Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Misal E Taweez (Episode - 14)

Misal E Taweez By Isra Rao

اسے رہ رہ کر غنی کی باتیں چبھ رہی تھی۔۔

جانے وہ غصہ میں کیا کیا کہ گیا تھا۔۔

“میں غنی کی محبت کبھی نہیں بن سکتی۔۔۔۔”

وہ خود کلامی کرنے لگی۔۔

“میں تو کب سے کوشش کر رہی ہوں۔۔جیسا وہ چاہتا ہے میں وہ کروں۔۔میں اس کی پسند بن جاؤں۔۔مگر شاید وہ لیے بیٹھا ہے۔۔۔”

دو آنسووں اس کے گال پر لڑھک گئے۔۔

“جب میں تم سے دور چلی جاوں گی نا تب تمہیں میری محبت کی شاید قدر ہوجائے۔۔اور نا بھی ہوئی۔۔تو میں واپس نہیں آؤں گی۔۔”

وہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

اور الماری سے کپڑے نکال کر بیڈ پر رکھنے لگی۔۔

تبھی اس کی نظر اس ڈائری پر پڑی۔۔

اس نے وہ ڈائری اٹھائی۔۔۔

کچھ سوچ کر بیڈ کی طرف آئی۔۔

اپنے کپڑے بیگ میں ڈالے اور ڈائری بھی اپنے پاس ہی رکھ لی۔۔

میں تھک گئی ہوں آپ کی بے رخی برداشت کرتے کرتے۔۔۔

آپ کو دنیا میں سب پسند ہیں بس میں ہی نہیں۔۔کیوں آپ کو مجھ سے محبت نہیں ہوتی غنی۔۔”

وہ روتے ہوئے۔۔آئینے میں کھڑی خود کو دیکھ رہی تھی۔۔

وہ بیگ اٹھا کر نکلنے لگی کہ اس کی سماعت سے جملہ ٹکرایا۔۔۔

(برقعہ پہنو….)

وہ کھڑی سوچنے لگی۔۔

پھر برقعہ پہنا اور بیگ اٹھا کر باہر نکل گئی۔۔

اس کا رخ اسٹیشن کی جانب تھا۔۔

وہ نہیں جانتی تھی وہ کہاں جائے گی۔۔

مگر وہ غنی کی بے رخی بھی اب برداشت نہیں کرسکتی تھی۔۔۔

وہ گھر بھی نہیں جاسکتی تھی۔۔۔کیوں کہ وہ اپنے پاپا اور مما کو شرمندہ نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔

وہ بس اس تکلیف سے دور جارہی تھی۔۔

جو غنی اپنی نفرت اور بے رخی دکھا کر اسے پہنچا رہا تھا۔۔

مگر اسے غنی کی محبت کا تب پتا چلا جب اس نے ٹرین میں وہ ڈائری کھولی۔۔

وہ جان چکی تھی کہ غنی بھی اس سے محبت کرتا ہے۔۔۔

بلکہ وہ اس کی پہلی اور آخری محبت ہے۔۔

مگر جواس نے بے رخی دکھائی۔۔

اپنی محبت چھپائی۔۔نایاب اسے سزا دینا چاہتی تھی۔۔

اسی لیے۔۔وہ پورا ایک مہینہ اس کی زندگی سے غائب ہوگئی۔۔حالانکہ وہ ایک مہینہ گزارنا اس کے اتنا ہی مشکل رہا جتنا غنی کے لیے۔۔

وہ کہتے ہیں نا قدر اسے تب ہوتی ہے جب ہم کسی سے دور ہوجاتے ہیں۔۔

نایاب نے بھی یہی حربہ آزمایا۔۔

اور غنی سے دور ہوگئی۔۔

مگر جب اس نے غنی کو روتے دیکھا۔۔اس درگاہ پر جہاں وہ خود اسے مانگنے آئی تھی۔۔۔

تو اس سے رہا نہیں گیا۔۔

اور آخر کو اس نے معاف کر ہی دیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

اس کی جب آنکھ کھلی تو خود کو غنی کی بانہوں میں قید پایا۔۔

وہ اسے دیکھ مسکرائی۔۔

“آئی لو یو۔۔۔” اس نے کان کے پاس سرگوشی کی۔۔

“مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔

“میرے غصہ والے ہسبنڈ”

نایاب نے اس کی ناک کھینچی۔۔

وہ اسی انداز میں سویا تھا۔۔

نایاب نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔

“سوتے ہوئے کتنے پیارے لگتے ہو۔۔۔۔آپ سوتے ہی رہا کرو بس۔۔”

نایاب نے شرارت سے کہا۔۔

“منظور۔۔اگر تم روز اسی طرح پیار کرو تو۔۔۔”

غنی نے یک دم آنکھیں کھول جواب دیا۔۔

اور وہ شرما کر پیچھے ہوئی۔۔

“کیا ہوا؟”

غنی اٹھ بیٹھا۔۔

“کچھ نہیں۔۔۔اچھا ہوا اٹھ گئے۔۔نماز کا وقت ہورہا ہے۔۔”

وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔

اور واش روم میں گھس گئی۔۔

اور غنی اسے دیکھ مسکرا دیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

غنی نماز پڑھ کر قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگا۔۔

اور نایاب ناشتہ بنانے میں مصروف ہوگئی۔۔

مگر اس کی آواز وہ کچن میں با آسانی سن سکتی تھی۔۔

وہ ناشتہ لے کر جب کمرے میں آئی تو وہ قرآن پاک بند کر رکھ چکا تھا۔۔

“واہ میاں جی۔۔قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے ماشاءاللہ”

نایاب نے سائیڈ ٹیبل پر ناشتہ رکھتے ہوئے کہا۔۔

“ہاں۔۔میں تو روز کرتا ہوں سورۂ بقرہ کی تلاوت۔۔نماز کے بعد مسجد میں ہی کرتا تھا اکثر۔۔۔”

غنی نے بیٹھتے ہوئے کہا۔۔

“اچھا۔۔نیک شوہر ملا ہے مجھے۔۔۔”

نایاب نے خوشی سے کہا۔۔

“پیکنگ کرلی۔۔۔ نکلنا ہے آج”

غنی نے ناشتے سامنے رکھتے ہوئے کہا

“ہاں بس ابھی کرتی ہوں۔۔”

نایاب نے جواب دیا

“اچھا آؤ پہلے ناشتہ کرو پھر کرنا۔۔”

غنی نے اسے پاس بیٹھایا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“کیوں جب غنی اور نایاب شادی کرسکتے ہیں ماموں تومیں اپنی مرضی سے کیوں نہیں۔۔”

تانیہ نے فوراً کہا

“ان کی شادی ہم نے خود کروائی ہے۔۔تم نے تو پوچھنا تک گوارہ نہیں کیا”

فضل صاحب نے تلخ لہجے میں کہا۔۔

“پوچھتی تو کیا آپ لوگ کرنے دیتے۔۔۔نہیں نا۔۔۔”

تانیہ نے کہا۔۔

“تمہیں اس لڑکے کے علاوہ کوئی نہیں ملا تھا۔۔تم اتنی بڑی ہوگئی کہ تم نے خود ہی سارے فیصلے کرلیے”

افضل صاحب کو بھی غصہ آیا۔۔

“آپا آپ کچھ کیوں نہیں کہ رہی۔۔؟” افضل صاحب نے اپنی بہن کی طرف دیکھا۔۔

“میں کیا کہوں میں تو خود شرمندہ ہوں۔۔مگر اس نے جو کرنا تھا اب تو کرلیا۔۔لڑائی جھگڑائی سے کیا فائدہ افضل۔۔

اسے معاف کردو۔۔۔”

زاہدہ پھپھو نے روتے ہوئے التجا کی۔۔

کافی بحث ہوئی مگر انہیں ہمیشہ کی طرح زاہدہ پھپھو کے سامنے ہارنا پڑا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔

پاس بیٹھی نایاب مونگ پھلی کھانے میں مصروف تھی۔۔

“گھر پر بتا دیا تھا آپ نے کہ ہم آرہے ہیں۔۔”

اس نے منہ میں دانہ ڈالتے ہوئے پوچھا۔۔

“ہاں بتا دیا تھا۔۔۔” غنی نے جواب دیا۔۔

“ایک بات کہوں؟”

نایاب نے اسے دیکھتے ہوئے کہا

“ہاں کہو۔۔۔” غنی نے اس کی طرف دیکھا۔۔

“آپ پھر سے کبھی مجھ سے بدگمان نہیں ہونا۔۔چاہے جو ہو۔۔۔”

نایاب نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔

“ایسا کبھی نہیں ہوگا۔۔پرومس۔۔”

غنی نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے مسکرا کر کہا۔۔

وہ بھی مسکرا دی۔۔

“اچھا چلیں اب ہاتھ چھوڑیں مجھے مانگ پھلی کھانی ہے”

نایاب نے شرارت سے کہا۔۔

“ساری تو تم خود ہی کھا گئی۔۔مجھے تو کھلائی نہیں۔۔”

غنی نے خفگی سے کہا اور سامنے دیکھ ڈرائیونگ کرنے لگا۔۔

“اچھا ناراض نہیں ہوں۔۔یہ لو۔۔۔میرے میاں مٹھو۔۔”

اس نے غنی کو کھلاتے ہوئے کہا۔۔

“میاں مٹھو؟” وہ چونکا۔۔۔

پھر دونوں ہی ہنسنے لگے

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

خالدہ بیگم اور فاخرہ بیگم کچن میں کھانا تیار کر رہی تھی۔

آج نایاب اور غنی پورے ایک مہینے بعد آرہے تھے۔۔

گھر میں سب بہت خوش تھے۔۔۔

ان کے آنے اہتمام ہورہے تھے۔۔

تانیہ اور زوہیب ان کے آنے کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔۔

وہ دونوں لان میں کھڑے باتیں کر رہے تھے۔۔

تبھی انہیں گیٹ سے اندر آتے گاڑی دیکھائی دی۔۔

سب گھر والے خوشی سے ان سے ملے۔۔

“کیسی ہے میری بیٹی۔۔؟”

خالدہ بیگم نے اسے گلے سے لگایا۔۔

“ٹھیک ہوں مما۔۔آپ سب کیسے ہیں۔۔پتا ہے کتنی یاد آئی مجھے۔۔”

نایاب نے منہ بنایا۔۔

اسے دیکھ سب ہنس دیے

“ہماری دلہن کہاں ہے؟”

نایاب نے عائشہ کا پوچھا۔۔

“وہ اپنے کمرے میں ہے۔۔۔”

فاخرہ بیگم نے مسکرا کر کہا۔

“اچھا میں مل کر آتی ہوں۔۔آئیں غنی دونوں چلتے ہیں۔۔”

وہ اسے بازو سے پکڑے آگے بڑھ گئی۔۔

وہ دونوں تانیہ اور زوہیب کو دیکھ چکے تھے۔۔

مگر نایاب انہیں مکمل نظرانداز کرتی عائشہ کے کمرے کی طرف بڑھ گئی

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

رات کے کھانے کے بعد وہ دونوں لان میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔۔

جب تانیہ وہاں آئی۔۔

وہ دونوں اسے دیکھ ٹھٹکے۔۔۔

مگر وہ ایسے ہی ریئیکٹ کرنے لگے جیسے انہیں کوئی فرق نہیں پڑا زوہیب کو اس کے ساتھ دیکھ۔۔

“نایاب کیا تم مجھ سے ناراض ہو؟”

تانیہ نے پوچھا۔۔

“نہیں تانیہ باجی میں کیوں آپ سے ناراض ہونے لگی۔۔”

نایاب نے جواب دیا

“وہ میں نے زوہیب سے شادی کرلی تو۔۔ “

تانیہ نے کچھ کہنا چاہا۔۔

“نہیں میں نے اسے خود چھوڑا تھا۔۔اور ویسے بھی میں بہت خوش ہوں غنی کے ساتھ۔۔غنی میرا بہت خیال کرتے ہیں۔۔مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔۔ اور میں بھی۔۔”

نایاب نے پاس بیٹھے غنی کا ہاتھ مضبوطی سے تھامتے ہوئے کہا۔۔

“نہیں وہ تم نے جب سے آئی مجھ سے زیادہ ںات نہیں کی۔۔بیٹھی نہیں پاس۔۔اس لیے”

تانیہ نے جبرن مسکرا کر کہا۔۔

“ارے نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔بس شادی کا گھر ہے نا ٹائم کہاں ہے۔۔بیٹھ کر باتیں کریں۔۔ہم ہسبنڈ وائف ہی آپس میں بات کرنے کا بڑی مشکل سے ٹائم نکال پائے ابھی۔۔ “

نایاب نے ہنستے ہوئے اسے جلایا۔۔

تانیہ کی روح تک چھلنی ہوئی انہیں خوش دیکھ۔۔

اور نایاب کا صاف مطلب تھا وہ یہاں سے چلی جائے۔۔تو اسے اب وہاں رکنا مناسب نہیں لگا۔۔

وہ پیر پٹختی اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

اس نے کمرے میں آتے ہی بیڈ سے تکیہ اٹھا کر زمیں پردےمارا۔۔

“یہ سمجھتی کیا ہے خود کو؟”

تانیہ نے غصہ سے کہا

“کیا ہوا؟” صوفے پر بیٹھے زوہیب نے اسے غصہ میں دیکھا تو ہاتھ میں لیے چائے کا کپ رکھ کر وہ اس کے قریب آیا۔۔

“تم سے تو کچھ نہیں ہوپائے گا۔۔۔وہ دونوں وہاں خوش گپیاں لگا رہے ہیں تم بیٹھ کر یہاں چائے پی رہے ہو۔۔۔”

تانیہ نے اسے غصہ سے طنز کیا۔۔

“تو کیا کروں میں بتاؤ۔۔۔؟” وہ بھی تن کر پوچھنے لگا۔۔

“یہ بھی میں بتاؤں؟ دو دن ہوگئے انہیں یہاں آئے۔۔مگر ہم کچھ نہیں کر پائے۔۔۔۔تمہیں میں یہاں لائی کیوں ہوں پھر جب تم سے کچھ نہیں ہوپائے گا تو۔۔”

تانیہ نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔۔

“تو میں نے نہیں کہا تھا مجھے یہاں لاؤ یہ سب تمہارا پلان تھا۔۔”

زوہیب نے غصہ سے کہا۔۔

“ہاں میں لائی تھی کیوں کہ مجھے لگا تمہارے اندر بھی دماغ ہوگا۔۔مگر نہیں۔۔میں تو غلط تھی۔۔تم سے کچھ نہیں ہوگا۔۔کچھ بھی نہیں۔۔”

وہ کہتی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔

اور سرخ آنکھوں سے اسے جاتا دیکھنے لگ