Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Misal E Taweez (Episode - 12)

Misal E Taweez By Isra Rao

“اب کبھی مجھے چھوڑ کر تو نہیں جاؤ گی نا؟”

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کہنے لگا۔۔

“نہیں کبھی نہیں۔۔۔” نایاب نے مسکرا کر کہا۔۔۔

“اچھا پکی بات” اس نے ڈرائیو کرتے ہوئے کہا۔۔

“اگر آپ نے کوئی ایسی ویسی حرکت نا کی تو۔۔۔۔ورنہ میرا کوئی بھروسہ نہیں۔۔”

نایاب نے اداکاری سے کہا۔۔

“نہیں کروں گا سچی۔۔”

غنی نے منہ بنا کر کہا۔۔

اور وہ ہنس دی۔۔۔

غنی نے اسے آج کتنے وقت کے بعد یوں کھلکھلا کر ہنستے دیکھا تھا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

رات کا ایک بج رہا تھا مگر غنی آج ہسپتال سے نہیں آیا تھا۔۔

وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے اس کا انتظار کر رہی تھی

اسے اب نیند نہیں آتی تھی جب تک غنی نا آجائے۔۔

شاید وہ اس کے روب دار لہجے کی عادی ہوگئی تھی۔۔

تبھی کمرے کا دروازہ کھلا اور غنی اندر داخل ہوا۔۔

وہ سیدھی ہوئی۔۔

“آج ۔۔۔۔اتنی دیر۔۔۔”

وہ ہچکچاتے ہوئے کہنے لگی۔۔

“ہاں۔۔بس کام تھا۔۔۔دو دن بعد ہمیں اسلام آباد کے لیے نکلنا ہے۔۔تم تیاری کر لینا اپنی بھی۔۔”

غنی بیڈ پر بیٹھ جوتے اتارتے ہوئے کہنے لگا۔۔

“میں۔۔کیوں؟”

نایاب نے حیرت سے پوچھا۔۔

“کیوں کیا تمہیں کوئی اعتراض ہے؟”

غنی نے الٹ پوچھا

“نہیں وہ میں۔۔۔”

نایاب کچھ کہتی مگر اس سے پہلے ہی وہ کپڑے لیے واش روم میں گھس گیا۔۔

اور وہ اسے جاتا دیکھ اپنی بات کو ادھورا ہی چھوڑ گئی۔۔

تھوڑی ہی دیر میں بالوں کو خشک کرتا بنا شرٹ کے باہر نکلا۔۔

نایاب نے اسے دیکھا پھر منہ پھیر کر بیٹھ گئی۔۔

“آپ کے لیے کھانا لاؤں؟” نایاب نے پوچھا۔۔

“نہیں میں کھا کر آیا ہوں”

غنی میں آئینے میں اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔

“چائے۔۔۔؟” اس نے پھر پوچھا۔۔

“نہیں۔۔۔”وہ کنگھا کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔

پھر مڑ کر اس کے قریب آیا۔۔

“آج تمہیں بڑی فکر ہورہی ہے میری۔۔”

وہ طنزیہ پوچھنے لگا۔۔

“نہیں۔۔میں تو بس”

نایاب نے منہ پھیرے ہی کہا۔۔

“اچھا۔۔آج کیا کیا تم نے پورادن؟”

وہ اس کے برابر بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔

“کچھ نہیں۔۔۔عائشہ کے سسرال گئ تھی بڑی ماما کے ساتھ پھر شام کو ہی لوٹے”

نایاب نے اسے بنا دیکھے فٹ سے جواب دیا۔۔

“تم نے جانے سے پہلے مجھ سے تو نہیں پوچھا۔۔”

غنی نے بات پکڑی۔۔

“جی۔۔۔” وہ چونک کر اسے دیکھنےلگی۔۔

“جی ہاں۔۔۔شوہر کی اجازت کے بنا کیسے چلی گئی تم۔۔۔پوچھنا تھا نا فون پر۔۔۔”

غنی نے سنجیدگی سے کہا۔۔

“میرے پاس تو فون نہیں ہے۔۔۔”

نایاب نے کہا۔۔

“تو نیچے لینڈ لائن ہے۔۔۔”

اس نے ابرو اچکائی۔۔

“آئندہ پوچھ کر جاؤں گی۔۔” نایاب نے بات ختم کی۔۔

“تم مجھ سے اتنا ڈرتی کیوں ہو؟ پہلے تو اتنی ڈری سہمی نہیں تھی تم۔۔۔بڑی زبان چلتی تھی تمہاری ۔۔۔اب تم بہت بدل گئی ہو”

غنی نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔۔

“ہاں۔۔اس زبان کی وجہ سے تو میں یہاں ہوں آج۔۔”

نایاب نے اداسی سے کہا۔۔

غنی خاموشی سے اس کے اداس چہرے کو دیکھنے لگا۔۔

“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟۔۔۔میں چائے لاتی ہوں۔۔۔”

نایاب نے اس کی نظروں کے حصار میں خود کو قید پایا۔۔۔تو یک اٹھنے لگی۔۔

“نہیں چائے نہیں پینی بیٹھو۔۔۔”

غنی نے ہاتھ پکڑ کر بٹھایا۔۔

پھر اسکے ماتھے پر آتے بالوں کو پیچھے کرنے لگا۔۔۔

وہ نظریں جھکائے بیٹھی رہی۔۔۔

وہ اس کے قریب تر آتا جارہا تھا۔۔۔

اس کے چہرے پر پڑتی غنی کی گرم سانسیں اسے بوکھلائے دے رہی تھی۔۔۔

غنی نے اس کے ہونٹوں پر اپنے لب رکھے۔۔

اس نے ضبط سے کمبل کو مٹھی میں زور سے بھینچا۔۔۔

وہ چاہ کر بھی اسے دور نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔

غنی یک دم پیچھے ہٹا۔۔۔

اور بنا کچھ کہے کمبل اوڑھ کر لیٹ گیا۔۔۔

جانے اس کے دل میں کیا چل رہا تھا۔۔۔

مگر اس وقت اس نے نایاب کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔کہ اس شخص کے دل میں واقع نایاب کی کوئی جگہ نہیں۔۔۔

یہ وقت کی نزاکت تھی۔۔۔جو اسے بہکا گئی۔۔

ورنہ وہ جانتے بوجھتے اس کے قریب کبھی نہیں آنا چاہتا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ نماز کے لیے اٹھی تو برابر میں غنی نہیں تھا۔۔شاید وہ بھی نماز پر جا چکا تھا۔۔۔

وہ بھی نماز پڑھ کر کچن کی طرف چلی گئی۔۔

جہاں خالدہ بیگم ناشتہ بنا رہی تھی۔۔

“اٹھ گئی تم۔۔۔”

خالدہ بیگم نے پوچھا۔۔

“تم خوش ہو نا نایاب”

خالدہ بیگم نے سوال کیا۔۔۔

“مما۔۔آج میں ناشتہ بناؤں غنی کا؟”

نایاب نے معصومیت سے الٹ سوال کہا۔۔

اور وہ مسکرا کر ناشتہ بنانے میں مصروف ہوگئی۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

یہاں کوئی زوہیب نام کا بندہ کام کرتا ہے؟”

اس نے پوچھا۔۔

“جی ہاں۔۔۔”

سامنے والے شخص نے مختصر کہا۔۔

“پلیز بلادیں گے۔۔۔مجھے بہت ضروری کام ہے”

تانیہ نے کہا۔۔

“جی آپ ویٹ کریں۔۔۔”

اتنا سن کر وہ اس کا انتظار کرنے لگی۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ آگیا۔۔۔

“آپ یہاں۔۔۔” وہ حیران ہوا۔۔

“مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔”

تانیہ نے کہا۔۔

“لیکن مجھے کوئی بات نہیں کرنی۔۔ناآپ سے نا نایاب سے۔۔۔ضرور آپ اسی کا میسج لائی ہوں گی۔۔”

زوہیب نے غصہ سے کہا۔۔

“نہیں میں اس کا کوئی میسج نہیں لائی۔۔۔نا ہی اس کی کوئی ہمدرد ہوں۔۔۔مجھے آپ سے جو بات کرنی ہے اس میں آپ لابھی فائدہ ہے”

تانیہ نے اترا کر کہا۔۔

“میرا فائدہ۔۔؟” وہ چونکہ۔۔۔

“ڈیٹیل میں بتاتی ہوں۔۔کیا ہم کہیں بیٹھ کربات کرسکتے ہیں۔۔۔؟”

تانیہ نے پوچھا۔۔

“شور۔۔۔میں ابھی آیا آپ منٹ ویٹ کریں۔۔”

وہ کہ کر چلا گیا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“رات مجھے کیا ہوگیا تھا۔۔پہلے ہی میں نے اس کے ساتھ بہت برا کیا ہے۔۔۔اور اب پھر۔۔۔۔نہیں میں اس کی مرضی کے بنا اب نہیں جاؤں گا کبھی اس کے قریب۔۔۔

میں اور اسے تکلیف نہیں دوں گا۔۔۔”

وہ آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگا۔۔

“وہ ڈرتی ہےمجھ سے۔۔۔کیا اسے کبھی مجھ سے محبت ہوگی؟ نہیں وہ صرف اس مجبوری کے رشتے کو نبھا رہی ہے۔۔وہ زوہیب سے۔۔۔نہیں۔۔وہ صرف میری ہے”

وہ کھڑا سوچ میں ڈوبا تھا۔۔۔

جب دروازہ کھول نایاب اندر آئی۔۔

جس سے وہ نظریں تک نہیں ملانا چاہتا تھا۔۔۔

“ناشتہ تیار ہے”

نایاب نے کہا

“نہیں مجھے دیر ہورہی ہے۔۔۔میں وہیں کرلوں گا۔۔۔”

وہ ڈریسنگ سے اپنی گھڑی پہنتے ہوئے کہنے لگا..

“مگر۔۔۔” نایاب نے کچھ کہنا چاہا مگر وہ کمرے سے باہر نکل چکا تھا۔۔

نایاب کی آنکھوں میں تیزی سے سیلاب امڈ آیا۔۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“جی کہیں۔۔۔” وہ سامنے بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔۔

تبھی وہاں ویٹر آیا۔۔۔۔۔

“کچھ آرڈر کرنا ہے۔۔آپ کے لیے؟”تانیہ نے زوہیب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔

“نو۔۔تھینکس۔۔” زوہیب نے مختصر کہا

۔

“اوکے۔۔۔دو کپ کافی “

تانیہ نے اس کے انکار کے باوجود کہا۔۔

اور ویٹر چلا گیا۔۔

“آپ کس مجھ سے کیا بات کرنی تھی۔۔اور میرا کیسا فائدہ ہے”

وہ پوچھنے لگا۔۔

“مسٹر زوہیب۔۔آپ نایاب سے پیار کرتے ہیں۔۔رائٹ”

تانیہ نے پوچھا۔۔

“نہیں۔۔میں اب اس سے نفرت کرتا ہوں۔۔۔”

زوہیب نے فوراً کہا۔۔

“گڈ۔۔۔میں غنی سے محبت کرتی تھی۔۔۔اور اب بھی کرتی ہوں۔۔مگر اس نایاب نے مجھ سے غنی کو چھین لیا۔۔

اسی لیے میں نایاب سے نفرت کرتی ہوں”

تانیہ نے کہا۔۔

“میں سمجھا نہیں۔۔آپ یہ سب مجھے کیوں بتا رہی ہیں۔۔”

زوہیب نے کہا۔۔

“ظاہر ہے اگر آپ کو موقع ملے نایاب سے بدلہ لینے کا تو کیا آپ پیچھے ہٹیں گے۔۔سبق تو ضرور سکھانا چاہیے اس دھوکے کے بدلے میں جو نایاب نے آپ کو دیا۔۔۔”

تانیہ نے ابرو اچکائی۔۔

“ہاں۔۔۔” زوہیب نے جواب دیا۔۔

“تو بس پھر۔۔۔۔ آپ کو بس میرا ساتھ دینا ہے۔۔

نایاب کی میں بھی دشمن آپ بھی دشمن۔۔اور دشمن کا دشمن تو دوست ہوتا ہے نا؟”

تانیہ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔

جسے ملانے سے پہلے زوہیب نے لمحہ بھر سوچا پھر ملا لیا۔۔۔