاکہ وہ نایاب کو چھوڑ دے۔۔۔”

تانیہ نے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔

اور زوہیب نے سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“یہ سوٹ کیسا رہے گا؟”

نایاب نے اسے ایک سمپل سا لہنگا دکھاتے ہوئے کہا

“ہاں اچھا ہے۔۔۔کب پہننا ہے؟”

وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے پوچھنے لگا۔۔

“کل مہندی میں۔۔” نایاب نے مسکرا کر کہا۔۔

“اچھا ہے پہن لینا۔۔مگر پلیز چوڑیاں پہن لینا تم پہنتی نہیں ہو کبھی۔۔”

غنی نے خفگی سے کہا۔۔

“میرے ہسبنڈ کو چوڑیاں پسند ہیں مجھے پتا نہیں تھا ورنہ بھر بھر کر پہنتی۔۔”

نایاب اس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہنے لگی۔۔

“اب اتنا بھی نہیں کہا” غنی نے ٹوکا

“پھر کتنا کہا ہے آپ نے؟میں تو ہر بات مان لوں آپ کی۔۔۔”

وہ شرارت سے پوچھنے لگی۔۔

“ہائے۔۔۔چلو پھر دروازہ لاک کر کے آؤ اور شروع ہوجاؤ۔۔”

غنی نے ہنسی روکتے ہوئے کہا۔۔

غنی کی بات سن اس نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔۔

“ہسبنڈ جی کافی چھچھورے نہیں ہوگئے آپ؟”

نایاب نے معصومیت سے پوچھا

“تم ہونے کہاں دیتی ہو؟”

وہ منہ بنا کر کہنے لگا۔۔

“میں نے روکا کب؟” نایاب نے معصومیت سے پوچھا۔۔

اور اس کی معصوم سی شکل دیکھ غنی کو بے اختیار اس پر پیار آیا۔۔

مگر وہ پھرسے ہنستی۔۔۔پاس بیڈ پر پڑا اپنا سوٹ دیکھنے لگی۔۔

اور غنی اسے دیکھ مسکرا کر رہ گیا۔۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

غنی صبح سے ڈیکوریشن والوں کے ساتھ لگا ہوا تھا۔۔

سارے کام وہ اپنی مرضی سے کروا رہا تھا۔۔

وہ عائشہ کی شادی میں کوئی کمی نہیں رہنے دینا چاہتا تھا۔۔

تبھی اس کی نظر

کچن کے پاس کھڑی نایاب پر پڑی۔۔جو فاخرہ بیگم کے ساتھ باتوں میں لگی تھی۔۔

حجاب بنائے سادہ سے سوٹ میں اپنا ہی انداز جھلکا رہی تھی۔۔

وہ اسے دیکھ مسکرایا۔۔۔

پھر چل کر ان کے قریب گیا۔۔

“غنی دیکھو نا کب سے کہ رہی ہوں۔۔۔مہندی لگوا لے۔۔پر نہیں صبح سے مہمانوں میں لگی ہوئی ہے۔۔”

فاخرہ بیگم نے غنی کو دیکھتے ہی شکایت کی۔۔

“ہاں۔۔جاؤ مہندی لگواؤ۔۔” اس نے حکم دیا۔۔

“کام بہت ہیں کام تو سارا مما اور بڑی مما نے کیا ہے میں تو بس مہمانوں کو دیکھ رہی ہوں۔۔”

نایاب نے کہا۔۔

“وہ بھی مما کرلیں گی۔۔تم جاؤ۔۔۔”

غنی نے روب سے کہا۔۔

اور وہ اثبات میں سر ہلاتی وہاں سے چلی گئی۔۔

اور غنی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔

وہ جیسے ہی دروازہ کھول اندر داخل ہوا۔۔۔

زوردار کسی سے ٹکراؤ ہوا۔۔

سامنے تانیہ کو دیکھ ٹھٹکا۔۔۔

“تم یہاں۔۔۔؟” وہ چونکا۔۔

“نہیں۔۔۔وہ تو میں بس”

تانیہ گھبرائی۔۔

“وہ کیا؟ میرے میں تم کیا کر رہی ہو؟”

وہ حیرانی سے پوچھنے لگا۔۔

“میں تو بس نایاب کوبلانے آئی تھی۔۔۔مجھے کچھ کام تھا۔۔بس اس لیے۔۔سوری۔۔۔میں چلتی ہوں۔۔”

وہ کہ کر تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔

اور غنی ناگواری سے اسے جاتا دیکھنے لگا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“کسی نے دیکھا تو نہیں۔۔؟”

زوہیب نے اسے دیکھ سوال کیا۔۔

“غنی عین ٹائم پر آگیا تھا۔۔۔میں تو ڈر ہی گئی تھی۔۔”

تانیہ نے لمبے سانس لیتے ہوئے کہا۔۔

“پھر۔۔۔پکڑی تو نہیں گئی۔۔۔”

وہ گھبرایا۔۔

“اتنی آسان چیز نہیں ہوں۔۔میں نے دوپٹہ کے پیچھے چھپا لی تھی۔۔”

وہ مسکرائی۔۔

پھر غنی کی ایک قمیض اس نے زوہیب کے سامنے کی۔۔

جو ابھی وہ اس کی وارڈ روب سے چوری کر کے لائی تھی۔۔

“واقع آسان چیز نہیں ہو۔۔” زوہیب نے ہنسنتے ہوئے کہا۔۔

“یہ بابا نے مجھے چور بنا دیا۔۔۔۔”

تانیہ نے بھی ہنس کر جواب دیا۔۔

“مگر یہ بابا قمیض پر کون سا تعویذ کرتے ہیں۔۔میں نے پہلے کبھی نہیں سنا ایسے تعویذ بھی ہوتے ہیں۔۔”

زوہیب الجھا۔۔

“پتا تو مجھے بھی نہیں مگر انہوں نے مانگی ہے۔۔۔”

تانیہ نے سادے سے لہجے میں کہا۔۔

اور ال

اری کی جانب بڑھ گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ جب کمرے میں آئی تو کمرے میں کوئی نہیں تھا۔۔

وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی۔۔

جہاں خوبصورت مہندی لگی ہوئی تھی۔۔

تبھی کمرے میں غنی داخل ہوا۔۔

“کمرے سے باہر بیٹھو تم۔۔۔اسمیل ہوگئی پورے کمرے میں اس مہندی کی۔۔۔ ۔۔” وہ منہ بنا کر کہنے لگا۔۔

“ہا۔۔۔آپ نے ہی کہا تھا لگواؤ۔۔۔”

وہ خفا ہوئی۔۔

“ہاں۔۔توجب تک گیلی ہے کمرے میں تو مت آؤ۔۔۔”

وہ ناک چڑھائے کہنے لگا۔۔۔

اور وہ اس کو دیکھ تپ گئی۔۔

“دیکھ کر تو بتاؤ ایٹلیسٹ۔۔۔لگی کیسی ہے”

وہ خفگی سے کہنے لگی۔۔

“جب دھو لو گی تب بتاؤں گا۔۔۔ابھی دور رہو مجھ سے۔۔”

وہ کہتا واش روم کی جانب بڑھ گیا۔۔

اور وہ منہ پھلائے بیٹھی اپنی مہندی کو دیکھنے لگی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ آئینے کے سامنے کھڑی تیار ہورہی تھی۔۔۔

جب غنی نہا کر نکلا۔۔۔

“وہ سامنے بیڈ پر کپڑے رکھے ہیں۔۔”

وہ اس دیکھ کہنے لگی۔۔

مگر غنی کی نظر تو اسی پر ٹک گئی مانو۔۔

وہ اطمینان سے کھڑا اسے تکنے لگا۔۔

“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟”

وہ آئینے میں اسے اپنے پیچھے کھڑا دیکھ کہنے لگی۔۔

“پیار آرہا ہے تم پر اس قدر حسین لگ رہی ہو۔۔”

وہ پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے تعریف کرنے لگا۔۔

“ڈاکٹر صاحب۔۔۔۔فنکشن اسٹارٹ ہونے والا ہے۔۔تیار ہوجائیں۔۔۔”

وہ ڈریسنگ سے چوڑیاں اٹھا کر پہننے لگی۔۔

غنی کی نظر اس کے مہندی سے رنگین ہاتھوں پر پڑی۔۔جو اسے اپنی طرف لبھانے لگے۔۔

“لاؤ۔۔۔میں پہناؤں۔۔۔”

وہ اس کے ہاتھ سے چوڑیاں لیتے ہوئے کہنے لگا۔۔

“مہندی سے تو الرجی تھی آپ کو۔۔۔” نایاب نے خفگی سے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیکھ کہا۔۔

“وہ گیلی مہندی سے تھی۔۔۔سوکھنے کے بعد تو نہیں۔۔۔بلکہ بہت اچھی لگتی ہے مجھے۔۔۔بہت خوبصورت “

وہ اس کے ہاتھو کو دیکھ کہنے لگا۔۔

پھر اس کے ہاتھوں کو اپنے لبوں سے لگایا۔۔۔

“تمہارے مہندی سے رنگین ہاتھ بہت اچھے لگ رہے ہیں۔۔۔”

وہ مسکرا کر کہنے لگا۔۔

اور چوڑیاں اس کی کلائی میں اتارنےگا۔۔

“یہ رنگ اتنا ہی گہرا ہے جتنا میری محبت کا رنگ”

وہ چوڑیاں پہناتے ہوئے کہنے لگا۔۔

نایاب کی نظر اس کے چہرے پر جمی تھی۔۔

وہ اس کی محبت دیکھ مسکرا دی۔۔

وہ اس لمحے کو ہمیشہ کے لیے اپنی نظروں میں قید کرلینا چاہتی تھی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

مہندی کا فنکشن دیر رات ختم ہوا۔۔

اور دیر سے سونے پر نایاب کی آنکھ نہیں کھلی۔۔

غنی جب جاگا تو وہ گہری نیند سورہی تھی۔۔

“نایاب اٹھو۔۔۔نماز کا ٹائم ہوگیا۔۔”

وہ اسے اٹھاتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔

اور واشروم کی جانب بڑھ گیا۔۔

واپس جب آیا۔تب بھی وہ اسی طرح سورہی تھی۔۔

وہ اسے دیکھ مسکرایا۔۔

وہ جانتا تھا رات لیٹ سونے سے اٹھا نہیں جارہا اس سے۔۔

وہ اسکے قریب بیڈ پر بیٹھا۔۔

وہ آنکھیں موندے سورہی تھی۔۔

غنی کی نظر اس کے چہرے سے پھسلتی صاف شفاف گردن پر پڑی۔۔

بے اختیار ہی اس کی انگلی صراحی دار گردن کو چھو گئی۔۔

اور نایاب فٹ سے اٹھی۔۔

“کتنی بری حرکت ہے یہ غنی۔۔۔”

وہ خفگی سے کہتی اٹھ بیٹھی۔۔

“تم اٹھ نہیں رہی تھی۔۔۔میں تو اٹھا رہا تھا۔۔”

وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا۔۔

“تو ٹھنڈے ہاتھ لگاؤ گے۔۔سردی میں میں لگاؤں نا آپ کو پتا لگے۔۔۔”

وہ بالوں کو باندھتی چڑ کر کہنے لگی۔۔

“لگا لینا۔۔ابھی تو اٹھ کر نماز پڑھو۔۔میں جارہا ہوں۔۔”

وہ ہنستے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔

اور نایاب نے اس لمحے کو سوچتے ہی جھرجھری لی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“یہ لیں چائے آپ کی۔۔۔”

وہ اسے چائے کا کپ تھماتے ہوئے کہنے لگی۔۔

غنی نے کپ اٹھایا۔۔

“آج کافی دیر میں آئے مسجد سے”

نایاب نے پوچھا۔۔

میں تو دیر سے ہی آتا ہوں۔۔۔”

غنی نے چائے کا سپ لیتے ہوئے کہا۔۔

“ہاں۔۔۔ سورۂ بقرہ کی تلاوت کرتے ہیں۔۔آپ نے بتایا تھا۔۔”

وہ مسکرائی۔۔

“ہاں۔۔۔تم بھی کیا کرو۔۔۔ہر برائی سے محفوظ رہتا ہے بندہ۔۔”

غنی نے مسکرا کر کہا۔۔

“ہاں۔۔۔جادو ٹونا اثر نہیں کرتا۔۔۔”

نایاب نے یک دم کہا۔۔

“پھر بھی پڑھتی نہیں ہو تم قرآن پاک”

غنی نے ڈانٹتے ہوئے کہا۔۔

“پڑھتی ہوں کبھی کبھی۔۔۔”

وہ شرمندہ ہوئی۔۔

اور چائے کا سب لینے لگی۔۔