Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Misal E Taweez (Episode - 10)

Misal E Taweez By Isra Rao

“نایاب۔۔۔” وہ حیرانی سے اٹھ کھڑا ہوا

“بس اتنے میں ہی تھک گئے۔۔؟”

نایاب نے پوچھا۔۔

وہ بنا کوئی جواب دیے اس کے گلے لگا۔۔

اور کب سے رکے آنسوں بہ نکلے۔۔

“کہاں چلی گئی تھی یار۔۔۔پتا ہے میں نے کتنا ڈھونڈا تمہیں۔۔”

غنی نے اسی انداز میں کہا۔۔

“کیوں ڈھونڈا؟”

اس نے سوال کیا۔۔

“کیوں کاکیا مطلب بیوی ہو تم میری۔۔۔۔”

وہ اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں سموئے کہنے لگا۔۔

“ہاں مگر آپ تو نفرت کرتے ہیں نا مجھ سے۔۔”

نایاب نے سنجیدگی سے کہا

“نہیں۔۔۔” غنی نے نفی میں سر ہلایا۔۔

“ہاں۔۔کرتے ہیں۔۔۔اسی لیے تو چلی گئی تھی “

نایاب نے نم آنکھوں سے کہا

“نہیں میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں۔۔۔پلیز مجھے چھوڑ کر دوبارہ مت جانا۔۔میں نہیں رہ سکتا تمہارے بنا۔۔”

بھیگے چہرے سے وہ اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔

نایاب اس کی آنکھوں میں اپنے لیے وہی محبت دیکھ رہی تھی جو وہ دیکھنا چاہتی تھی۔۔

اس کی آنکھ سے گرتا ہر آنسوں اس کی محبت کی شدت کا ثبوت دے رہا تھا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

وہ جب کمرے میں آیا تو وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی سوچوں میں گم تھی۔۔

اسے دیکھ فوراً سیدھی ہوئی۔۔۔

خوف اور ڈر اس کے چہرے سے عیاں تھا۔۔

دلہن کے لباس میں وہ غنی کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی۔۔

اس نے غنی کو اپنی طرف دیکھتے پایا تو فوراً نظریں پھیری۔۔

وہ بنا کچھ کہے ڈریسنگ کے سامنے گیا۔۔

گھڑی اتار کر رکھی۔۔۔

پھر وارڈ روب سے کپڑے لے کر چینج کرنے چلا گیا۔۔

وہ خاموش بیٹھی رہی۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ آیا تب بھی نایاب اسی طرح بیٹھی تھی۔۔۔

“تم ایسے ہی بیٹھی رہو گی۔۔۔جاؤ چینج کر کے آؤ۔۔۔”

غنی نے سنجیدگی سے کہا۔۔

وہ جھجھکتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔

اور چینج کرنے چلی گئی۔۔

جب واپس آئی تو وہ بیڈ پر گہری نیند سو چکا تھا۔۔

وہ لمحہ بھر اسے دیکھتی رہی۔۔۔پھر چپ چاپ جا کر صوفے پر بیٹھ گئی۔۔

دو آنسوں اس کی آنکھ سے گرے۔۔

اپنی بے بسی پر اسے رونا آرہا تھا۔۔

مگر پھر بھی اسے تسلی ہوئی کہ جیسا وہ سوچ رہی تھی۔۔

غنی کا رویا اس سے قدرے بہتر تھا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦⁦❤️⁩⁦❤️

فجر کی آذان پر اس کی آنکھ کھلی۔۔

اس نے لیمپ آن کر اپنے برابر دیکھا ۔

جہاں کوئی نہیں تھا۔۔

اسنے پورے کمرے میں نظر دوڑائی۔۔

سامنے صوفے پروہ سمٹی ہوئی نیند میں گم تھی۔۔

وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔

پھر واش روم کی جانب بڑھ گیا۔۔

وضو کر کے نماز پڑھنے جانےلگا۔۔کہ اس کی نظر سامنے مدہوش سوئےوجود پر پڑی۔۔

وہ آہستہ قدم اٹھاتا اس کے قریب آیا۔۔

“اٹھو۔۔نایاب” اس نے اسے ہلایا۔۔

“جج۔۔جی۔۔” وہ ہڑبڑا کر بیٹھی۔۔

تھوڑا سمٹی۔۔۔خوف اس کے چہرے سے جھلک رہا تھا۔۔

“نمازپڑھ لو۔۔بس یہی کہنے کے لیے اٹھایا تھا۔۔”

وہ کہ کر روم سے باہر نکل گیا۔۔

اور اس نے گہرا سانس خارج کیا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

اس سے پہلے کہ وہ جماعت سے واپس آتا۔۔

وہ جلدی سے چینج کرکے کمرے سے باہر نکلی۔۔

کہ کسی سےزور دار ٹکراؤ ہوا۔۔

اور اس نے اپنے سامنے غنی کو پایا ۔

“سوری۔۔۔” اس نے نظر جھکا کر کہا۔ ۔

اس نے حسب معمول جنس پر ٹی شرٹ پہنی تھی۔۔

غنی نے ایک نظر اس کے حلیے پر ڈالی ۔

“اندر چلو۔ ۔۔”وہ اسے بازو سے پکڑ اندرلے گیا

“یہ کیا پہنا ہے۔۔۔؟”

وہ پوچھنے لگا

“غی۔۔غنی میں۔ یہی پہنتی ہوں۔۔”

نایاب نےجواب دیا

“اب نہی ںپہنو گی۔۔چینج کرو۔۔اور کوئی شلوار قمیض ٹائپ ادب کی ڈریسنگ کرو۔۔”

غنی نے حکم دیا۔۔

اوروہ کھڑی غصے کو ضبط کرنے لگی

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“کیا ہوا کچھ کہا ہےغنی نے تجھے؟”

خالدہ بیگم اسےاداس دیکھ کہنے لگی

“نہیں۔۔” نایاب نے کہا

“مجھے اس سے ڈر لگتا ہے۔۔”

نایاب نے معصومیت سے کہا۔۔

“کیوں؟ غنی کا رویہ تو ٹھیک ہے نا تیرے ساتھ۔۔؟”

وہ پریشان ہوئی

“ہاں۔۔۔اسنے کچھ نہیں کہا مجھے۔۔”

نایاب نے کہا

“وہ اب تیرا شوہر ہے نایاب۔۔

جو ہوگیا اسے بھول جا۔۔”

خالدہ بیگم نے اسے پیارکیا۔۔

“کیسے بھول جاؤں۔۔اتنا آسان نہیں ہے”

وہ دل میں سوچنے لگی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

رات کے کھانے کےبعد وہ اپنے کمرے میں آگیا تھا ۔

وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے۔۔۔لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلا رہا تھا۔۔

جب دروازے پر دستک کے ساتھ دروازہ کھلا۔۔

اور عائشہ اندر داخل ہوئی۔۔

“مصروف ہو بھائی۔۔”

وہ مسکرا کر پوچھنے لگی۔۔

“ارے نہیں۔۔آؤ۔۔”

وہ لیپ ٹاپ کو سائیڈ پر رکھ کہنے لگا۔۔

“آج آپ نہیں آئے تو سوچا میں آجاؤں۔۔”

وہ پاس بیٹھ کہنے لگی۔۔

“بس تھوڑا کام تھا۔۔اس لیے۔۔”

غنی نے کہا۔۔

“ہاں بھئی اب شادی شدہ ہوگیا میرا بھائی۔۔ہم کہاں یاد رہیں گے”

وہ شرارت سے کہنے لگی۔۔

اور غنی زوردار قہقہہ لگا کر ہنسا۔۔

جسے دروازے کے باہر کھڑی نایاب بہتر طور پر سن چکی تھی۔۔

“تو مجھے سب سے پیاری ہے تجھے نہیں بھول سکتا میں۔۔”

غنی نے پیار سے کہا۔۔

بھائی۔۔نایاب کو خوش رکھیے گا۔۔وہ بری نہیں ہے۔۔

میں جانتی ہوں اسے۔۔بس ناسمجھ ہے۔۔”

وہ کہنے لگی اور غنی نے اثبات میں سر ہلایا۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

عائشہ کے جانے کے بعد کتنی ہی دیر غنی اس کی باتوں کو سوچتا رہا۔۔

کہ شاید غلطی اس کی اتنی بھی نہیں جتنی سزا مل رہی ہے۔۔

وہ سوچوں میں گم اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔

کہ دروازہ کھلنے کے ساتھ ہی وہ کمرےمیں داخل ہوئی۔۔

“نایاب۔۔یہاں آؤ”

غنی نے اسےپکارا۔۔

اور اس کے وہاں کھڑی کے ہی ہاتھ پاؤں کامپنے لگے۔۔

وہ اس کے قریب نہیں جانا چاہتی تھی ۔۔

جب اس کے بلانے پر بھی وہ نہیں ہلی۔۔تو غنی اٹھ کراس کے قریب آیا۔۔

کھلے بالوں سے اڑتی خوشبو غنی کو باور کیے دے رہی تھی

(کیا کہ رہی تھی تم نا مرد ہوں۔۔مردانگی تو دکھانی ہوگی۔۔)

اسے کچھ دن پہلے کا منظر یاد آیا۔۔

اس نے نایاب کو جھٹکے سے خود کے قریب کیا۔۔

“نہیں۔۔غنی پلیز مجھے معاف کردیں۔۔”

نایاب آنکھیں بند کیے خوف سے جانے کیا کیا بولنے لگی۔۔

اس کا خوف دیکھ غنی خودکو ملامت کرنے لگا۔۔

وہ اسے چھوڑ دور ہوا۔۔

وہ جو سمجھ رہی تھی کہ وہ پھر سے زبردستی کرے گا۔۔

اور اپنے بدلے کی آگ میں اسے پھرسے جھلسا دے گا۔۔

اسے دور ہوتا دیکھ حیرانی نے تکنےلگی۔۔

وہ چپ چاپ جاکر بیڈ پر لیٹ گیا۔۔

اور لیمپ آف کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔۔

اور وہ ساکت کھڑی اسے دیکھنے لگی۔۔

❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️

“وہ اتنا برا بھی نہیں جتنا میں سوچ رہی ہوں۔۔”

وہ لان میں بیٹھی سوچنے لگی۔۔

“میں نے بھی تو اس کے ساتھ برا کیا ہے۔۔”

وہ خود کلامی کرنے لگی۔۔

اسے رات کامنظر آیا جب بے حد قریب ہونے کے بعد بھی وہ اس کے نفی کی وجہ سے دور ہوگیا۔۔

“چاہتا تو وہ زبردستی کیتا۔۔۔مگر وہ واقع جسم کا بھوکا نہیں۔۔اس نے جو کیا تھا۔۔غصہ اور بے میں کیا۔۔

ہاں وہ اتنا برا بھی نہیں۔۔۔۔”

وہ دل میں سوچنے لگی۔۔

(تم اسے پرفیکٹ کہ سکتے ہو)

اسے وہ باتیں یاد آنے لگی۔۔جو اسنے زوہیب سے کی تھی۔۔

اور غنی کی کتنی ہی تعریف کی تھی۔۔

“زوہیب۔۔۔” خیال آتے ہی وہ زیر لب بڑ ڑائی۔۔