Misal E Taweez By Isra Rao NovelR50470 Misal E Taweez (Episode - 1)
No Download Link
Rate this Novel
Misal E Taweez (Episode - 1)
Misal E Taweez By Isra Rao
وہ برقعہ پہنے اسٹیشن پر بیٹھی تھی کہ ٹرین آکر رکی۔۔
وہ تیزی سے بیگ اٹھا کر ٹرین کی طرف بڑھی۔۔
اس نے بیگ اندر رکھ۔۔۔ہینڈل پکڑ کر ٹرین میں چڑھ گئی۔۔
پھر جاکر سیٹ پر بیٹھی۔۔۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کہاں جارہی ہے۔۔
مگر اسے بس اس بے رخی سے اس تکلیف سے دور جانا تھا جسے برداشت کرنے کی صلاحیت شاید اب اس میں باقی نہیں تھی۔۔
وہ جیسے جیسے اس شخص سے دور جارہی تھی ایک ٹیس اس کے دل میں اٹھ رہی تھی۔۔
“میں آپ سے اتنی محبت کرتی ہوں غنی۔۔۔پھر آپ کو کیوں مجھ سے محبت نہیں؟..میں تھک گئی ہوں آپ کی بے رخی برداشت کرتے کرتے۔۔”
وہ دل میں کہنے لگی۔۔دو آنسوں اس کے نقاب میں جذب ہوئے۔۔
اسے فوراً کچھ یاد آیا۔۔
اس نے جلدی سے پرس کی زپ کھول ایک ڈائری نکالی۔۔
جسے پڑھ کر وہ ہکی بکی رہ گئی۔۔
“ایمرجنسی۔۔۔ڈاکٹر سعد کہاں ہے؟”
اس نے پریشانی سے کہاں۔۔
اس کی نظر اس چھوٹے بچے پر تھی جو اکھڑے اکھڑے سانس لے رہا تھا۔۔
اس نے جلدی سے اسے وارڈ میں شفٹ کیا۔۔
اور ٹریٹمنٹ شروع کیا۔۔
تبھی ڈاکٹر سعد وہاں آ پہنچا۔۔
غنی سائیڈ ہوا۔۔۔
ڈاکٹر سعد اس بچے کو دیکھنے لگا۔۔
“انجیکشن تیار کرو۔۔فاسٹ”کچھ ہدایات کرنے بعد حکم صادر کیا۔۔
اس کا حکم سن غنی کے ماتھے پر بل پڑے۔۔
“مگر سر۔۔۔یہ ہائی ڈوز ہے۔۔۔یہ۔۔۔”
غنی نے پریشانی سے کچھ کہنا چاہا۔۔
“میں آپ سے زیادہ سینئر ہوں۔۔اور میں جانتا ہوں کہ مجھے کیا کرنا ہے۔۔۔ڈو یو انڈرسٹینڈ۔۔۔۔”
ڈاکٹر سعد نے تکبر جھلکایا۔۔
“مگر سر ہم اسے ہلکے ڈوز دے کر دیکھ سکتے ہیں نا اگر یہ ان سے ہی ٹھیک ہوجائے گا ہمیں یہ انجیکشن دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔زندگی دینے والا اللہ تعالیٰ ہے۔۔۔”
غنی نے اسے سمجھانے کی پھر کوشش کی۔۔۔
“ڈاکٹر عبدالغنی۔۔آپ مجھے مت سکھائیں کہ مجھے کیا کرنا ہے۔۔۔اگر میں نے اسے ہلکے ڈوز دیے۔۔۔اور اس کی حالت مزید خراب ہوگئی تو؟ کون زمہ دار ہوگا؟ اور ہاں اس وقت اس بچے کی جان ہمارے ہاتھ میں ہے ہم چاہیں تو بچا بھی سکتے ہیں اور چاہے تو ختم بھی کر سکتے ہیں۔۔۔اس لیے ہمیں کوتاہی نہیں برتنی۔۔”
ڈاکٹر سعد نے تلخی سے کہا۔۔۔
اور نرس سے انجیکشن لے کر اس بچے کو لگایا۔۔۔
غنی پاس کھڑا۔۔انہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔
ڈاکٹر سعد مڑ کر نرس کو کچھ ہدایات کرنے لگا۔۔۔مگر غنی کی نظر ابھی بھی اس بچے پر تھی۔۔
وہ بچہ لمبی لمبی سانسیں لیتا۔۔یک دم بے سدھ ہوا۔۔۔
“سر اس کی طبیعت بگڑ رہی ہے”
غنی کہتے ساتھ اس کی طرف بڑھا۔۔
“پیچھے ہٹو۔۔۔۔” ڈاکٹر سعد نے غنی کو پیچھے کیا اور خود جدوجہد کرنے لگا۔۔۔
مگر کوششیں ناکام گئی۔۔۔
وہ بچہ اپنی زندگی کی جنگ ہار چکا تھا۔۔
وہ بالوں میں برش پھیرتی خود کو آئینہ میں دیکھ رہی تھی۔۔
تبھی زور زور ہارن کی آواز آنے لگی۔۔
اس نے جلدی سے برش ڈریسنگ پر پھینکا۔۔۔اور پرس اٹھاتی۔۔۔کمرے سے باہر نکلی۔۔
وہ تیزی سے سیڑھیاں اترتی نیچے آئی۔۔
نیچے کھڑی زاہدہ پھپھو نے ناگواری سے اس کے حلیے کو دیکھا۔۔
جو وائٹ جنس پر پنک ٹاپ پہنے سنہرے سلکی بالوں کی پونی ٹیل بنائے۔۔پرس لہراتی۔۔سیڑھیاں اتر رہی تھی۔۔
زاہدہ پھپھو کو دیکھ ٹھٹکی۔۔
“اسلام علیکم پھپھو۔۔”
نایاب نے دھیمے لہجے میں سلام کیا۔۔
“وعلیکم السلام۔۔۔”
پھپھو نے ناگواری سے جواب دیا۔۔
“کہاں جارہی ہے؟” پھپھو نے سوال کیا۔۔
“وہ میری دوست کی برتھ ڈے ہے نا تو وہ۔۔۔۔”
نایاب نے نظر جھکائے کہا۔۔
“اچھا۔۔۔جاؤ”
پھپھو نے کہا۔۔اور اس نے یک دم بے یقینی سے انہیں دیکھا۔۔
پھر باہر کی جانب بڑھ گئی۔۔
مگر یہ بات اسے ہضم نہیں ہورہی تھی کہ آج پھپھو نے بنا کوئی کڑوی بات کہے اسے کیسے جانے دے دیا۔۔؟
وہ سر جھٹک کار تک پہنچی۔۔
جہاں۔۔۔وہ آنکھوں پر سن گلاسس چڑھائے۔۔ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا۔۔
وہ اسے دیکھ مسکرائی۔۔۔پھر کار کا دروازہ کھول اس کے برابر والی سیٹ پر براجمان ہوئی۔۔
اور اس نے کار اسٹارٹ کردی۔۔
“میں نے آپ کو کہا بھی تھا کہ وہ ہائی ڈوز ہے اسے مت دیں۔۔۔مگر آپ نے نہیں سنی میری بات”
غنی نے ڈاکٹر سعد کو دیکھا۔۔
“اوہ۔۔اس سب کا بلیم مجھے مت کرو۔۔میں صرف ایک ڈاکٹر ہوں۔۔۔کوشش کرسکتا ہوں۔۔۔باقی موت زندگی تو اللہ کے ہاتھ میں ہے”
ڈاکٹر سعد نے صفائی دی۔۔
“اچھا جب میں یہی بات کی تھی تو آپ نے کہا اس وقت موت زندگی آپ کے ہاتھ میں ہے۔۔۔”
غنی نے تلخ لہجے میں کہا۔۔
“کس ٹون میں بات کر رہے ہیں آپ۔۔شاید آپ بھول رہےہیں کہ آپ اپنے سینیئر سے۔۔۔”
وہ بات پوری کرتا اس سے پہلے ہی غنی نے بات کاٹی۔۔
“سینئر ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کا جو جی چاہے وہ کرو۔۔کسی ماں کا معصوم بچہ تھا وہ۔۔جسے ٹریٹ کرتے وقت آپ نے ایک بار بھی نہیں سوچا۔۔۔کہ اس کی ماں پر کیا بیتے گی۔۔”
غنی نے تیش میں کہا
“ہماری فیلڈ میں احساسات کا کام نہیں۔۔۔یہ بات آپ جتنی جلدی ہوسکے سمجھ لیں۔۔”
ڈاکٹر سعد نے کرختگی سے کہا
اس سے پہلے غنی کچھ کہتا۔۔اس کی گھڑی پر نظر پڑی جہاں اس کی جماعت کا وقت ہوگیا تھا۔۔
وہ بنا کچھ کہے نماز کے لیے بڑھ گیا۔۔
زاہدہ پھپھو کھڑکی سے نایاب کو دیکھ رہی تھی۔۔وہ کار میں بیٹھی اور چلی گئی۔۔جب کہ چلانے والا ایک لڑکا تھا۔۔
“لڑکی کو اتنی ڈھیل دی ہوئی ہے کہ آرام سے کسی بھی لڑکے کے ساتھ بیٹھتی ہے چلی جاتی ہے”
پھپھو بڑبڑاتی اندر آئی۔۔
“دیکھنا ایک دن نام روشن کرے گی یہ لڑکی میرے بھائی کا۔۔پھر سمجھ آئے گا اتنی آزادی بھی اچھی نہیں ہوتی۔۔”
وہ یونہی بولتی اپنے کمرے میں آئی۔۔
“ایک افضل بھائی کا بیٹا بھی ہے مجال جو۔۔۔ایک وقت کی نماز بھی چھوڑ دے تو۔۔۔”
وہ بڑبڑاتے ہوئے وارڈ روب کی طرف بڑھ گئی۔۔
“تمہیں کتنی بار کہا ہے زوہیب گاڑی میرے گھر سے فاصلے پر روکا کرو۔۔۔تم بلکل ہی فرنٹ پر آجاتے ہو۔۔۔شکر کرو پھپھو نے نہیں دیکھا تھا۔۔ورنہ انہیں تو بہانہ چاہیے۔۔شور ڈالنے کا۔۔۔”
نایاب نے گاڑی میں بیٹھتے ہی کہا۔۔
“تو کیا ہوا۔۔۔جب پیار کیا تو ڈرنا کیا۔۔۔پیار کیا کوئی۔۔۔۔”
وہ گنگنانے لگا کہ نایاب کا زوردار مکہ اس کی بازو پر پڑا۔۔
اور وہ ہنستے ہوئے اپنا بازو سہلانے لگا
“یار اپنی پھپھو کو تم OLX پر کیوں نہیں بیچ دیتے۔۔”
زوہیب نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے شرارت سے کہا۔۔
“کوئی نہیں خریدے گا ان کو۔۔۔”
نایاب نے منہ بنایا ۔
اور ایک لیبارٹری کے قریب گاڑی روک دی۔۔
“کیا ہوا یہاں کیوں روکی۔۔؟” نایاب نے پوچھا
“یار مما کی رپورٹس لینی تھی۔۔۔تم ویٹ کرو میں ابھی آیا۔۔۔”
وہ کہ کر لیبارٹری کی جانب بڑھ گیا۔۔
اور وہ گاڑی میں بیٹھی انتظار کرنے لگی۔۔
تبھی اس کی نظر سامنے سے آتے غنی پر پڑی۔۔۔
سر سے ٹوپی اتار۔۔۔جیب میں رکھتا
چہرے پر ہلکی سی ڈاڑھی۔۔۔
صاف شفاف رنگت پر جھلکتا نور۔۔۔
وہ مردانہ چال چلتا۔۔۔اپنی ہی دھن میں آرہا تھا۔۔
“غنی۔۔۔” نایاب بڑبڑائی۔۔اور جھٹ سے نیچے ہوئی۔۔۔۔
وہ برابر سے گزر گیا تو۔۔۔نایاب سیدھی ہوئی اور سکون کا سانس لیا۔۔۔
