Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Misal E Taweez (Episode - 8)

Misal E Taweez By Isra Rao

رات کا سارا منظر اس کے سامنے فلم کی طرح چل رہا تھا۔۔وہ ہاتھ میں چھری لیے اپنی بے بسی کو یاد کر رہی تھی۔۔

اس نے چھری اپنی کلائی پر رکھی۔۔

دو آنسوں اس کی آنکھ سے گرے۔۔

اس سے پہلے وہ چھری چلاتی۔۔۔کسی مضبوط ہاتھ نے اسے اپنی گرفت میں لیا۔۔۔

اس نے نظر اٹھا کر دیکھا۔۔

“کیا کر رہی ہو تم پاگل ہوگئی ہو؟”

غنی نے غصہ سے کہا

اور اس سے چھری لے کر دور پھینکی۔۔

“کیوں روک رہے ہو مجھے۔۔۔مار توآپ نے دیا ہے مجھے۔۔۔

اب بچا کر کیا فائدہ”

وہ بھری آنکھوں سے کہنے لگی۔۔

اس کی آنکھوں میں جانے کیا تھا۔۔۔جو غنی کو ملامت کر رہا تھا۔۔

“رونا بند کرو۔۔۔غلطی تمہاری بھی تھی۔۔۔یہ سب کر کے کیا ثابت کرنا چاہتی ہو تم۔۔کہ صرف میں پی برا ہوں۔۔۔”

غنی نے اسے شانوں سے تھامے ہوئے کہا۔۔

“میں نے جو بھی کیا میں مانتا ہوں میں نے گناہ کیا۔۔مگر اس کے لیے مجھے تم نے اکسایا۔۔۔”

غنی نے چبا کر کہا۔۔۔

“آپ اتنے بے گناہ تو نہیں ہیں” نایاب نے بھری آواز سے کہا۔۔۔

اور پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔

اس کی سسکیاں گونجنے لگی۔۔

اور ایک بار پھر سے وہ غنی کو شرمندہ کرنے لگی۔۔

غنی لمحہ بھر یونہی اسے روتا دیکھتا رہا۔۔

مگر اس کے آنسوں تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔

غنی نے آگے بڑھ کر اسے اپنے قریب کیا۔۔۔

مگر وہ رونے میں اتنی مگن تھی کہ شاید بھول گئی تھی وہ کس کے سینے سے لگی۔۔آنسوں بہا رہی ہے۔۔..

حوش اسے تب آیا جب اسے باہر قدموں کی آواز آئی۔۔۔

وہ جھٹکے سے اس سے دور ہوئی۔۔۔

اور تیزی سے کچن سے باہر نکلی۔۔۔

سب گھر والے آپس میں باتیں کرتے گھر میں داخل ہوئے۔۔۔

وہ بھاگتی ہوئی خالدہ بیگم کے پاس گئی۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“مجھ سےہی غلطی ہوئی جومیں اپنی بچی کو یہاں اکیلی چھوڑ کر گئی ۔۔”

خالدہ بیگم نے کہا۔۔۔

افضل صاحب اور فضل صاحب کے آتے ہی خالدہ بیگم پھٹ پڑی۔۔

“غنی۔۔۔۔”افضل صاحب دھاڑے۔۔

تبھی غنی ان کے سامنے آکھڑا ہوا۔۔

فضل صاحب نے آگے بڑھ زوردار تھپڑ اس کے گال پر رسید کیا۔۔۔

“بابا۔۔۔” غنی نے کچھ کہنا چاہا مگر تھپڑوں کی بوچھاڑ نے اسے موقع نہیں دیا۔۔

وہ زمین پر جاگرا۔۔۔

اس کے ہونٹ سے خون نکلنے لگا۔۔۔

“یہ تو کیا کر رہا ہے۔۔۔ پہلے اس سے پوچھ تو لے۔۔۔اسے اپنی صفائی دینے کاموقع تو دے۔۔۔”

پھپھو نے افضل صاحب کو روکا۔۔

“غنی۔۔۔۔”فاخرہ بیگم نے غنی کو سمبھالا۔۔۔۔

ان کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے۔۔۔

“آپا اس نے ثابت کردیا کہ میں نے اپنے بیٹے کی پرورش ٹھیک طرح سے نہیں کی۔۔۔نفرت ہے مجھے اس سے ۔۔۔اس نے پے بھی ایسا ہی کام کیاتھا۔۔۔اس دن تو شاید اس کے ماں باپ مرے نہیں تھے۔۔۔اسیے اس نے اب مار دیا ہمیں۔۔۔”

افضل صاحب غصہ میں پتا نہیں کیا کیا بکنے لگے

“میں اس دن کچھ نہیں کیا تھا نایاب نے جھوٹے الزام لگایا تھا مجھ پر۔۔۔۔اگر یقین نہیں تو بلائیں اسے اور پوچھیں۔۔۔

اس نے مجھے آپ سب کی نظروں میں گرانے کے لیے یہ سب کیا تھا۔۔۔”

غنی نے سیدھے کھڑے ہوتے ہی کہا۔۔۔

“میری بیٹی خود کو بدنام کیوں کرے گی۔۔۔وہ جھوٹ نہیں بول رہی تھی۔۔”

خالدہ بیگم چلائی۔۔

“چچی اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں۔۔۔تو بلاؤ اور پوچھو نایاب سے کہ کیااس نے جھوٹا الزام نہیں لگایا۔۔اس نے مجھ سے بدلہ لینا چاہا تھا۔۔۔”

غنی نے سرخ چہرے سے کہا ۔

“ہاں ٹھیک ہے نایاب کو بھی بلاتے ہیں۔۔۔۔ساری بات سامنے آجائے گی۔۔”

پھپھو نے کہا۔۔۔

“تانیہ جاؤ نایاب کوبلاؤ”

پھپھو نے پاس کھڑی تانیہ کو حکم دیا۔۔۔

اور وہ اثبات میں سر ہلاتی چلی گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“کیا یہ سچ کہ رہا ہے نایاب؟”

فضل صاحب نے سوال کیا۔۔

“پاپا۔۔۔میں۔” نایاب نے کچھ کہنا چاہا مگر فضل صاحب نے بات کاٹی۔۔

“نایاب مجھے سچ بتاؤ۔۔۔کیا اس دن جو تم نے کہا تھا وہ سچ تھا؟”

انہوں نے سنجیدگی سے پھر پوچھا۔۔۔

وہ کسی مجرم کی طرح سر جھکائے کھڑی تھی۔۔

“نہیں۔۔۔۔۔مگر” نایاب نے جھجھکتے ہوئے کہا۔۔۔

اور فضل صاحب نے غصہ کو ضبط کیا۔۔۔

“میں نے کہا تھا نا کہ نایاب نے مجھ پر جھوٹا الزام لگایا تھا۔۔۔مجھے سب کی نظروں کی گرادیا تھا۔۔۔اسی لیے۔۔۔بس اسی لیے میں نے غصہ میں ایسا قدم اٹھایا۔۔۔

اگر قصور وار میں ہوں تو یہ بھی ہے نا بابا”

غنی نے کہا۔۔۔

“میں نا کہتی تھی اس لڑکی نے ہی کچھ کیا ہوگا۔۔فضل اور خالدہ نے اسے آزادی جو اتنی دے رکھی تھی۔۔۔کردیا نا شرم سے سر نیچا۔۔۔”

پھپھو نے کہا

“آپ ٹھیک کہ رہی ہیں آپا۔۔میں نے اس پر خود سے زیادہ بھروسہ کیا تھا۔۔اپنا بیٹا سمجھا میں نے اسے۔۔۔مگر مجھے نہیں پتا تھا میری بیٹی میری عزت کو یوں اچھالے گی۔۔۔”

فضل صاحب نے سر جھکائے نم آنکھوں سے کہا۔۔۔

“نہیں۔۔۔پاپا۔۔۔میری بات تو سنیں۔۔۔”

نایاب نے منت کی۔۔

مگر انہوں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔۔

“بڑے پاپا۔۔۔میں مانتی ہوں میری غلطی ہے۔۔مگر میں نے انجانے میں سب کیا”

نایاب نے افضل صاحب کے پاس جاکر کہا۔۔

“میں نے تمہیں اپنی سگی اولاد سے زیادہ چاہا تھا۔۔۔جب تم نے غنی کا نام لیا تو۔۔میں نے اس سے صفائی نہیں مانگی۔۔۔

تمہاری بات پر یقین کیا۔۔۔مگر تم نے سب کو جھوٹ بول کر۔۔۔تم نے تو بھروسہ ہی ختم کردیا۔۔۔”

افضل صاحب نے دکھی لہجے میں کہا۔۔

“بڑے پاپا۔۔۔” وہ روتے ہوئے انہیں دیکھنے لگی۔۔

“خالدہ اسے لے کر جاؤ یہاں سے”

فضل صاحب نے حکم سنایا۔۔

“پاپا میری بات سنیں۔۔۔” نایاب نے آخری منت کی۔۔۔

مگر خالدہ بیگم اسے پکڑ کر کمرے میں لے گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“میں نے جو کیا غلط کیا بدلے میں اچھے برے کا فرق بھول گیا تھا۔۔مگر مجھے کوئی پچھتاوا بھی۔۔۔

میں نایاب سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوں۔۔”

غنی نے لاؤنج میں بیٹھے ہر شخص کے سامنے کہا۔۔

“یہ کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔؟”

پھپھو نے یک دم کہا۔۔

“کیوں نہیں ہوسکتا؟”

فضل صاحب نے انہیں دیکھا۔۔

“میرا مطلب ہے کہ نایاب سے اور خالدہ سے بھی پوچھنا ہوگا”

انہوں نے ہڑبڑا کر بات پلٹی۔۔

کیوں کہ وہ جانتی تھی تانیہ غنی کو پسند کرتی ہے۔۔

اوراب نایاب سے اس کی شادی کیسے ہوسکتی ہے۔۔

“ان کی فکر مت کریں۔۔۔بھائی آپ کو تو کوئی اعتراض نہیں ۔۔جومیری بیٹی نے کیا میں شرمندہ ہوں۔۔ہاتھ جوڑ کر معافی چاہتا ہوں۔۔۔”

انہوں نے افضل صاحب کے سامنے ہاتھ جوڑے۔۔

“نہیں۔۔۔مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔” انہوں نے فضل کو گلے لگایا۔۔

“اب یہی راستہ ہے بچوں سے غلطی ہوگئی ہے۔۔۔

تواب ہمیں ان کا نکاح ہی کردینا چاہیے۔۔”

افضل صاحب نے کہا۔۔

اور فضل صاحب نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“یہ کیسا انصاف ہے امی۔۔۔جو عزت کا لٹیرہ ہے آپ لوگ اسی کو میری عزت کا رکھوالا بنانا چاہتے ہیں۔۔”

نایاب نے روتے ہوئے کہا۔۔۔

“نایاب ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔۔سمجھ کیوں نہیں رہی۔۔؟”

خالدہ بیگم نے کہا۔۔

“اس سے شادی کرنے سے بہتر میں مرنا پسند کروں گی۔۔۔”

نایاب نے سرخ آنکھوں سے کہا۔۔

“بھولو مت نایاب اس سب میں تمہاری بھی غلطی ہے “

خالدہ بیگم نے تلخ لہجے میں اسے اس کی غلطی یاد کروائی۔۔

اور وہ ساکت کھڑی انہیں دیکھنے لگی۔۔