Misal E Taweez By Isra Rao NovelR50470 Misal E Taweez (Episode - 21)
No Download Link
Rate this Novel
Misal E Taweez (Episode - 21)
Misal E Taweez By Isra Rao
وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوا تو سامنے بیڈ پر سوئی نایاب پر اس کی نظر پڑی۔۔
وہ اٹھ کر اس کے پاس گیا۔۔۔
اور اس کے منہ سے نکلنے والی پھونک نایاب کے چہرے پر پڑی۔۔۔اس نے جھٹ آنکھیں کھولی۔۔۔
وہ سر پر ٹوپی پہنے۔۔۔دلکش نگاہیں لیے اسے دیکھ مسکرا دیا۔۔
“اٹھ گئی۔۔” غنی نے اسے نظروں کی حصار میں لیا
وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“چلو اٹھو۔۔۔نماز پڑھو۔۔۔” غنی نے اس پر سے کمبل ہٹاتے ہوئے اسے اٹھا۔۔۔
وہ اٹھ بیٹھی۔۔۔
“I love you”
نایاب نے سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
غنی اس کا جملہ سن آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگا۔۔
کچھ ہی لمحے بعد وہ اٹھی اور واش روم چلی گئ۔۔۔
غنی اس میں ہونے والی زرا سی تبدیلی بھی بھانپ گیا۔۔۔اور مسکرا دیا ۔۔
تبھی اس کا فون شور مچانے لگا۔۔
اس نے کال رسیو کی۔۔۔
“ہیلو اسلام علیکم” غنی نے حسب معمول کہا۔۔
“وعلیکم السلام۔۔۔” افضل صاحب نے جواب دیا
“زاہدہ پھپھو کی طبیعت کیسی ہے؟”
غنی نے پوچھا۔۔
“زاہدہ آپا کی طبیعت زیادہ خراب ہے۔۔۔بس دعا کرنا بیٹا”
افضل صاحب نے بتایا
“کیا۔۔۔میں آجاؤں۔۔۔؟”غنی نے پوچھا
“نہیں۔۔۔پھر نایاب کے پاس کون ہوگا۔۔۔”
افضل صاحب نے فکر مندی سے کہا
“میں اسے بھی ساتھ لے آؤں گا”
غنی نے حل بتایا۔۔
“ہاں۔۔۔چلو یہ ٹھیک ہے۔۔۔”
افضل صاحب نے کہا اور فون بند کردیا۔۔
پھر غنی اٹھ کر قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگا۔۔۔
وہ کچن میں کھڑا تھا جب نایاب کچن میں داخل ہوئی۔۔
“آپ کیا کر رہے ہیں۔۔۔؟” وہ پوچھنے لگی۔۔۔
“بس ناشتہ بنا رہا ہوں۔۔۔”
غنی نے مسکرا کر کہا۔۔۔
“اچھا۔۔۔۔میں بنا لیتی ہوں۔۔۔” نایاب نے کہا ۔
“نہیں بس بنا دیا۔۔۔تم قرآن پاک پڑھ رہی تھی۔۔۔۔اس لیے لگایا نہیں۔۔۔”
غنی نے کہا۔۔
“وہ تھرماس رکھا ہے وہ اٹھا لاؤ بس۔۔۔”
غنی نے حکم کیا اور باہر نکل گیا۔۔
نایاب نے اٹھایا اور جاکر ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔
پھر بیٹھ کرایک کپ میں چائے انڈیلنے لگی۔۔۔
“آج تھرماس میں چائے کیوں ڈال دی۔۔۔”
نایاب نے پوچھا۔۔۔
“تم عبادت کر رہی تھی تو میں نے سوچا چائے ٹھنڈی ہوجائے گی۔۔۔تم نے دیر لگا دی آج۔۔۔”
غنی نے مسکرا کر جواب دیا۔۔
“ہاں۔۔میں بھی آپ کیطرح سوره البقرہ کی تلاوت کر رہی تھی۔۔”
نایاب نے اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“اب کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔۔۔۔”
غنی نے دل میں کہا۔۔۔
اور اس کی طرف پلیٹ بڑھائی۔۔۔جس میں اے ہوئے انڈے تھے۔۔۔
وہ جیسےہی پکڑنے لگی۔۔۔برابر میں رکھا چائے کا کپ۔۔پورے ٹیبل پر الٹ گیا۔۔۔اورچائے گر گئی۔۔۔
“اوہ۔۔۔۔سوری۔۔۔یہ۔۔۔ وہ”
وہ دیکھ شرمندگی سے کہنے لگی۔۔۔
“کوئی بات نہیں۔۔۔تم ناشتہ کرو میں صاف کردیتا ہوں۔۔۔”
غنی کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔۔۔
نایاب اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔۔۔وہ جو ایک غصہ والاشخص تھا۔۔۔جو ڈاکٹر ہونے کے باوجود۔۔۔۔اس کی محبت میں کس حد تک بدل گیا تھا۔۔۔
وہ غصہ۔۔۔وہ نخرا۔۔۔شاید وہ بہت پیچھے چھوڑ آیا تھا۔۔۔
نایاب نے اسے دیکھ مسکرا دی۔۔۔
پھر تھرماس سےچائے کپ میں پھر سے ڈالنے لگی۔۔۔
غنی جو ٹیبل صاف کر رہا۔۔۔یک دم ماتھے پر بل پڑے۔۔۔
ٹیبل پر کانچ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پڑے تھے۔۔۔
جبکہ چائے کا کپ۔۔۔صحیح سلامت رکھا تھا۔۔۔
اس کے دماغ تیز رفتار سے کام کیا۔۔۔
وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ کانچ چائے میں تھی۔۔اور چائے۔۔تھرماس میں۔۔۔
اس نے نایاب کی طرف دیکھا۔۔۔جو چائے کا کپ ہاتھ میں
پکڑے۔۔۔ہونٹوں سے لگانے ہی والی تھی۔۔۔۔
مگر غنی نے جھٹ سے اس کے ہاتھ سے کپ چھینا۔۔۔
وہ جو اس سب کے لیے تیار نہیں تھی۔۔۔
حیرانی سے غنی کو دیکھنے لگی۔۔۔
“کیا ہوا؟” نایاب نے پوچھا۔۔
“اس تھرماس میں کانچ ہے۔۔۔تم لاتے وقت یہ تھرماس گرا تھا؟”
غنی نے پوچھا۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔” نایاب نے جواب دیا۔۔
اور غنی سوچ میں پڑگیا۔۔
کہ اگر نایاب یہ پی لیتی تو کیا ہوتا۔۔؟
سوچ کر بھی وہ خوف زدا ہوا۔۔۔
یک دم ہی اس کا فون بجنے لگا۔۔۔
اس نے کال رسیو کی۔۔۔۔
اور زاہدہ پھپھو کے انتقال کی خبر سن اس کے پاؤں تلے زمین نکلی۔۔۔
“تانیہ تمہاری امی کا انتقال ہوگیا ہے۔۔۔۔”
زوہیب نے بتایا۔۔۔
“تم جھوٹ کہ رہے ہو۔۔”
تانیہ نے کہا۔۔۔
“میں جھوٹ کیوں کہوں گا۔۔۔میں سچ کہ رہا ہوں۔۔۔”
زوہیب نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
“تم مجھے یہاں اٹھانا چاہتے ہو۔۔۔۔تاکہ میں یہ پورا نا کرسکوں۔۔۔۔”
تانیہ نے چبا کر کہا۔۔۔
“تو مت مانو۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں انہیں دفنا دیا جائے گا۔۔۔اور تم خود کو کوسو گی کہ کیوں تم نہیں آئی وقت پر”زوہیب نے غصہ میں کہا۔۔۔
اور تانیہ کو یقین ہوا کہ وہ جھوٹ نہیں کہ رہا۔۔۔
گھر میں سب ہی رونے میں مصروف تھے۔۔۔
زاہدہ پھپھو کی آخری خواہش تھی۔۔۔کہ مرنے پر بھی تانیہ کو ان کا منہ نا دیکھنے دیا جائے۔۔۔
تبھی تانیہ بھاگتی ہوئی گھر پہنچی۔۔۔
“مما۔۔” وہ آتے ساتھ ہی چیخی۔۔۔
“ایک منٹ تم قریب نہیں جا سکتی۔۔۔”
افضل صاحب نے اسے روکا۔۔۔
اس نے حیرانی سے انہیں دیکھا
“تمہاری وجہ سے آپا ہمیں چھوڑ کر گئی ہیں۔۔۔تم نے مارا ہے انہیں۔۔۔”
افضل صاحب نے غصہ سے کہا۔۔۔
“نہیں۔۔۔مامو۔۔۔” وہ روتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
“تمہارے کالے کارناموں کا کچا چٹھا کھل کر ان کے سامنے آگیا تھا۔۔۔اور جب انہیں پتا چلا کہ ان کی بیٹی۔۔۔اتنا گرا ہوا کام کیا ہے۔۔۔۔تو وہ برداشت نہیں کرسکی۔۔۔”
افضل صاحب نے بتایا۔۔۔
تانیہ کی آنکھوں سے آنسوں گر رہے تھے۔۔۔
“ارے اب کیا آنسوں بہا رہی ہو۔۔اگر ماں سے اتنی ہی محبت تھی تو جب بیمار تھی تب ہی آنا تھا نا۔۔۔۔”
فضل صاحب نے آگے بڑھ کر کہا۔۔۔
“مجھے لگا کہ یہ سب جھوٹ۔۔۔۔پلیز ماموں مجھے مما کو آخری بار دیکھنے دیں۔۔۔۔”
تانیہ نے منت کی۔۔۔
“ماموں مت کہو۔۔۔تم یہ حق کھو چکی”
افضل صاحب نے تلخی سے کہا.
“پلیز ماموں۔۔۔۔میں ہاتھ جوڑتی ہوں آپ کے سامنے مجھے ایک بار دیکھنے دیں۔۔۔”
تانیہ نے روتے ہوئے ہاتھ جوڑے۔۔۔
“اسے دیکھنے دیں۔۔۔پاپا۔۔۔۔”
غنی نے قریب آکر کہا۔۔۔
“غنی۔۔۔۔آپ سمجھاؤ نا ماموں کو۔۔مجھے بس ایک بار دیکھنے دیں۔۔۔۔”
تانیہ نے غنی کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
آنسوں آنکھوں سے مسلسل بہ رہے تھے
“نہیں۔۔۔آپا کی آخری خواہش تھی کہ۔۔اسے ان کا منہ نا دیکھنے دیا جائے۔۔۔۔تو کیسے دکھا دیں۔۔۔”
افضل صاحب نے وضاحت کی۔۔۔
یہ بات سن تانیہ کو جھٹکا لگا۔۔۔۔
وہ ماں جو اس سے اتنی محبت کرتی تھی۔۔جاتے جاتے انہوں نے آخری بار دیکھنے کا حق بھی تانیہ سے چھین لیا تھا۔۔۔۔
وہ خاموش کھڑی رہی۔۔۔اس بات کو سننے کے بعد اس نے چُپی سادھ لی تھی۔۔۔۔
اس کے سامنے ہی اس کی ماں کا جنازہ اٹھا لیا گیا۔۔۔
اس کے سامنے ہی اس کی ماں ہمیشہ کے لیے اس سے دور جا رہی تھی۔۔۔
اور اسے چہرہ تک نصیب نہیں ہوا۔۔۔
