Misal E Taweez By Isra Rao NovelR50470 Misal E Taweez (Episode - 5)
No Download Link
Rate this Novel
Misal E Taweez (Episode - 5)
Misal E Taweez By Isra Rao
نایاب نے روتے روتے ساری تفصیل بتائی۔۔
جسے سن سب دنگ رہ گئے۔۔
انہیں یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔کہ غنی نے ایسی حرکت کی۔۔
“نایاب تم ایسا کیوں کہ رہی ہو۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا چچی۔۔”
وہ خالدہ بیگم کی جانب بڑھا۔۔
جو انکھوں میں غصہ لیے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“بابا۔۔میں سچ کہ رہا ہوں۔۔۔میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔۔”
غنی نے افضل صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔
بدلے میں ایک لہراتا ہوا تھپڑ غنی کے گال پر پڑا۔۔
“میں نے ایسی پرورش کی تھی تیری۔۔”
وہ غراتے ہوئے ہوئےآگے بڑھے ۔
“میں سچ کہ رہا ہوں میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔مجھے نہیں پتا نایاب جھوٹ کیوں بول رہی ہے”
غنی نے اپنی صفائی دینی چاہی۔۔
مگر بدلے میں ایک اور زناٹے دار تھپڑ اس کا گال سرخ کر گیا۔۔
افضل صاحب نے آگے بڑھ کر اس کو گریبان سے پکڑا۔۔
“یہ تو کیا کر رہا ہے افضل چھوڑ اسے۔۔”
پھپھو نے آگے بڑھ کر انہیں روکا۔۔
انہوں نے جھٹکے سے اسے چھوڑا۔۔
“آپا یہ اتنا گر گیا گھر کی بچی کے ساتھ۔۔۔ارے شرم آرہی ہے مجھے اسے اپنابیٹا کہتے۔۔”
افضل صاحب نے غصہ سے کہا۔۔
“ارے وہ بھی اتنی نیک نہیں ہے۔۔۔اسی نے کچھ کیا ہوگا ۔۔۔ورنہ غنی ایسا نہیں ہے”
پھپھو نے نایاب کو گھورتے ہوئے کہا۔۔
“نہیں پھپھو میں قسم کھا کر کہتا ہوں میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔نایاب جھوٹ کہ رہی ہے”
غنی نے نم انکھوں سے کہا۔۔
“یہ جھوٹ کہ رہی ہے تو یہ نشان بھی جھوٹے ہیں۔۔؟”
خالدہ بیگم نے نایاب کی کلائی سامنے کی جہاں گوری رنگت پر سرخ انگلیوں کے نشان تھے۔۔
نایاب خالدہ بیگم کے گلے لگ روتی چلی جارہی تھی۔۔
“میں نے نہیں کیا یہ سب۔۔۔میں ایسا کیوں کروں گا؟”
غنی روہانسی ہوا۔۔
“ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ نایاب کو غلط فہمی ہوئی ہو۔۔۔غنی ایسانہیں ہے آپ سب جانتے ہیں۔۔۔”
فاخرہ بیگم نے کہا۔۔
“مما میں نے کچھ نہیں کیا یہ الزام ہے مجھ پر۔۔۔بابا میرا یقین کریں۔۔”
وہ یک دم افضل کے پاس جاکر منت کرنے لگا۔۔
وہ آج پہلی بار اپنے بابا کی نظروں میں نفرت دیکھ رہا تھا۔۔
“یقین ہی تو کیا تھا۔۔غنی تجھے شرم نہیں آئی۔۔۔مجھے
۔۔۔ کسی کے سامنے نظر اٹھانے کے لائق نہیں چھوڑا تونے۔۔۔
اپنے ہی گھر میں تو نے۔۔۔تو یہاں نہیں رکے گا اب۔۔۔نکل یہاں سے”
انہوں نے اسے بازو سے پکڑا اور کھینچتے ہوئے باہر لے جانے لگا۔۔
“افضل وہ کہاں جائے گا۔۔۔چھوڑدے اسے۔۔”
پھپھو نے راستے میں آجر انہیں روکا۔۔۔
“بابا میرا یقین کریں میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔۔”
غنی کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے۔۔
“یہ جذباتی فیصلے نہیں ہوتے بیٹھ کر بات کرو اس کی بھی سنو۔۔صرف اس لڑکی کی بات سن کر ہم فیصلہ نہیں کر سکتے نا”
پھپھو نے تلخ لہجے میں کہا۔۔
مگر وہ کوئی جواب دیے بنا وہاں سے نکل گئے۔۔
“مما میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ غنی میرے ساتھ ایسا کرے گا”
نایاب نے روتے ہوئے کہا۔۔
“یقین تو مجھے بھی نہیں آرہا کہ غنی ایسا کرسکتا ہے۔۔
کتنا بھروسہ تھا مجھے اس پر۔۔۔اپنا بیٹا سمجھتی تھی میں۔۔اور اس نے۔۔”
خالدہ بیگم نے اس کے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا۔۔
“ویسے تو نمازی پرہیزی بنتا ہے اور اندر سے ایسا شیطان ہے۔۔۔اگر ہم وقت پر نا پہنچتے تو۔۔۔جانے کیا ہوجاتا”
خالدہ بیگم نے اسے گلے لگایا۔۔
“میں کبھی معاف نہیں کروں گی مما اسے”
نایاب نے کہا۔۔
“ہممم۔۔۔سوجا نایاب۔۔رات کافی ہوگئی میں تیرے پاس ہی ہوں۔۔۔ڈرنے کی ضرورت نہیں۔۔”
انہوں نے اس کے ماتھے پر بوسا دیا۔۔
اور اسے لٹایا۔۔
جانے رات کا کون سا پہر تھا۔۔
جب وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
سارا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔۔
وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑا خود کو دیکھ رہا تھا۔۔
(نامرد ہو تم)
جملہ اس کے کانوں کو چیرتا ہوا گیا۔۔
(شرم آرہی ہے مجھے۔۔اسے اپنا بیٹا کہتے)
( کسی کے سامنے نظر اٹھانے کے لائق نہیں چھوڑا تونے مجھے)
وہ سرخ آنکھوں سے خود کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
یک دم ہی اس نے ہاتھ بڑھا کر ڈریسنگ پر رکھے سارے سامان کو زمین بوس کردیا۔۔۔
“نایاب۔۔۔۔” پاس پڑا گلدان اس نے اٹھا کر پوری قوت سے زمین پر دے مارا۔۔
مگر اس کا غصہ کسی طرح کم نہیں ہورہا تھا۔۔
اس نے زور سے پاس کھڑے اسٹینڈ کو لات ماری جس سے سارا اسٹینڈ زمین پر پھیل گیا۔۔۔
تبھی فاخرہ بیگم بھاگتی ہوئی کمرے میں آئی۔۔
“غنی۔۔۔غنی تو یہ کیا کر رہا ہے۔۔۔”
انہوں نے اسے پکڑا۔۔۔
آنسوں متواتر اس کی آنکھوں سے گر رہے تھے۔۔
“یہاں آ۔۔۔۔کیا ہوگیا ہے تجھے۔۔”
انہوں نے اسے بیڈ پر بٹھایا ۔
“کسی کو یقین ہو نا ہو۔۔۔مجھے میرے بیٹے پر پورا یقین ہے”
فاخرہ بیگم نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں سمویا۔۔
غنی فوراً ان کے گلے لگ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔۔
“بابا نے مجھ پر یقین نہیں کیا مما”
وہ روتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“میرا بیٹا ایسا کر ہی نہیں سکتا..میں جانتی ہوں۔۔وہ ابھی غصہ میں ہیں۔۔وہ بھی کریں گے تم پر یقیں۔۔۔تمہیں پتا ہے وہ اپنے بھائی سے اور نایاب سے کتنی محبت کرتے ہیں۔۔اسی لیے بنا سوچے سمجھے۔۔۔”
وہ اسے چپ کروانے لگی۔۔
“مجھے نہیں پتا مما نایاب نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا۔۔”
غنی نے آنسوں پوچھتے ہوئے کہا۔۔
(جو اپنے گھر کی عزت کو نہیں بچا سکت۔۔۔میری نظر میں وہ نامرد ہے)
اسے فوراً نایاب کا جملہ یاد آیا۔۔
“ہاں۔۔اس نے بدلہ لیا ہے مجھ سے مما کل ہمارا جھگڑا ہوا تھا۔۔”
غنی نے فاخرہ بیگم کو سارہ تفصیل بتائی۔۔
“اس میں غلط تو نہیں کیا تم نے۔۔۔خالدہ نے اور فضل نے حد سے زیاادہ ڈھیل دی ہوئی ہے اپنی بچی کو۔۔اسلام کا تہذیب کا تو اسے جڑ سے نہیں پتا۔۔”
فاخرہ بیگم نے غصہ سے کہا۔۔
فاخرہ بیگم جانے کیا کیا کہ رہی تھی۔۔۔
مگر غنی کا دماغ تو بس اس بات پر اٹکا تھا کہ نایاب نے اس سے بدلہ لیا ہے۔۔۔اس پر جھوٹا الزام لگا کر۔۔
اس واقع کو دو دن ہوگئے تھے۔۔۔
مگر غنی صبح ناشتے کے بعد نکلتا اور رات گئے گھر میں داخل ہوتا۔۔
مگر افضل صاحب نے اس دن کے بعد سے غنی سے بات نہیں کی۔۔۔وہ غنی کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔۔
اور ان کی ناراضگی کی وجہ سے غنی اس واقع بھولنا نہیں چاہتا تھا۔۔
اسے رہ رہ کر نایاب پر غصہ آرہا تھا۔۔
اس نے۔۔۔جس سے اس نے اتنی محبت کی تھی۔۔۔
اس نے اس پر اتنا گھٹیا الزام لگایا۔۔
اسے سب کی نظروں میں گرا دیا تھا۔۔
وہ رات رات بھر جاگ کر گزارتا۔۔۔
اس الزام کی وجہ سے اس کا بابا اس سے دور ہوگیا تھا۔۔
جو وہ برداشت نہیں کر پارہا تھا۔۔
وہ لان میں بیٹھی زوہیب سے بات کر رہی تھی۔۔۔
تبھی اسے سامنے سے فیضان آتا دکھائی دیا۔۔
اس نے زوہیب کو بائے بول کر فون کٹ کردیا۔۔۔
اور چائے کا مگ اٹھا کر سپ لینے لگی۔۔
وہ جانتی تھی وہ اب اس کے پاس ضرور آئے گا۔۔
کیوں کہ اس کی کتنی بھی بے عزتی کرلو۔۔
وہ باز نہیں آنے والا۔۔
“ہائے۔۔۔کیسی ہو؟”
فیضان نے قریب آکر کہا۔۔
“ٹھیک ہوں ۔۔۔”
اس نے کپ ٹیبل پر رکھا۔۔
اور فون پر انگلیاں چلانے لگی۔۔
“کہیں گھومنے چلیں۔۔؟”
فیضان نے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔۔
“نہیں میرا موڈ نہیں تم چلے جاؤ”
اس نے بے رخی سے کہا۔۔
“ہم تو آپ کے منتظر ہیں۔۔آپ کے بنا تو سب ادھورا ہے”
اس نے شرارت سے کہا اور ہاتھ بڑھا کر اس کا رکھا چائے کا کپ اٹھانے لگا۔۔
نایاب نے فوراً نظر اٹھا کر کپ کی جانب دیکھا۔۔
مگر کپ سے ہوتی ہوئی اس کی نظر فیضان کی کلائی پر جا ٹکی۔۔۔جہاں کچھ نشان تھے۔۔
اس نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کی کلائی کو حیرانی سے دیکھنے لگی۔۔جہاں ناخنوں کے نشان تھے۔۔
“یہ نشان۔۔۔”نایاب نے ناسمجھی سے کہا۔۔
مگر فیضان نے فوراً ہاتھ پیچھے کھینچا۔۔
“نہیں وہ چوٹ لگ گئی تھی۔۔”
وہ کہتا کھڑا ہوگیا۔۔
“میں آتا کچھ کام یاد آگیا۔۔”
وہ لمبے ڈنگ بھرتا اندر کی جانب بڑھ گیا ۔
اور نایاب ناسمجھی سے اسے جاتا دیکھنے لگی۔۔
وہ کاندھے پر بیگ ٹانگے گھر میں داخل ہوئی۔۔۔
وہ سیڑھیاں چڑھنے ہی لگی تھی کہ اسے فیضان کے کمرے آواز آئی۔۔۔جس میں اسی کا نام لیا گیا تھا۔۔
وہ نا چاہتے ہوئے بھی اس کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔
“ارے شکر ہے کہ اس دن میں ٹائم پر وہاں سے نکل گیا۔۔اور غنی پہنچ گیا۔۔۔۔اسی لیے سارا الزام اس غنی پر لگ گیا..”
دروازے پر ہی اسے فیضان کی آواز سنائی تھی۔۔
“وہ تو بیچارہ نمازی پرہیزی بندہ ہے۔۔۔اب کسی کو کیا پتا کہ اس سب کے پیچھے تو میں تھا۔۔
مگر یار یہ نایاب ہے ہی ایسی۔۔۔اگر یہ سیدھی طرح مان جائے تو مجھے یہ سب نہیں کرنا پڑتا۔۔۔
اور بنتی ایسے نیک ہے۔۔۔خود تو دو کپڑوں میں گھومتی پھرتی ہے۔۔۔ہمیں خود اپنی طرف مائل کرتی ہے۔۔پھر پارسائی کا ڈرامہ۔۔۔”
وہ دروازے پر کھڑی ساکت ہوگئی۔۔۔
اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا سن رہی ہے۔۔
