Misal E Taweez By Isra Rao NovelR50470 Misal E Taweez (Episode - 3)
No Download Link
Rate this Novel
Misal E Taweez (Episode - 3)
Misal E Taweez By Isra Rao
وہ جب ہسپتال سے گھر آیا تو۔۔۔اسے نایاب کہیں نہیں نظر آئی۔۔۔اس نے پورا گھر چھان مارا مگر نایاب نہیں تھی۔۔
اس نے جلدی سے اپنا فون نکالا اور اپنی ماما کا نمبر ڈائل کیا۔۔
دوسری ہی بیل پر کال رسیو کرلی گئی۔۔
“ہیلو مما۔۔۔نایاب وہاں آئی ہے؟”
غنی نے پریشانی سے پوچھا۔۔
مگر ان کا انکار سن کر اسے اور پریشانی ہوئی۔۔۔
“جب گھر نہیں گئی تو یہ گئی کہاں؟”
اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔۔
“ایک تواس کے پاس موبائل بھی نہیں ہے۔۔۔”
غنی نے تنگ آکر کہا۔۔
“ہوگا کیسے میں نے کبھی اسے دیا ہی نہیں۔۔”
اس نے شرمندگی سے خود کلامی کی۔۔
“ہوسکتا ہے تھوڑی دیر میں آجائے۔۔۔کسی دوست کے پاس گئی ہو۔۔مگر اس کی تو کوئی دوست بھی نہیں۔۔۔
اور وہ بنا بتائے مجھے۔۔۔وہ کیسے جاسکتی ہے۔۔۔؟”
وہ سوچنے لگا۔۔
“کہیں۔۔زوہیب۔۔”
اس کی سوئیاٹکی۔۔اور چہرے پر شکن نمودار ہوئی۔۔
وہ کپ تھامے اس میں چمچ چلاتی کچن سے باہر نکلی۔۔۔
اس وقت وہ ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں ملبوس تھی۔۔
وہ اپنی دھن میں چلتی لان میں آئی۔۔۔
تبھی سامنے سے آنکھوں پر گلاسس چڑھائے فیضان قریب آتا دکھائی دیا۔۔
“اس نے ناگوار سی نظر اس پر ڈال ابرو اچکائی۔۔
“ہے۔۔نایاب۔۔ابھی اٹھی ہو؟”
وہ مسکرا کر کہنے لگا۔۔
“ہاں۔۔۔” نایاب نے مختصر کہا اور چیئر کھسکا کر بیٹھ گئی۔۔
لوگوں کی دوپہر ہوگئی اور تمہارے لیے مارننگ ہے ابھی”
فیضان نے ہنس کر کہا اور اس کے مقابل بیٹھ گیا۔۔
“میں جس وقت اٹھتی ہوں میری مارننگ اسی وقت ہوتی ہے”
نایاب نے روکھا سا جواب دیا۔۔
“اچھا یونیورسٹی کب سے سٹارٹ ہے۔۔؟”
فیضان نے بات کرنی چاہی۔۔۔
“کل سے”
نایاب نے اسی انداز میں کہا۔۔
“اچھی بات ہے”
فیضان نے مسکرا کر کہا۔۔
اس سے پہلے کہ فیضان کوئی اور بات کرتا نایاب اٹھ کھڑی ہوی۔۔۔
“مجھے کچھ کام ہے ایکسکیوز می۔۔”
وہ کہ کر اندر کی جانب بڑھ گئی۔۔
“کب تک بھاگو گی ہم سے نایاب۔۔۔ایک دن تو حاصل کرنا ہی ہے”
وہ خود کلامی کر زور دار قہقہہ لگا کر ہنسا۔۔
“مما کیا بنا رہی ہیں رات کے کھانے میں۔۔؟”
نایاب نے کچن میں آتے ہی کہا۔۔
“دال چاول بنا رہی ہوں۔۔۔غنی کی فرمائش ہے”
خالدہ بیگم نے کہا۔۔
“اچھا۔۔۔۔”
نایاب نے سادگی سے کہا۔۔
“نایاب تم ایسے ہی کھڑی ہو۔۔یہ چاول چن دو۔۔تب تک میں یہ سبزی بنا دوں۔۔تمارے پاپا کے لیے۔۔تمہیں پتا ہے وہ چاول نہیں کھاتے۔۔۔”
خالدہ بیگم نے اسے چاول تھمائے۔۔
اور اس کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔
تبھی گلے میں دوپٹہ ڈالے۔۔ تانیہ کچن میں داخل ہوئی۔۔
کیا بن رہا ہے ممانی۔۔؟”
اس نے مسکرا کر پوچھا۔۔
“دال چاول بن رہے ہیں۔۔۔غنی کی فرمائش ہے نا۔۔۔
مما تو مجھے کہ رہی ہیں بنا لو دال چاول مگر آپ کو پتا ہے نا آپی۔۔مجھے کوکنگ میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے”
اس نے چاولوں کی تھال کو رکھتے ہوئے کہا۔۔
“آپ بنا لیں کیا پتا اسی بہانے غنی آپ کی کوکنگ کے فین ہوجائیں۔۔”
نایاب نے ہنس کر کہا
اور اس کی بات سن تانیہ کا شرم سے چہرہ لال ہوا۔۔
“آپی تب تک آپ یہ چاول چن دیں۔۔”
وہ انہیں تھما کر کچن سے باہر نکل گئی۔۔
وہ جانتی تھی ویسے تو تانیہ نے کوئی کام کرنا نہیں مگر غنی کی فرمائش تھی تو۔۔اب یہ کام تو انہوں نے اور کسی کو نہیں کرنے دینا۔۔
رات کے کھانے پر سب بیٹھے تھے۔۔
سب کھانے میں مصروف تھے۔۔
“کس نے بنایا ہے آپ کھانا؟”
عائشہ نے چمچ منہ میں ڈالتے ہی کہا۔۔
“کیوں اچھا نہیں بنا کیا آپی؟”
نایاب نے چہک کر پوچھا۔۔
“بنایا کس نے ہے؟”
عائشہ نے پھر دوہرایا۔۔
“میں نے بنایا ہے کیوں؟”
تانیہ نے فوراً کہا
“نہیں کچھ نہیں۔۔۔مما میرے کمرے میں دودھ پہنچا دیجیے گا”
وہ کہتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
“مگر بیٹا کھانا تو کھاؤ”
فاخرہ بیگم نے اصرار کیا
“بس بھوک نہیں مما۔۔”
وہ کہ کر وہاں سے چلی گئی۔۔
“اچھا نہیں بنا کیا؟”
تانیہ نے اس بار پاس بیٹھے غنی سے مخاطب تھی۔۔
“نہیں ٹھیک ہے۔۔اچھا ہے”
غنی کہ کر پھر سے کھانے میں مصروف ہوگیا۔۔
“ایک تو ان بہن بھائی کے نخرے نہیں ختم ہوتے”
تانیہ نے دل میں کڑھ کر کہا۔۔
عائشہ تھوڑی خاموش مزاج لڑکی تھی۔۔۔وہ بس اپنے کمرے سے یونیورسٹی اور پھر سے کمرے میں۔۔۔
اس کی بس یہی روٹین تھی۔۔
مگر غنی اپنی بہن سے بہت محبت کرتا تھا۔۔۔
وہ زور اس کے کمرے میں ایک چکر ضرور لگاتا۔۔
عائشہ کی منگنی اس کے خالہ کے بیٹے فرحان سے بچپن میں ہی طے ہوگئی تھی۔۔
اور اب اس کی پڑھائی مکمل ہونے کا انتظار تھا کہ اس کی شادی کریں۔۔
سب نے مل کر اس کی منگنی کی چھوٹی سی تقریب مقرر کی۔۔اور شادی تب جب اس کی پڑھائی مکمل ہوجائے گی۔۔
سب تیاریوں میں مصروف تھے۔۔۔
عائشہ کو بھی شاپنگ کرنی تھی۔۔اسی لیے وہ ڈرائیور کو لے تانیہ اور فاخرہ بیگم کے ساتھ مارکیٹ چلی گئی تھی۔۔
جبکہ نایاب یونیورسٹی تھی۔۔
خالدہ بیگم نے غنی کو فون کر نایاب کو پک کرنے کا کہ دیا تھا۔۔
وہ کاندھے پر بیگ لٹکائے باہر کھڑی تھی۔۔
جب غنی اسے لینے پہنچا۔۔
وہ جنس پر شرٹ پہنے بیگ کاندھے پر ڈالے اسے دکھائی دی۔۔
ایک پل کو تو اسے دیکھ غصہ کی ایک لہر اس کے چہرے کو چھو گئی مگر اگلے ہی لمحے اس نے ضبط کیا۔۔
اس کا اس طرح بنا پردے کے گھومنا غنی کو بلکل پسند نہیں تھا۔۔
وہ چپ چاپ آکر گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔
اور غنی نے گاڑی اسٹارٹ کرلی۔۔
وہ خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا جب اس کا فون بجنے لگا۔۔
اس نے رسیو کیا۔۔
“ہیلو”
غنی نے اپنے انداز میں کہا۔۔
“اوکے میں پہنچتا ہو 10 منٹ میں”
اس نے کہ کر فون بند کردیا۔۔
“کیا ہوا؟”
نایاب نے پوچھا۔۔
“کچھ نہیں ہوسپیٹل سے کال تھی کچھ کام ہے۔۔۔”
اس نے سنجیدگی سے کہا۔۔
اس نے ہسپتال کے باہر گاڑی روکی۔۔
اور وہ دونوں ہسپتال کی سیڑھیاں چڑھتے اوپر گئے۔۔
“تم یہاں بیٹھو۔۔۔میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں بس۔۔۔”
غنی نے مسکرا کر کہا اور چلا گیا۔۔
وہ پاس پڑی بینچ پر بیٹھ گئی۔۔
کافی دیر انتظار کے بعد وہ بعد ہونے لگی۔۔
اور اٹھ کر یہاں وہاں ٹہلنے لگی۔۔
“ہیلو مس۔۔۔”
اسے اپنے پیچھے سے آواز سنائی دی۔۔
اس نے فوراً پلٹ کر دیکھا۔۔
“ہے سوئیٹ ہارٹ۔۔مائے نیم از ڈاکٹر سعد۔۔۔واٹ از یور گڈ نیم؟”
اس نے ہاتھ بڑھایا۔۔
جسے نایاب نے دیکھ اگنور کیا۔۔
“کیا آپ یہاں کسی مریض کے ساتھ ہیں۔۔۔اگر کسی ہیلپ کی ضرورت ہے تو بتا سکتی ہیں”
ڈاکٹر سعد نے خوش دلی سے کہا۔۔
“جی نہیں میں کسی مریض کے ساتھ نہیں۔۔”
نایاب نے روکھا سا جواب دیا۔۔
“اوہ تو آپ میڈیکل سٹوڈنٹ ہیں۔۔۔رائٹ”
ڈاکٹر سعد نے پھر کہا۔۔
“نہیں۔۔۔۔”
نایاب نے اکتا کر کہا۔۔
“ویل جو بھی ہیں۔۔۔میرے ساتھ فرینڈشپ کریں گی۔۔۔
یو کوکنگ ہوٹ۔۔۔۔”
اس نے نے اس کے سراپے کو گھورتے ہوئے مسکرا کر کہا۔۔
اس کی باتوں کا اور اس کی نظروں کا مفہوم وہ جان گئی تھی۔۔اس لیے بنا کچھ سوچے سمجھے۔۔۔اس کے گال پر تھپڑ جھڑ دیا۔۔
وہ اپنے گال پر ہاتھ رکھے اسے گھورنے لگا۔۔
“مل گیا جواب آپ کو ناؤ اسٹے اوے۔۔۔۔”
وہ تلخ لہجے میں غرائی
“یو۔۔بلڈی بچ۔۔۔” وہ قریب جاتا کہ سامنے آتے غنی پر اس کی نظر پڑی۔۔
اور وہ رک گیا۔۔
نایاب غنی کو دیکھ اس کی طرف لپکی۔۔
“غنی۔۔۔یہ ڈاکٹر۔۔مجھ سے بدتمیزی کر رہا ہے”
نایاب نے غنی کو کہا۔۔
غنی نے ناسمجھی سے ڈاکٹر سعد کو دیکھا۔۔
“میں نے کیا بدتمیزی کی ہے الٹا تم نے مجھے تھپڑ مارا ہے۔۔۔اس تھپڑ کا جواب میں سود سمیت لوٹا سکتا تھا۔۔مگر تم غنی کے ساتھ ہو اس لیے چھوڑ رہا ہوں۔۔”
ڈاکٹر سعد غرایا۔۔
“تو آپ کی غلطی تھی۔۔۔آپ فلرٹ کر رہے تھے۔۔۔غنی یہ بدتمیزی کر رہا تھا مجھ سے۔۔”
اس نے آخری جملے پر غنی کو مخاطب کیا۔۔
“چلو یہاں سے” غنی نے اسکا ہاتھ پکڑا اور کھینچتا ہوا باہر گاڑی تک لایا۔۔۔
“غنی۔۔۔میری بات۔۔۔”
واس نے کچھ کہنا چاہا مگر غنی نے مکمل نظر انداز کیا۔۔
بیٹھو گاڑی میں۔۔”
غنی نے تلخ لہجے میں کہا۔۔
اس کے بیٹھتے ہی غنی نے اسپیڈ سے گاڑی دوڑانا شروع کی۔۔
اسے دیکھ اس کے غصہ کا پتا چل رہا تھا۔۔
“غنی۔۔۔آپ کیسے اسے چھوڑ سکتے ہیں۔۔اس نے بدتمیزی کی تھی مجھ سے۔۔۔کتنی گندی نظروں سے مجھے گھور رہا تھا۔۔آپ کو اسے مارنا چاہیے تھا۔۔اسے سبق سکھانا چاہیے تھا۔۔”
وہ بولتی چلی جارہی تھی۔۔
اس نے گیٹ پر گاڑی روکی۔۔ اور باہر نکلا۔۔
پھر دوسری طرف آکر اسے ہاتھ پکڑ کر گاڑی سے نکالا۔۔
آنکھیں غصہ سے سرخ تھی۔۔جسے وہ چھپانے میں ناکام تھا
“غنی۔۔آپ۔۔۔”
وہ کچھ کہتی اس سے پہلے ہی غنی اس پر جھکا۔۔۔
وہ گاڑی سے ٹیک لگائے خوف زدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
اس کی سرخ آنکھوں بے شمار غصہ بھرا تھا۔۔
“جب ایسے بے ہودہ کپڑے پہنو گی۔۔۔تو ایسے بے ہودہ شخص ہی ٹکرائیں گے۔۔۔”
اس نے چبا کر کہا۔۔
اور یک دم پیچھے ہٹا۔۔
“میرے کپڑوں میں کوئی پرابلم نہیں۔۔۔پرابلم آپ کے اندر ہے۔۔ارے آپ میں ہمت ہی نہیں تھی۔۔اسے سبق سکھانے کی۔۔اور بہانا میرے کپڑوں کا بنا رہے ہیں۔۔”
اس نے غصہ سے کہا۔۔
وہ اس کی بات کو نظر انداز کرتا جانے کے لیے مڑا۔۔۔
“ارے آپ جیسے مردوں کو کوئی حق نہیں۔۔مرد کہلوانے کا۔۔۔جو اپنے گھر کی عزت کو نہیں بچا سکتے۔۔۔۔میری نظر میں وہ نامرد ہے۔۔۔۔”
وہ غصہ سے کہ کر تیزی سے اندر کی جانب بڑھ گئی۔۔
اور وہیں ساکت کھڑا رہ گیا۔۔
اس کے الفاظ تیر کی طرح غنی کے کانوں کو چیرتے ہوئے چلے گئے۔۔۔۔
