Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Misal E Taweez (Episode - 17)

Misal E Taweez By Isra Rao

وہ پیچھے دیکھتی۔۔۔ دروازہ کھول باہر نکلتی کہ زوردار ٹکراؤ ہوا۔۔

غنی نے اسے بازو سے پکڑ باہر جانے سے روکا۔۔۔

“کہاں جارہی تم..نایاب؟”

غنی نے فوراً سے دروازہ اندر سے لاک کیا۔۔

“چھوڑو مجھے۔۔۔۔وہ مجھے۔۔۔مجھے باہر جانا۔۔۔”

وہ خوف سے مسلسل چیخ رہی تھی۔۔

“نایاب۔۔۔۔ایسے جاؤ گی باہر۔۔۔کپڑے کہاں ہیں تمہارے۔۔۔”

غنی نے اسے یاد دہانی کروائی۔۔

وہ یک دم خاموشی سے اس کے سینے سے جا لگی۔۔آنسوں آنکھوں سے رواں ہوگئے۔۔

“غنی یہاں سے چلو۔۔غنی۔۔۔”آنکھوں کو بند کیے۔۔وہ اس کی شرٹ کو مٹھی میں بھیچے کہنے لگی۔۔۔۔

خوف اور ڈر اس کے چہرے سے عیاں تھا۔۔۔

“نایاب یہاں کوئی نہیں ہے۔۔۔میری طرف دیکھو”

غنی نے اسے تسلی دی۔۔

اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔

“کوئی نہیں ہے۔۔۔” غنی نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔

اس نے نظر اٹھا کر پورے کمرے کو دیکھا۔۔۔جہاں واقع ان کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔۔

غنی آہستگی سے اس سے الگ ہوا۔۔۔

پھر بیڈ سے اس کا اپر اٹھایا۔۔۔اور اس کی طرف بڑھایا۔۔

وہ نا سمجھی سے کبھی اپر کو کبھی کبھی اسے دیکھنے لگی۔۔

“پہنو۔۔۔” غنی نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔

اس نے آہستگی سے تھاما۔۔۔

مگر پانی سے بھری آنکھیں ابھی بھی غنی پر جمی تھی۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“کچھ نہیں ہوا بس ڈر گئی ہے۔۔۔”

غنی نے پاس بیٹھی خالدہ بیگم کو کہا۔۔

“پہلے تو نہیں ڈرتی تھی یہ۔۔۔

اکیلی گھر میں رہ لیتی تھی۔۔۔پھر آج”

وہ پریشانی سے کہنے لگی۔۔

ان کی نظر پاس ہی کمبل میں سوئی ہوئی۔۔نایاب پر پڑی۔۔۔

جو آنکھیں موندے گہری نیند میں تھی۔۔

“ہاں۔۔۔بس کوئی ہارر مووی دیکھ لی ہوگی اس نے۔۔۔

یا کوئی کہانی وغیرہ۔۔۔”

پاس کھڑی تانیہ نے مزے سے کہا۔۔

“میں تو کل ہی صدقہ دوں گی۔۔۔نظر اتاروں گی اپنی بچی کی۔۔”

وہ اس کے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگی۔۔

“تم بھی آرام کرلو۔۔۔” انہوں نے غنی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔اور اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

“بس۔۔۔اب تو صبح ہونے وی ہے نماز کا ٹائم ہوجائے گا۔۔۔”

غنی نے مسکرا کر کہا۔۔

“ہاں۔۔۔نایاب کی پریشانی میں وقت کا پتا ہی نہیں چلا۔۔۔”

وہ اس کا گال تھپتھپاتی باہر نکل گئی۔۔

اور پیچھے پیچھے سب ہی چلے گئے۔۔

غنی نے ایک نظر وال کلاک کو دیکھا۔۔پھر بیڈ پر سوئی اس معصوم شکل پر اس کی نظر پڑی۔۔

جہاں ابھی خوف کے کچھ آثار تھے۔۔

“غنی کے ہوتے ہوئے تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔۔”

غنی نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔۔

وہ اسی طرح بے سدھ سوئی تھی۔۔

“میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔کیا حالت بنا لی۔۔۔

میری ڈرپوک شیرنی۔۔۔”

غنی نے مسکرا کر کہا۔۔۔پھر جھک کر اس کے ماتھے پر اپنے پیار بھرے جذبات کی مہر ثبت کی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“دیکھا میں نے کہا تھا نا کہ بابا کر دکھائیں گے۔۔”

تانیہ نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔۔

“اس میں کیا اچھا ہوا تھا۔۔۔ہم نے تعویذ کروائے تا کہ غنی اور نایاب الگ ہوجائیں۔۔۔ لیکن یہ سب۔۔۔”

زوہیب نے پریشانی سے کہا۔۔

“تو جیسا ہم چاہتے ہیں ویسا ہورہا ہے”

تانیہ نے یک دم کہا۔۔

“ہم صرف یہ چاہتے ہیں وہ لوگ جھگڑا کریں اور الگ ہوجائیں۔۔بس”

زوہیب نے سنجیدگی سے کہا

“وہی تو ہورہا ہے۔۔دیکھو نایاب کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے۔۔سب سمجھے گے یہ پاگل ہوگئی ہے۔۔لیکن گھر والوں کو اور غنی کو تو نہیں پتا یہ تعویذ کا اثر ہے۔۔۔آخر ایک مرد کب تک پاگل عورت کے ساتھ گزارہ کر سکتا ہے۔۔۔آخر کو وہ تنگ ہوکر اسے چھوڑ دے گا۔۔۔”

تانیہ نے سمجھایا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

غنی جب کمرے میں آیا تو نایاب الماری سے کپڑے نکال رہی تھی۔۔

غنی نے ایک نظر بیڈ کی طرف دیکھا جہاں کپڑے ہی کپڑے بکھرے ہوئے تھے۔۔

“نایاب۔۔یہ کیا کر رہی ہو۔۔؟” غنی نے پاس آکر کہا۔۔

“کچھ نہیں۔۔کپڑے بہت ہوگئے نا دھونے ہیں یہ سب۔۔”

اس نے مصروفیت سے کہا۔۔

“مگر تم الماری کے کپڑے کیوں نکال کر دھو رہی ہو۔۔؟”

وہ حیرانی سے پوچھنے لگا۔۔

“کیوں کہ یہ سب گندے ہورہے ہیں۔۔۔”

نایاب نے کپڑے اٹھائے اور واش روم چلی گئی۔۔

“نایاب تم پاگل۔۔۔” اس سے پہلے وہ کچھ کہتا فاخرہ بیگم کمرے میں داخل ہوئی۔۔

“غنی یہ لو تمہاری چائے۔۔۔” انہوں نے سائیڈ ٹیبل پر ٹرے رکھتے ہوئے کہا۔۔

“آج تم جلدی آگئے۔۔؟” وہ پوچھنے لگی۔۔

“بس۔۔۔ویسے ہی سر میں درد تھا تھوڑا۔۔۔”

غنی نے کہا۔۔

“اچھا یہ چائے پی لو۔۔اور میڈیسن لے لینا۔۔۔”

فاخرہ بیگم نے حکمرانہ انداز میں کہا۔۔

“جی۔۔۔” غنی نے مختصر کہا۔۔۔اور بیٹھ کر جوتے اتارنے لگا۔۔

“نایاب کہاں گئی؟”انہوں نے کمرے میں ۔نظر گھماتے ہوئے کہا۔۔

“پتا نہیں کیا عجیب حرکت ہے۔۔۔الماری سے کپڑے نکال کر دھو رہی ہے۔۔۔منع بھی کر رہا ہوں مان نہیں رہی۔۔۔”

غنی نے ناگواری سے کہا۔۔

“یہ کافی دن سے عجیب حرکتیں کر رہی ہے۔۔۔کبھی صاف برتنوں کو پھر سے دھونے لگتی ہے۔۔کبھی بلا وجہ ہی پودوں کی کٹائی کرنا شروع ہوجاتی ہے۔۔۔لان دیکھو جا کر۔۔۔۔۔۔اور تو اور کل عائشہ کو کال کر کے کہتی میں تمہارے گھر دعوت کھانے آرہی ہوں۔۔تیاری کرلو۔۔۔پتا نہیں اسے کیا ہوگیا۔۔۔”

فاخرہ بیگم نے پریشانی سے کہا۔۔

غنی ان کی بات سن سوچ میں پڑ گیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

آسمان پر بادل چھائے تھے ہلکی ہلکی بارش ہورہی تھی۔۔

بارش کی وجہ سے کافی سردی بڑھ گئی تھی۔۔

وہ کھڑکی میں کھڑا باہر کا موسم دیکھ رہا تھا۔۔

بارش ٹھنڈی ہوا کے ساتھ یک دم تیز تیز ہونے لگی۔۔

اس کی نظر لان میں پڑی۔۔۔۔اور وہ دیکھ دنگ رہ گیا۔۔۔نایاب ہوا میں بازو پھیلائے بارش میں نہا رہی تھی۔۔۔

وہ تیزی سے کمرے سے باہر بھاگا۔۔۔

اور لان میں کھڑی نایاب کو بازو سے پکڑ کر اندر لایا۔۔۔

“چھوڑیں مجھے۔۔بارش کو انجوائے کرنا ہے۔۔۔” وہ اپنے بازو پر سے اس کا ہاتھ ہٹانے لگی۔۔

“تم پاگل ہوگئی ہو۔۔۔سردیوں کی بارش میں کون بھیگتا ہے۔۔۔اندر چلو” غنی نے غصہ سے کہا۔۔

“آپ ہوتے کون ہیں مجھے روکنے والے۔۔۔چھوڑیں مجھے۔۔۔”

وہ تن کر کہنے لگی۔۔

“نایاب۔۔۔یہ کس لہجے میں بات کر رہو۔۔۔”

وہ غرایا۔۔

“میں اسی لہجے میں بات کروں گی میری مرضی۔۔۔”

وہ بھی غصہ میں کہنے لگی۔۔

“نایاب تم۔۔۔۔چلو۔۔” وہ اسے کھیچتا کمرے میں لے گیا۔۔۔

تھوڑے فاصلے پر کھڑی تانیہ انہیں جھگڑتے دیکھ رہی تھی۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“خالدہ یہ مہندی کس نے گھول لر رکھی ہے۔۔۔”

فاخرہ بیگم نے پیالی میں رکھی مہندی کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔

“یہ آپا نے سر میں لگانے کے لیے بنوائی ہے۔۔۔”

خالدہ بیگم نے جواب دیا۔۔

“اچھا۔۔۔۔نایاب کہاں ہے؟”

انہوں نے پوچھا۔۔

“وہ میں نے غنی کے ساتھ اسے باہر بھیجا ہے۔۔۔۔۔۔

باہر گھومے پھرے گی تو تھوڑا من بہل جائے گا۔۔۔۔۔”

خالدہ بیگم نے فکرمندی سے بتایا۔۔

“اچھا کیا۔۔۔پتا نہیں اسے کیا ہوگیا ہے۔۔۔کیوں ایسی حرکتیں کر رہی ہے”

وہ پریشانی سے کہنے لگی۔۔

“مجھے لگتا ہے اسے ہمیں دماغ کے ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے۔۔۔”

پیچھے سے آتی آواز پر انہوں نے پلٹ کر دیکھا۔۔

سامنے ہی زاہدہ پھپھو کھڑی تھی۔۔

“وہ پاگل نہیں ہے آپا” خالدہ بیگم نے چڑ کر کہا۔۔

“ارے تو کیا پاگل ہی جاتے ہیں دماغ کے ڈاکٹر کے پاس۔۔۔

اور برا ماننے کی بات نہیں ہے۔۔۔پاگلوں سے کم حرکتیں تو نہیں کر رہی تمہاری بیٹی۔۔۔”

انہوں نے طنز کیا۔۔۔

“آپا آپ کی مہندی گھول دی ہے۔۔۔”

فاخرہ بیگم نے بات کو ختم کرناچاہا۔۔

“تھوڑی دیر میں لگواؤں گی۔۔۔تانیہ کے ساتھ بازار جانا ہے ابھی تو۔۔۔”

وہ کہتی باہر نکل گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔جبکہ وہ خاموش بیٹھی تھی۔۔۔

غنی وقفے وقفے سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔

“کہاں گھومنا ہے میری بیگم صاحبہ کو بتاؤ؟”

غنی نے خاموشی کو توڑا۔۔

“مجھے بھوک لگی ہے۔۔۔”

وہ معصومیت سے کہنے لگی۔۔

“بھوک۔۔۔ابھی تو ہم ناشتہ کر کے آئیں ہیں نا”

غنی نے کہا۔۔

“مجھے نہیں پتا مجھے بھوک لگ رہی ہے۔۔۔”

نایاب نے ضد کی۔۔

“اچھا۔۔چلو ہم پہلے کھانا کھاتے ہیں کسی اچھے سے ریسٹورنٹ میں۔۔۔پھر گھومنے چلیں گے۔۔”

غنی نے پیار سے کہا۔۔

پھر ایک ریسٹورنٹ کے سامنے گاڑی روک دی۔۔

اور دونوں اندر جاکر ایک ٹیبل پر بیٹھے۔۔۔

“کیا کھاؤ گی بتاؤ۔۔۔؟” غنی نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔

“مجھے کچھ نہیں کھانا “

نایاب نے سنجیدگی سے کہا۔۔

“ابھی تم نے کہا بھوک لگی ہے۔۔۔کھانا کھانا ہے”

غنی نے حیرت سے پوچھا۔۔

“لیکن اب مجھے نہیں کھانا۔۔چلیں یہاں سے”

وہ کہتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔

“نایاب۔۔۔” وہ ناسمجھی سے اسے گھورنے لگا۔۔

مگر وہ بنا کچھ کہے باہر نکل گئی۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦

“اب تک سب بلکل ٹھیک چل رہا ہے”

تانیہ نے صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھتے ہوئے کہا۔۔

” تم نے تعویذ رکھ دیے ان کے کمرے میں۔۔؟”

زوہیب نے پوچھا۔۔

“ہاں۔۔۔ویسے بابا کے تعویذوں نے اچھا اثر کیا ہے۔۔۔نایاب تو بلکل پاگل ہی ہوگئی۔۔”

تانیہ نے ہنس کر کہا۔۔۔

“ہاں۔۔۔مگر بابا سے پوچھو نا اور کتنا وقت لگے گا۔۔۔کتنے ٹائم سے تو تعویذ کر رہے ہیں۔۔مگر الگ نہیں ہوئے وہ لوگ”

زوہیب نے کہا۔۔

“یہ غنی ڈھیٹ ہے نا۔۔۔پاگل بیوی پر بھی مرا مٹا جارہا ہے۔۔۔”

تانیہ نے چبا کر کہا۔۔

اسے رہ رہ کر غصہ آرہا تھا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

اس کے ماتھے سے پسینے پھوٹ رہے تھے۔۔۔

وہ بار بار اپنے منہ پر ہاتھ رکھ رہی تھی۔۔

غنی کافی دیر سے اسے نوٹس کر رہا تھا۔۔

“کیا ہوا؟” آخر کو وہ پوچھ ہی بیٹھا۔۔

“پتا نہیں۔۔۔دل گھبرا رہا ہے۔۔۔”

نایاب نے کہا۔۔

“طبیعت ٹھیک ہے تمہاری۔۔۔ڈاکٹر کے پاس چلیں؟”

غنی نے فکرمندی سے کہا۔۔

“ہاں ٹھیک ہوں گھر چلیں بس۔۔۔”

نایاب نے اصرار کیا۔۔۔اور غنی نے گھر کی جانب گاڑی دوڑا دی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

نایاب اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھی۔۔۔

وہ سب لان میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔اور شام کی چائے سے لطف اندوز ہورہے تھے۔۔

“نایاب کو بھی اٹھا دو اب۔۔دوپہر سے سورہی ہے”

فاخرہ بیگم نے کہا۔۔

“ہاں۔۔۔دوپہر بھی کچھ نہیں کھایا۔۔۔طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے اس کی۔۔”

خالدہ بیگم نے فکر ظاہر کی۔۔

“میں لے جا رہا تھا ڈاکٹر کے پاس وہاں بھی نہیں گئی۔۔۔”

غنی نے کہا۔۔

“اسے ڈاکٹرکو دکھاؤ دماغ والے پاگل ہوگئی ہے وہ۔۔۔”

پھپھو نے طنز کیا۔۔

پھپھو کی بات سن سب خاموش ہوگئے۔۔۔

“تم جاؤ خالدہ اسے اٹھا کر لاؤ۔۔یہاں ہم سب کے ساتھ بیٹھے گی باتیں کرے گی تو طبیعت ٹھیک ہوگی نا۔۔۔”

فضل صاحب نے کہا۔۔

اور خالدہ بیگم اٹھ کر اس کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔

وہ کمرے کا دروازہ کھول اندر داخل ہوئی۔۔کہ سامنے کا منظر دیکھ ان کی چیخ نکل گئی۔۔۔

نایاب بیڈ پر بیٹھی۔۔۔۔ مہندی کی پیالی ہاتھ میں پکڑے۔۔

کھانے میں مصروف تھی۔۔۔ جیسے وہ کوئی بہت ہی لذیز شے کھا رہی ہو۔۔

خالدہ بیگم کی چیخ سن اس نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا

اس کا ہاتھ۔۔۔منہ۔۔۔ہونٹ مہندی سے بھرے تھے۔۔۔

وہ منظر اس قدر خوف ناک تھا کہ کوئی بھی اسے دیکھ ڈر جاتا۔۔۔