Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Misal E Taweez (Episode - 20)

Misal E Taweez By Isra Rao

وہ اٹھ بیٹھی۔۔۔اور پاس ہی نماز پڑھتے غنی پر نظر پڑی۔۔۔

وہ چپ.. کراؤن سے ٹیک لگائے۔۔اسے دیکھنے لگی۔۔۔

شاید اسے غنی کبھی اتنا خوبصورت نہیں لگا تھا۔۔۔

جتنا وہ نماز میں مشغول اسے لگ رہا تھا۔۔

وہ دعا مانگ کر اٹھا۔۔۔جائنماز رکھ کر پلٹا تو اسے اپنی طرف دیکھتے ہوئے پایا۔۔۔پھر مسکرا دیا۔۔۔

وہ آہستہ قدموں سے چلتا اس کے قریب گیا۔۔۔

اور اس کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔

نایاب ابھی بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔

غنی اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔۔۔

پھر غنی کے منہ سے نکلتی پھونک۔۔۔۔اسے آنکھیں بند کرنے پر مجبور کر گئی۔۔

وہ اس لمحہ کو محسوس کر رہی تھی۔۔۔

شاید جو اس کے لیے بہت اہم تھا۔۔۔

بہت خوبصورت تھا۔۔۔۔

لمحہ بھر بعد اس نے اپنی آنکھیں کھولی۔۔

مگر سامنے غنی نہیں تھا۔۔۔

اس کی مسکراہٹ فوراً غائب ہوئی۔۔

تبھی اس کے کانوں میں آواز پڑی۔۔۔

اس نے آواز کی سمت دیکھا۔۔۔

سامنے ہی صوفے پر بیٹھ۔۔۔وہ قرآن پاک پڑھتا دیکھائی دیا۔۔۔

اور وہ پھر سے مسکرانے لگی۔۔۔

پھر اٹھ کر وارڈ روب کی جانب بڑھی۔۔۔اور کپڑے لیے واش روم چلی گئی۔۔

تھوڑی دیر بعد جب وہ نہا کر نکلی تب بھی وہ۔۔اسی طرح تلاوت میں مشغول تھا۔۔۔

وہ بال خشک کرتی آئنے کے سامنے کھڑی ہوئی۔۔۔

مگر آواز مسلسل اس کے کانوں میں پڑ رہی تھی۔۔۔

وہ بال بنانے لگی۔۔۔

تب ہی اس نے غنی کی طرف دیکھا۔۔۔جس کی آواز اب بند ہوگئی تھی۔۔۔

وہ قرآن پاک بند کر۔۔۔ رکھ چکا تھا۔۔

وہ پھر سے بال بنانے لگی۔۔

غنی نے اس کے سامنے پانی کا گلاس بڑھایا۔۔۔

اس نے حیرانی سے غنی کو دیکھا۔۔۔

“یسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔پی لو۔۔۔”

غنی نے کہا۔۔۔

اس نے چپ چاپ گلاس تھاما۔۔۔

وہ منہ سے لگانے ہی والی تھی۔۔۔کہ غنی کی آواز ابھری۔۔

“بیٹھ کر پیتے ہیں پانی۔۔۔”

غنی نے مسکرا کر کہا

وہ پاس پڑی کرسی پر بی بیٹھ گئی۔۔۔

اور پانی پینے لگی۔۔۔

“تم نے نماز نہیں پڑھی۔۔؟”

غنی نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

وہ جو پانی پی کر گلاس رکھنے لگی تھی۔۔۔۔

اس کی بات سن ٹھٹکی۔۔

مگر کہا کچھ نہیں۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“تم نہیں کرو گی یہ “

زوہیب نے کہا۔۔۔

تم ہوتے کون ہو مجھے روکنے والے۔۔۔؟”

وہ بھی چیخی۔۔۔

“تانیہ یہ غلط ہے۔۔۔۔میں سب کو بتا دوں گا”

اس نے دھمکی دی۔۔

“بھولو مت۔۔تم میرے ساتھ برابر کے شریک تھے۔۔۔”

تانیہ نے انگلی اٹھا کر غصہ سے کہا۔۔

“ہاں۔۔مگر تم مجھے لائی تھی۔۔۔دھوکے سے۔۔۔”

زوہیب نے کہا۔۔

“کیسا دھوکہ۔۔۔؟” اس نے پوچھا۔۔

“تم نے مجھے نہیں بتایا کہ نایاب نے غنی سے کیوں شادی کی۔۔۔۔تم نے مجھے اس کی مجبوری نہیں بتائی تھی۔۔۔”

زوہیب نے سنجیدگی سے کہا۔۔

“ایک ہی بات ہے”

اس نے لاپرواہی سے کہا۔۔

“ایک بات نہیں ہے۔۔۔جانے انجانے میں بھی تمہارے ساتھ گنہگار بن گیا۔۔۔مگر اب بھی وقت ہے تانیہ۔۔۔چھوڑ دو مت کرو یہ۔۔چلّا وغیرہ۔۔”

زوہیب نے سمجھانا چاہا۔۔

“اچھا اپنی منزل کے قریب آکر پیچھے ہٹ جاؤں۔۔۔نہیں۔۔۔غنی صرف میرا ہے اور میں اسے حاصل کر کے رہوں گی۔۔۔”

وہ کہ کر روم سے باہر نکل گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“لیکن تمہیں اس پورے وقت میں اٹھنا نہیں ہے۔۔۔

چاہے کچھ بھی ہوجائے۔۔۔یہ چلّا پورا کرنا ہے۔۔۔”

بابا نے نصیحت کی۔۔

“ٹھیک ہے۔۔۔”تانیہ نے کہا۔۔۔

“اگر تم نے اسے بیچ میں توڑا۔۔۔

تو نقصان تمہیں اٹھانا ہوگا۔۔۔اس لیے سوچ سمجھ کر کرو”

بابا نے پھر کہا۔۔۔

“منظور ہے۔۔۔آپ بتائیں کیا کرنا ہے۔۔۔”

تانیہ نے ڈٹ کر کہا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“میں مانتا ہوں میری غلطی ہے۔۔۔مگر میں اپنی غلطی سدھارنا چاہتا ہوں۔۔۔اسی لیے آپ سب کو سچ بتا دیا۔۔۔۔”

زوہیب نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔۔۔

سب کھڑے اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔

شاید سب کو اس بات کا یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔

“ابھی بھی وقت ہے آپ تانیہ کو وہ چلّا پورا کرنے سے روک لیں۔۔ورنہ سب برباد ہوجائے گا۔۔۔”

وہیب نے منت کی۔۔

“کہاں ہے وہ۔۔۔” زاہدہ پھپھو نے پوچھا۔۔

“وہ اسی بابا کے ساتھ مل کر وہ چلّا کاٹ رہی ہے۔۔۔

میں نے اسے بہت روکا۔۔مگر وہ سننے کو تیار نہیں۔۔۔”

زوہیب نے بتایا۔۔

زاہدہ پھپھو سوچ میں پڑ گئی۔۔

“اس کا سب سے زیادہ اثر نایاب پر ہی پڑے گا۔۔ہوسکتا ہے نایاب کی زندگی پر ہی اثرانداز ہو۔۔۔”

زوہیب کی بات سن غنی کے ماتھے پر بل پڑے۔۔

وہ بنا کچھ کہے۔۔۔تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔

مگر وہاں نایاب نہیں تھی۔۔۔

وہ بھاگتا ہوا کچن کی طرف گیا۔۔۔

مگر نایاب وہاں بھی نہیں تھی۔۔۔۔

“مما نایاب کہاں ہے۔۔۔؟”

غنی نے فکر سے پوچھا۔۔۔

“ابھی تو یہیں تھی۔۔” انہوں نے پریشانی سے کہا۔۔

غنی کے ساتھ ساتھ سب ہی پریشان ہوئے۔۔۔۔

“تانیہ نے یہ اچھا نہیں پھپھو۔۔۔” غنی نے کہا۔۔اور اوپر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

تبھی زاہدہ پھپھو دھڑام سے زمین پر جاگری۔۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ چھت پر پہنچا تو سامنے کا منظر دیکھ اس کے حواس اڑ گئے۔۔۔

نایاب دیوار پر کھڑی تھی۔۔۔

ایسے جیسے اسے ڈر ہی نہیں۔۔۔نیچے گرنے کا۔۔

نچائی دیکھ کر بھی اسے خوف نہیں ہورہا تھا۔۔۔

غنی کے پاؤں تلے جیسے زمین نکل گئی۔۔

وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہا تھا

“نایاب۔۔۔۔” اس سے پہلے وہ کود جاتی۔۔۔غنی زور سے چیختا اس کی جانب بڑھا۔۔۔۔اور اسے ہاتھ سے پکڑ کھینچا۔۔۔۔

اور وہ سیدھا اس پر گری۔۔۔۔۔

اور غنی سمبھل ہی نا سکا اور دونوں زمین پر جاگرے۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“تانیہ تمہاری امی ہسپتال میں ہے”

زوہیب نے کہا۔۔۔

“کیا۔۔۔کیوں۔۔کیا ہوا انہیں۔۔؟”

تانیہ نے پریشانی سے پوچھا۔۔

“انہیں ہارٹ اٹیک آیا ہے۔۔۔۔وہ ہسپتال میں ہے۔۔۔

چھوڑ دو یہ سب اور چلا میرے ساتھ”

زوہیب نے کہا۔۔۔

“تم جھوٹ کہ رہے ہو۔۔۔۔”

تانیہ نے کہا۔۔۔

“نہیں میں جھوٹ نہیں کہ رہا۔۔۔سچ میں تمہاری امی ہسپتال میں ہے”

زوہیب نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔

۔۔۔

وہ اٹھنے لگی۔۔۔کہ بابا کی آواز کانوں میں پڑی۔۔۔

“اگر تم یہ بیچ میں توڑ کر گئی تو نقصان کی زمہ داری تمہاری ہوگی۔۔۔”

اور وہ رک گئی۔۔

“چلو تانیہ۔۔۔” زوہیب نے پھر کہا۔۔۔

“نہیں۔۔۔تم جاؤ۔۔۔میں نہیں آسکتی۔۔۔”

وہ سنجیدگی سے کہنے لگی۔۔۔

اس کی آنکھوں میں نمی امڈ آئی۔۔

شاید ماں کی محبت میں۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦

زاہدہ پھپھو کی طبیعت بہت خراب تھی۔۔۔

سب ہسپتال میں تھے۔۔۔۔

غنی نایاب کے پاس ہی گھر رک گیا تھا۔۔۔

غنی نایاب کو اکیلہ نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔۔۔

وہ کسی قسم کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔۔۔

وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہا تھا۔۔

کہ وہ وقت پر پہنچ گیا۔۔۔

ورنہ آج جانے کیا ہوجاتا۔۔۔

شاید ان چار قُل کی برکت تھی۔۔۔

جو اس نے نایاب پر پڑھ کر پھونکا تھا۔۔

یا شاید اس پانی کی۔۔۔جو اس نے سورۂ البقرہ کی تلاوت کر کے۔۔نایاب کو پلایا تھا۔۔۔

“بیشک قرآن پاک کے کلام میں اس سے بھی زیادہ طاقت ہے۔۔” غنی نے مسکرا کر خود کلامی کی۔۔۔