Misal E Taweez By Isra Rao NovelR50470 Misal E Taweez (Episode - 18)
No Download Link
Rate this Novel
Misal E Taweez (Episode - 18)
Misal E Taweez By Isra Rao
چیخ کی آواز سن سب بھاگتے ہوئے آئے۔۔۔اور اسے دیکھ سب کو ہی حیرانی ہوئی۔۔
“نایاب یہ کیا کر رہی؟”
غنی فوراً سے آگے بڑھا اور اس کے ہاتھ سے پیالی چھینی۔۔۔
وہ تو بس غنی کو مسلسل گھور رہی تھی۔۔۔
“نایاب۔۔۔یہ تم کیسے۔۔۔۔تم پاگل ہوگئی ہو۔۔۔۔تم ایسی حالت میں۔۔۔”
غنی نے غصہ سے کہا۔۔۔مگر بات ادھوری چھوڑ سب کو دیکھنے لگا۔۔
“تم ہوتے کون ہو مجھے روکنے ٹوکنے والے۔۔ہر وقت حکم صادر کرتے ہو۔۔۔۔”
وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
“نایاب یہ کیسے بات کر رہی ہو۔۔۔۔” فاخرہ بیگم نے کہا۔۔
“میں تو ایسے ہی۔۔۔۔” وہ بات کو ادھورا چھوڑ اپنے سر پکڑنے لگی۔۔۔
“نایاب۔۔۔” اس سے پہلے وہ گرتی پاس کھڑے غنی نے اسے تھام لیا۔۔۔
“ہاہاہا مطلب آج تو حد ہی ہوگئی۔۔۔یہ پاگل عورت مہندی ہی کھانے لگ گئی۔۔”
تانیہ نے زور زور سے ہنستے ہوئے کہا۔۔
“تانیہ یہ بہت غلط ہوا ہے۔۔۔میں نے کہا تھا کہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔۔۔ہمیں کسی کو نقصان تو نہیں پہنچانا تھا نا۔۔۔”
زوہیب نے افسردگی سے کہا۔۔
“تو کیا نقصان پہنچایا۔۔۔بس تھوڑا پاگل ہی کیا ہے۔۔۔”
تانیہ نے ناگواری سے کہا۔۔
“اس کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔یہ چھوٹی بات ہے۔۔۔”
زوہیب نے چڑ کر کہا۔۔
“اگر اتنی ہی محبت تھی اس سے تو کیوں بدلہ لے رہے ہو اس سے۔۔۔”
تانیہ نے غصہ سے کہا۔۔
“کیوں کہ میں تمہاری باتوں میں آگیا۔۔۔”
زوہیب نے تلخی سے کہا اور باہر نکل گیا۔۔۔
“ایک تو سب کے سب اس نایاب کے پیچھے فدا پیں۔۔۔ایسا ہے کیا اس چڑیل میں۔۔۔۔نا ہی تو میری محبت کو چھوڑا نا ہی میرے شوہر کو۔۔۔۔نفرت ہے مجھے تم سے نایاب۔۔۔۔”
تانیہ نے غصہ میں پاس رکھا تکیہ اٹھا کر زمین پر دے مارا۔۔۔۔۔
![]()
“یہ ایسا کر سکتی ہے۔۔۔اسے اپنا نہیں تو اپنے بچے کا سوچنا چاہیے”
ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد کہا۔۔۔
“بچے کے۔۔۔” خالدہ بیگم نے ناسمجھی سے ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔۔۔
“جی ہاں۔۔۔شی از پریگننٹ۔۔۔۔آپ وگوں کو اس کا خیال رکھنا چاہیے۔۔”
ڈاکٹر نے تنقید کی۔۔۔
“وہ دراصل اس کی دماغی حالت تھوڑی ٹھیک نہیں ہے۔۔۔اس لیے۔۔۔”
خالدہ بیگم نے کہا۔۔۔
“جو بھی ہے۔۔اب آپ لوگوں کو اس کا خیال کرنا ہے۔۔۔آئندہ یہ ایسی ویسی کوئی حرکت نا کرے”
ڈاکٹر نے سختی سے تاکید کی۔۔۔
سب خبر سن کر بہت خوش تھے۔۔۔
مگر غنی کے چہرے پر وہی آثار تھے۔۔۔
ڈاکٹر کے جانے کے بعد سب اپنے کمروں کی جانب چل دیے۔۔۔
مگر فاخرہ بیگم رک گئی۔۔۔
“تم خوش نہیں ہو غنی۔۔۔اتنی بڑی بات سن کر۔۔۔؟”
فاخرہ بیگم نے اسے بھانپتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“میں پہلے سے جانتا تھا مما۔۔مگر میں اس لیے پریشان ہوں۔۔۔نایاب کی حالت دن بہ دن بگڑ رہی ہے۔۔۔ایسے میں۔۔۔یہ۔۔۔”
غنی نے سامنے بیڈ پر بے سدھ لیٹی نایاب کودیکھا۔۔۔
“غنی تو اسے کسی دماغ کے ڈاکٹر کے پاس لے جا۔۔۔اسے سائیکالوجسٹ کی ضرورت ہے۔۔۔”
فاخرہ بیگم کی بات سن اس نے فوراً انہیں دیکھا۔۔۔
“میری باتوں کا بتا مت ماننا۔۔میں صرف تم لوگوں کے بھلے کےلیے کہ تہی ہوں۔۔۔ اور اب بات صرف نایاب کی نہیں ہے۔۔۔خدانخواستہ کل کو اونچ نیچ ہوجائے۔۔۔یہ کیا کہتی ہے کیا کرتی ہے یہ خود بھی نہیں جانتی۔۔۔”
وہ نایاب کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
پھر پیار سے غنی کا گال تھپتھپایا۔۔۔۔ اور باہر نکل گئی۔۔۔
“چلو باہر چلتے ہیں۔۔۔”
غنی نے خود کو آئینے میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
اس کی بات سن چونکی۔۔
“کہاں جانا ہے۔۔۔؟” وہ پوچھنے لگی۔۔
“جہاں تم کہو گی وہیں چلیں گے۔۔۔”
غنی نے مسکرا کر کہا۔۔اور خود پر پرفیوم چھڑکنے لگا۔۔
“نہیں مجھے نہیں جانا۔۔۔”
اس نے منہ بنایا۔۔۔
“کیوں؟” غنی نے پلٹ کر اسے دیکھا۔۔
“میری مرضی۔۔۔” وہ غرائی۔۔
“مرضی تو تمہاری پی چلے گی۔۔۔میں تو التجا کر سکتاہوں۔۔۔پلیز چلو۔۔۔”
وہ اس کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا۔۔
“ٹھیک ہے۔۔” نایاب نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“یہ ہوئی نا بات۔۔۔اٹھو تیار ہوجاؤ”
غنی نے اسے کھڑا کیا۔۔اور وارڈ روب سے ڈریس نکال کر اسے تھمایا۔۔۔
وہ بنا کوئی تاثرات کو ظاہر کیے۔۔۔واش روم کی جانب بڑھ گئی۔۔
“یہ سب ہو کیا رہا ہے۔۔۔اسے پریگننٹ بھی ابھی ہونا تھا۔۔۔”
تانیہ نے غصہ سے کہا۔۔
“ہمارے سارے حربے ناکام جا رہے ہیں۔۔۔بلکہ بابا کے بھی پلان پر پانی پھر گیا۔۔۔اب تو غنی اور پکا ہوگیا ہوگا۔۔۔”
زوہیب نے کہا۔۔۔
تانیہ کھڑی سرخ آنکھیں لیے سوچنے میں مصروف تھی۔۔
غصہ اور ہار اس کے چہرے سے عیاں تھی۔۔
“غنی ایک پاگل کو چھوڑ سکتاتھا۔۔مگر اپنے ہونے وے بچے کی ماں کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔۔۔”
زوہیب نے سنجیدگی سے کہا۔۔
“میں ایسا۔۔نہیں ہونے دوں گی۔۔۔میں انہیں ساتھ نہیں رہنے دوں گی۔۔”
تانیہ چلائی۔۔
“تم نے آج تک کیا کرلیا۔۔۔یہ دو ٹکے کے بابا سے تعویذ لے کر تم خوش ہورہی تھی کہ تم انہیں الگ کردو گی۔۔۔مگر ایسا نہیں ہوا تمہارے تعویذوں نے نایاب کو پاگل کردیا مگر غنی اور اس کے بیچ کی محبت کو ختم نہیں کر پائی تم۔۔۔”
زوہیب نے چبا کر کہا۔۔
“بکواس بند کرو۔۔۔اب پانی سر سے اوپر چلا گیا۔۔۔اب بہت ہوگیا۔۔”
وہ کہتی دھڑام سے دروازہ بند کرتی باہر نکل گئی۔۔
“کیا کہا ڈاکٹر نے؟” فاخرہ بیگم نے کہا۔۔۔
“کچھ نہیں۔۔۔میڈیسن وغیرہ دی ہے بس۔۔۔”
غنی نے مایوسی سے کہا۔۔
“اچھا۔۔۔۔ہوجائے گی ٹھیک تو ٹیشن نہیں لے۔۔”
فاخرہ بیگم نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا۔۔
“پتا نہیں مما اسے کیا ہوگیا۔۔۔”
غنی نے افسردگی سے ان کی طرف دیکھا۔۔۔
“ہاں پتا نہیں کس کی نظر لگ گئی۔۔۔فکر نہیں کر ہوجائے گی سہی۔۔۔۔”
فاخرہ بیگم نے تسلی دی۔۔
تبھی ان کی نظر کچن سے باہر آتی نایاب پر پڑی۔۔
جو گلاس ہاتھ میں تھامے۔۔اس میں چمچ چلاتی باہر آرہی تھی۔۔
غنی گلاس کو دیکھ چونکا۔۔۔وہ جانتا تھا یہ کچھ الٹا ہی کرے گی۔۔۔
“یہ کیا ہے؟” وہ اس کے قریب جا کر پوچھنے لگا۔۔۔
“یہ ای نو۔۔۔ ہے۔۔۔میرے پیٹ میں درد ہورہا تھا نا۔۔۔تو صبح شام اس کے پینے سے ختم ہوجاتا ہے۔۔۔”
وہ سادہ سے لہجے میں کہنے لگی۔۔
“مجھے دو یہ۔۔۔اور تم کمرے میں جا کر آرام کرو۔۔میں میڈیسن دیتا ہوں۔۔۔پھر نہیں ہوگا۔۔۔جاؤ”
غنی نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
“کیوں جاؤں۔۔۔؟ مجھے نہیں جانا”
نایاب نے منہ بنا کر کہا
“میں تھپڑ لگا دوں گا نایاب۔۔۔سیدھی کمرے میں جاؤ”
غنی نے غصہ سے حکم دیا۔۔۔
“ارے۔۔۔نایاب۔۔۔میرے ساتھ آؤ۔۔۔۔”
فاخرہ بیگم نے کہا۔۔
“کیوں مانوں میں ان کی بات۔۔ہر وقت حکم چلاتے ہیں۔۔۔”
نایاب نے چڑ کر کہا۔۔۔
“اس کی نہیں مانو میری بات تو مانو گی نا۔۔۔؟”
فاخرہ بیگم نے پیار سے کہا۔۔
اور اثبات میں سر ہلاتی ان کے ساتھ ہولی۔۔
“بابا کچھ ایسا کردو کہ وہ غنی کی زندگی سے ہی چلی جائے۔۔”
تانیہ نے بابا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“اس کے لیے تمہیں۔۔۔چل٘ا کاٹنا ہوگا۔۔۔”
بابا نے جواب دیا۔۔
“چلّا کیسا؟” وہ حیرانی سے پوچھنے لگی۔۔
“کچھ دن کے لیے تمہیں اکیلے میں وظیفہ کرنا ہے۔۔۔
جس کے باعث نایاب غنی کی زندگی سے ہمیشہ کے لیے چلی جائے گی۔۔زندہ یا مرکر۔۔۔”
بابا نے سنجیدگی سے کہا
“مر کر۔۔۔۔” وہ چونک کر بابا کو دیکھنے لگی۔۔
“نایاب کھانا کھایا تم نے؟”
فاخرہ بیگم نے پوچھا۔۔
“جی کھا لیا تھا۔۔۔”
نایاب نے مسکرا کر کہا۔۔
“غنی تھوڑی دیر سے آئے گا۔۔۔تم سو جاؤ”
فاخرہ بیگم نے بتایا۔۔۔
وہ اثبات میں سر ہلاتی لیٹ گئی۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں اس کی آنکھ لگ گئی۔۔۔
جب فاخرہ بیگم کو یقین ہوگیا کہ وہ سوگئی ہے تو۔۔۔ وہ کمرے کا دروازہ بند کر کے چلی گئی۔۔
رات کے تقریباً بارہ بجے نایاب کی آنکھ کھلی۔۔
پانی پینے کے لیے اس نے سائیڈ ٹیبل پر سے جگ اٹھایا۔۔۔
وہ پانی گلاس میں ڈال ہی رہی تھی کہ اس کی نظر سامنے دروازے پر پڑی۔۔جہاں سے پانی کی مانو ایک لہر آئی۔۔۔
اور پورے فرش پر بکھر گئی۔۔۔
وہ گلاس ہاتھ میں تھامے دیکھ رہی تھی۔۔
دروازے سے مزید پانی اندر آرہا تھا۔۔۔
وہ گھبرائی۔۔۔
حلق مزید خشک ہونے لگا۔۔۔
اس نے اترنے کے لیے زمین کی جانب دیکھا جہاں پانی ہی پانی تھا۔۔۔
اس کا بیڈ آہستہ آہستہ پانی میں ڈوب رہا تھا۔۔۔
ڈر سے اس کے پسینے چھوٹنے لگے۔۔۔
یک دم ہی لائٹ آن آف ہونے لگی۔۔۔
ڈر مزید اس پر حاوی ہوا۔۔۔
وہ چیخنے کے ساتھ بیڈ سے اٹھ کر دروازے کی جانب بھاگی۔۔۔
تبھی کسی چیز سے پاؤں الجھا اور وہ زوردار طریقے سے زمین پر جاگری۔۔۔
