Misal E Taweez By Isra Rao NovelR50470 Misal E Taweez (Episode - 19)
No Download Link
Rate this Novel
Misal E Taweez (Episode - 19)
Misal E Taweez By Isra Rao
“تم ایسا کچھ نہیں کرو گی۔۔”
زوہیب نے غصہ سے کہا۔۔
“مجھے نایاب کو غنی کی زندگی سے نکالنے کے لیے جو کرنا ہوگا میں کروں گی۔۔”
تانیہ نے کہا۔۔
“کیوں کر رہی تم ایسا۔۔یہ غلط ہے۔۔۔ہمیں کسی کی جان نہیں لینی۔۔۔صرف بہ لینا تھا۔۔۔جو کافی حد تک لے چکے اب بس کرو۔۔۔”
زوہیب نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔
“مگر وہ دونوں ابھی بھی ساتھ ہیں۔۔”
وہ سرخ آنکھوں سے چلائی۔۔
“تو تم اسی بات سے اندازہ لگا لو۔۔۔کہ شاید قدرت کو بھی ان دونوں کا ساتھ منظور ہے۔۔۔”
زوہیب نے کہا۔۔
“نہیں میں ایسا نہیں ہونے دوں گی۔۔”
تانیہ چلائی۔۔
“ہم نے کتنے تعویذ کیے انہیں الگ کرنے کے لیے۔۔مگر وہ نہیں ہوئے۔۔اب بس چھوڑ دو سب۔۔”
وہ اپنی بات پوری کرتا اس سے پہلے ہی۔۔۔دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ چونکے۔۔۔
ان دونوں نے فوراً دروازے کی جانب دیکھا۔۔
سامنے ہی آنکھوں میں غصہ اور حقارت لیے غنی انہیں دیکھ رہا تھا۔۔
ان دونوں کے چہرے کے رنگ فق سے اڑ گئے۔۔
غنی آہستہ قدموں سے چلتا تانیہ کے قریب آیا۔۔
“غنی۔۔وہ۔۔۔” وہ کچھ کہتی مگر اس سے پہلے ہی غنی کا زوردار تھپڑ اس کے گال کو سرخ کرگیا۔۔
تبھی ایک زوردار چیخ ان سب کی سماعت سے ٹکرائی۔۔۔
جسے پہنچاننے میں انہیں سیکنڈ بھی نہیں لگا۔۔
اور غنی تیزی سے باہر کی جانب بھاگا۔۔۔
اس کا رخ اپنے کمرے کی جانب تھا۔۔
“اس چڑیل کی وجہ سے غنی نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔۔”
تانیہ نے آئینہ میں کھڑے خود کلامی کی۔۔۔
آنسوں اس کی آنکھوں سے بہ رہے تھے۔۔
“کیا کمی ہے مجھ میں۔۔کیوں غنی کو اس نایاب سے محبت ہے مجھ سے نہیں ہے”
وہ خود کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“میں نے ہمیشہ سے تمہیں چاہا تھا غنی۔۔۔مگر اس نایاب نے تمہیں مجھ سے چھین لیا۔۔۔”
وہ روتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“میں اس کے ساتھ وہ کروں گی۔۔جو کسی نے کسی کے ساتھ نہیں کیا ہوگا۔۔۔میں اسے تمہاری زندگی سے نکال باہر کروں گی۔۔۔نکال باہر کروں گی۔۔”
تانیہ نے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا۔۔
“میں نے آپ کو پہلے ہی کہا تھا۔۔۔خیال رکھنا ہے۔۔۔مگر شاید ان کی خود کی اور آپ کی بے دھیانی نے ایسا کیا ہے”
ڈاکٹر نے تلخی سے کہا۔۔
غنی چپ چاپ ان کی بات سن رہا تھا۔۔
“دیکھیں ڈاکٹر عبدالغنی جب تک نایاب کی دماغی حالت درست نہیں ہوجاتی۔۔آپ بے بی کے بارے میں نا ہی سوچیں تو اچھا ہے۔۔۔آج تو سستے میں جان چھوٹ گئی۔۔کل کو کوئی اور حادثہ پیش آیا تو۔۔۔؟”
ڈاکٹر کی بات سن غنی نے ان کی طرف دیکھا۔۔
“میں آپ کو اچھی صلاح ہی دے رہی ہوں۔۔۔آپ خود بھی ایک ڈاکٹر ہیں سمجھ سکتے ہیں میری بات۔۔۔”
ڈاکٹر نے سنجیدگی سے کہا۔۔
اور غنی نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
“نایاب کافی کمزور ہے۔۔اس کے بہت خیال رکھنا ہے آپ نے۔۔اور کسی اچھے سے سائیکالوجسٹ سے علاج کروائیں اس کا۔۔۔”
ڈاکٹر نے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔۔
اور غنی کی آنکھ سے ایک آنسوں ٹپکا۔۔
وہ بے سدھ پڑی آنکھیں موندے ہوئی تھی۔۔۔
زرد چہرہ۔۔۔جہاں بے رونقی نے ڈیرے ڈالے تھے۔۔
وہ آہستہ چلتا اس کے پاس آیا۔۔
اسے دیکھتے ہی غنی کی آنکھوں میں نمی تیر آئی۔۔
کتنی ہی دیر وہ اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔
مگر وہ اردگرد سے بے خبر غنودگی میں کھوئی تھی۔۔
“تمہیں پتا ہے نایاب۔۔۔بچے کی آنے کی خوشی مجھ سے زیادہ مما کو تھی۔۔۔مگر۔۔۔”
غنی نے بھری ہوئی آواز میں کہا۔۔
“مگر کوئی بات نہیں تم فکر مت کرو۔۔۔سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔بس تم ٹھیک ہوجاؤ۔۔”
غنی نے اس کے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“سب کہتے ہیں سائیکالوجسٹ کی ضرورت ہے تمہیں۔۔
تم پاگل نہیں ہو۔۔۔تم بلکل ٹھیک ہو۔۔۔”
غنی نے اس کے ہاتھ کو لبوں سے لگایا۔۔۔
“تم نے کہا تھا نا کہ تم مجھے آزماؤ گی۔۔۔
میں جانتا ہوں۔۔۔تم مجھے امتحان لینا چاہتی ہو۔۔۔
جیسے کبھی میں نے تمہیں ستایا تھا اب تم ستا رہی ہو۔۔”
غنی نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“میں نے تمہارے ساتھ بہت برا کیا تھا۔۔۔اور آج بھی جو کچھ تمہارے ساتھ ہورہا ہے۔۔سب میری وجہ سے ہورہاہے۔۔۔”
وہ نم آنکھوں سے کہنے لگا۔۔
“میں تانیہ کو اس کے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔جو اس نے کیا ہے تمہارے ساتھ وہ بہت تھا۔۔۔
میری محبت تمہیں ہر برائی سے بچا سکتی ہے۔۔”
وہ اس کی پیشانی کو چھوتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“تم نے بہت غلط کیا ہے تانیہ۔۔۔”
زوہیب نے کہا۔۔
“کیا۔۔؟” اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔
“وہ ہسپتال میں ہے۔۔۔مگر تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا تم سیلفش ہونا۔۔۔صرف اپنا سوچتی ہو۔۔۔ابھی بھی وقت ہے اس سے پہلے غنی سب کو بتائے ہمیں خود بتا دینا چاہیے۔۔”
زوہیب نے عقل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا
“تو بتا دے میں نہیں ڈرتی۔۔۔”
اس نے لاپرواہی سے کہا۔۔
“تانیہ۔۔۔تم یہ سب کھیل بند کردو۔۔۔تم ایک نیک شخص کا برا کرنے پر تلی ہو۔۔۔”
زوہیب نے افسوس سے کہا۔۔
“ارے چھوڑو۔۔کوئی نیک نہیں ہے۔۔۔کسے نیک کہ رہے ہو۔۔غنی کو؟ جو ایک ریپسٹ ہے۔۔۔اور نایاب وہ بھی کم نہیں چکر چلاتی پھرتی تھی۔۔۔”
تانیہ نے جل کر کہا۔۔
“کیا؟” وہ چونکا۔۔
“ہاں۔۔۔غنی نے ریپ کیا۔۔۔تبھی تو نایاب سے شادی ہوئی۔۔۔
چاہے غصہ میں ہی سہی مگر اس نے نایاب کے ساتھ غلط کیا۔۔”
تانیہ نے چبا کر کہا۔۔
زوہیب اس کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرنےگا۔۔
“یہاں کوئی نیک اور پارسا نہیں۔۔۔سب مطلبی ہیں۔۔۔”
تانیہ نے کہا۔۔۔اور روم سے باہر نکل گئی۔۔
“یہ پاگل ہوگئی ہے۔۔۔میں اب ایک منٹ بھی اس لڑکی کو برداشت نہیں کروں گی۔۔”
فاخرہ بیگم مے غصہ سے کہا۔۔
“کیا ہوا؟” خالدہ بیگم نے پوچھا۔۔
“ہونا کیا تھا۔۔۔جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا نا۔۔۔۔
تمہاری پاگل بیٹی نے میرے ہونے والے پوتے کو دنیامیں آنے سے پہلے ہی مار دیا۔۔۔”
فاخرہ بیگم نے غرا کر کہا۔۔
“اس میں نایاب کا کیا قصور ہے بھلا۔۔۔
اس نے جان بوجھ کر کچھ بھی نہیں کیا”
خالدہ بیگم نے نم آنکھوں سے کہا۔۔
“سہی کہ رہی ہو جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔۔تو کیا ضرورت تھی اسے بھاگنے کی۔۔۔ایسا کون سا طوفان آگیا تھا۔۔۔جو وہ یوں۔۔۔بھاگی۔۔۔”
فاخرہ بیگم نے سرخ آنکھوں سے کہا
“اس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔”
خالدہ بیگم نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔۔
“تو ٹھیک ہے۔۔۔اس پاگل کو اپنے پاس ہی رکھو تم۔۔۔
اب بہت برداشت کرلیا میں نے اور میرے بیٹے نے اسے۔۔۔”
فاخرہ بیگم نے تلخ لہجے میں کہا۔۔
“وہ پاگل نہیں ہے مما۔۔”
تبھی غنی کمرے میں داخل ہوا۔۔
“غنی۔۔بیٹا تم پی سمجھاؤ اپنی مما کو۔۔اس میں نایاب کا قصور نہیں تھا۔۔۔”
انہوں نے بھیگی انکھوں سے کہا۔۔
“جی۔۔چچی میں سمجھا دوں گا۔۔”
غنی نے کہا۔۔اور وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔۔
“کیا ہوگیا ہے مما؟ کیوں اتنا غصہ ہورہی ہیں آپ؟”
غنی نے انہیں دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“غنی تو چھوڑ دے نایاب کو۔۔۔وہ اب ٹھیک نہیں ہوگی۔۔۔کتنا علاج کروا لیا مگر وہ ٹھیک نہیں ہورہی ۔۔۔تو اس کے ساتھ اپنی زندگی کیوں خراب کر رہا ہے۔۔۔؟”
وہ پوچھنے لگی۔۔
“پتا ہے مما میرا وقت۔۔میرے دن رات۔۔نہیں گزرتے جب تک میں نایاب کو نا دیکھ لوں۔۔۔”
غنی نے سادگی سے کہا۔۔
“۔۔۔میرے سر میں درد ہوتا ہے نا۔۔۔میں نایاب کو دیکھتا ہوں میں ٹھیک ہوجاتا ہوں۔۔۔میں اداس ہوتا ہوں۔۔اسے دیکھ مسکرانے لگتا ہوں۔۔۔میں پریشان ہوتا ہوں اسے دیکھ کر سب بھول جاتا ہوں۔۔۔وہ میرے لیے مثالِ تعویذ ہے مما۔۔۔۔
میں اسے نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔”
غنی نے نمی امڈتی آنکھوں سے کہا۔۔
اور فاخرہ بیگم اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔
پھر اسے گلے سے لگالیا۔۔۔
ماں کے ے لگ غنی کے رکتے آنسوں بہ نکلے ۔۔۔
“میں مر جاؤں گااس کے بنا مما۔۔۔”
غنی کی بھری آواز ان کے کانوں میں پڑی۔۔
وہ جانتی تھی وہ دکھ میں ہے۔۔۔
وہ نایاب کو نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔
