Misal E Taweez By Isra Rao NovelR50470 Misal E Taweez (Episode - 11)
No Download Link
Rate this Novel
Misal E Taweez (Episode - 11)
Misal E Taweez By Isra Rao
“میں جانتا ہوں میں نے تمہارے ساتھ بہت برا کیا۔۔
میں بہت برا ہوں۔۔۔میں نے تمہارے ساتھ بہت زیادتیاں کیں۔۔کیا تم مجھے معاف نہیں کرو گی۔۔۔نایاب تم معاف کردو گی تو میرا رب بھی مجھے معاف کردے گا۔۔۔”
غنی نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑے۔۔
“بس ایک مہینے میں ہی تھک گئے۔۔اور میں جو اتنے وقت سے آپ کی بے رخی برداشت کر رہی تھی۔۔”
نایاب نے بھیگے چہرے سے پوچھا۔۔
“نایاب مجھے معاف کردو۔۔۔میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر۔۔
دن رات ہر وقت ہر جگہ مجھے بس تم ہی نظر آئی۔۔
مجھے نیند نہیں آتی تھی۔۔میرے گناہ مجھے سکون نہیں لینے دیتے تھے۔۔تم نہیں ملتی تو میں مر ۔۔۔۔”
وہ بھیگی پلکوں سے کہنے لگا۔۔۔۔۔
“آہاں۔۔۔” نایاب نے اس کے لبوں پر انگلی رکھی۔۔
یہ چوٹ۔۔۔” وہ اس کی انگلی پر بندھی پٹی کو دیکھ فکرمندی سے پوچھنے لگا۔۔
“بس چھوٹی سی چوٹ ہے.۔”نایاب نے کہا
“کیسے لگ گئی۔۔؟”
وہ اس کا ہاتھ تھامے پوچھنے لگا۔۔
“وہ میں سلائی کر رہی تھی تو سوئی لگ گئی۔۔ “
اس نے معصومیت سے کہا۔۔
اور غنی زوردار قہقہہ لگا کر ہنسا۔۔
وہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“تمہیں سلائی آتی ہے۔۔۔؟”
وہ طنزیہ پوچھنے لگا۔۔
“جی ہاں اب میں نے سیکھ لی۔۔سینٹر میں رہ رہی ہوں یہاں۔۔۔جہاں کافی عورتیں یہیں کام کرتی ہیں۔۔یہ لوگ انہیں ساری سہولتیں دے رہے ہیں۔۔میں نے سیکھی ہے “
نایاب بولتی چلی جارہی تھی اور غنی اسے دیکھنے میں مصروف تھا۔۔
“جو میں نے کیا وہ غلط تھا۔۔میں بدلے میں اچھے برے کو نہیں سمجھ پایا۔۔
وہ مجھ سے خوف زدہ ہے۔۔۔”
وہ آئینے کے سامنے کھڑا سوچ رہا تھا۔۔
“ہاں۔۔۔مجھے اس سے معافی مانگنی چاہیے۔۔۔
لیکن اگر اس نے مجھے معاف نہیں کیا تو۔۔”
وہ خود کلامی کرنے لگا۔۔
“بابا ٹھیک ہی تو کہ رہے تھے۔۔۔میں تو اس کے ساتھ اپنے رب کا مجرم ہوں۔۔۔میں تو اتنا گنہگار ہوں شاید معافی کے قابل نہیں۔۔۔”
وہ خود کو ملامت کرنے لگا۔۔
تبھی سائیڈ ٹیبل پر رکھا فون شور مچانے لگا۔۔
اس نے مڑ کر دیکھا۔۔۔نایاب کا فون بج رہا تھا۔۔۔
وہ چلتا ہوا قریب گیا۔۔۔اسکرین پر زوہیب نام جھلملا رہا تھا۔۔وہ فون ہاتھ میں لیے حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔۔
پھر کال رسیو کر کان سے لگایا۔۔
“ہیلو۔۔نایاب۔۔کہاں گم ہو میری جان۔۔ایک ہفتہ ہوگیا ہے۔۔۔
پتا ہے میں کتنا پریشان تھا۔۔”
زوہیب کی آواز اس کے کان میں پڑی۔۔
اور اس کے ماتھے پر بل پڑے۔۔
“ہیلو۔۔ہیلو۔۔نایاب۔۔” مسلسل آواز آرہی تھی۔۔
پھر اس نے کچھ بھی کہے بنا فون کاٹ دیا۔۔
اور فون کو پوری قوت سے سامنے دیوار پردے مارا۔۔
تبھی دروازہ کھول نایاب اندر آئی۔۔
سامنے اپنا ٹوٹا موبائل دیکھ حیران ہوئی۔۔
غنی دانت بھیچتے اس کی طرف لپکا۔۔
اور اسے بازو سے پکڑ دیوار سے لگایا۔۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی۔۔یہ سب کرنے کی۔۔”
وہ ایک ہاتھ اس سے چہرے کو پکڑتے ہوئے لکہنے لگا۔۔
گرفت اتنی مضبوط تھی کہ۔۔اس کی انگلیاں نایاب کے رخساروں میں چبھنے لگی۔۔
نایاب کی آنکھوں میں پھر سے نمی امڈ آئی۔۔
وہ ناسمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“کون ہے زوہیب۔۔۔۔؟” وہ پوچھتے ساتھ ہی اس سے الگ ہوا۔۔
اور وہ اس کے منہ سے نام سن حیران ہوئی۔۔
“بولو۔۔۔” وہ غرایا۔۔
“وہ میرا دوست۔۔۔”
وہ جھجھکتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“جھوٹ مت بولو۔۔۔دوست ہوتا تو اس گھٹیا انداز میں بات نہیں کرتا۔۔۔”
وہ غصہ سے کہنے لگا۔۔۔
وہ سر جھکائے رونے لگی۔۔۔
“تم فون رکھنے کے لائق نہیں ہو۔۔۔اور خبردار جو دوبارہ اس لڑکے سے بات کرنے کی بھی کوشش کی۔۔”
وہ تلخ لہجے میں کہتا باہر نکل گیا۔۔
اور چپ چاپ کھڑی آنسوں بہانے لگی۔۔
وہ لان میں بیٹھی چائے کا سپ لے رہی تھی جب گیٹ پر مالی بابا سے کوئی بحث کر رہا تھا۔۔اور شور سے اس کی آواز یہاں تک آرہی تھی۔۔
وہ ٹیبل پر چائے کا کپ رکھ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
اور اس جانب بڑھ گئی۔۔
سامنے ہی کوئی خوبرو نوجوان۔۔کھڑا تھا۔۔
“کیا ہوا؟” وہ پوچھنے لگی۔۔
“تانیہ بی بی پتا نہیں کون ہے۔۔اندر جانا چاہتا ہے۔۔”
مالی بابا نے کہا۔۔
“کس سے ملنا ہےآپکو؟”
تانیہ نے اس لڑکے سے پوچھا۔۔
“دیکھیں میں نایاب کا فرینڈ ہوں۔۔اور مجھے کچھ کام ہے اس لیے اس سے ملنا چاہتا ہوں۔۔”
زوہیب نے کہا۔۔
“اوہ۔۔۔اچھا۔۔۔” وہ مسکرائی۔۔
“مگر اس کی تو شادی ہوگئی۔۔۔”
تانیہ نے اس کا چہرہ پڑھتے ہوئے کہا۔۔
“واٹ۔۔۔؟” وہ چونکا۔۔
“جی ہاں۔۔اس نے آپ کو انوائٹ نہیں کیا تھا کیا۔۔؟”
تانیہ نے مزے سے پوچھا۔۔
“وہ شادی کیسے کر سکتی ہے؟”
وہ حیرانی سے کہنے لگا
“ارے کیوں نہیں کرسکتی۔۔۔؟”
تانیہ نے یک دم کہا۔۔
“آپ اسے بلا:دیں پلیز مجھے اس سے بات کرنی ہے پلیز”
زوہیب نے منت کی۔۔
“ٹھیک ہے میں بھیجتی ہوں۔۔”
وہ کہ کر اندر کی جانب بڑھ گئی۔۔
“نایاب۔۔۔” تانیہ نے کچن کی جانب جاتی نایاب کو پکارا۔۔۔
“جی۔۔۔” نایاب نے کہا۔۔
“وہ باہر کوئی تمہارا دوست آیا ہے تم سے ملنے۔۔۔جاکر دیکھ لو کون ہے”
تانیہ نے سکون سے کہا۔۔
“میرا دوست۔۔؟ کہیں زوہیب تو نہیں۔۔؟” وہ دل میں سوچنے لگی۔۔
اور باہر کی جانب بڑھ گئی۔۔
تانیہ اسے جاتا دیکھ مسکرائی۔۔
پھر اس کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔
وہ کتنی ہی دیر سے سورہا تھا
سنڈے کا پورا دن اس کا آرام کرنے میں گزرتا۔۔۔
تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔
اور اس کی نیند ٹوٹی۔۔۔
“کم ان…” وہ بڑبڑایا۔۔
اور دروازہ کھلنے کے ساتھ ہی تانیہ کمرے میں داخل ہوئی۔۔
وہ بے سدھ آنکھیں موندے سورہا تھا۔۔
تانیہ کھڑی اسے گھورنے لگی۔۔
“غنی…باہر کوئی آیا ہے آپ کا پوچھنے۔۔آپ سے ملنا چاہتا ہے۔۔اس لیے میں اٹھانے آگئی آپ کو۔۔”
تانیہ نے کہا۔۔
“کون ہے؟” غنی نے پوچھا۔۔
پتا نہیں زوہیب نام بتا رہا ہے۔۔”
تانیہ نے الفاظ نے اسے اٹھنے پر مجبور کیا۔۔
“کیا؟ زوہیب۔۔”
وہ سیدھا ہوا۔۔
“ہاں۔۔نایاب گئی ہے اس سےپوچھنے۔۔۔میں نے بہت روکا۔۔کہ نامحرم کے سامنے نہیں جاتے۔۔۔میں تو نہیں گئی بھئی۔۔۔مگر وہ سنتی کہاں ہے کسی کی۔۔۔”
تانیہ نے اداکاری سے کہا۔۔
اور غنی بنا کوئی جواب دیے کمرے سے باہرنکل گیا۔۔۔
“اب آئے گا مزہ۔۔۔”
تانیہ نے خود کلامی کی۔۔۔
“زوہیب تم یہاں کیوں آئے ہو؟ جاؤ یہاں سےاس سے پہلے کوئی آجائے۔۔”
نایاب نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔۔
“نایاب تم نے شادی کرلی۔۔۔اور مجھے بتانا تک گوارا نہیں کیا۔۔۔
تم میرے ساتھ ایسا کیسے کرسکتی ہو”
زوہیب نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔۔
“میں مجبور تھی زوہیب۔۔۔ میں تمہیں سب بتا دوں گی۔۔
مگر ابھی چلے جاؤ۔۔۔غنی گھر پر ہے “
نایاب نے ڈرتے ہوئے کہا۔۔
“اچھا تو تم نے غنی سے شادی کرلی۔۔تبھی تم اس کی اتنی تعریفیں کرتی تھی۔۔۔اورمجھے دھوکے میں رکھا۔۔۔
چپ چاپ کسی ور سے شادی کرلی۔۔۔”
زوہیب نے غصہ میں کہا۔۔
“زوہیب میں سب سمجھا دوں گی تمہیں۔۔میں نے تمہیں کوئی دھوکہ نہیں دیا۔۔وقت اور حالات نے مجھے مجبور کردیا تھا۔۔”
نایاب نے اسے سمجھانا چاہا۔۔
“ایسی کون سی مجبوری تھی۔۔۔جو تم نے مجھے بتایا تک نہیں۔۔۔۔میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔۔۔سمجھی تم”
وہاسے شانوں سے تھام غرایا۔۔۔
تبھی اسے کسی نے پیچھے سے پکڑ سیدھا کرتے ہی ایک زوردار مکہ اس کی ناک پر رسید کیا۔۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی اسے چھونے کی۔۔۔شی از مائے وائف”
وہ چلایا اور پھر سے اسے گریبان سے پکڑا۔۔
نایاب کھڑی سب دیکھ رہی تھی۔۔
“چھوڑو اسے۔۔۔” افضل صاحب نے اسے چھڑوایا۔۔۔
باقی سب گھر والے بھی وہاں پہنچ گئے تھے۔۔
“کون تھا وہ؟”
فضل صاحب نے نایاب کو گھورتے ہوئے پوچھا۔۔
وہ خاموش بیٹھی آنسوں بہا رہی تھی۔۔
“اور کیا کیا دن دکھانے ہیں تم نے نایاب ہمیں۔۔۔؟”
فضل صاحب غصہ میں کہنے لگے۔۔
“ہمارے لاڈ پیار کا کیا یہ صلہ دیا ہے تم نے۔۔۔ہمارا سر شرم سے جھکا دیا۔۔۔
بہت اچھا انعام دے رہی ہو تم ہماری محبت کا”
وہ دکھ بھرے لہجے میں کہے جا رہے تھے۔۔
“پاپا میں نے اسے نہیں بلایا تھا۔۔۔”
وہ روتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“ایک بات کان کھول کر سن لو نایاب۔۔۔تمہاری شادی غنی سے ہوچکی۔۔۔اور اب وہ تمہارا شوہرہے۔۔۔تم نے کوئی ایسی ویسی حرکت کی تو میرا مرا منہ دیکھو گی۔۔”
وہ غصہ میں کہتے کمرے سے باہر نکل گئے۔۔
وہ پورے دن سے اس کے سامنے نہیں آئی تھی۔۔۔۔
ابھی بھی رات کے گیارہ بج رہے تھے مگر وہ کمرے میں نہیں گئی۔۔
وہ جانتی تھی کہ غنی کو غصہ ہوگا۔۔
اور وہ اسی پر اترے گا۔۔۔
اسی لیے وہ اس کا سامنا کرتے ڈر رہی تھی۔۔
وہ اس کے سونے کا انتظار کر رہی تھی کہ۔۔
غنی سوجائے تو وہ کمرے میں جائے۔۔
وہ کب سے باہر صوفے پر بیٹھی تھی۔۔۔
اب تو اسے بھی نیند آرہی تھی۔۔
“یہاں کیوں بیٹھی ہو بیٹا۔۔۔جا کر سوجاؤ۔۔بدلتا موسم ہے۔۔ٹھنڈ لگ جائے گی۔۔”
افضل صاحب جو پاس سے گزر رہے تھے۔۔۔
اسے دیکھ رک کر کہنے لگے۔۔
“جی۔۔بس جارہی ہوں۔۔”
وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
اور جھجھکتے ہوئے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔
“یا اللہ جی۔۔۔۔بچا لینا۔۔۔” وہ اوپر دیکھ دعا کرنے لگی۔۔
وہ جانتی تھی۔۔۔جو کچھ صبح ہوا تھا۔۔
وہ بچنے والی تو نہیں۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوئی۔۔
وہ سامنے ہی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔
وہ اسے دیکھ جھجھکی۔۔
آہستہ قدم اٹھاتی صوفے کی جانب بڑھ گئی۔۔
“نایاب۔۔۔۔” غنی نے پکارا۔۔
“جی۔۔۔” وہ ڈرتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“یہاں آؤ” غنی نے حکم دیا۔۔۔
وہ آہستہ قدم اٹھاتی بیڈ کے قریب آئی۔۔
“بیٹھو۔۔۔” اس نے پھر کہا۔۔
وہ چپ چاپ بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔
غنی نے اسے بغور دیکھا۔۔وہ سر جھکائے بیٹھی تھی گھبراہٹ چہرے سے ظاہر تھی۔۔
غنی نے اسے بازو سے پکڑ خود کے قریب کیا۔۔۔
ڈر کیوں رہی ہو۔۔۔؟میں جانتا ہوں تم نے اسے نہیں بلایا تھا۔۔تمہارا کوئی قصور نہیں ” غنی نے کہا۔۔
اور نایاب نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔تم اتنی بے قصور بھی نہیں ہو۔۔۔”
غنی نے سنجیدگی سے کہا۔۔
اور پھر سے اس شخص کو سمجھ نہیں سکی۔۔
“سو جاؤ اور ہاں۔۔۔یہیں سونا ہے۔۔صوفے پر جانے کی ہمت نہیں کرنا”
غنی مسکرایا۔۔۔
پھر سونے کے لیے لیٹ گیا۔۔
اور وہ اس شخص کو پھر سے سمجھ نہیں سکی۔۔۔
کبھی بنا بات اتنا غصہ کبھی اتنی بڑی بات پر بھی ٹھنڈا لہجہ۔۔۔وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔۔
شہر بھر میں اسٹرائک کی وجہ سے آج سب گھر میں ہی تھے۔۔
غنی بیٹھا بور ہورہا تھا۔۔۔
کب سے بیٹھا موبائل پر گیم کھیل رہا تھا۔۔
مگر بوریت دور نہیں ہوئی۔۔
پھر آخر کو اٹھ کر کچن کی جانب بڑھ گیا۔۔
جہاں فاخرہ بیگم اور خالدہ بیگم کھانے کی تیاری کررہی تھی۔۔
“کیا بن رہا ہے آج؟”
وہ مسکرا کر پوچھنے لگا۔۔
“فرائیڈ رائس۔۔۔اور میٹھے میں حلوہ۔۔۔”
تانیہ نے مسکرا کر جواب دیا۔۔
“اچھا۔۔۔چلیں آج میں مدد کرواتا ہوں آپ لوگوں کی”
غنی نے خوش دلی سے کہا۔۔
“ارے نہیں بیٹا ہم کرلیں گے۔۔۔”
فاخرہ بیگم نے کہا۔۔
“ارے میں بور بھی تو ہورہا ہوں۔۔آج کے فرائیڈ رائس میں بناتا ہوں۔۔”
غنی نے ایپرن پہنتے ہوئے کہا۔۔
تبھی کچن میں نایاب داخل ہوئی۔۔
غنی نے ایک ترچھی نظر اس پر ڈالی پھر کام میں مصروف ہوگیا۔۔
وہ ہنس ہنس کر سب سے باتیں کر رہا تھا۔۔
اور اس کی باتوں پر سب ہی ہنس رہے تھے۔۔
نایاب دور کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔۔
اس کے ہاتھ کے کھانے کی سب نے ہی تعریف کی۔۔۔
۔
وہ دونوں بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔۔
آج تھوڑی ٹھنڈ تھی۔۔وہ کمبل اوڑھے۔۔۔خاموش بیٹھے تھے۔۔
غنی نے پاس بیٹھی نایاب کو دیکھا جو سر جھکائے بیٹھی۔۔کمبل کے ڈزائن پر انگلیاں چلا رہی تھی۔۔۔
“نماز پڑھی تم نے؟”
غنی نے تلخ لہجے میں پاس بیٹھی نایاب سے پوچھا۔۔
“نن۔۔نہیں۔۔وہ”
وہ ہکلائی۔۔۔
“جاؤ۔۔۔پڑھو ۔۔۔”
اس نے حکم دیا۔۔
وہ اثبات میں سر ہلاتی واش روم کی جانب بڑھ گئی۔۔
وہ نماز کے سٹائل دوپٹہ باندھے۔۔۔جائےنماز رکھ کر پلٹی۔۔۔۔کہ اس کی نظر سامنے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے۔۔بیٹھے شخص پر پڑی۔۔جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
وہ یک دم نظریں چرائے صوفے پر جا بیٹھی۔۔
“دوبارہ میں یہ نا سنوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔۔۔”
اس نے روب دار لہجے میں کہا۔۔
“جی۔۔۔” وہ بس سر ہلا کر رہ گئی۔۔
“اور ہاں۔۔۔مجھے نہیں پسند تم آئی بروز بنواؤ۔۔۔تو اب یہ بھی مت کرنا۔۔۔ویسے بھی یہ گناہ ہے”
اس نے ناگواری سے کہا۔۔
نایاب خاموشی سے اس کے حکم سن رہی تھی۔۔۔
پھر وہ لیمپ آف کر سونے کے لیے لیٹ گیا۔۔
اور نایاب نیم اندھیرے میں نم آنکھوں سے اس کٹھور شخص کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
جو اس کا محرم ہونے کے باوجود کبھی ہنس کر بات نہیں کرتا تھا۔۔جو سب کے لیے بہت اچھا تھا۔۔۔مگر صرف اپنی بیوی کے لیے ایک سخت دل آدمی تھا۔۔
“کیا میری اتنی بڑی غلطی تھی۔۔۔کہ سزا میں آج تک بھگت رہی ہوں۔۔۔؟”
وہ دل میں سوچنے لگی۔۔۔
